Meri Hayat By Zarish Hussain Readelle50271 Meri Hayat (Episode 56) Part - 2
Rate this Novel
Meri Hayat (Episode 56) Part - 2
Meri Hayat By Zarish Hussain
وہ بہت مسرور انداز میں گنگناتے ہوئے وارڈ روب سے پہننے کیلئے ڈریس سلیکٹ کر رہا تھا۔پچھلے ایک ہفتے
سے وہ شوٹ کے سلسلے میں دوبئی میں تھا حیات اس
کی زندگی میں واپس آئی تو وہ مطمئن ہو کر اپنے کام کی طرف متوجہ ہوا تھا۔۔۔آج شام کی فلائٹ سے ہی وہ
واپس آیا تھا۔۔۔۔میڈیا میں اسکی شادی کی افواہوں کی
وجہ سے کھلبلی سی مچی ہوئی تھی۔۔۔۔اگرچہ بہت راز
داری برتنے کے باوجود بھی یہ خبر لیک ہو گئی تھی۔۔۔۔
پچھلے کچھ دنوں سے تمام ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر سب سے بڑی خبر کے طور پر یہی خبر ہی چل رہی تھی مگر تاحال خان فیملی کی طرف سے اس خبر کے حوالے سے تردید یا تصدیق نہیں کی گئی تھی۔۔آج ایک پریس کانفرنس کے ذریعے وہ اپنی شادی کا اعلان کرنے والا تھا۔۔۔خان ہاؤس میں اسکی شادی کی تقریب کی تیاریاں چل رہی تھیں۔۔۔۔۔۔فاریہ بھی اپنے سسرال والوں کے ساتھ پہنچ چکی تھی۔۔۔۔۔ ملکی و غیر ملکی مہمانوں کا سلسلہ بھی کل سے شروع ہونے والا تھا۔پہلے صرف ولیمہ کی تقریب بڑے پیمانے پر منعقد کی جا رہی تھی مگر پھر فاریہ نے مہندی کی تقریب کیلئے شور مچا دیا۔۔۔فارس کو پتہ چلا تو اس کا کہنا تھا کہ اپنی بہن کو وہ اپنے گھر لے جائے گا۔۔۔۔یہ تقریب انکے گھر ہوگی مگر سکندر علی خان نے سب کے کہنے پر بڑے سبھاؤ سے سمجھایا بلکہ دراخوست کی کہ انکے بہت زیادہ مہمان آ رہے ہیں میوزک کا بھی پروگرام ہے۔۔۔ یہ تقریب خان پیلس میں منعقد ہو تو زیادہ بہتر رہے گا۔۔۔۔۔بادل نخواستہ فارس مان گیا تھا۔۔۔۔
پریس کانفرنس کیلئے وہ تیار ہو کر اپنے روم سے نکلا تو سیڑھیوں کی طرف اسکے بڑھتے قدم یکدم رک گئے۔ادھر ادھر دیکھا کوئی نہیں تھا۔سامنے ہی وہ کمرہ تھا جہاں وہ اپسرا رہائش پذیر تھی جس کے تمام جملہ حقوق وہ اپنے نام لکھوا چکا تھا پچھلے ایک ہفتے سے وہ اس کے گھر میں تھی مگر وہ اسے دیکھ نہیں پایا تھا۔۔۔خود میں بھی ہمت نہیں تھی اس کے کمرے میں جانے کی اور فائزہ سکندر نے بھی منع کیا ہوا تھا کہ فلحال وہ مینٹلی اپ سیٹ ہے سو وہ اس کے سامنے نا جائے۔۔ اتنے دنوں سے وہ صبر کر رہا تھا۔مگر آج اس کا
دل اچانک مچلنے لگا تھا اس کے دیدار کیلئے۔۔۔سو وہ خود کو روک نہیں پایا اور اسکے روم کے دروازے پر آ کھڑا ہوا۔۔۔
دستک کیلئے ہاتھ بڑھایا پھر یہ سوچ کر رک گیا۔۔بیوی کے روم میں کیا دستک دے کر جانا۔اس وقت اسکے دل کی حالت بالکل ویسے ہو رہی تھی جیسے کسی دلہن کی اپنے دلہا سے ملاقات کے وقت ہوتی ہے۔۔۔
اس نے دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔۔وہ لاکڈ نہیں تھا۔۔۔کھلتا چلا گیا۔۔۔سامنے ہی وہ ڈریسنگ مرر کے آگے اپنی ریشمی زلفیں سلجھا رہی تھی۔۔۔۔اسے اپنے کمرے
میں دیکھ کر بری طرح چونکی۔۔۔برش ہاتھ سے چھوٹ
گیا۔۔وہ اسکے بہت قریب آ کر کھڑا ہو گیا تھا ۔۔۔۔اسکے لباس سے اٹھتی مدہوش کن مہک اسکے ارد گرد چھانے لگی وہ بہت گہری نگاہوں سے اس کا جائزہ لے رہا تھا۔
اس لمحے وہ اسکی تمام نفرت و ناراضگی بھولے بس اسے نہارنے میں مصروف تھا۔گلابی اور بلیو کمبینیشن کی کلیوں والی فراک۔۔۔ چوڑی دار پاجامے میں ملبوس
تھی۔۔سلک کا دوپٹہ ایک کندھے پر تھا۔۔۔اسکی نظروں
سے سٹپٹا کر وہ ڈوپٹے کو کندھوں پر پھیلا چکی تھی چمکتے ہوئے سرخ و سفید چہرے پر شاکنگ پنک لپ اسٹک سحر طراز حسن لئیے ہوئے تھی۔ اس کا یہ سندر روپ۔۔دلکش مکھڑا۔۔۔۔۔ اپسراؤں جیسا حسن۔۔ماحر خان کا دل گویا اس کے قدموں میں آ کر دھڑکنے لگا تھا۔۔۔۔۔ نگاہوں کے زاویے گویا خود بخود ہی بہکنے لگے تھے۔۔
بے اختیار اس کا دل اسے چھو کر دیکھنے کو مچلنے لگا
وہ اشتیاق بھرے انداز میں دیکھتا تھوڑا مزید قریب
ہوا تو وہ گھبرا کر پیچھے ہو گئی۔۔
میرے روم میں کیوں آئے ہیں آپ۔۔؟؟ لہجے میں سختی حیرانی اور ناگواری واضع تھی۔۔۔۔وہ اسکی نگاہوں سے سخت خائف ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔ اسے خود کو بے باکی سے دیکھتا پا کر وہ بری طرح جھنجھلانے لگی تھی۔۔
میری وائف تو میرے روم میں آتی نہیں میں نے سوچا
میں ہی اسکے روم میں چلا جاتا ہوں۔۔۔وہ بڑے دلکش انداز میں مسکرایا۔۔سرخ و سپید چہرے پر وجاہت و تازگی تھی۔۔۔حیات کے ماتھے پر بل پڑے۔۔۔
بہت حسین لگ رہی ہو۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔مخمور لہجے میں کہتے ہوئے اسکے دمکتے ہوئے سرخ گال کو اپنی انگلیوں سے چھوا۔۔۔حیات کو جیسے اس کے لمس سے کرنٹ لگا۔۔
بجلی کی سی تیزی سے اس کا ہاتھ جھٹکا۔۔۔
ڈونٹ ٹچ می اگین۔۔۔وہ چہرے پر غیض و غضب لئیے نفرت بھرے لہجے میں پھنکاری۔۔۔
وہ گنگ سا اسے دیکھنے لگا۔۔۔
بھول گئے اپنی بات۔ کیا کہا تھا آپ نے کہ آپ کو صرف میرا ساتھ چاہیے۔کوئی ڈیمانڈز نہیں ہونگی آپ کی اور
اب اپنی دسترس میں دیکھ کر اپنی ہوس پر قابو نہیں
رکھ پا رہے۔۔۔۔ وہ بولی نہیں زہر خند لہجے میں غرائی تھی۔۔۔
ایک بھرپور طمانچہ پڑا تھا اسکے کردار کے حوالے سے
ذلت کے احساس سے ماحر خان کا چہرہ سرخ ہو گیا۔۔
وہ کسی غلط نیت سے نہیں چھو رہا تھا اسے۔بس دل
کی ننھی سی خواہش پر ذرا سا چھوا تھا مگر وہ تو
جیسے بپھر اٹھی تھی۔۔
تم غلط سمجھ رہی ہو میں تو صرف….” اس نے اپنی
پوزیشن کلئیر کرنے کی کوشش کی مگر وہ اسکی بات
کاٹ کر غصے سے بولی۔۔۔
کیا میں تو صرف۔۔چھو کر تسکین حاصل کرنا چاہ رہے تھے نا۔۔۔آپکی ہوس پرست ذہنیت کا اچھی طرح اندازہ ہے مجھے۔۔ دل نہیں بھرتا سارا دن پردے پر اور پردے
کے پیچھے عورتوں کو چھو چھو کے۔اتنے ہوس پرست
کیوں ہوتے ہیں یہ فلمی ایکٹرز۔۔ وہ کاٹ دار انداز میں بولی ۔۔۔نگاہوں میں حقارت تھی۔۔۔ تضحیک آمیز لہجہ تھا اس کا۔۔۔
وہ جیسے کٹ کر رہ گیا تھا۔۔۔ زخمی نگاہوں سے اسکی طرف دیکھا۔۔بہت سخت الفاظ تھے اسکے۔اگرچہ حیات عبدالرحمان کے معاملے میں اسکی نیت اب بالکل صاف تھی مگر وہ اسے بدنیت بیڈ کریکٹر سمجھتی تھی۔۔۔۔
وہ کچھ پل بے بسی سے اسکی نفرت بھری نگاہوں میں دیکھتا رہا۔۔۔۔پھر گہری سانس لے کر گویا ہوا
تم سے محبت کی ہے میں نے۔اس بے اختیاری جذبے کے
آگے بے بس ضرور ہوا ہوں مگر نفس پر کنٹرول ہے رکھ
سکتا ہوں۔۔۔۔ تم مجھ سے چاہے جتنی نفرت کرتی رہو کبھی میری محبت میں کھوٹ نہیں پاؤ گی۔۔۔۔۔۔میری سچی پاک اور بے غرض محبت کی چاہے جتنی توہین
تذلیل کرو۔میں سب کچھ برداشت کر لوں گا۔مگر صرف
ایک چیز ہے جو میں برداشت نہیں کر سکتا اور وہ ہے
تم سے دوری۔تم میری زندگی میں آ گئی ہو میرے گھر
میں موجود ہو میرے لئیے یہی بہت ہے۔۔۔۔تمہیں اپنی زندگی میں لانے کیلئے کانٹوں پر برہنہ پا چلا ہوں۔۔تم
جب مجھے چھوڑ کر چلی گئی تھیں بتا نہیں سکتا کیا
حالت ہوئی تھی میری۔۔پھر اس دن جب تم نے مجھے نامراد واپس لوٹایا تھا تو میرا دل چاہتا تھا۔پوری دنیا کو آگ لگا دوں اور خود بھی مر جاؤں مگر۔۔۔”
وہ سانس لینے کو رکا۔۔خیر بے فکر رہو اپنے قول کا پکا ہوں میں۔۔کبھی بدنیتی بے ایمانی کا مرتکب نہیں پاؤ گی مجھے۔۔۔ ویسے بھی تم اتنی صاف و شفاف ہو اب میرا بالکل دل نہیں چاہتا تمہیں ذرا سا بھی چھو کر میلا کروں۔جانتا ہوں کردار کے لحاظ سے میں تمہارے بالکل قابل نہیں ہوں نا تم مجھ پر اور میری محبت پر بھروسہ کرتی ہو۔۔۔مگر بس اتنی دراخوست کرتا ہوں۔۔۔مجھے کبھی چھوڑ کر مت جانا۔۔۔۔ بے شک نفرت کر لو
میں سہہ لوں گا۔۔۔۔ مگر میرا ساتھ کبھی مت چھوڑنا
وہ بہت افسردہ اور ملول سا ہو کر کہہ رہا تھا۔۔۔
اس کے لہجے میں سچی محبت کی کلیاں کھلی ہوئی تھیں نگاہوں میں جذبوں کی شمعیں روشن تھیں اور انداز سے ہی جنون خیز عشق کی دیوانگی جھلک رہی تھی۔مگر حیات عبدالرحمان اسکی ان تمام باتوں سے قطعی متاثر نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔ نا چہرے پر نرمی کا کوئی تاثر ابھرا تھا۔ہنوز وہی پتھریلے تاثرات تھے۔۔اب کیا فائدہ تھا۔۔۔ وہ اسکی نظروں میں اپنا اعتبار کھو چکا تھا۔۔۔۔وہ اس پر یقین کرنے کو قطعی تیار نہیں تھی۔۔۔
مجھے آپکی ان جھوٹی فضول باتوں میں کوئی انڑسٹ نہیں۔۔۔اپنا ٹائم اور یہ قیمتی جذبات مجھ پر برباد مت کریں۔۔کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔۔۔۔لہذا مہربانی کر کے اپنے آنے کی وجہ بیان کریں۔۔۔۔۔ اس نے نگاہیں اٹھائیں مگر اسکی طرف دیکھنے سے گریز کرتے ہوئے سپاٹ لہجے میں کہا۔۔
اس کا چہرہ دھواں دھواں ہو گیا۔آئی ایم سوری مجھ سے غلطی ہو گئی۔۔۔۔ میں کسی تسکین کے ارادے سے یہاں نہیں آیا تھا۔۔۔۔ مام نے کہا تھا مجھے تم سے بات کرنے کو۔وہ چاہتی ہیں ہم دونوں دوبئی جا کر ویڈنگ ڈریس تمہاری اپنی پسند سے لے آئیں۔۔۔۔باقی تو کوئی بھی چیز تم نے اپنی پسند کی نہیں لی۔کم از کم ڈریس ہی اپنی پسند سے لے لو۔۔۔اسکی تمام سخت باتوں کو اگنور کیے وہ بڑے ہلکے پھلکے انداز میں خلوص سے آفر کرنے لگا۔۔۔۔
حیات نے حیرانی سے اسے دیکھا۔۔بڑا عجیب بندہ تھا
اتنی بے عزتی کے باوجود بھی توقع کر رہا تھا کہ اس
کے ساتھ شادی کی شاپنگ کرنے دوبئی چلے گی۔۔
اس کے ماتھے کے بل مزید گہرے ہونے لگے۔۔۔
میری کوئی پسند نہیں۔۔۔اب چاہے آپ ساری دنیا بھی
لا کر میرے قدموں میں ڈھیر کر دیں مجھے کچھ بھی پسند نہیں آئے گا۔میرے اندر اب صرف ناپسندیدگی ہی
ناپسندیدگی بھری ہے۔۔۔۔۔۔تلخ لہجے میں کہتی وہ واش روم میں چلی گئی تھی۔۔۔۔وہ کھڑا اسکے لفظوں پر غور
کر رہا تھا۔رات ہی تو مام نے اسے کہا تھا وہ چاہتی ہیں کہ شادی کا ڈریس وہ اپنی مرضی سے لے۔۔کیونکہ بری کے تمام ملبوسات اس کیلئے انہوں نے اور فاریہ نے ہی منتخب کیے تھے۔۔۔وہ ٹھنڈی سانس لیتا کمرے سے نکل گیا ۔۔۔کچھ دیر بعد وہ واش روم سے نکلی تو اسے نا پا کر اطمینان کی سانس لی ورنہ اسکی موجودگی میں
وہ کنفیوژ ہو گئی تھی اپنی کنفیوژن کو اس نے غصے
کی اوٹ میں چھپایا تھا۔۔وہ جانتی تھی فائزہ سکندر
نے اسے یہ بات کہی ہوگی کیونکہ اسے بھی انسسٹ
کر چکی تھیں کہ کم از کم شادی کے ایونٹ کا ڈریس
تو اپنی مرضی سے لے لو۔۔اگرچہ انہوں نے مشہور ترین
ڈیزائنرز سے اسکے لئیے ملبوسات تیار کروائے تھے۔۔اس
سلسلے میں فاریہ پیش پیش تھی۔۔۔ وہ خود بھی ایک بہت اچھی فیشن ڈیزائنر تھی۔ورجینیا میں اپنی فیشن ڈیزائننگ کمپنی چلا رہی تھی۔۔۔ دونوں ماں بیٹی بہت
خلوص سے اصرار کرتی رہی تھیں کہ وہ اپنی پسند کے ڈیزائن سلیکٹ کرے۔۔۔ ڈیزائنرز کو گھر پر بلایا گیا مگر حیات نے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی تو مایوس ہو کر ماں بیٹی نے خود ہی اسکے لئیے اپنی پسند سے شاپنگ کی۔۔قیمتی و خوبصورت ملبوسات کے ایک انبار کا آرڈر دیا گیا تھا اس کیلئے۔۔فضا نے دیکھا تو آہستہ سے اسکے کان میں سرگوشی کی۔۔
وہ آج صبح ہی ملنے آئی تھی اس سے۔۔۔۔
یار حیا مجھے نہیں لگتا اگلے پانچ سالوں تک تمہیں کپڑے خریدنے کی ضرورت پڑے گی۔۔۔ تم بہت لکی ہو
اللّٰہ ایسی فراغ دل ساس نند ہر کسی کو دے۔۔ اس نے
حسرت سے کہا تھا۔۔جواباً حیات نے خفگی سے دیکھا
میں بری نند ہوں کیا۔۔؟؟
فضا کی بات اسکے دل پہ لگی تھی۔۔
نہیں میری جان تم تو بہت اچھی نند ہو۔۔۔ اور تمہیں
تو میں نند نہیں بہن سمجھتی ہوں۔۔۔اس نے ہنس اسے
گلے سے لگا لیا تھا۔فارس روزانہ اسکے پاس چھوڑ جاتا تھا اسے۔۔۔۔۔ اسکی شادی کی تیاریاں دیکھ کر وہ اپنے آنسوؤں پر قابو نہیں رکھ پا رہی تھی۔۔۔۔۔۔
کتنی ہی بار حسرت آمیز لہجے میں کہا۔۔ کاش ارتضیٰ اتنی جلدی نا جاتا۔۔ تو آج کتنی خوش ہوتی میں تمہیں اپنے بھائی کی سنگت میں دیکھ کر۔۔۔
پھر ٹھنڈی آہ بھر کر کہتی اسکی زندگی ہی اتنی لکھی تھی۔۔تم اس شخص کا مقدر تھیں۔۔ارتضیٰ نا سہی اللّٰہ تمہیں ماحر کے حوالے سے ڈھیروں خوشیاں عطا کرے۔۔
بار بار خلوص سے دعا دیتی۔۔۔جواباً وہ خاموش رہتی۔ارتضیٰ حسن اور میجر نعمان کو یاد کر کے چپکے چپکے
وہ ناجانے کتنی بار روئی تھی۔۔۔۔۔”
ماحر خان اور حیات عبدالرحمان کی مہندی کی تقریب
ہو رہی۔۔۔مہندی کی تقریب میں صرف گھر والے اور بے حد قریبی عزیز مدعو تھے۔۔۔۔ مہندی کے ایونٹ کے اگلے
روز ڈائریکٹ ولیمے کا ایونٹ تھا۔۔۔۔۔ جس کیلئے شہر کا
سب سے معروف اور مہنگا نور محل نامی میرج ہال بک کیا گیا تھا۔آج کی اس تقریب کیلئے بہت ہی خوبصورت لائٹنگ کی گئی تھی۔ خان پیلس کا گوشہ گوشہ جگمگا رہا تھا۔۔۔۔برقی لائٹس سے درو دیوار کے علاؤہ وسیع و عریض لانز میں لگے پودوں اور درختوں پر بھی خوبصورت قمقے جگمگا اٹھے تھے۔۔مہمانوں کی آمدو رفت شروع ہو چکی تھی جن میں سنگرز ڈھولک ڈفلی طبلے والے سب آئے ہوئے تھے۔۔۔ بلیک شلوار سوٹ پر ییلو واسکٹ اور گلے میں ییلو پھولوں کی مالا پہنے مہمانوں کے درمیان سٹیج پر وہ بہت خوش باش سا بیٹھا ہوا تھا۔ایک مستقل مسکراہٹ اسکے دلکش چہرے پر سجی ہوئی تھی۔۔۔۔۔دائیں جانب اصفہان اور بائیں جانب احمر تھا۔۔۔ انکے گلے میں بھی پیلے پھولوں کی مالائیں تھیں۔۔آج کی اس تقریب میں میڈیا کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔۔۔۔۔ گیٹ پر بھی سخت سیکیورٹی کے انتظامات تھے تاکہ کوئی میڈیا پرسن چوری چھپے اندر داخل ہونے کی کوشش نا کر سکے۔۔۔
“سب لوگ میوزک سے لطف اندوز ہو رہے تھے احمر اور اصفہان دونوں اس سے چھیڑ چھاڑ کر رہے تھے۔۔دونوں بھائیوں کے نقوش میں خاصی شباہت تھی۔کچھ فاصلے پر بیٹھے ابراہیم خان اپنے دونوں بیٹوں کو گاہے بگاہے محبت بھری نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔”
خواتین والے حصے میں بھی زبردست سنگیت کا اہتمام تھا۔۔۔ فاریہ کی کچھ کزنوں نے ڈھولکی سنبھالی ہوئی
تھی۔چیخ چیخ کر اپنی آواز کا فن پیش کر رہی تھیں
سب پیلے اور گرین شراروں اور فراکس میں ملبوس تھیں۔۔ماحول میں مہندی موتیے اور گلاب کی خوشبو
پھیلی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ دلہا دلہن کو بٹھانے کیلئے بڑا ہی
خوبصورت سٹیج تیار کیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔جس میں پیلے مصنوعی پھولوں کی لڑیوں سے ڈیکوریشن کی گئی تھی۔۔۔۔تقریب زور شور سے جاری تھی۔۔۔۔
پیلے غرارہ سوٹ اور پیلے کرن لگے ڈوپٹے میں اس کا
دلکش ہوشربا دلنشین حسن مزید نکھر گیا تھا بیوٹیشن اسے تیار کر چکی تھی اور اسکی تعریفوں میں رطب اللسان تھی جب فضا اسکے کمرے میں آئی۔۔۔
حیا تمہارے لئیے ایک سرپرائز ہے۔۔۔۔ ان کے انداز میں
ایکسائٹمنٹ تھی۔۔۔حیات چونک کر انہیں دیکھنے لگی
آجاؤ بھئی۔۔۔ کہنے کے ساتھ ہی انہوں نے دروازے کی طرف منہ کر کے کسی کو آواز لگائی۔۔۔
حیات کی پرتجسس نگاہیں بھی دروازے کی طرف اٹھیں۔۔۔
آنے والی شخصیت کو دیکھ کر وہ بے اختیار کھڑی ہو
گئی۔۔حیرت اور خوشی کی زیادتی سے گنگ وہ جہاں کی تہاں کھڑی رہ گئی۔۔۔مقابل کے چہرے پر بھی یہی تاثرات تھے۔۔۔”
ارے بھئی یونہی ایک دوسرے کو دیکھتے رہنا ہے۔۔ ملنا نہیں کیا۔۔۔ فضا انہیں ساکن کھڑا دیکھ کر مسکرائی
دونوں کی آنکھیں چھلکیں۔۔
“اگلے ہی پل وہ ایک دوسرے سے لپٹی رو رہی تھیں۔پورے ڈیڑھ سال بعد وہ دونوں ایک دوسرے سے مل رہی تھیں۔کچھ دیر بعد جب ایموشنل سین ختم ہوا تو
حیات نے آنسو بہاتے ہوئے اس سے اپنی پرانی باتوں اور رویے کی معافی مانگی۔ جواباً حورین نے بڑی فراغ دلی سے اسے معاف کر دیا۔۔۔۔اس نے حیات سے کوئی شکوہ کوئی گلہ نہیں کیا۔۔۔بس اسکی شادی کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔اسکی سوا سالہ بیٹی بھی ساتھ تھی۔
فضا اور فارس کی حورین کے شوہر شایان سے ملاقات
لندن میں ہوئی تھی شایان ارتضیٰ کا دوست تھا۔اسکی
ڈیتھ پر پاکستان آیا تھا۔۔۔فارس اسے جانتا تھا اسکے
لندن میں ایکسیڈنٹ کے وقت شایان اور اسکی فیملی
نے ہی انکی دیکھ بھال کی تھی۔۔۔۔
فضا حورین سے رابطے میں تھی۔۔۔ مگر یہ بات اس نے حیات کو کبھی نہیں بتائی تھی۔۔ وہ اسے سرپرائز دینا چاہتی تھی حیات کی شادی کیلئے فضا نے اسے مدعو کیا تھا۔۔ آج صبح ہی وہ اپنی بیٹی اور شوہر کے ساتھ
لندن سے آئی تھی۔اب حیات کے سامنے بیٹھی وہ اسے بتا رہی تھی۔۔شکر ہے تم آ گئی۔۔۔میں بہت مس کر رہی تھی اس موقعے پر تمہیں۔۔ حیات نے تیسری بار یہ بات کہی تو اس نے منہ پھلا کر کہا۔۔۔۔ ہاں اسی لئیے تم نے انوائیٹ کرنے کی بھی زحمت نہیں کی۔۔۔۔۔ یہ تو فضا
بھابھی کا خلوص ہے جو میں آئی بیٹھی ہوں۔۔۔۔
میں تم سے شرمندہ تھی نا کیسے کنٹیکٹ کرتی۔۔۔۔۔
وہ شرمندگی بھرے لہجے میں اس سے سوری کرنے لگی تو حورین مسکرا دی۔۔میں تم سے ناراض نہیں ہوں یار تم شرمندہ مت ہو۔۔۔۔۔۔ میں تو بہت خوش ہوں تمہاری شادی سے۔۔تم یہ اداسی ختم کرو۔۔۔ جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔۔ اب بس سب بھلا کر اپنی نئی زندگی شروع کرو۔۔۔وہ اسے سمجھانے کی کوشش کرنے لگی۔
فضا کے ذریعے اسے سارے حالات معلوم ہو چکے تھے۔۔حیات لب بھینچے خاموش رہی۔۔۔
وہ جتنی ایکسائٹیڈ ہو رہی تھی ماحر خان کے ساتھ اس کی شادی کو لے کر اسکی شکل دیکھ کر اسے اتنی ہی مایوسی ہو رہی تھی۔اسکے سسرال والوں خصوصاً ساس نند کی حیات کیلئے چاہت دیکھ کر وہ امپریس ہو رہی تھی۔۔ فائزہ سکندر بار بار حیات کو گلے سے لگا کر چومتی تھیں۔مسرت و پسندیدگی کا بے پایاں اظہار ان کے ممتا بھرے لمس سے ہوتا تھا۔انکی اس محبت کا انداز حیات کو بھی ادراک دے گیا تھا کہ مستقبل میں وہ بہت اچھی ساس ثابت ہونے والی تھیں اور وہ انکی ممتا بھری بے لوث و بے غرض آغوش میں رہنے والی تھی۔۔
مہندی کی تقریب ختم ہوئی تو اس نے شکر ادا کیا۔بڑے
ضبط آزما لمحے تھے اس کیلئے جب ماحر خان کو اس
کے پہلو میں بٹھایا گیا تھا۔۔پھر سب کے کہنے پر ماحر
نے اسے موتی چور کا لڈو کھلایا تھا۔۔۔۔۔ اس شخص کے ہاتھ سے کھلائے گئے لڈو کو اس نے بڑی ہی مشکل سے اپنے حلق سے اتارا تھا ورنہ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ
اسی وقت زمین پر تھوک دے۔۔۔۔۔
حورین اور فضا اسکے پاس ٹھہری ہوئی تھیں اسکا ذہن بٹانے اور موڈ سیٹ کرنے کیلئے وہ ہلکی پھلکی ہنسی مذاق کر رہی تھیں۔۔ مگر اس کا موڈ مسلسل سنجیدہ اور چہرے کے تاثرات سپاٹ رہے۔۔۔”
٫٫٫٫نور محل کا وسیع و عریض ہال رنگوں خوشبوؤں مرکری لائٹس اور کمروں کی فلیش لائٹس سے جگمگا
رہا تھا۔۔۔میڈیا کا طوفان بھی وہاں پہنچا کوریج کرنے
میں لگا ہوا تھا۔شوبز انڈسٹری کے علاؤہ سیاست بزنس
اور دوسرے شعبوں سے وابستہ بڑی بڑی ہستیاں آئی ہوئی تھیں۔جیسے ہی کوئی مہمان اپنی گاڑی سے اترتا
میڈیا کے لوگ کیمروں کے ساتھ اسکا راستہ روک لیتے
تب تک ہال میں انٹر نا ہونے دیتے جب تک وہ فوٹو کیلئے دو تین پوز نا دے دیتا۔۔
مختلف قسم کے مشروبات اور تیس پینتیس کی قریب ملکی و غیر ملکی ڈشز پر مشتمل پرتکلف کھانے کا اہتمام کیا گیا تھا۔۔کچھ پریس رہورٹرز تو اس تقریب پر خرچ ہونے والے پیسوں کا حساب کتاب لگانے میں بزی تھے۔۔رنگ برنگے ملبوسات پہنے عورتوں مردوں کا ایک سیلاب آیا وہاں ہوا تھا۔جن میں اکثریت فلمی ستاروں کی تھی۔۔
گولڈن سلک کے کرتے پاجامے پر گولڈن کڑھائی والی واسکٹ پہنے گلے میں گلاب اور موتیا کے پھولوں کے ہار ڈالے وہ بہت چارمنگ ڈیشنگ لگ رہا تھا۔۔سٹیج پر نہایت ہی شاہانہ انداز میں اسکے پہلو میں براجمان تھا۔۔اس کے حسین چہرے پر خوبصورت رنگ بکھرے ہوئے تھے۔۔۔کالی گہری سحر انگیز آنکھوں میں چمک اورسرخی مائل لبوں پر دھیمی دلکش سی مسکراہٹ تھی۔۔۔۔
دوسری طرف وہ بھی سرخ اور گولڈن کلر کے لہنگے میں ملبوس زیورات سے لدی بے تحاشا حسین لگ رہی تھی۔ہر آنکھ ان پر جمی ہوئی تھی ہر نظر میں ستائش تھی۔۔ رشک تھا۔۔ حسد تھا ان کی جوڑی کو پرفیکٹ جوڑی قرار دے کر سراہا جا رہا تھا۔۔۔۔
اسے تیار کرنے کیلئے نیویارک سے ایک فیمیل میک اپ آرٹسٹ کو بلوایا گیا تھا۔۔۔۔کیونکہ ماحر کو اچھی طرح اندازہ تھا وہ کسی میل آرٹسٹ سے کبھی بھی میک اپ نہیں کروائے گی۔۔۔یہ میک اپ آرٹسٹ ہالی وڈ کی بڑی بڑی سلیبریٹیز کے میک اپ کرتی تھی۔دس کروڑ چارجز
لئیے تھے اس میک اپ آرٹسٹ نے۔ جبکہ ویڈنگ ڈریس ایک پاکستانی نثراد برطانوی ڈیزائنر نے تیار کیا تھا۔جس پر کم از کم ساٹھ کروڑ کا خرچہ آیا تھا۔لہنگے پر سونے کی نفیس تاروں کا کام تھا۔ موتیوں کے بیچ میں لگے چھوٹے چھوٹے نگ خالص ڈائمنڈ کے تھے جو اپنی
چھب دکھا رہے تھے۔۔۔
٫٫٫ سٹیج پر لاتے وقت چار لڑکیوں نے اس کے لہنگے کو پکڑا ہوا تھا۔۔۔جن میں ایک فاریہ تھی۔۔سٹیج سے کچھ دور کھڑے ایک شخص کی حسرت بھری نگاہ بار بار ان کی طرف اٹھ رہی تھی۔فلیش لائٹس کی روشنیوں سے سٹیج نہایا ہوا تھا۔اسے گھبراہٹ ہو رہی تھی۔۔۔۔بھانت بھانت کے مہمان گفٹس لئیے سٹیج پر آتے۔۔انکے ہاتھوں میں تھماتے۔۔۔شادی کی مبارکباد دیتے تصویر بنواتے اور سٹیج سے اتر جاتے۔۔۔ان میں کئی بے حد مہنگے تحفے بھی تھے جو اسکے ساتھی سٹارز اور قریبی دوستوں کی طرف سے دئیے گئے تھے۔۔۔
کئی بڑی کمپنیوں کے مالکان کی جانب سے بھی بہت مہنگے مہنگے گفٹس آئے۔۔۔ جن میں سب سے قابل ذکر تحفہ آئل بنانے والی کمپنی کے اونر نے بھیجا تھا۔اور وہ تھا دلہن کیلئے سونے کا خوبصورت تاج۔۔۔۔۔
پروفیشنل فوٹوگرافر کی فرمائش پر تصویر بنوانے کی غرض اسے ناچاہتے ہوئے مسکرانا پڑتا۔۔مختلف پوز دینے کی غرض سے کبھی وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتا۔۔۔۔ تو کبھی کمر میں ہاتھ ڈالتا۔۔کبھی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے پوز دینا ہوتا۔۔۔
وہ سخت جز بز ہو رہی تھی۔۔۔
بڑے صبر اور جبر کے ساتھ فوٹوگرافی کے تھکا دینے والے مرحلے سے گزر رہی تھی۔قریب کھڑے شخص کی قربت اور ملبوس سے اٹھتی گلاب و موتیا کی مہک کے ساتھ مکس اپ ہوتی پوائزن کی مہک اس کی سانسوں کو الجھا رہی تھی۔۔۔
وہ بری طرح پزل ہو رہی تھی۔۔۔
اس کا مضبوط بازو بار بار اس کے بازو اور پشت سے مس ہو رہا تھا بڑے عجیب سے احساسات اس پر حاوی ہونے لگے تھے اپنی منتشر ہوتی دھڑکنیں اور احساسات سے گھبرا کر دور کھسکنے کی کوشش کرتی تو وہ فوٹو گرافرز کی فرمائش پر پھر سے اسکے قریب ہو جاتا۔۔۔
اسے سخت تاؤ آ رہا تھا ان پروفیشنل فوٹوگرافرز پر جو پچھلے دو گھنٹوں سے دلہا دلہن کو زبردستی چپکوا چپکوا کر عجیب و غریب پوز بنوا رہے تھے۔ انکی گھٹیا فوٹو گرافی ختم ہونے میں ہی نہیں آ رہی تھی۔دلہا تو شائد ان مومنٹس کو بہت انجوائے کر رہا تھا مگر دلہن پیچ و تاب کھا رہی تھی۔۔۔
بڑی ہمت و حوصلے سے اس سارے جھنجھٹ کے ختم ہونے کا انتظار کر رہی تھی۔۔پھر اللّٰہ اللّٰہ کر کے تقریب ختم ہوئی۔فارس نے اسے سینے سے لگا کر دعائیں دیں۔آنکھیں نم تھیں۔وہ از حد مغوم و رنجیدہ تھا۔ وہ بھی بھائی کے سینے سے لگی سسکیاں بھرتی رہی۔فضا اور حورین نے بھی بہت محبت سے گلے لگا کر دعائیں دی تھیں۔۔وہیں سے وہ سب لوگ اس سے مل کر گھر چلے گئے۔۔اسے ایکبار پھر خان پیلس میں لایا گیا۔۔نامعلوم کون کونسی رسموں کے بعد اسے خوبصورتی سے سجائے گئے کمرے میں پہنچایا گیا جو کسی شاہی محل کا کمرہ لگ رہا تھا۔۔۔ کمرے کی آرائش و زیبائش میں زیادہ تر شیشے کا استعمال کیا گیا تھا۔سرخ کارپٹ پر جا بجا سرخ پھول بکھرے ہوئے تھے۔۔۔۔ سیڑھیوں اور کوریڈور سے لے کر کمرے تک سرخ پھولوں کی دلکش سی روش بنائی گئی تھی۔۔۔جس پر وہ فاریہ انکی دو کزنز اور زین کی بیوی ماریہ کے ہمراہ چلتی ہوئی آئی تھی۔۔پھولوں کی روش پر چلتے وہ کسی ریاست کی شہزادی لگ رہی تھی۔۔۔۔۔اس منظر کو بھی ویڈیو کی صورت میں محفوظ کر لیا گیا تھا۔۔۔
ان چاروں نے اس کا ڈوپٹہ اور لہنگا سائیڈوں سے پکڑ رکھا تھا روم گلاب کے پھولوں کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔۔ بیڈ پر بھی سرخ گلاب بکھرے ہوئے تھے۔۔۔کارپٹ سے لے کر پردے بیڈ شیٹ تکیے صوفے کشن سب کے سب سرخ رنگ کے تھے۔روم انتہائی خوبصورت لگ رہا تھا بالکل کسی ملک کے بادشاہ کی خوابگاہ کی مانند۔۔
فاریہ نے اسکے سینڈل اتارے پھر ان سب نے مل کر اسے
بیٹھنے میں مدد دی۔جہازی سائز بیڈ پر بے شمار گلابوں کے درمیان بیٹھی وہ سب سے خوبصورت سب سے حسین ترین گلاب کا پھول لگ رہی تھی۔۔۔وہ تینوں اس کا میک اپ سیٹ کرنے کے ساتھ ساتھ چھیڑ چھاڑ اور ہنسی مذاق بھی کر رہی تھیں۔جب کہ وہ گردن جھکائے بالکل خاموش بیٹھی تھی۔۔۔۔
انکی کسی بات کا جواب نہیں دے رہی تھی درحقیقت وہ دل ہی دل میں جھنجھلاتی کوفت میں مبتلا ہوتی ان کے جلد از جلد کمرے سے جانے کی منتظر تھی۔۔
اسے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔تقریب میں بیدار ہونے والے وہ ذرا سے احساسات بھی ختم ہو چکے تھے دل میں نئے سرے سے اس کیلئے غصہ اور نفرت تازہ ہو رہی تھی۔۔اس کے حوالے سے چھیز چھاڑ اسے غصہ دلا رہی تھی۔۔۔ وہ اپنے ناگوار تاثرات سر جھکا کر ان سے چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد فائزہ سکندر آئیں۔۔ تو ان لڑکیوں نے کمرہ خالی کیا۔۔ انکے ہمراہ سکندر علی بھی خان تھے۔۔۔انہوں نے بڑی محبت سے اسے بیش قیمت کنگن پہنائے جبکہ
سکندر علی خان نے اپنا دوبئی میں موجود ایک فلیٹ
اسے گفٹ کیا تھا۔۔۔جسکے کاغذات انہوں نے اسکی گود میں رکھے۔۔۔
وہ دونوں اسے دعائیں دے کر کمرے سے گئے تو وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔۔۔ بھاری بھرکم لہنگے میں اکڑی ہوئی ٹانگوں کو سیدھا کیا اور آنکھیں موند کر خود کو ریلیکس کرنے لگی۔۔۔ذہن میں اس شخص کا خیال آیا جو کسی بھی وقت کمرے میں آنے والا تھا۔۔
اس نے فوراً آنکھیں کھول دیں اور سیدھی ہو بیٹھی۔
اسکے آنے سے پہلے مجھے اس روپ سے خود کو نجات دلانی ہے تاکہ وہ کسی خوش فہمی میں مبتلا نا ہو سکے۔ سوچتی ہوئی تیزی سے بیڈ سے اترنے لگی۔ابھی اس نے ایک کے بعد دوسرا قدم اٹھایا ہی تھا کے لہنگا پاؤں کے نیچے آیا اور منہ کے بل جا گری۔۔دبیز کارپٹ کی وجہ سے چوٹ تو نہیں لگی۔۔۔۔ مگر ہاتھوں میں موجود کانچ کی نفیس سرخ و گولڈن چوڑیوں میں
سے بہت سی ٹوٹ گئیں۔۔۔
اف۔۔۔۔۔۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی مگر بھاری بھرکم لہنگے کی وجہ سے اپنی اس کوشش میں کامیاب نا ہو سکی۔اوپر سے پاؤں بھی لہنگے کے اندر الجھ گئے تھے۔باوجود کوشش کے وہ کھڑی نہیں ہو پا رہی تھی۔۔۔۔”
ارے کیا ہوا۔۔۔۔؟؟ کمرے میں داخل ہونے والا ماحر تھا جو اسے کارپٹ پر گرا دیکھ کر سرعت سے اسکی طرف بڑھا۔نرمی سے شانوں سے تھام کر اسے کھڑا کیا۔۔۔۔۔پھر نیچے جھک کر لہنگے میں الجھے اسکے دونوں پیروں کو آزاد کروایا۔۔۔جیسے ہی وہ زمین پر اپنے قدم جما کر کھڑے ہونے میں کامیاب ہوئی وہ فوراً پیچھے ہٹ گیا۔اسکے سامنے وہ شدید خفت و خجالت سے دوچار ہوئی تھی۔۔۔لہنگے کو پکڑ کر اسکی طرف دیکھے بنا احتیاط سے چلتی ڈریسنگ روم کی طرف بڑھی۔۔۔۔
آدھے گھنٹے کی جان توڑ محنت سے اس نے خود کو ڈریس اور جیولری سے نجات دلائی تھی۔ایک ریڈ نائٹی اور بلیک کلر کی سادہ سی شرٹ ٹراؤزر رکھے ہوئے تھے شائد اس لئیے کہ دونوں میں سے جو چاہے پہنے۔۔۔۔
اس نے شرٹ ٹراؤزر کا انتخاب کیا تھا۔۔۔۔چینج کرنے کے
بعد باہر آئی تو وہ بیڈ پر بیٹھا ہوا تھا۔۔۔ اسے ڈریسنگ روم سے نکلتا دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا اور اسکے پاس سے گزرتا ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گیا۔۔جیولری ڈریسنگ ٹیبل کے دراز میں ڈالنے کے بعد اپنے میک اپ کے سامان کے ساتھ رکھی نیل ریمور اٹھائی اور بیڈ پر آ کر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔پھر یکلخت ذہن میں کوئی خیال آیا تو بیڈ کے درمیان میں اسطرح پھیل کر بیٹھ گئی گویا دیکھنے والے کو یہ احساس دلانا مقصود ہو یہ بیڈ صرف میری
ملکیت ہے۔۔کمبل بھی خود پر پھیلا دیا تھا۔۔مگن انداز میں اپنے نیلز سے گولڈن نیل پالش ریمو کرنے لگی۔۔۔ کچھ دیر بعد وہ ڈریسنگ روم سے باہر نکلا ایک اچٹتی ہوئی نگاہ اپنے ناخنوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتی حیا پر ڈالی اور ڈریسنگ مرر کے سامنے کھڑا ہو گیا۔۔سمپل سی شرٹ ٹراؤزر پہنے وہ اس عام سے حلیے میں بھی بہت گریس فل لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔ حیات نے ایک چور نگاہ اس پر ڈالی تھی۔۔وہ ڈریسنگ مرر کے سامنے کھڑا اپنے بال بنا رہا تھا۔۔۔اس کی نظریں اپنے ناخنوں پر اور کان اسکی طرف لگے ہوئے تھے جو بظاہر خود کو بہت لاپروا ظاہر کر رہا تھا۔وہ بہت چوکنا سی بیٹھی تھی اسے یقین تھا وہ اسکی طرف آئے گا۔۔
پھر جیسے ہی وہ برش رکھ کر پلٹا۔۔حیات کا دل تیزی سے دھڑکا۔۔وہ اسکی طرف آ رہا تھا۔۔جیسے ہی وہ بیڈ کی طرف آیا۔۔۔حیات نے پلکیں اٹھائیں۔۔۔
وہ بھی اسی کی طرف دیکھ رہا تھا دونوں کی نظریں ملیں۔۔۔ایک پل کو اسے بہت عجیب سا لگا تھا۔۔۔۔ماحر خان کی نظریں اسے بولتی، التجاء کرتی محسوس ہوئی تھیں۔۔۔۔۔”
اگر میں نے آپکی والدہ کے آنسوؤں سے متاثر ہو کر آپ کا ساتھ قبول کر لیا تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہمارے بیچ سب کچھ نارمل چلے گا۔۔۔اس کا اشارہ بیڈ کی طرف تھا۔انداز میں سرد مہری تھی۔۔۔۔۔”
جانتا ہوں ڈئیر۔۔۔اس کا لب و لہجہ نرم تھا۔۔وہ یوں بیڈ کے قریب آ کر کھڑا ہو گیا گویا وہیں لیٹنے کا ارادہ ہو۔۔
تو پھر یہاں کیوں کھڑے ہیں۔۔۔یہ بیڈ میرا ہے۔۔۔ناگواری
سے دیکھتے ہوئے واضع الفاظ میں جتلایا۔۔۔
میں نے کب کہا یہ بیڈ میرے جہیز کا ہے۔۔۔وہ ہنس پڑا تھا ۔۔حیات کو سخت زہر لگی تھی اسکی ہنسی۔۔۔
طعنہ دے رہے ہیں جہیز نا لانے کا۔۔۔۔۔۔؟؟ تیکھی نظروں سے گھورتے ہوئے پوچھا تھا۔۔
کمال کرتی ہو یار میں بھلا کیوں جہیز کا طعنہ دونگا
مجھے دولت کی کمی ہے کیا۔۔۔۔ہلکے پھلکے انداز میں کہتے ہوئے اسکی غلط فہمی دور کرنا چاہی۔۔۔
کیامطلب ہے آپ کا۔۔؟؟آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آپ سے زیادہ دولتمند کوئی نہیں اس دنیا میں۔۔۔۔ہم سب بھیک منگے ہیں؟؟ اسکی بات سے اپنی مرضی کا مطلب نکالے پیشانی پر بل ڈالے تیز لہجے میں غرائی تھی۔۔۔۔۔۔”
میرا یہ مطلب نہیں تھا یار۔ وہ اپنی بات کا غلط مطلب لئیے جانے پر بوکھلایا۔۔۔
کچھ پل اسے تیکھی نظروں سے دیکھنے کے بعد کہنے لگی۔۔
جہیز کا طعنہ دینے کا کبھی سوچئیے گا بھی مت۔۔۔۔آپ کے پیرنٹس نے جہیز کیلئے میرے بھائی کو خود سختی
سے منع کیا تھا۔ویسے بھی میرا یہ احسان کم نہیں آپ
پر کہ آپکی تمام زیادتیوں کے باوجود آپ کو خالی نہیں لوٹایا۔۔۔۔اپنے ساتھ کی خیرات آپکی جھولی میں ڈالی۔۔ورنہ ہم بھی کوئی عام نہیں کہ آسانی سے مل جائیں کسی کو۔۔۔۔اس کا لہجہ اور انداز خاصا جتاتا ہوا تھا۔۔۔۔
وہ ماتھے پر شکن لائے بغیر دھیمے سے مسکرایا۔۔مادام
آپ کا واقعی بہت بڑا احسان ہے مجھ پر اور اس کیلئے میں تمام عمر آپ کا شکر گزار رہوں گا۔۔رہی بات خاص
کی تو واقعی آپ بہت خاص ہیں۔۔۔ بہت زیادہ خاص۔۔۔
الفاظ کی طرح اس کا لہجہ بھی بہت خاص تھا۔۔۔۔
مگر حیات کواس کی باتیں طنزیہ لگیں۔۔ایک کھوجتی
ہوئی نگاہ اسکے وجہیہ چہرے پر ڈالی مگر وہاں طنز
کا شائبہ تک نا تھا۔۔۔
سر جھٹک کر وہ اپنے ناخنوں کی طرف متوجہ ہونے ہی لگی تھی کہ اس کا اپنی طرف بڑھتا ہاتھ دیکھ کر تھم گئی۔۔وہ ذرا سا اسکی طرف جھکا۔۔۔۔ حیات عبدالرحمان کے دل کی دھڑکن رک گئی۔۔۔ وہ ساکت سے اسے دیکھنے لگی۔۔ اس کے قریب پڑا تکیہ اٹھا کر بنا کوئی لفظ بولے کچھ فاصلے پر رکھے کشادہ صوفے پر جا کر لیٹ گیا۔۔” حیات نے رکی ہوئی سانس خارج کی۔ نیل ریمور سائیڈ
ٹیبل پر رکھی۔۔۔ اپنے اوپر کمبل کھینچا اور لیٹ گئی۔۔۔” کمرے میں بہت تیز روشنی تھی۔ اس کا دل چاہا اٹھ کر لائٹ آف کر دے۔پھر یہ سوچ کر رک گئی۔میں کیوں اٹھ
کر لائٹ آف کروں۔۔اس کا گھر ہے۔۔۔اس کا کمرہ ہے خود اٹھے ہونہہ۔۔۔وہ کروٹ بدل گئی۔۔۔۔
ماحر نے گردن موڑ کر کمبل میں دبکی حیات کی طرف
ایک نظر دیکھا۔۔۔۔وہیں لیٹے لیٹے ہاتھ بڑھا کر ٹیبل پر رکھا ریموٹ اٹھایا اور لائٹ آف کر دی۔۔۔ لائٹ آف ہوتے ہی نائٹ بلب خودبخود آن ہو گیا تھا۔۔۔حیات نے ذرا سا سر نکال کر دیکھا۔۔۔۔۔
اوہو۔۔۔۔۔۔ ریموٹ کنٹرول الیکڑک لائٹس۔۔۔وہ آہستہ سے بڑبڑائی۔۔۔۔
کمرے میں بالکل خاموشی چھائی ہوئی تھی۔۔
وہ آنکھیں بند کر کے لیٹی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ مگر نیو جگہ
نیو روم۔۔۔۔نیو بیڈ۔۔ نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔تنگ آ کر آنکھیں کھول دیں۔۔نظر بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر رکھے اپنے کلچ پر پڑی۔۔۔۔۔ آہستہ سے ہاتھ بڑھا کر اٹھایا اور کھول کر اپنا سیل فون نکالا۔۔۔ ٹائم دیکھا رات کے دو بج رہے تھے۔۔۔۔ اس نے میوٹ کا بٹن آن کر کے نیٹ اوپن کیا اور واٹس ایپ کھول لیا۔۔۔۔ حورین نے کچھ ویڈیوز بھیجی ہوئی تھیں۔وقت گزارنے کیلئے والیوم
کے بنا ویڈیوز دیکھنے لگی۔۔
اسی وقت وہ بھی آن لائن ہو گئی۔۔۔
تم واٹس ایپ پر آن لائن ہو۔۔۔؟؟ حیرت والے ایموجی کے ساتھ حورین کا ٹیکسٹ آیا تھا۔۔۔
ہاں کیوں۔۔۔۔؟؟ اس نے جوابی ٹیکسٹ کیا
مائی گاڈ تم واٹس ایپ پر کیا کر رہی ہو یار۔۔۔۔۔آج تو تمہاری شادی کی رات ہے۔۔۔۔۔۔دوسری طرف وہ سخت حیرت کا اظہار کر رہی تھی۔۔۔
شادی کی رات ہے تو کیا کروں اٹھ کر بھنگڑا ڈالوں۔اس
نے تیوری چڑھا کر میسج لکھا۔۔۔
ہاہاہاہا۔۔۔جواب میں حورین نے ڈھیر سارے ہنسنے والے
ایموجی سینڈ کیے۔۔۔
ویسے بھنگڑا ڈالنا تو بنتا ہے۔۔کسی عام بندے سے نہیں
ایک سپر سٹار سے شادی ہوئی ہے تمہاری یار۔۔۔جس کے پیچھے لاکھوں لڑکیاں پاگل تھیں اور اس نے سب کا دل توڑ کر سب کے حسین ارمانوں کا خون کر کے تم سے شادی کر لی۔۔۔۔ساتھ ہی مذاق میں رونے والے ایموجی بھی تھے۔۔۔
حورین کے ٹیکسٹ نے اسے آگ لگ دی تھی۔۔۔
کچھ لمحے وہ اسکے میسج کو خفگی گھورتی رہی
پھر ٹائپ کرنے لگی۔۔
سپر سٹار۔۔۔ سپر سٹار۔۔کان پک گئے میرے یہ بات سن سن کر۔۔اگر وہ خاص ہے تو عام میں بھی نہیں اس کے
بارے میں حورین کے تعریفی جملوں نے اسے اشتعال دلا دیا تھا۔آج پہلی مرتبہ وہ اپنے منہ سے اپنے خاص
ہونے کا اقرار کر بیٹھی تھی۔۔۔
میں نے کب کہا تم عام ہو۔۔۔۔۔۔۔خدا نے تمہیں حسن کی دولت سے مالا مال کیا ہے۔۔۔۔مگر ان کے پاس تو وجاہت
کے علاؤہ بے تحاشا شہرت ہے۔مجھے تو سوچ سوچ کر
ایکسائٹمنٹ ہوتی ہے جس سپر سٹار کی میں اتنی بڑی
فین ہوں وہ میرے جیجا جی بن گئے۔حورین کا میسج ہی اسکی ایکسائٹمنٹ شو کر رہا تھا۔۔
لیکن تم نے تو کہا تھا تم اسکی فین نہیں رہی تمہارے
دل سے اتر چکا وہ۔۔۔۔اچانک اسے حورین کی ایک سال پہلے والی کہی گئی بات یاد آئی تو اس نے خفگی سے لکھا۔۔۔
وہ تب کہا تھا جب تمہاری انکے ساتھ جنگ چھڑی ہوئی تھی اب تو وہ میرے جیجا جی ہیں۔میں تو ان سے آٹو گراف بھی لے چکی ہوں اور ڈھیر ساری سیلفیاں بھی بنوا چکی ہوں۔۔۔
چڑانے والے ایموجیز کے ساتھ اسکا جواب آیا تھا۔۔۔
جواباً اس نے غصے والا ایموجی سینڈ کیا۔۔
اچھا ناراض تو مت ہو۔۔۔۔۔ یہ بتاؤ تم تو واٹس ایپ پر
لگی ہو تو جیجا جی کیا کر رہے ہیں۔۔۔؟؟
حورین کا اگلا ٹیکسٹ پڑھ کر اس نے آہستہ سے گردن موڑ کر کن انکھیوں سے صوفے پر پڑےوجود کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔آنکھوں پر ایک بازو رکھے وہ شائد سو چکا تھا یا پھر ایسے ہی آنکھیں بند کر کے لیٹا ہوا تھا۔۔
سو چکا ہے ۔۔۔اس نے مختصراً لکھا
کہاں۔۔۔۔۔؟؟ ایک اور سوال آیا
کیا مطلب کہاں۔۔۔؟؟اس نے حیران ہو کر جواباً سوالیہ
ٹیکسٹ لکھا۔۔
جیسے تمہارے تیور لگ رہے ہیں امید تو نہیں ہے کہ تم
نے بیچارے کو کمرے میں بھی گھسنے دیا ہوگا۔۔
حورین نے صاف گوئی سے لکھ دیا۔۔
جواباً وہ ٹیکسٹ سین کر کے خاموش رہی۔۔۔۔
حورین کچھ دیر اسکے جواب کا انتظار کرتی رہی کیونکہ وہ آف لائن نہیں ہوئی تھی۔۔۔
جواب تو دو۔۔۔۔
میرے باپ کا روم نہیں ہے جو میں اسے گھسنے نہیں دوں گی۔۔۔اس نے کچھ جھلا کر لکھا تھا۔۔۔
حورین کی طرف سے منہ کھولے ہنسنے والے ایموجی آئے۔۔۔
وہ تپ کر آف لائن ہونے لگی تھی جب تیز رفتاری سے اس کا اگلا ٹیکسٹ آیا۔۔۔
یہ تو بتاؤ سپرسٹار جیجو نے منہ دکھائی میں کیا دیا۔۔۔؟؟
میں نے منہ دیکھنے دیا ہوتا تو دیتا نا۔۔اگر دیتا بھی تو میں نے اسکے منہ پہ ہی مارنی تھی منہ دکھائی۔۔ اور ویسے بھی اسکی اتنی ہمت نہیں تھی کہ ایسی حرکت کرتا۔۔۔۔اس نے خاصے فخریہ انداز میں میسج لکھا تھا۔۔
یار تم کتنی ناشکری لڑکی ہو۔۔۔۔۔لاکھوں فینز کا دل توڑ کر اس نے تمہیں سلیکٹ کیا اور تم اسکی قدر ہی نہیں کر رہی تمہاری جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو خوشی سے پاگل ہو جاتی۔۔ابھی کچھ دیر پہلے میں دیکھ رہی تھی سوشل میڈیا پر۔۔۔کس قدر چرچا ہو رہا تمہاری شادی کا ہزاروں کی تعداد میں دکھی کمنٹس کیے ہوئے تھے اسکی گرلز فینز نے اور تم”۔۔۔۔۔۔
ساتھ ہی منہ بنانے والے اور غصیلے ایموجی تھے۔۔۔
حیات اس کا ٹیکسٹ پڑھ کر سخت بدمزہ ہوئی۔۔ابھی
وہ اسے کوئی سخت جواب لکھنے ہی والی تھی جب
اس نے فضا بھابھی کو آن لائن دیکھا۔۔۔
اف اگر انہوں نے بھی مجھے آئن لائن دیکھ لیا تو یہ بھی حورین کی طرح سوال پہ سوال کرنا شروع ہو جائیں گی۔۔۔اس نے گھبرا کر سوچا
گڈ نائٹ۔۔۔۔۔ وہ حورین کے جواب کا انتظار کیے بنا جلدی سے آف لائن ہو گئی تھی۔۔۔
اب کیا کروں۔۔۔نیند بھی نہیں آ رہی۔۔ نیٹ بھی آن نہیں کر سکتی۔ہینڈ فری بھی نہیں کہ ڈاؤن لوڈ کیا ہوا کوئی
ڈرامہ ہی دیکھ لوں۔۔ہاتھ میں پکڑے موبائل کی سکرین
کی طرف دیکھتے اس نے جھنجھلا کر سوچا۔۔۔
میں بھی عجیب دلہن ہوں۔۔۔شادی والی رات ٹائم پاس ہی نہیں ہو رہا۔۔۔وہ بے اختیار سوچ بیٹھی۔۔
استغفر اللّٰہ۔۔۔کیا سوچ رہی ہوں۔۔کوئی دلہن ولہن نہیں ہوں میں۔۔ دلہن تو وہ ہوتی ہے جو خوشی خوشی اپنی
مرضی سے شادی کرتی ہے۔میری کہاں مرضی یا خوشی
شامل ہے جو خود کو دلہن سمجھوں۔۔اس نے فوراً اپنی
سوچ پر خود کو سرزنش کی۔۔۔
دلہن نہیں آزمائش ہوں میں اس شخص کیلئے آزمائش
جس کا اندازہ اسے بہت جلد ہو جائے گا۔۔ترسے گا۔ساری
زندگی منہ نہیں لگاؤں گی۔بڑا آیا محبت کا دعویٰ کرنے
والا ہونہہ۔۔۔۔اس نے بے حد تنفر سے سوچا۔۔۔
نئی جگہ پر نیند نہیں آ رہی تو میں آپ کو کمپنی دے سکتا ہوں اور میری کمپنی یقیناً موبائل سے اچھی ہی ہوگی۔۔۔۔
کمرے کی معنی خیز خاموشی میں اسکی گھمبیر سحر انگیز آواز گونجی۔۔۔
وہ چونکی۔۔۔۔۔گردن موڑ کر اسکی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔ہنوز آنکھوں پر بازو رکھے لیٹا تھا۔۔ وہ سویا نہیں تھا۔۔۔جاگ رہا تھا۔۔حالانکہ وہ اسکی طرف پشت کیے کمبل کے اندر ہی موبائل یوز کر رہی تھی پھر بھی وہ جان گیا تھا کہ وہ کیا کر رہی تھی۔۔۔۔۔بنا دیکھے بھی اسکی طرف سے باخبر تھا۔۔۔۔اسے حیرت ہوئی کتنا شارپ حسیات رکھنے والا انسان تھا۔۔
نو تھینکس۔۔۔۔رکھائی سے کہہ کر موبائل تکیے کے ساتھ سائیڈ پر رکھا چہرہ کمبل کے اندر کر لیا اور سونے کی کوشش کرنے لگی مگر نیند کا آنا بہت مشکل تھا۔۔
