Meri Hayat By Zarish Hussain Readelle50271 Meri Hayat (Episode 13)
Rate this Novel
Meri Hayat (Episode 13)
Meri Hayat By Zarish Hussain
شام کے چار بج رہے تھے، مگر صبح سے آسمان پر چھایا ہوا ابر ہر سو گہرا ہو کر اندھیرا پھیلا چکا تھا،آہستہ آہستہ پڑتی ہوئی پھوار اب موسلا دھار بارش کی شکل اختیار کر گئی تھی…”
عبدالرحمان علی کل رات سے بخار میں مبتلا تھے،حیات بہت ٹائم سے انہی کے کمرے میں موجود تھی،ان کو دوائیں کھلانے کے بعد ان کے اوپر کمبل اوڑھایا۔۔۔۔”
سامنے گلاس وال سے نظر آتا سر سبز خوشنما لان کا منظر بے حد دلکش لگ رہا تھا۔بارش میں نہاتے پھول اور پودے نکھر آئے تھے۔پورا گھر سناٹے میں ڈوبا سا
لگ رہا تھا۔مگر اس سناٹے میں باہر پانی کے شور کی
صدائیں تھیں۔کالے بادلوں کی گھن گرج بھی وقفے
وقفے سے ہو رہی تھی۔۔۔۔”
حیات نے پردے کھینچ دیے۔کچھ دیر خالی ذہن کے ساتھ تیزی سے گرتی بارش کی پھوار کو تکتی رہی۔
اس کا فریش گلابی چہرہ پھول کی طرح دلکش لگ
رہا تھا۔ نیلی روشن آنکھوں میں تفکرات کی پرچھائیاں تھیں۔گولڈن سلکی بال پشت پر بکھرے ہوئے تھے۔ وہ حسین نہیں بلکہ حسین ترین تھی۔ماحر سکندر خان یونہی تو اسکے پیچھے نہیں پڑا تھا۔
کچھ دیر کھڑے رہنے کے بعد وہ بیڈ کے قریب رکھے سنگل صوفے پر بیٹھ گئی۔باہر کا موسم سہانا اگرچہ سہانا تھا۔۔۔۔۔
مگر اسکے اندر کا موسم بے حد اداس تھا۔۔۔۔
ایک عجیب سی بے چینی اور بے کلی اسکے پورے
وجود میں سرایت کیے ہوئے تھی۔۔شائد وجہ اسی
شخص کا خوف تھا جو کسی عفریت کی طرح
اس سے چمٹ گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔”
اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کس طرح اس
آسیب نما انسان سے اپنی جان چھڑائے۔۔۔آخر کس
کو بتائے۔۔۔کس سے مدد لے۔ایسے میں ارتضیٰ حسن
کا خیال بھی اسکے ذہن میں آیا مگر اس نے فوراً ہی اپنے خیال کو رد کر دیا۔۔یہ سوچ کر کہ وہ نا جانے اس کے متعلق کیا سوچے۔۔۔۔
بابا بیمار تھے ان کو بھی اس حالت میں
ٹینشن دینا صحیح نہیں تھا۔وہ اسی سوچوں میں
گم تھی کہ عبدالرحمان صاحب کی آواز آئی۔۔
بیٹا کچھ دیر آپ بھی آرام کر لیتیں…میری بیماری
نے تو آپ کو سخت پریشان کر دیا ہے۔۔
نہیں بابا میں ٹھیک ہوں یہیں۔۔”
بس آپ جلدی سے ٹھیک ہو جائیں پھر مجھے آپ
سے بہت سی باتیں کرنی ہیں۔۔۔آپ کے بغیر میں خود کو بہت کمزور محسوس کرتی ہوں۔۔ مجھے بہت ڈر
لگتا ہے۔۔ان کا ہاتھ پکڑے رنجیدگی سے کہتے ہوئے وہ رو پڑی تھی….”
بیٹا کیا ہوا ہے…؟کسی نے کچھ کہا ہے کیا…؟وہ گھبرا
گئے… حیات نے جلدی سے اپنے آنسو صاف کیے،نہیں
بابا بس آپ کی بیماری کی وجہ سے پریشان تھی۔اس
نے انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کی، وہ مطمئن ہو پائے یا نہیں مگر اسی وقت ملازمہ دروازہ نوک کر کے اندر آئی اس کے ہاتھ میں کارڈ لیس تھا جو اس نے حیات کو تھما دیا،وہ کارڈ لیس کو دیکھ کے یوں خوفزدہ ہوگئی جیسے فون نا ہو بلکہ کوئی موت کا فرشتہ ہو۔۔۔اس کا رنگ یکدم سفید پڑ گیا۔۔۔
وہ یوں بے ساختگی سے بوکھلا کر کھڑی ہوئی
ہوئی کہ کارنر پر رکھا گلدان نیچے گر گیا۔۔۔۔”
خیریت تو ہے نا کس کا فون ہے….؟بابا اس کی کیفیت دیکھ کے گھبرا کر بولے۔”
جی بابا سب خیریت ہے…. حورین کا فون ہے میں سن کے آتی ہوں…اس نے بمشکل خود پہ قابو پایا،وہ انہیں معمولی سا بھی شاک نہیں دینا چاہتی تھی۔”روم سے باہر آ کے اس نے کال ریسیو کی….”
ہے….لو…. کوشش کے باوجود وہ اپنی لرزتی آواز پر قابو نا پا سکی…..”
زہے نصیب۔۔۔لیٹ کال اٹینڈ کرنے وجہ آپ کا یہ لرزتا
کانپتا لہجہ بتا رہا ہے کہ آپ ما بدولت کو پہچان گئی ہیں۔۔۔ تمسخرانہ انداز،سرد اور چبھتا ہوا لہجہ۔۔۔۔
کچھ دیر پہلے جس آسیب کے خوف کا وہ شکار
تھی۔یہ وہی آسیب تھا۔۔۔۔۔”
قوت گویائی سے محروم ہو گئی ہیں کیا۔۔۔۔۔اسکی خاموشی پر گہری چوٹ کی۔۔”
نن نہیں۔۔۔بولیں آپ۔۔۔۔اس کے گلابی لبوں میں جنبش ہوئی۔۔۔۔”
شکر ہے۔۔۔۔دوسری طرف سے پھر طنز کیا گیا۔۔
ہاں جی تو مس حیات عبدالرحمان پھر کیا سوچا آپ نے….؟آپ آئیں گی مجھ سے ملنے یا میں آؤں۔۔؟؟
وہی سوال۔۔۔جس کا اسے خوف تھا۔۔جواب میں وہ
کچھ بول بھی۔ نہیں پائی۔۔۔۔”
کیا ہوا….سکتہ ہو گیا کیا…..اسکے کچھ نا بولنے پہ وہ چبھتے ہوئے لہجے میں بولا…..”
نن نہیں….. ایکچولی موسم خراب ہے، اور میرے فادر بھی بیمار ہیں تو۔۔۔۔۔۔۔”
میں کوئی ابھی کے ابھی ملنے کا نہیں کہہ رہا اور
بند کریں یہ فضول بہانے بنانا۔میری نرمی سے بہت ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہیں آپ۔۔اس نے کمزور سے
لہجے میں ٹالنا چاہا مگر وہ فوراً اسکی بات کاٹتا ہوا
درشت لہجے میں بولا۔۔۔
دماغ تو ٹھیک ہے آپ کا….کون سی نرمی۔۔کونسا
ناجائز فائدہ۔۔۔ کیوں فضول میں ہاتھ دھو کے پیچھے پڑ گئے ہیں میرے….کیا تک بنتی ہے یہ کہ آپ کسی کو
بلیک میل کر کے،زور زبردستی اپنی فلم میں کام کرنے پر مجبور کریں۔بہت برداشت کر لیا میں نے۔صاف صاف سن لیں اگر میرا پیچھا نہیں چھوڑا مجھے اسطرح دھمکاتے ،ہراس کرتے رہے تو میں خاموش نہیں بیٹھوں گی…..اسکی برداشت کی حد ختم ہو گئی تھی سو ہذیانی آواز میں چیخ پڑی تھی…..”
اچھا کیا کر لو گی تم۔۔۔۔۔؟ وہ غرا کر بولا
میڈیا میں جاؤں گی….. پولیس کے پاس جاؤں گی….کیس کروں گی آپ کے اوپر…..اغوا کرنے….فلم کے کنٹریکٹ پر زبردستی سائن کروانے….میرے گھر میں زبردستی گھس کر مجھے ہراس کرنےاور دھمکیاں دینے پر۔۔جانتے ہیں آپ۔۔اگر ایک بار میں آپ کا یہ گھٹیا
چہرہ منظر عام پر لے آئی نا تو یہ جو نام نہاد عزت
اور شہرت ہے نا آپکی جس پر بڑا غرور ہے آپ کو
یہ پہلے کی طرح نہیں رہے گی۔۔اور جو فین فالونگ
ہے نا آپ کی اس میں بھی خاصی کمی آ جائے گی۔۔
اچھا کون یقین کرے گا آپ کی باتوں پر محترمہ…؟ایسے تو کئی لوگ میرے خلاف آ کے میڈیا میں۔۔۔پبلک کے سامنے بولتے ہیں۔اگر وہ سچے بھی ہوں تو بھی انکی بات پہ یقین نہیں کیا جاتا کیونکہ ایک سپرسٹار پہ اسطرح کے الزامات لگانے کا مطلب صرف اور صرف اپنی پبلسٹی کروانا ہوتا ہے۔کوئی ثبوت ہے تمہارے پاس۔۔وہ تمسخرانہ انداز میں ہنسا…..”
ہاں ہے۔میرے پاس آپکی تمام کال ریکارڈنگز ہیں..آپ
کے خلاف پریس کانفرنس کروں گا۔۔یہ تمام کال ریکارڈنگز جن میں آپ نے مجھے دھمکیاں دی ہیں
اور غیر مہذب باتیں بولی ہیں نا۔۔سب میڈیا میں دے
دوں گی۔۔۔وہ لہجے کو مضبوط بناتے ہوئے بولی
” اچھا اگر ایسا کرو گی تو کیا تم بچ جاؤ گی مجھ سے….؟؟ بولو کہاں تک بچو گی..کیسے بچا پاؤ گی خود کو….تمہیں تمہاری فیملی سمیت برباد کر دوں گا۔۔ گویا وہ کسی انسان کی نہیں اژدھے کی پھنکار تھی۔۔زہر اسے اپنے جسم میں سرایت کرتا ہوا محسوس ہوا
وہ شخص واقعی ٹھیک کہہ رہا۔اگر وہ اس کا دشمن
بن جاتا تو وہ اس سے ٹکر نہیں لے سکتی تھی۔اس کا مقابلہ کرنا اسکے بس کی بات نہیں تھی۔۔۔
حیات عبدالرحمان کا دل جیسے ڈوبنے لگا تھا۔۔۔
اس شخص سے دشمنی وہ افورڈ نہیں کر سکتی
تھی۔تبھی مصالحت آمیز انداز اپناتے ہوئے کہا۔
دیکھیں میں آپکی فلم میں کام نہیں کر سکتی۔پلیز میری مجبوری کو سمجھنے کی کوشش کریں۔میں خود
کو نمائش کیلئے سکرین پر پیش نہیں کر سکتی۔اس
کے علاؤہ آپ کو فلم کیلئے جس قسم کی بھی ہیلپ چاہیے آئی پرامس میں انکار نہیں کروں گی۔
میم میں آپ کو سکرین پر ہی تو لانا چاہتا ہوں۔
آپ کا چہرہ بنا ہی سکرین کیلئے ہے۔ایک بار میری
بات مان لیں۔پھر دیکھئیے گا آپ کو خود بھی یہ
سب کتنا اچھا لگے لگا۔لاکھوں چاہنے والے۔بے حساب
دولت شہرت۔اس سب کا نشہ بہت سحرانگیز ہوتا
ہے۔آپ کو بھی اس سب کی عادت پڑ گئی نا تو یہ
سب جو ابھی آپ کو بہت برا لگ رہا ہے۔بعد میں
بہت ہی اچھا لگے گا۔روز ناجانے کتنے لڑکے لڑکیاں
ہیرو ہیروئن بننے کے خواب لئیے میرے پروڈکشن
ہاؤس کے ارد گرد منڈلاتے رہتے ہیں جبکہ آپ کو
تو یہ نعمت گھر بیٹھے مت میں مل رہی ہے۔
پھر بھی نا شکری کر رہی ہیں آپ…… اب کے اس نے
قدرے نرم لہجے میں قائل کرنے کی کوشش کرتے
ہوئے یوں کہا جیسے کوئی بہت ہی نیک کام کی آفر
کر رہا ہو جسے ٹھکرا کے وہ اپنے ساتھ برا کر
رہی تھی۔۔۔۔”
مجھے نہیں چاہیے یہ سب..مجھے اس سب میں
کوئی دلچسپی نہیں۔آپ یہ آفر کسی اور کو دے
دیں اور میرا پیچھا چھوڑ دیں پلیز۔۔۔ بائیں ہاتھ
کی پشت سے دائیں گال پہ پھسلتے آنسو کے قطرے
کو صاف کرتے ہوئے اس نے جیسے بے بسی سے
درخواست کی۔۔۔۔”
اوکے….مگر پیچھا چھوڑنے کا مجھے کیا ملے گا۔خلاف توقع وہ بہت آرام سے بولا۔۔۔۔
اتنے بڑے سپر سٹار ہیں آپ….آپ کو کس چیز کی کمی ہے….وہ ترش لہجے میں بولی
کمی تو کوئی نہیں ہے۔لیکن اگر آپ چاہتی ہیں کہ میں
آپ کا پیچھا چھوڑ دوں تو پھر ایک ڈیل کر لیں مجھ
سے۔۔۔۔۔۔”
کک کیسی ڈیل….وہ بے تحاشا دھڑکتے دل کے ساتھ
بولی کیونکہ اس گھٹیا شخص سے کسی صاف ستھری ڈیل کی امید تو وہ ہر گز نہیں کر سکتی تھی۔۔
“ایکچولی جو چیز مجھے پسند آ جائے میں اسے
فوراً حاصل کر لیتا ہوں۔آپ بھی مجھے پسند آ گئی
ہیں۔۔ لیکن میری ایک عادت ہے چاہے وہ چیز مجھے
کتنی ہی پسند کیوں نا ہو۔۔۔اسکو زیادہ عرصہ نا
استعمال کرتا ہوں اور نا اپنے پاس رکھتا ہوں۔۔۔
یعنی مسئلہ یہ ہے کہ میرا دل جلدی بھر جاتا ہے
اگر تم کچھ ٹائم میرے ساتھ خفیہ طور پر سپنڈ
کر لو تو ہو سکتا ہے کہ میرا دل تم سے بھر جائے
اور میں تمہارا پیچھا چھوڑ دوں…جیسا کے اسے
امید تھی کہ کوئی گھٹیا بات کہے گا۔۔ویسے ہی ہوا
وہ سن سی ہو کر رہ گئی۔تم شوبز والے باہر سے
پولشڈ اور اندر سے غلیظ ہوتے ہو۔۔۔۔”
اپنی بہن کو بھیجو گے کسی کے پاس ٹائم سپنڈ
کرنے کیلئے…..”
جتنے آرام سے وہ مسئلے کا حل بتا رہا تھا
حیات عبدالرحمان نے بھی اسی قدر آرام سے مگر نہایت نفرت بھرے انداز میں کہا اور بنا اس کی
کوئی اور بکواس سنے کال کاٹ کر بابا کے کمرے کی
طرف بڑھ گئ۔۔۔۔۔”
ہیلو کیسی ہیں آپ….؟؟لائبریری میں مطالعہ کرتی
حیات عبدالرحمان نے بھاری دلکش آواز سن کر بوکھلا
کر اسکی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔
براؤن پینٹ اور وائٹ شرٹ میں وہ پہلے سے بھی
زیادہ وجہیہ لگ رہا تھا۔۔کالی گہری آنکھوں میں
چاہت کا ایک جہان دکھائی دے رہا تھا۔۔۔
آ۔۔آ۔۔آپ۔۔۔وہ شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی کیونکہ
اسکی کم از کم لائبریری میں موجودگی کی توقع تو
اسے ہر گز نہیں تھی۔۔۔۔
جی میں۔۔۔کوئی بھوت تو نہیں دیکھ لیا آپ نے جو
اسقدر خوفزدہ ہو رہی ہیں۔۔وہ دلچسپی سے اسکے
گالوں کی سرخی اور چہرے کے دلکش رنگوں کو
دیکھ رہا تھا۔۔ اور اسکی کیفیت سمجھ بھی رہا تھا
حیات عبدالرحمان نے بوکھلا کے ادھر ادھر دیکھا۔۔امتحانات کی وجہ سے لائبریری بھری ہوئی تھی اور لائبریرین سمیت تمام کے تمام لوگ انکی طرف
متوجہ تھے۔۔۔۔۔۔۔”
کئی سٹوڈنٹس حیرت اور رشک آمیز نگاہوں سے
دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
کیونکہ ایک سنجیدہ مزاج،اصول پسند سخت گیر وائس چیئرمین صاحب جن کو دیکھ کر سٹوڈنٹس کا حلق تک خشک ہو جاتا ہو۔۔۔انکی اچانک سے لائبریری
میں تشریف آوری اور ایک گرل سٹوڈنٹ سے مسکرا کے بات کرنا سب کیلئے باعث تعجب تھا۔۔۔۔۔”
نو سر ایسی تو کوئی بات نہیں۔۔۔اس نے جلد ہی خود
پر قابو پا لیا۔۔۔آپ یہاں۔۔۔؟ساتھ ہی سوالیہ نظروں سے
انہیں دیکھا۔۔۔۔”
لائبریری کے وزٹ پہ آیا ہوں۔۔۔آپ مجھے یہ بتائیں
آپ مجھ سے چھپ رہی ہیں یا مجھے اگنور کر رہی
ہیں۔۔۔واٹس ایپ پہ آپ آن لائن نہیں ہو رہیں اور
نمبر بھی آپ کا نہیں مل رہا۔۔۔انہوں نے قدرے آہستہ
آواز میں پوچھا۔۔۔۔۔۔”
سر بعد میں بتاؤں گی ابھی آپ پلیز۔۔۔”حیات
عبدالرحمان نے کن انکھیوں سے ادھر ادھر دیکھتے
ہوئے کہا۔۔۔۔مطلب تھا کہ فلحال آپ یہاں سے جائیے
اوکے آپ سٹڈی کریں۔۔۔رات کو کال کروں گا لازمی
بات کرنا۔۔۔وہ بھی اسکی بات کا مطلب اور اسکی
نروسنس کی وجہ سمجھ گیا تھا۔۔تبھی لائبریرین کی
جانب بڑھ گیا جو اس کے انتظار میں اپنی سیٹ پر
سے اٹھ کر کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔”
وہ بے حد طیش کے عالم میں لابی سے گزر کر اپنے پرائیویٹ روم میں داخل ہو گیا۔۔۔۔۔
باہر استقبالیہ پر بیٹھے فراز نے اسے اتنے شدید غصے میں دیکھ کر جھر جھری سی لی۔۔۔۔نا جانے کون باعث
بنا تھا انکے اس قدر اشتعال کا۔۔۔۔سر جھٹک کر وہ
کمپیوٹر کی جانب متوجہ ہو گیا تھا۔۔۔۔۔”
فرقان بھائی رکیں….. بیس منٹ بعد مینیجر فرقان
کو ماحر کے روم کی طرف جاتے دیکھ کر اس نے
آواز دی۔۔۔۔”
کیا ہوا…..؟؟وہ رک گیا…..”سوالیہ نظروں سے دیکھا
ماحر سر کے روم میں جا رہے ہیں نا…میرا مشورہ
ہے کہ مت جائیں۔سر بہت غصے میں ہیں..کہیں
آپ پہ نا الٹ جائیں…..”فراز نے خدشے کا اظہار کیا
کیا کروں….سر کی گرل فرینڈ باہر گاڑی میں بیٹھی
ہیں۔انفارم کرنا تو ضروری ہے۔چلو جو ہوتا دیکھتے
ہیں…..یہ کہہ کر وہ ماحر خان کے روم کی طرف بڑھ
گیا۔ناک کر کے کمرے میں داخل ہوا تو اپنی جگہ رک گیا۔کمرے میں سگریٹ کی بدبو پھیلی ہوئی تھی۔۔۔
جوتوں سمیت دونوں ٹانگیں ٹیبل پر پھیلائے۔۔۔ہاتھ میں جلتا ہوا سگریٹ پکڑے۔۔۔۔کرسی کی بیک پر
سر ٹکائے وہ آنکھیں موندے لیٹنے کے انداز میں
بیٹھا سگریٹ پھونک رہا تھا۔۔۔۔ سامنے رکھی کرسٹل
ایش ٹرے سگریٹ کے ٹکڑوں سے بھر چکی تھی۔۔
۔۔۔۔کئی پیکٹ ٹرپل فائیو کے خالی ہو کر ادھر ادھر
بکھرے پڑے تھے۔ان کی حالت بھی ان جلے ہوئے
سگریٹ کے ٹکڑوں کی طرح تھی جن سے ایش
ٹرے فل تھی۔۔۔۔۔۔۔۔وہ بند آنکھوں سے ہی اس
کو خاموش کھڑا محسوس کر گیا تھا سو سرد
آواز میں پوچھا……”
کیا بات ہے خاموش کیوں ہو۔۔۔۔؟؟
سر وہ باہر مس مثال آئی ہیں۔۔۔۔ اور آپ کا ویٹ کر۔۔۔۔۔
جاؤ کہہ دو میں بزی ہوں نہیں مل سکتا….سرخ
آنکھوں سے اسکی طرف دیکھتے ہوئے اسکی بات
کاٹی…..”
اوووکے سر….. فرقان اسکی آنکھوں سے نکلتی غصے
آمیز وحشت دیکھ کے فوراً وہاں سے نکل گیا…..”
ہاتھ میں پکڑی سگریٹ اس نے ایش ٹرے میں پھینکی
اور اٹھ کر روم کے اندر ہی ایک کیبن میں موجود الکوحل کی بوتل نکال لایا..سیال مشروب کو گلاس
میں انڈیل کے فوراً غٹا غٹ چڑھا گیا۔۔۔۔۔”
آج اس کا موڈ سخت خراب تھا۔۔۔۔۔۔۔
پہلے حیات عبدالرحمان کے انکار، اسکی کہی گئی بات(تم شوبز والے باہر سے پولشڈ اور اندر سے غلیظ
ہوتے ہو،اپنی بہن کو بھیجو گے کسی کے پاس ٹائم سپنڈ کرنے کیلئے) نے اسکے اندر شرارے بھر دیے تھے…وہ اسے مزید کچھ نہیں کہہ پایا کیونکہ اسی وقت اسکے شو کا ٹائم ہونے والا تھا۔۔۔ سو بمشکل
اپنے اندرونی خلفشار قابو پائے۔۔۔۔۔ اپنے غصے کو دبائے وہ شو پر پہنچا مگر وہاں کچھ ایسا ہوا کہ اس کے
دبے ہوئے اشتعال کو باہر نکلنے کا بہانہ مل گیا۔۔۔۔۔”
ہوا کچھ یوں تھا کہ آج جب وہ اپنے بدنام زمانہ شو(آؤ چیلنج کرو) کے سیٹ پر پہنچا تو شو میں ایک بے حد بولڈ ماڈل راگنی کی طرف سے عجیب وغریب
حرکتیں کی گئیں۔۔۔۔۔ “
جس پر شو میں شریک ایک دوسری(Contestant)
نے راگنی کی ان حرکتوں کا ذمہ دار انتظامیہ کو قرار
دیتے ہوئے کہا کہ شو بنانے والے راگنی سے یہ سب
کنٹینٹ کیلئے کروا رہے ہیں۔یہ سن کر ماحر سکندر خان
اپنے غصے پر قابو نا رکھ سکے اور بھڑک اٹھے۔انتہائی
غصے سے چلاتے ہوئے کہا آپ کے جذبات،جذبات ہیں
اور ہمارے جذبات کنٹینٹ ہیں۔کیا میں یہ سب کنٹینٹ
کیلئے کر رہا ہوں۔بھاڑ میں گیا کنٹینٹ…جو حرکتیں
آپ لوگ کر رہے ہیں ہم وہی دکھا رہے ہیں۔لیکن آپ لوگ
ہی مذاق اڑا رہے ہیں تو شرم آنی چاہیے آپ لوگوں کو
اسکے ساتھ ہی غصے سے آگ بگولہ ہوتے ہوئے اس نے
راگنی کو شو سے نکل جانے کو کہا پھر شو کے اختتام
پر سیدھا پروڈکشن ہاؤس آیا……”
ماحر سکندر جس شو کی پچھلے دو سالوں سے میزبانی کر رہا تھا یہ ایک متنازع شو تھا۔۔۔لوگوں کی
جانب سے اس پر بہت تنقید کی جاتی آ رہی تھی
کیونکہ اس شو میں لڑکے لڑکیاں نامناسب لباس پہنے
فضول حرکتیں کرتے دکھائے جاتے تھے۔مگر اسکے باوجود اسکی مقبولیت دن بدن بڑھ رہی تھی۔۔۔ اس شو میں لڑکے لڑکیاں مشکل ٹاسکس ایکسیپٹ کرتے تھے اور جیتنے والے کیلئے فلم انڈسٹری کے راستے کھل جاتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مثال شیرانی بھی اسی شو کے
ذریعے فلم لائن میں داخل ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔ اس شو کی ایک Weakly ایپیسوڈ کے ماحر سکندر چودہ کروڑ وصول کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔”
گلاس ختم کر کے اس نے مزید ڈرنک کرنے کا ارادہ
ترک کر دیا اور گاڑی کی کیز اٹھا کے باہر نکل آیا۔۔۔۔۔ شراب پینے کے بعد موڈ قدرے بحال ہو چکا تھا۔۔سو اب ارادہ مثال شیرانی کی طرف جانے کا تھا۔۔۔اگلے پندرہ منٹ میں وہ ماسک لگائے اس کے فلیٹ پر پہنچ چکا تھا۔۔۔۔مثال شیرانی اسے اپنے فلیٹ پر دیکھ کر
پہلے حیران اور پھر بے انتہا خوش ہوئی۔۔۔۔کچھ دیر
پہلے جب وہ اسکے پروڈکشن ہاؤس گئی تھی تو اسکی
طرف سے نو لفٹ کا بورڈ دیکھ کر سخت مایوس ہو
ہو کر واپس لوٹ آئی تھی۔۔۔۔مگر اب اچانک اسے سامنے
پا کر کھل اٹھی تھی۔۔۔۔۔۔”
فلیٹ میں اسکے ساتھ اسکی سیکرٹری ٹینا رہتی تھی
پچھلے تین ماہ سے وہ اس فلیٹ میں رہائش پذیر
تھی۔۔۔۔۔۔۔مگر اپنی پہچان چھپا کر رہ رہی تھی
لہذا اس بلڈنگ میں رہنے والوں معلوم ہی نہیں
تھا کہ ایک فلم ایکٹریس انکے درمیان رہ رہی ہے
ماحر سکندر کبھی کبھار وہاں آیا کرتا تھا۔۔۔۔۔
مگر جب بھی آتا رات میں آتا اور بنا سیکیورٹی کے
باہر نکلتے وقت تو وہ ہمیشہ سر پر ہیٹ اور چہرے
پر ماسک لگا لیا کرتا تھا تاکہ لوگ پہچان نا سکیں۔
اس وقت وہ دونوں بیڈروم میں بیٹھے تھے۔مثال
شیرانی جانتی تھی کہ اسکے موڈ کو کس طرح ٹھیک
کرنا ہے سو اسکے لئیے الماری کے ایک خفیہ خانے سے
برینڈی نکال لائی تھی اور اب اپنے اور اس کے لئیے
پیگ بنا رہی تھی جبکہ وہ بیڈ پر لیٹا گہری نظروں
سے اسے دیکھ رہا تھا کچھ دیر پہلے والے غصے
کا چہرے پر شائبہ تک نہیں تھا۔۔۔۔”
مجھے ایک رئیلٹی شو کی آفر آئی ہے۔۔۔کر لوں۔۔۔؟؟
اسکے قریب آ کے اسے جام پیش کرتے ہوئے بولی
پیکج اچھا دے رہے ہیں تو کر لو۔۔۔ماحر نے لیٹے لیٹے
ایک ہاتھ بڑھا کر گلاس تھاما اور دوسرے ہاتھ سے
اسے کھینچ کر اپنے قریب بٹھایا۔۔۔”
ایک بات پوچھوں۔۔۔؟؟؟
پوچھو۔۔وہ ایک سانس میں آدھا گلاس چڑھا گیا اور
ساتھ ہی اسے بوتل قریب کرنے کا اشارہ کیا تو مثال شیرانی نے اٹھ کر بوتل پکڑائی۔اب وہ گلاس کو چھوڑے بوتل سے منہ لگائے پینے لگا۔۔۔”
آپ شادی کب کریں گے۔۔۔۔؟؟
کیوں تیرے کو کرنی ہے کیا۔۔؟؟بڑا سا گھونٹ بھرتے وہ
فلمی انداز میں کہتے ہنسا۔۔۔”
آ۔۔۔آ۔۔آپ کریں گے مجھ سے….؟؟ مثال شیرانی بے یقینی سے بولی۔۔۔”
کیوں تم میں کیا کمی ہے۔جوان ہو۔۔خوبصورت
ہو۔۔۔۔اب تو مشہور اداکارہ بھی بن چکی ہو۔۔۔۔
سب سے خاص تمہارا یہ حسن۔۔۔۔ تمہارے یہ گال۔۔تمہارے یہ بال کتنے اچھے ہیں۔۔۔۔
۔۔مکمل بوتل چڑھا کے وہ وہیں بیڈ پہ پھینک کے اس
قریب بیٹھا نشے میں مدھوش ہوتے اسکے چہرے
کو چھوتے مخمور انداز میں کہہ رہا تھا۔۔۔مثال شیرانی
کی ہارٹ بیٹ فاسٹ ہونے لگی۔۔۔۔”
پھر۔۔۔کک۔۔کب کریں گے آپ مجھ سے شادی۔۔؟؟وہ تو
مارے خوشی کے پاگل ہونے والی تھی۔۔۔”
جب تم کہو۔۔۔وہ پھر ہنسا۔۔۔مدھوشی اس پر مکمل طاری ہوتی جا رہی تھی۔۔۔جب کہ وہ اسکے منہ سے
یہ سن کر خوشی سے بے حال ہوتے ہوئے یا تو یہ
بھول گئی کہ وہ اس وقت نشے میں ہے۔۔۔۔ یا پھر خود بھی نشے کے زیر اثر ہونے کی وجہ سے ہوش کھو بیٹھی تھی۔۔۔۔۔”
