171.9K
78

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Hayat (Episode 20) Part - 1

Meri Hayat By Zarish Hussain

سر آپ کیلئے کھانا لگاؤں۔۔؟؟ملازم آہستہ سے بیڈ پر لیٹے ماحر سے مخاطب ہوا۔

نہیں بھوک نہیں ہے۔جاؤ تم۔۔۔۔۔وہ سپاٹ لہجے میں بولا

چائے لاؤں پھر۔۔۔۔؟؟

میری ایک بار کہی گئی بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی۔دفعہ ہو جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ دھاڑا

مم معاف کر دیں سر۔۔۔۔ملازم بری طرح گڑبڑا گیا۔۔۔

ماحر کیا ہوا۔۔۔۔کیوں اتنا موڈ خراب ہے آپ کا۔۔۔۔؟؟اسی وقت فائزہ سکندر کمرے میں داخل ہوئیں۔۔۔۔۔

کچھ نہیں مام آئیں بیٹھیں۔۔۔۔۔ماں کو دیکھ کر وہ اٹھ بیٹھا۔۔۔

فضل جاؤ تم۔۔۔۔۔ان کے اشارے پر ملازم باہر نکل گیا

تمہاری ٹانگ اور پاؤں کا زخم کیسا ہے۔۔۔۔اسکے پاس بیڈ پر بیٹھتے ہوئے وہ فکرمندی سے جائزہ لینے لگیں۔۔۔

اب تو بہت بہتر ہے۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر سے کنسلٹ کیا ہے میں نے ٹیسٹ کی رپورٹ بالکل کلئیر آئی ہے۔۔۔۔بیڈ ریسٹ کی ضرورت ہے بس۔ایک دو دن تک مکمل ٹھیک ہو جاؤں گا۔۔وہ ماں کو تسلی دیتے ہوئے بولا۔

ڈاکٹر سے تو میری بھی بات ہوئی ہے اس نے بھی یہی کہا ہے۔ہائے کاش مجھے پتہ ہوتا تو میں اس دن اپنے بچے کو گھر سے ہی نا نکلنے دیتی۔ماؤں کی ایک فطری محبت اور فکر انکے انداز میں عیاں تھی۔۔

ناممکن بات نا کریں آنٹی۔۔۔پہلے آپ کبھی آپ کے روکنے سے رکا ہے جو اس دن رک جاتا۔۔۔۔اسی وقت فاریہ اور اصفہان وہاں چلے آئے۔۔۔۔۔آج صبح ہی وہ اپنے ہنی مون ٹرپ سے واپس آئے تھے۔دو دن بعد ورجینیا واپسی تھی ان کی۔۔۔۔۔”

ہاں یہ تو تم صحیح کہہ رہے ہو بیٹا۔۔۔سنتا تو یہ میری کبھی نہیں ہے۔۔۔۔۔ وہ مایوسی بھرے لہجے میں بولیں۔۔۔

بھائی ٹھیک ہو جائیں گے مام آپ فکر نا کریں۔۔فاریہ نے تسلی کیلئے ماں کے شانے پر ہاتھ رکھا اور دوسری طرف گھوم کر بھائی کے ساتھ بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔۔

بھائی ڈرا دیا آپ نے۔۔۔۔۔۔ذرا احتیاط سے ڈرائیونگ کیا کریں۔۔۔۔وہ پریشانی سے بولی

۔میں بالکل ٹھیک ہوں گڑیا۔۔۔۔۔۔تم بتاؤ کیسا رہا ورلڈ ٹور۔۔۔۔۔۔۔۔ماحر نے محبت بھرے انداز میں پوچھا۔۔۔

۔۔۔۔سکندر علی خان،ماحر اور زین کی وہ بے حد لاڈلی تھی۔۔۔۔۔۔مگر صرف عبیر اور فائزہ سکندر ہی ایسے فرد تھے جو کبھی کبھی اسے اسکی غلطیوں پر ڈانٹ دیا کرتے تھے۔۔۔۔۔”

ہمارا ٹوور تو بہت اچھا تھا بھائی۔۔مگر آپ کا پتہ چلا تو کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔۔۔جی چاہ رہا تھا اڑ کر پہنچ جاؤں۔۔۔۔۔۔آپ کو پتہ ہے آپ دنیا کے سب سے بیسٹ بھائی ہیں میں نے آپ کو سب سے زیادہ مس کیا۔۔۔۔۔۔۔لاڈ سے اسکے شانے پہ سر رکھتے ہوئے بولی۔۔۔

ماحر نے مسکراتے ہوئے اسکے سر پر بوسہ دیا۔۔۔۔فاریہ وہ واحد فرد تھی جس کے ساتھ خراب سے خراب موڈ میں بھی وہ بے حد محبت سے پیش آتا تھا۔۔۔۔۔۔

اللّٰہ غارت کرے اسے جس نے میرے بچے کی گاڑی کو ٹھوکا ہے۔۔۔پتہ نہیں آجکل لوگ کیسے اندھا دھند گاڑیاں چلاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔نا اپنی جان کی فکر ہوتی ہے نا دوسروں کی جان کی پروا کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔فائزہ سکندر مڈل کلاس ماؤں کی طرح اس شخص کو کوسنے لگیں جس کی گاڑی سے ماحر کی ٹکر ہوئی تھی۔۔۔۔۔”

آنٹی اس نے آپ کے بیٹے کی گاڑی کو نہیں ٹھوکا۔۔بلکہ آپ کے بیٹے نے ضرورت سے زیادہ ڈرنک کی ہوئی تھی۔ اور اس غریب کی گاڑی کو ٹھوک دیا۔۔۔۔۔۔۔اس بچارے نے تو اپنی گاڑی کے نقصان کی بھی پرواہ نہیں کی۔ بلکہ وہ تو اپنے لئیے اعزاز سمجھ رہا تھا کہ سپر سٹار ماحر سکندر سے جا ٹکرایا۔۔۔۔۔۔ماحر کے گھورنے کی پروا کیے بغیر اصفہان بول گیا۔۔۔۔۔”

” فائزہ سکندر نے افسوس بھری نگاہوں سے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔۔کتنی بار کہا ہے ڈرنک کر کے گاڑی ڈرائیو مت کیا کرو،مگر میری بات کا کیوں اثر ہوگا بھلا جب باپ کی فل سپورٹ ساتھ ہو تو میں اکیلی کیا کر سکتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔آدھی رات کو سٹڈی روم میں بیٹھے بیٹے کے ساتھ ڈرنک کر رہے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔بھلا دنیا کا کوئی باپ ایسا ہو گا جو خود تو شراب پیے ساتھ میں بیٹے کو بھی پلائے۔۔۔۔۔وہ غصے سے کہہ رہی تھیں۔۔۔”

ہوتے ہیں مام فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے کچھ ایسے ماڈرن باپ بھی ہوتے ہیں جیسے میرے ڈیڈ ہیں۔ فرینڈز کی طرح ہم ساتھ بیٹھ کر ڈرنک کرتے ہیں۔ گپ شپ لگاتے ہیں اور ایک آپ ہیں آپکی باتوں سے تو لگتا ہی نہیں کہ آپ فلمسٹارز بیٹوں کی ماں ہیں۔۔۔۔سوری مام بٹ سچ کہوں گا۔ باتیں آپ مڈل کلاس ماؤں کے جیسی کرتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن شکر ہے ڈیڈ لبرل مائنڈڈ ہیں۔۔۔۔۔۔ ڈیڈ دنیا کے سب سے بیسٹ ڈیڈ ہیں”

وہ انہیں چڑانے کیلئے فخریہ انداز میں بولا

“۔۔۔فائزہ سکندر نے بے حد خفگی بھرے انداز میں اسے دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں تم لوگوں کی فکر میں گھلتی رہتی ہوں،اچھے برے کیلئے روک ٹوک کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔تو مڈل کلاس ماں کا ٹائٹل تو دو گے نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا چاہتے ہو میں بھی تمہارے ڈیڈ کی طرح لبرل بن جاؤں تم لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر ڈرنک کروں۔غلط کام پر بھی نا ڈانٹوں نا روکوں۔۔۔۔۔تم لوگوں کے جو دل میں آئے وہی کرتے رہو۔میری ایک بات سن لو ماں صرف ماں ہوتی ہے کوئی مڈل یا اپر کلاس کی نہیں۔۔۔۔۔۔وہ فوراً جذباتی ہو گئیں

مام پلیز کول ڈاؤن۔۔۔۔فاریہ نے انہیں ٹھنڈا کرنا چاہا۔۔

سوری مام مذاق کر رہا تھا۔۔۔ماحر کو اپنے مذاق میں کہے گئے لفظوں پر افسوس ہوا۔۔۔۔

ہاں مذاق کرنے کیلئے ماں ہی ملتی ہے۔وہ ہنوز ناراض تھیں۔۔۔۔۔”

سوری بول تو رہا ہوں مام۔۔۔اچھا یہ بتائیں کھانے میں کیا بنا ہے۔۔۔۔۔۔مجھے بھوک لگ رہی ہے۔۔۔۔۔۔ان کا دھیان بٹانے کیلئے یہی بات ذہن میں آئی۔۔۔۔”

فاریہ اور اصفہان نے لب بھینچ کر اپنی امڈنے والی مسکراہٹ کو روکا۔۔۔۔

“ارے بھوک لگ رہی تھی تو پہلے کیوں نہیں بتایا میں تمہیں کھانے کا ہی پوچھنے آئی تھی۔۔۔پہلے تم نے فضل کو ڈانٹ کے بھگا دیا پھر مجھے باتوں میں لگا لیا۔۔خیر اپنے بچے کیلئے میں نے اسکی پسند کی ساری ڈشز بنوائی ہیں۔وہ فوراً ناراضگی بھول کر اسی محبت اور فکر بھرے انداز میں کہنے لگیں جو ہر محبت کرنے والی ماں کا ہوتا ہے۔۔۔”

اچھا بیٹا۔۔۔تمہارا کھانا یہیں بھجوا دوں یا تم سب کے ساتھ ڈنر کروگے۔۔۔۔فائزہ سکندر باہر نکلتے ہوئے رک کر پوچھنے لگیں۔۔۔۔

نہیں مام بھائی ہمارے ساتھ ڈائننگ ٹیبل پر ڈنر کریں گے۔کیوں بھائی۔۔۔۔۔فاریہ مسکرائی۔۔۔۔۔۔۔ماحر نے بھی مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔۔۔۔

فاریہ بھی ماں کے پیچھے باہر نکل گئی۔۔۔۔

کیا بات ہے مجھے کچھ پریشان لگتے ہو۔۔۔ان دونوں کے جانے کے بعد اصفہان صوفے سے اٹھ کر بیڈ پر آ بیٹھا۔

پریشان میں نہیں ہوتا بلکہ اپنے حکم سے انحراف کرنے والوں کو کر دیتا ہوں۔۔۔۔وہ زہر خند لہجے میں بولا

اچھا پھر کس کو پریشان کرنے کا ارادہ ہے۔۔؟وہ ہنسا

صرف پریشان ہی نہیں کروں گا بلکہ زندگی اجیرن کر دوں گا۔۔۔۔۔۔۔اپنی پہلے والی جون میں لوٹتے ہوئے بولا

کس کی زندگی۔۔۔۔۔؟؟اصفہان نے قدرے حیرانی سے پوچھا۔۔۔۔”

تمہارے خیال میں کس کی۔۔۔۔ ماحر نےاپنے مخصوص سرد انداز میں الٹا سوال کیا۔۔۔

حیات عبدالرحمان۔۔۔؟؟اصفہان کے لبوں سے فوراً نکلا

ہممم۔۔۔۔اس نے سر ہلایا

میں نے جو کہا تھا اس پر عمل کیا۔۔۔اصفہان کو اپنا دیا گیا مشورہ یاد آ گیا۔۔۔۔”

ہاں کیا تھا تمہارے مشورے پر عمل مگر ریجیکٹ کر گئی وہ۔۔۔۔انکار کا طمانچہ دے مارا اس نے۔۔۔پتہ ہے کس کے منہ پر۔۔۔۔سپر سٹار ماحر سکندر خان کے منہ پر۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔وہ سپر سٹار جسکے پیچھے لاکھوں لڑکیاں دیوانی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔جسکی ایک جھلک دیکھنے کیلئے لوگ گھنٹوں سڑکوں پر کھڑے ہو کر انتظار کرتے ہیں۔۔۔۔۔جسکی ایک نگاہ التفات کیلئے عام لڑکی سے لے کر شوبز کی ہیروئنز تک ترستی ہیں۔۔۔۔۔۔اور وہ عام سی لڑکی ریجیکٹ کر گئی مجھے۔۔۔۔۔انداز ایسا تھا جیسے اپنے ٹھکرائے جانے پر خود بھی بے یقین ہو۔۔۔۔۔۔۔ پل بھر کو رکا۔۔۔۔خود کو سمجھتی کیا ہے۔دنیا کی آخری حسین لڑکی ہے کیا جو اتنا غرور ہے اسے۔۔۔۔۔۔۔۔آخری لفظ ادا کرتے ہوئے طیش چڑھ گیا۔۔۔۔۔چھوڑوں گا نہیں سالی کو۔۔۔۔۔”

فار گاڈ سیک ماحر تم ہیرو ہو۔۔۔۔ہیرو رئیل لائف میں بہت ڈیسنٹ طریقے سے بولتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔فلموں والی تھرڈ کلاس لینگویج تو یوز مت کیا کرو۔۔۔۔اصفہان نے منہ بنا کر کہا

بکو مت تمہارے سامنے بول رہا ہوں۔۔۔۔۔کوئی ٹی وی پر لائیو انٹرویو نہیں چل رہا میرا۔۔۔۔”

کسی دن لائیو انٹر ویو میں ہی نا بول دینا۔۔۔اصفہان کے زیر لب کہنے پر ماحر نے پہلے اسے گھورا پھر بولا

جانتے ہو کیا کہا ہے اس نے مجھے۔۔۔۔۔؟؟

کیا۔۔۔۔؟؟؟اصفہان کا انداز سوالیہ تھا

اس نے کہا ہے کہ میں عیاش ہوں۔۔۔۔۔بدقماش ہوں۔۔۔برا

آدمی ہوں۔۔۔۔۔اور وہ نیک ہے۔۔۔پاک صاف ہے۔۔۔۔سو میں اس جیسی لڑکی ڈیزرو نہیں کرتا بلکہ اپنے جیسی بد کردار لڑکی ڈیزرو کرتا ہوں۔۔۔۔۔”جلتی ہوئی نظروں سے اسکی طرف دیکھتے ہوئے گویا ہوا۔۔۔۔۔

بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خود دولت شہرت کے نشے میں چور اور سر سے پاؤں تک غرور میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں۔۔۔ سو دوسروں کی شرافت کو شرافت نہیں بلکہ غرور کے معنوں میں لے کر انکی عزت خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہم تو ان کا غرور توڑ رہے ہیں۔ماحر سکندر کا شمار بھی انہی لوگوں میں ہوتا تھا۔۔۔۔”

اچھا کول ڈاؤن۔۔۔پھر کیا فیصلہ کیا تم نے۔۔۔۔؟؟

بہت سوچا۔۔۔اور فیصلہ کیا کہ۔۔۔۔،،

کہ اس کا پیچھا چھوڑ دو گے۔اصفہان اسکی بات قطع کر کے چھیڑتے ہوئے بولا۔۔۔

ناممکن۔۔۔۔۔۔میرے اندر جو ہلچل مچی ہے۔۔۔۔مجھ سے برداشت نہیں ہو رہی بچپن سے لے کر اب تک جو چاہا وہ ملا مجھے۔بچپن کی اس عادت نے بہت ضدی اور سہل پسند بنا دیا ہے مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں چاہتا تو بہت آسانی سے کب کا اس کا غرور توڑ چکا ہوتا۔۔۔۔لیکن اتنا بھی آوارہ مزاج نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔۔کچھ اصول ہیں میرے ایسے کاموں میں زبردستی پسند نہیں مجھے۔۔۔۔۔۔

“۔۔۔۔۔۔ تم جانتے ہو نا میرے ارد گرد ہمیشہ سے حسین سے حسین تر چہروں کی بھر مار رہی ہے۔۔میرے ایک اشارے پر انڈسٹری کی بڑی سے بڑی ہیروئن بھی میرے قدموں میں ڈھیر ہو گئی۔۔۔۔۔سب کے ساتھ اچھا ٹائم پاس کیا۔۔۔۔۔۔لیکن جو بھی آئی اپنی مرضی سے آئی۔۔ مگر یہ لڑکی۔۔۔۔۔نجانے کس مٹی کی بنی ہوئی ہے۔کوئی

فرق ہی نہیں پڑتا اسے۔کوئی جذبات ہی نہیں اس میں جو میرے جیسے مشہور و معروف بندے کو،بڑی آسانی سے ریجیکٹ کر گئی۔۔۔۔۔۔اس نے اضطراری کیفیت میں اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔۔۔

“ویسے یار بڑی حیرانی کی بات ہے کہ کوئی لڑکی تجھ جیسے اتنے بڑے سپر سٹار کو بھی ریجیکٹ کر سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چلو فلم میں کام کرنے سے انکار کیا تو کوئی حیرانی کی بات نہیں کیونکہ ہر لڑکی اس فیلڈ میں آنے کیلئے راضی نہیں ہوتی۔۔۔۔۔مگر شادی کا پرپوزل ٹھکرا دیا۔بڑی ناقابل یقین اور حیران کن بات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

اصفہان نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔

تجھے مذاق لگتا ہے۔۔۔۔۔۔۔سچ میں انکار کیا ہے اس نے مجھے۔۔۔۔۔وہ بھنا کر بولا

اور مجھ سے بچنے کیلئے ترکی بھاگ گئی۔مگر میں بھی چھوڑوں گا نہیں اسے۔۔۔۔۔۔۔۔ڈسٹرب کر کے رکھ دیا ہے مجھے۔میری راتوں کی نیند برباد کر دی ہے اس نے۔۔

کیا کرو گے پھر زبردستی منواؤ گے اپنی بات کیا۔۔۔اسکے سیریس انداز پر اصفہان کو بھی سنجیدہ ہونا پڑا۔۔۔۔۔

ہاں۔۔۔۔۔نا مانی تو زبردستی ہی کرنی پڑے گی۔۔اسکے لہجے میں چٹانوں جیسی سختی تھی۔۔۔”

اگر کسی بھی حال میں راضی نا ہوئی تو۔۔۔۔۔۔اصفہان نے خدشہ ظاہر کیا

تو پھر قتل کر دوں گا۔۔۔۔۔۔۔لیکن کسی اور کیلئے نہیں چھوڑوں گا۔۔۔وہ یوں نارمل انداز میں بولا جیسے کسی انسان کے بارے میں نہیں حقیر چیونٹی کے متعلق بات کر رہا ہو۔۔۔۔۔”

اللّٰہ کا نام مانو یار۔۔۔۔۔۔۔اتنی حسین لڑکی کو قتل کرو گے۔اصفہان تھرا کر رہ گیا۔۔۔۔”

جو چیز میری نہیں تو پھر کسی اور کیلئے کیوں چھوڑوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ بھڑک کر بولا

تو پھر آرام سے کیوں بیٹھے ہو۔۔۔۔۔۔۔؟؟

بھیجا ہے فرقان کو اسکے پیچھے۔۔۔مگر وہ ایڈیٹ ابھی تک اس کا پتہ نہیں لگا پاپا۔۔۔۔وہ سخت جھنجھلایا ہوا

لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سائیڈ دراز سے سیگریٹ نکال کر سلگائی۔۔۔۔۔۔

یہ پلاسٹر بھی اتر جائے گا کل تک۔۔۔۔۔پرسوں کی فلائٹ

سے سیدھا ترکی لینڈ کروں گا اور خود ڈھونڈوں گا۔۔۔بلکہ تم دیکھنا اگر مجھ سے بھاگے گی تو دنیا کے آخری کونے تک پیچھا کروں گا۔اس کا لہجہ اپنے ارادے کی طرح مضبوط تھا۔۔۔۔”

تمہیں اسکے ترکی جانے کا بتایا کس نے۔۔۔؟؟

اسکے ملازم سے انفارمیشن لی۔۔وہ منہ سے دھواں نکالتے ہوئے بولا۔۔۔۔

تو اس سے پھر یہ نہیں پوچھا کہ وہ وہاں کونسی جگہ پہ اور کس کے گھر گئی ہے۔۔۔۔

استنبول میں ہے اور اپنی کسی آنٹی کے گھر۔۔۔۔ایڈریس

اسکے ملازم کو بھی نہیں معلوم۔۔۔۔”

اووہو۔۔۔۔۔اس نے ہونٹ سکوڑے۔ویسے یار میری مانو تو چھوڑو اسے تمہیں کونسا کمی ہے ہیروئنز کی اپنی فلم کیلئے یا گرل فرینڈ بنانے کیلئے۔۔۔۔۔۔وہ بے چاری شریف لڑکی ہوگی انکار کیا ہے تو کسی مجبوری کے تحت ہی کیا ہوگا نا۔۔۔۔۔۔۔””اصفہان کے دل میں اچانک حیات عبدالرحمان کیلئے ہمدردی جاگ اٹھی۔ماحر نے تعجب سے اسکی طرف دیکھا۔ اور طنزیہ انداز میں کہا۔۔۔”یہ اچانک تمہیں ہمدردی کا بخار کیوں چڑھ رہا ہے۔۔۔یہ تم ہی تھے نا جس نے مجھے مشورہ دیا تھا پرپوز کرنے اور پھر اسکے نا ماننے پر اسے اٹھوا کر گن پوائنٹ پر نکاح کرنے کا۔۔۔۔۔۔’

غلطی ہو گئی مجھ سے۔میری کوئی بہن تو تھی نہیں لیکن جب سے شادی ہوئی ہے میرے خیالات بدل گئے ہیں کہ کل کو میری بیٹی بھی ہو گی تو”

شٹ اپ یار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں وعظ سننے کے موڈ میں بالکل نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔”ماحر نے جھلا کر اسکی بات کاٹی

مجھے اس کو حاصل کرنا ہے۔۔۔۔چاہے کچھ بھی کرنا پڑے۔یہ اب ضد ہے میری۔۔۔وہ پرعزم لہجے میں بولا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی آنکھوں میں سرخی چھا گئی تھی۔

“۔۔۔۔۔۔اصفہان نے طویل سانس لی۔اسے اپنے دئیے گئے مشورے پر پچھتاوا ہوا۔۔

سر۔۔۔۔فراز صاحب آئے ہیں۔۔۔۔اسی وقت ملازم نے اطلاع دی۔۔۔۔تم اسے ڈرائنگ روم میں بٹھاؤ میں آتا ہوں۔فراز سے مل لوں میں،شوٹنگز ڈیٹس،شیڈول وغیرہ کے بارے میں ڈسکشن کرنی ہے۔۔۔۔وہ باہر نکل گیا۔۔۔۔

یا اللّٰہ مجھے میرے اس مشورے کیلئے معاف کر دے اور اس بے چاری غریب+شریف لڑکی کو اس چنگیز خان سے محفوظ رکھنا۔۔۔۔آمین۔۔۔۔اصفہان نے حیات عبدالرحمان کیلئے صدق دل سے دعا کی۔۔۔۔۔ “

“۔۔۔۔۔۔اگلے دن ارتضیٰ اسے پیری لوٹی پہاڑی پر لے کر گیا۔۔۔۔۔پیری لوٹی ایک مشہور فرانسیسی ناول نگار تھا۔جس نے پہلی جنگ عظیم میں ترکوں کی حمایت کی تھی۔وہ کئی دفعہ استنبول آیا تھا۔۔۔۔۔۔اس کا پہلا ناول استنبول پر ہی تھا،چنانچہ ترکی کی حکومت نے اسے خراج تحسین پیش کرنے کیلئے پہاڑی پر موجود کیفے کا نام اسی کے نام پر رکھ دیا تھا۔۔۔۔پہاڑی اسی نام سے مشہور تھی۔یہ ایک بلند پہاڑی تھی۔اس کی یہ خاصیت تھی کہ اس تک پہنچنے کیلئے کیبل کار لگی ہوئی تھی “کیبل کار میں سامنے اور پیچھے تین تین لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ تھی۔۔۔۔ارتضیٰ نے پہلے اسے بٹھایا پھر اس سے پہلے وہ خود بھی اسکے ساتھ بیٹھتا۔۔۔۔۔۔ایک عورت نے اسے ہاتھ سے پیچھے کیا اور خود حیات کے ساتھ دھپ سے بیٹھ گئی۔۔۔۔

ارتضیٰ اس عورت کی حرکت پر لب بھینچ کر رہ گیا۔۔جب کے حیات کی ہنسی نکلتے نکلتے رہ گئی۔۔۔۔۔

شکل اور حلیے سے وہ پاکستانی یا انڈین لگ رہی تھی۔

۔پاکستانی اور انڈین خواتین کی یہی خاصیت ہوتی ہے کہ بیرون ملک جا کر بھی اپنی عادتیں اپنا کلچر نہیں بھولتیں۔۔۔۔گہری سانس بھرتا وہ سامنے والی سیٹ پر جا کر بیٹھ گیا۔ایک حبشی کپل ابھی کھڑا تھا۔۔۔۔۔”

ارتضیٰ کو لگا وہ حبشی مرد اسکے ساتھ بیٹھے گا۔مگر اس وقت وہ بوکھلا کر رہ گیا جب اچانک اسکی بیوی آ کر ارتضیٰ کے ساتھ جڑ کر بیٹھ گئی۔اورپھر وہ حبشی بیٹھا۔۔۔۔۔۔اب صورتحال کچھ یوں تھی کہ۔۔۔۔ایک طرف ارتضیٰ بیٹھا تھا۔دوسری طرف حبشی اور درمیان میں اسکی بیوی۔۔۔۔۔وہ سخت کوفت میں مبتلا بالکل سائیڈ پر ہونے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔۔مگر جگہ کم تھی اوپر سے وہ حبشی عورت بھی موٹی تھی سو وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب نہیں ہو پا رہا تھا۔۔۔دفعتاً اسکی نظر حیات پر پڑی۔۔۔۔۔ہونٹوں پر مسکراہٹ لئیے شرارتی انداز میں اسکی طرف دیکھتے ہوئے وہ کیمرہ فوکس کر رہی تھی۔۔اس سے پہلے وہ تصویر لیتی ارتضیٰ نے فوراً اپنی جگہ چھوڑ دی اور حبشی سے کہا کہ درمیان میں وہ بیٹھے۔۔۔۔۔حبشی نے اپنی بیوی کو کچھ کہا وہ ارتضیٰ والی جگہ پر کھسک گئی۔۔۔۔حبشی درمیان میں آ گیا اور ارتضیٰ سکون کی سانس لیتے ہوئے دوسری سائیڈ پر بیٹھ گیا۔۔۔۔”اور ساتھ ہی چڑانے والی نظروں سے حیات کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔۔جیسے کہہ رہا ہو اب کھینچو تصویر۔۔۔۔۔”

“پہاڑی کی چوٹی پر پہنچے بڑی خوبصورت جگہ تھی۔

یہ پورا علاقہ حضرت ایوب ابو انصاری کے مزار اور ان سے منسوب مسجد کی وجہ سے ایوب ڈسٹرکٹ کہلاتا تھا۔یہ گولڈن ہارن کی مشہور سمندری خلیج پر واقع تھا۔لیکن گولڈن ہارن یہاں سے کافی نیچے تھا۔۔۔۔۔۔”

یہاں پر وہی پیری لوٹی نام کا کیفے تھا۔۔۔۔۔سیاحوں کا کافی رش تھا۔۔ارتضی اسے لئیے کیفے میں آ گیا۔۔۔وہاں پر لگی ٹیبلز میں سے ایک کے گرد وہ بیٹھ گئے۔۔۔ارتضیٰ نے ٹرکش کافی منگوائی جبکہ حیات نے اورنج جوس پیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک طرف بلند پہاڑی تھی تو دوسری طرف ڈھلوان” چوٹی سے گولڈن ہارن اور شہر کا دور دور تک نظارہ نہایت ہی خوبصورت لگ رہا تھا۔۔۔۔۔”حیات اس خوبصورت منظر کو کیمرے میں قید کرنا چاہتی تھی۔۔۔قریب ہی ایک سپاٹ تھا جہاں لوگ فوٹوگرافی کر رہے تھے۔۔ایک گائیڈ لوگوں کی رہنمائی کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔”

شہر کا نظارہ کرنے کرنے کیلئے ایک اسپیشل جگہ بنی ہوئی تھی۔۔۔۔اور حد بندی کیلئے ریلنگ لگی ہوئی تھی” وہ دونوں بھی اسی سپاٹ پر آ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حیات اس حسین منظر کو کیپچر کرنے لگی۔۔۔۔

“آسمان صاف تھا،کھلا ہوا تھا مگر کہیں کہیں ہوا کے دوش پر تیرتے سفید بادل نیلے آسمان پر بہت بھلے لگ رہے تھے۔۔۔۔نیلا آسمان اور سمندر کا نیلا پانی آپس میں مل چکے تھے۔ٹھنڈی اور خوشگوار ہوا چل رہی تھی۔

۔۔۔۔گولڈن ہارن کی سطح پر چلتی کشتیاں اور دور تک پھیلا شہر۔۔۔۔۔یہ منظر گویا طلسماتی منظر تھا۔۔۔۔بلندی سے دور تک نظارہ کرنا،دونوں کو بہت اچھا لگ رہا تھا۔

کچھ ٹائم وہیں گزارنے کے بعد واپسی پر بھی کیبل کار کے ذریعے نیچے آئے۔۔۔منی بس میں سوار ہوئے۔بس نے ایمینونو کے علاقے میں اتارا۔یہ پرانے استنبول کا علاقہ تھا۔یہاں گولڈن ہارن اور مرمرا سمندر ملتے تھے۔یہ ایک پورٹ تھی۔جہاں ہر وقت کروز اور کشتیاں آتی جاتی تھیں۔۔۔اسی وجہ سے وہاں سیاحوں اور مقامی ٹورسٹ کا رش لگا رہتا۔۔۔۔۔۔۔گولڈن ہارن کا گلاطہ برج بھی وہیں تھا۔۔یہ ایک دوہرا پل تھا۔۔۔۔جس کا اوپری حصہ ٹریفک کیلئے جبکہ نیچے والے حصے میں ہوٹل، ریسٹورنٹس وغیرہ بنے ہوئے تھے۔۔۔۔۔جہاں زیادہ تر مختلف قسم کی مچھلیوں کی ڈشز ہی تیار ہوتی تھیں۔۔۔۔درمیان میں تھوڑا سا حصہ خالی تھا۔جہاں سے گولڈن ہارن میں چلنے والے کروز اور کشتیاں گزر رہی تھیں۔۔۔

اوپر والے حصے پر بے شمار لوگ مچھلیاں پکڑتے بھی نظر آ رہے تھے۔۔۔۔”

کچھ دیر وہاں گھوم پھر کر وہ سپائس بازار آ گئے۔یہاں مصالحہ جات اور مٹھائی کی بڑی بڑی دکانیں تھیں۔۔ارتضیٰ اسے ایک شاپنگ سنٹر لے آیا۔۔وہاں سے اس نے حیات کے نا نا کرنے کے باوجود اس کیلئے کافی ساری شاپنگ کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔صرف اسی کیلئےنہیں بلکہ مون اور عبدالرحمان صاحب کیلئے بھی کئی گفٹس خریدے۔۔۔”

“دن اتنی تیزی سے گزرا کہ چاہنے کے باوجود توپ کاپی میوزیم کی سیر کا وقت نہیں بچا۔۔۔۔۔۔گھومتے پھرتے پونے چھے ہو گئےتو وہ واپس ہوٹل آ گئے۔ دوپہر کا کھانا انہوں نے سپائس بازار میں واقع ایک ریسٹورنٹ میں کھایا تھا۔حیات کو اس نے صوفے پر بیٹھنے کا کہا اور خود اس کا اور اپنا سامان پیک کرنے لگا۔۔۔۔سامان پیک ہوا تو اٹھا کر نیچے آ گئے۔۔۔ارتضیٰ کاؤنٹر پر بل پے کر رہا تھا۔۔حیات آہستہ سے چلتی ہوئی لابی میں آ گئی جو داخلی دروازے سے شروع ہوتی تھی۔اس نے ارتضیٰ کو دیکھنے کیلئے پیچھے کی طرف گردن گھمائی مگر قدم نہیں روکے تھے تبھی کسی سے ٹکرا گئی۔۔تصادم اگرچہ زور دار نہیں تھا مگر اسکے ہاتھ میں پکڑا ایک شاپنگ بیگ نیچے گر گیا۔۔۔۔”

“فوراً پلٹی۔۔۔۔۔سامنے والے شخص نے سوری کرتے ہوئے جھک کر بیگ اٹھایا اور اس پکڑانے کیلئے سیدھا ہوا تو ٹھٹھک گیا۔۔۔۔۔۔جسکو اتنے دنوں سے ڈھونڈ رہا تھا وہ سامنے کھڑی تھی۔۔حیات بھی اسے فوراً پہچان گئی وہ ماحر سکندر خان کا مینیجر فرقان تھا۔۔۔۔۔۔جسے وہ یونیورسٹی میں شوٹنگ کے دوران بھی دیکھ چکی تھی۔۔۔۔۔۔اسکے بعد فلم کی آفر لے کر وہ اسکے گھر بھی آیا تھا۔حیات کے چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا۔۔۔۔۔اسکے ہاتھوں سے اپنا بیگ جھپٹنے کے انداز میں لیا۔ اور سرعت سے اس طرف بڑھی جدھر ارتضیٰ تھا”

ارتضیٰ کو سامنے سے آتا دیکھ کر تیر کی مانند اس تک پہنچی۔۔۔”

کیا ہوا خیریت۔۔۔۔؟اس کے چہرے پر گھبراہٹ دیکھ کر اسے تشویش ہوئی۔۔۔۔

کچھ نہیں آپ نے دیر لگا دی تو میں پریشان ہو گئی۔

سویٹ ہارٹ اس میں پریشان ہونے کی کیا بات ہے۔میری نظر تھی تم پہ۔۔۔۔۔۔۔۔اس بات پر حیات کا دل زور سے دھڑکا۔۔۔۔۔مگر اسکے چہرے پر ایسا کوئی تاثر نہیں تھا جس سے لگتا کہ وہ اس آدمی کے ساتھ اسے ٹکراتے دیکھ چکا تھا۔۔۔”

اوکے چلیں پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پہلے تمہاری آنٹی کے گھر جانا ہے پھر مجھے ائیر پورٹ کیلئے نکلنا ہوگا۔۔ارتضیٰ کے ایک ہاتھ میں بیگ تھا اور دوسرے ہاتھ سے اس نے حیات کا ہاتھ تھاما اور اسے لئیے ہوٹل سے نکل آیا۔۔۔۔۔۔۔”

“تاہم باہر نکلنے سے پہلے حیات نے غیر محسوس انداز میں ادھر ادھر دیکھا مگر وہ نظر نہیں آیا۔۔۔۔وہ نا جانے کیوں ڈر گئی تھی۔خود بھی نہیں سمجھ پائی۔۔۔۔۔۔”

حیات عبدالرحمان کو باہر جاتا دیکھ کر فرقان بھی محتاط قدموں سے انکے پیچھے چل پڑا۔۔۔۔جب وہ ٹیکسی میں بیٹھ کے روانہ ہوئے تو فرقان نے بھی ایک کیب کو روکا اور ٹیکسی ڈرائیور کو مناسب فاصلہ رکھ کر ان کا پیچھا کرنے کو کہا۔۔۔۔۔”

بیس منٹ کی ڈرائیونگ کے بعد ٹیکسی ایریا میں رہائشی بلڈنگز کے سامنے جا رکی۔۔۔۔۔۔ارتضیٰ اور حیات نیچے اتر آئے۔۔فرقان نے بھی جلدی سے ٹیکسی والے کو فارغ کیا اور بلڈنگز کے آگے لگے قد آور پودوں کی آڑ میں کھڑا ہو گیا۔۔جیسے ہی وہ دونوں بلڈنگ میں داخل ہوئے۔وہ بھی فوراً پیچھے داخل ہو گیا۔پھر اس نے انکو لفٹ کے ذریعے اوپر جاتے دیکھا۔۔وہ انکے پیچھے لفٹ میں تو داخل نہیں ہو سکا تاہم یہ پتہ کر لیا کہ کس فلور پہ گئے۔ویسے بھی اسے اپارٹمنٹ کا پتہ نہیں کرنا تھا حیات کو اس نے دیکھ لیا تھا،اور جس بلڈنگ میں گئی تھی وہ بھی دیکھ لی۔۔۔۔۔۔۔سو وہیں کھڑے کھڑے اس نے ماحر سکندر کا نمبر ملایا۔۔۔۔۔”

“ارتضیٰ اسے ایسرا آنٹی کے گھر چھوڑ کر ٹیکسی میں بیٹھ کر ائیر پورٹ کیلئے روانہ ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔”حیات اسکے جانے سے اداس ہو گئی،جانے سے پہلے وہ اسکے پاس آیا اور کہا حیا یہ تین دن میری زندگی کے خوبصورت ترین دن تھے۔۔۔۔۔۔”

آج سے ٹھیک پانچ ماہ گیارہ دن بعد میں تم سے ملونگا

۔۔۔۔۔بڑے بڑے دعوے نہیں کروں گا لیکن اتنا ضرور یقین دلا دیتا ہوں کہ زندگی کی آخری سانس تک میری تمام محبتوں کی حقدار صرف تمہاری ذات ہو گی۔میری تمام وفائیں فقط تمہارے لئیے ہونگی۔حیات کا ہاتھ آنکھوں سے لگاتے ہوئے اس نے صداقت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔”

الوداعی بوسہ دے کر وہ چلا گیا۔۔۔۔اسکے جانے کے بعد حیات کو سب خالی خالی لگنے لگا۔میوج اسے دیکھ کر بے تحاشا خوش ہوئی۔۔بیٹا مجھے تمہیں کچھ بتانا تھا۔دو دن پہلے میں میڈیسٹیٹ ہاسپٹل گئی۔تھی وہاں پہ مجھے تمہاری امی کی خالہ ملی تھیں۔۔۔تمہاری امی کا ذکر ہوا۔۔۔۔۔۔۔میں نے تمہارے آنے کا بتایا تو وہ بے حد خوش ہوئیں۔تم سے ملنا چاہتی ہیں۔۔۔۔۔اپنا فون نمبر اور ایڈریس مجھے دیا اور تاکید کی کہ جیسے ہی تم واپس آؤ میں تمہاری بات کرواؤں ان سے۔۔۔۔ایسرا آنٹی کے بتانے پر وہ خوشگوار حیرت سے انہیں دیکھنے لگی۔۔منہ کی طرف جاتا برگر کا پیس ہاتھ میں رہ گیا۔

۔۔۔۔۔۔آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ میرا کوئی ننھیالی رشتہ دار بھی ہے۔۔۔۔

مجھے وہ یاد نہیں تھیں،تمہاری ممی کی زندگی میں چند بار ملاقات ہوئی تھی۔پھر مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ رہتی کہاں ہیں۔۔۔۔اس دن بائے چانس ملاقات ہو گئی۔۔۔۔۔ایسرا آنٹی نے معذرت خواہ لہجے میں کہا۔

مجھے بہت ایکسائٹمنٹ ہو رہی ہے آنٹی کہ میرا کوئی ننھیالی رشتہ دار بھی ہے۔۔میں ان سے جلد از جلد ملنا چاہوں گی۔۔۔۔۔۔۔وہ برگر کھانا چھوڑ کر بے تابی بھرے انداز میں کہہ رہی تھی۔۔۔۔مجھے پتہ ہوتا کہ یہ بات سن کر تمہیں اتنی خوشی ہوگی تو تمہارے آنے کا ویٹ نا کرتی بلکہ فون پر ہی بتا دیتی۔۔۔۔۔۔۔۔اسکی بے تابی دیکھ کر وہ مسکرائیں۔تو پھر جلدی سے بات کروائیں نا میری۔۔۔۔بے صبری اسکے لہجے سے عیاں تھی یہ بات اسکے لئیے بے تحاشا خوشی کا باعث تھی کہ اس کی ماں کا کوئی ایسا رشتہ دار بھی موجود تھا جس سے اس کا خون کا رشتہ تھا۔کیونکہ اسے صرف یہی پتہ تھا کہ اسکی ممی اپنے ماں باپ کی اکلوتی تھیں۔نانا نانی کی ڈیتھ ہوگئی۔۔جہاں تک اسکے نالج میں تھا تو یہ کہ نانا نانی کے علاؤہ اسکا کوئی اور رشتہ دار نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔مگر اچانک سے اسکی ماں کی خالہ یعنی اسکی رشتے کی نانی دریافت ہو گئی تھی۔سو ان سے ملنے کیلئے وہ بہت بے چین تھی۔۔۔۔”

“۔۔۔ایسرا آنٹی نے انہیں فون کیا تو اگلے دن صبح صبح وہ آ گئیں۔حیات بے تابی سے انکی منتظر تھی۔۔۔۔ٹخنوں تک آتے لانگ سکرٹ۔۔۔۔گھٹنوں سے کچھ اوپر جیکٹ اور سر پر ڈوپٹے ٹائپ کا اسکارف لئیے سرخ وسفید جھریوں بھرے چہرے والی وہ بوڑھی ترکش خاتون حیات کو بہت پسند آئی۔۔۔۔۔۔۔وہ اس سے بے حد محبت سے ملیں۔۔انکے ساتھ،چھبیس ستائیس سال کا سرخ و سفید رنگت والا ایک نوجوان بھی تھا۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی شخصیت میں جو چیز منفرد تھی وہ تھے اسکے براؤن بال اور براؤن بیئرڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جسکی وجہ سے اس کا لک انگریزوں جیسا تھا۔۔اچھا خاصا ہینڈسم ٹرکش نوجوان تھا۔۔ایک دن وہ دونوں وہاں پہ رکے۔۔۔۔۔۔۔حانم خاتونِ حیات کو کچھ دنوں کیلئے وہ اپنے ہمراہ لے جانا چاہتی تھیں۔حیات کا اپنا بھی دل انکے ساتھ جانے کو کر رہا تھا۔۔عبدالرحمان سے اس نے فون پر اجازت لے لی۔میوج اسکے پھر سے جانے پر خفا تھی۔۔۔۔تاہم حیات نے اس سے وعدہ کر لیا کہ وہ دو تین دن سے زیادہ نہیں رکے گی۔۔۔باقی جتنے دن بھی یہاں اسکے ہونگے وہ اسی کے پاس ہی رکے گی۔۔۔۔”

“حانم خاتون جنہیں وہ گرینی کہہ کر مخاطب کر رہی تھی۔ یہاں سے 250 کلومیٹر دور برسا نامی گاؤں میں رہتی تھیں۔۔وہ اپنے پوتے علی کے ساتھ استنبول اپنے کسی رشتہ دار کی عیادت کیلئے آئی ہوئی تھیں۔جن کے ہاں وہ حیات کے انتظار میں پچھلے تین روز سے مقیم تھیں۔۔۔ان کا پوتا اپنی گاڑی لایا تھا۔حیات حانم خاتون کے ساتھ پچھلی سیٹ پر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔علی ڈرائیونگ کر رہا تھا۔۔۔حیات سے وہ ترکش میں باتیں کر رہی تھیں۔۔۔۔جس میں ترجمان کا کردار ان کا پوتا ادا کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔جو بات وہ کہتیں۔۔۔۔۔۔۔حیات کو انگلش میں بتاتا۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر اس کی بات کا ترکی میں ترجمہ کر کے اپنی دادی تک پہنچاتا۔۔۔برسا جانے کیلئے دو راستے تھے۔۔۔۔۔۔ایک سمندری جس سے صرف ڈیڑھ گھنٹے میں برسا پہنچا جا سکتا تھا جبکہ دوسرا بائے روڈ۔۔۔۔۔۔مگر اس میں تین گھنٹے لگتے تھے۔راستہ باتوں باتوں میں کٹ گیا۔۔۔۔۔تین گھنٹے کی مسافت کے بعد وہ برسا پہنچ گئے۔اس دوران ہائی وے پر موجود ایک ہوٹل پر رک کر انہوں نے کھانا بھی کھایا تھا۔۔۔حیات نے برائے نام کھایا کیونکہ اسے ان کا گھر اور برسا دیکھنے کا شوق تھا۔اسی خوشی میں بھوک ہی نہیں لگی اسے”

گرینی برسا اور کتنا دور ہے ۔۔۔۔؟؟کوئی پانچویں بار وہ یہ سوال کر رہی تھی۔۔۔۔۔”

نہیں ابھی آدھہ گھنٹہ مزید لگے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔عثمان غازی پہاڑی پر رہائش ہے ہماری۔۔۔۔۔۔۔۔۔جواب ہر بار کی طرح انکے پوتے کی طرف سے ہی آیا۔۔۔۔۔۔”وہ دل مسوس کر رہ گئی کیونکہ اسے ان کا گھر ان کا شہر دیکھنے کی بہت جلدی تھی۔۔۔۔۔”

آدھا گھنٹہ مزید سفر کے بعد یہ ایک چھوٹا سا گاؤں آیا۔۔۔۔۔۔جسکی شہرت ایک بہت بڑا درخت تھا۔۔۔۔۔۔اس درخت کی عمر چھے سو سال بتائی جاتی تھی۔۔بہت ہی گھنا اور تناور درخت تھا جس کے نیچے ریسٹورنٹ بنا ہوا تھا۔۔ڈھلوانی راستے سے کچھ پہلے اس نے گاڑی روک دی اور ان دونوں کو وہیں اتار کر گاڑی کہیں کھڑی کرنے چلا گیا۔پندرہ منٹ بعد واپس آیا۔اپنی دادی کا ہاتھ پکڑا اور حیات کو پیچھے آنے کا اشارہ کر کے اوپر کو جاتے ڈھلوانی راستے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔راستے کے دونوں اطراف میں پکڑنے کیلئے لوہے کی تاروں والی ریلنگ لگی ہوئی تھی۔پچیس منٹ کا فاصلہ حیات کی وجہ سے ایک گھنٹے میں طے ہوا۔۔۔۔وہ بہت آہستہ آہستہ قدم اٹھا رہی تھی۔جبکہ خانم خاتون کی رفتار تیز اپنے پوتے کی طرح تیز تھی وہ اس عمر میں بھی کسی جوان صحت مند انسان کی طرح تیز تیز چل رہی تھیں۔مگر حیات کی وجہ سے دونوں کو اپنی رفتار سست کرنا پڑی۔ایک ہاتھ ان کا اپنے پوتے کے ہاتھ میں تھا۔۔۔۔۔جبکہ دوسرے ہاتھ سے وہ بڑی محبت سے حیات کا ہاتھ تھامے چل رہی تھیں۔۔۔۔۔۔پہاڑی کی چوٹی پر پہنچنے تک حیات کا سانس پھول چکا تھا وہ ان سے اپنا ہاتھ چھڑا کر وہیں ایک پتھر پر بیٹھ کر لمبے سانس لینے لگی۔۔۔۔۔”

“ارے میرا بچہ تھوڑی سی ہمت کرو اب تو ہم پہنچ گئے ہیں وہ دیکھو سامنے گھر ہے۔۔۔۔وہ اسے پیار سے پچکارتے ہوئے بولیں۔۔۔۔”

حیات نے نفی میں سر ہلایا اور وہیں بیٹھی رہی۔۔

وہ واقعی بہت تھک چکی تھی زندگی میں پہلی مرتبہ اتنی چڑھائی چڑھی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔علی چند منٹ تو کھڑا دیکھتا رہا پھر اپنی دادی سے ترکش زبان میں کچھ کہا اور انہیں وہیں چھوڑ کر تیز قدموں سے آگے بڑھ گیا۔۔”

حیات نے حیرت سے اسے جاتا دیکھا۔۔۔۔۔”

کیسا عجیب آدمی ہے ہمیں چھوڑ کے خود چلا گیا۔وہ بڑ بڑائی۔۔۔۔حانم خاتون اسکے ساتھ بیٹھ گئیں اور اسے ترکی میں کچھ کہنے لگیں جو کہ حیات کے سر پر سے گزر گیا۔۔۔۔۔۔

اسے بیٹھے دس منٹ ہوئے ہونگے کہ اس نے ایک لڑکے اور دو لڑکیوں کو آتے دیکھا۔۔۔۔لڑکے کے ہاتھ میں کوئی ہتھ گاڑی ٹائپ چیز تھی جسے وہ دونوں ہاتھوں سے چلاتے ہوئے لا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔سرخ و سفید رنگت والی لڑکیوں نے جیکٹس کے اوپر پاؤں کو چھوتے پھول دار سکرٹ پہنے ہوئے تھے۔اور سر پر کشمیری لڑکیوں کی طرح سکارف باندھ رکھے تھے۔۔۔۔۔انہیں قریب آتا دیکھ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔ان میں سے ایک لڑکی تو بے حد خوبصورت تھی اسکی آنکھیں بڑی بڑی اور سبز کلر کی تھیں۔حیات کی ہی عمر کی لگ رہی تھی۔۔۔۔۔جبکہ دوسری قدرے کم عمر بھورے بالوں اور چھوٹی آنکھوں والی لڑکی تھی۔۔۔۔۔”

مرحبا،خوش آمدید۔۔۔۔۔۔دوستانہ مسکراہٹ کے ساتھ وہ سبز آنکھوں والی لڑکی اس سے مخاطب ہوئی۔۔۔

میرا نام اسلیحان ہے۔پیار سے سب اسلی کہتے ہیں اور یہ میری چھوٹی بہن سبل ہے۔اس نے اپنا اور چھوٹی لڑکی کا تعارف کروایا۔۔۔۔”

حیات نے بھی مسکرا کر خوش دلی سے ان سے ہاتھ ملائے۔۔۔۔۔

حانم خاتون نے اسے اس چھوٹی ہتھ گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔۔دو لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ تھی۔۔۔۔۔وہ کچھ جھجکتے ہوئے بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔حانم خاتون بھی اسکے ساتھ آ بیٹھیں۔۔ان کے بیٹھتے ہی وہ لڑکا اسکے آگے لگے ہینڈل کو کھینچتے ہوئے آ گے بڑھ گیا۔۔۔۔۔”

اسلیحان اور سبل انکے ساتھ ساتھ پیدل چلنے لگیں۔

حیات کو حیرانی ہوئی وہ دبلا پتلا کم عمر لڑکا گاڑی کو آرام سے کھنچتے ہوئے لے جا رہا تھا۔۔پانچ منٹ بعد ہی گاڑی اس نے چوٹی پر بنے ایک گھر کے سامنے روک دی۔وہ دونوں نیچے اتر آئیں۔۔۔۔۔۔۔”حیات نے دیکھا وہ پتھروں اور لکڑی سے بنا درمیانے سائز کا گھر تھا۔وہ

تینوں بھی قریب پہنچ گئ تھیں۔۔ان سب کی معیت میں وہ اس گھر میں داخل ہوئی۔۔۔۔گھر اندر سے بہت خوبصورت تھا۔۔۔۔۔۔دروازے تک کھجور کے پتوں کی” چٹائیاں بچھی ہوئی تھیں۔دروازے کے قریب جوتے رکھنے کی ایک جگہ بنی ہوئی تھی۔۔۔۔۔سب کی دیکھا دیکھی اس نے بھی وہیں اتارے۔۔۔”

اندر کمرے میں آئی تو سامنے ہی علی بیٹھا شائد کافی یا چائے پی رہا تھا۔حیات کو دیکھ کر اس نے پہلی دفعہ سمائل پاس کی۔۔۔۔”ہمارے گھر میں خوش آمدید مس حیات جواباً اس نے بھی ہلکا سا مسکرا کر تھینکس کہا۔۔۔۔۔۔۔”

“کمرہ کھلا تھا۔شائد وہ گھر کا ڈرائنگ روم تھا۔صوفے سیٹ اور ڈیکوریشن والی چیزیں رکھی ہوئی تھیں۔۔ وہ حانم خاتون کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئی۔لڑکیاں وہاں سے غائب ہو گئیں۔۔۔۔”

اسی وقت وہاں چھوٹے چھوٹے سرخ بالوں والی ایک عورت آئی۔حیات اسے دیکھ کر کھڑی ہو گئی۔۔۔۔حانم خاتون کی طرح وہ بھی محبت سے ملی اسکے دونوں گالوں پر باری باری بوسے دیے۔۔۔۔”

یہ ایمنے ہے میری بہو۔۔۔علی کی ماں۔۔حانم خاتون نے اس سرخ بالوں والی عورت کا تعارف کروایا جو اس

جو کہ اب مسکرا کر اسکی طرف دیکھ رہی تھی۔وہ بھی اپنی ساس کی طرح انگریزی سے نابلد تھیں۔سو حیات ان سے براہ راست بات کرنے سے قاصر تھی۔

وہ دونوں اس سے جو بھی بولتیں حیات کو سوالیہ نظروں سے علی کی طرف دیکھنا پڑتا۔۔۔۔کچھ دیر بعد گرین آنکھوں والی لڑکی اس کیلئے ترکش کافی لائی جسکے پہلے گھونٹ نے اسے ہلا کر رکھ دیا تھا۔۔۔عام کافی سے پچاس گنا زیادہ کڑوی بغیر چینی کے۔۔پہلے گھونٹ کے بعد اس نے دوسرا گھونٹ لینے کی غلطی نہیں کی۔۔کافی پسند نہیں آئی کیا۔۔۔۔۔۔؟اسلیحان نے سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھا۔۔۔نہیں ایکچولی

مجھے واش روم جانا ہے۔۔۔۔۔۔وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔۔”

“۔۔۔۔۔۔صاف ستھرا غسل خانہ تھا جس میں چپل صابن شیمپو ٹوتھ پیسٹ ٹاول سب سلیقے سے رکھا ہوا تھا

۔حیات ایک بات کی تو قائل ہو گئی۔اسکی ننھیالی قوم نہایت ہی سلیقہ شعار تھی۔۔۔۔۔۔گرم پانی سے نہائی تو تازگی کا احساس ہوا۔۔کھانے کیلئے اسے دوسرے کمرے میں بلایا گیا۔حیات نے دیکھا وہ کمرہ ساف ستھرا اور بالکل سادہ تھا۔۔۔۔چٹائی کے بجائے بیش قیمت کارپٹ بچھا ہوا تھا۔سامنے دستر خوان لگا ہوا تھا۔۔۔۔۔اسکے بیٹھتے ہی باقی لوگ بھی بیٹھ گئے۔علی اسکے سامنے بیٹھا ہوا تھا جبکہ اسکے دائیں بائیں اسکی دونوں بہنیں سبل اور اسلیحان بیٹھی تھیں۔۔حیات کےایک طرف حانم خاتون اور دوسری طرف سرخ بالوں والی ایمنے بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔

کھانے میں آلو اور پنیر کے الگ الگ بنے ہوئے گرم گرم پراٹھے اور گرم کوفتے تھے۔

بابا جان سے آپ کی ملاقات رات کے کھانے پر ہوگی

وہ کسی کام سے باہر گئے ہیں۔۔اور وہ آپ سے مل کر بہت خوش ہونگے کیونکہ انہیں پاکستانی لوگ بہت پسند ہیں۔۔۔۔۔”

اسلیحان ترک کوفتوں کا ڈونگہ اسکے آگے رکھتے ہوئے مسکرائی۔۔۔۔

پاکستانی کہاں یہ بھی تو ترکش ہیں۔۔۔۔کیونکہ امی کہہ رہی تھیں یہ ہاندا آنٹی کی بیٹی ہیں۔۔۔۔اسی وقت وہاں وہ کم عمر لڑکا چلا آیا جو ہاتھ سے چلنے والی گاڑی لے کر آیا تھا۔۔۔۔۔”

جی نہیں انکے بابا پاکستانی ہیں تو یہ آدھی پاکستانی

اور آدھی ترکش ہوئیں۔۔۔۔۔اسلیحان نے اسکی تصحیح کی۔۔۔۔۔اور ویسے بھی دادی جان بتایا ہے کہ ہاندا آنٹی کی ڈیتھ کے بعد یہ اپنے بابا کے ساتھ ہمیشہ کیلئے پاکستان چلی گئی تھیں۔۔۔۔سو اب تو مکمل پاکستانی ہی ہے۔کیوں حیات۔۔۔۔۔؟اسلی نے تائید چاہی حیات نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔۔”

آؤ بیٹا کھانا کھاؤ۔۔۔۔ایمنے آنٹی نے اسے کھانے کی دعوت دی تو وہ بے تکلفی سے بیٹھ گیا۔۔۔۔

یہ سواش ہے ہمارا کزن۔۔۔۔فریدے آنٹی کا بیٹا۔۔۔یہیں ساتھ میں اس کا گھر ہے۔۔۔۔علی نے اس لڑکے کا حیات سے تعارف کرواتے ہوئے کہا۔۔۔

مجھ سے تو آپ مل ہی چکی ہیں۔سیکنڈائیر میں پڑھتا ہوں یہیں گرینل کالج برسا میں۔۔۔باقی آپ کا غائبانہ تعارف تو تین دن پہلے دادی جان نے فون پر کروا دیا تھا۔۔۔جب وہ استنبول میں آپکی آیا سے ملی تھیں۔۔ہم سب بہت ایکسائیٹڈ تھے اپنی پاکستانی کزن سے ملنے کو۔ابھی تھوڑی دیر میں امی اور سیلن آپ سے ملنے آئیں گی۔۔۔۔دونوں ابھی میرے ساتھ ہی آ نا چاہ رہی تھیں مگر میں نے روک دیا کہ میں پہلے خود دیکھ کر آتا ہوں مہمان نے آرام وسکون سے کھانا وانا کھا لیا یا نہیں۔۔۔پھر ملنا آپ لوگ۔۔۔سواش ہنس کر بتا رہا تھا ساتھ میں اسکے ہاتھ بھی تیزی سے کھانے پر چل رہے تھے۔جس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ وہ باتونی ہونے ساتھ ساتھ کھانے پینے کا بھی شوقین ہے۔۔۔۔۔”

“۔۔۔۔حانم خاتون اسکی پلیٹ میں کبھی کچھ ڈال رہی تھیں کبھی کچھ۔۔۔۔حیات ہونق شکل بنائے کبھی انہیں اشاروں سے منع کرتی۔۔۔۔۔کبھی بے چارگی سے علی اور اسلیحان کی طرف دیکھتی کہ انہیں منع کریں۔۔مگر وہ

اپنی دادی کو روکنے کے بجائے حیات کے تاثرات دیکھ کر دبے دبے انداز میں ہنس رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔”کھانے کے بعد اس کیلئے پھر کافی آئی۔۔۔وہ منع کرنے ہی لگی تھی کہ اسلیحان نے ہنس کر کہا۔۔۔۔۔۔فکر مت کرو یہ پاکستانی کافی کے جیسی ہی ہے۔۔۔حیات نے سپ لیا تو شکر کیا کہ پہلے والی زہر نہیں تھی۔۔۔۔۔چینی اور دودھ بھی تھا اس میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔تھوڑی دیر ایک عورت اور لڑکی آئیں اور اسی خوش اخلاقی سے ملیں جو ترک قوم کی خاصیت ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔وہ سواش کی ماں فریدے آنٹی اور بہن سیلن تھی۔سیلن بھی بہت جلدی اس سے گھل مل گئ۔

اسلیحان اور وہ۔۔۔دونوں یونیورسٹی کی طالبات تھیں سو علی سواش اور اسلی کی طرح سیلن بھی انگلش بول لیتی تھی۔۔۔۔۔دو دن وہ سب اسے برسا کے ارد گرد والے قریبی مقامات کی سیر کراتے رہے۔۔۔۔حیات بہت خوش تھی انکی کمپنی کو کافی انجوائے کر رہی تھی لیکن جو چیز اسے کھٹک رہی تھی وہ تھی۔۔۔۔۔۔۔علی محمدی کی بدلتی نظریں۔۔۔۔۔۔۔۔”لیکن وہ اسے اپنا وہم سمجھ کے دل کو جھوٹی تسلی دینے کی کوشش کر رہی تھیں۔۔۔۔

“تیسرے دن وہ حیات کو سیر کروانے ایک پہاڑی شہر اولاٹ بذریعہ کار روانہ ہوئے۔۔کار میں سوار ہونے کیلئے اسے اسی راستے کے ذریعے نیچے آنا پڑا۔۔۔۔اوپر چڑھنے کی نسبت نیچے اترنا کافی آسان لگا۔۔۔۔۔پھر ان سب نے اسے باتوں میں اس طرح لگایا کہ پچیس منٹ کی چڑھائی اسے دس منٹ کی لگی۔۔۔۔سڑک پر آئے تو علی کی وہی سرخ کار کھڑی تھی۔برسا سے ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت طے کر کے وہ نیچے پہنچے۔۔۔۔۔۔جہاں گرم اور ٹھنڈے پانیوں کے چشمے بہہ رہے تھے۔۔۔ان چشموں کے ایک طرف روڈ کے قریب اس نے گاڑی روک دی اور سب نیچے اتر آئے۔۔دونوں لڑکوں نے اور نے کھانے پینے کی چیزوں والے بیگز اٹھائے۔۔۔ایک چشمے کے قریب پہنچ کر بالکل صاف پتھریلی جگہ کا انتخاب کیا اور وہاں چٹائی بچھا دی۔چیزیں وہیں رکھ کے وہ سب بہتے ہوئے جھرنے کے قریب آ گئیے۔۔۔۔۔

حیات آؤ نا۔۔۔۔وہ سب چشمے کے اس حصے میں داخل ہوئے جہاں پانی صرف پاؤں تک آ رہا تھا۔سیلن نے اسے رکتے دیکھ کر کہا۔۔۔۔۔”

نہیں مجھے پانی سے خوف آتا ہے تم لوگ انجوائے کرو۔۔حیات نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔۔

وہ سب ایک دوسرے پر پانی پھینکنے لگے۔۔۔حیات سائیڈ پر کھڑی انکی مستیاں دیکھ کر محظوظ ہو رہی تھی۔

آپ بھی پانی میں آئیں نا گہرا نہیں ہے۔۔۔۔۔علی اسکے پاس چلا آیا۔۔۔۔”

نہیں میں یہیں ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔”وہ سپاٹ انداز میں بولی

آپ کا ڈریس بہت خوبصورت ہے اور آپ پر اچھا بھی بہت لگ رہا ہے۔۔۔۔اچانک وہ اسکے بلیک انار کلی فراک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔۔۔حیات نے چونک کر اسکی طرف دیکھا اسکی نظروں کے زاویے بہت گہرے تھے۔عورت مرد کی نظروں کو بہت جلدی بھانپ لیتی ہے۔پچھلے دو دنوں سے وہ اسے اپنا وہم خیال کر کے اگنور کر رہی تھی لیکن اب وہ اسے جسطرح دیکھ رہا تھا حیات کو اس کی آنکھوں کے بدلتے رنگ واضع طور پر نظر آ رہے تھے۔۔۔۔۔”

مجھے اپنی تعریف سننا صرف اپنے ہزبینڈ کے منہ سے اچھا لگتا ہے۔۔۔وہ روکھے لہجے میں بولی

ہزبینڈ۔۔۔۔۔”

یس آئی ایم میریڈ۔۔۔۔”وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اعتماد سے بولی۔۔

یہی تو افسوس ہے۔۔۔۔وہ کھوئے کھوئے انداز میں بولا

کیا مطلب۔۔۔۔وہ چونکی

کچھ نہیں آپ نے اتنی جلدی شادی کیوں کر لی۔۔۔؟

شادی نہیں کی صرف نکاح ہوا ہے۔۔۔۔”

تو اور کیسے شادی ہوتی ہے۔۔۔۔”اس نے اچنبھے سے دیکھا

میرا مطلب ہے ہمارے ہاں نکاح کے بعد رخصتی کی رسم ہوتی ہے۔وہ ابھی نہیں ہوئی کیونکہ میرے ہزبینڈ کسی کام کے سلسلے میں امریکہ گئیے ہوئے ہیں۔۔جب واپس آئیں گے تو رخصتی کی رسم ہوگی۔

اوہو اچھا۔۔۔کاش نکاح سے پہلے آپ ترکی آ جاتیں۔۔۔وہ حسرت آمیز لہجے میں بولا

کیا مطلب ہے آپ کا۔۔۔۔؟ترش لہجے میں پوچھا

ایکچولی آپ مجھے بہت اچھی لگی ہیں۔۔۔۔اگر آپ کا نکاح نا ہوا ہوتا تو میں لازمی آپ کو پرپوز کرتا۔۔مگر

شائد میری قسمت اچھی نہیں تھی”

“وہ اتنا صاف اور واضع الفاظ میں بول دے گا امید نہیں تھی اسے۔۔۔سو اسکے چہرے پہ پہلے حیرانی بے یقینی اور پھر ناگواری کے تاثرات چھا گئے۔۔۔۔۔”

ایم سوری اگر آپ کو برا لگا تو۔۔۔۔۔اسکے تاثرات دیکھ کر معذرت خواہ انداز میں بولا

حیات اسکی بات کا جواب دیے بغیر سخت نظروں سے دیکھتی اس طرف بڑھ گئی جس طرف اسلیحان لوگ تھے۔۔۔۔۔۔”

جھرنے کے قریب ایک سر سبز پھولوں سے مہکتے گوشے کا انتخاب کر کے انہوں نے کھجور کے پتوں سے بنی چٹائی بچھائی اور دائرے کی صورت میں بیٹھ گئے۔۔۔سواش بہتے جھرنے سے پانی کا کولر بھر لایا۔کھانے میں باربی کیو کے ساتھ سبزیاں سالاد پراٹھے اور پنیر تھے۔جو کہ ایمنے آنٹی اور فریدے آنٹی نے مل کر بنایا تھا سب۔۔اس دوران ناچاہتے ہوئے بھی علی کے ساتھ اس رویہ سرد ہو گیا۔۔اسے غصہ تھا کہ جب وہ اسکے نکاح کے متعلق جانتا تھا تو اتنی فضول بات کیوں کہہ گیا۔۔۔۔۔حیات سے مخاطب ہونے کی اس نے کئی بار کوشش کی مگر وہ اسے اگنور کیے باقی سب کے ساتھ باتوں میں لگی رہی۔تو وہ کچھ خاموش سا ہو گیا۔۔۔۔۔”

“کھا پی کےسب تازہ دم ہوئے تو پھر سے گاڑی میں بیٹھے اور ایک اور پہاڑی سلسلے کی جانب چل پڑے جو کہ Denizle کے علاقے میں واقع تھا۔یہاں ایک سفید پہاڑی تھی اس کا نامPamukkale تھا۔۔ایک پہاڑی سے دوسری پہاڑی تک جانے کیلئے لفٹ چیئرز لگی ہوئی تھیں۔اگرچہ یہاں پہاڑی سلسلے تھے مگر یہ خشک اور سفید علاقہ تھا۔عمدہ قسم کے ہوٹل بنے ہوئے تھے۔یہ مقام برسا سے دو گھنٹوں کی مسافت پر تھا۔۔”

“سفید رنگ کی ایک پہاڑی بالکل سامنے تھی۔۔۔۔ایک پہاڑی سے دوسری پہاڑی تک پہنچنے کیلئے لفٹ چیئرز لگی ہوئی تھیں۔سارا دن گھوم پھر کے وہ شام ڈھلے واپس برسا پینچے۔۔۔۔۔’

“وہ لان میں بیٹھا چائے پی رہا تھا جب فرقان کی کال آئی۔جو خبر اس نے سنائی،سن کر اسکے تن بدن میں آگ لگ گئی۔۔۔۔۔۔” لان سے اٹھ کر اپنے بیڈروم میں چلا آیا۔۔۔ایک ان دیکھی آگ اسکے رگ و پے کو جلا رہی تھی۔۔۔چند لمحے کھڑا وہ اپنے تیز رفتار تنفس پر قابو پانے کی کوشش کرتا رہا”

“حیات عبدالرحمان ترکی میں اپنے یونیورسٹی کے پروفیسر کے ساتھ گھوم پھر رہی تھی۔۔۔یہ خبر اس کیلئے کسی بہت بڑے شاک سے کم نہیں تھی۔۔۔۔

“اسے حلال حرام کا لیکچر دینے والی خود کس رشتے سے اس پروفیسر کے ساتھ مزے کر رہی ہے۔۔۔۔ایسی کیا خاص بات تھی اس پروفیسر میں جو ماحر خان میں نہیں تھی یہی سوال اسے سلگا رہے تھے۔۔۔۔”

“آگ تھی کہ اسکے اندر بھڑکتی ہی چلی جا رہی تھی۔

وہ تیزی سے واش روم میں آیا اور شاور کے نیچے کھڑا ہو گیا۔۔۔۔کئی گھنٹے ہو گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شاور سے گرتی تیز بوندیں بھی اسکی بھڑکتی ہوئی آگ کو کم نہیں کر پا رہی تھیں۔۔تصور میں بار بار وہ اسے ارتضیٰ حسن کے ساتھ گھومتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔تپش تھی کہ مزید بڑھ رہی تھی۔۔۔دل چاہ رہا تھا ہر سو آگ لگا دے۔ہر ایک کو قتل کر ڈالے۔اپنی راہ میں آنے والی ہر شے کو نیست ونابود کر دے۔۔۔۔۔”

ماحر۔۔۔ماحر۔۔۔۔زور دار دستک کے ساتھ مام کی پریشان کن آواز اسکی سماعتوں سے ٹکرائی تو وہ حواسوں میں لوٹا۔۔۔۔۔۔”

تھینکس گاڈ آپ ٹھیک ہیں میں تو گھنٹوں سے آپ کو باتھ روم میں لاکڈ دیکھ کر گھبرا ہی گئی تھی۔اسے صحیح سلامت باہر آتے دیکھ کر وہ تشکر بھرے انداز میں بولیں۔۔۔۔۔

آپ کیا سمجھیں۔کہ میں نے خود کشی کر لی ہو گی۔۔وہ ٹاول سے بالوں کو رگڑتا استہزائیہ انداز میں گویا۔۔

اللّٰہ