171.9K
78

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Hayat (Episode 64) Last Episode (Part - 4)

Meri Hayat By Zarish Hussain

“لیونگ روم میں بیٹھے تینوں نفوس کی نگاہیں اسکی

طرف بیک وقت اٹھی تھیں۔۔۔فارس اور فضا کی نظروں میں اسے دیکھ کر جہاں خوشگوار تاثر ابھرا وہاں بیٹھا تیسرا وجود اسے شدید حیرت سے تک رہا تھا۔وہ جیسے خواب کی کیفیت میں گھری متحیر۔۔۔۔۔ہنوز غیر یقین۔۔۔ساکت و سامت کھڑی تھی۔حیرت غیر یقینی اور تعجب نے اسکے اعصاب کو سکتہ زدہ کر ڈالا تھا۔۔۔ابھی تو یہ گھتی ہی نہیں سلجھ سکی تھی کہ، ارتضیٰ حسن کی کاربن کاپی یہ شخص آخر تھا کون۔۔۔؟؟ دوپہر کو یونی

سے واپس آنے کے بعد اب تک وہ اسی ذہنی کشمکش و

الجھن میں مبتلا اپنے شدید تھکے اعصاب کو سنبھالے یہاں آئی تھی کہ فضا بھابھی سے شئیر کر کے اپنی اس

ذہنی خلفشار سے نجات حاصل کرے گی مگر وہ شخص

تو پہلے سے یہاں براجمان،، اسے مزید حیران و پریشان کر گیا تھا۔یقین سے عاری ساکت نظریں لئیے فق چہرے کیساتھ وہ کسی مجسمے کیطرح کھڑی تھی۔۔اسکے اس

منجمد انداز نے سب کو ٹھٹھکایا۔۔۔صبح کلاس میں اگر اس شخص کی نگاہیں بے تاثر تھیں۔۔تو اسوقت ان میں تاثر تھا۔اچنبھے کا۔۔حیرانی کا۔۔کوئی انوکھی چمک تھی

اسکی آنکھوں میں۔یقیناً پہچان کے مراحل طے ہو چکے تھے۔وہ شخص بڑے غور سے اسے دیکھ رہا تھا۔وہ اسی پوزیشن میں ہنوز جمی ہوئی تھی۔۔ جب اس کے چہرے کے حیران و پریشان تاثرات بھانپتے ہوئے سب سے پہلے فارس اٹھ کر اسکی طرف بڑھا۔۔۔ ارے گڑیا تم رک کیوں

گئی آؤ نا۔۔۔۔ فارس کی آواز پر ہوش میں آتے وہ سرعت سے پلٹی اور ماؤف ہوتے دماغ کے ساتھ تیز قدموں سے لیونگ روم کے دائیں طرف بنے دروازے سے گزر کر اپنے روم میں بھاگ آئی۔اس بات پر دھیان دیے بنا کہ پیچھے فارس بھائی فضا بھابھی اور خاص طور پر اس شخص نے کیا سوچا ہوگا۔۔۔اسکی سانسیں یوں تیز تیز چل رہی تھیں گویا بہت لمبی مسافت طے کر کے آئی ہو وہ دھپ سے بیڈ پر گرنے کے انداز میں بیٹھ گئی اور ایک ہاتھ سینے پر رکھتے ہوئے گہرے گہرے سانس لینے لگی۔۔۔۔اسکی صبیح پیشانی پسینے کے ننھے منے قطروں سے جگمگا رہی تھی۔۔۔ایک تو دوپہر سے طبیعت کی خرابی

اوپر سے جو وجہ ٹینشن تھی اسے ایک بار پھر سامنے دیکھ کر وہ عجیب سی کیفیت میں مبتلا ہو رہی تھی۔

حیا کیا ہوا۔تم ٹھیک تو ہو۔۔۔چند لمحوں بعد فضا کمرے میں داخل ہوئی۔۔اس کی آنکھوں میں حراس ٹھہرا ہوا تھا۔۔چہرے پر فکر مندی کے تاثرات تھے تشویش بھرے

انداز میں کہتی اور دیکھتی وہ اسکے قریب آئی۔۔۔

بھابھی وہ۔۔۔وہ جو اندر ہے۔۔۔وہ کون ہے اور یہاں کیسے آیا اور وہ تو۔۔۔ارتضیٰ جیسا۔” اسکی آواز میں کپکپاہٹ تھی۔۔۔۔ اضطراب کے عالم میں کھڑے ہوتے ہوئے ایک ہی

سانس میں کچھ فکرمندی و وحشت سے کئی سوال کر ڈالے کہ مبادا ارتضیٰ حسن زندہ ہو کر واپس تو نہیں آ گیا۔۔۔

“تم اسکو دیکھ کر حیران ہو گئی ہو۔لگتا ہے نا وہ بالکل حسن جیسا۔۔فضا اسکی بات کاٹ کر بھیگی آنکھوں کے ساتھ مسکرائی پھر اسکا ہاتھ تھام کر بیڈ پر بیٹھ گئی۔حیات کی پریشان سوالیہ نگاہیں اس پر جمی تھیں۔۔

“وہ آریز حسن ہے۔۔۔۔۔بابا کی پہلی اور خاندانی بیوی کا بیٹا۔یعنی حسن اور میرا سوتیلا بھائی۔۔۔۔

اوہو۔۔۔ایک گہری سانس اسکے منہ سے بے اختیار خارج

ہوئی۔اتنا تو اسے یقین تھا کہ وہ کوئی بھی ہو سکتا ہے

مگر ارتضیٰ حسن نہیں۔بھلا مرے ہوئے قیامت سے پہلے

زندہ ہو سکتے ہیں۔۔۔۔ مگر بھابھی یہ یہاں کیسے اور یہ تو ہماری یونیورسٹی میں بھی۔۔۔اسکی سانسیں اعتدال

پر آ چکی تھیں۔۔اب لہجے میں صرف اور صرف حیرانی تھی۔۔۔ہاں جانتی ہوں یہ تمہاری یونی میں پروفیسر ہے

حال ہی میں آیا ہے امریکہ سے پڑھ کر۔تمہاری یونی گیا

وہیں سے حسن کے بارے میں انفارمیشن لی اور اس کا ایڈریس نکالا۔۔

کب آیا یہ؟؟ اور اسکو پتہ کیسے چلا ارتضیٰ اور آپ کے بارے میں۔؟؟ اب اسکی حیرت میں الجھن بھی شامل ہو چکی تھی۔۔۔۔

آدھا گھنٹہ ہو گیا اسے آئے ہوئے اور کہہ رہا تھا کہ کچھ عرصہ پہلے ہی اسکو ہمارے بارے میں پتہ چلا۔۔۔ حسن کی ڈیتھ کا بھی اسے یونیورسٹی سے ہی معلوم ہوا۔۔۔۔

ناچاہتے ہوئے بھی فضا کی آنکھیں چھلک پڑیں۔۔کہہ رہا

تھا ایک بھائی نہیں ہے تو کیا ہوا دوسرا تو ہے نا۔اب آیا کرے گا مجھ سے ملنے۔اللّٰہ نے میری سن لی حیا۔ارتضیٰ

جب گیا تھا چھوڑ کر تو بہت روئی تھی میں۔۔۔ بہت ہی شکوہ کیا تھا اللّٰہ سے کہ ایک بھائی تھا میرا وہ بھی لے لیا۔۔۔اب دیکھو اللّٰہ نےارتضیٰ کی ہی شکل میں ایک اور بھائی دے دیا۔۔تواتر سے گالوں پر بہتے ہوئے آنسوؤں کو پونچھتے ہوئے وہ مسکرائی۔۔۔۔حیات اسے خاموشی سے دیکھتی رہی۔۔۔ وہ شخص یعنی آریز حسن فضا کے لئیے بھائی تو ہو سکتا تھا مگر اس کیلئے ارتضیٰ جیسا ہرگز نہیں ہو سکتا تھا۔اپنی احمقانہ سوچ پر اس نے خود کو سرزنش کی اسے ارتضیٰ حسن کا خیال دماغ میں نہیں لانا چاہیے۔۔۔اگر اسکا واپس آنا ممکن بھی ہوتا تو بھی بھلا وہ کیسے خوش ہو سکتی تھی اسکی خوشی غمی تو اب ماحر کے ساتھ جڑی ہوئی تھی جسکو وہ دل و جان سے قبول کر چکی تھی۔۔

کیا ہوا کہاں کھوئی ہو۔۔۔کیا سوچ رہی ہو۔۔۔۔؟؟ فضا نے اسکی بے دھیانی و خاموشی دیکھ کر استفسار کیا تو وہ اپنے خیال سے باہر آئی۔۔۔۔

کچھ نہیں بھابھی۔۔۔شاہزل کہاں ہے۔۔۔۔؟؟ اس نے سرد آہ بھر کر موضوع بدلا۔۔۔پہلے تو سو رہا تھا۔ابھی جب میں

تمہارے پاس یہاں آ رہی تھی تو جاگ گیا تھا ملازمہ لے

کر آئی تو آریز نے اپنے پاس بٹھا لیا اسے۔۔۔وہ بھی ایسے

چہک کر اس کی گود میں گیا جیسے پہلے سے عادی ہو اسکا،،خون کی کشش ہوتی ہے نا۔فضا مسکراتے ہوئے بتا رہی تھی ۔۔۔

حیات نے سر ہلایا۔۔۔

“ویسے بھابھی انکی اور ارتضیٰ کی شکل میں بہت ہی زیادہ مماثلت ہے۔فرسٹ ٹائم جب میں نے ائیر پورٹ پر انہیں دیکھا تھا تو میں چونک گئی تھی اور آج جب ان کو اپنی کلاس میں دیکھا تو میں سخت حیران رہ گئی

کیونکہ ایک تو ارتضیٰ جیسی شکل اوپر سے سبجیکٹ بھی وہی پڑھا رہے جو ارتضیٰ ہمیں پڑھاتے تھے اور آپ

یقین کریں اسکا پڑھانے کا طریقہ بھی سیم ارتضیٰ والا

ہے۔میں کتنی زیادہ شاکڈ تھی بتا نہیں سکتی ۔۔۔۔

وہ اپنی پریشانی کو حیرانی میں بدل کر بتا رہی تھی۔۔

ہاں بالکل حسن اور آریز دونوں کی شکل ایک جیسی ہے کیونکہ دونوں بابا پر گئے جب کچھ دیر پہلے یہ آیا۔

تو میں بھی شاکڈ ہو گئی تھی بلکہ ایک لمحے کیلئے

تو مجھے ایسے لگا تھا جیسے میرے سامنے حسن کھڑا ہو۔۔بولتے ہوئے فضا کا لہجہ بھرا گیا تھا۔۔۔آنکھیں پھر سے برسنے لگیں۔۔۔۔

آپ روتی کیوں ہیں بھابھی آپ کو تو خوش ہونا چاہیے کہ آپ کو ارتضیٰ کا ہمشکل ایک اور بھائی مل گیا اور” حیات مزید کچھ کہنے والی تھی جب اچانک ابکائی آنے پر منہ پر ہاتھ رکھے واش روم کی سمت لپکی۔بیسن پر جھکی وہ بے حال ہو رہی تھی۔فضا اسکی پیٹھ تھپکنے

لگی۔۔لمحوں میں ہی اسکی رنگت زرد پڑ گئی۔۔۔

تمہاری یہ حالت کب سے ہو رہی ہے حیا۔۔۔؟؟ اسے سہارا دے کر اندر لاتی فضا نے جانچتی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے استفسار کیا۔

پتہ نہیں بھابھی صبح سے دل بوجھل ہو رہا ہے۔۔۔ کئی مرتبہ وومیٹنگ بھی ہو چکی ہے۔۔۔وہ بے زار لہجے میں کہتے ہوئے بیڈ پر لیٹ گئی۔فضا پائنیتی پڑی چادر اٹھا کر اس پر پھیلانے لگی۔۔اس نے آنکھیں بند کر لیں۔۔

حیا گڑیا کیا ہوا ہے؟؟اسوقت فارس اندر آیا اور سرعت سے آگے بڑھ کر اسکے سر پر فکر مندی سے ہاتھ رکھا۔۔۔

کچھ نہیں بھائی میں ٹھیک ہوں۔۔وہ گڑبڑا سی گئی اور

فوراً اٹھ بیٹھی۔ بھلا یوں اچانک بھاگ آنے والی حرکت کا کیا جواز پیش کرتی۔۔۔۔

تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔۔وہ اسکا ماتھا چھوتے ہوئے تشویش بھرے لہجے میں پوچھ رہا تھا۔۔۔

جی بھائی میں ٹھیک ہوں۔وہ صرف اتنا ہی کہہ سکی۔۔۔

اس کے سر میں درد ہو رہا ہے فارس۔۔ آپ جا کر آریز کے پاس بیٹھیں۔۔۔۔ میں حیا کو سر درد کی میڈیسن دیتی ہوں۔فضا نے اسے شانوں سے تھام کر دوبارہ بیڈ پر لٹاتے ہوئے فارس کو وہاں سے جانے کو کہا۔۔۔

حیا سر میں زیادہ درد ہے تو ڈاکٹر کو کال کروں میں؟؟

وہ جاتے جاتے رک کر پوچھنے لگا۔۔۔ حیات سے پہلے فضا

بول اٹھی۔نہیں نہیں ڈاکٹر کی ضرورت نہیں۔۔۔ معمولی سا پین ہے آپ آریز کے پاس جا کر بیٹھیں نا۔ کیا سوچے گا اور شاہزل بھی وہیں بیٹھا ہے اسکو تنگ نا کر رہا ہو اس نے بہانے سے فارس کو وہاں سے بھیجنا چاہا۔۔کچھ کچھ معاملہ وہ سمجھ گئی تھی۔۔اب کسی لیڈی ڈاکٹر سے تصدیق کروانا باقی تھا۔ڈاکٹر کا فارس سے وہ نہیں کہہ سکتی تھی کیونکہ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ حیات ایک بہت ہی شرم وحیا والی لڑکی تھی جو ہرگز یہ پسند نا کرتی کہ اسکے بھائی کو یہ بات پتہ چلے۔۔

فضا اسے آرام کرنے کا کہہ کر روم سے چلی گئی۔اسکا

دماغ اور اعصاب چونکے بہت تھکے ہوئے تھے،، طبیعت بوجھل تھی،، تبھی کچھ دیر میں ہی اسے نیند نے آ لیا یہ بھی ذہن میں نا رہا کہ وہ اپنے آنے کا نا تو ماحر کو بتا کر آئی تھی اور نا ہی موبائل فون ساتھ لائی تھی۔تاہم اس کی نیند کا دورانیہ زیادہ طویل نہیں رہا تھا کچھ وقت کے بعد ہی اسکی آنکھ کھل گئی تھی۔۔

وہ کسلمندی سے اٹھ بیٹھی۔۔۔۔۔ وال کلاک میں دیکھا تو شام کے چھے بج رہے تھے جب وہ آئی تھی تو پانچ بجے تھے یعنی اسے آئے ایک گھنٹہ ہو چکا تھا۔۔۔۔۔ ماحر یقیناً ابھی تک گھر نہیں آیا ہوگا۔۔۔۔ مگر اس کے سیل فون پر کالز ضرور کی ہونگی اور سیل فون تو وہ روم میں ہی چھوڑ آئی تھی۔۔۔چلو پہلے نہا لیتی ہوں ہوں پھر انہیں فون کر کے اپنے یہاں آنے کا بتا دونگی۔۔وہ سوچتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ آج رات اس کا یہیں رکنے کا ارادہ تھا۔اس نے الماری کھول کر دیکھی کئی ڈریس موجود تھے جنہیں وہ وقتاً فوقتاً تب استعمال کرتی تھی جب یہاں رکنا ہوتا تھا۔۔۔شام کی مناسبت سے اس نے نیٹ کا ہلکے سبز کلر کا سوٹ منتخب کیا۔۔ہینگر اٹھا کر سوٹ نکالا۔۔اس سے قبل وہ واش روم کی طرف بڑھتی فضا آندھی طوفان کی طرح اندر داخل ہوئی۔۔۔

“چھوڑو یہ سب اور فلحال لیٹو یہاں۔۔۔۔ فضا نے اسکے ہاتھ سے پکڑ کر زبردستی اسے بیڈ پر دھکیلا۔۔یہیں پر

اکتفا نہیں کیا بلکہ زبردستی کمبل بھی اوڑھا دیا۔۔

کیا ہوا بھابھی۔۔۔؟؟وہ حیران ہوئی۔۔۔

سپرسٹار داماد جی آئے ہیں۔۔۔۔۔ میں نے انہیں کہا ہے کہ تمہاری طبیعت خراب ہے۔۔۔ اور اب تم فریش حلیے میں

ان سے ملو گی تو میرا امپریشن غلط پڑے گا نا کہ میں نے جھوٹ بولا۔۔۔اور سنو میں نے انہیں کہا ہے کہ تمہیں

کسی لیڈی ڈاکٹر کے پاس لے جائیں فارس سے میں نے

اسلئیے نہیں کہا لیڈی ڈاکٹر کا کیونکہ پھر تمہیں شرم

کیساتھ ساتھ مجھ پر غصہ آتا کہ تمہارے بھائی کو یہ

بات ابھی سے کیوں پتہ چل گئی۔۔۔۔عجلت بھرے انداز میں بولتے ہوئے وہ اس پر کمبل درست کر رہی تھی۔۔۔

کونسی بات۔۔۔۔؟؟وہ خاک سمجھتی بھلا۔۔۔الجھن بھرے انداز میں فضا کو دیکھا۔۔۔

یہی کہ وہ ماموں بننے والے ہیں۔۔فلحال تمہاری کنڈیشن

کو دیکھ کر میں نے اندازہ لگایا ہے کنفرم تو لیڈی ڈاکٹر سے چیک اپ کے بعد ہی ہوگا نا۔ابھی ماحر تمہیں ڈاکٹر

کے پاس لے جائے گا۔یہی خبر ہو تو مجھے جلدی فون کر

کے بتانا۔۔حیات پہلے تو اسکی بات نہیں سمجھی۔۔جب

سمجھی تو دہک کر رہ گئی۔۔۔۔ خفت و خجالت کے ساتھ

حیا کے مغلوب کر دینے والے احساس نے گھیر لیا۔۔

“وہ فضا کو ڈھنگ سے اسے گھور بھی نا سکی اسی پل دستک دے کر ماحر اندر داخل ہوا۔۔۔۔۔ بلیک پینٹ کوٹ میں ملبوس پرکشش وجہیہ چہرے،،کا حامل اپنی دراز قامت کے ساتھ وہ بےحد شاندار لگ رہا تھا۔۔نگاہوں سے پریشانی چھلک رہی تھی حیا پر نظر پڑتے ہی وہ جس بے چینی و بے قراری سے اسکی طرف بڑھا۔۔حیات اسے بنا انفارم کیے یہاں چلے آنے پر شرمندہ ہو گئی تھی۔۔

کیا ہوا حیا تم ٹھیک تو ہو؟؟وہ فضا کی موجودگی نظر انداز کیے بڑی بے تکلفی سے اس کے دونوں ہاتھ تھام کر

بالکل ہی قریب بیٹھ گیا۔۔۔نظریں اور لہجہ تشویش سے پر تھا۔۔۔ وہ فضا کے سامنے اس بے تکلفی کے مظاہرے پر

جھینپ کر رہ گئی۔۔فضا مسکراتے ہوئے باہر نکل گئی۔۔۔۔

ماحر سوالیہ مگر بے چین نگاہوں سے اس کی طرف دیکھتا مکمل متوجہ تھا۔۔۔

“جی میں ٹھیک ہوں اب۔۔۔ وہ ایکچولی پہلے ذرا خراب تھی طبیعت تو۔۔۔مگر اب ٹھیک ہوں۔۔۔ وہ قدرے کنفیوژ ہو کر بولی۔فضا کی پیشگوئی اور ماحر کی نگاہیں اسے

شرم کے احساس سے دوچار کر رہی تھیں۔۔۔

کیا ہوا ہے تمہاری طبیعت کو۔۔۔؟ڈرائیور بتا رہا تھا یونی سے بھی تم آج جلدی آ گئی۔۔تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو تم مجھے بتاتی نا میں نے بہت کالز کیں تمہارے سیل پر۔۔بٹ تم مجھے بتانے کے بجائے یہاں چلی آئیں۔۔

وہ تو کسی کام سے میں نے ڈرائیور کو فون کیا تو اس نے بتایا تمہارے یہاں آنے کا۔۔۔ پھر یہاں فون کیا تو فضا بھابھی نے بتایا کہ طبیعت ٹھیک نہیں۔۔اگر وہ نا بتاتیں

تو تم نے مجھے بتانا ہی نہیں تھا نا یہاں آنے کا۔۔۔ اور نا اپنی طبیعت کا۔اس نے حتیٰ الوسیع اپنا لہجہ نرم رکھا

شکایت کا رنگ نہیں آنے دیا اسکے باوجود بھی حیات

شرمندہ ہو گئی۔۔۔

“آپ بیٹھیں میں چائے لاتی ہوں۔حیات کو کوئی جواب نا سوجھا تو تیزی سے اٹھتے ہوئے بولی۔۔۔جواباً ماحر نے ہاتھ سے پکڑ کر روکا اور دوبارہ سے اپنے قریب بٹھا دیا

نہیں سویٹ ہارٹ چائے کو چھوڑو۔ہم ڈاکٹر کے پاس جا رہے ہیں ابھی اوکے میری ٹینشن اسوقت تک ختم نہیں ہو گی،، جب تک ڈاکٹر سے کنسلٹ کر کے یہ کنفرم نہیں ہو جائے گا کہ تم بالکل ٹھیک ہو۔وہ کھڑا ہوتے ہوئے بولا

دن ڈھل چکا تھا۔۔۔سرمئی شام پھیل رہی تھی۔۔۔۔موسم بھی کچھ ابر آلود تھا۔۔۔دھیرے دھیرے چلتی ٹھنڈی ہوا

سیدھا دل میں اتر رہی تھی۔۔۔اورنج اور گولڈن کڑھائی والے ڈریس میں ملبوس شعاعیں بکھیرتے رنگ و روپ اور جکڑ لینے والی جاذبیت کے ہمراہ وہ بہت من موہنی لگ رہی تھی۔ خان پیلس کے وسیع وعریض لان کے ایک گوشے میں رکھی کین کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھی کچھ فاصلے پر موجود ماحر کو دیکھ رہی تھی۔۔فارمل ڈیزائنر پینٹ،، شرٹ میں ملبوس گھٹنوں کے بل گھاس پر بیٹھا،،، وہ نہایت حطرناک قسم کے جرمن شیفرڈ اور

ایک سرخ رنگ کے امریکی بل ڈاگ کو بڑے ہی پیار سے کھانا کھلا رہا تھا۔۔۔۔۔۔”لائٹ براؤن سلکی بال جو ہمیشہ سلیقے سے بنے ہوئے ہوتے تھے۔ اسوقت لاپروا انداز میں ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے۔اس عام سے حلیے میں بھی وہ خاصا اٹریکٹیو لگ رہا تھا۔حیات بے خیالی میں اسے تکے گئی۔۔۔

اب یہ اسکی نظروں کی حدت تھی یا پھر محبوب کی موجودگی کا خیال،،، ماحر نے سر گھما کر اسکی طرف دیکھا۔اس کے چہرے پر الوہی مسکان کا جھلملاتا عکس

اسے بے تحاشا حسین بنا رہا تھا۔۔نظریں چار ہونے پر وہ

نرمی سے مسکرایا جبکہ وہ قدرے خفت زدہ سی ہو کر نظریں چرا گئی۔۔دونوں حطرناک کتے اس کے گرد چپک کر بیٹھے اس کے ہاتھ سے یوں کھانا کھا رہے گویا بچے اپنے باپ کے پاس بیٹھ کر کھا رہے ہوں۔ان حطرناک اور خونخوار کتوں کو دیکھ کر حیات کو جھرجھری آنے کے

ساتھ ساتھ ازحد کراہیت کا احساس بھی ہوا۔اگرچہ ان

باڈی بلڈرز کتوں کیساتھ وہ کئی مرتبہ ماحر کو ٹہلتے

ہوئے دیکھ چکی تھی،،، مگر یہ کھانا کھلانے والا نظارہ وہ پہلی مرتبہ دیکھ رہی تھی۔دو ملازم ہاتھ میں پکڑے برتنوں میں کتوں کا کھانا لئیے ایسے مؤدب کھڑے تھے کہ گویا کتوں کو نہیں بلکہ صاحب کو سرو کرنا ہو جب کہ وہ کھانا کھلانے کیساتھ ساتھ ان سے باتیں بھی کر رہا تھا۔۔۔۔کتوں کے آگے رکھے باؤل میں کھانا کم ہو جاتا تو ملازم اسکے حکم پر باؤل میں مزید کھانا ڈال دیتے جو کہ ابلا ہوا میٹ ہی تھا۔۔۔حیات کو یہ منظر انتہائی ناگوار گزر رہا تھا۔۔۔اسے بچپن سے ہی کتوں سے ڈر لگنے کیساتھ ساتھ ان سے شدید گھن بھی آتی تھی، وہ بہت حیران ہو کر سوچا کرتی تھی کہ جتنے بھی بڑے بڑے (celebraties) ہوتے ہیں وہ آخر کتے پالنے کے شوقین

کیوں ہوتے ہیں؟؟وہ کئی بار ویڈیوز اور رئیل میں بھی دیکھ چکی تھی کہ کتے رکھنے والے دولتمند لوگ بڑی بے تکلفی سے کتوں بلیوں کو چوم چاٹ رہے ہوتے ہیں

اسطرح کے مناظر نے ہمیشہ اسے کراہیت میں مبتلا کیا آج پہلی مرتبہ وہ ماحر کو بھی اسطرح کی حرکت کرتا دیکھ کر گھن کھا رہی تھی۔۔۔۔ اسے افسوس ہونے لگا کہ وہ باہر آئی ہی کیوں ابھی کچھ دیر پہلے وہ روم میں لیٹی ہوئی تھی جب ماحر نے آ کر اسے زبردستی اٹھاتے ہوئے کہا۔۔۔۔ موسم بہت اچھا ہو رہا ہے سویٹ ہارٹ چلو لان میں چلتے ہیں۔۔وہ اسکا ہاتھ تھام کر باہر لے آیا تھا جب سے وہ پریگننٹ ہوئی تھی ماحر سمیت سب اسکا بے حد خیال رکھ رہے تھے۔۔ڈاکٹر نے جب گڈ نیوز سنائی تھی تو وہ بے تحاشا خوش ہوا تھا۔۔۔۔۔ نا صرف وہ بلکہ اسے سگی ماؤں کی طرح بے حد پیار کرنے والی فائزہ سکندر کو بھی ازحد مسرت ہوئی تھی۔گھر کے افراد کے ذریعے یہ خبر ملازمین اور پھر انکے ذریعے باہر نکلی تو میڈیا تک بھی پہنچ گئی پھر اسکے بعد اخبارسمیت ہر سوشل ویب سائٹس کی زینت بن گئی۔۔۔

” فلمسٹار ماحر خان کے گھر ہے ننھے مہمان کی آمد۔۔”

یہ خبر کتنے ہی دن سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی۔

پھر جب میڈیا والوں نے باہر کہیں ماحر خان کو گھیر کر اس خبر کی تصدیق چاہی تو اس نے مسکراتے ہوئے میڈیا کے سامنے اعتراف کیا یہ بالکل نیوز سچ ہے میری فیملی میں ایک نئے فرد کا اضافہ ہونے والا ہے اور اس کیلئے میں بہت زیادہ ایکسائیٹڈ ہوں۔۔۔۔

مگر جب حیات نے یہ خبر سوشل میڈیا پر گردش کرتی دیکھی اور ساتھ ہی ماحر کا بیان بھی سنا تو نا صرف شاکڈ ہوئی،، شرم کا غلبہ چھایا بلکہ ماحر پر بری طرح ناراض ہوئی کہ اس خبر کو میڈیا تک کیوں پہنچایا گیا اور اس نے میڈیا والوں کے سامنے اسکی تصدیق کیوں کی۔اسکا چہرہ غصے اور شرم سے سرخ ہو رہا تھا۔ماحر کو اسکے ایکسپریشنز مزا دے رہے تھے۔۔۔وہ اسکے غصے و حجاب کی ملی جلی اس کیفیت سے حظ اٹھا رہا تھا “مگر حیات جھنجھلاہٹ کا شکار تھی اس جیسی شرم وحیا رکھنے والی لڑکی کو نہایت ہی اکورڈ فیل ہو رہا تھا کہ”۔۔۔ اسکی پریگنینسی کی خبر پورے جہاں کو ہو گئی تھی۔۔۔۔وہ اپنا غصہ منہ پھلا کر اور اس سے بات نا کر کے دکھا رہی تھی۔۔۔۔۔ماحر نے اسکی شدید ناراضگی دیکھی تو نرمی سے سمجھاتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔

سویٹ ہارٹ پہلی بات تو یہ ہے یہ نیوز خود بخود لیک ہوئی ہے۔۔دوسرا، میں ایک سٹار ہوں میرے متعلق کوئی بھی خبر میڈیا والوں سے چھپی نہیں رہ سکتی”کیوں کہ میڈیا ہر وقت ہم شوبز سٹارز سے متعلق خبروں کی کھوج میں ہی لگا رہتا ہے۔۔۔یہ نیوز کس طرح میڈیا تک پہنچی یہ مجھے نہیں پتہ میں نے جسٹ ان کے سامنے تصدیق کی، کیونکہ بعد میں بھی تو انہیں پتہ چلنا ہی ہے پھر مکرنے کا کیا فائدہ۔۔ویسے بھی میں میڈیا والوں کو اپنی فیملی کیطرح سمجھتا ہوں۔۔۔۔ہماری فلموں کی پرموشن میں ان لوگوں کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے انہی کیوجہ سے ہی تو ہمیں اتنی فیم ملتی ہے۔۔۔۔۔ میں پاپا بننے والا ہوں اس خبر سے میں اتنا زیادہ خوش ہوں کہ بتا نہیں سکتا۔۔۔۔اگر اس خوشی میں”میں نے اپنی فیملی یعنی میڈیا والوں کو شامل کر لیا تو کیا ہو گیا۔۔۔”اور تم اس بات پر اتنی شرم کیوں فیل کر رہی ہو سویٹ ہارٹ,,,, اس کنڈیشن میں تمہاری کوئی فوٹو تو وائرل نہیں ہو گئی۔ وہ کہہ کر ہنس پڑا تھا حیات جھینپ کر رہ گئی

پھر تسلی دیتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔

تم مائنڈ مت کرو یار یہ تو عام سی بات ہے،آجکل ایسی کنڈیشن میں فیمیلز سٹارز تو اپنے پیٹ پکڑ پکڑ کر بڑے ہی فخر سے فوٹو بنوا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر رہی ہیں اور ایک تم ہو کہ اپنے حوالے سے خبر ہی برداشت نہیں کر پا رہی۔۔۔

فرض کرو ایسی کنڈیشن میں تمہاری فوٹو وائرل ہو جائے سوشل میڈیا پر تو تم کیا کروگی میرے ساتھ؟؟

وہ مسکراہٹ دباتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔۔۔

جواباً حیات نے پہلے سے بھی زیادہ ناراض نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا میں کوئی شوبز سٹار نہیں ہوں جو اپنے حوالے سے ایسی نیوز اور پکچرز وائرل کروا کر خوش ہوتی پھروں۔۔۔۔ جو عورتیں یہ سب کرتی ہیں

اور کر رہی ہیں,,,,, انکی شرم و حیا تو ویسے بھی اس فیلڈ میں آ کر ہی ختم ہو جاتی ہے پھر ایسے کام کرتے ہوئے انہیں کہاں ہچکچاہٹ ہوتی ہے کہاں شرم آتی ہے۔۔

“شوبز سٹار نہیں ہو بٹ ایک شوبز سٹار کی بیوی تو ہو نا۔۔۔۔ویسے بھی سویٹ ہارٹ تمہارا نام تھوڑی لیا جا رہا ہے کہ تم ممی بننے والی ہو میرا ہی نام لیا جا رہا ہے کہ میں پاپا بننے والا ہوں۔۔۔۔۔ وہ سرشاری سے مسکرایا تھا اور والہانہ انداز میں اسکے گرد اپنے مضبوط بازوؤں کا حصار باندھا,,, تو وہ جھینپ کر سرخ پڑتی خاموش ہو گئی تھی۔ماحر کو اپنی چھیڑ چھاڑ کے نتیجے میں اس کے چہرے پر اترنے والے حجاب خفت اور گریز کے رنگ بہت بھاتے تھے۔۔وہ اکثر یہی رنگ دیکھنے کیلئے ہی اس سے چھیڑ چھاڑ کیا کرتا تھا,,, کبھی کبھی وہ جھنجھلا کر تپ بھی جایا کرتی تھی۔۔۔اسکے ہونٹوں پر بے خیالی

میں ہلکی سی مسکان آ گئی تھی۔۔۔۔

کیا سوچ رہی ہو بیٹا۔۔۔۔۔؟فائزہ سکندر کی نرم و شیریں آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی تو اس نے چونک کر ان

کی طرف دیکھا۔آف وائٹ سوٹ میں ملبوس ڈوپٹہ سر

پر اوڑھے۔۔۔۔ اپنی نفیس و خوبصورت شخصیت سمیت چہرے پر ممتا کے گداز رنگ لئیے وہ اسکے قریب کھڑی

محبت بھری نگاہوں سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔

کچھ نہیں ممی۔۔۔آئیے بیٹھئے۔۔۔۔اس نے مسکرا کر اپنے ساتھ والی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔۔۔۔ انکے اصرار پر ہی اس نے انہیں ممی کہنا شروع کیا تھا۔۔۔وہ کچھ فکر

مند سی لگ رہی تھیں حیات انکی فکر مندی کی وجہ جانتی تھی۔عبیر اور اسکی بیوی کے درمیان حالات آج

کل خراب تھے۔۔۔لیزا عبیر کسی اور ایکٹر میں دلچسپی لے رہی تھی۔۔۔آج کل مختلف مقامات پر انکو ایک ساتھ دیکھا جا رہا تھا۔۔۔ میڈیا کے مطابق دونوں ایک دوسرے کو ڈیٹ کر رہے تھے۔اسکی یہ حرکتیں عبیر کیلئے ناقابل برداشت ہو چکی تھیں،، سو پچھلے ایک ماہ سے دونوں کے درمیان جھگڑا چل رہا تھا۔۔۔۔ بچے عبیر کے پاس تھے لیزا کو انکی کوئی پروا نہیں تھی عبیر خان کی قربت کا خمار دو سالوں میں ہی اس کے سر سے اتر چکا تھا وہ اس نئے ایکٹر سرمد سلطان کے ساتھ ریلیشن شپ میں خوش تھی۔۔۔۔ میڈیا نیوز کے مطابق عبیر خان اور لیزا ایوب کے درمیان جلد ہی طلاق متوقع تھی۔۔۔

“وجہ تھی سرمد سلطان۔۔

“‘خان فیملی میں آج کل اسی وجہ سے کچھ ٹینشن کا ماحول چل رہا تھا۔۔۔۔ لیزا کے گھر سے جانے کے بعد زین کی بیوی ماریہ نے حیات کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کر لئیے اور اپنے پرانے رویے پر اس سے معذرت بھی کی وہ تو تھی ہی سادہ اور نرم مزاج بغض, حسد, منافقت جیسی چیزوں سے دور دور تک بھی اسکا واسطہ نہیں تھا سو اس نے ماریہ کا پرانا رویہ بھلا دیا اور اسکی طرف سے بڑھا دوستی کا ہاتھ کھلے دل سے تھام لیا۔۔۔۔

فائزہ سکندر اس سے وہی باتیں کر رہی تھی۔۔۔عبیر اور لیزا کے بگڑے تعلقات۔لیزا کی خود غرضی۔عبیر کا غصہ انکے اس جھگڑے کے نتیجے میں بچوں کا ماں باپ کی توجہ سے محروم ہونا۔۔۔” وہ بنا کوئی اظہار خیال کیے

خاموشی سے انکی باتیں سن رہی تھی۔۔ اسی وقت زین

وہاں چلا آیا۔۔۔وہ اپنی کسی مووی کی شوٹ سے واپس

آ رہا تھا۔اندر جانے کے بجائے گڈ ایوننگ کہتا وہیں بیٹھ

گیا۔ماحر بھی کی کتوں کی سیوا سے فارغ ہو کر انہیں ملازموں کے حوالے کرتا وہاں آ کر بیٹھ گیا انکی گفتگو کا موضوع بدل گیا تھا۔۔۔ دونوں بھائی کتوں کی دیکھ بھال اور انکی صحت پر بات چیت کرنے لگے انکی اس

بے معنی گفتگو سے اکتا کر حیات نے لان میں لگے رنگ برنگے پھولوں کی طرف اپنی توجہ مبذول کر لی جبکہ مسز سکندر ملازمہ کو چائے آرڈر کرنے لگیں۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں ملازمہ چائے لے آئی تو سب کو سرو کرنے کی ڈیوٹی ماحر نے سنبھال لی۔کبھی،کبھار وہ موڈ ہوتا تو وہ اسطرح کے کام بھی کر لیا کرتا تھا۔۔۔۔۔ شوگر مکس کر کے اس نے سب سے پہلا کپ حیات کی طرف بڑھایا۔وہ تھامنے کے بجائے کپ کی طرف دیکھنے لگی۔۔اس کے انداز میں بے چارگی تھی۔۔۔۔۔ ہچکچاہٹ تھی۔۔۔

فائزہ سکندر اور زین بھی اس کی طرف دیکھنے لگے۔۔۔

ماحر ہنوز کپ اسکی طرف بڑھائے بیٹھا تھا۔۔جبکہ وہ تھامنے کے بجائے ہچکچاہٹ دکھا رہی تھی۔۔۔

کیا ہوا بیٹا چائے کیوں نہیں لے رہی تم۔۔۔۔؟؟انہوں نے اسے ہچکچاتے دیکھ کر حیرانی سے استفسار کیا۔۔۔۔

وہ ایکچولی ابھی یہ کتوں کو ہاتھ لگا رہے تھے اور اب انہی ہاتھوں سے مجھے چائے۔۔ وہ معصومیت سے کہتے ہوئے لب دانتوں تلے دبا گئی۔۔۔۔۔۔۔ ماحر کھسیا کر رہ گیا جبکہ زین نے ایک زور دار قہقہہ لگایا۔۔۔۔۔۔ فائزہ سکندر بھی مسکرانے لگیں۔۔اس دن کے بعد اس نے صاف الفاظ میں ماحر کو کہہ دیا تھا کہ اگر وہ کتوں کو ہاتھ لگائے گا تو اس سے دو فٹ دوری پر ہی رہے گا۔۔کئی بار اسکے رومینٹک موڈ کا بیڑہ بھی انہی کتوں کیوجہ سے غرق ہوا مجبوراً اس نے اپنے فیورٹ کتے اپنے ایک ڈائریکٹر دوست کو یہ کہتے ہوئے گفٹ کر دئیے اگر ان کتوں کو

منہ لگاتا ہوں تو میری بیوی مجھے منہ نہیں لگاتی۔۔۔۔

اسکا باقی حصہ کچھ دیر میں اپلوڈ ہوگا۔۔۔۔۔