171.9K
78

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Hayat (Episode 32)

Meri Hayat By Zarish Hussain

سر۔۔۔۔۔ سر آر یو اوکے۔۔۔؟؟

انکی چال کی لڑکھڑاہٹ اور چہرے کے گھمبیر تاثرات سے باہر بیٹھے سیکرٹری کو کچھ گڑ بڑ کا احساس ہوا۔۔وہ لپک کر انکے قریب آیا۔۔

ہوں۔۔۔۔سیکریڑی کے پوچھنے پر انہوں نے سر ہلایا۔

وہ آگے بڑھے ہی تھے جب اس نے دوبارہ کہا۔

سر مجھے آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ڈاکٹر کو کال کروں۔؟نرم دل سیکرٹری فکر مندی سے کہہ رہا تھا

عبدالرحمان صاحب نے نفی میں سر ہلایا اور آفس سے نکل آئے۔۔۔

اسوقت انکے دل و دماغ میں جھکڑ چل رہے تھے۔شدید قسم کے اضطراب نے انہیں اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔ان کا ذہن سائیں سائیں کر رہا تھا۔جس قسم کی انکی حالت ہو رہی تھی اس میں گاڑی ڈرائیو کرنا انکے لئیے ٹھیک نہیں تھا۔۔۔۔۔مگر وہ یہ بات کہاں سوچ رہے تھے۔

وہموں اور وسوسوں کے ناگ انہیں ڈس چکے تھے۔وہ تو بس جلد از جلد گھر پہنچنا چاہتے تھے۔۔۔۔۔۔۔اس شخص کی کی گئی بکواس کی اپنی بیٹی سے تصدیق کرنا چاہتے تھے۔کانپتے ہاتھوں سے انہوں نے گاڑی کو ان لاک کیا اور ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی۔۔۔۔”ان کا یہ سوچ سوچ کر ہی دماغ پھٹ رہا تھا کہ اگر یہ بات سچ ہوئی تو وہ کیسے برداشت کر پائیں گے۔ان کا دل اپنی لاچاری اور بے بسی پر رو رہا تھا کہ وہ کیسے باپ ہیں جو اپنی بیٹی کی حفاظت بھی نہیں کر سکے تھے۔۔۔۔ان کے اندر اذیت کی لہریں اٹھنے لگیں۔ انہیں لگا ان ک نروس بریک ڈاؤن ہو جائے گا۔ایک ہاتھ سٹیرنگ پر رکھے وہ اپنے ماتھے کو مسلنے لگے۔یہیں ان سے چوک ہوئی۔اب غلطی انکی تھی یا سامنے سے آتے تیز رفتار ٹرک کی جس کا رخ بھی سیدھا انکی گاڑی کی طرف تھا۔وہ بری طرح بوکھلا گئے تھے۔سٹیرنگ پر رکھا انکا دایاں ہاتھ کانپ گیا۔بجلی کی تیزی سے انہوں نے دونوں ہاتھوں سے سٹیرنگ پر گرفت مضبوط کر کے گاڑی کو سائیڈ پر موڑ کر بچانا چاہا مگر کامیاب نا ہو سکے اورایک زبردست تصادم ہوا اور ان کی گاڑی ٹرک سے بہت ہی بری طرح ٹکرا گئی تھی”۔۔۔فضا میں انکی چیخ گونج کر رہ گئی

شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔۔۔۔عبدالرحمان صاحب ابھی تک آفس سے نہیں لوٹے تھے۔۔۔بالکنی میں کھڑی حیات بے صبری سے ان کا انتظار کر رہی تھی۔ان کی طبیعت ابھی مکمل طور پر ٹھیک نہیں تھی پھر بھی وہ آفس چلے گئے تھے۔جب مزید وقت بھی سرک گیا تو اسکی پریشانی بڑھ گئی۔رحمت بوا کے کہنے پر اس نے ظفر کاظمی کو کال ملائی۔۔۔

اسلام علیکم انکل۔۔میں حیات بات کر رہی ہوں”انکے کال ریسیو کرتے ہی وہ بولی

وعلیکم السلام بیٹا۔۔۔خیریت۔۔۔۔؟؟

انکل وہ بابا ابھی تک آفس سے گھر نہیں آئے۔۔۔۔۔ان کا فون بھی بند جا رہا ہے۔۔اور آفس کے فون پر بھی کوئی رسپونس نہیں رہا شائد چھٹی ہو گئی ہوگی وہاں اس لئیے۔تو کیا آپ بتا سکتے ہیں وہ کہاں گئے ہونگے۔۔؟؟

بیٹا۔۔میں تو اسوقت ایک پارٹی میں ہوں۔عبدالرحمان تو آج مجھ سے ملا ہی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں تمہیں اسکے سیکرٹری مراد کا نمبر سینڈ کرتا ہوں اس کو فون کرو شائد اسے معلوم ہو۔۔۔

جی ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ مایوس لہجے میں بولی

چند سیکنڈ بعد ان کا میسیج آیا جس میں انہوں نے عبدالرحمان صاحب کے سیکرٹری کا نمبر لکھا تھا۔ حیات نے فوراً نوٹ کر کے کال ملائی جو کہ کافی بیلز جانے کے بعد ریسیو ہوئی۔سیکرٹری نے اسے جو اطلاع دی اس نے اسے مزید پریشان کر دیا۔۔۔۔

میم سر تو گیارہ بجے کے بعد آفس سے چلے گئے تھے آج تو تھوڑی سی دیر ہی آفس رکے تھے وہ۔۔۔۔

گیارہ کے بعد چلے گئے تھے لیکن کیوں۔۔۔۔۔آپ کو جانے کی وجہ نہیں بتائی انہوں نے۔۔۔۔۔؟؟وہ حیران پریشان لہجے میں پوچھ رہی تھی۔

میم کہیں جاتے وقت وہ اکثر مجھے خود بتا دیتے ہیں میں کیسے پوچھ سکتا ہوں ان سے بھلا۔۔۔سیکریٹری نے

رسانیت سے کہا۔

آج آفس میں کچھ ہوا تو نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔آئی مین کوئی مسئلہ وغیرہ۔۔۔۔کسی خدشے کے تحت اس نے محتاط انداز میں پوچھا۔

میم ایکچولی آج گیارہ بجے جب وہ آفس آئے تو ایک اسپیشل گیسٹ ملنے آئے تھے ان سے۔۔۔۔۔۔پھر ان گیسٹ کے جانے کے بعد گیارہ بج کر بیس منٹ پر وہ آفس سے نکلے تھے۔۔۔۔۔لیکن وہ بہت پریشان بھی لگ رہے تھے اور انکی طبیعت بھی مجھے ٹھیک نہیں لگی تھی۔میں نے ڈاکٹر کو بلانے کا بھی کہا تھا مگر انہوں نے انکار کر دیا تھا۔۔سیکرٹری نے تفصیل بتائی”

کک کون اسپیشل گیسٹ تھا۔۔۔۔۔۔؟؟اسکی چھٹی حس

بیدار ہو گئی تھی۔وہ دل میں دعا مانگنے لگی کاش وہ نا ہو جس کا وہ سوچ رہی تھی۔کیونکہ کل ماحر کو ہاں کہہ دینے کے بعد اسے احساس ہوا تھا کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔۔نا بابا سے اس دن والا واقعہ چھپانا چاہیے تھا۔اب وہ شدت سے انکی واپسی کی منتظر تھی۔

میم شائد آپ انہیں جانتی ہوں معروف فلمسٹار ماحر خان تھے وہ۔۔۔۔

حیات کی سانس سینے میں اٹک گئی۔

بدترین خدشے کی تصدیق ہو گئی

وہ فون کو ہاتھ میں پکڑے کھڑی رہ گئی۔۔

وہ پرپوزل لے کر آیا ہو گا یقیناً

پھر کیا ہوا ہوگا۔۔۔۔

بابا نے انکار کیا ہوگا۔

اور پھر انکار سن کر اس نے بابا کو دھمکایا ہوگا۔۔

اسکا ذہن فوراً نتیجے پر جا پہنچا”

لیکن بابا چلے کہاں گئے۔۔۔۔؟پریشانی بڑھ گئی تھی”

حیات۔۔حیات۔۔رحمت بوا ہڑ بڑی میں اندر داخل ہوئیں۔

ان کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔

کیا ہوا بوا۔۔۔؟؟

وہ گھبرا گئی۔

بیٹا وہ چوکیدار بتا رہا ہے باہر کوئی بندہ آیا ہے وہ کہہ رہا ہے عبدالرحمان بیٹے کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے وہ اسپتال میں ہے۔۔۔حیات کے ہاتھ سے موبائل چھوٹ گیا۔۔”

چلو ہمیں جلدی نکلنا ہوگا۔۔۔رحمت بوا نے جھک کر اس کا گرا ہوا موبائل اٹھایا۔۔۔

ایک بار پھر وہ لرزتے کانپتے دل کے ساتھ بتائے گئے اسپتال کی جانب دوڑ پڑی تھی لیکن اس بار رحمت بوا اور امینہ ساتھ تھیں۔

ریسپشن سے معلوم کر کے وہ بھاگی بھاگی اندر آئیں۔عبدالرحمان صاحب آبزرویشن میں تھے ۔گلاس ڈور سے نظر آتے بابا کو دیکھ کر وہ ساکت ہو گئی۔۔ان کے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں تھا جو پٹیوں سے جکڑا نا گیا ہو”۔۔۔وہ بلک بلک کر رونے لگی رحمت بوا اور امینہ نے پکڑ نا رکھا ہوتا تو وہ کب کی نیچے گر چکی ہوتی۔

وہ دونوں بڑی دقتوں سے اسے سنبھال کر ہسپتال کے لاؤنج میں لے آئی تھیں۔”رو رو کر اسکی ساری انرجی نچڑ گئی تھی۔اسوقت وہ نڈھال سی تسبیح ہڑھتی رحمت بوا کے کندھے پر سر ٹکائے بیٹھی تھی سوچنے سمجھنے کی ہر حس جیسے سلب ہو گئی تھی۔

روم نمبر 15 کے پیشنٹ کے ساتھ آپ ہیں۔۔۔؟؟

اسی وقت ایک نرس نے وہاں آ کر پوچھا۔

ہاں کیوں کیا ہوا۔۔۔؟؟وہ دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ خوفزدہ انداز میں دیکھتے بولی”

انکی حالت بہت کریٹیکل ہے آپ کو ڈاکٹر بلا رہے ہیں۔

حیات کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے لیا۔یکدم اسے لگا جیسے جسم سے جان نکل رہی ہو۔وہ ڈوبتے دل کے ساتھ اٹھی اور من من بھر کے قدموں سے چلتے ڈاکٹر کے روم کی طرف بڑھی۔خوف کے زیر اثر اس نے روم میں قدم رکھا۔۔

آپ کا پیشنٹ سے کیا رشتہ ہے۔۔۔؟سامنے بیٹھے ادھیڑ عمر ڈاکٹر نے اپنا چشمہ درست کرتے ہوئے سوال کیا۔

میرے فادر ہیں وہ۔۔۔؟؟اسکی سانس یوں پھول رہی تھی گویا میلوں دور بھاگ کے آئی۔درحقیقت یہ بابا سے متعلق کسی بری خبر کا خوف تھا جسکی وجہ سے وہ صحیح سے سانس نہیں لے پا رہی تھی۔

پیشنٹ کا ایکسیڈنٹ بہت شدید تھا۔۔انکی حالت کافی کریٹیکل ہے۔اگلے بارہ گھنٹے بہت اہم ہیں انکے لئیے۔اگر ان بارہ گھنٹوں میں انہیں ہوش نا آیا تو ہمیں آپریشن کرنا پڑے گا۔۔۔۔۔۔ہم نے کافی کوشش کی کہ آپریشن کی ضرورت نا پڑے مگر۔۔۔

خیر آپریشن کیلئے بھی ورثا کی پرمیشن ضروری ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔آپ سے رابطہ کرنے میں خاصی دیر ہو گئی تھی کیونکہ حادثے میں ان کا فون بھی ڈیمیج ہو چکا تھا کوئی کانٹیکٹ نمبر نہیں ملا ہمیں۔۔۔۔۔سو آئی کارڈ کی مدد سے ہم نے ایڈریس نکال کر آپ تک اطلاع پہنچائی۔

لیکن ایک بات کلئیر کر دوں ہوش نا آنے کی صورت میں پیشنٹ کی زندگی بچانے کیلئے اگرچہ آپریشن کرنا ضروری ہوگا لیکن اس میں یہ بھی خطرہ ہے کہ ہوش میں آنے کے بجائے وہ کومہ میں چلے جائیں مگر”

ڈاکٹر کی بات نے اسے لرزا دیا تھا۔

ڈاکٹر نے ایک پل کو رک کر اس کا سفید پڑتا چہرہ دیکھا پھر تسلی آمیز انداز میں بولے

آپ امید رکھیں حوصلہ نا ہاریں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہمیں آپریشن کی ضرورت ہی نا پڑے وہ پہلے ہی ہوش میں آ جائیں۔۔۔بہرحال پیشنٹ کو دعاؤں کی سخت ضرورت ہے آپ انکے لئیے دعا کریں ہم اپنی پوری کوشش کریں گے باقی زندگی دینا اوپر والے کے ہاتھ میں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ پیشنٹ کیلئے او نیگیٹو بلڈ گروپ کی ضرورت ہے آپ انکے لئیے فوری طور پر بلڈ ارینج کریں۔۔ڈاکٹر کہہ کر سامنے رکھی رپورٹس کی طرف متوجہ ہو گیا جبکہ وہ سائیں سائیں کرتے دماغ اور کانپتی ٹانگوں کے ساتھ بلڈ بینک کی طرف بڑھ گئی۔۔۔

وہ سٹوڈیو جانے کیلئے تیار ہو رہا تھا جب سکندر خان اسکے روم میں چلے آئے۔انکے ہاتھوں میں چند اخبارات تھے۔۔۔

دیکھا ماحر گینگسٹر ٹو کے تو ٹریلر نے ہی اتنی دھوم مچا دی ہے جب ریلیز ہو گی تو ناجانے کتنی کامیابیاں سمیٹے گی۔۔انکے لہجے میں دبا دبا جوش تھا”

بالکل ڈیڈ۔الیکٹرانک میڈیا پرنٹ میڈیا کے ہر پلٹ فارم پر ہماری فلم کا ہی چرچا ہو رہا ہے۔ اور کیوں نا ہو۔سکرپٹ ڈائیلاگ سٹوری سب اتنے بہترین انداز میں لکھے آپ نے اس نے باپ کو سراہا تو وہ مسکرا دیے۔

” ویسے ڈیڈ ہماری پکچر کے مقابلے میں جتنی بھی فلمیں ریلیز ہونے والی ہیں مجھے یقین ہے ہماری پکچر ان سب سے زیادہ سپر ہٹ ثابت ہو گی۔۔خان ہوم پروڈکشن کی فلم ہمیشہ کی طرح سب کو پیچھے چھوڑ دے گی وہ غرور بھرے انداز میں مسکرایا۔

ہممم۔لیکن صرف سٹوری ہی اچھی نہیں تھی بلکہ تم لوگوں نے محنت بھی تو خوب کی۔اتنا پیسہ بھی لگا ہے۔ویسے بیٹا ایک بات کہوں مجھے ہمیشہ سے لگتا تھا کہ زین اور عبیر تمہاری طرح کامیاب اداکار نہیں بن پائے۔مگر اب لگ رہا ہے اس فلم میں زین کی ایکٹنگ ضرور لوگوں کے دل جیت لے گی۔پروڈیوسر تو وہ اچھا ہے ہی اب بطور بیسٹ ایکٹر بھی خود کو منوا لے گا۔

وہ پر یقین انداز میں بولے”

ایگزیکٹلی ڈیڈ مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے۔۔۔وہ بھر پور انداز میں مسکرایا۔۔۔تاہم مسکرانے کی وجہ فلم کی متوقع کامیابی نہیں بلکہ اپنی متوقع جیت تھی۔جو جال اس نے پھینکا تھا اسے پورا یقین تھا باپ بیٹی کے پاس کوئی راستہ بچے گا نہیں۔۔اور ماحر خان کی جیت یقینی تھی”وہ ابھی سے مسرور ہو رہا تھا۔اپنی متوقع جیت کا نشہ ابھی سے سوار ہونے لگا تھا”انہی مسرور کن خیالوں میں گم تھا کہ سکندر خان کی آواز ہوش کی دنیا میں لے آئی۔۔۔

ماحر۔۔۔ماحر۔۔۔وہ صوفے پر بیٹھے حیرانی سے اسے پکار رہے تھے”

یس۔۔یس ڈیڈ۔۔ کیا کہہ رہے تھے آپ۔۔۔؟ڈریسنگ ٹیبل کے آگے کھڑا خیالی دنیا سے نکل کر وہ چونک کر انکی طرف متوجہ ہوا۔

بھئی کہاں کھو گئے تھے میں تم سے یہ پوچھ رہا تھا کہ تمہارا کیا خیال ہے ہماری فلم کتنا بزنس کرے گی۔؟

سو کروڑ کے بجٹ سے بنی ہے تو چار پانچ سو کروڑ بزنس تو ہونا ہی چاہیے۔۔۔ خود پر پروفیوم کا اسپرے کرتا ہوا بولا۔

اور پتہ ہے ڈیڈ اسکے گانے سیٹی مار نے تو محض دس دنوں میں دس کروڑ ویوز بنا لئیے ہیں “

یہ تو بہت اچھی بات ہے۔۔اچھا پھر ریلیز کس ڈیٹ کو کرنی ہے۔۔۔۔؟؟

ڈیڈ ابھی تو زین اور نتاشا شوز میں جا کر پرموشن کر رہے ہیں۔۔کچھ دنوں تک ڈیسائیڈ کر کے ڈیٹ کا اعلان کرتے ہیں پھر۔۔۔۔وہ آئینے میں تنقیدی نظروں سے خود کا جائزہ لیتے ہوئے بولا”

ہممم۔۔۔سکندر علی خان نے اثبات میں سر ہلایا۔

تم شوٹ پر جا رہے ہو یا کسی سے ملنے۔؟؟وہ صوفے سے کھڑے ہوتے ہوئے پوچھنے لگے۔

واجد بھائی کی فلم کے چند شاٹس رہتے ہیں جو ڈیفینس میں ایک بنگلے پر شوٹ ہونے ہیں وہی کمپلیٹ کرانے جا رہا ہوں۔اسکے بعد دو گھنٹے کیلئے ایک ایوارڈ شو کی میزبانی کیلئے بھی جانا ہے۔شائد رات کو بہت لیٹ آؤں آپ پلیز مام کو کہیے گا مجھے فون کر کے ڈسٹرب نا کریں۔۔وہ اب آئینے کے سامنے کھڑا گرے کلر کا امپورٹڈ کوٹ پہن رہا تھا جو حال ہی میں وہ اٹلی سے خرید کر لایا تھا۔۔

ٹھیک ہے کہہ دوں گا۔۔شو والے دو گھنٹے کی کتنی پیمنٹ کریں گے۔۔؟؟

ڈھائی کروڑ۔۔۔بے نیازی سے جواب آیا”

اور وہ تمہارے اپنے شو کے ڈائریکٹر کے ساتھ معاوضے کی جو بات چل رہی تھی اس کا کیا ہوا۔۔۔۔؟؟وہ باہر جاتے جاتے رک گئے تھے”

پچھلی بار دسویں سیزن کی ایک ایپیسوڈ کا گیارہ کروڑ لیا تھا میں نے۔بٹ آپ تو جانتے ہیں ہر سال میں معاوضہ بڑھا دیتا ہوں اس سال سیزن گیارہ کیلئے میں نے معاوضہ پہلے سے زیادہ کر دیا ہے۔۔۔

کوٹ پہنا جا چکا تھا۔اب وہ سائیڈ ٹیبل پر پڑا اپنا موبائل اور واچ اٹھا رہا تھا”

کتنا کہا تم نے۔۔۔؟اور وہ مان گئے۔۔سکندر خان نے چونک کر پوچھا”

ایک ایپیسوڈ کا تیرہ کروڑ۔۔۔جی مان گئے اور کیوں نا مانتے ان کا شو اتنا مقبول تو میری وجہ سے ہی ہے۔وہ رعونت بھرے لہجے میں بولا

یعنی بھائی تین منتھ میں صرف چھبیس دن ٹی وی سکرین پر چند گھنٹوں کیلئے دکھائی دینے کے بدلے چار ارب سے زائد کمائی کریں گے۔۔۔۔۔۔واؤ امیزنگ

اندر داخل ہوتے عبیر نے اونچی آواز میں حساب کتاب لگایا۔

نہیں چار ارب سے کافی زیادہ اوپر۔۔۔کیونکہ چار ارب سے کچھ اوپر تو میں نے پچھلے سیزن میں کمایا تھا جب میں نے ایک ایپیسوڈ کے گیارہ کروڑ لئیے تھے۔۔

ماحر نے مسکرا کر اسکی کوریکشن کی۔۔۔

او۔۔۔رائٹ۔۔۔۔عبیر نے اپنے سر پر ہاتھ مارا۔۔۔سکندر خان انکی بات سنتے باہر نکل گئے۔۔

بھائی ویسے اتنا تو آپ سال بھر میں اپنی فلموں سے نہیں کماتے جتنا شوز سے کماتے ہیں۔بلکہ آپکی کمائی تو کئی فلمی اداکاروں کی سال بھر کی مجموعی کمائی سے بھی زیادہ ہے۔۔ایک بات کہوں برو۔۔۔ اتنا پیسہ تو ہے آپکے پاس کہ آپکی سات نسلیں بھی آرام سے بیٹھ کر کھائیں گی۔ لیکن ایک پرائیویٹ جیٹ کیوں نہیں لے لیتے۔۔۔؟؟ وہ آرام سے اسکے بیڈ پر دراز ہوتے ہوئے بولا”

تینوں بھائیوں میں اتنی فرینڈشپ تھی کہ وہ آرام سے ایک دوسرے کے روم میں جاتے۔بنا بتائے ایک دوسرے کی چیزیں استعمال کر لیتے۔۔مثلاً ایک بھائی کے پاس اگر پینٹ کوٹ ہے اور اسکی میچنگ ٹائی یا جوتے دوسرے کے پاس ہیں تو وہ بنا بتاۓ آرام سے دوسرے میں گھس کے وہ چیز لے لیتا۔۔کبھی کبھی ماحر کو غصہ بھی آ جاتا جب اسکی کوئی فیورٹ شرٹ ٹائی یا جوتے بنا بتائے عبیر یا زین میں سے کوئی لے لیتا۔لیکن وہ دونوں اسکے غصے کی پروا نہیں کرتے وقتی سوری کر کے اگلے دن پھر کوئی چیز اٹھا لیتے۔۔ایک بار تو ایسا بھی ہوا جب ماحر نئا نئا فلم انڈسٹری میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہا تھا تو ایک دن اسے کہیں آڈیشن دینے جانا تھا جسکے لئیے وہ اسپیشل ایک شرٹ خرید کر لایا تھا”۔۔۔۔شرٹ کو اچھی طرح پریس کر کے جب وہ نہانے گیا اور نہا کر تولیہ باندھے واش روم سے باہر آیا تو بیڈ پر رکھی شرٹ اور بیڈ کے ساتھ نیچے رکھے پالشڈ جوتے غائب تھے۔واویلا کرنے پر پتہ چلا کہ وہ شرٹ اور جوتے عبیر پہن کر اپنی کسی گرل فرینڈ کو ڈیٹ پر لے گیا ہے۔۔ماحر آڈیشن دینے نہیں گیا اور غصے کے مارے سارا دن تولیہ باندھ کر بیٹھا رہا جب تک عبیر نے واپس آ کر شرٹ اور جوتے واپس نہیں کیے۔اس بات پر ماحر کا بعد میں بہت عرصے تک گھر میں ریکارڈ بھی لگتا رہا تھا”

انشاء اللّٰہ ضرور لوں گا اور بہت جلد لوں گا۔۔

وہ مسکرایا۔

اور تم اٹھو اب نکلو میرے روم سے۔۔کس ارادے سے آئے ہو۔۔۔ کوئی میچنگ پینٹ شرٹ چرانی ہے یا جوتے ٹائی”ماحر نے اسے مشکوک نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا”تو وہ سر کھجانے لگا۔۔۔نہیں بھائی میں تو ایسے ہی آیا ہوں”شکل پہ جھوٹ واضح لکھا تھا۔ماحر خان جیسا تیز آدمی بھانپ نا پاتا ایسا ممکن تھا بھلا۔

تمہارا چہرہ بتا رہا ہے کہ تم کسی واردات کے ارادے سے آئے ہو شرم کرو اب تو شادی شدہ ہو ماحر نے اسے گھورا۔۔تو وہ کھسیا کر ہنس پڑا۔۔۔”

برو۔۔۔۔جوتوں کے ساتھ میچنگ کپڑے چاہیے تھے”

وہاٹ۔۔۔۔موبائل ہر میسیج چیک کرتا ماحر حیران ہو کر بولا”

میرا مطلب ہے پچھلی بار آپ میرے لئیے آسڑیلیا سے جو ریڈ کلر کے جوگر لائے تھے انکے ساتھ میچنگ شرٹ نہیں مل رہی مجھے اپنی وارڈ روب سے۔۔۔۔۔تو آپ کی وارڈ روب سے لوں۔۔۔۔؟؟وہ للچائی ہوئی نظروں سے اسکے روم کی ایک فل دیوار جتنی لمبی ریموٹ کنٹرول وارڈ روب کو دیکھتا معصوم لہجے میں پوچھ رہا تھا”

ایک تو لڑکیوں کی طرح میچنگ کا بڑا کریز ہے تمہیں لے لو پہلے کونسا مجھ سے پوچھ کر لیتے ہو۔۔۔۔ماحر آبرو اچکا کر اسے دیکھتا کہہ کر باہر نکلنے لگا۔۔جب اس نے پیچھے سے آواز لگائی۔۔۔برو الماری کا ریموٹ کہاں ہے”

ڈریسنگ ٹیبل پر۔۔۔۔ماحر جواب دیتا باہر نکل گیا”

“۔۔۔قطرہ قطرہ رات کے ساتھ وہ موم بن کر پگھلتی آنسوؤں سے تر چہرے کے ساتھ اسپتال کے سنسان کوریڈور میں جائے نماز بچھائے اللّٰہ سے اپنے باپ کی زندگی کی بھیک مانگتی رہی۔رحمت بوا بھی ساری رات اسکے ساتھ ٹھنڈے فرش پر بیٹھی تسبیح ہڑھتی رہیں۔۔۔۔۔البتہ مون کے گھر پر اکیلا ہونے کی وجہ سے ملازمہ امینہ گھر چلی گئی تھی۔بہت بوجھل رات تھی۔پل پل خوف کے سائے تلے گزری۔صبح کی نماز کے بعد جب وہ دعا مانگ کر اٹھی تو قریب رکھا فون بج اٹھا۔یہ ارتضیٰ حسن کا فون تھا جو فارس جاتے وقت عبدالرحمان صاحب کو دے گیا تھا حیات کیلئے۔وہ اس فون کو دیکھ کر بہت روئی تھی۔اپنا فون تو اس نے کال ریکارڈنگز کے واقعے کے بعد یوز ہی نہیں کیا تھا کیونکہ اس کو وہم ہو گیا تھا کہ کہیں اس کا موبائل ہیک نا ہو چکا ہو۔۔۔۔فون وہی تھا اسکے اندر سم بھی وہی تھی بس استعمال کرنے والا بدل گیا تھا۔۔۔

ہیلو۔۔۔اس نے کال ریسیو کی دوسری طرف ظفر کاظمی تھے۔کل جب حیات نے اپنے بابا کا پوچھنے کیلئے انہیں فون کیا تھا تو وہ فکر میں مبتلا ہو گئے تھے اور پھر کچھ دیر بعد وہ عبدالرحمان صاحب کے گھر چلے آئے تھے جب چوکیدار سے انکے ایکسیڈنٹ کی خبر ملی تھی تو بھاگم بھاگا اسپتال پہنچے تھے اور پھر رات گئے تک یہیں رکے رہے تھے۔صبح ہونے سے دیڑھ گھنٹہ پہلے وہ اپنے گھر چلے گئے تھے اور اب فون کر رہے تھے”

انکل بابا کو اب تک ہوش نہیں آیا۔۔ اگر انہیں کچھ ہو گیا تو”اس سے آگے وہ بول نہیں پائی اور سسک پڑی۔

بیٹا میں تمہاری کیفیت سمجھتا ہوں۔مجھے اندازہ ہے کہ تم ایک بہادر لڑکی ہو بالکل اپنے باپ کی طرح۔سو اسطرح رونے یا مایوس ہونے سے کچھ نہیں ہوگا۔تمہیں چاہیے بہادری سے حالات کو فیس کرو۔۔۔۔اللّٰہ پر یقین رکھو اور میرے دوست کی صحتیابی کیلئے صرف دعا کرو۔۔۔۔۔انہوں نے پر شفقت انداز میں اسے سمجھایا۔

بالکل گھبرانا نہیں میں بس تھوڑی دیر میں پہنچ رہا ہوں انہوں نے تسلی دی۔

بوا آپ کچھ دیر کیلئے گھر چلی جائیں۔مون کو دیکھ آئیں وہ امینہ سے ہینڈل نہیں ہوا ہوگا۔۔۔۔آپ پلیز اسے دیکھ آئیں۔۔۔۔فون بند کرتے ہی اسے مون کا خیال آیا تو ساتھ بیٹھی بوا سے مخاطب ہوئی۔۔

لیکن بیٹا تمہیں یہاں اکیلا کیسے چھوڑ دوں۔۔۔۔بوا نے ہچکچا کر کہا۔

میری فکر مت کریں بوا۔۔۔تھوڑی دیر میں کاظمی انکل آنے والے ہیں۔اور جس روم میں بابا ہیں۔۔۔۔میں اسکے سامنے والے کوریڈور میں ہی بیٹھی رہوں گی۔آپ بس جلدی سے جا کر مون کو دیکھ آئیں۔میرا دل پریشان ہو رہا ہے۔۔۔۔”

ٹھیک ہے بیٹا میں جاتی ہوں لیکن اتنی صبح کو ٹیکسی کہاں سے ملے گی۔۔۔۔

اسکی آپ فکر نا کریں چوکیدار کو میں نے میسیج کر دیا ہے۔اسے گاڑی چلانا آتی ہے۔۔ساتھ والوں کے چوکیدار کو خیال رکھنے کا کہہ کر وہ تھوڑی دیر میں آ رہا ہے”

حیات نے تسلی دی۔دس منٹ بعد چوکیدار سرور گاڑی لے کر وہاں پہنچ چکا تھا۔

حیات بیٹا۔۔۔ تم اپنا خیال رکھنا اور ادھر ادھر جانا مت۔۔۔۔بوا جاتے وقت اسے ہدایت کر رہی تھیں۔وہ اسے یوں اکیلا چھوڑ کر جانے پر ڈر رہی تھیں۔مگر مجبوری تھی۔۔۔

سرد کوریڈور میں بینچ بیٹھی وہ ڈاکٹرز کے فیصلے

کی منتظر تھا۔رو رو کر اور دعا مانگ مانگ کر اب تو آنکھیں اور حلق دونوں خشک ہو چکے تھے”اضطراری انداز میں ہاتھوں کی انگلیاں مروڑتی وہ بے چینی سے لب کاٹ رہی تھی” سرخ سوجی ہوئی آنکھیں اس طرف لگی ہوئی تھیں جہاں سے ڈاکٹرز اور نرسز آ جا رہے تھے”

تم بہت بہادر بچی ہو ہمت کرو۔۔۔پندرہ منٹ بعد کاظمی انکل اسکے ساتھ بیٹھے اس کا شانہ تھپکتے ہوئے کہہ رہے تھے۔حیات کی خشک آنکھوں سے ایک مرتبہ پھر آنسوؤں کی جھری لگ گئی تھی۔۔۔۔رات سے وہ اتنا رو چکی تھی کہ اسے لگ رہا تھا شائد آنسو ختم ہو گئے ہیں۔مگر پھر سے نکلتے سیلاب نے بتا دیا دریا اتنی آسانی سے نہیں سوکھتے۔

انکل میں بہادر نہیں ہوں۔بالکل بہادر نہیں ہوں جب بچپن میں بھی مجھے ڈر لگتا تھا تو میں بابا سے نہیں کہتی تھی۔۔۔۔۔۔۔اس لئیے کہ میں انہیں پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔۔یہ بتانا نہیں چاہتی تھی کہ انکی بیٹی کمزور ہے۔۔۔مگر اس نا جتانے کے ضمن میں میں راتوں کو سو بھی نہیں پاتی تھی۔کوئی ان دیکھا ڈر مجھے ستاتا تھا۔۔مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔۔۔۔بابا سے بچھڑنے کا خیال بار بار میرے ذہن میں آ رہا ہے۔۔۔میں ایسا نہیں سوچنا چاہتی مگر میں اپنے اس خیال سے چھٹکارا بھی نہیں حاصل کر پا رہی۔۔وہ ہچکیوں کے ساتھ رو رہی تھی۔ظفر کاظمی نے کسی باپ کی طرح اسکے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا”

ایسی کیفیت میں روتے نہیں بیٹا صرف دعا کرتے ہیں۔

انہوں نے ہمت بندھانے کی کوشش کی۔

اسی وقت ایک نرس نے وہاں آ کر کہا کہ پیشنٹ کے ورثا کو ڈاکٹر بلا رہے ہیں۔۔۔ظفر کاظمی نے اسے وہیں بیٹھے رہنے کا اشارہ کیا اور خود ڈاکٹر سے ملنے کیلئے چلے گئے۔حیات خاموشی سے آنسو بہاتے بیٹھی رہی۔وہ خود بھی ڈاکٹر کے پاس نہیں جانا چاہتی تھی۔ کیونکہ کسی نا امیدی والی یا بری خبر سننے کا حوصلہ نہیں تھا اس میں۔۔

بیٹا دعا کرو۔۔۔ڈاکٹرز نے آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا ہے میں نے سائن کر دے ہیں۔۔۔ظفر کاظمی نے بجھے ہوئے انداز میں وہاں آ کر کہا۔حیات کی سانس ایک لمحے کو تھم گئی وہ خوفزدہ نظروں سے انہیں دیکھنے لگی”

گھبراؤ مت سب ٹھیک ہو جائے گا۔مزید بلڈ کی ضرورت ہے میں ارینج کر کے آتا۔۔وہ اسے تسلی دیتے باہر نکل گئے۔۔حیات گھبرا کر درود پاک پڑھنے لگی۔

جب آپریشن سٹارٹ ہوا تو وہ رو رو کر اللّٰہ سے دعائیں مانگتی رہی۔مگر اللّٰہ کو شائد ابھی اسے مزید آزمائش میں ڈالنا مقصود تھا۔۔۔آپریشن تو کامیاب ہوا جان بچ گئی لیکن ہوش میں آنے کے بجائے وہ کومہ میں چلے گئے۔۔یہ خبر اس پر بجلی بن کر گری۔وہ بلک بلک کر رو دی۔۔

اتنی خوبصورت لڑکی کو مار کر میں نے اپنا نقصان نہیں کرنا لیکن ہاں تمہاری کسی اپنے کی گارنٹی نہیں”

روتے روتے ایک خیال سا کوندا تھا ذہن میں۔۔۔

کہیں یہ اسی شخص کا کیا دھرا تو نہیں۔۔۔۔

وہ آفس آیا تھا بابا سے ملنے اسکے بعد ہی تو وہ پریشانی کی حالت میں آفس سے نکلے تھے۔اور ان ایکسیڈنٹ ہو گیا۔۔۔۔بلکہ کروایا گیا۔۔۔۔۔اور کس نے کروایا ہوگا۔۔۔۔۔وہ بخوبی جانتی تھی۔۔اسی نے تو دھمکی دی تھی کسی قریبی رشتے کی جان لینے کی”

ارتضیٰ کو مارنے کے بعد اب بابا کو بھی۔اس خیال نے اسکے رگ و پے میں اشتعال بھر دیا”

انکل۔۔۔۔انکل وہ بھاگتی ہوئی ڈاکٹر سے بات کرتے ظفر کاظمی کے پاس آئی۔۔۔

کیا ہوا بیٹا۔۔۔۔وہ ڈاکٹر سے معذرت کرتے اسے ایک سائیڈ پر لے آئے۔۔۔

انکل میں جانتی ہوں بابا کا ایکسیڈنٹ کس نے کروایا ہے کس نے انکی جان لینے کی کوشش کی ہے۔۔۔وہ سرخ چہرے اور ڈبڈبائی آنکھوں کے ساتھ غصے سے بولی

کس نے۔۔۔۔؟؟وہ حیران ہو کر بولے

اس ذلیل گھٹیا فلمی ایکٹر ماحر خان نے۔۔۔وہ دانت پیس کر بولی”

ارے نہیں بیٹا یہ صرف ایک حادثہ تھا جس میں ٹرک ڈرائیور سے زیادہ غلطی تمہارے بابا کی تھی۔آس پاس کے کچھ لوگوں نے دیکھا تھا”کوئی باقاعدہ پلان نہیں لگتا تم غلط مت سوچو۔۔۔انہوں نے اسکی بات کی نفی کر دی”

ارے نہیں انکل آپ نہیں جانتے اس گھٹیا آدمی نے ہمیں دھمکی دی تھی۔کل آفس میں بابا سے ملنے وہی آیا تھا اسکے بعد بابا کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔۔وہ آنکھیں رگڑتی اپنی بات پر زور دے کر بولی۔

ظفر کاظمی نے تاسف سے اسے دیکھا”

دیکھو بیٹا تم میری بیٹی جیسی ہو اول تو ایسا کچھ ہے نہیں جیسا تم سوچ رہی ہو۔۔دوم اگر ایسا کچھ ہوتا بھی تو میرا مشورہ ہوتا صبر کرو۔۔۔اس جیسے کسی اونچے آدمی سے مقابلہ کرنا تمہارے بس کی بات نہیں۔وہ سمجھاتے ہوئے بولے”

کیوں انکل اس نے پہلے ارتضیٰ کو مارا۔۔اب بابا کو مارنے کی کوشش کی۔۔میں جاؤں گی۔۔۔۔۔میڈیا میں پولیس کے پاس۔۔سزا دلواؤں گی اسے۔۔وہ ضدی انداز میں بولی۔۔آپ میری ہیلپ کریں گے نا۔۔۔۔؟؟امید سے انکی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا”

ظفر کاظمی کچھ دیر اسکی آنکھوں میں جلتے شعلوں انتقام کی آگ اور ماحر خان کو تباہ برباد کر دینے کے مضبوط اور خوفناک ارادوں کو جانچتے رہے پھر گہری سانس بھر کر بولے۔۔۔۔۔بیٹی مانتا ہوں تمہیں اس لئیے سمجھانا میرا فرض تھا اگر نہیں سمجھو گی تو نقصان اٹھاؤ گی اور شائد تب میں بھی تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکوں گا۔۔۔اپنی بات کہہ کر وہ رکے نہیں تھے۔

حیات کچھ دیر انہیں جاتا دیکھتی رہی۔۔پھر انکی نصیحتوں کو دماغ سے جھٹک کر دل میں پختہ مضبوط ارادہ باندھتی وہ کسی بپھری ہوئی سرکش لہر کی مانند اسپتال سے نکلی۔۔۔۔ٹیکسی میں بیٹھ کر گھر آئی۔اپنے کمرے میں پہنچ کر جھٹکے سے سائیڈ ٹیبل کا دراز کھولا۔۔۔۔سامنے ہی نیوز چینل والی ثوبیہ انجم کا کارڈ پڑا تھا اس نے فوراً اٹھا لیا۔۔۔اگلے ہی پل وہ اسے فون ملا رہی تھی وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ ٹھیک کر رہی تھی یا غلط لیکن وہ ظلم کے خلاف خاموش رہنے والی نہیں تھی۔لیکن وہ جو قدم اٹھانے جا رہی تھی وہ حطرناک بھی ثابت ہو سکتا تھا۔لیکن اس بار وہ ماحر خان کو معاف کرنے والی نہیں تھی۔

اب اس لڑائی میں اگر وہ ہار جاتی تو اسکے دل میں کم سے کم یہ گلٹ تو نہیں ہوتا کہ وہ ظالم کے ظلم پر چپ رہی تھی۔

دیکھیں بی بی میں آپ سے کتنی بار کہہ چکا ہوں کہ بنا ثبوت کے ہم اتنے بڑے آدمی کے خلاف ایف آئی آر نہیں کاٹ سکتے پھر بھی آپ کو یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی۔۔۔بڑی توند اور لمبی مونچھوں والے تھانیدار نے سامنے بیٹھی برقع میں ملبوس عورت سے یہ بات کوئی چھٹی مرتبہ کہی اور اب کی بار تو وہ خاصا زچ ہو کر بے حد تلخ لہجے میں بولا تھا”

اچھا اس ملک کا قانون صرف امیروں کیلئے ہے بنا کسی ظاہری ثبوت کے بنا انکے خلاف ایکشن نہیں لے سکتا۔جبکہ کسی غریب کے خلاف رپورٹ لکھوانی ہو تب تو آپ بنا کوئی ثبوت مانگے کمپلین لکھ دیتے ہیں۔چہرے پر نقاب ڈالے فل برقعے میں ملبوس خاتون کافی غصیلی آواز میں بولی تو تھانیدار جز بز ہو کے ساتھ کھڑے کانسٹیبل کی طرف دیکھنے لگا گویا پوچھ رہا ہو کیا کروں اب اس کا۔۔۔”

کانسٹیبل کچھ زیادہ ہی عقلمند تھا فوراً سے اپنے پیلے دانتوں کی نمائش کرتے بولا۔۔ارے میڈم کیوں ضد کرتی ہو سر ٹھیک کہہ رہے ہیں اتنے بڑے آدمی کے خلاف بنا ثبوت کے وہ کوئی کمپلین نہیں لکھ سکتے۔اگر لکھ بھی سکتے ہوتے تب بھی نا لکھتے کیونکہ سر تو خود بہت بڑے فین ہیں ماحر خان کے ابھی تھانے آنے سے پہلے انکی فلم مرڈر بھی دیکھ کر آ رہے ہیں اور آج کل باڈی بھی ان جیسی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔کیوں سر جی۔۔۔۔؟؟

چہک کر بتاتے ہوئے اس نے تھانیدار صاحب سے بھی تصدیق چاہی۔جو کہ کھا جانے والی نظروں سے اسے گھور رہے تھے۔

اوئے بکواس بند کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اپنی خفت مٹانے کو کانسٹیبل پر برس پڑا”

سس سوری سر۔۔۔۔کانسٹیبل گڑ بڑا گیا۔۔۔اپنی طرف سے تو اس نے عقلمدانہ بات کی تھی۔لیکن تھانیدار صاحب کو پسند نہیں آئی تھی۔

دیکھو بی بی بات اصل میں ایک یہ بھی ہے کہ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اور مجھے اپنی نوکری بے حد عزیز ہے۔۔۔آپ کے کہنے پر میں بنا کسی ثبوت کےماحر خان کے خلاف پرچہ کاٹ بھی دوں تو یہ بات صرف پولیس ڈیپارٹمنٹ تک نہیں رہنی باہر لازمی نکلنی ہے اور وہ اتنا بڑا آدمی ہے لازمی میڈیا میں کھلبلی مچ جائے گی اور میرے لئیے بہت مشکل ہو جائے گی۔۔وہ کوئی معمولی آدمی نہیں ہے بڑے بڑے سیاستدان کے ساتھ اسکے تعلقات ہیں میری نوکری چلی جائے گی آپ سمجھتی کیوں نہیں۔مہربانی کر کے کسی اور تھانے چلی جائیں یا پھر کوئی پکا ثبوت لائیں۔۔اب کی بار اتھانیدار نے تفصیل بتا کر تحمل سے سمجھانے کی کوشش کی”

برقع پوش خاتون پر اس سمجھانے کا الٹا اثر ہوا۔۔۔۔وہ بپھر اٹھی۔ہاتھ بڑھا کر ایک جھٹکے سے اپنا نقاب ہٹایا اور شدید غصے سے بولی۔۔۔

کیسے قانون کے رکھوالے ہیں آپ لوگ۔اپنی نوکری کی پڑی ہے۔۔۔۔۔غریب کی مشکل اسکی بے بسی کا کوئی احساس نہیں۔چاہے وہ مرتا مر جائے آپ نے بس اپنی نوکری بچانی ہے۔میں کہہ رہی ہوں نا کہ اس شخص نے پہلے میرے شوہر کو مارا اور اب میرے فادر کا ایکسیڈنٹ کروایا جسکی وجہ سے وہ کوما میں چلے گئے۔۔اگر آپ میری کمپلین نہیں لکھو گے اسکے خلاف ایکشن نہیں لو گے تو میں آپ لوگوں کے خلاف بھی میڈیا میں جاؤں گی۔وہ شدید غصے میں انگلی اٹھائے وارننگ دے رہی تھی۔

پے درپے ہونے والے حادثات نے اسکو توڑا تو تھا لیکن ایک اثر یہ بھی ہوا تھا کہ وہ نڈر ہو گئی تھی۔ماحر خان سے متعلق نفرت اور غصے نے اسکو شعلہ بنا دیا تھا۔جو انجام کی پروا کیے بنا بس ہر حال میں اسے جلا کر راکھ کر دینا چاہتا تھا۔

سامنے بیٹھے تھانیدار کا دھیان نا تو اسکے غیض وغضب والے انداز پر گیا اور نا الفاظ پر۔۔۔۔۔وہ تو نقاب کے پیچھے سے اس کا نمودار ہونے والا چاند سا چہرہ دیکھ کر مبہوت تھا۔

ساتھ کھڑے کانسٹیبل کا بھی کم و بیش یہی حال تھا”

دونوں خباثت بھری نگاہوں سے اسے تکے جا رہے تھے”

وہ غصے سے اٹھی چہرے پر نقاب ڈالا اور پلٹ کر نکلنے لگی تھی کہ تھانیدار کی موٹی بھدی آواز اسکی سماعتوں سے ٹکرائی۔

ارے بی بی رکو رکو۔۔۔۔میں رپورٹ لکھ دیتا ہوں۔آپ نے میرا ضمیر جگا دیا۔مجھے اب اپنی نوکری کی کوئی پروا نہیں پولیس آپ کا پورا پورا ساتھ دے گی۔۔لہجے میں مٹھاس ہی مٹھاس تھی۔کچھ دیر پہلے والی تلخی کا نام و نشان تک نہیں تھا۔۔

حیات تو اس کایا پلٹ پر حیران رہ گئی۔کچھ دیر بعد وہ امید لئیے کمپلین لکھوا رہی تھی۔۔بار بار مونچھوں کو تاؤ دیتا تھانیدار رپورٹ لکھتے اسے تسلیاں بھی دے رہا تھا”

ساتھ کھڑا کانسٹیبل معنی خیز انداز میں مسکرا رہا تھا۔حیات کا دھیان اس پر نہیں گیا تھا وہ تو تھانیدار کے کہنے پر اسے اپنا فون نمبر اور ایڈریس نوٹ کروا رہی تھی۔

ایوارڈ شو کی میزبانی کے بعد وہ سیدھا اپنی فلمسٹار دوست ماہی بلوچ کی برتھڈے پارٹی میں آیا۔۔۔۔اگرچہ کسی زمانے میں ماہی سے اس کا افیئر رہا تھا۔۔۔۔مگر کچھ عرصے بعد بریک اپ ہو گیا تھا۔کیونکہ کسی کے ساتھ سیریس تو ہوتا نہیں تھا۔اسلئیے ماہی نے ایک بزنس مین کو شادی کیلئے چن لیا تھا اور پھر اپنی شادی میں ماحر کو انوائیٹ کر کے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کیا تھا جسکے بعد انکے درمیان پھر سے اچھی دوستی استوار ہو گئی تھی۔۔۔۔۔اگرچہ شادی کر کے وہ بیرون ملک جا بسی تھی مگر جب بھی آتی اپنے ہزبینڈ کے ساتھ ماحر سے ملتی ضرور تھی۔ہوٹل کا وسیع ہال بےشمار مرکری لائٹوں اور فانوسوں سے دن کی طرح جگمگا رہا تھا۔ہاٹ ہیٹرز کی وجہ سے ہال نیم گرم ہو رہا تھا۔جگمگاتے جھلملاتے خوشبوؤں سے مہکتے نیم عریاں ملبوسات کی گویا بہار آئی ہوئی تھی۔برتھڈے پارٹی میں لوگوں کی اتنی بڑی تعداد دیکھ کر شادی کا گمان ہو رہا تھا۔سرخ دبیز کارپٹ پر چئیرز ٹیبلز دائروں کی صورت میں رکھے ہوئے تھے۔دھیمی دھیمی آرکسٹرا میوزک کی آواز ماحول کو رومینٹک بنا رہی تھی۔سب سے آگے رکھے بڑے سے ٹیبل پر درمیان میں کیک رکھا ہوا تھا۔ارد گرد تحفوں کے انبار لگے ہوئے تھے۔۔”ہال کے دروازے پر ہی ماہی اپنے ہزبینڈ کے ساتھ کھڑی مہمانوں کو ویلکم کہہ رہی تھی۔۔وہ اور اس کا شوہر ماحر سے بڑی خوشدلی سے ملے۔۔سب مہمانوں میں اسپیشل پروٹوکول اسے دیا جا رہا تھا۔۔وہ ماہی اور اسکے ہزبینڈ سے باتیں کر ہی رہا تھا۔جب اسکی نظر علی کاظمی پر پڑی جو اسے اشارے سے اپنی طرف بلا رہا تھا۔چہرے پر گھبیر پریشانی آمیز تاثرات تھے۔