171.9K
78

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Hayat (Episode 05)

Meri Hayat By Zarish Hussain

اس نے سر اٹھا کر اوپر آسمان کی طرف دیکھا۔۔میلوں دور جگمگاتے ہوئے ستارے ہی ستارے پھیلے ہوئے تھے۔۔۔اس کے خوبصورت چہرے پہ مسکراہٹ چھا گئ۔۔۔۔۔۔اسے لگ رہا تھا وہ جب چاہے ہاتھ بڑھا کر ان ستاروں کو چھو سکتا ہے۔۔۔اسے اپنا آپ بھی بالکل اوپر دور آسمان پر چمکتے ہوئے ستاروں کی مانند لگ رہا تھا۔۔۔بالکل ایک روشن جگمگاتے ہوئے ستارے کے جیسا۔۔۔۔۔۔۔۔جسے چھونے کیلئے جس تک پہنچنے کیلئے لوگ بے تاب رہتے تھے۔۔۔۔

اسے ساری دنیا اپنی مٹھی میں محسوس ہو رہی تھی۔۔۔اور وہ اپنے اس احساس میں بڑی حد تک حق بجانب بھی تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

⁦فرقان دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑے بیٹھا تھا۔۔۔فراز بھی پیشمان سا پاس کھڑا تھا۔۔۔۔۔

اب کیا ہوگا فرقان بھائی۔۔۔؟فراز نے ڈرتے ڈرتے پوچھا

فرقان نے سر اٹھا کے اسے گھورا۔۔۔۔۔بیوقوف کیا تم فون پہ اس کا نام نہیں پوچھ سکتے تھے۔۔۔ایسے ہی ملاقات طے کر کے بلا لیا۔۔۔۔۔

مم میری کیا غلطی اس میں فرقان بھائی۔۔۔وہ منمنایا۔۔۔۔

آپ نے ہی پہلے نام نہیں بتایا اور نمبر بھی دوسری لڑکی کا دے دیا۔۔۔۔ اب مجھے کیا پتا تھا کہ وہ کوئی اور ہوگی۔۔۔۔۔

ہاں ساری غلطی میری ہی ہے۔۔۔مجھے تم جیسے بے وقوف کو یہ کام سونپنا ہی نہیں چاہیئے تھا۔۔اگر ماحر سر تمہارا نا کہتے تو میں خود یہ کام کر لیتا۔۔۔اب دیکھ لیا اپنی لاپرواہی کا نتیجہ۔۔۔ وہ سخت جھنجھلا رہا تھا اپنی غلطی پر۔۔۔۔۔

۔۔۔ رنگ کی آواز پر سیل نکال کے دیکھا تو ماحر سکندر کی کال آرہی تھی۔۔وہ مزید پریشان ہو گیا۔۔۔اب ماحر سکندر کے غصے کو بھی بھگتنا تھا۔۔۔

۔۔یہ دیکھو ماحر سر کی کال آ رہی ہے اب انہیں کیا جواب دوں میں وہ سخت ناراض ہونگے جب انہیں یہ پتہ چلے گا کہ ہم نے غلطی سے غلط لڑکی سے کنٹیکٹ کر کے بلا لیا۔۔۔۔۔وہ سخت پریشانی سے بولتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے آپ کو ماحر سکندر کا غصہ جھیلنے کیلئے تیار کرتا مرے مرے قدموں سے آفس روم کی طرف بڑھ گیا جہاں ماحر اس کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔۔

فراز نادم سا اپنی چیئر پر بیٹھ گیا۔۔۔۔اور سوچنے لگا۔۔

غلطی فرقان سے زیادہ اسکی تھی۔۔۔ فرقان کو خیال نہیں آیا تو نمبر لیتے وقت وہ فرقان سے نام پوچھ لیتا ۔۔یا پھر اس لڑکی سے ہی نام پوچھ کے فرقان سے کنفرم کر لیتا۔۔۔۔

۔۔۔۔پتا نہیں اب کیا ہوگا۔۔۔ماحر سر تو ہیں بھی سخت غصیلے اور غلطی تو وہ بالکل برداشت نہیں کرتے۔۔

فرقان بھائی کو آج میری وجہ بہت ڈانٹ پڑے گی ماحر سر سے۔۔۔۔وہ پریشان سا ہاتھ مسلنے لگا۔۔۔

فرقان دروازہ ناک کرکے دھڑکتے دل کے ساتھ اندر داخل ہوا۔۔ماحر جو اسی کا منتظر تھا۔۔حیات عبدالرحمان کو اسکے ساتھ نا پا کر سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھا۔۔۔۔

کیا بات ہے فرقان مس حیات کہاں ہے۔۔۔وہ کرسی پر سیدھا ہو کر بیٹھتا سنجیدگی سے پوچھنے لگا۔۔۔۔

سر وہ۔۔۔۔ فرقان نے تھوک نگل کے گلے کو تر کیا جو ماحر سکندر کے غصے کے خوف سے خشک ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔

کیا وہ۔۔۔ آگے بھی بولو۔۔۔۔۔۔ماحر نے چڑ کے فرقان سے کہا جو دو لفظ بول کے خاموش ہوگیا تھا۔۔۔

وہ۔۔۔۔وہ لڑکی نہیں آئی سر۔۔۔۔۔۔ہمت کر کےکہہ ہی دیا۔۔

واٹ۔۔۔بٹ وائے۔۔۔؟؟؟؟؟اس نے حیرت سے پوچھا

آئی ایم سوری سر۔۔۔ایکچولی فراز سے غلطی ہو گئی وہ مس حیات کے بجائے دوسری لڑکی سے کنٹیکٹ کر بیٹھا اسے حیات عبدالرحمان سمجھ کر۔۔۔

ابھی جو لڑکی آئی تھی۔ وہ دوسری تھی حیات نہیں۔۔۔

واٹ ربش۔۔۔ماحر کا دماغ بھک سے اڑا۔۔۔۔۔۔

وہ فرقان کی بات سن کر انتہائی غصے سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمہارے ذمے لگایا تھا میں نے یہ کام اور تم نے سارا کا سارا اس گدھے فراز پہ ڈال دیا۔۔اب اگر ہمیں وہ لڑکی نا ملی تو سارا سیٹ اپ برباد ہو جائے گا۔۔

جانتے بھی ہو کہ کتنے بڑے بجٹ کی فلم ہے۔۔۔اسی لڑکی کی وجہ سے ہی میں اس فلم پر اتنا پیسا لگا رہا تھا ۔۔۔۔فارنر ڈانسرز کو ہائر کر چکا ہوں۔۔۔انکا معاوضہ۔۔ انکی رہائش۔۔لوکیشنز۔۔۔۔ رائٹر۔۔۔۔سنگر سب کے ساتھ معاملات طے ہوچکے ہیں۔۔۔۔۔

۔۔۔۔ اور تم مجھے اب بتا رہے ہو کہ تم لوگوں سے غلطی ہوگئی وہ ہماری مطلوبہ ہیروئن نہیں کوئی اور لڑکی ہے۔۔۔وہ سخت غصے میں فرقان پر برس رہا تھا جو کہ سر جھکائے خاموش کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔

سر آپ نے خود کہا تھا کہ اس لڑکی کا نمبر فراز کو دوں۔۔تو اب یہ غلطی اس سے ہوئی میرا اس میں قصور نہیں۔۔فرقان نے اپنی صفائی دینے کی کوشش کی۔۔۔

شٹ اپ۔۔۔۔۔میں نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ سارا کام فراز پہ ڈال کے تم بری ہو جاؤ۔۔۔۔وہ بگڑا

پر سر۔۔۔۔۔۔۔فرقان نے بولنا چاہا

۔۔۔شٹ اپ۔۔۔۔۔ جسٹ کیپ کوائیٹ۔۔ نمبر دو مجھے اس لڑکی کا۔۔۔۔۔اس نے غصے سے گھرکا

سر میں نے ٹرائی کیا ہے مگر اس کا نمبر سوئچ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔جو کہا ہے وہ کرو۔۔۔۔۔اس نے پھر سے کچھ کہنا چاہا ۔۔ماحر نے آنکھیں نکالیں۔۔

۔۔۔ نمبر بتاؤ ۔۔۔اس نے پاکٹ سے اپنا موبائل نکال کر سامنے کیا۔۔۔۔فرقان کے بتانے پر اس نے جونہی نمبر ڈائل کر کے پریس کیا سکرین پر حیات عبدالرحمان کا نام جگمگانے لگا تو اسے یاد آیا کہ نمبر تو اسکے پاس پہلے سے ہی سیو تھا۔۔کاش ان بے وقوفوں پر انحصار کرنے کے بجائے خود کنٹیکٹ کر لیتا تو آج پریشان تو نا ہونا پڑتا۔ دل ہی دل میں خود کو کوستے ہوئے موبائل کان سے لگایا تو آگے سے مطلوبہ نمبر بند کی اطلاع ملی۔۔۔۔۔

کیا ہوا سر نمبر بند ہے نا۔۔میں آپ کو یہی تو بتا رہا تھا مگر آپ نے۔۔۔۔۔فرقان نے عادت سے مجبور ہو کر پھر سے بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کی غلطی کی

۔

جواباً ماحر نے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا۔۔۔

سر ایک بات کرنی تھی۔۔۔اس نے ڈرتے ڈرتے پھر کہا

بولو۔۔۔۔ماحر نے گلاس اٹھا کے دو گھونٹ پانی پی کر بمشکل اپنے اندر پیدا ہونے والے اشتعال پر قابو پایا۔۔۔۔۔

جس ایڈ ایجنسی کے آپ ایمبیسیڈر ہیں۔۔۔وہ آپ سے میٹنگ کرنا چاہتے ہیں۔۔کب کا ٹائم دوں انہیں۔۔۔؟

اگلے ہفتے کا دے دو۔۔۔ اور اس سے پہلے یہ مسئلہ حل کرو۔۔۔مجھے اپنی فلم کیلئے ہرحال میں وہی لڑکی چاہیے۔۔۔۔اس نے تحکم بھرے انداز میں کہتے ہوئے ٹیبل پر ہاتھ مارا۔۔۔۔

جی جی سر میں پوری کوشش کرتا ہوں۔۔فرقان نے تابعداری سے کہا۔۔۔

کوشش نہیں۔۔۔ہر حال میں کامیابی۔۔۔اس نے ماتھے پہ بل ڈال کر کہا۔۔۔۔

جی جی سر بالکل۔۔۔۔۔اب میں جاؤں سر۔۔۔۔؟ڈرتے ہوئے اجازت چاہی۔۔۔۔

اور کیا میرے سر پہ سوار رہو گے۔۔ پہلے ہی بہت اچھی نیوز لائے ہو نا۔۔۔اس نے سلگ کے کہتے ہوئے سیگریٹ اٹھایا۔۔۔۔۔۔

سیگریٹ اور شراب ان دونوں چیزوں سے ہی وہ اپنے غصے کو کنٹرول کیا کرتا تھا۔۔۔فرقان نے وہاں سے کھسکنےمیں ہی اپنی عافیت جانی۔۔۔

وہ سفید لباس میں اڑ رہی تھی۔۔۔اڑتے اڑتے اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔۔ستاروں کی مدھم سی روشنی چار سو پھیلی ہوئی تھی۔۔

اسے اپنا آپ بالکل کسی پرندے کی مانند لگ رہا تھا۔۔

وہ خود کو کسی ہوا کے جھونکے کی طرح محسوس کر رہی تھی۔۔۔

۔۔۔۔۔اس کے ارد گرد مکمل خاموشی تھی۔۔۔

۔۔۔۔اور ستاروں کی مدھم روشنی۔۔۔۔۔

۔۔۔ہوا کے خوشگوار جھونکے اس کے ملائم بدن کو سہلا رہے تھے۔۔۔

وہ اڑتی ہی جا رہی تھی۔۔۔اس کا سفر ابھی جاری تھا۔۔۔

آج حورین کا ولیمہ تھا۔۔۔نکاح کی تقریب اور رخصتی کل شام کو ایک ساتھ ہی ہوئی تھی۔۔ویسے بھی رخصت ہوکے اس نے جانا کہاں تھا۔۔اسکے ماموں ممانی اور شایان انہی کے گھر ہی تو ٹھہرے ہوئے تھے۔۔۔۔آج ولیمہ کی تقریب کے بعد ان لوگوں کی لندن کی فلائٹ تھی۔۔۔حیات کل نکاح کی تقریب کے بعد حورین سے معذرت کر کے واپس آگئی تھی۔۔۔۔

آج وہ سیڈ تھی کیوں اسکی عزیز از جان دوست اس سے دور جا رہی تھی۔۔۔۔۔

کبرڈ کھول کر اس نے ولیمہ پر پہننے والا ڈریس نکالا۔۔

یہ بلیک ٹخنوں تک آتی گھیردار ریشمی فراک تھی جس پہ وائٹ نگوں سے نفیس کام کیا گیا تھا۔۔۔بازو نیٹ کے تھے۔۔۔ڈریس نکال کے وہ ڈریسنگ روم کی طرف جانے ہی لگی تھی کہ بیڈ پر پڑا اس کا فون بجنے لگا

پلٹ کے اس نے فون اٹھایا۔۔۔

نمبر انجان تھا۔۔۔سو کال کاٹ کے چینج کرنے چلی گئی۔۔۔چینج کر کے واپس آئی تو فون پھر سے بج رہا تھا۔۔۔۔شائد حورین کی کال ہو اب۔۔اس نے سوچا

مگر جب دیکھا تو کال ہنوز اسی نمبر سے ہی آ رہی تھی۔۔ وہ کچھ دیر ہاتھ میں لئیے کھڑی رہی

دوبارہ سے سرخ بٹن پریس کیا۔۔۔

اگلے ہی پل اسی نمبر سے میسیج شو ہوا۔۔۔۔

مس حیات عبدالرحمان پلیز اٹینڈ مائی کال۔۔۔۔

کون ہو سکتا ہے۔۔۔؟وہ سوچنے لگی۔۔۔دوبارہ کال آنے پر اس نے ڈراپ کرنے کے بجائے ریسیو کر کے موبائل کان سے لگایا۔۔۔۔۔۔۔

مس حیات۔۔۔؟اسے پکارا گیا۔۔۔۔آواز انجان تھی

یس۔۔۔۔۔آپ کون۔۔۔؟وہ الجھی

میں ماحر سکندر بات کر رہا ہوں۔۔۔ آواز خاصی سحرانگیز تھی۔۔۔۔۔

کون ماحر سکندر۔۔۔؟نام تو سنا سنا لگا۔۔۔مگر ذہن سے نکل چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

فلمسٹار ماحر سکندر خان۔۔۔۔۔

مس حیات مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔

سو میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔۔۔۔

کس سلسلے میں۔۔۔۔۔؟

اپنی فلم کے سلسلے میں۔۔۔تو آپ میرے آفس آئیں گی یا کسی ریسٹورنٹ میں ملیں گی۔۔۔۔انداز ایسا پر اعتماد تھا جیسے پکا یقین ہو کہ مقابل دوڑی چلی آئے گی۔۔۔۔

مگر مقابل بھی حیات عبدالرحمان تھی۔۔۔۔۔

دوسری لڑکیوں کی طرح ہرگز نہیں۔۔۔۔۔۔

ان شوبز کے ستاروں سے قطعی متاثر نا ہونے والی۔۔۔۔۔

اسکی پسند یونیک تھی۔۔۔وہ اس شے کے پیچھے کبھی نہیں بھاگی جس کے پیچھے سب بھاگ رہے ہوتے۔۔

اسے ایسی چیزیں کبھی پسند نہیں ہی آئیں جنہیں ہر کوئی پسند کرتا ہو۔۔۔۔۔۔

سوری مجھے شوبز فیلڈ اور اس سے ریلیٹڈ لوگ نہیں پسند۔۔۔

نا میں آپ جیسے لوگوں سے ملنے میں انٹرسٹ رکھتی ہوں ۔۔۔

۔روکھے لہجے میں بغیر کسی لگی لپٹی کے کہتے ہوئے اس نے کال کاٹ دی۔۔ موبائل آف کر کے اسے بیڈ کی سائیڈ دراز میں ڈال دیا۔۔۔اور تیار ہونے لگی۔۔۔مون بھی اسکے ساتھ جا رہا تھا۔۔۔اسے وہ پہلے ہی تیار کر کے ٹی_ وی لاونج میں بٹھا کے کارٹون لگا کے دے آئی تھی تاکہ اسکے آنے تک آرام سے ایک جگہ بیٹھا رہے۔۔۔۔۔

عبدالرحمان آفس میں تھے اور سائرہ کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی وہ اپنے بیڈ روم میں آرام کر رہی تھیں۔۔۔۔۔

ماشاءاللہ حیا بی بی آپ بہت زیادہ پیاری لگ رہی ہیں

وہ تیار ہو کے نیچے آئی تو ڈسٹنگ کرتی ملازمہ نے اسے سراہا۔۔۔۔۔تھینکس زبیدہ ۔۔۔۔وہ مسکرائی۔۔۔۔۔

چلو مون۔۔۔۔مون کے پاس آکے اس کا ہاتھ پکڑا

اسے لے کر باہر آئی تو ڈرائیور گاڑی لئیے انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔ولیمے کی تقریب ہوٹل میں تھی۔۔ مگر اسے پہلے حورین کی ہدایت پر اسکے گھر جانا تھا جہاں سے وہ دونوں اکٹھی پارلر جاتیں۔۔کہیں لیٹ نا ہو جاؤں۔۔۔سوچتے ہوئے ٹائم دیکھنے کیلئے پرس میں ہاتھ ڈال کے موبائل نکالنا چاہا تو پتہ چلا موبائل پرس میں نہیں ہے۔ وہ تو اس نے آف کر کے دراز میں ڈال دیا تھا۔۔۔

خیر اب کیا ہو سکتا تھا۔۔۔سر پہ ہاتھ مار کے رہ گئی۔۔۔۔

ڈرائیور کو گاڑی تیز چلانے کا کہہ کے وہ مون کی طرف متوجہ ہوئی جو کہ پوچھ رہا تھا۔۔۔آپی آپ کی دوست دلہن بنیں گی۔۔۔۔؟

ہاں دلہن بنے گی۔۔۔وہ مسکرائی

کس کی دلہن بنیں گی ۔۔معصومیت بھرا سوال دوبارہ کیا گیا۔۔۔۔

اپنے دلہا کی بھئی۔۔۔

آپی آپ کب دلہن بنیں گی۔۔۔؟مون کے اگلے سوال پہ اس کا منہ حیرت سے کھل گیا۔۔۔۔۔۔

جب خدا کو منظور ہوگا۔۔۔مسکرا کے اسکے سر پر چپت لگائی۔۔۔۔۔۔

اسی وقت ڈرائیور نے حورین کے گھر کے سامنے گاڑی روکی تو وہ مون کا ہاتھ پکڑ کے اتر آئی۔۔۔۔

حورین اپنے گھر کے گیٹ پہ ہی اسکے انتظار میں کھڑی تھی۔۔ڈرائیور اور گاڑی بھی تیار کھڑے تھے۔۔

اسے دیکھ کے فوراً اسکے گلے آ لگی۔۔۔۔

میں لیٹ تو نہیں ہوئی۔۔۔حیا نے الگ ہوتے ہوئے پوچھا

ہاں پورے پانچ منٹ۔۔۔حورین نے منہ بنا کے کہا وہ ہنس دی۔۔۔۔۔۔باقی لوگ چلے گئے۔۔۔۔۔؟

۔۔۔۔نہیں وہ تیار ہو رہے ہیں۔۔۔۔۔حورین نے جواب دیتے ہوئے گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔

۔۔۔مون بھی ساتھ تھا۔۔۔ دس منٹ بعد وہ پارلر پہنچ گئیں۔۔۔یہ شہر کا سب سے مشہور بیوٹی پارلر تھا۔۔ ڈرائیور نے گاڑی روکی۔۔۔وہ نیچے اتریں۔۔۔ بیگز اٹھائے جن میں حورین کے کپڑے اور جیولری تھی۔۔۔۔

ڈرائیور کو واپسی کا ٹائم دے کے وہ اندر داخل ہوئیں تو پارلر میں حسب معمول رش تھا۔۔مگر حورین نے اپائنٹمنٹ لیا ہوا تھا۔۔۔

میم آپ چینج کر لیں پھر آپکا میک اپ کرنا ہے۔۔۔۔

حورین کو بیوٹیشن تیار کر رہی تھی۔۔جب ساتھ بیٹھی حیا سے دوسری بیوٹیشن لڑکی نے کہا۔۔۔۔۔

۔۔۔تھینکس مجھے ضرورت نہیں۔میں تو آلریڈی تیار ہوں۔۔حیا نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔

میم انہوں نے کہا ہے کہ آپ کو تیار کرنا ہے۔۔۔اس لڑکی نے حورین کی طرف اشارہ کیا۔۔حیا نے چونک کر حورین کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔

۔۔۔ ہاں میں نے کہا۔۔اور میں تمہارے لیئے ڈریس اور جیولری لائی ہوں۔۔آج ہم ساتھ ہیں۔۔پھر نا جانے کب ملاقات ہو۔۔۔۔ میں نے تم سے کبھی کوئی فرمائش نہیں کی۔۔۔۔مگراب کر رہی ہوں۔۔۔سو آج میری خواہش

پر تمہیں تیار ہونا ہوگا۔۔۔۔اور اگر تم نے انکار کیا تو ہماری دوستی ختم سمجھنا میں زندگی میں پھر کبھی نا تم سے ملوں گی اور نا بات نہیں کرونگی۔۔۔

حورین کے ایموشنل انداز میں بولنے پر حیا بے چارگی سے اسے دیکھ کے رہ گئی۔۔۔۔

لیکن میری تیاری اچھی تو ہے۔۔۔حیا نے ایک نظر آئینے میں خود دیکھتے ہوئے کہا

حیات عبدالرحمان۔۔۔حورین نے ناراضگی بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے اس کا نام لیا تو نا چاہتے ہوئے بھی اسے اسکی بات ماننا پڑی۔۔۔۔۔۔۔۔حورین جو ڈریس اس کیلئے لائی تھی وہ ییلو کلر کا لہنگا تھا۔۔۔لہنگے کے دامن اور چولی کے گلے پہ پیلے موتیوں سے کام کیا گیا تھا۔۔۔آج پہلی بار اس نے اس طرح کا ہیوی کام والا ڈریس پہنا تھا اور وہ بھی لہنگا۔۔۔۔وہ کمفرٹیبل فیل نہیں کر رہی تھی مگر حورین کو ناراض بھی نہیں کر سکتی تھی۔۔۔

۔۔وہ چینج کر کے آئی تو پارلر میں موجود سب لڑکیاں ستائشی نظروں سے اسے دیکھنے لگیں۔۔۔۔

ماشاءاللہ۔۔۔۔حورین کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔۔

۔۔۔۔۔۔ قسم سے یار اتنی پیاری لگ رہی ہو کہ اگر میں لڑکا ہوتی تو تم سے ہی شادی کرتی۔۔۔ تم پہ ہی مر مٹتی۔۔ حورین نے حسب عادت اپنی ہزار بار کہی جانے والی بات دہرائی۔۔۔۔

بس کرو ہر وقت یہی بات کہتی ہو۔۔۔حیا جھینپ کے ٹوک گئی کیونکہ پارلر میں موجود لڑکیاں اس بات پر ہنسنے لگی تھیں۔۔۔۔

میم آپکو تو میک اپ کی ضرورت بھی نہیں ہے۔۔۔آپ تو بنا میک اپ کے ہی بہت خوبصورت لگ رہی ہیں۔۔۔ بیوٹیشن نے مسکرا کے کہا جسکی تائید دوسری لڑکیوں نے بھی کی۔۔۔۔۔

میں نے بہت لڑکیوں کو تیار کیا ہے مگر آپ کی بیوٹی سے میں بہت ہی امپریس ہوئی ہوں۔۔ایسا مکمل حسن میں نے پہلی بار دیکھا ہے۔۔۔ پارلر والی اسکی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہی تھی کہ اپنا میک اپ کرواتی حورین اسے ٹوک گئی۔۔۔۔

اچھا بس اب میری دوست کو نظر لگاؤ گی کیا اس کا میک اپ کرو۔۔۔۔۔

تیار ہو کر جب حیا نے آئنیہ دیکھا تو حیران رہ گئی وہ مکمل دلہن تو نہیں لیکن دلہن سے کم بھی ہرگز نہیں لگ رہی تھی۔۔۔۔۔۔حورین نے فوراً اپنی آنکھ سے کاجل لے کے اسکے کان کے پیچھے لگا دیا کہ کہیں نظر نا لگ جائے۔۔۔۔۔

حورین میں اوور لگ رہی ہوں۔۔۔بہت عجیب فیل ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ پہلی بار خود کو اتنا تیار دیکھ کے شرم سی محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔۔

کوئی اوور نہیں لگ رہی تم۔۔۔خبردار جو کچھ بھی اتارنے کی کوشش کی ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔حورین نے اسے آنکھیں دکھاتے ہوئے ڈرائیور کو کال ملائی۔۔۔اب انہیں یہاں سے ہوٹل جانا تھا جہاں ولیمے کی تقریب تھی۔۔۔۔

میم کیا میں آپ کی ایک تصویر لے سکتی ہوں۔۔؟

مجھے اپنے پارلر میں لگانی ہے۔۔۔پارلر والی حیات سے بہت ہی امپریس ہو رہی تھی۔۔۔

سوری میں آپکو منع نہیں کرتی بٹ مجھے اپنی تصویروں کی نمائش کروانا پسند نہیں۔۔۔حیا نے شائستگی سے معذرت کی۔۔۔

اٹس اوکے میم۔۔۔پارلر والی کے چہرے پہ مایوسی چھا گئی۔۔۔۔۔۔

مس فرحین عنایہ عارف شوٹنگ پر نہیں گئیں آج آپ۔۔۔؟

فرحین کو دور سے ہی آتا دیکھ کر ارسلان بھٹی نے اعلان کرنے کے انداز میں پوچھا۔۔۔وہ اپنے گروپ کے لڑکوں کے ساتھ سامنے ہی کھڑا تھا۔۔۔

اسکے فرینڈز دبی دبی آواز میں ہنسنے لگے۔۔۔

فرحین کو تپ چڑھی ہوئی تھی کل سے ہی جب ماحر کے مینیجر نے اس سے بہانہ بناتے ہوئے کہا۔۔۔ معذرت چاہتے ہیں میم ماحر سر بہت بزی ہیں وہ آج آپ سے نہیں مل سکتے۔۔جس دن وہ فری ہونگے ہم آپکو کال کر کے بلا لیں گے۔۔۔اب آپ جا سکتی ہیں۔۔۔۔۔۔

۔۔ وہ اچھی طرح جان گئی تھی کہ اسے ٹالا جا رہا ہے۔۔اس لمحے اسے حیات پہ بہت غصہ آیا اور اس سے شدید جیلسی فیل ہوئی کہ اسکی وجہ سے اسے ریجیکٹ کر دیا گیا۔۔۔۔

وہاں سے تلملاتی ہوئی وہ گھر آئی تھی۔۔۔آتے ہی سارا غصہ تائی پہ نکالا جن کا یہ پوچھنا ہی اسے آگ لگا گیا۔۔کیا ہوا عنایہ تجھے اپنی فلم انہوں نے لے لیا کیا۔۔؟

تب محترمہ عنایہ نے انہیں بے بھاؤ کی

سنائی تھیں۔۔۔۔گھر میں اسے عنایہ ہی کہا جاتا تھا

جواب تو دیتی جائیں مس فرحین عنایہ عارف۔۔۔اس نے انہیں نظر انداز کر کے سائیڈ سے گزرنا چاہا مگر وہ سامنے آ گیا۔۔۔۔

کیا مسئلہ ہے ہٹو میرے راستے سے۔۔۔اسے سخت تاؤ آیا

پہلے یہ تو بتاتی جائیں کہ شوٹنگ پر کب جائیں گی۔۔۔۔؟اس نے طنزیہ انداز میں پوچھا

تم سے مطلب۔۔۔فرحین نے گھورا

اب ہٹو میرے راستے سے میں تمہارے منہ نہیں لگنا چاہتی فرحین نے کہنے کے ساتھ اسے سائیڈ پہ دھکیلا اور آگے بڑھی۔۔۔۔۔

کہیں انہوں نے تمہاری جگہ کسی اور لڑکی کو تو نہیں سلیکٹ کر لیا۔۔۔۔وہ اسکے پیچھے چلتے ہوئے کہہ رہا تھا

مثلاً۔۔۔۔۔۔۔ ایک لمحے کو رک کے بولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔حیات عبدالرحمان کو۔۔۔۔۔۔۔۔

فرحین کے قدم فوراً رکے جھٹکے سے اسے پلٹ کے دیکھا جو تمسخرانہ انداز میں مسکرا رہا تھا۔۔۔۔

کیا ہوا۔۔۔جان کے شاک لگا کہ مجھے کیسے پتا چلا۔۔۔؟

فرحین کے Expressions دیکھنے والے تھے۔۔۔

خفت۔۔۔۔۔۔شرمندگی۔۔۔۔۔۔۔حیرانی

۔۔۔۔ میں جانتا ہوں وہ ایکچولی تمہیں نہیں حیات عبدالرحمان کو اپنی فلم میں لینا چاہتے تھے۔۔۔۔

مگر غلطی سے تم سے کنٹیکٹ کر بیٹھے۔۔۔اور جب تم وہاں گئی تو انہیں اپنی غلطی کا اندازہ ہوا اور تمہیں وہاں سے بہانہ بنا کے ٹرخا دیا گیا۔۔۔وہ اسکے چہرے کے تاثرات سے حظ اٹھا رہا تھا۔۔۔

تت۔۔ تمہیں یہ سب کیسے معلوم۔۔۔وہ سخت حیران تھی۔۔۔۔۔

مجھے سب معلوم ہے۔۔۔تم مجھے یہ بتاؤ تمہیں ایکٹریس بننے کا شوق ہے۔۔۔۔؟

تم کیوں پوچھ رہے ہو۔۔۔۔۔اپنی حیرانی پر قابو پا کے بھنویں اچکا کے پوچھا۔۔

دیکھو اگر تم فلم میں کام کرنا چاہتی ہو تو میں تمہاری ہیلپ کر سکتا ہوں۔۔۔میرا کزن ماحر سکندر کا سیکرٹری ہے۔۔۔۔

وہ فراز تمہارا کزن ہے۔۔۔وہ حیرت سے بولی

ہاں۔۔۔۔۔۔ohhh اچھا۔۔۔پھر اسی منحوس نے تمہیں بتایا ہوگا۔۔۔وہ دانت پیس کے بولی۔۔

اس بات کو چھوڑو تم یہ بتاؤ فلم میں کام کروگی وہ بھی ماحرسکندر کے ساتھ۔۔۔۔؟

تم کیسے فلم میں کام دلواو گے مجھے۔۔۔؟اور ہاں تم کیوں فلم میں کام دلواو گے مجھے۔۔۔؟؟تمہارا اس میں کیا فائدہ۔۔۔؟؟آج کل بغیر مطلب کے تو کوئی کسی کے کام نہیں آتا۔۔۔فرحین نے اسے مشکوک نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔

بالکل صحیح کہا مس فرحین عنایہ عارف۔۔۔۔بنا کسی مطلب کے کوئی کسی کے کام نہیں آتا۔۔میں تمہارے کام آنا چاہتا ہوں مگر بدلے میں تمہیں میرے کام آنا ہوگا۔۔اس نے شاطرانہ انداز میں مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔

مطلب۔۔۔۔۔کیا چاہیے تمہیں۔۔۔۔؟؟

بدلہ۔۔۔۔۔

بدلہ۔۔۔۔۔۔؟؟ فرحین نے نا سمجھی سے اسکی طرف دیکھا۔۔۔۔۔

۔۔۔ہاں بدلہ۔۔۔ حیات عبدالرحمان سے تھپڑ کا بدلہ لینا ہے مجھے۔۔۔تم اس سے بدلہ لینے میں میری ہیلپ کرو بدلے میں تمہیں ماحرسکندر کی فلم میں کام دلواؤں گا۔۔۔

میں جانتا ہوں تمہاری اچھی ہیلو ہائے ہے اس سے۔۔لیکن اب یقیناً تمہارے دل میں بھی اس کیلئے غصہ ہوگا کیونکہ آخر اسی کی وجہ سے ہی تمہیں ریجیکٹ کیا گیا ہے۔۔۔۔۔اس نے اسکے دل میں حیات کیلئے نفرت پیدا کرنا چاہی۔۔۔۔

واقعی کل سے اسکے دل میں حیات کیلئے حسد اور نفرت کی آگ جل رہی تھی۔۔۔جسے ارسلان بھٹی نے مزید ہوا دے دی تھی۔۔۔۔

ٹھیک ہے لیکن مجھے کرنا کیا ہوگا۔۔۔۔؟؟

اسے آمادہ دیکھ کر ارسلان بھٹی کی باچھیں کھل گئی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک ایسا شخص جس سے بات کرنے جس کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے لوگ ترستے تھے۔۔جو اگر کسی کو ذرا سی بھی لفٹ دے دیتا تو اگلا بندہ اسکو اپنی خوش قسمتی سمجھتا اپنی قسمت پہ نازاں ہوتا۔۔

وہ شخص جسے زندگی میں کبھی نا سننے کی عادت نہیں تھی۔۔۔

آج ایک غیر معروف سی لڑکی اسے کے منہ پہ انکار کا طمانچہ مار گئ تھی۔۔۔۔

۔۔وہ تو صنف مخالف کو اپنے قدموں میں دیکھنے کا عادی تھا۔۔پھر یہ لڑکی ایسے کونسے سیارے سے اتری تھی جس نے یہ جان کہ بھی اسے اہمیت نہیں دی کہ ایک سپرسٹار جسکے لوگ دیوانے ہیں اسے خود کال کر رہا تھا۔۔۔حیات کی جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو مارے خوشی کے بے ہوش ہو جاتی۔۔۔۔۔

۔۔اس نے ہمیشہ لڑکیوں کو اپنی توجہ کا منتظر پایا تھا۔۔زندگی میں پہلی بار اسکے ساتھ ایسا ہوا تھا کہ ایک لڑکی نے اسے اہمیت نہیں دی تھی۔۔۔یہی دکھ یہی شکست اسے اندر ہی اندر بے کل کرنے لگی۔۔۔کیونکہ وہ ان لڑکیوں میں سے نہیں تھی جو اسکی شہرت اسکی وجاہت اور ظاہری رکھ رکھاؤ پر مر مٹتی تھیں۔۔۔۔۔

اسکی طبعیت میں اضطراب اور بے چینی حد درجہ پھیل گئی تھی۔۔۔خود کا اگنور کیا جانا بھی اس سے ہضم نہیں ہو رہا تھا کیونکہ پہلی دفعہ اس نے ڈائریکٹ خود کسی کو کال کی تھی ورنہ یہ کام زیادہ تر اس کا مینیجر اور سیکرٹری ہی کیا کرتے تھے۔۔۔اسکے ساتھ اسے اپنی فلم کی بھی فکر تھی۔۔۔۔۔۔

۔۔اگر وہ لڑکی راضی نا ہوتی تو اس کا کروڑوں کا نقصان ہوجاتا۔۔۔۔

کیونکہ یہ تو طے تھا کہ حیات عبدالرحمان کی جگہ کوئی اور نہیں ہوگی۔۔۔ہوگی تو وہی ہوگی ورنہ وہ اس فلم کو بنانے کا ارادہ ہی ترک کر دے گا اور جتنا پیسہ اس کا لگ چکا تھا۔اس کو ضائع جانے دے گا۔۔

وہ اسی سوچوں میں گم تھا کہ فرقان نے آ کے اسے یاد دلایا کہ چار بجے اسے گرینڈ ہوٹل میں شازم درانی کی برتھڈے پارٹی میں جانا ہے۔۔شازم درانی اسکے قریبی دوستوں میں سے تھا۔۔اگرچہ شازم درانی کوئی خاص پائے کا ایکٹر نہیں تھا مگر انڈسٹری کے تقریباً تمام معروف اداکاروں سے اس کی دوستی تھی وجہ شازم درانی کا اداکار ہونا نہیں بلکہ اسکے باپ کا سیاسی اثرورسوخ تھا۔۔۔

فرقان مجھے ہرحال میں اپنی فلم کیلئے وہی لڑکی چاہیے۔۔۔اس نے فون پر ملنے کیلئے انکار کر دیا ہے

تم اس کے نمبر سے اسکے گھر کا ایڈریس نکالو ۔۔۔

اسکے گھر جا کہ بات کرو۔۔منہ مانگے معاوضے کی آفر کرو۔۔۔۔۔وہ فرقان سے مخاطب ہوا۔۔۔۔طبعیت میں اضطراب تھا۔۔۔۔۔۔

جی سر میں آج ہی اسکے گھر کا ایڈریس نکلواتا ہوں

اور اسکے گھر جا کے بات کرتا ہوں۔۔۔

ٹھیک ہے۔۔اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔

سر گارڈذ کو خبر کر دوں کہ چار بجے تک آپ کے ساتھ جانے کیلئے ریڈی رہیں۔۔۔فرقان نے اجازت چاہی

نہیں گارڈز نہیں۔۔۔میں گھر سے ریڈی ہو کے آتا ہوں تم چلو گے میرے ساتھ اوکے۔۔۔۔وہ باروعب انداز میں کہتا باہر نکل گیا۔۔

ولیمہ کا انتظام نہایت ہی اچھے طریقے سے کیا گیا تھا۔

گرینڈ ہوٹل کا وسیع وعریض ہال بہت خوبصورتی سے ڈیکوریٹ کیا گیا تھا۔یہ ہال ہوٹل سے بالکل اٹیچ مگر ایک سائیڈ پر بنا ہوا تھا۔۔جو کہ بڑے پیمانے کی تقریبات کیلئے استعمال کیا جاتا تھا۔۔۔ہائی فائی سوسائٹی کے لوگ ہی اسکی بکنگ افورڈ کر سکتے تھے۔ خاصا بڑا سا سٹیج بنایا گیا تھا۔۔۔جو کہ مصنوعی پھولوں اور تیز لائٹوں سے دمک رہا تھا۔۔پورے ہال میں رنگی برنگی لائٹوں کا انتظام کیا گیا تھا۔۔۔پانچ سو کے قریب مہمان ہال میں موجود تھے۔۔۔ حورین کے ماموں ممانی خاصے شوشل تھے۔۔۔مہمانوں میں سے کچھ تو لندن سے باقاعدہ ولیمے میں شرکت کیلئے آئے تھے۔۔۔دولہا دلہن خاصے خوش لگ رہے تھے۔۔۔حیا سٹیج پر حورین کے ساتھ دائیں طرف بیٹھی تھی۔۔۔دوسری طرف شایان تھا اور اسکے کچھ دوست اور فیملی فرینڈز بھی تھے۔۔۔حیا کے ساتھ والے صوفوں پر حورین کی کچھ کزنز وغیرہ بھی بیٹھی تھیں۔۔۔۔۔

فوٹو سیشن چل رہا تھا۔۔۔۔۔ کئی نظریں حیا پر تھیں۔۔۔ وہ اپنے موبائل سے اپنی اور حورین کی ایک ساتھ تصویریں بنانا چاہتی تھی مگر موبائل وہ گھر پہ بھول آئی تھی۔۔

ہوٹل پہنچتے ہی حیا نے حورین کی بھابھی سے موبائل لے کر گھر ڈرائیور کو کال کی تھی اور اسے اپنا فون لانے کو کہا۔۔حورین بھی اپنا موبائل گھر چھوڑ آئی تھی ورنہ حیا اسی کے موبائل سے سیلفیاں لے لیتی۔۔۔ اب وہ اسی انتظار میں تھی کہ کب ڈرائیور اس کا موبائل لے کر آئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔

حیا تمہارے ڈرائیور کی کال آئی ہے وہ باہر کھڑا ہے موبائل لے کر ۔۔۔۔حورین کی بھابھی شمائلہ نے آ کر اسے بتایا تو وہ مون کو وہیں سٹیج پر بٹھا کے نیچے آئی۔۔۔۔

دروازہ مصنوعی پھولوں کی لڑیوں سے سجا ہوا تھا جو کہ ہال کے وسط میں تھا جس سے لوگ اندر باہر آجا رہے تھے۔۔

وہ باہر نکلی تو سامنے ہی روڈ کے ایک سائیڈ پر کھڑی اپنی گاڑی اور ہاتھ میں اس کا موبائل پکڑے اسے ڈرائیور کھڑا نظر آیا۔۔۔۔۔

اس سے پہلے کے وہ مزید قدم آگے بڑھاتی کہ اینٹرنس سے سامنے آتے شخص کو دیکھ کر ٹھٹھک کے رک گئی بلکہ اپنی جگہ جم گئی۔۔

سامنے والے شخص کی حالت بھی مختلف نہیں تھی۔۔۔

ییلو کلر کے لہنگے میں ملبوس۔۔۔دونوں بازوؤں میں ییلو چوڑیاں پہنے۔۔۔۔۔۔کپڑوں سے میچنگ جیولری۔۔۔

۔۔۔۔۔۔فل میک اپ۔۔۔۔۔۔ماتھے پر چمکتی بندیا۔۔دوپٹہ پیچھے سے ہوکے دونوں بازوؤں کے گرد گزر کے نیچے لٹک رہا تھا۔۔۔۔۔کنفیوز +ہکا بکا سی کھڑی وہ بلاشبہ حیات عبدالرحمان ہی تھی۔۔۔۔

ارتضیٰ حسن اپنی سٹوڈنٹ کو اس روپ میں بھی فوراً پہچان گیا تھا۔۔۔۔۔۔

یہ رنگ اس پر خوب جچ رہا تھا۔۔۔ ایسا لگتا تھا گویا ہر رنگ ہی اس کیلئے بنایا گیا ہو۔۔وہ جو رنگ بھی پہنتی تھی اس پر کھل اٹھتا تھا۔۔۔وہ پوری کلاس میں اسے الگ دکھائی دیتی تھی۔۔۔بلاشبہ وہ دنیا کی حسین ترین لڑکی لگ رہی تھی۔رانیوں کے جیسی پروقار شہزادیوں کے جیسی حسین اور طرح دار۔۔۔۔۔اس وقت وہ جہاں کھڑے تھے وہاں دھوپ تھی۔۔سردیوں کی نرم گرم دھوپ۔۔۔۔۔۔ اس دھوپ میں وہ اسکی آنکھوں کو ٹھنڈک بخش رہی تھی۔۔۔پیلا رنگ اس کے سرخ و سپید رنگت پر عجیب چھب دکھا رہا تھا۔۔۔۔۔۔مبہوت ہی تو رہ گیا تھا وہ اس کے دمکتے نوخیز دو آتشہ حسن کو دیکھ کر۔۔بہت سحر انگیز حسن تھا۔۔۔دل کی دنیا ڈانو ڈول ہونے لگی تھی۔۔۔۔ ۔۔کیا کوئی منظر اس وقت اس لڑکی سے زیادہ خوبصورت بھی ہو سکتا ہے۔۔۔؟اس نے سوچا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔ دونوں کی آنکھوں میں ایک دوسرے کو وہاں دیکھ کر حیرانگی تو تھی ہی۔۔۔ مگر ایک مبہوت تھا اسے اس حسین روپ میں دیکھ کر۔۔۔۔۔۔ تو دوسرے پر اپنے اتنا سج دھج کے تیار ہونے پر شرمندگی سے گھڑوں پانی پڑ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک اور بندہ بھی تھا جو اس منظر کو دیکھ کر اپنی جگہ منجمد ہوگیا تھا۔۔۔۔اور وہ تھا ہوٹل کی سیڑھیوں سے اترتا ماحر سکندر خان۔۔۔۔۔۔۔

جوکہ پارٹی میں اپنے حریف بلال خان کو دیکھ کر غصے سے پارٹی ادھوری چھوڑ کے واپس جا رہا تھا۔۔

حیات کا رخ چونکہ سیڑھیوں کی طرف بالکل سیدھا تھا سو وہ بھی سجی سنوری حیات کو فوراً پہچان گیا تھا۔۔۔۔۔۔جبکہ ارتضیٰ حسن کی اسکی طرف پشت تھی اسلئے اسے وہ نہیں دیکھ پایا مگر اسکی ارد گرد توجہ تھی کہاں۔۔۔ وہ تو صرف اور صرف حیات کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔کئی خوبصورت ہیروئنز اسکی گرل فرینڈز رہ چکی تھیں۔۔۔کسی کے حسن نے اسے اتنا انسپائر نہیں کیا تھا جتنا وہ اس وقت سامنے کھڑی لڑکی کے حسن سے ہو رہا تھا۔۔۔۔کتنے ہی پل وہ اسے تکتا گیا۔۔۔

اسے رکتا دیکھ کر فرقان نے بھی اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا۔۔۔اسکی نظروں میں بھی شناسائی ابھری۔۔۔۔۔۔۔

سر یہ تو مس حیات ہیں۔۔۔اس نے فوراً پہچان لیا

ہمممم۔۔۔i know۔۔۔۔وہ ہوش میں آیا۔۔۔۔۔۔

سر یہ اگر ہماری فلم میں کام کرنے کیلئے راضی ہو گئیں تو واقعی کمال ہو جائے گا۔۔فرقان نے توصیفی انداز میں ہونٹ سکیڑے۔۔۔۔۔۔

ہاں اسلئیے تو کہا ہے اسکے گھر جا کے اسے ہر حال میں راضی کرو۔۔۔اس نے اسے گہری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا جو کہ تیزی سے واپس ہال کی طرف جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

چلئیے سر۔۔۔یہاں لوگوں نے آپ کو پہچان لیا تو آپکو گھیر لیں گے آج گارڈز بھی نہیں ہیں ساتھ پھر میرے لئیے مشکل ہو جائے گا آپکو بھیڑ سے نکالنا۔۔۔۔۔

آس پاس لوگوں کو دیکھ کر فرقان فکرمند ہوا۔۔۔

اوکے چلو۔۔۔۔۔ماحر نے بھی قدم آگے بڑھائے۔۔۔۔

۔Oh My God….یہ ارتضیٰ سر یہاں کیسے آگئے۔۔۔

وہ اپنی منتشر ہوتی دھڑکنوں کو ہال کے ایک کونے میں کھڑی بحال کر رہی تھی۔۔۔۔

کچھ دیر بعد اس نے ارتضیٰ حسن کو سٹیج پر جاتے اور شایان سے ملتے دیکھا۔۔دوبارہ باہر جا کے اس نے ڈرائیور سے اپنا موبائل لیا اب وہ ارتضیٰ سر کے سٹیج سے ہٹنے کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔کچھ دیر بعد وہ اسے سٹیج پر سے جاتا دکھائی دیا تو فوراً حورین کے پاس پہنچی۔۔۔۔

یہ ارتضیٰ سر تمہارے ولیمے میں کیا کر رہے ہیں۔۔۔؟ کان میں گھس کے سرگوشی کی۔۔

ولیمے کا زردہ پلاؤ کھانے آئے ہیں۔۔۔اس نے بھی جواباً سرگوشی کی۔۔۔

صحیح بتاؤ۔۔وہ ناراض ہوئی

یار شایان کے فرینڈ ہیں ارتضیٰ سر۔۔لندن میں ایک ہی یونیورسٹی سے پڑھا ہے دونوں نے۔۔۔

تم نے مجھے پہلے تو یہ بات نہیں بتائی۔۔۔اس نے گھورا

یار مجھے خود رات کو ہی معلوم ہوا شایان سے۔۔۔

تو آج تو بتا سکتی تھی نا۔۔۔وہ نا جانے کیوں ناراض ہو رہی تھی۔۔حورین نے گردن موڑ کے اسے بغور دیکھا

کیا بات ہے۔۔خیر تو ہے بڑے بڑے ہیروز سے امپریس نا ہونے والی حیات عبدالرحمان کہیں ارتضیٰ سر سے امپریس تو نہیں ہو گئ۔۔۔اس نے چھیڑا

بکو مت۔۔۔۔وہ جھینپ گئی

تم نے مجھے دلہن کی طرح تیار کروا دیا اور انہوں نے مجھے اسطرح دیکھ لیا۔۔مجھے بہت شرمندگی ہوئی۔۔

اچھا انہوں نے تمہیں دیکھ لیا۔۔۔پکا آج تو اکڑو سر ضرور گھائل ہوئے ہونگے۔۔۔اب دیکھنا وہ کلاس میں تمہیں چوری چوری دیکھا کریں گے۔۔۔تم نوٹ کرنا اور پھر مجھے بتایا کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ہنسی

حوری۔۔۔۔۔۔۔حیا نے دانت پیستے ہوئے تنبیہہ کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور تم نا چپ کر کے بیٹھو سب دیکھ رہے ہیں۔۔کیا سوچ رہے ہونگے کہ ولیمہ کی دلہن کیسے پٹر پٹر بول رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔

محترمہ۔۔۔دلہنیں صرف شادی والے دن ہی چپ رہتی ہیں۔۔۔ولیمے والے دن ہی تو بولنے کا موقع ملتا ہے۔۔۔ہنستے ہوئے آہستہ سے کہا۔۔۔

۔۔حیا اب اپنے موبائل سے اپنی اور اسکی سیلفیاں لے رہی تھی۔۔۔۔۔

آج سنڈے تھا۔۔۔۔۔۔رات وہ اتنی تھکی ہوئی تھی کہ حورین کے ولیمے سے واپس آتے ہی فوراً سو گئی۔۔۔۔کچھ دیر پہلے آنکھ کھلی تو فریش ہو کے ہلکا پھلکا ناشتہ کیا اور لان میں چلی آئی۔۔۔

حیات کو پھولوں اور پودوں سے عشق تھا۔۔۔۔۔

دو منزلہ خوبصورت طرز و تعمیر والے اس بنگلے کا لان درمیانہ درجے کا تھا۔۔۔کسی دور میں یہ لان صرف نیم جامن اور انار کے پیڑوں سے مزین تھا۔۔مگر جب سے حیا نے شعور کی منزلوں سے شناسائی حاصل کی تھی تب سے لان کی تو گویا قسمت ہی بدل گئی تھی۔

سبزے اور پھولوں سے ڈھکا ملکی اور غیر ملکی پھولوں پودوں کی بہاریں یہاں حیا کی محنت کی کاوش تھی۔۔۔مالی بابا لان میں کام کر رہا تھا۔۔۔

حیا بھی اسکے ساتھ مصروف ہوگئ۔۔وہ لان سے اوپر ٹیرس تک جاتی رنگ برنگی پھولوں کے گچھوں والی بیلوں سے زرد مردہ پتے نوچ نوچ کر پھینک رہی تھی۔۔

کہ چوکیدار نے آ کر اسے بتایا کہ کوئی شخص اس سے ملنے آیا ہے وہ کافی حیران ہوئی کہ آج تک فارس بھائی کے علاوہ اس نے کبھی کسی مرد کو خود سے بات کرنے کا شرف نہیں بخشا تھا کجا کہ ملاقات( فارس بھائی فضا بھابھی کے شوہر تھے۔جو پچھلے دو سالوں سے انکے پڑوسی تھے۔۔حیات کی فضا سے اچھی دوستی تھی دونوں فیملیز کا ایک دوسرے کے گھر کافی آنا جانا تھا)۔۔۔۔۔پھر کون ہو سکتا ہے۔۔۔سوچتے ہوئے اس نے وہیں لگے ہینڈپمپ سے ہاتھ دھوئے اور چوکیدار سے اسے باہر والے گیسٹ روم میں بٹھانے کو کہا۔۔۔یہ گیسٹ روم گھر کے باقی حصے سے الگ تھلگ بنا ہوا تھا۔۔۔اور یہ ان مہمانوں کیلئے تھا

جن کے ساتھ کوئی قریبی تعلق نہیں ہوتا تھا یا کوئی اجنبی مہمان۔۔۔۔

ہاتھ دھو کے وہ گیسٹ روم میں داخل ہوئی۔۔وہ اس وقت باٹل گرین اور پیچ کلر کی لانگ شرٹ اور پاجامہ کا سوٹ پہنے ہوئے تھی۔۔چمکتا ہوا صاف و شفاف چہرہ۔۔۔۔صوفے پر بیٹھا ہوا آدمی اسے دیکھتے ہی اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔حیات کو اسکی شکل کچھ دیکھی دیکھی لگی مگر یاد نہیں آیا۔بہرحال اسے سلام کر کے بیھٹنے کا اشارہ کیا اور خود سامنے والے صوفے پر بیٹھ گئی۔۔

جی فرمائیے۔۔۔ حیا نے سپاٹ لہجے میں کہتے ہوئے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا جو اسکا جائزہ لینے میں مصروف تھا۔۔۔

اسے بھی شائد حیا کے لہجے سے اپنی پوزیشن کا احساس ہوا تو فوراً سنبھل کر گویا ہوا۔۔۔۔۔۔

میم میں ماحرسکندر خان کا مینیجر ہوں۔۔فلمسٹار ماحر سکندر جو آپکی یونیورسٹی میں فلم کی شوٹنگ کیلئے بھی آئے تھے۔۔اس نے یاد دلانا چاہا۔۔حالانکہ ماحر سکندر کوئی یاد دلانے والی یا تعارف کروانے والی چیز نہیں تھا مگر سامنے بیٹھی خوبصورت لڑکی کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ X.Y..Z ماحر سکندر جو بھی ہے اسے اس میں کوئی انٹرسٹ نہیں۔۔۔۔۔

تو۔۔۔۔۔۔۔؟ لہجہ خاصا روکھا تھا۔۔۔

میم وہ اپنی فلم بنا رہے ہیں۔۔اور اس میں آپکو ہیروئن کے طور پر لینا چاہتے ہیں۔۔اس کیلئے وہ آپ کو منہ مانگا معاوضہ دینے کو تیار ہیں۔۔انفکیٹ وہ اسی سلسلے میں آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔۔۔

اسکی بات سن کے حیات کے چہرے پر سخت ناگوار تاثرات ابھرے۔۔۔جو سامنے بیٹھے بندے کو واضح طور پر نظر آئے۔۔۔۔۔۔۔

کمنٹ میں اپنی راۓ کا اظہار کیجئے۔۔