Meri Hayat By Zarish Hussain Readelle50271 Meri Hayat (Episode 46) Part - 1
Rate this Novel
Meri Hayat (Episode 46) Part - 1
Meri Hayat By Zarish Hussain
دھک۔۔دھک۔۔۔دھک۔۔۔
اسکے دل کی دھڑکنیں معمول سے بڑھ گئی تھیں۔لمحے
بھر کو اسے وہ پورا بنگلہ گھومتا ہوا محسوس ہوا۔اس کی پیشانی غرق آلود ہو گئی۔اگرچہ اس نے کوئی جرم نہیں کیا تھا۔۔۔مگر خود کو کسی ایسے مجرم کی طرح محسوس کر رہی تھی جس کی حالت پکڑے جانے کے خوف سے بگڑ رہی ہو۔۔منتشر ہوتے حواسوں کو یکجا
کر کے اس نے جیسے تیسے خود کو سنبھالا۔۔۔۔
اگر اس شخص سے سامنا ہو جاتا وہ یا اس کا مینیجر اسے پہچان جاتا تو وہ بہت بڑی مصیبت میں پھنس سکتی۔۔کیونکہ اسے یقین تھا اس کا نمک حلال مینیجر
اسکے ساتھ لازمی ہوگا۔۔۔۔مگر اس سے پہلے اسے اس مصیبت سے نکلنے کا کوئی راستہ ڈھونڈھنا تھا جس
میں اسکے پھنسنے کا امکان تھا۔اب بات صرف خواجہ
سراؤں سے چھٹکارے کی نہیں تھی بلکہ جس عفریت
کی وجہ سے آج وہ ان حالوں کو پہنچی ہوئی تھی اسی عفریت کے شکنجے میں پھر سے جکڑے جانے کا
خوف اسے ہر حال میں یہاں سے فرار ہونے پر اکسا رہا
تھا۔۔روزی اسکے اندر چلنے والی پکڑ دھکڑ سے بے خبر
ماحر خان کی تعریفوں میں لگی ہوئی تھی کہ وہ ایک
اچھا ایکٹر ہونے کے ساتھ اچھا انسان بھی ہے اسکی
فاؤنڈیشن چل رہی ہے جو غریبوں کی ہیلپ کرتی ہے
یہ وہ۔۔۔حیات کا دماغ پھٹنے لگا اسکی تعریفوں سے
اسلیئے وہ برہمی سے اسے ٹوک گئی۔۔۔
کیا ہوا ہے۔۔۔تمہیں پسند نہیں وہ۔۔۔تم نے اسکی کوئی فلم دیکھی کبھی۔۔۔؟؟روزی اس سے استفسار کرنے لگی
حیات نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔ساتھ کھڑی الماس نے
اسے ٹوکا۔۔۔۔روزی چپ رہو۔۔۔۔گرو جی نے پابندی لگائی
ہوئی ہے اسکے گھر سے باہر بولنے پر۔۔اور تم اسے بولنے
پر اکسا رہی ہو۔۔۔
او ہاں۔۔۔۔میں تو بھول ہی گئی۔۔۔۔روزی نے اپنے سر پر ہاتھ مارا۔۔۔۔۔
ارے لڑکیو اس طرف آؤ ڈائریکٹر صاحب بلا رہے ہیں تھوڑی دیر میں ہمارا سین شروع ہونے والا ہے”
بوبی گرو نے سب خواجہ سراؤں کو آواز دی۔۔
اب وہ لڑکیاں تھیں یا نہیں بوبی گرو انہیں لڑکیاں ہی کہتا تھا۔گرو کے حکم پر روزی بھی اس کا ہاتھ پکڑ کر سب کے ساتھ اس طرف بڑھ گئی جس طرف گرو نے اشارہ کیا تھا۔۔
شوٹنگ بنگلے کے وسیع و عریض لان میں ہو رہی تھی۔
یہ بنگلہ عموماً فلموں کی شوٹنگ کیلئے ہی استعمال ہوتا تھا۔۔۔بڑے بڑے سنگی مجسمے۔۔ان کے چاروں طرف لگے فوارے۔اسڑیلین گھاس کے وسیع و عریض قطعے۔۔۔
ملکی غیر ملکی رنگ برنگے پھولوں کے پودے۔۔۔بنگلے
کی بیرونی دیواروں کے ساتھ سرو۔۔۔ایرکیریا اور بوتل
پام کے درخت۔۔اس بنگلے کا مالک فلم والوں کو شوٹنگ
کے لیے رینٹ پر دے کر لاکھوں کما رہا تھا۔۔۔
فلم کی پوری ٹیم وہاں لان میں موجود تھی جن میں ڈائریکٹر۔۔۔پروڈیوسر۔۔۔ڈائیلاگ رائٹر۔۔۔۔میک اپ آرٹسٹ سپاٹ بوائے۔۔۔کیمرہ مین۔۔کوریوگرافکر۔۔۔۔اور ایکسٹرا آرٹسٹ سمیت چالیس پینتالیس کے قریب لوگ شامل تھے۔بہت بڑی کاسٹ تھی۔۔ہیروئن آ چکی تھی اور میک اپ روم میں اپنا میک اپ کروا رہی تھی۔۔۔لیکن فلم کا ہیرو ابھی تک نہیں پہنچا تھا۔۔۔ڈائریکٹر سمیت پوری ٹیم سیٹ پر اسکا بے صبری سے انتظار کر رہی تھی ویسے بھی اسکے جلدی آنے کا امکان نہیں تھا کیونکہ اس کے بارے میں مشہور تھا وہ سیٹ پر ہمیشہ لیٹ پہنچتا ہے۔۔اس سچویشن میں جب پوری ٹیم ہیرو کے جلدی آنے کی دعائیں مانگ رہی تھی۔ایک وہ تھی جو اسکے نا آنے کی دعا مانگ رہی تھی۔۔۔
اس شخص سے سامنا ہونے کا خیال ہی اس کیلئے اذیت
ناک تھا۔اگرچہ اس گیٹ اپ میں اس کے پہچانے جانے کا امکان بہت کم تھا مگر پھر بھی اسے خوف لاحق تھا بالفرض اگر وہ اسے دیکھ کر پہچان لیتا۔۔تو لازماً پہلے بدلا لیتا اور پھر اس جھوٹے مرڈر کیس میں پولیس
کے حوالے کر دیتا۔۔۔۔۔سوچ کر ہی اسکے رونگھٹے کھڑے ہونے لگے۔۔۔۔وہ دل ہی دل میں زور شور سے اللّٰہ تعالیٰ سے دعاگو تھی کہ وہ اسے مزید مصیبت سے بچا لے نا صرف اس شخص سے بلکہ اس تیسری مخلوق کی قید سے بھی۔اگر وہ اسکی طرف نا دیکھتا اور نا پہچانتا تو
بھج وہ اسکی شکل دیکھنے کی روا دار نہیں تھی۔۔۔
“انسان پہاڑ کی چوٹی سے گر کر تو کھڑا ہو سکتا ہے
مگر کسی کی نظروں سے گرا ہوا شخص کبھی بھی کھڑا نہیں ہو سکتا۔اور نا ہی وہ پہلے والا مقام و مرتبہ حاصل کر سکتا ہے۔۔۔وہ شخص بہت بری طرح گرا تھا
بہت ہی بری طرح۔۔۔۔اس کی نظروں سے ہی نہیں بلکہ اسکے دل سے بھی۔۔پھر کیسے وہ اسکی صورت دیکھنا گوارا کرتی۔۔دنیا کے لئیے پرکشش حسین سہی مگر اس کے لئیے کراہیت آمیز چہرہ تھا اس شخص کا۔۔جس کو
خوبصورتی کے نقاب نے ڈھانپ رکھا تھا۔۔۔لرزتے کانپتے دل کے ساتھ وہ مسلسل اسکے نا آنے کی دعائیں کر رہی تھی جب بوبی گرو کی پھٹے ہوئے ڈھول جیسی کرخت آواز پر چونکی۔۔۔
وہ چلتے ہوئے ان سب کے سامنے آ کھڑے ہوئے۔ان کے ساتھ دو اور فرد بھی تھے۔گرو نے اپنی رنگی برنگی برادری کو مخاطب کیا۔۔
لڑکیو یہ اس فلم کے ڈائریکٹر حبیب صاحب ہیں۔۔اور یہ فلم کے پروڈیوسر قمر صاحب ہیں جو کہ تم سب کو تمہارا سین سمجھائیں گے اس لئیے مکمل توجہ سے سنو۔۔
بوبی گرو کی ایک خاص بات یہ تھی کہ باقی خواجہ سراؤں کی طرح وہ زنانہ کپڑے اور میک اپ استعمال نہیں کرتے تھے۔۔۔شلورا کرتہ رنگین واسکٹ پہنے مردانہ حلیے میں رہتے تھے۔البتہ باقی سب کی طرح پان ضرور چباتے تھے۔حیات کے لئیے ان لوگوں کا پان چبانا۔۔۔پھر تھوکنا۔۔۔اور پان کی سمیل۔۔۔۔۔شدید کراہیت آمیز تھا۔جسے وہ منہ پر ڈوپٹہ رکھ کر برداشت کیا کرتی تھی”
رنگے برنگے لہنگے چولیوں اور ساڑھیوں میں ملبوس نقلی وگیں لگائے مضحکہ خیز میک اپ تھوپے تمام کے
تمام خواجہ سرا جو کہ دس بارہ کی تعداد میں تھے ڈائریکٹر اور پروڈیوسر صاحب کی طرف دل و جان سے متوجہ ہوئے۔ کسی فلم میں کام کرنے کا یہ ان کا پہلا تجربہ تھا اس لئیے وہ سب ایکسائیٹڈ تھے۔سوائے ایک خواجہ سرا کے جو نہایت مجبوری کے عالم میں وہاں کھڑا تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کسی طرح اس غلاظت بھرے ماحول سے نکل بھاگے۔۔سیم ان کے گیٹ اپ میں انکے ساتھ کھڑی وہ انہی کی ہی برادری کا ایک فرد معلوم ہو رہی تھی کوئی بھی دیکھنے والا آسانی سے نا پہچان پاتا کہ یہ خواجہ سرا نہیں بلکہ ایک حسین و جمیل مکمل بھرپور لڑکی ہے۔۔
ڈائریکٹر ان سب کو ان کا سین سمجھانے لگا۔۔۔
سب لوگ توجہ سے سنیں۔۔۔ سین ایسے سٹارٹ ہوگا کہ فلم کی ہیروئن کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے۔۔۔۔آپ کو اسکے گھر جا کر ناچنا گانا ہے۔بالکل ایسے جیسے حقیقت میں کسی کے ہاں بچے کی ولادت پر آپ لوگ جا کر ناچتے اور گاتے ہیں۔۔بہرحال یہاں پہ آپ کو گانا نہیں ہے۔بیک سائیڈ میوزک دیا جائے گا۔۔ آپ لوگوں کو صرف ناچنا ہے اور گانے کے بولوں پر ایسے منہ ہلانا ہے جیسے آپ خود گا رہے ہوں۔۔۔جب آپ لوگ ناچ گا رہے ہونگے اسی وقت ہیرو کی وہاں انٹری ہوگی۔جسے آپ سب اس بچے کا باپ سمجھ کر گانا گاتے ہوئے اس سے پیسے مانگیں گے۔۔۔۔ہیرو چونکہ اس بچے کا باپ نہیں ہوگا اس لئیے وہ ذرا غصے سے آپ لوگوں کو ڈانٹے گا۔اس دوران آپ سب کو اپنے چہروں پر حیرانی کے تاثرات دکھانے ہونگے۔۔۔۔اور پھر آگے کا سین بعد میں بتایا جائے گا۔
ابھی اسی سین کی ریہرسل کرنی ہے آپ لوگوں نے”
اوکے سمجھ گئے نا آپ لوگ۔۔۔۔؟؟
ڈائریکٹر جبیب ملک نے ان سب کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
سب خواجہ سراء جوش و خروش سے سر ہلانے لگے
سوائے حیات کے جس کی ساری توجہ یہاں سے کسی طرح نکلنے پر فوکس تھی۔وہ یہاں سے نکلنے کا سوچ تو رہی تھی مگر ان سب کے بیچ میں نکلنا اتنا آسان نہیں تھا۔اسکے دماغ میں جھکڑ چل رہے تھے۔
اسی وقت وہاں فلم کے ہیرو ماحر خان کے آنے کا شور مچا تو اس کا دل اضطراب۔۔۔ خوف۔۔۔۔اور غم و غصے سے سکڑنے پھیلنے لگا۔پورے جسم میں فشار خون بھی تیز ہونے لگا تھا۔نس نس میں شرارے سے دوڑنے لگے تھے۔۔اس نے بے اختیار اپنے ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچ کر خود پر قابو پانے کی کوشش کی۔۔۔
بنگلے کے گیٹ پر ہی ٹیم کے لوگوں نے بھاگ کر اس کا استقبال کیا جیسے کسی وزیر اعظم کا جہاز سے اترنے
پر کیا جاتا ہے۔۔اسکی بلیک مرسڈیز بنگلے کے اندر آئی تھی۔اسکے گارڈز سے پہلے ہی ٹیم کے لوگوں نے پھرتی
سے اس کے لئیے دروازہ کھولا تھا۔۔۔
پورے سات ماہ گیارہ دونوں بعد وہ اسے فیس ٹو فیس دیکھ رہی تھی۔بلیک پینٹ پر وائٹ شرٹ اور بلیک لیدر کی جیکٹ پہنے۔۔۔سیاہ سلکی گھنے بالوں کو جیل سے سیٹ کیے بلیک کلر کے گوگلز لگائے ہمیشہ کی طرح بے حد ہینڈسم کسی ملک کا شہزادہ لگ رہا تھا۔۔۔۔۔اس کی طلسماتی شخصیت کی حیثیت خوابوں اور سپنوں کے تصوراتی شہزادے کی سی تھی۔۔ایک ایسا شہزادہ جو
فاتح فوج کی قیادت کرتے ہوئے وطن واپس لوٹا ہو اور
پورا شہر اسے دیکھنے اور ہاتھ ملانے کے لئیے امڈ پڑا ہو۔۔اور وہ کسی لٹے پٹے عام انسان کی طرح دور سے حسرت بھری نظروں سے تک رہی ہو۔۔
کاش ظاہر کے ساتھ باطن بھی اس کا خوبصورت ہوتا اسکے زخمی دل سے صدا بلند ہوئی۔۔۔
مرسڈیز سے اتر کر جب وہ مینیجر گارڈز اور ڈائریکٹر
پروڈیوسر کی رہنمائی میں بنگلے کے اندرونی حصے کی طرف بڑھا تو دونوں اطراف میں کھڑے لوگوں نے گلاب کی پتیوں کی برسات اور اور تالیوں کے ساتھ اس کا سواگت کیا۔یہ شائد اس لئیے تھا کہ بڑے ٹائم بعد اس نے لاہور کا چکر لگایا تھا۔۔
ڈھیروں گلاب اور موتیے کے ہار گلے میں پہنے استقبال کرنے والی فلم کی تمام کاسٹ سے وہ مسکراتے ہوئے ہاتھ ملا رہا تھا۔۔
اس کے چہرے پر خوشی اور مسکراہٹ دیکھ کر حیات عبدالرحمان کا دل بے طرح جلنے لگا۔آنکھوں میں اچانک مرچیں سی بھرنے لگیں۔اسے ان برے حالوں کو پہنچانے والا خود کیسے مزے سے اپنی زندگی جی رہا تھا۔۔۔۔
اور دوسری طرف وہ مزے یا سکون تو دور مشکلات کی دلدل میں ہی دھنستی چلی جا رہی تھی۔بے رحم
آندھیوں کی زد میں ادھر ادھر ڈولتی پھر رہی تھی
زندگی کی گاڑی کسی ایک پرسکون مقام پر رک ہی نہیں رہی تھی ناجانے کب تک یوں در در کی ٹھوکریں کھانا اسکی قسمت میں لکھا تھا۔ اس شخص کی وجہ سے ایک ایک کر کے سب اپنوں کو بھی کھو بیٹھی تھی وہ۔گزرے وقت کے تمام واقعات اس کے ذہن کی سکرین پر روشن ہوتے گئے تو دل پر لگے زخم بھی پھر سے تازہ ہو کر درد کرنے لگے۔اس کا پورا وجود اذیت کے مارے سلگنے لگا۔۔منہ پر ہاتھ رکھ کر وہ خود کو باآواز بلند رونے سے روکنے لگی”
اس کا پورا وجود دکھ نفرت غم و غصے کی زیادتی کی وجہ سے لرزنے لگا تھا۔۔۔بڑی مشکل سے وہ اپنے آپ پر قابو پائے کھڑی تھی۔۔وہاں موجود ہر شخص کے چہرے پر اس کیلئے رشک اشتیاق اور خوشی کے تاثرات دیکھ کر وہ بری طرح کھو لنے لگی۔۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ چیخ چیخ کر سب کو اسکی اصلیحت بتا دے۔۔اس کے خوبصورت چہرے پر چڑھا نقلی اچھائی کا ماسک نوچ کر سب کو اسکے باطن کی سیاہی دکھا دے
اسے بے گھر بے در کرنے والا خود عیاشی کر رہا تھا۔وہ
دیکھ رہی تھی فلم کی بولڈ سی ہیروئن جسکا ٹائٹ سکرٹ صرف گھٹنوں تک تھا اسے گلے سے لگاتے وقت وہ کیسے مسرور لگ رہا تھا۔۔۔
ایک معصوم لڑکی سے اسکے خواب چھین کر کیسے پر سکون لگ رہا تھا وہ۔۔
اسکی آنکھیں ویران کر کے خود کیسے شاد آباد لگ رہا تھا۔۔
اسکے ساتھ بے رحم مذاق کر کے اسکا دل بنجر اور زندگی برباد کرنے والا کیسے مطمئن لگ رہا تھا۔۔
کیا اسے اپنے کیے پر ذرا دکھ ذرا پچھتاوا نہیں ہوا ہوگا۔۔۔؟؟ وہ اسکے ہنستے مسکراتے مطمئن چہرے کو دیکھ کر اذیت سے سوچنے لگی۔۔دل سے ایک آہ نکل
گئی۔۔
صاف و شفاف آنسوؤں کے قطرے پھسل پھسل کر اسکے شائننگ بیس کی تہوں سے کور گالوں پر گر کر بیس کا حصہ ہی معلوم ہو رہے تھے۔بے پناہ تکلیف میں مبتلا اس نے چہرے کا رخ ہی پھیر لیا کہ کہیں وہ اسکی طرف دیکھ نا لے اور اسے پہچان نا جائے۔۔
شاٹ لینے کیلئے سیٹ اپ ریڈی تھا۔لیکن ابھی ہیرو ہیروئن کو تیار ہونا تھا۔۔اس سے کچھ ہی فاصلے پر و ہیروئن اور ڈائریکٹر کے ساتھ کھڑا ڈسکشن کر رہا تھا۔اسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا پچھلے سات ماہ سے جسکو کراچی کو ایک ایک کونے میں ڈھونڈھ رہا تھا وہ اس سے کچھ ہی فاصلے پر سفید گلابوں کے پودے کے پاس کھڑی ہے۔۔
تمام خواجہ سرا اس سے ہاتھ ملانے اور تصویر کھینچوانے کے لئیے اسکے پاس جا رہے تھے جنہیں وہ کافی خوشدلی سے مل رہا تھا۔شائد اس برادری کے لئیے
وہ بھی دل میں نرم گوشہ رکھتا تھا۔
چلو حور ہم بھی اس سے مل کر آتے ہیں۔۔۔۔۔روزی نے جوش سے کہتے اسکے ہاتھ سے پکڑ کر کھینچنا چاہا۔۔
نہیں مجھے نہیں جانا۔۔۔تم جاؤ۔۔۔۔اضطراب میں مبتلا کھڑی حیات نے فوراً اس کا ہاتھ جھٹکا۔۔۔
ارے یار ملک کا اتنا بڑا سپر سٹار ہے۔۔۔۔لوگ ترستے ہیں
اس سے ملنے کو قسمت سے آج موقع ملا ہے۔چلو نا حور
روزی نے اصرار کیا۔۔۔۔
میں نے کہا نا مجھے نہیں ملنا۔۔۔تم نے جانا ہے تو جاؤ پیلیز۔وہ بھرائے ہوئے لہجے میں ذرا غصے سے بولی
اچھا تم یہیں رکنا ادھر ادھر مت جانا۔گرو نے دیکھ لیا تو غصہ ہونگے تم پر۔میں آتی ہوں۔روزی اس کے بھرائے ہوئے لہجے پر غور کیے بنا اسے سمجھا کر اس طرف بڑھ گئی جدھر وہ کھڑا اسکے ساتھیوں سے مل رہا تھا۔۔
حیات نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے رخ موڑا تو جھٹکا لگا۔خوف سے تھرا کر رہ گئی۔سامنے ہی ماحر خان کا مینجر فرقان کھڑا بڑے غور سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا۔۔
کیا یہ مجھے پہچان گیا۔۔۔؟؟
اس کے پورے جسم میں سرسراہٹ دوڑ گئی وہ گھبرا کر تیزی سے اسکی سائیڈ سے نکلتی دوسری طرف بڑھ گئی۔۔۔
دوسری طرف فرقان بڑی حیرانی سے اس خواجہ سرا کو خود سے گھبرا کر دوسری طرف جاتے دیکھ رہا تھا۔وہ تو ٹیم کے ایک بندے سے بات کرنے کیلئے وہاں سے گزر رہا تھا جو اس بے حد وسیع و عریض گارڈن کے آخری سرے پر موجود تھا۔۔۔۔ان خواجہ سراؤں پر بنا دھیان دیے وہ ان کے قریب سے گزر رہا تھا تو جانی پہچانی آواز پر ٹھٹھک کر رکا۔۔۔
لیکن بولنے والی شخصیت کا چہرہ دیکھ کر اسے مایوسی ہوئی کیونکہ وہ ایک خواجہ سرا تھا۔سر جھٹک کر اگنور کرتے وہ آگے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
شاٹ لینے میں ابھی کچھ ٹائم تھا اسی لئیے وہ خواجہ سراؤں کی فرمائش پر انکے ساتھ سیلفیاں بنوا رہا تھا۔کچھ فاصلے پر گلاب کے پودے کے پاس کھڑے خواجہ سرا کی طرف اس نے دیکھنے کی زحمت بھی نہیں کی جو غم و غصے اور نفرت سے اسے گھور رہا تھا۔
اگر دیکھ لیتا تو پتھر ہو جاتا۔۔۔
پروڈیوسر کے ساتھ محو گفتگو بوبی گرو کی نظر اس پر پڑی تو اس نے فوراً روزی اور مدھو کو آواز دی۔
وہ دونوں جیسے ہی گرو کے پاس آئیں تو وہ انہیں تھوڑا سائیڈ پر لے جا کر آہستہ آواز میں غصے سے ڈانٹنے لگا۔۔۔
کمینیو حور کو اکیلا کیوں چھوڑا وہ فرار ہو جائے تو۔۔۔۔؟؟ تم لوگ تو سیلفیاں لینے میں لگی ہوئی ہو اس پہ نظر کون رکھے گا۔۔؟؟بوبی گرو نے کھا جانے والی نظروں سے دونوں کو گھورا تو دونوں گڑبڑا گئیں۔
معاف کیجئے گا گرو جی۔۔۔ہم نے سوچا اتنے لوگوں کی موجودگی میں وہ بھلا کیسے بھاگ سکتی ہے۔اسی لئیے اسے وہاں چھوڑ کر میں ہیرو کے ساتھ سیلفی لینے گئی تھی۔ویسے بھی مجھے نہیں لگتا وہ بھاگ سکتی ہے۔آپ
خوامخواہ میں اس بیچاری پر شک کرتے ہیں گرو جی وہ تو بہت معصوم سی لڑکی ہے۔۔۔
۔روزی نے حیات کا دفاع کیا تو گرو نے کڑے تیوروں سے اسے گھورتے ہوئے کہا۔۔
بکواس بند کر روزی۔۔۔۔۔تیری ڈیوٹی میں نے اس لئیے حور کے ساتھ لگائی ہے کیونکہ تجھ سے وہ بات کرتی اور تیری بات مانتی بھی ہے۔۔اس لئیے تو اس پر نظر رکھے گی وہ ہماری برادری کی نہیں ہے۔۔۔ ہمارے ساتھ مجبوری میں رہ رہی ہے اسکی طرف سے بے فکر نا رہو جیسے ہی موقع ملا اسے وہ بھاگنے کی کوشش ضرور کرے گی۔۔۔
گرو جی ٹھیک کہہ رہے ہیں۔۔۔وہ ہماری برادری کی نہیں بلکہ ایک مکمل لڑکی ہے اوپر سے اتنی حسین بھی ہے
تو بھلا وہ کیوں اپنی مرضی سے ہمارے ساتھ ہماری دنیا میں رہنے لگی۔۔۔دیکھنا گرو جی موقع ملتے ہی بھاگ جائے گی وہ لڑکی۔۔۔
مدھو نے بوبی گرو کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا
تو روزی نے ماتھے پر بل ڈال کر اسکی طرف دیکھا۔۔۔۔
تم تو چپ ہی رہو۔۔۔بیچاری حور کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑی ہو۔اسکی کی خوبصورتی کی وجہ سے اس سے کتنا جلتی اور خار کھاتی ہو۔۔تمہارا کیا خیال ہے مجھے نہیں معلوم یہ بات۔۔۔۔روزی نے طنزیہ کہا”
اسکی خوبصورتی سے جلتی ہے میری جوتی۔۔۔تم کچھ زیادہ ہی طرفدار ہو اسکی اسی لئیے اسکے خلاف سچ بات بھی برداشت نہیں ہوتی تم سے۔۔۔وہ دونوں گرو کو بھلائے آپس میں لڑنے لگیں۔۔۔
بکواس بند کرو تم دونوں۔۔۔کوئی سن لے گا۔۔جاؤ مرو اس کے پاس کہیں بھاگ نا جائے۔۔بوبی گرو نے آنکھیں نکالیں تو وہ دونوں ایک دوسرے کو گھورتیں اس طرف بڑھ گئیں جس طرف وہ کھڑی اپنے آنسو ضبط کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
اوہو تو یہ خواجہ سرا نہیں بلکہ خواجہ سرا کے روپ میں لڑکی ہے۔کچھ فاصلے پر کھڑے فرقان نے زیر لب کہا۔ان تینوں خواجہ سراؤں کی گفتگو وہ سن چکا تھا۔یہ بھی اتفاق تھا وہ ڈائریکٹر کے کہنے پر اسی بوبی گرو کو بلانے آ رہا تھا کہ ان تینوں کی بحث اسکے کانوں میں پڑ گئی۔۔
پھر ان دونوں خواجہ سراؤں کو اس نے جب گلاب کے پھولوں والے پودے کے پاس کھڑے خواجہ سرا کی طرف جاتے دیکھا تو سمجھ گیا کہ یہی خواجہ سرا اصل میں لڑکی ہے جسکے لئیے یہ آپس میں جھگڑ رہے تھے جس کے بھاگنے کا خطرہ تھا ان کے گرو کو۔۔
مگر یہ لڑکی بیچاری ہوگی کون جس کو یہ خواجہ سراء زبردستی اپنے گینگ میں شامل کیے پھر رہے تھے اپنی متجس فطرت کی وجہ سے اس کے اندر تجسس پیدا ہونے لگا۔
اس کا دل چاہا کہ وہ جا کر قریب سے اس خواجہ سرا کے گیٹ اپ والی لڑکی کو دیکھے۔۔۔اس نے ادھر ادھر دیکھا۔ان خواجہ سراؤں سے کچھ ہی فاصلے پر کیمرہ مین کھڑا اپنے کیمرے کی سیٹنگ کر رہا تھا وہ اس کے پاس جا کر باتیں کرنے لگا مگر نظریں بار بار اس طرف اٹھ رہی تھیں جس طرف وہ تینوں خواجہ سرا کھڑے تھے۔درمیان والا خواجہ سرا لڑکی تھا وہ اسے غور سے دیکھنے لگا اور سوچنے لگا یہ نقلی خواجہ سراء جب تھوڑی دیر پہلے لال ساڑھی والے خواجہ سرا سے بات کر رہا تھا تو اسے اسکی آواز جانی پہچانی کیوں لگی تھی۔۔۔؟؟
کیا وہ اس لڑکی کو جانتا ہوگا۔۔۔؟؟
اس خیال نے اس کے تجسس کو بڑھا دیا۔۔۔وہ بے حد توجہ سے اسے دیکھنے لگا۔ریڈ کلر کے بنارسی لہنگے پر
گرین کلر کی چولی تھی۔بڑا سا ریڈ ڈوپٹہ تھا جسے اس
نے شال اوڑھنے کی طرز پر لپیٹا ہوا تھا۔گھنے گھنگرالے بال جنہوں نے آدھا اس کے ماتھے کو بھی ڈھانپ رکھا تھا یقیناً وگ تھی۔چہرے کے نقوش اچھے تھے۔بڑی بڑی
آنکھیں متناسب ناک مگر ہونٹ کچھ موٹے لگ رہے تھے
اس نے غور کیا تو اسے لگا ہونٹ موٹے نہیں ہیں بلکہ
لپ اسٹک پھیلا کر لگائی گئی ہے۔۔۔”
وہ چونکہ زیادہ تر شوٹنگز کے دوران ماحر کے ساتھ ہوتا اور ہیروئنز کا میک اپ ہوتے دیکھتا رہتا تھا اس لئیے میک اپ کے بارے میں اسے معلومات تھیں۔سامنے کھڑی اس نقلی خواجہ سرا کے گیٹ اپ والی لڑکی کے چہرے پر بہت ہی ڈارک میک اپ تھا۔وہ نہایت باریک بینی سے اسکا جائزہ لینے لگا۔
۔اگر اس لڑکی کے چہرے پر میک اپ نا ہو تو اسکے اصلی نین نقش کیسے ہونگے۔۔۔۔۔؟؟
وہ آرٹ سے بھی رغبت رکھتا تھا۔۔اچھا مصور تھا۔۔دل ہی دل میں بنا میک اپ کے وہ اس کا سکیچ بنانے لگا۔۔
خاص طور پر اسکی نیلی آنکھیں۔۔۔۔۔نیلی آنکھیں۔۔؟؟نیلی آنکھوں سے اس کے ذہن میں جھماکا ہوا۔۔۔۔
نیلی آنکھوں والی پاکستانی لڑکی جسے اس نے اچھی طرح قریب سے دیکھا ہوا تھا۔ ایک ہی تھی اور وہ تھی حیات عبدالرحمان۔۔۔تو کیا یہ۔۔۔۔۔اسکے پورے وجود وجود میں سنسنی دوڑ گئی۔۔۔
خواجہ سرا کے گیٹ اپ میں کھڑی یہ لڑکی حیات عبدالرحمان ہو سکتی ہے۔۔۔؟؟وہ اس پر نظریں جمائے سوچنے لگا جو کسی گہری سوچ میں گم لگ رہی تھی
نہیں ایسا نہیں ہو سکتا وہ یہاں کیسے آ سکتی ہے بھلا وہ بھی ان خواجہ سراؤں کے ساتھ۔۔۔
ہو سکتا ہے اس لڑکی کی آنکھوں میں لینس لگائے گئے ہوں۔۔۔ہاں ضروری نہیں کہ اسکی آنکھیں ہی نیلی ہوں لینس ہی ہو سکتے۔۔اس نے اپنے خیال کی نفی کر دی۔
اس پر مزید غورو فکر کا ارادہ ترک کر کے سرسری انداز میں ان خواجہ سراؤں کی طرف دیکھتا وہ پلٹنے ہی لگا تھا کہ چونک گیا۔۔۔
اس نقلی خواجہ سرا یعنی لڑکی کو اس نے اپنی طرف دیکھتے اور بری طرح گھبراتے دیکھا۔۔۔اتنی دیر سے وہ اس پر نظریں جمائے کھڑا تھا شائد اسے اسکی نظروں کی تپش کا اب احساس ہوا تھا جو وہ ایسے بے طرح گھبرا گئی تھی۔۔تھوڑی دیر پہلے اپنے جس خیال کو رد کیا تھا۔۔اسے گھبراتا دیکھ کر وہ خیال شک میں بدل کر پختہ ہونے لگا تھا۔۔اسے سمجھنے میں ایک سیکنڈ نہیں لگا کہ وہ نقلی خواجہ سرا اسی کو دیکھ کر گھبرا رہا ہے”اسکے دماغ میں بیک وقت جھماکے ہونے لگے۔۔
یہ نیلی آنکھوں والا خواجہ سرا۔۔۔۔کہیں واقعی مس حیات تو نہیں۔۔او گاڈ۔۔۔۔یہ مجھے دیکھ کر ڈر رہی ہے یقیناً مس حیات ہی ہے۔۔
ماحر سر کو بتاتا ہوں۔۔وہ خوشی سے اچھل ہی پڑا تھا یکدم پرجوش سا تیز تیز چلتا میک اپ روم تک پہنچا جہاں فی میل میک اپ آرٹسٹ ماحر کو ہلکا پھلکا میک اپ ٹچ دے رہی تھی۔۔
وہ بے صبری سے ان کے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگا۔۔
دوسری طرف حیات عبدالرحمان کی حالت بری طرح خراب ہو رہی تھی۔۔۔۔ماحر کے مینجر کو اپنی طرف مشکوک نگاہوں سے دیکھتا پا کر وہ ڈر گئی تھی اسے لگا شائد وہ اسے پہچان چکا ہے۔اسکے اوسان خطا ہونے لگے۔۔
یااللّٰہ کیا کروں میں۔۔۔ اسکے پورے وجود میں کپکپاہٹ طاری ہونے لگی۔۔سانس سینے میں ہی اٹکنے لگی تھی
اسے لگا وہ یہیں گر کر بے ہوش ہو جائے گی۔۔
کیا ہوا حور تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے۔۔۔؟؟ساتھ کھڑی
روزی نے بغور اسکی طرف دیکھتے ہوئے تشویش سے پوچھا۔۔
نہیں۔۔ہاں۔۔۔۔۔وہ۔۔۔مم میرے پیٹ میں سخت درد ہو رہا ہے مجھے واش روم جانا ہے۔۔۔۔اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔کیا کہے۔۔۔کیا کرے۔۔۔۔یہ بات خود بخود اسکے منہ سے نکلی۔۔۔
اچھا آؤ میں تمہیں لے چلتی ہوں واش روم۔۔۔نرم دل روزی کا دل فوراً پسیجا۔۔
تم یہیں رکو۔۔۔۔اسے میں لے جاتی ہوں۔۔۔۔ساتھ کھڑی
مدھو نے اسے روکا۔۔۔
کیوں تم کیوں لے جاؤ گی۔۔؟؟میں کیوں نہیں لے جا سکتی۔۔۔؟؟
مدھو کے روکنے پر روزی نے کٹیلے لہجے میں کہا دونوں کی آپس میں کبھی نہیں بنی تھی ایک دوسرے سے خار کھانا ایک دوسرے کی ہر بات سے اختلاف کرنا دونوں ہی اپنا فرض سمجھتی تھیں۔اب بھی یہی ہوا تھا۔۔
مجھے تم دونوں پر اعتبار نہیں ہے۔۔یہ بھاگ جائے گی اور تم بھاگنے میں اسکی مدد کرو گی اس لئیے یا تم مجھے اسکے ساتھ جانے دو یا پھر میں بھی تم دونوں کے ساتھ چلوں گی۔۔ویسے بھی گرو جی نے مجھے دیا ہے تم دونوں پہ نظر رکھنے کا۔۔۔
ہرگز نہیں حور کے ساتھ صرف میں جاؤں گی تم نہیں
روزی نے ہٹ دھرمی سے کہا۔۔۔
کیوں میں کیوں نہیں جاؤں گی۔۔۔؟؟ صبر کرو ابھی بوبی گرو کو بلاتی ہوں۔۔
مدھو نے بھڑک کر کہا
گرو کی دھمکی مت دیا کرو۔۔۔تم سمجھتی کیا ہو خود کو۔۔۔ہمارے گروپ میں سب کی اہمیت برابر ہے۔۔
انکے بیچ تکرار ہونے لگی۔۔۔۔۔
حیات پریشانی سے ادھر ادھر دیکھنے لگی۔وقت کم تھا
وہ مینجر کسی بھی وقت دوبارہ وہاں آسکتا تھا اور ہو
سکتا تھا ماحر کو ہی بلا لائے۔۔۔مگر روزی اور مدھو کے
جھگڑے میں ٹائم نکلا جا رہا تھا۔وہ سخت کوفت اور
پریشانی بھرے انداز میں انہیں دیکھنے لگی۔۔
معا”کسی خواجہ سرا نے چپکے سے بوبی گرو کو اطلاع دی تو وہ فوراً وہاں آیا اور دونوں کو ڈانٹ کر چپ کروایا۔
انکی بات سننے کے بعد بولا تھوڑی دیر میں ہمارا شاٹ لیا جانے والا ہے۔۔مدھو تم حور کو واش روم لے کر جاؤ اور جلدی واپس آنا۔روزی تم میرے ساتھ آؤ ذرا کام ہے۔گرو کے حکم پر روزی کو چارو نا چار سر جھکائے ان کے پیچھے جانا پڑا”۔۔۔جبکہ مدھو طنزیہ مسکراہٹ اسکی طرف اچھالتی حیات کو لئیے بنگلے کے اس حصے کی طرف بڑھ گئی جدھر واش روم وغیرہ تھے۔۔راہداریوں میں سے ہوتے ہوئے وہ ایک واش روم کے آگے رکیں۔۔۔
سنو دیر مت لگانا۔۔جلدی باہر نکلنا۔۔۔گرو جی نے کہا ہے کچھ دیر میں ہمارا سین پکچرائز ہونے والا۔۔۔مدھو نے سخت انداز میں حکم دیتے ہوئے کہا۔۔۔وہ پوری طرح چوکس لگ رہی تھی۔۔
حیات سر ہلاتے ہوئے واش روم میں آ گئی اور سوچنے لگی کہ کیا کرے موقع یہی ہے یہاں سے نکلنے کا مگر کیسے نکلے۔۔۔؟؟
باہر مدھو کھڑی تھی۔روزی نہیں تھی جس کو کسی طرح قائل کر لیتی۔۔یا جل دے دیتی۔لیکن کچھ بھی ہو کسی نا کسی طرح یہاں سے نکلنے کی کوشش تو لازمی کرنی ہے کیا پتہ اسکے بعد موقع ملے نا ملے۔اس نے مصمم ارادہ کر لیا تھا۔۔
جلد ہی ایک ترکیب اسکے مائنڈ میں آئی تو آنکھیں چمک اٹھیں۔۔رسک تھا۔۔۔اس نے رسک لینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔۔۔ویسے بھی اسکی پوری زندگی ایک رسک ہی بن چکی تھی سو اب رسک سے کیا گھبرانا۔۔۔۔اس نے اپنی تمام ہمت مجتمع کرتے ہوئے دماغ میں آئے آئیڈے پر عمل درآمد کرنے کا ارادہ کیا۔۔ اگلے ہی پل وہ اس پر عمل کر چکی تھی جب چیخ مار کر واش روم کا دروازہ کھولا اور بھاگ کر باہر نکلی۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔؟؟اس کے اتنی جلدی باہر نکلنے اور چیخنے پر اسکے انتظار میں بیزار سی کھڑی مدھو نے حیرت سے استفسار کیا۔۔۔
وہ اندر چھپکلی ہے۔۔۔۔۔اسے بھگاؤ پہلے پھر میں جاؤں گی۔۔۔اس نے بری طرح چہرے پر ڈر طاری کرتے ہوئے کہا
افوہ تم لڑکیاں بھی عجیب مصیبت ہوتی ہو۔چھپکلیوں سے بھی ڈر جاتی ہو۔۔۔۔۔کہاں ہے دکھاؤ مجھے۔۔؟؟
ناگواری سے کہتے ہوئے وہ واش روم میں داخل ہوئی۔۔حیات کے لئیے اتنی مہلت کافی تھی اس نے بجلی کی
سی تیزی سے پیچھے دروازہ بند کیا اور کنڈی لگا دی۔۔۔
اندر سے مدھو کےچلانے کی آواز آئی حرامزادی۔۔کمینی دروازہ کھول۔۔۔۔۔وہ دروازے کو پیٹنے لگی۔۔۔
وہ اللّٰہ کا نام لے کر ایک طرف کو بھاگی۔یہاں سے نکلنے کیلئے اس بنگلے کے عقبی حصے سے ہی کوئی راستہ تلاش کرنا تھا۔۔۔۔۔سامنے والے حصے سے وہ نہیں جا سکتی تھی کیونکہ وہاں سب موجود تھے۔
خوف سے بے قابو ہوتے دل کے ساتھ وہ بوکھلاتے اور چکراتے بنگلے کی پچھلے سائیڈ سے باہر نکلنے کیلئے راستہ ڈھونڈ ہی رہی تھی کہ اللّٰہ نے مدد کر دی۔ایک راہداری میں دوڑتے ہوئے اس کے اختتام پر ایک کشادہ برآمدے میں آ نکلی۔۔۔برآمدے کے سامنے ہی بنگلے کی وسیع و عریض اختتامی دیوار تھی۔۔مگر جس چیز کو دیکھ کر اسکے چہرے پر رونق آئی تھی وہ تھا دیوار میں بنا چھوٹا سا دروازہ۔جسے یقیناً بیک سائیڈ سے آمدو رفت کیلئے استعمال کیا جاتا تھا۔۔
اچھی بات یہ تھی کہ دروازے میں صرف کنڈی لگی ہوئی تھی تالہ نہیں تھا۔۔وہ تیر کی تیزی سے دروازے تک پہنچی اور کنڈی کھولنے لگی۔۔۔
لوہے کی کنڈی تھی سختی سے بھڑی ہوئی تھی۔۔اسے تھوڑا ٹائم لگا کھولنے میں۔۔تاہم جیسے ہی کھلی۔۔اگلے ہی پل وہ بنگلے سے باہر تھی۔۔۔تیز تیز قدموں سے وہ
کشادہ روڈ پر ایک سمت میں چلنے بلکہ دوڑنے لگی۔سڑک پر ٹریفک کی آمدو رفت جاری تھا۔۔۔اس کا حلیہ چونکہ خواجہ سراؤں جیسا تھا اس لئیے پیدل چلنے والوں اور بائیک پر سوار قریب سے گزرتے کئی لوگوں کو اس نے اپنی طرف دلچسپ نگاہوں دیکھتے پایا۔۔
وہ ابھی روڈ پر ہی تھی جب ناجانے کہاں سے آوارمنچلوں کی ایک ٹولی آ نکلی اور اسے چھیڑنے لگی۔۔
یہ وہ آوارہ لڑکے ہوتے ہیں جن کی ہوس کی کوئی حد نہیں ہوتی خواجہ سراؤں تک کو بھی نہیں بخشتے۔۔۔
سڑک پر جاتے سجے سجائے خواجہ سراؤں کو ہراساں کر کے حظ اٹھاتے ہیں۔
کہاں جا رہی ہو جان من۔۔۔ہمارے ساتھ چلو ہمارے گھر میں شادی ہے دو چات ٹھمکے لگا کر ہمیں خوش کر دینا اچھے پیسے دیں گے۔۔۔وہ اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگے اس نئی مصیبت پر وہ اور گھبرا گئی اور چال میں پہلے سے بھی زیادہ تیزی آ گئی۔۔۔۔یا اللّٰہ ان مصیبتوں سے پیچھا چھڑا دے۔۔۔وہ دل ہی دل میں اللّٰہ کو پکارنے لگی۔ایسی صورتحال پیش آنے کا اندیشہ تو تھا تاہم
صحیح معنوں میں اب اندازہ ہو رہا تھا کہ بیچارے خواجہ سراؤں کو بھی روڈ پر لوگ کیسے تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں۔۔
وہ لڑکے آسانی سے پیچھا چھوڑنے والے نہیں تھے اسے گھبراتا دیکھ کر مزید ہراساں کرنے لگے۔۔۔
ارے سویٹ ہارٹ گھبرا کیوں رہی ہو۔۔۔۔۔تم تو ہیجڑا ہو نو بلکہ ہیجڑی ہو۔۔۔ ہم تمہیں کچھ نہیں کہیں گے بس دو چار ٹھمکے لگا دو ہمارے لئیے۔۔۔ایک لڑکے نے اس کے ڈوپٹے کے کونے سے پکڑ کر اسے روکا۔۔حیات نے غصے سے کھولتے ہوئے جھٹکے اپنا سے ڈوپٹہ کھینچا۔۔
مشکل یہ تھی کہ وہ انہیں زبان سے کچھ کہہ بھی نہیں سکتی تھی نا آواز دے کر لوگوں کو اپنی مدد کے لئیے بلا سکتی تھی۔اگر ایسا کرتی تو لازماً وہ اسکی آواز سے جان جاتے کہ وہ خواجہ سرا نہیں ہے۔۔
حیات کیلئے صورتحال اور زیادہ پیچیدہ ہو گئی جب ان لڑکوں نے دیدہ دلیری سے اسے چاروں طرف سے گھیر لیا اور اسکے گرد گھومنے اور سیٹیاں بجانے لگے۔
انکی اس حرکت پر اسکے رہے سہے حواس بھی جانے لگے۔۔۔
اسی وقت وہاں سے گزرتی ایک ٹیکسی رکی اس میں سے ایک بڑی عمر کے میاں جی نکلے اور ان لڑکوں کو بری طرح لتاڑنے لگے۔۔۔
شرم کرو بے غیرتو۔۔۔عورتوں کو تو چھیڑتے ہی ہو ان بیچاروں کو تو بخش دیا کرو۔۔اللّٰہ لوک ہوتے ہیں۔بددعا دے دیں تو بندہ کہیں کا نہیں رہتا۔۔کیوں انکی بد دعا
لیتے ہو۔۔۔۔
کیوں بزرگو تجھے کیا تکلیف ہے۔۔۔۔؟؟ہیجڑا ہی تو ہے تیری بیٹی تو نہیں۔۔ایک لڑکے نے نہایت بدتمیزی سے جواب دیا۔۔۔
میاں جی کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا اس نے آگے بڑھ کر اس لڑکے کے منہ پر تھپڑ جڑ دیا۔۔۔اس لڑکے نے بھی مشتعل ہو کر اس بزرگ کے گریبان سے پکڑ لیا۔ دونوں گھتم گھتا ہو گئے۔
یہ صورتحال دیکھ کر روڈ پر سے گزرتے کئی لوگ وہاں جمع ہو گئے۔ان لڑکوں نے پبلک کو جمع ہوتے دیکھا تو وہاں سے سر پٹ بھاگے۔وہ لڑکا جس نے اس ٹیکسی والے بزرگ کے گریبان سے پکڑا ہوا تھا اپنے ساتھیوں کو فرار ہوتا دیکھا تو وہ بھی انکے پیچھے بھاگا۔
اس جھگڑے کے دوران حیات اسکی ٹیکسی کا دروازہ کھول کر اندر دبک کر بیٹھ گئی تھی۔وہ بزرگ ان لڑکوں کو فرار ہوتا دیکھ کر گالیاں نکالتے ٹیکسی کی طرف آئے تو اسے اندر دبکا ہوا دیکھ کر چونکے مگر کہاں کچھ نہیں اور ٹیکسی اسٹارٹ کر دی۔۔
کہاں اترنا ہے۔۔۔؟؟کچھ دیر بعد اس ٹیکسی والے میاں جی نے پوچھا
حیات نے بے بسی سے نفی میں سر ہلایا۔۔۔
جواب نا ملنے پر ٹیکسی والے نے اپنا سوال دہرایا اور ساتھ ہی مرر میں سے اسکی طرف دیکھا۔۔جو اپنے منہ کو ڈوپٹے میں چھپائے بیٹھی تھی۔۔
اس بار حیات نے ہاتھ کے اشارے سے نہیں معلوم کہا”
تم بول نہیں سکتی کیا۔۔۔۔۔؟؟میاں جی نے حیرت سے استفسار کیا
جواباً اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔میاں جی افسوس بھرے انداز میں سر ہلایا اور ٹیکسی کو ایک گلی میں موڑتے ہوئے پہلے پہلے گھر کے سامنے روک دیا اور اسکی طرف گھوم کر دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
میرا گھر ہے یہ۔۔دوپہر کا کھانا کھانے آیا ہوں۔۔۔تم بھی آجاؤ اگر کھانا کھانا ہے تو۔۔۔کھانے کے بعد چھوڑ آؤں گا جہاں جانا ہوگا۔۔
میاں جی بنا اسکے جواب کا انتظار کیے ٹیکسی سے اتر کر سامنے والے گھر میں داخل ہو گئے جس کا لکڑی والا دروازہ کھلا ہوا تھا۔۔حیات سوچ میں پڑ گئی
اس ٹیکسی والے نے اسے ان آوارہ لڑکوں سے بچایا تھا تو یقیناً اچھا آدمی ہو سکتا ہے۔اگرچہ ایک بار دھوکہ کھا چکی تھی مگر اعتبار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔۔اللّٰہ مالک ہے کیا پتہ رہنے کا کوئی ٹھکانہ مل جائے وہ جھجھکتی ہوئی اسکے پیچھے اندر چلی آئی۔
۔سامنے ہی چارپائی پر ایک عورت بیٹھی سوئیٹر بن رہی تھی اسے دیکھتے ہی فوراً بولی۔۔۔
او جی۔۔تسی غلط گھر وچ آئے ہو ساڈے نال آلے گھر وچ کاکا ہویا ہے۔۔
اے کاکے واسطے نئیں آئی بختو۔۔سواری ہے۔۔۔اپنڑیں ٹیکسی وچ آئی ہے۔مینوں بھوک لگ رہی سی۔۔۔سوچا پہلے گھر آ کے روٹی کھا لیواں فیر اس نوں چھوڑ آواں گا۔بیچاری بول وی نیں سکدی۔۔۔کچھ آوارہ منڈے اس نوں تنگ کر رہے سی۔۔میں نے بے عزتی کر کے بھگایا شیطاناں نوں۔۔۔
ہائے ہائے اللّٰہ غارت کرے انہاں لوکاں نوں جیہڑے انہاں بیچارے فقیراں نوں وی نئیں چھڈدے۔۔۔بختو نے فوراً کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے افسوس کیا۔۔
میں ہاتھ دھو آواں تو اس نوں روٹی دے اللّٰہ والی ہے دعا دیوے گی۔۔وہ بزرگ اس عورت کو کہہ کر سامنے موجود غسل خانے کی طرف بڑھ گئے۔۔۔
جبکہ وہ عورت فوراً چارپائی سے اٹھتے ہوئے بولی۔۔
آؤ آؤ جی۔۔۔۔بیٹھو تسی۔۔۔میں روٹی لے آواں تہاڈے واسطے۔۔اس نے خوشدلی سے اسے چارپائی پر بیٹھنے کی دعوت دی اور خود سامنے دکھتے ایک چھوٹے سے کمرے کی طرف بڑھ گئی جو غالباً کچن تھا۔۔۔
حیات چارپائی پر بیٹھ کر آگے کے بارے میں سوچنے لگی۔۔یہ دونوں میاں بیوی اسے خواجہ سرا سمجھ کر ترس کھا رہے تھے۔اگر انہیں اپنی حقیقت بتا دوں تو کیا یہ کچھ دنوں تک مجھے اپنے گھر میں رہنے دیں گے۔۔؟؟وہ اپنے آپ سے سوال کرنے لگی
لیکن اگر انکی غلط فہمی دور نا کی تو جتنے خدا ترس سہی مگر ایک خواجہ سرا کو اپنے گھر میں ٹھہرائیں گے کبھی نہیں بلکہ ہو سکتا ہے کسی ایسی جگہ چھوڑ آئیں جہاں بوبی گرو جیسے لوگ رہتے ہوں۔۔۔
نہیں نہیں۔۔وہ پوری جان سے لرز اٹھی۔۔
خواجہ سراؤں کے چنگل میں دوبارہ جانے کے خیال نے اسے وحشت زدہ کر دیا۔۔۔
یہ لو جی روٹی کھاؤ۔۔۔اس عورت نے کھانے کی چنگیر اسکے سامنے رکھتے ہوئے خلوص بھرے لہجے میں کہا
وہ چپ چاپ اسے دیکھنے لگی۔۔حیات شش و پنج میں مبتلا اسے دیکھنے لگی کہ بولے۔۔اپنی حقیقت بتائے یا پھر بے زبان خواجہ سراء بنی رہے۔۔۔
نا بولتی تو بھی مسائل کھڑے ہونے تھے بولتی تو بھی ہو سکتا ہے کہ مسئلہ پیدا ہو۔۔۔دل و دماغ میں جنگ چھڑی ہوئی تھی۔۔دماغ روک رہا تھا۔۔جبکہ دل حوصلہ دے رہا تھا کہ بتا دے۔۔
” بالآخر اس نے دل کی سنتے انہیں حقیقت بتانے کا فیصلہ کیا۔۔۔جو گا دیکھا جائے گا۔۔کیا پتہ میرے حالات سن کر ان میاں بیوی کو رحم آ جائے اور مجھے اپنے گھر میں رہنے دیں۔۔۔دل میں ایک امید جاگی
مگر سب سے پہلے تو اس حلیے سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا۔۔اس نے کراہیت آمیز نظروں سے اپنے کپڑوں کی طرف دیکھتے ہوئے سوچا۔۔
کی ہویا جی روٹی نہیں کھانی۔۔۔؟؟اسے خاموش بیٹھا دیکھ کر اس عورت نے حیرت سے استفسار کیا۔۔
جواباً اس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے اپنے کپڑوں کی طرف اشارہ کیا۔۔
آپ کے کپڑے۔۔۔؟؟بہت سوہنڑیں ہیں جی۔۔۔وہ مسکرا کر بولی
حیات نے دائیں بائیں سر کو نفی میں ہلایا اور دوبارہ اپنے کپڑوں کی طرف اشارہ کیا۔۔
کی کہنا چاہتی ہو جی مجھے سمجھ نہیں آ رہی۔۔
وہ عورت ناسمجھی سے اسکی طرف دیکھنے لگی۔۔
او نیک بخت یہ کپڑے مانگ رہی ہے۔۔ہے نا۔۔۔اسی وقت میاں جی بھی تولیے سے ہاتھ خشک کرتے وہاں آئے۔
اور اپنی بیوی کو بتاتے ہوئے حیات سے تصدیق چاہی۔۔جواباً اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔
او جی تسی روٹی کھاؤ۔۔۔میں کپڑے وی تھانوں دیواں گی۔۔کئی جوڑے پڑے ہیں میرے پاس بالکل نویں نکور۔۔ عورت نے اسے تسلی دیتے ہوئے کھانے کی طرف اشارہ کیا۔۔مگر حیات نے ناں میں سر ہلاتے ہوئے پھر سے کپڑوں کی طرف اشارہ کیا۔۔۔
پہلے کپڑے چاہیں۔۔۔؟؟
حیات نے ہاں میں سر ہلایا
جاؤ نیک بخت۔۔۔ٹرنک سے صفیہ کے نویں کپڑے نکال لاؤ۔۔۔کپڑے لئیے بغیر شائد یہ روٹی نئیں کھائے گی۔۔کریم بخش نے ہنس کر اپنی گھر والی سے کہا تو وہ بھی مسکراتے ہوئے اٹھی۔۔
اچھا میں کپڑے تو لاتی ہوں پر میرا اک کام کرو گے تسی۔۔وہ اٹھتے اٹھتے پھر بیٹھ گئی اور سرگوشی کے انداز میں پوچھنے لگی۔۔
حیات نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اسکی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔
وہ جی میری دھی کے ہاں کوئی اولاد نہیں۔۔دو سال ہو گئے اس دے ویاہ نوں۔۔۔۔۔تسی اللّٰہ والے ہو تہاڈی دعا جلدی قبول ہوندی ہے تسی میری دھی واسطے دعا کرو
نا کپڑاں دے نال نال پیسے وی دیواں گی۔۔بہت منتیں مانگیں مگر ابھی تک قبول نہیں ہوئی کوئی دعا۔۔تسی کرو نا اللّٰہ میڈی دھی نوں اولاد دیوے۔۔
اتنے ٹینشن بھرے حالات میں لمبے عرصے بعد پہلی دفعہ اسے بے اختیار ہنسی آئی تھی۔۔۔جسے وہ مہارت سے چھپا گئی تھی۔۔وہ جان گئی تھی کہ سامنے بیٹھی عورت بہت ہی سادہ لوح ہے۔جو پیروں فقیروں اور خواجہ سراؤں سے بڑی عقیدت رکھتی ہے۔اور ان کی دعاؤں پر بھی بڑا یقین رکھتی ہے۔۔
حیات نے اس کا دل رکھنے اسے مطمئن کرنے کیلئے دعا کے انداز میں ہاتھ اٹھائے تو وہ عورت خوش ہوتی اندر کپڑے لینے چلی گئی۔
تھوڑی دیر بعد وہ شاپر میں دو سوٹ ڈال کر لے آئی اور اسے تھما دیے۔۔یہ لو جی کپڑے اب روٹی کھا لو
ٹھنڈی ہو رہی سی۔۔۔لازمی کھانا ایسے مت جانا۔۔اللّٰہ والے ایسے خالی پیٹ گھر سے چلے جائیں تاں گھر
ایچ برکت نئیں آندی۔۔
اس نے ایک سوٹ نکالا اور غسل خانے کی طرف اشارہ کر کے چل دی۔۔پیچھے وہ دونوں میاں بیوی حیرت سے اسے دیکھنے لگے۔۔
واش روم میں آ کر اس نے دروازہ لاک کیا۔۔ڈوپٹہ اتار کر دیوار گیر پر ٹانگا اور سب سے پہلے نقلی وگ سے چھٹکارہ حاصل کیا۔۔
غسل خانے میں چھوٹا سا آئینہ بھی لگا ہوا تھا۔۔اس نے اپنا چہرہ دیکھا۔۔۔میک اپ میں لتھڑا۔۔۔یہ چہرے کہیں سے بھی اسے اپنا چہرہ نا لگا۔۔
بے اختیار اسے اپنے آپ سے گھن آئی تو صابن سے رگڑ رگڑ کر منہ دھونے گلی۔۔پندرہ منٹ لگے تھے اسے اس کراہیت بھرے میک اپ کو صاف کرنے میں۔۔آئینے میں
دوبارہ اپنا چہرہ دیکھا تو تسلی ہوئی اب کچھ اپنا لگ رہا تھا۔۔۔کپڑے چینج کیے۔۔پھولدار شلوار کمیز تھی۔اس نے اپنے سراپا پر نگاہ دوڑائی۔۔بہت ہی عجیب سا لگ رہا تھا زندگی میں پہلی بار کسی کی اترن پہنے ہوئے۔۔۔اگرچہ کپڑے نئے تھے مگر تھے تو کسی اور کے نا۔۔اپنی اس اچانک بدل جانے والی قسمت پر آہ بھرتی وہ باہر آئی تو ٹھٹھک کر رکی۔۔
اسے اپنے اصل حلیے میں دیکھ کر ان دونوں میاں بیوی کی آنکھوں میں شاک حیرانگی استعجاب کیا کچھ نہیں تھا۔۔میاں جی کا منہ کی طرف نوالہ بڑھاتا ہاتھ رک گیا تھا۔۔بختو تو چارپائی سے ہی اٹھ کھڑی ہوئی تھی اور آنکھیں پھاڑے سامنے کھڑی چاندنی کی طرح چمکتے شفاف چہرے والی لڑکی کو دیکھے جا رہی تھی منہ تو حیرت کے مارے کھلا ہی رہ گیا تھا۔۔ حیات نظریں جھکائے آہستہ سے چلتی انکے پاس آئی اور سر اٹھا کر انکی طرف دیکھتے ہوئے مدھم آواز
میں بولی۔۔۔
میں خواجہ سرا نہیں ہوں۔۔۔۔
