171.9K
78

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Hayat (Episode 64) Last Episode (Last Part).

Meri Hayat By Zarish Hussain

چار سال کی ہونے پر جب اسکا شہر کے مہنگے انگلش میڈیم سکول میں ایڈمیشن کروایا گیا تو پورے سکول کو ہی معلوم ہو گیا کہ۔۔” وہ مشہور فلمسٹار ماحر خان کی بیٹی ہے۔۔ لہذا پرنسپل اور ٹیچرز سمیت سکول کے پورے سٹاف کی طرف سے اسے خصوصی توجہ سے نوازا جاتا تھا۔۔آہستہ آہستہ حیان کو بھی اس بات کی سمجھ آگئی کہ وہ کسی عام شخص کی نہیں بلکہ ایک سپر سٹار کی بیٹی ہے۔۔۔۔لہذا کچھ عرصے بعد وہ بڑے فخر سے لوگوں سے اپنا تعارف کروانے لگی تھی۔۔۔۔۔

(مائی نیم از حیان خان۔۔مائی فادر ماحر خان از آ سپر سٹار)۔۔۔۔۔چار سال کی عمر میں ہی وہ اتنی تیز تھی بلا تکان بولتی تھی خاص طور پر میڈیا والوں کے سوالات کے تو فر فر جواب دیتی۔۔۔حیات کی بہت کوشش ہوتی تھی کہ وہ میڈیا، کیمرے کی لائم لائٹس سے دور رہے کئی بار وہ ماحر کو بھی کہہ چکی تھی وہ اسے میڈیا کے سامنے مت لایا کرے”۔۔ مگر احتیاط کے باوجود بھی میڈیا والوں کی حیان پر نظر پڑ جاتی تھی۔۔” خصوصاً تب جب وہ ماحر کے ساتھ باہر کہیں گھومنے جاتی اور میڈیا والے ان تک پہنچ جاتے” تو ماحر کے ساتھ اسکی بیٹی کو بھی گھیر لیتے۔۔۔۔۔۔”

“باپ چاہے میڈیا والوں سے جتنا تنگ ہوتا مگر بیٹی کو بڑا مزا آتا تھا”۔۔۔ کیمروں کی لائٹس کے سامنے انٹرویو دینے میں۔۔۔چونکہ پورے اسکول کو پتہ تھا کہ وہ ماحر خان کی بیٹی ہے سو کئی بار اسی کے توسط سے اسکے سکول کے کئی لوگوں کو ماحر خان سے ملنے کا شرف بھی حاصل ہوا۔۔وہ اپنی بیٹی کی کوئی بات نہیں ٹالتا تھا سو جب وہ کہتی پاپا میری فلاں ٹیچر آپ سے ملنا چاہتی ہے۔یا میری فلاں فرینڈ کے پاپا ملنا چاہتے ہیں تو وہ اپنی شدید ترین مصروفیت میں بھی بیٹی کی ان فرمائشوں کیلئے وقت نکال لیا کرتا تھا۔۔وہ اپنی ٹیچرز اور فرینڈز کے رشتہ داروں کی ڈائریاں گھر لے آتی اور ان پر باپ سے آٹو گراف لے کر جاتی۔۔فارس اور فضا کا اکلوتا بیٹا شاہزل بھی اسی سکول میں پڑھتا تھا جس میں حیان پڑھتی تھی وہ اس سے دو سال بڑا تھا۔۔۔فارس اور فضا اپنے بیٹے سے بڑھ کر حیان سے محبت کرتے تھے باپ کے بعد وہ ماموں کی بھی بے حد لاڈلی تھی اگرچہ خان فیملی میں وہ سب کی ہی لاڈلی تھی خصوصاً سکندر علی خان اور فائزہ سکندر کی تو جان تھی اسمیں۔۔۔جب وہ پیدا ہوئی تھی تو انہوں نے بہت بڑے پیمانے پر تقریب منعقد کر کے خوشی منائی تھی۔۔حیان کی پہلی سالگرہ منانے وہ سب نیویارک گئے تھے! وہ ننھیال دادھیال میں سب کی چہتی تھی۔۔

اگرچہ عبیر کے بھی بچے تھے زین کا بھی ایک بیٹا تھا مگر جو اہمیت خان فیملی میں حیان کی تھی وہ کسی کی بھی نہیں تھی۔۔۔عبیر اور لیزا کے درمیان سال پہلے

ڈیورس ہو چکی تھی بچے عبیر کے پاس تھے۔ولی ابھی ایک سال کا تھا۔ملازماؤں کے ہوتے ہوئے بھی حیات اس کو زیادہ تر خود ہی سنبھالتی تھی۔۔۔یونیورسٹی لائف اسکی ختم ہو چکی تھی۔۔اب وہ نفسیات میں پی ایچ کر رہی تھی۔۔۔۔ سائیکاٹرسٹ بننے کیلئے اس نے کلینیکل سائیکالوجی میں ڈگری لی اور مختلف کورسز کرنے کے بعد اس نے اپنا ایک چھوٹا سا ہاسپٹل کھول لیا” جہاں دماغی امراض کے مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا تھا۔ یہ ہاسپٹل اس نے اپنے ذاتی وسائل سے تعمیر کیا تھا۔۔ اگرچہ ماحر نے پیسہ لگانا چاہا۔۔مگر حیات نے اسے روک دیا تھا وہ کچھ اور سوچے بیٹھی تھی۔۔ہاسپٹل کا خرچ اس نے اپنا بنگلہ اور ان دو فلیٹس کو بیچ کر پورا کیا جو ایک اس کے نام میجر نعمان کر گیا تھا” اور دوسرا فارس بھائی نے جہیز کے طور پر دیا تھا۔۔۔۔۔”

ہاسپٹل کی تعمیر کے بعد اسکا خواب تھا معاشرے کے سب سے مظلوم و حقیر گردانے جانے والے طبقے یعنی خواجہ سراؤں کیلئے ایک ایسی فاؤنڈیشن قائم کرنے کا

جو انہیں عزت سے روزگار مہیا کر سکے جب اسے خود وقت گزارنا پڑا تھا ان کے بیچ۔۔۔۔تب سے اسکے دل میں اس مظلوم طبقے کیلئے بہت ہی ہمدردی بہت درد تھا۔۔

جب ان کے بیچ رہ کر اسے انکی مشکلات کا اندازہ ہوا تو تب سے اسکے دل میں خواہش پیدا ہوئی تھی بلکہ ایک عزم ایک وعدہ کیا تھا اس نے خود سے” کہ اگر وہ ان مشکل حالات سے نکل آئی” اور اس قابل ہو گئی کہ

ان کیلئے کچھ کر سکے”۔۔ تو وہ اس مظلوم طبقے کیلئے ضرور کچھ کرے گی۔۔۔انہیں عزت کی زندگی مہیا کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کرے گی۔ناچ گانے والی گناہ کی زندگی سے وہ اس طبقے کے جتنے بھی لوگوں کو نجات دلا سکتی تھی دلانا چاہتی تھی۔۔۔پھر جب اس نے اپنے بے حد چاہنے والے شوہر کے سامنے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا۔۔ تو سات مہینوں کے اندر اندر ماحر نے کافی بڑے پیمانے پر( خواجہ سرا فاؤنڈیشن) کے نام سے ایک ادارہ قائم کر کے اسکو دیا” جسمیں کم از کم پانچ ہزار لوگوں کے رہنے اور ان کے روزگار کی گنجائش تھی۔۔۔اسکی پرموشن جب ماحر نے اپنے سوشل اکاؤنٹس اور ٹی وی چینلز پر جا کر کی” تو معاشرے کے ستائے ہوئے کئی خواجہ سرا انکے پاس پہنچے۔۔۔”ایک سال کی مدت کے دوران اب وہاں تین ہزار سے زائد خواجہ سرا رہائش پذیر تھے۔۔وہاں انہیں مختلف ٹیکنکل کورسز اور سلائی

کڑھائی والے امور سکھا کر نا صرف حلال روزگار مہیا کیا جا رہا تھا”۔۔۔۔بلکہ قرآن مجید و تفسیر کی تعلیمات بھی دی جا رہی تھیں۔۔۔۔”حیات بہت مطمئن تھی اپنی زندگی میں۔۔ فضا بھابھی اور حورین نے اسکے ہر اقدام پر اسکی حوصلہ افزائی کی حورین مستقل طور پر ہی امریکہ شفٹ ہو چکی تھی تین بچے تھے اسکے۔۔۔حیات کا فون پر تو رابطہ تھا ہی اسکے ساتھ۔۔۔ اس کے علاؤہ

ایک دوسرے سے ملتی بھی رہتی تھیں۔۔۔ کبھی اس کو

کا موقع مل جاتا۔۔۔ کبھی حیات کا امریکہ چکر لگ جاتا سو ملاقات ہوتی رہتی تھی۔۔۔حورین اسکی اکلوتی اور مخلص دوست تھی۔۔ایک مخلص دوست اسے ثمرہ بھی ملی تھی تاہم وہ دوستی نبھا نہیں سکی تھی” اس نے حیات کو بتا دیا تھا کہ اسکے شوہر فہد کو پسند نہیں اپنے سے اونچے لوگوں کیساتھ دوستی رکھی جائے۔۔۔”

اور حیات اچھی طرح سمجھ گئی تھی کہ اس نے ایسا کیوں کہا۔۔۔

“۔ماحر کا رحجان بزنس کی طرف زیادہ بڑھا تو آہستہ آہستہ اس نے فلموں میں کام کرنا پہلے کم،،، پھر مکمل طور پر چھوڑ دیا تاہم شوز کی میزبانی اور ڈائریکشن کی فیلڈ سے ہنوز وابستہ تھا۔۔۔اپنی پروڈکشن کے تحت وہ سال میں جسٹ ایک ہی فلم بناتا تھا اسکی ایک فلم

اتنا بزنس کر لیتی تھی جتنا باقی اسٹارز کی ایک سال میں ریلیز ہونے والی چار پانچ فلمیں بھی نہیں کر پاتی تھیں۔۔۔تاہم فلم اور شوز سے حاصل ہونے والا سارے کا

سارا پیسہ اسکی اور حیات تنظیم کی مد میں جاتا۔۔۔”

وہ جانتا تھا حیات شوبز کی کمائی کو حرام کی کمائی سمجھتی ہے لہذا اس نے شوبز کی کمائی کا پیسہ خود پر خرچ کرنا چھوڑ دیا تھا۔۔۔ خود پر اور اپنی فیملی پر جو پیسہ وہ خرچ کرتا تھا وہ اسکی ٹیکسٹائل ملز اور ہوٹلز سے حاصل ہونیوالی آمدنی تھی۔وہ ریسٹورنٹس کی ایک بڑی چین کا مالک تھا جو ملک کے تمام بڑے شہروں کے علاؤہ دوبئی،،، کینیڈا اور آسٹریلیا جیسے ممالک میں کامیابی سے چل رہی تھی۔۔۔۔۔ اسکے علاؤہ

پارٹنرشپ کے طور پر بھی وہ کئی بزنس مینز کیساتھ

بھی کام کر رہا تھا۔۔

وہ سوئے ہوئے ولی کے رونے کی آواز سن کر کمرے میں آئی تو تواتر سے بجتے سیل فون نے اسکی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی۔۔۔۔۔ ولی کو کندھے سے لگا کر چپ کرواتے اس نے کال ریسیو کی۔۔۔۔

اسلام علیکم بھابھی۔۔۔کیسی ہیں آپ۔۔وہ خوشدلی سے فضا سے حال احوال پوچھنے لگی۔۔۔

میں ٹھیک ہوں۔۔تم سناؤ کیسی ہو۔۔اور بچے ٹھیک ہیں جواباً فضا بھی اس سے حال احوال پوچھنے لگی۔۔۔۔۔”

جی الحمدللہ ٹھیک ہیں۔۔۔

سنو حیا آریز کی شادی ہے۔۔۔۔۔۔اور اس کی بہن ہونے کے ناطے میری شرکت لازمی ہے سو آج شام کو میں اسلام آباد جا رہی ہوں۔۔۔۔ اسکول سے واپسی پر شاہزل کو تم اپنے پاس بلوا لینا۔۔۔۔ کیونکہ اسکے سکول کی وجہ سے

اسے ساتھ نہیں لے جا سکتی۔۔۔۔۔فضا اپنی مجبوری بتا رہی تھی۔۔۔

اوکے بھابھی ٹھیک ہے آپ فکر مت کریں۔۔۔۔۔ ڈرائیور کو میں کہہ دونگی حیان کو لینے جائیگا تو شاہزل کو بھی

لیتا آئیگا۔۔۔روتے ہوئے ولی کو چپ کروانے کیساتھ ساتھ وہ فضا بھابھی کو بھی تسلی دے رہی تھی۔۔۔آریز حسن کراچی یونیورسٹی کو چھوڑ کر نمل یونیورسٹی اسلام آباد میں تدریس کے فرائض سر انجام دے رہا تھا۔۔۔اس جو فیملی ممبرز تھے وہ سب بھی وہیں رہتے تھے۔فضا ان سے مل چکی تھی۔۔ آج وہ اسکی شادی میں شرکت

کیلئے فارس کیساتھ اسلام آباد جا رہی تھی۔۔۔

“چاندنی رات تھی۔۔۔آسمان روشن ستاروں سے ٹمٹما رہا تھا۔۔۔ ائیر فریشر کی خوشبو میں تازہ پھولوں کی مہک فضا کو معطر کیے ہوئے تھی۔۔۔ خوبصورت سٹینڈز میں لگی موم بتیاں روشن تھیں۔۔۔جن سے ماحول بڑا فسوں خیز اور رومینٹک لگ رہا تھا۔۔۔۔۔” میز مختلف انواع کے کھانوں سے بھری ہوئی تھی۔۔۔یہ ماحر خان کا اپنا فائیو سٹار ہوٹل تھا جو ساحل سمندر پر واقع تھا۔۔پانچ منزلہ اس جدید ہوٹل کی بلڈنگ مکمل طور پر شیشے کی بنی ہوئی تھی۔وہ دونوں اس وقت جہاں کینڈل لائٹ ڈنر کر رہے تھے ۔۔وہ پانچویں منزل پر واقع ہوٹل کا خوبصورت ٹیرس تھا۔۔۔ہوٹل کا یہ حصہ صرف اور صرف انکے اپنے لئیے مختص تھا۔۔ کسٹمرز کو اس طرف آنے کی اجازت نہیں تھی بلکہ ہوٹل کے عملے کا کوئی فرد بھی یہاں بنا

اجازت نہیں آ سکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔” آج انکی پانچویں ویڈنگ

اینورسری تھی۔آج پہلی بار اس نے ماحر کی فرمائش پر ساڑھی زیب تن کی تھی۔۔۔۔ نفیس ستاروں اور گولڈ کی تاروں سے جگمگاتی بلیک شیفون کی ساڑھی میں اسکا

حسن روز اول کی طرح جگمگا رہا تھا۔۔۔نارمل فٹنگ کی

بلاؤز اور فل آستینوں کیساتھ اسکا نازک سا سراپا جچ رہا تھا جو آج بالکل ویسا تھا جیسے شادی سے پہلے تھا

کانوں میں ڈائمنڈ کے ٹاپس تھے، جن پر نگینے لگے ہوئے تھے۔۔چہرے پر لائٹ سا میک اپ تھا۔۔گولڈن ریشمی بال

جو شادی سے پہلے کندھوں سے ذرا نیچے ہوا کرتے تھے اب کمر تک آ رہے تھے۔۔کچھ لٹیں چہرے کے اطراف میں بکھری ہوئی تھیں۔گھر سے نکلتے وقت وہ خود کو چادر میں اچھی طرح لپیٹ کر آئی تھی۔۔۔ باقاعدہ حجاب تو

وہ نہیں لیتی تھی,, لیکن باہر نکلتے وقت خود کو چادر سے کور ضرور کر لیا کرتی تھی۔۔ یہاں آ کر اس نے ماحر

کے کہنے پر چادر اتار دی تھی۔ بنا چادر کے اسکے سامنے بیٹھی بلا کی دلربائی اٹریکشن و طلسماتی کشش لئیے وہ اسکے حواسوں پہ چھا رہی تھی۔۔ ماحر نگاہیں نہیں ہٹا پا رہا تھا۔۔۔ وہ چاندنی میں نہائی ہوئی کوئی اپسرا تھی۔۔ماحر کو سمجھ نہیں،آتی تھی وہ شادی سے پہلے زیادہ حسین تھی،، یا شادی کے بعد ہو گئی تھی۔بہرحال

ایک دوسرے کی رفاقت میں دونوں کی زندگی خوش گوار گزر رہی تھی۔۔

“چاند کی مدھم روشنی کے ساتھ کینڈلز کی روشنی نے ایک سحر انگیز سا اجالا بکھیر دیا تھا۔۔وہ دونوں آمنے سامنے چئیرز پر بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔ حیات بار بار چہرے پر پھسلتی ریشمی لٹوں کو کان کے پیچھے اڑستی تھی

رومینٹک ماحول تھا۔۔۔۔خوشیاں تھیں۔۔۔۔چاہتیں تھیں۔۔

سامنے بیٹھا اسکا شریک حیات مخمور نگاہوں سے اسے

دیکھ رہا تھا ان گزرے پانچ سالوں میں ماحر کی محبت

اسکی توجہ میں کوئی فرق یا کوئی کمی نہیں آئی۔اس

نے اپنا وعدہ پورا کیا تھا۔۔۔۔ حیات کے بعد اسکی زندگی میں کوئی عورت نہیں آئی تھی۔وہ اسے ایک بار پا لینے

کے بعد بدل جائے گا،، حیات کا یہ خوف گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو گیا تھا۔۔انکی ازدواجی زندگی بہت

اچھی بہت پر سکون گزر رہی تھی۔۔۔ حیان اور ولی کی

معصوم شرارتیں انکے ہونٹوں پر مسکراہٹیں لاتی تھیں

حیات اسکے ساتھ خوش تھی یہ بات تو وہ جانتا تھا مگر وہ اس سے محبت کرتی تھی یا نہیں یہ بات وہ ان پانچ سالوں میں بھی نہیں جان پایا تھا۔۔ حالانکہ اپنے تمام فرائض وہ بخوبی ادا کر رہی تھی۔۔ اس کا ہر طرح سے خیال بھی رکھتی تھی،،،، مگر آج تک محبت کا لفظ

اس کے منہ سے ادا نہیں ہوا تھا یہ بات کبھی کبھی اس

کو اداس کر دیتی تھی۔۔۔کیا اسکی محبت حیات کے دل کا دروازہ نہیں کھلوا سکی تھی۔۔مگر پھر یہ سوچ اسے مطمئن کر دیتی تھی،، کہ کئیر بھی تو محبت کے اظہار کا طریقہ ہے وہ جتنی شرم و حیا والی لڑکی محبت کا

لفظ تو شائد قیامت تک اسکی زبان سے ادا نا ہوگا۔۔۔

وہ کچھ دیر روشن نگاہوں کیساتھ اسے دیکھتا رہا پھر

پینٹ کی جیب سے ڈائمنڈ کا خوبصورت بریسلٹ نکال کر اسکی نرم و نازک کلائی میں پہنا دیا۔۔۔

“سویٹ ہارٹ کیسا لگا ہماری ویڈنگ اینورسری کا گفٹ

وہ سرشار نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا

بیوٹیفل۔۔۔ وہ بریسلٹ کو اپنی کلائی میں گھماتے ہوئے

جھکے سر کیساتھ مسکرائی،،، جبکہ پلکیں اسکی توجہ پر خفیف سی لرزنے لگی تھیں۔۔۔” ان گزرے پانچ سالوں میں ماحر کی بے پناہ محبتوں کی بارشوں میں بھیگنے کے بعد بھی وہ اس سے شرماتی تھی۔۔۔ابھی تک اسکی والہانہ نگاہیں،،، وارفتہ انداز اسے حجاب سے سمٹنے پر

مجبور کر دیتے تھے۔۔۔۔ وہ چمکتی آنکھوں سے کچھ دیر اسکا جھینپا شرمایا انداز دیکھتا رہا،،، پھر گہری سانس بھر کر بولا۔۔۔۔ حیا آج میں تم سے کچھ پرانی باتیں کرنا چاہتا ہوں گوکہ اب ان باتوں کی ضرورت نہیں ہے مگر ایک چیز کی کمی مجھے کبھی کبھی محسوس،ہوتی ہے اسلئیے میں ذرا پیچھے ماضی میں جانا چاہتا ہوں۔۔اگر میری کوئی بات تمہیں اچھی نا بھی لگے تب بھی سن لینا۔اسکے لہجے میں لجاجت تھی۔۔حیات نے بغیر کسی ردوکد کے سر اثبات میں ہلا دیا اور ہم تن گوش ہوئی۔

“ماحر کچھ دیر یونہی سامنے کینڈلز پر نگاہیں جمائے بیٹھا رہا پھر دھیمے لہجے میں بات کا آغاز کیا۔۔۔

میں جانتا ہوں میرے بارے میں شروع سے تمہاری یہی رائے رہی کہ میں دولت و شہرت کے نشے میں چور ایک

کریکٹر لیس بدتمیز آوارہ اور لڑکی باز لڑکا ہوں جو فلم

انڈسٹری کی ہر خوبصورت لڑکی کیساتھ ٹائم پاس کرتا

دل بہلاتا ہے اور پھر دل بھر جانے پر چھوڑ دیتا ہے۔۔ہاں میں مانتا ہوں ماحر خان کی زندگی کا یہی ایک مقصد تھا لیکن صرف تب تک۔۔جب تک تم اس کی زندگی میں نہیں آئی تھی۔۔۔تم پتہ نہیں یقین کرو گی یا نہیں لیکن یہ سچ ہے کہ تمہارے بعد کوئی لڑکی دل کو نہیں لگی۔۔ تم نے میرے دل و دماغ پر اسی بری طرح قبضہ کیا کہ

میں خود پر اختیار کھوتا گیا۔۔۔۔شروع شروع میں جب

میں تمہاری طرف کھینچتا تو تب مجھے لگتا تھا کہ یہ وہی کشش ہے جو دنیا کی ہر حسین لڑکی کو دیکھ کر ہر مرد کو فیل ہوتی ہے۔ اسی غلط فہمی کے تحت میں

نے تمہیں غلط آفر کر دی اور اپنا امیج تمہاری نظروں میں مزید خراب کر بیٹھا۔۔وہ بات کرتے کرتے رکا۔۔حیات دم سادھے سن رہی تھی۔۔۔ماحر نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر ایک کینڈل کے فلیم پر نگاہ جما دی۔۔۔

“لیکن پھر بھی اللّٰہ پاک نے مجھ پر بہت بڑا احسان کیا تمہاری تمام تر مخالفت و نفرت کے باوجود تمہیں میرے مقدر میں لکھ دیا۔۔اتنا کہہ کر وہ مسکرایا۔

“وہ چپ چاپ آئی لائنر سے سجی لانبی پلکیں جھکائے گود میں رکھے اپنے مخروطی انگلیوں والے نازک گلابی ہاتھوں کو دیکھتی رہی۔۔۔۔

“میں نے دنیا بھر میں حسن تو بہت دیکھا مگر ایک دم مبہوت کر دینے والا حسن صرف تم میں ہی پایا۔تمہیں

میری چاہت نے مزید نکھار دیا ہے تمہارے حسن کو اور

بھی دو آتشہ بنا دیا ہے۔میری پوری کی پوری ہستی تم نے ہلا ڈالی سویٹ ہارٹ۔۔۔۔

وہ مخمور لہجے میں دھیمے دھیمے بول رہا تھا۔آنکھوں میں محبت کی تپش آلاؤ دہکا رہی تھی۔۔جذبات کا ایک سمندر موجزن تھا جانے کیا کچھ تھا اس نے یکلخت ہی نظریں چرا لیں۔دل کی دھڑکنیں بڑھنے لگیں۔۔۔

“یوں تو میری زندگی میں بہت سے خوشگوار قسم کے حادثے ہوئے ہیں لیکن یہ جو آخری خوشگوار حادثہ ہوا یہ عشق کا حادثہ تھا۔۔جو تم سے ہوا۔۔سب کو چھوڑ کر صرف اور صرف تم سے۔۔یہ سچ ہے کہ تم وہ پہلی لڑکی ہو جس نے پہلی ملاقات سے لے کر شادی ہو جانے،،، کے بعد بھی بہت عرصہ تک مجھ سے سیدھے منہ بات تک نہیں کی۔۔۔لیکن پھر بھی میری ہر سوچ میں ہمیشہ تم رہی میری ہر ایک بات میں تمہاری بات ہوتی تھی حیا۔

اسکے لہجے میں جنوں خیزی آتی جا رہی تھی۔۔

تم وہ پہلی لڑکی ہو جس نے آج تک میری تعریف نہیں کی میری کسی بھی چیز کیلئے مجھے کبھی سراہا نہیں بٹ پھر بھی میں تمہاری نظر میں اپنے آپ کو دیکھنا چاہتا ہوں۔میرا دل تمہارے ہونٹوں سے اپنے لئیے تعریف سننے کا تمنائی ہے چاہے وہ تعریف ایک لفظی ہی کیوں نا ہو مجھے تمہاری سوچ میں تمہاری نظر، میں اپنے آپ کو دیکھنےکی خواہش ہے جانتی ہو کیوں۔۔۔؟؟

حیات کی سوالیہ نگاہیں اٹھیں۔۔

وہ دھیرے سے مسکرایا۔۔۔

کیونکہ تمہارے دل میں کھوٹ نہیں ہے۔۔۔کوئی ڈھونگ نہیں ہے۔تم میں گھمنڈ نہیں ہے۔۔تم بہت سادہ مزاج ہو

تمہارا دل آئینے کیطرح صاف، شفاف ہے اسمیں سچائی ہے۔۔تمہاری سوچ میں ایمانداری ہے۔تمہارا کردار مضبوط ہے۔صاف ستھرا ہے۔۔ شائد یہی خوبیاں تمہیں باقی گرلز میں سے الگ کر دیتی ہیں۔۔۔۔اور اسی وجہ سے ہی میں تمہاری طرف کھینچا چلا آیا۔۔میں جان گیا ہوں۔دولت۔۔ شہرت۔۔۔ بینک بیلنس قیمتی تحفوں کی تمہارے نزدیک کوئی اہمیت نہیں۔۔۔ان چیزوں کے بل بوتے پر میں کسی بھی خوبصورت لڑکی کے قریب آرام سے چلا جاتا تھا۔۔ اور وہ بھی انہی سب چیزوں سے اٹریکٹ ہو کر میری جانب کھینچی چلی آتی تھیں، لیکن تمہارے کیس میں ایسا نہیں ہو سکا۔۔۔۔ ان چیزوں کے بل بوتے پر تمہارے نزدیک میں نہیں آ سکا۔۔۔۔تم نے مجھے،احساس دلایا کہ یہ سب چیزیں ہر انسان کیلئے ایک جیسی اہمیت ایک جیسی کشش نہیں رکھتیں۔۔۔ “مجھ سے نفرت ہونے کے باوجود تم نے مجھے کیسے قبول کر لیا یہ تو میں نہیں جانتا لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ میری کسی چیز سے امپریس ہو کر تم نے مجھے ہرگز قبول نہیں کیا۔۔

حیات بے اختیار اسے دیکھنے پر مجبور ہو گئی۔۔۔

“وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا، جیسے اپنی بات کی تصدیق چاہ رہا ہو۔۔حیات نے دھیرے سے نظریں چرا

لیں۔۔وہ کچھ دیر اسے دیکھتا رہا پھر مبہم سا مسکرایا اور اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں لے لئیے۔۔۔۔

“ویسے ایک بات بتاؤں سویٹ ہارٹ۔۔۔۔ وہ ذرا سا اسکی جانب جھکا۔۔۔ حیات کی پلکیں اس توجہ پر پھر لرزنے لگیں دھڑکنوں کا ارتعاش بڑھنے لگا۔۔۔

“تم نے شائد نوٹس کیا ہو یا نہیں۔۔۔میں تم جیسا بننے کی کوشش کر رہا ہوں۔۔۔۔ بلکہ تھوڑا تھوڑا بن بھی گیا ہوں دیکھا نہیں تم نے پانچ وقت نماز بھی پڑھتا ہوں”

کبھی کبھی تہجد بھی پڑھ لیتا ہوں۔۔ہر جمعے کی نماز

مسجد میں جا کر پڑھتا ہوں” قبر کے عذاب سے بچنے کیلئے ہر رات کو سورت تبارک بھی پڑھ کر سوتا ہوں۔۔

جب بھی ٹائم ملتا ہے تو اسلامی کتابوں کا مطالعہ کر لیتا ہوں۔ویسے نیک بیوی بھی اللّٰہ کی بہت بڑی نعمت ہوتی ہے تمہارے طفیل اتنا بدلاؤ تو آیا ہے نا مجھ میں۔بدلاؤ آتا بھی کیسے نا۔۔میری بیوی پانچ وقت نمازی ہو اور میں بے نمازی اچھا لگوں گا بھلا۔۔۔

ماحر نے ہاتھ بڑھا کر اسکے صبیح گال کو چومتی بالوں کی لٹ پکڑ کر اپنی انگلی پر لپیٹی تو اسکی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگیں۔۔۔وہ تیزی سے ہاتھ چھڑا کر اٹھی اور شیشے کی وال کے پاس جا کھڑی ہوئی،، کچھ دیر نیچے اٹھتی سمندر کی بپھری لہروں کو دیکھتی رہی پھر گردن موڑ کر، بے پناہ کشش کے حامل اس خوبرو شخص کو دیکھا اور آہستگی سے مسکرا دی۔۔ماحر سر جھکائے پلیٹ میں کھانا نکال رہا تھا،،، جو فیمیل ویٹر

ابھی ابھی سرو کر کے گئی تھی۔۔فل بلیک ڈریس کوٹ جسکے کالرز پر گولڈن و بلیک کلر میں کڑھائی کی گئی تھی اس پر بے حد جچ رہا تھا۔۔وہ خوبصورت تھا لیکن حیات کو اس پل وہ پہلے سے بھی بڑھ کر،، خوبصورت لگا۔۔۔۔ خوشی کا بھرپور عکس اس کے دلکش چہرے پر جھلملا رہا تھا۔اسکی شخصیت میں سحر تھا۔بے تحاشا کشش تھی۔۔۔وقار بھی تھا۔۔۔۔ جاہ و جلال بھی۔۔

وہ کچھ دیر کھڑی اسے دیکھتی اور سوچتی رہی پھر اسکے قریب آ کر بولی اچھے لگ رہے ہیں۔۔۔

کیا۔۔۔؟؟ یہ کینڈلز۔۔۔اس نے چونک کر سر اٹھایا اور ٹیبل

پر لگے کینڈلز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔۔

نہیں کینڈلز کا تو نہیں کہا۔۔۔۔وہ مسکراہٹ دباتے واپس

چئیر پر آ بیٹھی۔۔ وہ اپنے اور اس کیلئے ایک ہی پلیٹ میں چکن فرائیڈ رائس نکال چکا تھا۔۔۔

پھر کس کا کہا۔۔۔۔۔؟؟ وہ سوالیہ انداز میں اسے دیکھنے لگا ساتھ ہی رائس کا چمچ بھر کر اسکے منہ کی طرف بڑھایا۔۔۔وہ اکثر خود کھانے سے پہلے یونہی اسے کھلایا کرتا تھا۔۔۔۔۔۔ شروع شروع میں وہ کبھی جھنجھلاتی تو کبھی شرماتی۔۔۔ مگر بعد میں اسکے اس پیار کی عادی ہوتی گئی۔۔۔

“آپ کا کہہ رہی ہوں جناب۔۔اس کے بڑھے ہوئے ہاتھ سے حیات نے چمچ منہ میں لیا۔۔۔

“رئیلی تم نے میری تعریف کی۔۔؟؟ وہ حیرانی سے بولا

“آف کورس۔۔۔ آپ کی خواہش ہے نا میرے منہ سے اپنی تعریف سننے کی سو آپ کی یہ خواہش پوری کر دیتی ہوں۔۔وہ کندھے آچکا کر مسکرائی۔۔۔

“اوکے پھر شروع ہو جاؤ سویٹ ہارٹ۔۔۔۔ وہ مسکراہٹ دباتا ہوا چمچ پلیٹ میں رکھ کر مکمل طور پر اس کی طرف متوجہ ہو گیا۔۔۔انداز غیر سنجیدہ مگر دلچسپ تھا گویا اسکی تعریف سے لطف اندوز ہونا چاہتا ہو۔۔

اوکے۔۔۔حیات نے گلہ کھنکھارا۔۔۔مسٹر ماحر سکندر خان

میں مانتی ہوں کہ آپ بہت ہینڈسم ہیں۔۔ بہت چارمنگ ہیں۔۔بہت ڈیشنگ ہیں۔۔۔آپ سے زیادہ پرکشش مرد میں نے ابھی تک کوئی اور نہیں دیکھا۔۔۔ مگر افسوس اسکے باوجود بھی مجھے ابھی تک آپ سے عشق نہیں ہو سکا اینڈ پر ہلکی مسکراہٹ کیساتھ شرارت سے اسکی طرف دیکھا۔۔ماحر نے آبرو اٹھا کر مصنوعی خفگی سے گھورا اور پھر ہنس پڑا۔۔۔۔وہ اس سے عشق کرتی تھی یا نہیں اس کے لئیے یہی احساس ہی باعث اطمینان تھا کہ وہ اس کیساتھ خوش تھی مطمئن تھی۔۔۔

وہ طمانیت کے احساس سے لبریز کچھ اسے لمحے تکتا رہا پھر قدرے توقف کے بعد مذاق کرنے والے انداز میں بولا۔۔۔

ویسے سویٹ ہارٹ آج پہلی مرتبہ تم نے میری تعریف کی ہے ایک ہگ تو بنتا ہے نا۔۔۔ لہجے اور نگاہوں دونوں میں شوخی تھی۔۔۔۔

“شیور وائے ناٹ۔۔۔ اتنی دیر میں پہلی مرتبہ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اعتماد سے مسکرائی۔۔ ساتھ ہی کرسی دھکیل کر اٹھ کھڑی ہوئی اور اس کی طرف

اپنا نازک سا ہاتھ بڑھا دیا۔۔ وہ حیران ہوتا اسکا بڑھا ہوا

ہاتھ تھام کر اسکی تقلید میں اٹھا۔۔۔ حیات آگے بڑھ کر اسکے سینے سے لگ گئی وہ دم بخود رہ گیا حیرت اور بے یقینی سے گنگ ہو گیا۔۔۔ان پانچ سالوں میں پہلی بار اسکی طرف سے ایسی کوئی پیش رفت ہوئی تھی ورنہ تو ہمیشہ وہی اسکی طرف ہاتھ بڑھاتا تھا۔۔۔۔ وہ تو بس

تھام لیا کرتی تھی۔۔ اس کا بڑھا ہوا ہاتھ ،جھٹکتی نہیں تھی۔ان پانچ سالوں میں پہلی بار حیات کا خود اس کے

گلے لگنا۔۔ ماحر کا شاکڈ ہونا تو بنتا تھا۔۔۔۔ اس بے یقینی سے نکلنے میں اسے کم از کم پانچ منٹ لگ گئے۔۔ آہستہ آہستہ اسکے بازو حیات کے گرد حصار باندھنے لگے۔۔۔۔۔اور پھر یہ حصار مضبوط سے مضبوط تر ہوتا گیا۔۔۔

وہ اسے خود میں بھینچ گیا۔۔۔

کیا بات ہے سویٹ ہارٹ۔۔۔آج پہلی دفعہ میری گھر والی

اپنی مرضی سے اور اتنے حق سے میرے قریب آئی ہے۔۔

مجھے ہگ کر رہی ہے۔۔سویٹ ہارٹ۔اب مجھے لگ رہا ہے کہ تم میرے رنگ میں مکمل طور پر رنگ گئی ہو۔۔۔۔۔”

I am glad..I am very glad

وہ خوشی سے نہال ہوتے ہوئے بولا۔۔۔

آنکھوں میں ہلکی سی نمی آ گئی تھی۔۔۔

ایک بات کہوں مانیں گے آپ۔۔۔۔؟؟ وہ اسکے سینے میں منہ چھپائے ہوئے بولی۔۔۔

“حکم کرو سویٹ ہارٹ۔۔۔وہ اس کے ریشمی بالوں میں نرمی سے انگلیاں چلا رہا تھا۔۔چہرے پر دلفریب مسکان تھی۔۔۔

“فلمیں بنانا چھوڑ دیں۔۔۔۔ جو بات کافی عرصے سے اس کے دماغ میں تھی آج اس نے ہمت کر کے بالآخر کہہ دی

ماحر ایکدم خاموش ہوا بالوں میں اسکا چلتا ہاتھ بھی رک گیا۔۔حیات سانس روکے اسکے سینے سے لگی جواب کی منتظر تھا۔۔

سویٹ ہارٹ۔۔۔تم جانتی تو ہو فلمیں میں اب اپنے لئیے نہیں اپنی فاؤنڈیشن کیلئے بناتا ہوں۔۔۔ اگر یہ کام چھوڑ دوں تو میری فاؤنڈیشن کیسے چلے گی۔۔۔۔۔؟؟تم یہ بھی جانتی ہو نا کہ تمہارے میری لائف میں آنے کے بعد میں

نے فلمی کمائی کا ایک روپیہ بھی خود پر، تم پر، بچوں اور گھر پر خرچ نہیں کیا اور نا کبھی کروں گا۔۔ فلم اور

ٹی وی شوز سے حاصل ہونیوالا سارا پیسہ میری تنظیم کیلئے جاتا ہے۔۔۔اگر میں فلم بنانا چھوڑ دوں تو میرا جو

بزنس ہے۔۔ وہ فاؤنڈیشن کے اخراجات پورے کرنے کیلئے ناکافی ہے تو ایسے میں”

اللّٰہ مالک ہے۔۔۔ آپ اپنے بزنس پہ زیادہ توجہ دیجئے اللّٰہ برکت ڈالے گا آپ کی فاؤنڈیشن چلتی رہے گی آپ یقین تو کریں اللّٰہ پر۔۔حیات نے اسکی بات کاٹ کر اللّٰہ پر اس

کا یقین پختہ کرنا چاہا۔۔۔

“وہ کچھ دیر سوچتا رہا پھر حیات کی طرف دیکھ کر حامی بھرتے ہوئے بولا ٹھیک ہے سویٹ ہارٹ۔۔جیسا تم

کہو گی ویسا ہی ہوگا۔۔۔۔آؤ ڈنر کرتے ہیں۔۔ پھر گھر بھی

جانا ہے۔وہ اس کا ہاتھ تھامے ٹیبل کی طرف لاتے ہوئے بولا۔۔۔

آپ سچ کہہ رہے ہیں۔۔۔؟اسکے قدم اٹھنے سے انکاری ہو گئے۔۔وہ بے یقینی سے ماحر کو دیکھنے لگی۔۔۔

بالکل سچ سویٹ ہارٹ۔۔۔۔۔ ظاہر ہے اب اتنی خوبصورت لڑکی سے اختلاف تو نہیں کر سکتا۔۔۔تمہارا اللّٰہ پر یقین پختہ ہے نا تو آج سے میں بھی سب اللّٰہ تعالیٰ پر چھوڑ

رہا ہوں وہ میرے بزنس میں اتنی برکت ڈالے گا کہ میں آسانی سے تنظیم چلا سکوں گا۔۔۔ویسے تمہیں فکر کرنے

کی ضرورت نہیں میرے اثاثے اربوں میں ہیں۔۔۔ زیادہ سے زیادہ ملکوں میں اپنا بزنس پھیلاؤں گا۔۔۔ انشا اللّٰہ

صرف میری ہی نہیں تمہاری خواجہ سرا فاؤنڈیشن اور تمہارا ہاسپٹل بھی آرام سے چلے گا۔۔میں تم سے وعدہ کرتا ہوں اب کسی فلمی پروجیکٹ پر کام نہیں کرونگا

پروڈکشن ہاؤس مکمل طور پر عبیر اور زین کے حوالے کر دوں گا انکی مرضی ہے وہ فلمیں بناتے رہیں یا نہیں مگر میں نہیں کروں گا اب یہ کام۔۔تم نے اب کہا۔۔۔ اگر پہلے کہہ دیتی تو میں پہلے ہی چھوڑ چکا ہوتا۔۔خیر

آج سے میں یہ کام چھوڑ رہا ہوں۔۔۔۔۔”

وہ اس کا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں لیتے ہوئے وعدہ کر رہا تھا۔۔۔۔

“تھنک یو سو مچ۔۔۔ وہ تشکر آمیز لہجے میں کہتے ہوئے کر مسکرائی۔۔۔

My pleasure

ماحر نے اسکا ہاتھ چوم کر آنکھوں سے لگایا۔۔۔

آئی تھنک اب جلدی سے گھر چلنا چاہیے دونوں شیطان ممی(فائزہ سکندر) کو تنگ کر رہے ہونگے۔۔۔

“اوں ہوں سویٹ ہارٹ۔۔۔۔۔ میرے ننھے منے فرشتوں کو شیطان نہیں بولنا۔۔ماحر نے تنبہی انداز میں ٹوکا۔۔پہلے ڈنر تو کر لیں پھر چلتے ہیں گھر بھی وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر کرسی پر بیٹھاتے ہوئے بولا۔۔اوہو ڈنر تو پڑا پڑا ٹھنڈا

بھی ہو گیا۔۔وہ تاسف سے پلیٹ میں ٹھنڈے پڑے رائس

کو دیکھ رہا تھا۔۔

جی بالکل۔۔۔آپکا رومینس جو ختم ہونے میں نہیں آ رہا تھا ایسے میں کھانا تو ٹھنڈا ہونا ہی تھا۔حیات نے سارا

الزام اس پر دھر دیا۔۔۔

لڑکی غلط بات میں کرو۔۔۔میں نے رومینس کب کیا۔۔؟۔ماحر نے مصنوعی خفگی سے اسے دیکھا اور ویسے تم

نے مجھے کرنے کب دیا بھلا۔۔ آخر میں اسکا لہجہ شریر ہوا۔۔حیات جھینپ گئی۔۔۔چلو اور منگوا لیتا ہوں۔۔ماحر

نے ٹیبل پر رکھا انٹرکام اٹھایا۔۔۔نہیں اور مت منگوائیں اسی کو گرم کروا لیتے ہیں۔۔رزق ضائع نہیں کرنا چاہیے

حیات نے روکا تو وہ اثبات میں سر ہلا کر انٹرکام پر ویٹر کو کھانا گرم کرنے کا آرڈر دینے لگا۔۔۔

اوہو میں تمہیں ایک اہم بات تو بتانا بھول گیا ہوں۔۔اچانک یاد آنے پر ماحر نے کہا۔۔۔

حیات نے سوالیہ نگاہوں سے اسکی طرف دیکھا۔۔

“احمر کا فون آیا تھا۔۔۔۔کوئی لڑکی پسند کی ہے اس نے شادی کرنا چاہتا ہے۔۔۔۔پاکستانی نثراد برطانوی لڑکی ہے

ماموں ممانی کو بھی اعتراض نہیں ہے۔ نیکسٹ منتھ منگنی کیلئے پاکستان آنے کا ارادہ ہے سب کا۔۔۔۔۔۔

کھانا کھاتے ہوئے وہ اسے تفصیلات بتا رہا تھا۔۔۔

چلو اچھی بات ہے۔۔۔حیات نے مسکرا کر اپنے ہمسفر کو دیکھا جو اسکی سنگت میں خوش و خرم نہال لگ رہا تھا۔۔۔”ستاروں کی مدھم روشنی میں وہ دونوں کینڈل لائٹ ڈنر کر رہے تھے۔۔۔

(ماحر سکندر خان سے حیات عبدالرحمان کو محبت ہوئی یا نہیں” لیکن اسکی عادت ضرور ہو گئی تھی۔۔

صرف ماحر ہی نہیں وہ بھی اسکی سنگت میں خوش تھی مطمئن تھی۔۔حسب عادت وہ خود کھانے کیساتھ ساتھ ایک ایک چمچ اس کے منہ میں بھی ڈال رہا تھا

حیات کبھی اپنے چمچ سے کھا رہی تھی تو کبھی اسکے

چمچ سے۔۔۔۔ مدھم ستاروں کے بیچ سے یکدم جگمگاتا

ہوا چاند نکل آیا تھا۔۔فلک سے نظر آتے چاند کی روشنی

اس حسین جوڑے پر پڑ رہی تھی جو کھانا کھاتے ہوئے خوش گپیوں میں مگن تھا۔۔۔

ختم شد