Meri Hayat By Zarish Hussain Readelle50271 Meri Hayat (Episode 07)
Rate this Novel
Meri Hayat (Episode 07)
Meri Hayat By Zarish Hussain
آسمان کی بلندیوں پر سفر کرتے ہوئے اس نے اپنے چہرے پر پانی کی بوندیں محسوس کیں۔یہ بوندیں پھوار کی صورت میں اسکے چہرے پر برس رہی تھیں
ستاروں کی روشنی مدھم ہو چکی تھی۔۔اس مدھم روشنی میں بھی اسے اپنے ارد گرد صاف دکھائی دے رہا تھا۔ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا اچانک تیز ہونے لگی تھی۔ تیز ہوا کے جھونکے اس کے وجود کو چبھنے لگے تھے۔۔پھوار اسے مکمل بھگو رہی تھی۔۔اس نے دونوں ہاتھ پھیلا کے بوندوں کو اپنی ہتھیلیوں پر روکا۔۔ستاروں کی مدھم روشنی یکدم تیز ہو گئی۔۔
اس نے اپنی ہتھیلیوں کی طرف دیکھا جن پر بارش کے
قطرے تھے۔ وہ بارش کے قطرے خون کی طرح سرخ رنگ کے تھے…….”
” فوراً سے اپنے وجود کی طرف نگاہ کی جو کہ پورے کا پورا خون رنگی بارش سے بھیگا ہوا تھا۔اسکے چہرے اور کپڑوں سے لال رنگ ٹپک رہا تھا……. آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں…… منہ سے ایک چیخ نکلی…….
” اسی وقت اسکی آنکھ کھل گئی۔یہ وہ خوبصورت خواب تھا جو وہ کتنے دنوں سے دیکھ رہی تھا…. مگر آج اس کا آخری حصہ انتہائی بھیانک تھا…… پسینے سے شرابور تیز دھڑکتے دل کے ساتھ وہ اٹھ بیٹھ۔سائیڈ ٹیبل پر رکھے جگ سے گلاس میں پانی انڈیل کر ایک ہی سانس میں پی گئی……. پانی پینے کے بعد دل کی دھڑکن معمول کی رفتار پر آئی تو گردن موڑ کر ساتھ سوئے مون کی طرف دیکھا جو کہ بے خبر پرسکون سو رہا تھا…..کچھ دیر دونوں ہاتھوں سے سر پکڑے بیٹھی رہی پھر آیت الکرسی اور درود شریف پڑھ کر لیٹ گئی اور مون کے بالوں میں نرمی سے انگلیاں چلاتے وہ خواب کے متعلق سوچنے لگی….. کانوں میں اذان کی آواز گونجی تو چونکی… اسے حورین کی ایک بار کی کہی ہوئی بات یاد آنے لگی۔کہ صبح آذان کے وقت دیکھا جانے والا خواب سچ ہوتا ہے…..
کیا یہ خواب سچ ہو جائے گا۔۔۔؟خود سے سوال کیا۔
بدن میں خوف کی سی لہر سرائیت کر گئی۔۔کمبل کو مضبوطی سے خود پہ لپیٹے اسی بارے میں سوچ رہی
تھی کہ ذہن میں صدقے کا خیال آیا اور ساتھ ہی رحمت بوا کی بات یاد آئی کہ صدقہ ہر آئی مصیبت کو ٹال دیتا ہے… دل کو کچھ تسلی ہوئی جیسے پریشانی کا حل مل گیا ہو…….. آج بوا سے کہہ کے کچھ غریبوں کوصدقہ بھجوا دونگی سوچتے ہوئے وہ نماز کیلئے اٹھ گئ………!!
پھر دیر تک جائے نماز پر بیٹھی دعا مانگتی رہی
نماز نےاسے پرسکون کر دیا تھا…..!!
رات کے پہلے پہر سے شروع ہونے والی بارش رات کے آخری پہر تھم گئ……. دھلا دھلایا سبزہ اور نکھرے نکھرے پھول اور پودے نگاہوں کو تراوٹ بخش رہے تھے…… صبح کا وقت تھا بادلوں نے ابھی بھی آسمان کو ڈھانپ رکھا تھا۔نماز کے بعد وہ لان میں چلی آئی ریڈ کلر کی ایمبرائیڈری والی شرٹ اور وائٹ ٹراؤزر میں صبح کے وقت ایک عجیب سا نکھار اسکے صاف وشفاف گلاب کی طرح ترو تازہ چہرے پر بکھرا ہوا تھا………!!
کچھ دیر لان میں چہل قدمی کرنے کے بعد وہ کچن میں چلی آئی۔آج بہت دنوں بعد اس کا ناشتا بنانے کا موڈ ہو رہا تھا۔۔ملازمہ کو منع کر کے وہ خود کام میں لگ گئ۔۔۔!!
گرما گرم ناشتہ تیار ہے بابا۔۔۔۔وہ لوازمات سے بھری ٹرے سینٹر ٹیبل پر رکھتے ہوئے گویا ہوئی۔۔ !!
ارے بیٹا آپ نے کیوں تیار کیا ناشتہ۔۔گھر میں ملازم کس لئے ہیں۔۔عبدالرحمان نے شفقت سے کہا…!!
بابا۔۔۔میں نوکروں پر منحصر کرنے والی بندی نہیں ہوں
پھر آج میرا موڈ ہو رہا تھا کہ میں اپنے ہاتھ سے ناشتہ بنا کر آپ کو کھلاؤں۔۔آج میرے ہاتھ کا ناشتہ ٹیسٹ کیجیئے اور بتائیے کیسا بنا ہے۔۔۔وہ خوشدلی سے مسکراتے ہوئے بولی………..!!
ناشتہ تو یقیناً ہماری بیٹی نے اچھا ہی بنایا ہو گا۔۔۔لیکن یہ بتائیے آج آپ کا یونیورسٹی جانے کا ارادہ نہیں ہے کیا۔۔۔۔؟؟انہوں نے ہاف فرائیڈ انڈے پر کالی مرچ چھڑکتے ہوئے استفسار کیا۔۔۔۔۔۔!!
جی بابا آج نہیں جاؤں گی۔۔۔کل بہت اہم پریزنٹیشن ہے اسی کی تیاری کرنی ہے۔۔ممی نہیں اٹھیں کیا۔۔۔؟
ہاں بیٹا وہ سوئی ہوئی ہیں۔سر کا درد ٹھیک نہیں ہو رہا ان کا۔۔۔برین سرجن احتشام خان کل صبح امریکہ سے واپس آ رہے ہیں تو کل شام کا اپائنٹمنٹ ہے انکے ساتھ …….سی ٹی سکین کروانا ہے تمہاری ممی کا۔۔۔۔۔۔ ان کے لہجے میں خاصی پریشانی تھی…..!!
آپ پریشان نا ہوں بابا۔۔۔اللہ بہتر کرے گا۔میں جا کے دیکھتی ہوں مون کو ملازمہ نے تیار کیا ہے یا نہیں۔۔۔ کہتے کے ساتھ وہ اٹھ گئی اپنے کمرے میں آئی تو مون سو رہا تھا اسکو اٹھا کہ ملازمہ کے حوالے کیا….
“خود کمپیوٹر آن کر کے کل کیلئے پریزینٹیشن تیار کرنے لگی۔۔یہ بہت اہم پریزینٹیشن تھی……. اگلے ہفتے سے اسکے فرسٹ سمسٹر کے ایگزامز بھی شروع ہونے والے تھے…….!!
آج کا سارا دن اس کا پریزنٹیشن کی تیاری میں گزر گیا……تین بجے کے قریب ملازمہ نے اسے فضا کے آنے کا بتایا تو وہ فوراً سے ڈرائنگ روم میں آئی فضا بھابھی کو دیکھ کر اس کا موڈ خوشگوار ہو گیا مگر فضا منہ پھلائے ہوئے تھی۔۔۔بے مروت لڑکی۔۔۔میں نا آؤں تو تم ہمیں بالکل بھول جاتی ہو۔۔کتنے ڈھیر سارے دن ہو گئے ہیں تم نے اپنی شکل تک نہیں دکھائی۔۔۔۔خاصی ناراضگی سے بولیں…..!!
سوری بھابھی میں سٹڈی میں بزی تھی۔۔ایگزامز کے بعد ضرور چکر لگاؤں گی۔۔۔اس نے رسانیت سے کہا…
کیا….. ایگزامز……. جی نہیں میں تمہیں پرسوں لنچ پہ انوائیٹ کرنے آئی ہوں…. پرسوں سںنڈے ہے تو اسلئیے تمہارا یونیورسٹی کا بہانہ بھی نہیں چلے گا…..وارن کرنے والے انداز میں کہا…..تو وہ ہنس پڑی…..
اوکے ضرور آؤں گی۔۔رحمت بوا چائے کی ٹرالی اور دیگر لوازمات لے کہ آئیں تو وہ انہیں سرو کرنے لگی..
سائرہ عبدالرحمان سر درد کی میڈیسن لے کے سو رہی تھیں…….سو وہ انہیں تو نہیں مل سکی مگر حیات سے ایک گھنٹہ گپ شپ کرنے کے بعد وہ چلی گئ تو
وہ پھر سے اپنی پریزنٹیشن کی طرف متوجہ ہو گئ۔۔
باقی کا سارا ٹائم وہ اپنے ورک میں ہی بزی رہی…
بابا سے اسکی ملاقات رات کو کھانے کی ٹیبل پر ہی ہوئی………!!
البتہ سائرہ رحمان نے طبیعت کی خرابی کی وجہ سے کھانا نہیں کھایا تھا….ان کا سر درد اور الٹی کا مسئلہ کئی دنوں سے چل رہا تھا….کھانے کے بعد حیات انکے کمرے میں جا کر انکی طبیعت کا پوچھ آئی تھی…
اپنے کمرے میں آ کر سارا ورک کمپلیٹ کیا……….!! پریزنٹیشن انہیں سکرین پروجیکٹر پر پیش کرنی تھی۔جس کیلئے سارا ورک یو۔ایس۔بی میں سیو کر کے لے جانا تھا…… رات کو سونے سے پہلے ورک کا ایک بار پھر سے جائزہ لیا۔۔۔ اپنی تیاری سے مطمئن ہو کر یو_ایس_بی نکالی احتیاط سے اپنے بیگ میں رکھ دیا اور سونے کیلئے لیٹ گئ۔۔۔۔آج مون عبدالرحمان اور سائرہ کے کمرے میں سو رہا تھا……کل کی پریزنٹیشن کے بارے میں سوچتے سوچتے کب نیند نے اپنی آغوش میں لیا اسے پتا ہی نا چلا……..!!
وہ تیار ہو کر نیچے آیا تو دس بج رہے تھے….آج اسے اپنی فلم کی پروموشن کیلئے ایک شو میں جانا تھا…آدھا گھنٹہ تھا اسکے پاس مگر سپر سٹار تھا نا ہر جگہ لیٹ پہنچ کہ اپنی اہمیت جتانے کے فن سے واقف…سو ٹائم کی اس نے کبھی پروا نہیں کی تھی… تبھی ریلیکس موڈ میں ناشتے کیلئے ڈائننگ ہال کی طرف جا رہا تھا مگر لاونج سے آتی مام کی غصے بھری آواز سن کر وہ لاؤنج میں چلا آیا۔۔۔۔!!
“اندر داخل ہوا تو مام فاریہ اور عبیر بیٹھے تھے۔کوئی گرما گرم بحث چل رہی تھی۔۔مام کے چہرے پر غصہ تھا۔۔۔!!
کیا بات ہے کسی سیریس میٹر پر بحث چل رہی ہے کیا۔۔۔؟باری باری سب کے سنجیدہ چہروں پر ایک نظر ڈال کر اس نے استفسار کیا۔۔۔۔!!
پوچھو اس نواب زادے سے۔۔۔؟فائزہ سکندر نے غصے سے عبیر کی طرف اشارہ کیا جو کہ نظریں چرا گیا۔۔۔۔۔۔!!
بھئی کوئی کچھ بتائے گا بھی یا نہیں۔۔۔چند لمحے وہ سوالیہ نظروں سے سب کی طرف دیکھتا رہا جب کوئی کچھ نا بولا تو چڑ گیا۔۔۔۔۔!!
عبیر بھائی شادی کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔فاریہ نے اطلاع دی
۔Good… یہ تو خوشی کی بات ہے۔ بٹ آپ سب لوگ اتنا ٹینس کیوں بیٹھے ہیں۔۔؟؟ وہ صوفے پر بیٹھتے ہوئے حیرانی سے گویا ہوا…..!!
“بات تو خوشی کی ہے مگر یہ بھی تو پوچھو نواب صاحب شادی کرنا کس سے چاہتے ہیں۔۔۔مام نے عبیر کی طرف دیکھتے ہوئےطنزیہ کہا تو وہ جز بز ہو کے ادھر ادھر دیکھنے لگا……!!
کس سے۔۔۔؟؟؟؟ماحر کو تجسس ہوا…
ہمیشہ سے لوگوں کی گالیوں کا شکار مشہور زمانہ بدنام+ فلاپ ایکٹریس لیزا ایوب سے۔۔۔۔۔!!
“فاریہ نے کسی نیوز چینل کی اینکر کی طرح کڑک دار آواز میں کے کہا…!!
لیزا ایوب۔۔۔۔۔ماحر نے حیرانی سے عبیر کی طرف دیکھا
جبکہ عبیر فاریہ کو لیزا کیلئے بدنام+فلاپ ایکٹریس بولنے پر سخت نگاہوں سےگھور رہا تھا….
“ہاں وہ بے حیا کلموہی کرسچن لڑکی جس کو کپڑے کاٹتے ہیں۔۔نگ دھڑنگ پھرتی ہے۔۔کتنے مہینوں سے اسکے ساتھ رنگ رلیاں منا رہی ہے۔۔اور اس بے شرم لڑکے کو دیکھو ابھی تک دل نہیں بھرا اس سے جو شادی بھی کرنا چاہتا ہے اب۔۔۔۔فائزہ سکندر سخت غصے میں تھیں……..!!
مام پلیز…… مجھے اس سے محبت ہے۔۔عبیر نے احتجاج کیا…اسے لیزا کیلئے مام کے الفاظ پسند نہیں آئے۔۔۔!!’
“اس سے پہلے بھی تو بہت سی لڑکیوں سے دوستیاں رہیں تمہاری ان میں سے تو کسی سے محبت نہیں ہوئی تمہیں۔پھر اس میں ایسے کونسے سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں۔انہوں نے طنزیہ کہا……
ہاں بالکل نا شکل اچھی نا کریکٹر اچھا… فاریہ نے بھی لقمہ دیا……
تم اپنا منہ بند رکھو…عبیر نے غصے سے اسے ٹوکا۔!!
“یہ منہ بند رکھے گی لیکن تم بھی کان کھول کر سن
لو عبیر اس بے حیا بولڈ لڑکی کو میں اپنی بہو کبھی نہیں بناؤں گی۔۔نا تمہارے ڈیڈی اس پر راضی ہوں گے ۔۔اس خیال کو اپنے دل سے نکال دو…….اور ماحر تم بھی اسے سمجھا دو اس لڑکی کے علاوہ کسی بھی شریف عزت دار لڑکی کا نام لے مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا……….وہ غصے سے کہتے ہوئے وہاں سے جانے
لگی تھیں کہ عبیر نے کاٹ دار انداز میں کہا ایک منٹ
مام……..آپ کے بیٹے بھی تو شوبز انڈسٹری میں کام کرتے ہیں بلکہ ہماری پوری فیملی کا کسی نا کسی حوالے سے شوبز سے تعلق ہے پھر آپ لیزا کے فلم ایکٹریس ہونے پر اسے شریف عزت دار لوگوں کی لسٹ سے کیوں نکال رہی ہیں…اگر شوبز میں کام شریف عزت دار لوگ نہیں کرتے تو ہم کیسے شریف عزت دار ہوئے پھر…..؟؟
شٹ اپ عبیر اب تم مام سے بدتمیزی کرو گے…ماحر کو عبیر کے الفاظ اور انداز دونوں پر غصہ آیا….!!
میں بدتمیزی نہیں کر رہا برو میں تو صرف یہ……عبیر نے کچھ کہنا چاہا مگر فائزہ سکندر نے ہاتھ اٹھا کے اسے روک دیا…..!!
“مجھے اسکے ایکڑیس ہونے پر اعتراض نہیں جس بات پر اعتراض ہے وہ تم اچھی طرح جانتے ہو…رہی بات ہمارے عزت دار ہونے کی تو تمہاری ماں اور بہن فلموں میں کام نہیں کرتیں صرف تم اور تمہارے بھائی کرتے ہو……….!!
“اور ایک بات یاد رکھو عورت اور مرد کی عزت میں بہت فرق ہوتا ہے…مرد اسطرح کے کام کرے تو بھی اسے کوئی برا نہیں کہتا بلکہ سپرسٹار بنا دیا جاتا ہے…رہی لڑکی کی بات تو اسکے بھی ایسے کام کرنے پر لوگ زیادہ اعتراض نہیں کرتے لیکن اگر وہ اپنی حدود سے آگے بڑھے تو ایسی لڑکیوں کی معاشرے میں کوئی عزت نہیں ہوتی….اس ملک میں ہماری ایک پہچان اور نام ہے جس میں اضافہ تمہارے بھائی ماحر نے کیا ہے….ایسی شہرت رکھنے والی لڑکی کو بہو بنا کے میڈیا میں اشتہار نہیں لگوانا ہمیں…میری بات سمجھ جاؤ تو ٹھیک ورنہ تمہارے ڈیڈ اس سلسلے میں خود تم سے بات کریں گے…بات ختم کرتے ہی وہ نفاست سے اپنی ساڑھی کا پلو سنبھالتے ہوئے باہر نکل گئیں…انہیں کسی فرینڈ کے بیٹے کے ولیمے پر جانا تھا……..!!
“بھائی پلیز مام کو سمجھائیں وہ لیزا کو فلموں میں کام کرنے اور کرسچن ہونے کی بنا پر رد کر رہی ہیں۔۔۔فائزہ سکندر کے جانے کے بعد عبیر نے التجائی نظروں سے ماحر کی طرف دیکھتے ہوئے ریکوئسٹ کی جو کہ وہاں سے اٹھنے لگا تھا……..!!
دیکھو عبیر مسئلہ مذہب کا نہیں ہے۔ وہ اہل کتاب ہے۔مام کو اعتراض اسکے کرسچن ہونے پر نہیں بلکہ بولڈ ہونے پر ہے۔۔۔۔۔!!
مجھے خود بھی وہ لڑکی پسند نہیں کیونکہ وہ حد سے زیادہ بے باک ہے۔۔۔جن موویز کی وہ سٹار رہ چکی ہے..ان موویز کا فاریہ کے سامنے میں نام نہیں لے سکتا ماحر نے خشک لہجے میں کہا…..!!
برو آپ بھول رہے ہیں۔لیزا فلموں میں کام کرتی ہے اور فلموں میں کام برقع پہن کر نہیں کیا جاتا…..اسکے لئیے بولڈنس کی ہی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔عبیر نے جتانے والے انداز میں کہا……!!
“برقع پہن کر تو نہیں کیا جا سکتا مگر لمٹ میں رہ کر ضرور کیا جا سکتا ہے….وہ صرف تمہیں ڈیٹ نہیں کر رہی بہت سے لوگوں کو کر چکی ہے اور ابھی بھی کر رہی ہے…..!!
بہرحال مجھے کوئی اعتراض نہیں تمہاری لائف ہے جس سے چاہے شادی کرو۔۔۔۔۔۔۔!!بٹ اسکے لئے پھر مام کو خود ہی راضی کرنا ہوگا مجھ سے کچھ ایکسپیکٹ مت کرنا سنجیدہ سے لہجے میں کہتا ہوا وہ وہاں سے چلا گیا…..!!
بھائی آپ کو اس میں ایسا کیا نظر آیا۔۔؟؟
نا تو وہ خوبصورت ہے نا اچھی ایکٹریس ہے۔۔بس اپنی بے باکی کی وجہ سے مشہور ہے۔۔یعنی وہی بدنام ہیروئن۔۔۔!! فاریہ نے منہ بگاڑ کے کہا تو عبیر نے تنبہی نظروں سے اسے گھورا اور بنا کچھ کہے اپنے کمرے کی طرف چلا گیا… لیکن یہ تو طے تھا عبیر سکندر خان اپنی ضد سے پیچھے نہیں ہٹنے والا…… فاریہ کندھے اچکاتے اپنے موبائل کی طرف متوجہ ہو گئی جہاں اسکی دوست کی کال آ رہی تھی…..
صبح حسب معمول فجر کی نماز کے وقت ہی اسکی آنکھ کھل گئی تھی…… نماز پڑھنے کے بعد پریزنٹیشن کے اہم نکات جن کو پیپر پر بھی نوٹ کر لیا تھا ان پر ایک نظر دوڑائی پھر تیاری اور ناشتے کے مرحلے کے بعد ڈرائیور کے ساتھ یونیورسٹی پہنچی……. یونیورسٹی گراونڈ میں ہی فرحین مل گئ جو اسے دیکھتے ہی فوراً پاس آئی۔۔پریزنٹیشن شروع ہونے میں ایک گھنٹہ رہتا تھا اس دوران سارا ٹائم فرحین اس سے چپکی رہی…..!!
پریزینٹیشن شروع ہونے سے دس منٹ قبل جب وہ کلاس روم کی طرف جا رہی تھی تو فرحین بھی ساتھ ہی تھی……..!!
سیڑھیاں چڑھ کر اوپر کلاس روم کی طرف جاتے وقت فرحین کے پاؤں میں موچ آ گئی تو وہ کراہتے ہوئے وہیں بیٹھ گئی……..!!
اوہو زیادہ تکلیف ہو رہی ہے کیا۔۔۔؟؟حیات نے فکرمندی سے پوچھا۔۔۔۔!!
ہاں بہت زیادہ۔۔۔اس نے ویسے ہی کراہتے ہوئے جواب دیا……..!!
اچھا ہمت کرو اور اٹھنے کی کوشش کرو۔ پریزنٹیشن ہونے والی ہے۔۔۔حیات نے اسے تسلی دیتے ہوئے اٹھانا چاہا…………!!
اوکے۔۔کوشش کرتی ہوں۔۔آواز سے ابھی بھی درد کا احساس ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔چہرے پر بھی تکلیف کے اثرات تھے……!! حیات کو اسکی حالت دیکھ کے افسوس ہونے لگا……..مسلسل کراہتے ہوئے اس نے اٹھنے کی کوشش کی اور ساتھ ہی اپنے بیگ کی طرف ہاتھ بڑھایا جسے حیات نے اٹھا لیا اور اپنا دوسرا ہاتھ سہارے کیلئے اسکی طرف بڑھایا….!!جسے تھام کے فرحین نے اٹھنا چاہا مگر اٹھتے اٹھتے پھر بیٹھ گئ…………!!
او گاڈ حیا میری وہ بلیک فائل تو وہیں لائبریری میں رہ گئی ہے۔۔اسکے کور میں یو_ایس_بی تھی۔۔۔اچانک سے فرحین کو یاد آیا تو بوکھلا کے کہا۔۔۔
اچھا تم یہیں رکو میں لے کے آتی ہوں۔۔۔اپنی نرم مزاجی اور ہمدردانہ طبیعت کے باعث حیات نے اسے تسلی دی۔۔۔
ٹھیک ہے اور یہ بیگز یہیں رکھتی جاؤ اور جلدی آنا۔۔فرحین نے اپنے اور اسکے بیگز کی طرف اشارہ کیا جن کو حیات نے اٹھا رکھا تھا۔۔۔۔!!
اس نے اثبات میں سر ہلایا۔اور دونوں بیگز اسکے قریب سیڑھیوں پر رکھ دیے اور لائبریری کی طرف بڑھ گئ…
جیسے ہی وہ وہاں سے گئی فرحین نے فوراً سے اسکے بیگ کو کھولا اور جلدی جلدی کھنگالنے لگی۔۔کچھ دیر کی تلاش کے بعد اسے اسکی مطلوبہ چیز مل گئ تو اسکے چہرے پہ شاطر مسکراہٹ آگئ۔۔۔۔!!
“فوراً سے اس چیز کو نکال کے اپنے بیگ میں رکھا مگر
اس سے پہلے اپنے بیگ سے سیم چیز نکال کر اسکے بیگ میں منتقل کرنا نہیں بھولی۔۔۔!!
کچھ دیر بعد حیات عبدالرحمان اسکی فائل پکڑے آگئی
فرحین نے فوراً سے چہرے پر تکلیف دہ اثرات سجا لئیے۔حیات نے اسے کھڑے ہونے میں سہارا دیا تو وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اسکے ساتھ کلاس روم میں چلی گئی۔۔۔تاہم کلاس روم میں داخل ہونے سے پہلے وہ حیات سے نظر بچا کر سیڑھیوں کے پاس کھڑے ارسلان بھٹی کی طرف وکٹری کا اشارہ کرنا نہیں بھولی۔۔۔۔۔۔۔
کلاس روم میں خاصی افراتفری مچی ہوئی تھی۔۔
سب سٹوڈنٹس فکرمند لگ رہے تھے۔۔۔۔۔
حیات آج پہلے والی چئیر کو چھوڑ کر چھوتھی رو میں ایک چئیر پر جا بیٹھی تھی۔۔۔
ارتضیٰ حسن جیسے ہی آئے بنا کسی دیر کے اس نے پہلے سٹوڈنٹ کو پریزنٹیشن کیلئے بلایا۔
بلیک بورڈ کی جگہ پر بڑی سی سکرین لگی ہوئی تھی۔۔
پہلے سٹوڈنٹ نے ساتھ رکھے لیب ٹاپ میں اپنی یو ایس بی لگائی اور سکرین کے آن ہوتے ہی پریزنٹیشن دینے لگا۔۔۔۔!!
دس منٹ کے اندر اس نے اپنی پریزنٹیشن ختم کی تو اسکے بعد نیکسٹ سٹوڈنٹ آیا۔۔۔اسطرح ایک کے بعد دوسرا آتا گیا۔۔۔اپنی باری پر حیات اٹھی۔۔وہ کچھ نروس تھی۔یہ نروسنس پریزنٹیشن کی وجہ سے نہیں بلکہ ارتضیٰ حسن کی وجہ سے ہو رہی تھی۔۔۔۔۔
اپنی نروسنس پر قابو پاتے ہوئے اس نے یو_ایس_بی کو لیب ٹاپ میں ڈال کر اوکے کیا تو اگلے ہی لمحے سکرین روشن ہوئی۔۔وہ جو اب فل اعتماد سے سکرین پر نظر رکھے کھڑی تھی۔۔اگلے ہی لمحے اسکے سر پر آسمان گر پڑا………….!!
سکرین پر عمران ہاشمی کی کسی مووی کا انتہائی بے ہودہ کسنگ سین چل رہا تھا۔۔۔۔
ساری کلاس حیرت سے آنکھیں پھاڑ کے دیکھ رہی تھی۔
کئی نگاہیں شرم سے جھک گئیں۔۔
ارتضیٰ حسن بھی دم بخود رہ گیا۔۔
حیات کیلئے اپنے قدموں پر کھڑا رہنا دوبھر ہو گیا…
مس حیات عبدالرحمان کیا ہے یہ…..؟؟ارتضی حسن نے حیرت اور غصے کی زیادتی سے دھاڑ کے پوچھا…
حیات جو سکرین کی طرف پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے ساکت کھڑی تھی ارتضیٰ حسن کی دھاڑ پر فوراً سے ہوش میں آ ئی اور تیزی سے یو_ایس_بی نکالی۔۔۔۔۔۔۔!!
پوری کلاس میں چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں۔۔۔کوئی حیرت اور افسوس کر رہا تھا تو کوئی دبی دبی آواز میں مزے لے کے ہنس رہا تھا۔۔۔۔۔
فرحین کے چہرے پر تمسخرانہ مسکراہٹ تھی۔۔
صرف اسی کے چہرے پر نہیں بلکہ کھڑکی کے ساتھ کھڑے وجود کے چہرے پر بھی فاتحانہ مسکراہٹ تھی
جو کہ ارسلان بھٹی تھا۔۔۔
حیات جس کا شرمندگی اور دکھ سے برا حال تھا بے حد مشکل سے بول پائی۔۔۔۔
سسس سر۔۔ یہ یہ میری یو_ایس_بی نہیں ہے۔۔۔۔ٹانگیں الگ کانپ رہی تھیں……..!!
آپکی نہیں ہے تو آپکے پاس کیا کر رہی ہے۔۔؟؟انہوں نے بے حد درشت لہجے میں کہا……
مجھے نہیں پتہ سر کسی نے میرے ساتھ شرارت کی ہے
اب کی بار وہ اپنے آنسوؤں پر قابو نا رکھ پائی۔۔۔۔مگر ارتضیٰ حسن کسی رعایت کے موڈ میں نہیں تھا…
فضول کے بہانے بنانا بند کریں۔۔پندرہ منٹ ہیں آپکے پاس پریزنٹیشن کیلئے۔۔پندرہ منٹ بعد آپ اپنی پریزنٹیشن دے سکیں تو ٹھیک otherwise۔اسکے بعد آپ اپنے پریزنٹیشن مارکس گنوانے کی خود ذمہ دار ہونگی۔۔۔۔۔
بے حد سرد+کرخت لہجے میں کہتے ہوئے وہ نیکسٹ سٹوڈنٹ کی جانب متوجہ ہوگئے۔۔۔۔۔!!
وہ آنسو پیتی اپنی چیئر پر آ کر بیٹھ گئی۔۔۔
بہت افسوس ہوا یار کس نے ایسی گھٹیا حرکت
کی تمہارے ساتھ۔۔۔؟؟ فرحین نےلہجے میں مصنوعی ہمدردی پیدا کرتے ہوئے سرگوشی کی….
پتا نہیں۔۔۔۔۔۔حیات نے آہستہ سے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
خیر اب کیا کروگی تم۔۔۔۔بیس منٹ میں کیسے تیار ہو سکتی ہے اتنی مشکل پریزنٹیشن بھلا۔۔۔۔سر تمہیں فیل کر دیں گے۔۔۔۔۔؟؟وہ بتا رہی تھی یا پوچھ رہی حیات سمجھ نہیں پائی مگر لفظ فیل پر چونکی ضرور….
“ایک خیال اسکے ذہین میں آیا جس نے اسے کچھ حد تک پرامید کر دیا۔۔وہ مائنڈ میں اہم نکات کو دہرا رہی تھی۔۔۔ٹھیک پندرہ منٹ بعد جب لاسٹ رو والا سٹوڈنٹ اپنی سیٹ پر آ کر بیٹھا تو وہ فوراً اپنی چیئر چھوڑ کر آگے بڑھی۔۔
سر مجھے بلیک بورڈ یوز کرنا ہے۔کیا میں اس سکرین کو ہٹا سکتی ہوں۔۔سوالیہ نگاہوں سے ارتضیٰ حسن کو دیکھا تو انہوں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے دو سٹوڈنٹس کو بلیک بورڈ کے آگے نصب سکرین کو ہٹانے کو کہا۔۔۔۔
سکرین ہٹتے ہی حیات نے نہایت اعتماد سے بلیک بورڈ پر لکھنا شروع کیا۔۔۔۔لکھنے کے ساتھ ساتھ اسکے بول کر سمجھانے کا انداز بھی ایسا بہترین تھا کہ ارتضیٰ حسن دل ہی دل میں اسکی ذہانت کا قائل ہو گیا۔۔۔!!
سب سٹوڈنٹس کے چہروں پر اس کیلئے داد اور تحسین آمیز تاثرات تھے..جبکہ فرحین دل ہی دل میں جلن کے مارے کھول رہی تھی….. چہرے پر تاریکی چھائی ہوئی تھی یہ تاریکی اور جلن اسوقت سو گنا بڑھ گئ جب ارتضیٰ حسن سمیت پوری کلاس نے حیات عبدالرحمان کی بہترین پریزنٹیشن پر تالیاں بجائیں…….!!
اسوقت ارتضیٰ حسن کے چہرے کے تاثرات بھی نرم پڑ گئے تھے اور ایسا پہلی دفعہ ہوا تھا کہ اس نے اپنے کسی سٹوڈنٹ کی کلیپنگ کروا کے حوصلہ افزائی کی تھی یہی چیز فرحین سے برداشت نہیں ہو رہی تھی۔کلاس ختم ہوتے ہی وہ ارسلان بھٹی کے سر پر جا پہنچی اور دانت پیس کر بولی… تمہارا منصوبہ فلاپ ہو گیا… ارتضیٰ سر سمیت پوری کلاس نے اچھی پریزنٹیشن دینے پر اسکے لئے تالیاں بجائی ہیں….
کوئی بات نہیں پہلے تو انسلٹ ہوئی ہے نا تم دیکھنا آج میں سب کے سامنے کیسے بے عزتی کرتا ہوں اسکی
منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گی ترکش لیڈی…وہ مطمئن انداز میں مسکرایا…..
ہونہہ۔۔۔دیکھتے ہیں….وہ تنفر سے کہہ کر آگے بڑھ گئی پیچھے ارسلان بھٹی کو اسکے انداز پر آگ لگ گئی وہ اپنے گرگوں کو اشارہ کرتا حیات عبدالرحمان کی تلاش میں اٹھ کھڑا ہوا….
پریزنٹیشن ختم ہونے کے بعد دوسری کلاس لے کے جب وہ لائبریری میں داخل ہورہی تھی تو باہر نکلتا وجود دانستہ اس سے بری طرح ٹکرایا۔۔۔۔
وہ جو ماتھے پر ہاتھ رکھے کھڑی تھی اپنے اردگرد آہنی بازوؤں کا حصار محسوس کر کے جھٹ سے دیکھا تو سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اس کا خون کھول اٹھا۔۔۔۔۔
” لیو می…… تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے ٹچ کرنے کی۔۔۔انتہائی غصے سے اسکے ہاتھ اپنے کندھوں سے جھٹکے…….!!
ریلیکس ترکش بیوٹی۔۔ سنا ہے آج کلاس میں آپ نے کسنگ سین کی پریزنٹیشن دی ہے۔کیا بات ہے کہیں اسی پریزنٹیشن والے سین کا اثر تو نہیں ہو رہا۔۔انتہائی کمینگی سے مسکراتے ہوئے ٹکرانے کی طرف اشارہ کرتے پھر سے جان بوجھ کے اسکے کندھوں پر ہاتھ رکھے………!!
جسٹ شٹ اپ۔۔۔دوبارہ ایسی واہیات حرکت کی تو وائس چانسلر صاحب سے تمہاری کمپلین کر دوں گی۔۔
اب ہٹو میرے راستے سے۔۔۔۔۔۔!!
اس شخص کی حرکتوں کو اگنور کر کر کے اس کی برداشت جواب دے گئی تھی۔۔سو پہلے سے زیادہ شدت سے اسکے ہاتھ جھٹکے اور دو قدم پیچھے ہٹ کے انتہائی غصے سے انگلی اٹھا کے اسے وارن کیا مگر
اس شخص پر کوئی اثر نہیں ہوا وہ ہنوز مسکراتا رہا۔۔!!
کرو ضرور کرو کمپلین………ویسے کونسی واہیات حرکت۔۔۔ابھی والی یا پریزنٹیشن والی۔۔۔۔دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے بے شرمی سے آنکھ دبائی…حیات عبدالرحمان کا تو اسکی حرکت اور بات دونوں پر خون کھول اٹھا……..!!
یعنی کہہ وہ۔۔۔۔۔ وہ گھٹیا حرکت تمہاری ہی تھی۔۔
شک تو پہلے ہی تھا….سو نفرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے تصدیق چاہی…..!!
وہ خباثت سے مسکرایا……..!!
پھر اسکی طرف ذرا سا جھک کے آہستہ آواز میں بولا
“یس مادام ایکچولی رات میں نے عمران ہاشمی کی ایک مووی دیکھی اس کا ایک سین مجھے بہت پسند آیا تھا تو میں نے سوچا آپ کو بھی دکھا دوں۔۔!!
آخر کو فلموں میں جانے والی ہیں آپ۔۔۔ وہاں یہی سب تو کرنا ہوگا۔۔۔۔سر سے پیر تک اندر جھانکنے والی بے ہودہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پھر سے آنکھ دبائی تو حیات کا دل چاہا اس ذلیل انسان کا منہ نوچ لے۔۔۔۔۔۔۔!!
گھٹیا انسان تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے ساتھ اسطرح کی بے ہودہ حرکت کرنے کی۔۔۔چھوڑوں گی نہیں میں تمہیں۔۔وہ چیخی اور ہاتھ میں پکڑی فائل اسکے منہ پہ مارنی چاہی مگر ارسلان بھٹی بھی غافل نہیں تھا۔ فوراً ہاتھ سے پکڑ لیا اور جھٹکا دے کے قریب کیا۔۔۔!!
غصے میں تو اور بھی زیادہ حسین لگتی ہو ترکش بیوٹی……وہ کھول کر رہ گئی…اپنا ہاتھ چھڑوانا چاہا مگر گرفت بہت مضبوط تھی….وہ دبی دبی آواز میں چلائی…. چھوڑو……مگر ارسلان بھٹی نے چھوڑنے کے بجائے ایک بے ہودہ حرکت کی….!!حیات عبدالرحمان کا ضبط جواب دے گیا زور سے چیخی…میں نے کہا چھوڑو مجھے گھٹیا بے ہودہ انسان……پوری طاقت لگا کے اپنا ہاتھ چھڑایا اور اسے دھکیل کر خود سے دور کیا…….!!
آس پاس سٹوڈنٹس خاموش تماشائی بنے کھڑے تھے۔۔
کسی میں ہمت نہیں تھی ارسلان بھٹی سے الجھنے کی… کئی افسوس کی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے مگر ارسلان بھٹی کی بدماشی کی وجہ سے کوئی آگے بڑھ کر اسے روکنے کی کوشش نہیں کر رہا تھا….!!
پتا ہےگائز….. آج مس حیات عبدالرحمان کی پریزنٹیشن تھی….جانتے ہیں آپ لوگ انہوں نے کیا پریزنٹیشن دی….؟؟
حیات کی طرف استہزایہ انداز میں دیکھتے ہوئے بلند آواز سے سب کو مخاطب کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔
کوئی کچھ نا بولا…..مگر اسکے چمچوں نے باچھیں پھیلا کے پوچھا کیا…؟؟
ان محترمہ نے اپنی آج کی پریزنٹیشن سکرین پر ایک کسنگ سین پیش کر کے سٹارٹ کی…. وہ بھی عمران ہاشمی کا کسنگ سین… جسے دیکھ کے سب سٹوڈنٹس بلکہ وہ ہٹلر پروفیسر ارتضیٰ حسن بھی انکی کارکردگی کو سراہے بنا نہیں رہ سکا…لگتا ہے بہت بڑی فین ہیں یہ عمران سر کی…… زور دار قہقہہ لگایا
اف کیا سین تھا….جب سکرین پر وہ رومینٹک سین چل رہا تھا اور ارتضیٰ حسن اس بچاری پر بادل کی طرح گرج رہے تھے….حالانکہ سب سے ڈفرنٹ اور اتنی اچھی پریزنٹیشن دینے پر تو انہیں مس حیات عبدالرحمان کو انعام واکرام سے نوازنا چاہیے تھا…وہ بھر پور انداز سے مذاق اڑا کر حیات کو نیچا دکھانے کی کوشش کر رہا تھا……..!!
اسکے گرگے اسکے ساتھ مل کر ہنس رہے تھے….جبکہ
باقی کچھ چہروں پر حیرانی تھی اور کچھ سپاٹ چہروں کے ساتھ خاموش کھڑے تھے۔۔۔۔۔
سب کا بے حس بن کے خاموش تماشائی بنے رہنے پر حیات کی آنکھیں بھر آئیں وہ فوراً وہاں سے نکلتی چلی گئی۔۔۔۔۔۔!!
چپ رہنے سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ اس گھٹیا شخص کو مزید شہہ ملے گی۔۔۔
گراؤنڈ کے ایک خالی گوشے میں آ کر بیٹھی تو عینی بھی اسکے پاس آ کر بیٹھ گئی…..!! حیات عبدالرحمان خاموشی سے سامنے لگے درخت کو دیکھتی رہی…
نیلی خوبصورت آنکھوں سے پانی کے شفاف قطرے گر کر رخساروں پر ہیروں کی مانند چمک رہے تھے…..
عینی کچھ دیر اسکی طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھتی رہی….کتنی خوبصورت ہے یہ…دل نے بے اختیار سراہا اسے……..!! اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا
یہاں پہ کوئی تمہارا ساتھ نہیں دے گا کیونکہ سب ڈرتے ہیں اسکی بدمعاشی سے تمہیں اپنا ساتھ خود ہی دینا ہوگا…..عینی کچھ پل اسکے بولنے کا انتظار کرتی رہی…..!!مگر وہ ہنوز درخت پر نگاہیں جمائے لاتعلق سی بیٹھی رہی………!!
” میری بات سنو حیا.!! وہ ذرا سا اسکی طرف جھکی…انداز راز درانہ تھا……
حیات نے بھیگی آنکھیں صاف کر کے اسکی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا……!!
آج جو حرکت تمہارے ساتھ کی گئی ہے وہ اس ارسلان بھٹی اور فرحین کی ملی بھگت سے ہوئی….!!دھیمی آواز میں اسے مطلعِ کیا……
کیا فرحین….؟؟وہ بری طرح چونکی… آنکھوں میں بے یقینی تھی…..ہاں فرحین…..عینی نے اثبات میں سر ہلایا……اسی نے اس لڑکے کے کہنے پر تمہاری یوایس بی بدلی تھی…….وہ حیران رہ گئی………!!
لوگ دوستی کی آڑ میں اسطرح بھی دھوکہ دیتے ہیں اسے افسوس ہوا…..!!
فرحین اس شخص کے ساتھ مل سکتی ہے وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی……!!
“لیکن وہ ایسا کیوں کرے گی..؟؟ اسکی مجھ سے کیا دشمنی…؟؟ وہ تو اچھی لڑکی ہے…وہ الجھن آمیز انداز میں بولی……
“میں نہیں جانتی اس نے کیوں ایسی دشمنی نکالی لیکن یہ بات سچ ہے اسی نے اس ارسلان بھٹی کے کہنے پر تمہارے ساتھ یہ حرکت کی…… یہ بات میں نے خود اس بھٹی کے منہ سے سنی ہے وہ کوریڈور میں کھڑا ہو کر اپنے دوستوں کو ہنس ہنس کے بتا رہا تھا….میں وہاں سے گزر رہی تھی تو سن لیا میں نے….عینی نے اسے پوری بات بتائی….!!
“اگر تم اس طرح چپ رہی تو یہ کوئی اور چیپ حرکت کرے گا تمہارے ساتھ…. پوری یونیورسٹی جانتی ہے ایک نمبر کا کمینہ+کینہ پرور انسان ہے..میری مانو تو مینیجمینٹ میں کمپلین کر دو……عینی نے اسے سمجھانا چاہا…
جب کہ وہ صبح والے واقعے کے بارے میں سوچ رہی تھی جب فرحین نے پیر کی موچ کا بول کر اس سے اس کا بیگ لے کر اسے اپنی فائل لانے بھیج دیا……
کیا سوچ رہی ہو……ایسے خاموشی سے اس گھٹیا شخص کی حرکتیں برداشت کرتی رہو گی…؟؟
عینی نے اسے خاموش دیکھ کے پوچھا…..
ایسے میں اسے حورین کی بات یاد آئی…..!!
حیا جب میں یونیورسٹی سے چلی جاؤنگی تو تمہیں نڈر بن کر رہنا ہوگا… کسی سے ڈرنا نہیں اور نا ہی مسئلہ بڑھ جانے کے خوف سے کسی کی بدتمیزی کو اگنور کرنا یا ہتھیار ڈالنا…….لوگ تمہاری خاموشی اور شرافت کو تمہاری بزدلی سمجھ کے شیر بننے لگتے ہیں….اسی لئیے کسی کے آگے جھکنا یا دبنا ہرگز نہیں….اور نا ہی کسی کی غلط بات برداشت کرنا……دل میں پختہ ارادہ کرتے وہ اٹھ کھڑی ہوئی……تم یہیں رکو میرا بیگ اور فائل پکڑو میں آتی ہوں…..کہنے کے ساتھ وہ عینی کو اپنا بیگ اور فائل پکڑاتی تیز تیز قدموں سے چیئرمین صاحب کے آفس کی طرف بڑھ گئی………
سر اندر ہیں……؟؟؟
چہرے کو بائیں ہاتھ کی پشت سے رگڑتے اس نے ایک لمحہ رک کر آفس کے سامنے بیٹھے میل سیکرٹری سے پوچھا اور بنا اس کا جواب سنے تیزی سے دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوئی……..!!
جتنی تیزی سے وہ دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوئی اندر چئیر پر بیٹھے لیب ٹاپ پر جھکے شخص نے بھی اتنی ہی تیزی سے سر اوپر اٹھایا مگر اسے دیکھ کر حیات کو سانپ سونگھ گیا…..
یس…….کافی دیر تک جب وہ کچھ بول نا پائی تو اسے ہی بولنا پڑا…….اسکے گالوں پر بہتے ہوئے آنسو جو اب رک چکے تھے مگر اثرات واضح نظر آ رہے تھے…..
وہ….وہ چیئرمین صاحب…..اس کی زبان لڑکھڑا گئی..
سمجھ نہیں آ رہا تھا کیسے اور کیا بولے….کیوں کہ چیئرمین صبغت اللّٰہ صاحب کی جگہ جو شخص سامنے بیٹھا تھا اسکی وہاں موجودگی کی توقع یا خیال اسکے ذہین میں اسوقت بالکل نہیں تھا جب وہ آفس میں داخل ہو رہی تھی… سو کنفیوژ ہوگئی
وہ جو چیئرمین صاحب سے ارسلان بھٹی کی کمپلین کیلئے جو جو الفاظ سوچتی ہوئی آئی تھی ارتضیٰ حسن کو سامنے دیکھ کر سب بھول گئی…لفظ کہیں کھو گئے…نیلی آنکھیں پھر سے پانیوں سے لبا لاب بھر گئیں…وہ کچھ بول نہیں پائی……لفظ گلے میں کہیں اٹک گئے تھے…………!!
چیئرمین صاحب چھٹی پر ہیں…آپ مجھے بتائیے اپنا پرابلم مس حیات عبدالرحمان…اسکی خوبصورت نیلی آنکھوں سے چھلکتے پانی کو ہی دیکھ کر شائد اس نے خلاف توقع نرم لہجے میں کہا…….!!
“
سر وہ فائنل ائیر کا ایک سٹوڈنٹ ہے ارسلان بھٹی..اس نے…..خود پر قابو نہیں رکھ پائی اور بلک بلک کر روتے ہوئے وہ اسے ارسلان بھٹی کی پہلے کی اور آج کی تمام حرکتوں کا بتانے لگی….جیسے ہی اس نے بات ختم کی… ارتضیٰ حسن جو اسے روتا دیکھ کر اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا تھا نے غصے سے لب بھینچ کر پوچھا…..
اب کہاں ہوگا لڑکا…..؟؟؟
وہیں لائبریری کے آس پاس گراؤنڈ میں شائد… وہ الٹے ہاتھ سے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی……
ٹھیک ہے چلئیے میرے ساتھ……اسکے یکدم Reaction
لینے پر حیات نے کس قدر حیرانگی سے اسکی طرف دیکھا جس کے چہرے کے عضلات خطرناک حد تک پتھریلے لگ رہے تھے…….
وہ پلٹ کر آفس سے باہر نکل آئی ارتضیٰ حسن اسکے پیچھے ہی چل رہا تھا..حیات کا رخ لائبریری والے ایریا کی طرف تھا اور وہ اسے نظر بھی آ گیا تھا.. لائبریری کے بالکل ساتھ والے گراؤنڈ میں اپنے گروپ کے لڑکوں کے ساتھ بیٹھا تھا… سٹوڈنٹس خاصی حیرانگی سے سر ارتضیٰ حسن کو حیات کے پیچھے چلتا دیکھ رہے تھے………….!!
سر یہ ہے وہ لڑکا…… ارسلان بھٹی کے قریب پہنچ کر حیات نے اسکی طرف اشارہ کیا جو کہ انہیں اپنی طرف آتا دیکھ کر پریشانی+حیرانی سے کھڑا ہو گیا تھا……….!!
آس پاس کے کچھ سٹوڈنٹس اپنی شامت کے ڈر سے کھسک کے ذرا دور ہو گئے تھے…..
کیا مسئلہ ہے کیوں پریشان کر رہے ہو مس حیات عبدالرحمان کو…….؟؟؟ ارتضیٰ حسن نے بے حد سخت نظروں سے اسے گھورتے ہوئے پوچھا……..
“نو سر میں نے تو انہیں کچھ نہیں کہا…وہ پہلے تو بوکھلایا مگر پھر فوراً پر اعتماد لہجے میں مکر گیا….
تو یہ جھوٹ بول رہی ہیں….اسکے مکرنے پر ارتضیٰ حسن نے غصے سے اونچی آواز میں بولتے ہوئے حیات کی طرف اشارہ کیا……
یس سر بالکل جھوٹ بول رہی ہے یہ…..وہ ڈھٹائی سے بولا……مگر اگلا لمحہ اس پر بھاری پڑا جب ارتضیٰ حسن کا بھاری بھرکم طمانچہ اسکے چہرے پر پڑا…
طمانچہ اتنا شدید تھا کہ وہ خود تو ہلا ہی ساتھ کھڑی حیات بھی اچھل پڑی……جو سٹوڈنٹس وہاں کھڑے تھے وہ بھی ڈر کے کھسک گئے…….!!
ارتضیٰ حسن نے لہو چھلکاتی نگاہوں اسے دیکھتے ہوئے سیکرٹری دین محمد کو حکم دیا اس لڑکے کا
نام پتہ رولنمبر اور اسکے فادر کا فون نمبر اس سے لو اور میرے پاس آفس لے آؤ…..اور ساتھ ہی حیات سے بھی اسی پہلے والے روڈ انداز میں مخاطب ہوا محترمہ آپ جائیں اپنی کلاس میں اور ایک غلط نگاہ ارسلان بھٹی پر ڈالے بنا آفس کی طرف مڑ گیا…..!!
حیات بھی وہاں سے تیز تیز قدموں سے چلی گئی جبکہ پیچھے ارسلان بھٹی اسے خونخوار نظروں سے جاتا دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔ تھپڑ گال پر نہیں اسکے دماغ پر پڑا تھا جسمیں اسوقت لاوا ابل رہا تھا….
۔
۔
شاور لینے کے بعد کافی کا کپ لے کر وہ ٹیرس پر آ گئی تھی۔ذہن میں ہونے والے سارے واقعات گھوم رہے تھے۔
آج کے واقعے کو لے کر اسکے اندر شدید غصے کی لہر تھی۔جو اب تک معدوم نہیں پڑی تھی……….!!
“ذہن بٹانے کیلئے وہ نیچے لان میں کھیلتے مون کو دیکھنے لگی………!!
عبدالرحمان سائرہ کو لے کر برین سرجن کے پاس گئے ہوئے تھے۔کافی کا ایک سپ لے کر اس نے بابا کا نمبر ملایا۔سائرہ ممی کی طبیعت کا پوچھنے کے ساتھ انکی واپسی کا پوچھا تو انہوں نے کہا انہیں کافی دیر ہو جائے گی۔کچھ برین ٹیست کرانے ہیں لہذا وہ ان کا ویٹ نا کرے۔کھانا کھا کے خود بھی سو جائے اور مون کو بھی سلا دے……..
رابطہ منقطع کر کے وہ نیچے جانے کیلئے پلٹی تو فون بجنے لگا۔۔۔۔۔۔
بابا کا سمجھ کے اس نے فوراً سے ریسیو کیا تو آگے سے جو آواز سننے کو ملی وہ کچھ سنی سنائی سی لگی۔۔۔۔۔مگر فوراً پہچان نہیں پائی۔۔۔۔۔۔۔۔!!
کون….. ؟؟؟استفسار کیا………!
ماحر سکندر خان بات کر رہا ہوں۔اس بار فون کاٹنے کی غلطی مت کرنا مس حیات عبدالرحمان۔۔آواز میں ایسی تنبیہہ تھی کہ خوف کی ایک لہر اسکے پورے بدن میں سرایت کرگئی اور وہ چند پل کیلئے چپ کی چپ رہ گئی۔کال ڈراپ نہیں کر پائی……..
کیوں فون کیا ہے آپ نے۔۔؟؟اگر دوبارہ سے فلم کی آفر کرنے کیلئے تو میں آپ کو پہلے بتا دوں میرا جواب ہمیشہ کی طرح نا ہی ہوگا۔۔۔۔۔ خود پر قابو پا کے مضبوط مگر خشک لہجے میں کہا………
نہیں فلم کے بارے میں بات نہیں کرنی۔کچھ اور بہت ہی ضروری بات کرنی ہے۔۔۔۔۔انداز الجھانے والا تھا
جی کہئیے۔۔وہ چونکی تھی۔۔ دوسری طرف سے کچھ پل خاموشی چھائی رہی۔۔۔۔۔
کہئیے۔۔۔اسے خاموش پا کے وہ پھر سے بولی تھی۔لمحہ بھر کو تو تجسس ہوا تھا۔۔۔۔ کہ اگر فلم والی بات نہیں تو اور کونسی بات کرنا چاہتا ہے بھلا……….ایسی کونسی بہت ضروری بات ہوگی جو وہ اس سے شئیر کرنا چاہتا ہے…….!!
” میں آپ کے ساتھ کچھ وقت گزارنا چاہتا ہوں۔۔۔ مدعا بیان ہوا تھا۔۔۔۔”
کیا مطلب۔۔؟وہ چونکی۔۔۔۔مدعا سمجھ میں نہیں آیا
کمال ہے سادہ سی تو بات ہے اور آپ کو سمجھ نہیں آئی۔۔۔۔سر سری سے انداز میں کہا گیا
مگر کیوں۔۔۔۔؟حیات کی آواز کانپی تھی۔۔کس لئیے۔۔۔۔؟
ہر چیز کی وجہ منہ سے بتانا ضروری نہیں ہوتا۔۔کچھ باتیں بنا کہے بھی فوراً سے سمجھ میں آ جاتی ہیں۔۔
ویسے بھی میں نے تو سنا ہے کہ آپ حسین ہونے کے ساتھ ساتھ خاصی ذہین بھی ہیں۔ پھر یہ بات۔۔یہ مدعا۔۔اتنا مشکل تو نہیں جو آپ کو سمجھ نہیں آ رہا۔۔۔
لیکن بات ہے کیا۔۔۔؟ کس لئیے آپ ٹائم گزارنا چاہتے ہیں۔۔؟کھل کے کہئیے میں سمجھی نہیں۔۔۔وہ اب بھی نا سمجھی سے کہہ رہی تھی۔۔۔
کھل کے بتانا ضروری ہے کیا۔۔۔؟؟
جو کہنا ہے صاف صاف کہیں مسٹر۔۔۔۔۔میں سمجھ نہیں پا رہی آپکی بات۔۔۔۔۔اب کے چڑ کے الجھے ہوئے انداز میں بولی۔۔۔
اوکے تو پھر کھل کے ہی کہہ دیتا ہوں۔۔سمپل سی بات ہے آپ مجھے پسند آئی ہیں اسی لئے کچھ گھنٹے آپکے ساتھ اکیلے میں گزارنا چاہتا ہوں اور اس کا معاوضہ ادا کروں گا آپ کو۔۔۔۔
واٹ۔۔۔۔۔وہ ساکت رہ گئ۔۔۔
یس۔۔۔جتنا اماونٹ آپ بولیں گی اتنا ملے گا۔۔وہ متانت سے بولا۔۔۔۔۔
اگر اسوقت آپ میرے سامنے ہوتے تو آپ کی اس بے ہودہ آفر کا جواب آپ کو آپ کےگال پر ملتا” طمانچے کی صورت میں۔۔۔
حیرت صدمے اور طیش سے اس کا برا حال تھا۔۔ بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ شخص سامنے آئے اور وہ اسے گولی مار دے۔۔۔۔۔۔!!
