171.9K
78

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Hayat (Episode 40)

Meri Hayat By Zarish Hussain

انسپکٹر احمر وقار کے حکم لیڈی کانسٹیبل شاہین اسے اپنے گھر لے آئی تھی مون بھی ساتھ تھا۔۔۔دو پولیس والوں اور اس لیڈی کانسٹیبل کے ساتھ جا کر وہ خود مون کو لے آئی اور اپنا ضروری سامان بھی۔ کانسٹیبل شاہین نے اپنے گھر والوں کے سامنے اسے اپنی دوست کہہ کر متعارف کروایا۔۔

احمر نے فوری طور پر ایک اچھا وکیل ہائر کر کے اسکی عبوری ضمانت کروا لی تھی۔لیکن صرف ایک ہفتے کی۔اسکے بعد ضمانت کینسل ہو جانی تھی۔۔اب احمر کو اسی ایک ہفتے کے اندر اندر اس کی بے گناہی کے ثبوت اکھٹے کرنے تھے۔اگر وہ اسکی بے گناہی کا کوئی بھی ثبوت نا ڈھونڈھ پاتا تو ضمانت کی معیاد ختم ہوتے ہی اسے اریسٹ کر لیا جاتا۔۔احمر اسے ہر حال میں جیل جانے سے بچانا چاہتا تھا۔۔وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس پر جیل جانے والا بدنما داغ لگ جائے جس کا اثر کبھی اس کے مستقبل پر پڑے۔اتنا تو اسے اندازہ تھا ماحر خان اسے جانی نقصان نہیں پہنچائے گا اس کا مقصد صرف اسے جیل بھجوا کر ڈرانا اور پھر اپنے آگے جھکانا تھا۔مگر اس نے تہیہ کر لیا تھا کہ ایسا وہ ہرگز نہیں ہونے دے گا۔اسی لئیے وہ پوری تندہی سے اس کیس پر انویسٹی گیشن کر رہا تھا۔ ٹائم کم تھا اسے جو کرنا تھا اسی ہفتے کے اندر اندر کرنا تھا۔وہ خاصا متفکر تھا۔۔۔

ماحر کو جب پتہ چلا کہ وہ غائب ہو گئی تو وہ خاصا حیران ہوا۔اس کا خیال تھا کہ جیسے ہی لیڈی پولیس اسے اریسٹ کر کے تھانے لے جائے گی۔۔وہ پہلی فرصت میں اسے کال کر کے مدد مانگے گی اور نکاح کیلئے اپنی رضامندی ظاہر کرے گی۔تو وہ فوراً وہاں جا کر اسے لے آئے گا۔اور نکاح کے بعد سارے اگلے پچھلے حساب لے لے گا۔۔مگر ایسا نہیں ہوا۔۔۔۔وہاں کے تھانہ انچارج نے اس سے تفتیش کی مگر اسکے بعد اسے چھوڑ دیا کیونکہ اس نے فوراً وکیل ہائر کر کے اپنی ضمانت کروا لی تھی

اسے حیرت اس بات پر تھی کہ وہ تو پولیس والوں کی حراست میں تھی پھر اس نے وکیل کیسے ہائر کر لیا تھا اور ضمانت بھی کروا لی۔۔یقیناً کسی نے اسکی مدد کی تھی۔۔۔۔مگر کس نے۔۔۔؟؟اب یہی تو پتہ لگانا تھا۔اور

دوسری اہم بات کہ وہ چلی کہاں گئی تھی کیونکہ وہ

واپس اپنے فلیٹ میں نہیں گئی بلکہ اپنے بھائی کو اور اپنا ضروری سامان لے کر کہیں غائب ہو گئی تھی۔۔۔

دو دن وہ لیڈی کانسٹیبل کے گھر رہی۔۔ماحر کے ڈر سے اس نے اپنا فون بھی آف کر کے رکھ دیا تھا کہ کہیں وہ اسکی لوکیشن ٹریس نا کروا لے۔۔۔کیونکہ اتنا اسے پتہ چل گیا تھا کہ وہ اسے ڈھونڈھ رہا ہے۔۔لیڈی کانسٹیبل کے گھر بھی اسکی سیکیورٹی کا مسئلہ تھا۔۔۔۔ایک تو اسکے فیملی ممبر زیادہ تھے دوسرا اس کے گھر کے باہر پولیس والے بھی تعینات کر کے سب کو مشکوک نہیں کیا جا سکتا تھا۔۔سو کافی سوچ و بچار کے بعد احمر اسے اپنے فلیٹ میں لے آیا تھا۔مگر اپنے فلیٹ میں لانے سے پہلے اس نے حیات سے دریافت کیا تھا کہ اسے کوئی اعتراض تو نہیں جواباً اس نے کہا جس شخص نے جنگل کی تاریکی میں میری حفاظت کی اس پر مجھے اعتبار کیوں نہیں ہوگا۔سو وہ مطمئن ہو کر خود کسی دوست کے فلیٹ میں شفٹ ہو گیا تھا۔تاہم اسکی حفاظت کیلئے سول کپڑوں میں پولیس والے بھی فلیٹ کے باہر تعینات کر دے تھے کیونکہ ماحر خان سے کچھ بعید نا تھا کہ وہ وہاں بھی پہنچ جاتا۔۔۔

زندگی بے ربط ہو کر رہ گئی تھی۔اس کے ساتھ عجیب کھیل کھیل رہی تھی۔وہ اس راہ پر چلتے چلتے تھکنے لگی تھی۔اسکی جذبات میں کی گئی غلطیوں نے اس کیلئے آزمائشیں کھڑی کر دی تھیں۔

رات کا ایک بج چکا تھا نیند اسکی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔۔اس نے کروٹ بدلی کچھ فاصلے پر رکھے چھوٹے سے سنگل بیڈ پر مون گہری نیند سو رہا تھا۔ان حالات نے اس نو سال کے بچے کو بھی ذہنی طور پر میچور کر دیا تھا۔اپنی ساری شوخیاں شرارتیں بھول گیا تھا۔۔سہما سہما سا اس کے ساتھ چپکا رہتا تھا۔وہ خود بھی ایک پل کیلئے اسے نگاہوں سے اوجھل نہیں کر رہی تھی۔۔۔۔کروٹیں بدلتے بدلتے تھک گئی تو اٹھ بیٹھی۔۔۔فل لائٹ کی روشنی سے کمرہ جگمگا رہا تھا۔خوف کی وجہ سے وہ لائٹ آف کر کے نہیں سوتی تھی

ہاتھوں کو گھٹنوں پر سر رکھے ہاتھوں کو ارد گرد لپیٹے وہ بیٹھی تھی۔بے ساختہ رحمت بوا کی یاد میں آنسو بے قابو ہو کر اس کے گلابی چہرے پر بہنے لگے۔پچھلے چار دنوں سے وہ مسلسل ہی رو رہی تھی اگرچہ احمر اسے تسلی دے گیا تھا۔مگر آنسوؤں پر کس کا کنٹرول ہوتا ہے۔وہ عورت تو نام کی آیا تھی پالا تو اس نے ماں کی طرح تھا اسے۔۔۔۔بہتے آنسوؤں کے ساتھ آنکھیں بند کیے وہ ان سے تصور میں مخاطب تھی۔

بوا کیا انسان کا انسان سے رشتہ صرف سانسوں کی ڈور تک منسلک رہتا ہے۔محبت وفا چاہتوں کی شدتیں سانسوں کی چلتی رفتار تک ہی قائم رہتی ہیں۔آپ کی یاد زندہ ہے مگر محسوس ہونے والی ممتا کی گرمی جان سے زیادہ چاہنے والی محبتوں کا گداز محسوس نہیں ہوتا۔میں آپ کو اپنے ساتھ چلتا پھرتا محسوس کرتی ہوں مگر جب تھامنے کیلئے ہاتھ بڑھاتی ہوں تو خالی ہاتھ واپس لوٹ آتا ہے۔آپ خیال کیوں بن گئی ہیں میں تو آپ کے جانے کا دکھ ہی نہیں منا سکی مجھے تو اپنی جان کے لالے پڑ گئی۔۔

اور ماحر خان تم۔۔

تم سے تو محبت کرنے لگی تھی میں۔۔۔۔۔مگراب تم نے اپنی حرکتوں سے میرے اندر اپنے لئیے اتنی نفرت بھر دی ہے کہ اگر تمہیں اس کا اندازہ ہو جائے تو شرم سے مر جاؤ۔۔کتنے گھٹیا اور کم ظرف ہو تم۔۔۔۔۔محض بدلے کیلئے مجھ سے محبت کا ڈھونگ رچایا۔مجھے اپنی این جی او میں نوکری دی۔۔۔۔ان اغواہ کاروں کو ایک کروڑ دے کر میرے بھائی کی جان بچائی بلکہ اب تو مجھے لگ رہا ہے مون کے اغواہ والا کھیل بھی تمہارا ہی رچایا گیا تھا۔۔۔۔۔تاکہ ایک طرف ہم تمہارے احسان مند رہیں دوسری طرف تم ہمارے دلوں میں جگہ بنا سکو۔میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ تم اندر سے بدلے کی آگ میں جل رہے ہوگے۔۔۔۔۔۔

“۔۔۔۔تم وجہیہ چہرے اور روشن شخصیت رکھنے والے شخص کا کردار کتنا تاریک و بدنما ہے۔کاش ان لوگوں کو تمہاری اصلیت معلوم ہو جائے جو تمہیں چاہتے ہیں تمہارے فینز ہیں۔۔میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی تم نے میری زندگی تباہ کر دی ہے۔۔۔۔اس نے گلابی ہتھیلیوں سے اپنی نم آنکھیں رگڑیں۔۔۔

اسے یہ سب ایک بھیانک خواب کی طرح لگ رہا تھا اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ اس انداز میں پھنسے گی۔۔۔۔۔۔۔ماحر نے بہت شاطرانہ چال چلی تھی

مگر وہ بھی حیات عبدالرحمان تے تھی اس نے تہیہ کر لیا تھا۔اسے جیتنے نہیں دے گی چاہے جان کی بازی ہی کیوں نا لگانی پڑے وہ اسے اپنی پرچھائی پر بھی دسترس نہیں پانے دے گی۔۔اس نے بے دردی سے رخسار دونوں ہتھیلیوں سے رگڑ ڈالے جن سے آنسو بہہ رہے تھے۔۔

“۔۔سر ہاسپٹل والوں سے پوچھ تاچھ کی ہے میں نے۔لیبارٹری کی رپورٹ جھوٹی نہیں ہے سوپ میں واقعی زہر تھا۔۔۔وہ اسی بارے میں سوچ و بچار کر رہا تھا جب کانسٹیبل وہاب نے آ کر اسے رپورٹ پیش کی۔۔

ہوں اس کا مطلب ہے پیشنٹ کو واقعی زہر دیا گیا ہے۔یا پھر یہ بھی تو ہو سکتا ہے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ ہی جھوٹی ہو پیشنٹ کو زہر دیا ہی نا گیا ہو اسے کسی اور طریقے سے مارا گیا ہو اور پھر اس لڑکی کو پھنسانے کیلئے سوپ میں زہر ملا کر لیبارٹری بھیج دیا گیا ہو اور پھر لیبارٹری والوں نے تصدیق کر دی ہو کہ واقعی سوپ میں زہر ہے۔۔۔وہ پر سوچ انداز میں بولا

میرا بھی یہی خیال ہے سر۔۔۔۔اس کام میں ہاسپٹل کا عملہ ملا ہوا ہوگا اس فلمسٹار کے ساتھ۔۔۔یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پورا عملہ شامل نا ہو بلکہ چند ہی لوگ ہوں۔۔کانسٹیبل وہاب نے اپنا خیال ظاہر کیا”

ہاں لیکن یہ بات تو واضع ہے کہ اس سب میں ہاتھ اسی ماحر خان کا ہی ہے۔یہ قتل خود اس نے ہی کروایا ہے اور الزام بچاری لڑکی پر لگایا گیا۔

میں آپ کے خیال سے اتفاق کرتا ہوں سر۔۔لیکن تھیوری کی بنا پر ہم اس فلمسٹار پر الزام عائد نہیں کر سکتے۔

ہمیں اسکے خلاف ثبوت بھی درکار ہیں۔۔

یہی تو مسئلہ ہے ماحر سکندر خان جیسے بندے بہت چالاک ہوتے ہیں ہم کوشش کر کے کسی نا کسی طرح اسکے خلاف کوئی ثبوت حاصل کر بھی لیں تو پھر بھی اتنی آسانی سے اس پر ہاتھ نہیں ڈال سکتے۔اس کی پہنچ اتنی اوپر تک ہے کہ وہ ہمیں ہی معطل کروا دے گا۔پھر بھی اگر ہم کوئی ایسا بندہ ڈھونڈ بھی لیں جو اس قتل کا چشم دید گواہ ہو پھر بھی ناممکن ہے کہ وہ عدالت میں ماحر خان کا نام لے۔کیونکہ میں نے اس پر ریسرچ کی ہے وزیر اعظم تک سے کنٹیکٹ ہے اس کا۔۔اب ہمارے پاس یہی صورت بچتی ہے کہ مس حیات کو سامنے لے کر آئیں۔کم از کم ماحر خان کے ان کرتوتوں کو ہی منظر عام پر لے آئیں گے کہ کس طرح وہ کسی بھی حسین لڑکی کی عزت کو تماشا بنانے کی کوشش کرتا ہے۔۔۔کانسٹیبل وہاب کی بات کا جواب دیتے ہوئے احمر وقار کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔

اس سلسلے میں،میں نے ایک این جی او کو اپروچ کیا ہے۔لیکن میں سمجھتا ہوں اس کیس کے سامنے آنے سے ماحر خان کو زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔۔۔زیادہ سے زیادہ میڈیا پر کچھ دن شور رہے گا اور پھر خاموشی چھا جائے گی۔مس حیات خود بھی تو اسکے خلاف میڈیا میں جا چکی ہیں۔۔۔۔۔کیا ہوا چند دن شور رہا اور پھر خاموشی چھا گئی۔۔ماحر خان صاف کہہ دے گا کہ اس پر الزامات لگائے جا رہے ہیں۔اگر اس نے تسلیم کیا بھی تو زیادہ سے زیادہ یہی کرے گا کہ اس نے لڑکی کو شادی کا پیغام بھیجا تھا۔کوئی زور زبردستی نہیں کی تھی ظاہر ہے اس قسم کا پیغام بھیجنا کوئی جرم نہیں

اگر اسکی دھمکیوں والی کوئی آڈیو ویڈیو بھی ہو تب بھی وہ فیک کہہ کر صاف مکر جائے گا کہ یہ اسکے دشمنوں کی چال ہے کیونکہ ایسے بڑے نامور لوگوں کے دشمن بھی تو بہت ہوتے ہیں۔۔

وہاب نے اسے معاملے کا ایک اور رخ دکھایا۔۔

میں اس بات کو سمجھتا ہوں وہاب کہ ہم مس حیات کے کیس پر کسی طرح سے ماحر خان کو مجرم ثابت نہیں کر سکتے۔لیکن میری خواہش ہے کہ اس کے امیج پر ایک ضرب تو ضرور لگائی جائے جس کا کچھ نا کچھ اثر اسکے فلمی کیریئر پر پڑے۔فین فالونگ میں کمی ہو۔۔۔۔ڈائریکٹرز اسے اپنی فلموں سے آؤٹ کریں۔جتنی اذیت اس نے اس معصوم لڑکی کو پہنچائی ہے کچھ تو وہ بھی جھیلے۔۔۔

میرے سامنے اس لڑکی کے تحفظ کا بھی مسئلہ ہے۔کسی نا کسی طرح اس پر لگا الزام میں جھوٹا ثابت کرکے اسے کیس سے بری کروا بھی دوں پھر بھی وہ شخص باز نہیں آئے گا۔۔۔۔۔۔اسے دوبارہ ٹریپ کرنے کی کوشش کرے گا۔میں اس لڑکی کی بیک مضبوط بنانا چاہتا ہوں۔اگر کوئی بڑی این جی او اسکے پیچھے کھڑی ہو جاتی ہے تو ماحر خان کو مجبوراً پیچھے ہٹنا پڑے گا۔لیکن افسوس اس بیچاری سے اس کا ٹھکانہ ہی چھن گیا۔میں اسے کب تک اپنے فلیٹ میں رکھ سکتا ہوں۔خیر جو ہوا سو ہوا اب ہمیں اس مظلوم لڑکی کے مستقبل کے بارے میں سوچنا ہوگا۔۔۔

اگر اسے کسی ایسے شخص یا ادارے کی سرپرستی حاصل ہو جائے جو ماحر سکندر خان کے مقابل ڈٹ کر کھڑا ہو سکے تو اس لڑکی کے حق میں بہتر ہوگا۔

کسی این جی او کے ذریعے میڈیا کی انوالمنٹ کا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ ماحر خان براہ راست لڑکی پر ہاتھ ڈالنے سے گریز کرے گا۔وہ سمجھ جائے گا اگر اس نے ایسی کوئی کوشش کی تو الزام اسی کے سر ہی آئے گا

ماحر وقار کو خود اندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ وہ حیات عبدالرحمان کے کیس میں اتنی دلچسپی کیوں لے رہا ہے۔۔کیوں اس کے تحفظ کیلئے اتنا پریشان ہے۔۔

میں کسی حد تک آپ کا مقصد سمجھ رہا ہوں سر۔۔آپ بے فکر رہیں میں جلد از جلد اس سلسلے میں کاروائی شروع کرواتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔وہاب نے اس کیس میں اس کی دلچسپی دیکھ کر کہا۔۔۔

احمر نے سر ہلاتے ہوئے فون اٹھایا۔۔۔حیات عبدالرحمان کو تسلی بھی تو دینی تھی اسے پتہ تھا وہ رو رہی ہوگی کیونکہ لیڈی کانسٹیبل شاہین نے اسے بتایا تھا کہ پچھلے دو دن اسکے گھر جو اس نے گزارے سارا ٹائم روتی ہی رہتی۔۔۔اس سے بات کر کے اسے تسلی دے کر وہ کچھ پرسکون ہوا۔۔۔

مگر سوال وہی تھا آخر انسپکٹر احمر وقار ایک اجنبی لڑکی کے تحفظ کیلئے اتنا پریشان تھا کیوں۔۔؟

بہت ہی بدنصیب ہوں میں۔۔۔۔۔ارتضیٰ، بابا، بوا سب کی موت کی وجہ کسی نا کسی طرح میں ہی بنی۔ارتضیٰ

میری وجہ سے اس لڑکے سے جھگڑے تھے اور بدلے میں انکی جان چلی گئی۔بابا میری وجہ سے سٹریس میں تھے اور اسی وجہ سے ایکسیڈنٹ ہو گیا ان کا اور وہ بھی چلے گئے۔رحمت بوا جنہوں نے مجھے سگی بیٹی کی طرح پالا وہ بھی میری وجہ سے جان سے گئیں۔

اس شخص نے مجھے سبق دینے کیلئے انہیں مروا دیا

وہ سب مجھے پر اپنی جان چھڑکتے تھے اور میری ہی خاطر اپنی جان سے چلے گئے۔کتنی بدنصیب ہوں میں وہ سسکنے لگی۔۔

احمر نے تاسف سے اسے دیکھا۔۔۔

ایسی باتیں نا کریں بدنصیب صرف وہ لوگ ہوتے ہیں جو اللّٰہ کی دی ہوئی نعمتوں کی قدر نا کریں اور اس کے فیصلوں کو قبول نا کریں۔آپ پر ایک مشکل وقت آن پڑا ہے۔کون جانے جب آپ اس آزمائش سے نکلیں

تو آپ کے ہاتھوں اللّٰہ کتنے بڑے بڑے کام انجام دلوائے ایسے کام جو آپ کے ساتھ ساتھ آپکے والدین کی بخشش کا ذریعہ بنیں انسان کی ساری خواہشیں پوری ہونا ممکن نہیں ہوتا۔اپنی ادھوری خواہشوں پر یہ سوچ کر صبر کر لینا کہ جو ہمارے لئیے زیادہ بہتر تھا وہ اللّٰہ نے عطا کر دیا۔میری کامیاب زندگی کے پیچھے یہ سوچ کارفرما ہے۔میرے پیرنٹس میری کم عمری میں ہی ایک حادثے میں انتقال کر گئے تھے۔اسکے بعد میرے ماموں اور ممانی نے اتنا خیال رکھا کہ میں سمجھتا ہوں دنیا میں اتنا خیال بہت ہی کم لوگوں کا رکھا جاتا ہے۔خصوصاً ممانی تو مجھ پر جان چھڑکتی ہیں۔ان کی تربیت کی وجہ سے میری شخصیت میں کئی ایسے رنگ ہیں جنہوں نے مجھے دوسروں سے کچھ بہتر بنا دیا ہے۔ورنہ ہو سکتا تھا میں بھی ان سارے لوگوں کی طرح ہوتا جو اختیار ہاتھ میں آجانے پر برے بھلے کی تمیز کھو بیٹھتے ہیں۔اللّٰہ نے مجھ سے ماں باپ جیسی نعمت لے کر بدلے میں انسانیت کا شعور عطا کیا ہے اور میں اس فیصلے پر راضی ہوں۔۔۔۔۔۔کیا آپ میں حوصلہ نہیں کہ اللّٰہ کے فیصلوں کو بہتر سمجھ کر ان کے آگے اپنا سر جھکا سکو۔۔۔۔؟؟دنیا بھر کی نرمی اسکے لہجے میں تھی۔۔

حیات جو ٹرانس کی کیفیت میں بیٹھی اسکی باتیں سن رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔اسکے سوال پر نم آنکھوں سمیت مسکرائی۔میں اب اللّٰہ سے بالکل گلہ نہیں کروں گی وہ میری قسمت میں جو لکھے گا مجھے منظور ہوگا۔بس میری ایک التجاء ہے آپ سے آگے پتہ نہیں کیا ہوتا میں اپنے بھائی کے ساتھ رہ پاتی ہوں بھی یا نہیں لیکن اگر ایسی سچویشن پیدا ہوتی ہے کہ میں اسکے ساتھ نا رہ سکا تو پلیز آپ اسکو اپنی کسٹڈی میں لے لیجئے گا۔

اسے بالکل اپنے جیسا ایک اچھا انسان بنائیے گا۔۔۔بولتے بولتے اسکی آواز بھرا گئی۔۔چند لمحے خاموش رہنے کے بعد سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا وہ بھی اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔اسکی نگاہوں میں ہمدردی فکر عزت کے علاؤہ ایک اور بھی احساس تھا جسے وہ کوئی نام نا دے سکی۔۔۔

مجھے یقین ہے اگر میں ایسا نا بھی کروں تب بھی آپ

ایسا ہی کرتے۔۔۔

اللّٰہ سے امید اچھی ہی رکھنی چاہیے جہاں تک میرے بس میں ہوا میں آپ کا ساتھ ضرور دوں گا۔۔۔

میں۔۔۔میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایسے حالات سے گزروں گی۔۔۔وہ پھر سے روپڑی

ابھی آپ نے کیا کہا کہ اللّٰہ سے گلہ نہیں کریں گی اور اب پھر سے۔۔۔اس نے تاسف سے اسے دیکھا۔

ایک بات پوچھوں آپ سے۔۔۔؟کچھ دیر بعد جب وہ رو کر چپ ہو چکی تو بولی

ضرور پوچھیں۔۔۔وہ فراغ دلی سے بولا

آپ جنگل میں کیا کر رہے تھے۔۔۔؟؟

آپ کا خیال ہے۔۔۔؟؟اس نے الٹا سوال کیا

آئی تھنک شکار تو نہیں۔۔۔

ہاں میں شکار کرنے نہیں گیا تھا۔۔ایک مشن پر گیا تھا۔۔کچھ وطن فروش مجرم چھپے ہوئے تھے اس جنگل میں انہی کی تلاش تھی۔۔۔۔جس رات آپ نے فائرنگ کی آواز سنی تھی انہی کے ساتھ ٹاکرا ہوا تھا۔۔۔۔۔صرف دو لوگ تھے جو مارے گئے میرے ہاتھ سے۔۔۔۔باقی پہلے ہی وہاں سے بچ کر نکل گئے تھے۔۔۔

اچھا مجھے تب بھی لگا تھا شائد کوئی اور بات ہے۔تب میں پوچھا بھی تھا لیکن آپ نے بتایا نہیں تھا۔اس کے انداز میں شکوہ تھا۔۔

کھانا کھایا۔۔۔۔؟اس نے بات بدلتے ہوئے کہا

حیات نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔

بھوک لگ رہی ہوگی۔۔۔لمحہ بھر کو اس پر گہری نگاہیں ڈال کر پوچھا”

نہیں۔۔۔وہ آہستگی سے بولی

اونہوں غلط بیانی نہیں چلے گی۔۔

میں سچ کہہ رہی ہوں”

کیوں۔۔۔اس نے سنجیدہ لہجے میں پوچھا

میں۔۔۔۔سمجھی نہیں۔۔۔وہ الجھ کر بولی

یہی پوچھ رہا ہوں بھوک کیوں نہیں لگ رہی۔تمام اہم ضرورتوں میں سب سے بڑی ضرورت شکم سیری ہے

کیا کچھ نہیں ہوتا اس بھوک و پیٹ کے چکر میں لوگ ناجائز کام کرتے ہیں۔حرام کو حرام نہیں سمجھتے چوری ڈاکے قتل اور بھی نامعلوم کیا کیا کر گزرتے ہیں

اسی بھوک کے چکر میں اور کہہ رہی ہیں میں سمجھی نہیں۔۔

احمر نے اسے اسطرح سمجھایا جیسے کسی کوڑھ مغز شاگرد کو لائق و فائق استاد سمجھاتے ہیں۔اتنی ٹینشن میں ہونے کے باوجود وہ اس کے انداز پر بے اختیار ہلکا سا مسکرائی تھی۔

آپی بھوک لگی ہے۔۔۔اسی وقت مون نے وہاں آ کر اسے

مخاطب کیا وہ نیند سے اٹھ کر آیا تھا”

آؤ بھائی تم میرے پاس بیٹھو اور آپ جائیں ہم سب کئلئے کچھ بنا لائیں۔۔۔احمر نے مسکرا کر مون کو اپنے پاس بیٹھنے کو کہا اور ساتھ حیات کو بھی کچن میں جانے کا اشارہ کیا۔۔وہ خاموشی سے کچن میں چلی آئی

دو دن اس نے لیڈی کانسٹیبل کے گھر گزارے تھے اور آج دو دن اسے اس فلیٹ میں رہتے ہوئے ہو گئے تھے۔احمر کل شام کو بھی آیا تھا اور آج شام کو بھی یہاں موجود تھا۔سول کپڑوں میں دو پولیس والے بھی فلیٹ کے باہر کسی جگہ پر بیٹھ کر خفیہ طریقے سے فلیٹ کی نگرانی کر رہے تھے۔سو بظاہر ڈر تو کوئی نہیں تھا مگر انہونی کی تلورا بھی سر پر مسلسل لٹکی ہوئی تھی۔۔

جب تک اسکے اوپر لگا الزام جھوٹا ثابت نا ہو جاتا تب تک خطرہ سر پر منڈلاتا ہی رہتا۔تاہم احمر وقار جیسے فرشتہ صفت انسان کی وجہ سے تسلی تھی کہ وہ اسے اس مصیبت سے کسی نا کسی طرح نکال لے گا”

“خان ہاؤس میں بڑے پیمانے پر پارٹی ہو رہی تھی۔

یہ پارٹی گینگسٹر ٹو کی کامیابی اور خان فیملی میں جڑواں بچوں کی پیدائش کی خوشی میں ہو رہی تھی۔

یہ جڑواں بچے عبیر سکندر اور بولڈ ایکٹریس و ماڈل لیزا عبیر کے ہاں ہوئے تھے۔جبکہ گینگسٹر ٹو پچھلے دو ہفتوں سے سینما گھروں کی زینت بنی ہوئی تھی اور ان دو ہفتوں میں ایک سو بیس کروڑ کا بزنس کر چکی تھی۔ابھی بھی سینما گھروں میں لوگوں کا رش لگا ہوا تھا۔۔سو ان دونوں خوشیوں کو سلیبریٹ کرنے کیلئے پارٹی کا اہتمام کیا گیا تھا۔پارٹی کی یہ تقریب گرینڈ ہوٹل میں رکھی گئی تھی جس میں فلم انڈسٹری کے لوگوں کے علاؤہ بزنس اور سیاست سے وابستہ کئی بڑی بڑی شخصیات آئی ہوئی تھیں۔۔۔۔۔میڈیا کو اگرچہ انوائیٹ نہیں کیا گیا تھا۔پھر بھی ایک بڑی تعداد میڈیا کی بن بلائے وہاں پہنچی ہوئی تھی۔۔مہمانوں کی خاطر تواضع کے بعد میوزیکل پروگرام تھا جس میں ملک کے مشہور سنگر آئے ہوئے تھے۔ماحر خان پارٹی میں بظاہر تو سب سے مسکرا مسکرا کر ہیلو ہائے کر رہا تھا مگر اندر اس کے ہلچل مچی ہوئی تھی کیونکہ نا تو حیات عبدالرحمان کی کوئی خبر ملی تھی اور نا اس کے ہمدرد کا پتہ چلا تھا۔

موبائل فون کی وائبریشن نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔۔پاکٹ سے سیل نکال کر دیکھا تو مینیجر کی کال آ رہی تھی۔۔۔

ہاں بولو۔۔۔۔اس نے دھیمی آواز میں کہا

سر پتہ چل گیا ہے۔احمر وقار نامی ایک پولیس انسپکٹر نے وکیل ہائر کر کے اسکی ضمانت کروائی ہے اور اس کیس پر ہاسپٹل والوں سے انویسٹیگیشن کرتا پھر رہا ہے۔۔

ہممم۔۔۔اسکے علاؤہ کچھ۔۔۔۔وہ بھینچے جبڑوں کے ساتھ بولا۔۔

اور سر مس حیات اپنے بھائی کے ساتھ اسی انسپکٹر کے فلیٹ میں رہ رہی ہے۔۔۔

ٹھیک ہے اس فلیٹ کا ایڈریس مجھے سینڈ کرو۔۔۔باقی بندوبست میں خود کرتا ہوں۔۔۔۔وہ کال بند کرتے ہوئے بڑبڑا رہا تھا۔

ایک کو ہٹاتا ہوں راستے سے تو دوسرا ہمدرد پیدا ہو جاتا ہے تمہارا۔۔۔پہلے والوں کو تو دھمکا کر راستے سے ہٹایا بٹ اس پولیس والے تمہارے نئے ہمدرد کو اوپر ہی پہچانا پڑے گا۔۔۔مگر سب سے پہلے تو تمہاری ضمانت کینسل کرواتا ہوں سویٹ ہارٹ۔۔۔دیکھتا ہوں کہاں تک بچ کر بھاگتی ہو مجھ سے۔۔

دانت پیس کر بولتا وہ دل ہی دل میں فیصلہ کر رہا تھا۔۔