Meri Hayat By Zarish Hussain Readelle50271 Meri Hayat (Episode 53)
Rate this Novel
Meri Hayat (Episode 53)
Meri Hayat By Zarish Hussain
اسکی شرط تھی کہ وہ مجھ سے صرف اس صورت میں شادی کرے گا اگر میں عائشہ بھابھی کو راضی کر کے اپنے ساتھ لے آؤں تو۔مجھے شدید شاک لگا تھا میں سخت مشکل میں پڑ گئی کیونکہ ایک طرف عامر سے دستبرداری ناممکن تھی اور دوسری طرف بھائی کا گھر برباد کرنے کو بھی دل نہیں مانتا تھا۔۔بہت سوچا عامر اپنی ضد سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھا۔میں محبت کے ہاتھوں مجبور تھی۔۔۔۔۔محبت چیز ہی ایسی ہے جو انسان کو اپنے آگے بے بس کر دیتی ہے۔۔۔۔۔۔بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو محبت میں غلط صحیح کی پہچان
رکھتے ہیں۔۔میں نے سنا تھا محبت ہوتی ہے۔۔اب محبت
اندھی ہوتی ہے یا نہیں لیکن اس نے مجھے ضرور اندھا کر دیا تھا۔ناچاہتے ہوئے بھی عامر کی ضد کے آگے میں نے ہتھیار ڈال دیے تھے۔ اس کے کہنے پر عائشہ بھابھی کی برین واشنگ بھی شروع کر دی۔اٹھتے بیٹھتے باتوں باتوں میں انہیں کہنے لگی بھابھی عامر آپ کی بہت تعریف کر رہا تھا۔۔ کہہ رہا تھا عائشہ کے چہرے پر بہت معصومیت ہے شادی شدہ تو لگتی ہی نہیں۔تمہارابھائی اسکے ساتھ بالکل میچ نہیں کرتا۔۔۔۔نہایت ہی سنجیدہ مزاج اور اپنے کام سے کام رکھنے والا بندہ ہے۔اس کیلئے ایسا شخص ہونا چاہیے تھا جو انکی طرح شوخ مزاج ہوتا۔۔۔۔انکے ناز نخرے اٹھانے والا انکے حسن کو سراہنے والا یعنی کہ انہیں عبدل بھائی سے بدظن کرنے کیلئے اس طرح کی باتیں کرنے لگی۔۔۔میری باتیں سن کر ان کا چہرہ اتر جاتا وہ گم صُم ہو جاتیں۔۔۔پھر آہستہ آہستہ میری ان سب باتوں کا ان پر اثر ہونے لگا۔۔وہ احساس کمتری میں مبتلا ہونے لگیں کیونکہ یہ بات صحیح تھی کہ عبدل بھائی واقعی بہت سیریس مزاج اور ان رومینٹک سے بندے تھے۔ان کی زیادہ توجہ اپنی جاب اپنے کام پر ہوتی تھی۔وہ اکثر کام کے سلسلے میں آؤٹ آف سٹی اور آؤٹ آف کنٹری جایا کرتے تھے۔اماں ابا نے کئی بار انہیں کہا کہ وہ عائشہ بھابھی کو بھی کبھی کبھار ساتھ لے جایا کریں گھمانے پھرانے۔۔۔۔مگر بھائی صاف انکار کر دیتے کہ وہ کام سے جا رہے ہیں آوٹنگ وغیرہ جیسی فضول چیزوں کیلئے ان کے پاس وقت نہیں۔ایسے میں عائشہ بھابھی بیچاری دل مسوس کر رہ جاتیں۔میں نے عامر سے انکی ٹیلیفونک گفتگو بھی شروع کرا دی تھی۔فقط ایک ماہ ہی لگا عائشہ بھابھی پوری طرح سے عامر اور میری باتوں میں آ گئیں۔عامر بے باکی سے میرے سامنے ہی انکے حسن کے قصیدے پڑھتا۔وہ اپنی تعریف پر شرماتیں۔۔۔۔ جبکہ میں دل پر پتھر رکھے سنتی رہتی۔۔۔ ہماری ان سب چکنی چپڑی باتوں کا عائشہ بھابھی پر ایسا اثر ہوا کہ انہوں نے بے خوفی سے عبدل بھائی سے لڑنا،، اور طلاق کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا۔ہمارے گھر کا پرسکون ماحول خراب رہنے لگا۔۔عائشہ بھابھی کے طلاق کے مطالبے نے بھائی، سمیت اماں ابا کو بھی ٹینشن میں ڈال دیا تھا۔سب بے حد پریشان تھے جبکہ میں چپ چاپ تماشا دیکھ رہی تھی۔وہ سردیوں کی ایک اداس شام تھی جب میرے اور عامر کے مشورے پر بھابھی نے ابا اماں کے سامنے عبدل بھائی سے کہا وہ کسی اور کو پسند کرتی ہیں لہذا وہ انہیں سیدھی شرافت سے طلاق دے دیں ورنہ ان کا محبوب عبدل بھائی کو جان سے مار دے گا۔
“بھائی ابا اماں تینوں پھٹی پھٹی نگاہوں سے بھولی بھالی سی عائشہ بھابھی کی طرف دیکھ رہے تھے جس کی آنکھوں میں اب دلیری تھی، بے خوفی تھی، کسی شرم و حیا کا نام و نشان تک نہیں تھا۔بھائی غیرت مند تھے۔۔انہوں نے اسی وقت تین لفظ بول کر انہیں اپنی زندگی سے ہمیشہ کیلئے نکال دیا اور خود پر کڑا ضبط کرتے کمرے میں چلے گئے تھے۔اماں ابا کو چپ لگ گئی۔عائشہ بھابھی خوش تھیں۔۔۔۔۔میں بھی خوش تو تھی مگر اندر کہیں بھائی کے گھر اجڑنے کا افسوس بھی تھا عائشہ جو کہ اب میری بھابھی نہیں رہی تھیں۔۔۔طلاق کے بعد ہمارے گھر سے نکل کر اپنی ایک سہیلی کے گھر چلی گئیں۔۔۔یہ دراصل میرا آئیڈیا تھا کہ وہ وہاں بیٹھ کر میرا انتظار کریں گی اور پھر رات کو موقع ملتے ہی ان کے پاس آجاؤں گی۔۔ان کی دوست کا گھر زیادہ دور نہیں تھا۔وہ رات ہمارے گھر میں صدمے والی رات تھی نا تو کھانا بنا اور نا کسی نے کھایا۔ابا اماں بھائی تینوں شام سے کمرے میں بند تھے۔۔میرے لئیے موقع اچھا تھا میں چپکے سے گھر سے نکل آئی۔ان کی دوست کے ہاں جا کر انہیں ساتھ لیا اور عامر کے بتائے گئے ایڈریس پر پہنچ گئی وہ ہمارا انتظار کر رہا تھا۔ہم دیکھ کر کھل اٹھا۔۔گاڑی تیار کھڑی تھی اسی رات ہی وہ ہمیں لے کر لاہور آ گیا۔ہم تینوں ایک ہی فلیٹ میں رہ رہے تھے عامر
نے میرے اصرار پر مجھ سے نکاح کر لیا تھا۔ مگر عائشہ سے فلحال نہیں کرسکتا تھا۔۔کیونکہ پہلے اسکی عدت پوری ہونی تھی۔۔ہم تینوں ایک ساتھ خوش رہ رہے تھے کہ اچانک دو ہفتوں بعد عائشہ کو پتہ چلا کہ وہ ماں بننے والی ہے۔۔اس خبر کو سن کر وہ بالکل گم صُم سی ہو گئی تھی۔میں خود بھی احساس ندامت میں مبتلا تھی، یہ بچہ میرے بھائی کا خون تھا اگر میں نے اپنی غرض کیلئے ان کا گھر برباد نا کیا ہوتا تو اس خبر سے اماں ابا اور بھائی کو کتنی خوشی ہوتی، بڑی آس تھی اماں کو پوتے پوتیاں دیکھنے کی۔۔۔
لیکن میری خود غرضی نے سب کچھ تباہ کر دیا تھا۔۔
عامر کو جب اس بات کا پتہ چلا تو اس نے فوراً عائشہ سے کہا وہ اس بچے کو ختم کروائے مگر عائشہ نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔اسکے دل میں شائد اپنے بچے کے لئیے محبت جاگ اٹھی تھی۔۔۔اسی بات کو لے کر ان دونوں میں روز جھگڑا ہونے لگا۔ میں خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی۔عامر مجھے کہتا اسے سمجھاؤ مگر میں چپ رہتی کیونکہ میں خود بھی نہیں چاہتی تھی کہ وہ اس بچے کو ختم کروائے شائد اس لئیے کہ وہ میرے بھائی کی اولاد تھی۔عامر کے اس ناجائز مطالبے نے اسے عامر سے بدظن کر دیا تھا۔اچانک ہی اس نے مجھے کہنا شروع کر دیا کہ وہ پچھتا رہی ہے عامر کے ساتھ آ کر اور عبدل بھائی کو چھوڑ کر۔عائشہ کیوجہ سے عامر کا رویہ مجھ سے بھی خراب سے خراب تر ہوتا گیا۔ اس کا کہنا تھا کہ میں نے ہی عائشہ کو پٹی پڑھائی ہے،کیونکہ میں بھی اپنے بھائی کی اولاد کو ختم کروانے کے حق میں نہیں ہوں اور یہ سچ بھی تھا۔ایک دن اسی مسئلے کیوجہ سے دونوں کے درمیان ایک بار پھر زبردست قسم کا جھگڑا ہوا۔عائشہ نے غصے میں آ کر اسے کہا وہ اپنے شوہر کو چھوڑ کر اور اسکے ساتھ آ کر بہت پچھتا رہی ہے۔اب وہ یہاں ہرگز نہیں رہے گی واپس اپنے شوہر کے پاس کراچی جائے گی اور معافی مانگے گی چونکہ وہ پریگننٹ ہے اس لئیے طلاق نہیں ہوئی۔عامر یہ سن کر اتنا غضبناک ہوا کہ اس نے عائشہ کو بے دردی سے پیٹنا شروع کر دیا۔۔۔۔میں ایک سائیڈ پر کھڑی تھر تھر کانپ رہی تھی۔۔۔اتنی ہمت نہیں تھی کہ دھان پان سی عائشہ کو اس وحشی مرد سے چھڑا پاتی۔۔۔۔بہت مارا اس نے عائشہ کو۔۔۔۔پھر گالیاں بکتا فلیٹ سے نکل گیا
میں نے زاروقطار روتی ہوئی عائشہ کو سنبھالا،وہ روتے ہوئے مجھ سے کہنے لگیں۔شہوار مجھ پہ ایک احسان کر دو۔مجھے کسی طرح یہاں سے نکال دو۔میں واپس جانا چاہتی ہوں میں تمہارے بھائی سے معافی مانگوں گی۔۔۔انہیں بچے کا بتاؤں گی۔۔۔ہماری طلاق نہیں ہوئی بچے کا سن کر وہ مجھے اپنا لیں گے مجھے اب احساس ہوا ہے کہ میں ان سے محبت کرتی ہوں پلیز شہوار۔۔۔۔ تمہارا بھائی تم سے کس قدر پیار کرتا تھا۔۔۔اپنے بھائی کے بچے کا سوچ کر ہی مدد کر دو۔۔۔۔وہ میرا ہاتھ پکڑے مجھ سے التجاء کر رہی تھیں۔۔ مگر میں کیا کرتی عامر ہمیں لاک کر کے جاتا تھا۔۔لیکن میں نے عائشہ کو تسلی دی کہ کچھ نا کچھ کرتی ہوں۔۔۔یہ اس سے تیسری رات کی بات ہے عامر نے مجھ سے چائے مانگی۔۔۔وہ بیڈ پر لیٹا ٹی وی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔میرے ذہن میں یہ آئیڈیا آج دوپہر کو ہی آیا تھا۔کچن میں جا کر میں نے چائے بنائی اور ایک کیبنٹ میں چھپائی گئی نیند کی دو ٹیبلٹ چائے میں مکس کر دیں۔۔یہ ٹیبلٹ مجھے اسی کی ہی الماری میں سے ملی تھیں۔ چائے پیتے ہی وہ گہری نیند سو گیا۔اس کے والٹ سے کچھ پیسے نکالے۔دوسرے روم میں انتظار کرتی عائشہ کو ساتھ لیا اور فلیٹ سے باہر آ گئی۔۔خوش قسمتی سے سامنے روڈ پر ہی ٹیکسی مل گئی تھی۔۔۔میں نے عائشہ کو اس میں بٹھایا پیسے اس کو تھمائےاور ٹیکسی والے سے کہا اسے ریلوے اسٹیشن چھوڑ دے۔جانے سے پہلے نم آنکھوں سے اسے گلے لگاتے ہوئے کہا تھا عائشہ اگر بھائی تمہیں معاف کر دیں تو ان سے اور ابا اماں سے میرے لئیے معافی ضرور طلب کرنا مگر خدا کے واسطے انہیں کبھی یہ پتہ مت چلنے دینا کہ ہم دونوں ایک ہی مرد کے ساتھ بھاگی تھیں۔۔عائشہ نے میرا تھام کر وعدہ کیا کہ وہ یہ بات انہیں کبھی نہیں بتائے گی۔پھر کہا شہوار مجھے تمہاری فکر ہے ناجانے وہ گھٹیا شخص تمہارا کیا حشر کرے گا۔۔ہم دونوں ایک دوسرے کے لئیے فکر مند ہو رہی تھیں۔جب کہ سچویشن نا اس کیلئے آسان تھی اور نا میرے لئیے۔میری فکر نا کریں بھابھی میرے حالات برے بھی ہوئے تو بھی میں خدا سے کبھی شکوہ نہیں کرونگی کیونکہ وہ شخص میری اپنی چوائس ہے۔ میں نے جواباً بھیگے لہجے میں کہا۔عائشہ کو رخصت کر کے واپس فلیٹ آ گئی تھی۔۔۔ پھر ناجانے اس کا کیا ہوا مگر میرے ساتھ جو ہوا بہت برا ہوا۔عائشہ کو بھگانے میں ہیلپ کرنے پر عامر نے مجھے بیلٹ سے بے تحاشا مارا۔۔۔۔۔تین دن تک بھوکا پیاسا کمرے میں قید رکھ کر فزیکلی ٹارچر کرتا رہا۔اس حسین چہرے والے شخص کے ہاتھوں مار کھاتے ہوئے مجھے اکثر سدرہ رومانہ اور ثوبیہ کی باتیں یاد آتیں کم صورت والے شخص کے ساتھ تو گزارا ہو سکتا ہے مگر کم سیرت والے کے ساتھ نہیں۔ جواب میں اپنی کہی گئی تمام باتیں مجھے آئینہ دکھاتیں۔۔۔شکل اچھی ہو بس۔باقی سب پر کمپرومائز کر لونگی۔۔۔۔آٹھ مہینے ہوچکے تھے عامر کے ہاتھوں مار کھاتے اذیت برداشت کرتے ہوئے۔انہی دنوں میں مجھے اپنے پریگننٹ ہونے کا پتہ چلا میں خوش ہو گئی تھی کہ شائد یہ خبر عامر پر کوئی مثبت اثر ڈالے مگر اس خبر کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوا۔۔۔۔ پہلے وہ زیادہ ٹائم گھر میں رہ کر مجھے ٹارچر کرتا رہتا تھا۔ لیکن اب وہ دو دو دن تک گھر نا آتا۔جب آتا تو نشے میں دھت ہوتا چھوٹی چھوٹی باتوں پر مجھے مارتا۔۔اتنی گندی گندی گالیاں دیتا کہ میں روتے ہوئے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیتی۔۔اس نے مجھے یہ بھی بتا دیا تھا کہ اسے مجھ سے یا عائشہ بھابھی سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اصل میں وہ یونی میں عبدل بھائی کا کلاس فیلو رہا تھا۔لڑکیوں سے دوستیاں کر کے انہیں استعمال کرنا اور پھر چھوڑ دینا اس کی فطرت تھی۔۔۔عبدل بھائی نے ایک لڑکی کو اسکے چنگل
میں پھنسنے سے پہلے بچا لیا تھا۔۔۔ اور پھر پوری یونی کے سامنے اسے ذلیل کیا تھا۔اسی بات کا بدلہ لینے کیلئے پہلے اس نے مجھے اور پھر میرے ذریعے عائشہ بھابھی کو ٹریپ کیا۔اسکے اس انکشاف نے مجھے بالکل توڑ کر رکھ دیا تھا۔ لیکن جس بات کو سن کر مجھے سب سے زیادہ صدمہ پہنچا تھا وہ یہ کہ ہمیں لاہور لے کر آتے وقت اس نے عبدل بھائی کو خط لکھ کر اس بات سے آگاہ کر دیا تھا کہ وہ اپنا بدلہ لینے کیلئے انکی سابقہ بیوی اور بہن کو بھگا کر لے جا رہا ہے۔۔۔ پچھتاوں کے زہریلے ناگ اب دن رات مجھے ڈسنے لگے تھے۔۔۔لیکن کیا کرتی اس شخص کے ساتھ رہنا اب میری مجبوری تھی۔ شدید مجبوری۔۔۔ ایک تو اب بچے کی زنجیر پاؤں میں تھی دوسرا گھر والوں کے پاس واپس جاتی بھی تو کس منہ سے۔۔میں اکثر سوچتی تھی عائشہ بھابھی کا ناجانے کیا ہوا ہوگا۔وہ بھائی کے پاس پہنچی ہونگی۔۔؟ بھائی نے انہیں قبول کیا ہوگا یا نہیں۔۔۔؟؟مگران سب سوالوں کے کوئی جواب نہیں تھے میرے پاس۔۔یونہی دن گزرتے گئے بچے کی ولادت کے وقت پتہ نہیں کیسے اسکے دل میں خدا نے رحم ڈالا اور وہ مجھے ہاسپٹل لے گیا۔۔مگر بیٹی کی پیدائش کی خبر سن کر اسے غصہ آیا۔اب میرے لئیے ڈبل مشکلات کا آغاز ہو چکا تھا۔عامر کی وہی روٹین تھی۔۔۔۔۔وہ مجھے فلیٹ میں لاک کر کے چلا جاتا۔۔۔۔۔۔ کئی کئی دن گھر نا آتا میں اکیلی بچی کے ساتھ روتی رہتی۔گھر میں راشن ختم ہو جاتا اسےکوئی پروا نہیں ہوتی تھی۔۔۔ میں روتی التجاء کرتی تو تھوڑا بہت راشن لے آتا۔۔ پھر جیسے کسی جانور کے آگے کھانا پھینکتے ہیں۔بالکل ویسے میرے آگے پھینکتا اور میرے منہ پر تھپڑ مار کر کہتا لو مر کھا ذلیل عورت۔میں اپنی بچی کی خاطر صبر کے گھونٹ پی کر رہ جاتی۔۔۔میری بیٹی فضا بہت صابر بچی تھی۔۔گھنٹوں بھوکی رہتی۔۔۔چپ چاپ اپنا انگوٹھا چوستی رہتی۔۔۔ مگر دودھ کیلئے بالکل نا روتی۔۔۔۔شائد ماں کی بے بسی کا احساس اسے میری کوکھ میں ہی ہو گیا تھا۔۔۔عشق کا بھوت تو پہلی مار کے بعد ہی میرے سر سے اتر چکا تھا۔عامر کےحسین چہرے سے مجھے بے انتہا نفرت ہو چکی تھی۔ ان برے حالوں میں رہتے ہوئے بہت عرصہ ہو گیا تھا۔۔۔فضا ایک سال کی ہو چکی تھی۔۔ میں ایک بار پھر پریگننٹ تھی۔ان دو سالوں میں میرا رنگ روپ اور صحت فاقے سہہ سہہ کر بری طرح برباد ہو چکے تھے۔۔۔۔دوسرے بچے کی پیدائش پر میں مرتے مرتے بچی تھی۔۔عامر اس دن گھر پر نہیں تھا ایک سال کی فضا کو ساتھ لئیے میں خود ہی ٹیکسی کر کے بمشکل سرکاری ہاسپٹل پہنچی تھی۔ پانچ دن وہاں داخل رہی دنیا میں برے لوگ تو ہوتے ہی ہیں مگر نیک دل لوگوں کی بھی کمی نہیں ہوتی۔۔خدا بھلا کرے ایک نرس کا وہ میرا اور میری بیٹی کا خیال رکھتی تھی۔۔اس کا کوارٹر ہاسپٹل کے ایریے کے اندر ہی تھا۔۔۔۔اپنے گھر سے میرے لئیے پرہیزی کھانا بنا کر لاتی تھی۔اللّٰہ نے مجھے چاند سا بیٹا عطا کیا تھا۔اس کیلئے کپڑے خریدنے کی بھی میری استطاعت نہیں تھی یہ
بھلا بھی اسی شہلا نامی نرس نے کیا تھا۔۔۔۔منے فضا دونوں کیلئے وہ شاپنگ کر کے لائی تھی۔گول مٹول سا ننھا حسن جب میری گود میں آیا تو ان دو سالوں میں پہلی دفعہ میں مسکرائی تھی۔میری زندگی میں امید کی کرن بن کر آنے والا میرا بیٹا حسن جس کا پورا نام
ارتضیٰ حسن تھا یہ نام بھی اسی نرس نے رکھا تھا۔۔۔شہلا نامی وہ نرس بہت اچھی تھی بہت خیال رکھا تھا اس نے میرا۔اسی کی سفارش پر میری اچھی دیکھ
بھال کی گئی۔طاقت کی ڈرپس لگائی گئیں پانچویں دن میں چلنے پھرنے کے قابل ہو گئی تھی۔۔۔رینٹ پر کار لے کر وہ خود مجھے گھر چھوڑنے آئی تھی۔جب عامر گھر آیا تو میری حالت کی پروا کیے بغیر اس نے مجھے بری طرح پیٹ دیا۔بے حیا عورت اتنے دن کس کے پاس رہی تھی۔اس نے مجھ پر ایسے ایسے گھٹیا الزامات لگائے کہ میرا دل کر رہا تھا کاش خدا مجھے قوت سماعت سے محروم کر دے۔لیکن کس کو دوش دیتی یہ سب میری اپنی کرنی کا پھل تھا۔۔اپنوں کو جیتے جی مار آئی تھی تو اپنے حصے میں خوشیاں کیسے آتیں بھلا۔پھولوں کے گمان میں کانٹوں سے الجھ بیٹھی تھی۔تذلیل بے حسی بےالتفاتی نے میری ساری شادابی نچوڑ لی تھی۔رنگت میں زردیاں کھنڈ گئی تھیں۔آنکھوں کے گرد گہرے ہوتے
حلقے پپڑی زدہ ہونٹ۔۔۔۔واش روم کے آئینے میں کبھی کبھار خود پر نظر پڑ جاتی تو خود اپنی حالت پر ترس کھانے کو دل کرتا کیونکہ میں شہوار نہیں بلکہ شہوار کا سایہ معلوم ہوتی تھی۔۔۔ سورج طلوع ہوتا یا غروب میری زندگی ان چیزوں سے ماورا ہو چکی تھی۔میرے
لئیے دن اور رات ایک جیسے تاریک تھے۔میں پیاس سے نڈھال ہو چکی تھی۔۔رشتوں کی پیاس۔۔محبتوں کی پیاس۔۔مجھے لگا تھا شائد اس بار بیٹے کی آمد عامر کو سدھار دے مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔بیٹے کو پھر بھی کبھی کبھار تھوڑا بہت پیار کر لیتا تھا مگر بیٹی کو اس حق سے مکمل محروم رکھا ہوا تھا۔حسرت بھری نگاہوں سے جب وہ باپ کی طرف دیکھتی تو میرا دل کٹ کر رہ جاتا تھا۔بے حسی خود غرضی سنگدلی اس
کے انگ انگ میں شامل ہو چکی تھی۔۔نہایت ہی سفاک
انسان تھا کئی بار اسے بھی تھپڑ مار چکا تھا۔
انیس نومبر 1991۔۔
زندگی روتے دھوتے اسی ڈگر پر ہی گھسیٹتی ہوئی چل رہی تھی کہ ایک دن ایسی خبر ملی میں ہل کر رہ گئی کسی جوا خانے میں جوا کھیلتے ہوئے اسکے ساتھیوں نے اسے زہریلی شراب پلا دی جس سے فوری طور پر اسکی موت واقع ہو گئی تھی۔۔۔مجھے سمجھ نہیں آتی تھی اسکی کی موت کا افسوس کروں یا اس سے جان چھوٹنے پر خوشی مناؤں۔۔بہرحال جیسا بھی تھا میرے بچوں کا باپ تھا۔۔۔بچے یتیم ہو گئے تھے اور میں بیوہ اسکے مرنے کے ایک ہفتے بعد میں دوسال کی فضا اور ایک سال کے حسن کو لئیے کراچی آ گئی۔۔جوا خانے کے مالک نے مجھے ہرجانے کے طور پر تیس ہزار دئیے تھے کیونکہ شراب اور وہ جگہ اسی کی مہیا کردہ تھی۔اگر میں مجبور نا ہوتی تو کبھی وہ حرام کی رقم نا لیتی۔کراچی آنے کے بعد بچوں کو لئیے میں اپنے گھر گئی تو وہاں اماں ابا بھائی کوئی بھی نا ملا۔۔۔ہمارے گھر میں کوئی اور لوگ رہتے تھے پوچھنے پر بتایا یہ گھر انہوں نے آج سے ساڑھے تین سال پہلے خریدا تھا۔۔یعنی اماں ابا اور بھائی میرے گھر سے جانے کہ فوراً بعد ہی گھر بیچ کر کہیں چلے گئے تھے۔محلے والوں سے پوچھنے کا فائدہ نہیں تھا۔وہ کونسا انہیں ایڈریس بتا کر گئے ہوں گے۔ یقیناً محلے میں ہونے والی بدنامی کی وجہ سے ہی انہیں گھر چھوڑنا پڑا ہوگا۔خیر قصور سارا میرا اپنا تھا بدنامی میں ہی تو دے کر گئی تھی انہیں۔۔۔اب سوائے رونے تڑپنے کے کیا کر سکتی تھی۔ملیر میں سر چھپانے کو کرائے کا چھوٹا سا گھر مل گیا تھا۔۔کوششوں کے بعد
ایک پرائیویٹ سکول میں جاب بھی مل گئی۔۔۔تنخواہ
اگرچہ بہت کم تھی مگر گزارا ہونے لگا۔۔۔فضا چار سال کی اور ارتضیٰ تین سال کا ہو گیا تھا۔۔اس تمام عرصے میں ابا اماں اور بھائی کو بھی تلاش کرتی رہی ۔میرے دل پر بہت بوجھ تھا۔۔پچھتاوے کی آگ میں جل رہی تھی۔۔۔بیمار رہنے لگی تھی مگر علاج نہیں کرواتی تھی کہ دوائیوں پر پیسے خرچ ہو گئے تو پھر بچوں کو کیا کھلاؤں گی۔پھر اچانک مجھے خون کی الٹیاں آنا شروع ہو گئیں۔مجبور ہو کر ایک سرکاری ہاسپٹل کا رخ کیا کہ اگر مجھے کچھ ہو گیا تو میرے بچوں کا کیا ہوگا۔ڈاکٹر نے مجھے داخل ہونے کا مشورہ دیا مگر پھر بچوں کو کون سنبھالتا نوکری ہاتھ سے نکل جاتی۔۔دوائیاں لے کر گھر آ گئی۔مگر دوائیوں سے بھی کوئی افاقہ نہیں ہوا
پھر ایک رات میری حالت انتہائی بگڑ گئی۔۔۔۔بچوں کے رونے کی آواز سن کر پڑوسی آئے میری خراب حالت دیکھ کر ہاسپٹل لے گئے۔۔۔مجھے داخل کر لیا گیا کیونکہ
میری حالت تشویشناک تھی۔۔پھر جلد ہی میں جان گئی
مجھے بلڈ کینسر تھا جو کہ لاسٹ سٹیج پر تھا ناجانے کب یہ بیماری دیمک کی طرح مجھے کھاتی رہی اور میں جان ہی نہیں پائی یا انجان بنی رہی۔اس انکشاف نے موت سے پہلے ہی موت کا جھٹکا دے دیا تھا۔مجھے موت کا خوف تھا تو صرف یہ سوچ کر کہ میں ابا اماں اور بھائی کو ڈھونڈے ان سے معافی مانگے بنا ہی مر جاؤں گی اور دوسرا میرے بعد میرے بچوں کا کیا ہوگا یہی سوچ سوچ کر میں موت سے پہلے ہی مر رہی تھی
یہ وسوسے اندر ہی اندر روح کو بھی گھائل کیے جا رہے
تھے۔
پڑوسی اچھے تھے میرے بچوں کو سنبھال رہے تھے اور
میرا علاج بھی کروا رہے تھے۔۔۔۔میری کنڈیشن دن بدن بگڑتی جا رہی تھی۔۔۔۔مجھے اپنے بچوں کے بے آسرا رہ جانے اور گھر والوں سے نا مل پانے کا دکھ کھائے جا رہا تھا۔پھر ایک دن میں نے وارڈ میں عائشہ بھابھی کو دیکھا۔۔۔وہ بھی مجھے فوراً پہچان گئیں لپک کر میرے پاس آئیں۔ میری حالت دیکھ کر دنگ رہ گئی تھیں۔۔ہم دونوں ایک دوسرے کے گلے لگ کر بہت روئیں۔انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ بھائی سے نہیں مل پائی تھیں۔اماں
ابا کا تو انہیں پتہ نہیں چل سکا لیکن عبدل بھائی کے بارے میں اتنا پتہ چلا کہ وہ ترکی چلے گئے تھے اور وہاں انہوں نے شادی بھی کر لی تھی۔ان کی شادی کا سن کر وہ بالکل ناامید ہو گئی تھیں اسی لئیے اس کے بعد انہوں نے بھائی سے کنٹیکٹ کرنے کی کوشش نہیں کی کیونکہ انہیں یہ بھی ڈر تھا کہ کہیں وہ انہیں تو کیا بچے کو بھی اپنانے سے انکار نا کر دیں۔۔۔۔۔۔
عائشہ بھابھی کی شکل میں مجھے ایک آسرا مل گیا تھا۔۔سرکاری ہاسپٹل سے وہ مجھے پرائیویٹ ہاسپٹل میں لے گئی تھیں۔میرے بچنے کا کوئی چانس نہیں تھا
زندگی کے آخری دنوں میں ابا اماں اور بھائی سے ملنے اور معافی نا مانگ سکنے کا دکھ تو بہت تھا لیکن اب بچوں کی طرف سے اطمینان تھا انکو سنبھالنے کیلئے
عائشہ بھابھی موجود تھیں۔۔میری نسبت انکی قسمت ذرا اچھی ثابت ہوئی تھی لاہور سے کراچی آنے کے بعد
ایک دور پرے کے رشتے داروں نے انہیں سہارا دیا تھا
ان کے پاس اب اپنا گھر بھی تھا اور وہ اپنا کپڑوں کا کامیاب بزنس بھی چلا رہی تھیں۔مالی لحاظ سے وہ بہتر تھیں۔ان کا اکلوتا بیٹا۔۔۔یعنی میرا بھتیجا۔۔عبدل
بھائی کا بیٹا فارس پانچ سال کا ہو چکا تھا۔اس ننھے
وجود میں میں عبدل بھائی کو تلاش کرتی اسے بے تحاشا چومتی ہوں۔عائشہ بھابھی مسلسل میری ہمت
بندھا رہی ہیں مگر میں جانتی ہوں میرا کینسر لاسٹ سٹیج پر ہے میں زیادہ دن جی نہیں سکتی۔۔
پندرہ اپریل۔۔1994
آج میں آخری بار ڈائری لکھ رہی ہوں کیونکہ آج صبح سے میری حالت انتہائی خراب ہے مجھے نہیں لگتا اب
میں مزید لکھ سکوں گی۔یہ چند آخری سطور ہیں اس
کے بعد میں یہ ڈائری عائشہ بھابھی کے حوالے کر دوں گی اور انہیں وصیت کر جاؤں گی کہ میرے بچے جب
بڑے ہو جائیں تو یہ ڈائری وہ انہیں دے دیں۔ بچوں کو وراثت میں دینے کیلئے اس ڈائری کے علاؤہ اور کچھ نہیں میرے پاس۔ہاتھوں میں طاقت ختم ہوتی جا رہی ہے اب مزید کچھ اور لکھنا میرے لئیے انتہائی مشکل ہے مجھے لگ رہا ہے شائد یہ دن میری زندگی کا آخری دن ہے۔اب بچوں کی طرف سے تو بے فکر ہوں مگر اس آخری وقت میں اپنے پیاروں کو نا دیکھ سکنے کا دکھ قبر تک ساتھ جائے گا۔۔۔۔ مگر ناجانے کیوں دل افسون انتظار سے بندھتا چلا جا رہا ہے۔۔۔ایک لاحاصل انتظار میں آنکھیں بند ہوتی جا رہی ہیں۔
آگے ڈائری کے صفحات خالی تھے۔وہ خالی خالی نگاہوں سے ان صفحات کو تکتی چلی گئی۔آنکھیں بالکل خالی
تھیں۔۔۔۔خشک تھیں۔۔۔ یا شائد سارا پانی ہی اندر کہیں قطرہ قطرہ گر رہا تھا۔۔۔۔کچھ دیر یہ کیفیت طاری رہی پھر اسکے رکے ہوئے آنسو ڈائری کے ان خالی صفحات
پر گرنے لگے۔۔شہوار پھپھو کی اس المناک داستان پڑھ کر اس کا دل سخت آزردہ تھا۔۔۔ان کیلئے اپنے دل میں درد کی لہر اٹھتے محسوس کر رہی تھی۔
لیکن ایک انکشاف نے اسے خوشگوار حیرت میں بھی مبتلا کر دیا تھا۔فارس اس کا اپنا بھائی تھا۔اسکے بابا کا سگا بیٹا۔وہ اس بھری دنیا میں تنہا نہیں تھی۔فضا اور فارس کی شکل میں خونی رشتے تھے اسکے پاس۔وہ ڈائری ہاتھ میں لئیے بھاگتی ہوئی کمرے سے نکلی اس بات پر دھیان دیے بنا کہ اسوقت رات کے ڈھائی
بج رہے ہیں۔۔
اس نے دروازے پر ہاتھ رکھا وہ لاکڈ نہیں تھا کھلتا ہی چلا گیا کمرے میں نیم اندھیرا تھا۔۔۔۔فضا بھابھی بیڈ
پر کمبل اوڑھے محو خواب تھیں۔۔۔۔فارس بھائی کہیں
نہیں تھے اس نے ادھر ادھر نظریں دوڑائیں تو سٹڈی
روم کی لائٹ جلتی نظر آئی۔اس نے آگے بڑھ کر سٹڈی
روم کے دروازے کو دھکیلا سامنے ہی چئیر پر بیٹھے
ٹیبل لیمپ کی روشنی میں کاغذات پھیلائے کچھ لکھنے میں مصروف تھے۔۔۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر انہوں نے سر اٹھایا۔اسے دیکھ کر حیران ہوئے بنا مدھم سا مسکرائے جیسےاس کے اس وقت وہاں آنے کی توقع تھی انہیں۔۔
پڑھ لی ڈائری۔۔۔۔۔؟؟ اسکے ہاتھ میں ڈائری دیکھ کر استفسار کیا۔۔
بھائی۔۔۔۔؟؟ اس کا لہجہ بے قرار تھا۔عارض بھیگ رہے تھے۔۔۔ڈائری اس نے وہیں ٹیبل پر رکھ دی۔۔
فارس اٹھ کھڑا ہوا پھر آگے بڑھ کر اسے بازو کے حلقے میں لیا۔دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔فارس کی آنکھوں میں باپ کو کھو دینے کا جہاں دکھ تھا۔۔ وہاں بہن کے مل جانے کی خوشی تھی جبکہ حیات کی آنکھوں میں حیرانی تھی۔ بے یقینی تھی۔ خوشی تھی۔جس شخص کو وہ اتنا عرصہ بھائی کہتی رہی وہ حقیقت میں بھی اس کا بھائی ہی نکلا۔۔
کس قدر پر مسرت انکشاف تھا اس کیلئے۔۔۔
آگے کیا ہوا تھا بھائی ڈائری میں پھپھو نے اپنی بیماری
تک کا حال لکھا ہے۔۔؟؟ وہ اسے ساتھ لئیے صوفے پر آ بیٹھا تو حیات نے بے قراری سے سوال کیا۔۔۔
!فارس نے گہری سانس لی پھر مدھم لہجے میں کہنا شروع کیا۔پھپھو کا اسی دن ہی انتقال ہو گیا تھا۔امی
ہم تینوں کو ساتھ لئیے حیدر آباد چلی گئی تھیں۔وہاں
ہمارا گھر تھا پھر وقت گزرتا گیا میں نے ایم بی اے کر لیا فضا گریجویشن کے بعد پڑھائی چھوڑ چکی تھی
جبکہ ارتضیٰ ایف ایس سی کر رہا تھا۔۔ایک دن امی کو
اچانک موسمی بخار ہوا جو کہ ٹائیفائیڈ میں بدل گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے امی ہمیں چھوڑ کر چلی گئیں وہ بڑا کڑا وقت تھا۔۔ایک طرف امی کے جانے کا صدمہ تھا۔۔۔۔ تو دوسری طرف ان دونوں کی ذمہ داری بھی مجھ پر تھی۔۔۔انہی دنوں مجھے یہاں ایک کمپنی میں بہت اچھی پوسٹ پر جاب مل گئی تھی۔۔۔۔فضا اور ارتضیٰ کو وہاں اکیلا نہیں چھوڑ سکتا تھا۔کمپنی کی طرف سے گھر بھی ملا تھا۔اس لئیے ان کو ساتھ لے کر کراچی چلا آیا۔امی مجھے ان دونوں کا خیال رکھنے کی سخت تاکید کر گئی تھیں۔ارتضیٰ نے گریجویشن کر لیا تو مزید تعلیم کیلئے میں نے اسے لندن بھیج دیا۔ مالی لحاظ سے میں مستحکم ہو چکا تھا۔جاب کے بجائے اپنا بزنس کرتا تھا۔اپنا گھر گاڑی سب کچھ تھا۔۔ارتضیٰ کے
جانے کے بعد چونکہ ہم دونوں ایک گھر میں بنا کسی شرعی رشتے کے نہیں رہ سکتے تھے اس لئیے امی کی
وصیت کے مطابق میں نے فضا سے شادی کر لی۔ بابا کا ایڈریس مجھے آج سے چار سال پہلے پتہ چلا تھا۔میں نے پہلی بار انکو ان کے آفس کے باہر دیکھا تھا اسکے بعد میں اکثر ان کے آفس کے باہر ان کے انتظار میں
گھنٹوں کھڑا رہتا تھا اور چھپ کر انہیں دیکھا کرتا
تھا۔میرا بہت دل کرتا تھا میں انکے پاس جاؤں انہیں بتاؤں کہ میں ان کا بیٹا ہوں مگر یہ سوچ کے ڈر جاتا
تھا کہیں وہ مجھے اپنا بیٹا ماننے سے انکار نا کردیں
پھر کیسے برداشت کر پاؤں گا میں یہ بات۔۔۔امی کو
بھی ساری زندگی اسی بات کا خوف رہا تھا۔۔میری بے چینی دیکھتے ہوئے فضا نے مجھے مشورہ دیا پیسے
کی کمی تو نہیں ہے کیوں نا عبدالرحمان ماموں کے پڑوس میں گھر لے لیں اصل رشتے سے نا سہی مگر
پڑوسی ہونے کے ناطے تو ان سے تعلقات بنائے جا سکتے
ہیں اس تجویز کو سن کر میں ایکسائیٹڈ ہو گیا تھا۔
پھر قسمت اچھی نکلی یہ گھر جہاں اس وقت ہم موجود ہیں سیل ہو رہا تھا۔۔۔۔۔میں نے فوراً لے لیا بابا
کے پڑوس میں شفٹ ہو گئے۔یہ سوچ کر میرا دل بہت
دکھتا تھا کہ میرا سگا باپ میرے سامنے ہوتا تھا مگر”
وہ ایک لمحے کیلئے خاموش ہوا پھر بات جاری رکھتے ہوئے کہنے لگا۔مگر میرے لئیے یہ بھی غنیمت تھا باپ بیٹے کے رشتے سے نا سہی پڑوسی کے رشتے سے تو
میں ان سے مل پاتا تھا۔۔۔۔۔۔مجھے اور فضا کو تم بہت پیاری تھیں میرے لئیے یہ احساس بہت ہی پرمسرت
تھا کہ میری ایک بہن ہے۔۔وہ نم آنکھوں سے مسکرائے۔اسی لئیے تو ہم نے تمہیں ارتضیٰ کی زندگی میں لانے کا فیصلہ کیا تاکہ تم ہمیشہ ہمارے ساتھ رہو۔۔۔
حیات جو ان انکشافات سے حیران بیٹھی تھی شکوہ کن نظروں سے اسکی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔
بھائی۔اگر بابا سے آپ کو ڈر لگتا تو کم از کم مجھے ہی بتا دیتے۔بلکہ آپ نے بابا سے بھی یہ بات چھپا کر اچھا نہیں کیا اگر آپ انہیں بتا دیتے کہ آپ انکے بیٹے ہیں
تو مجھے یقین ہے وہ بہت خوش ہوتے۔۔۔۔ آپ نے ناحق انہیں اس خوشی سے محروم رکھا۔۔۔وہ خفگی سے کہہ
رہی تھی۔۔
بابا یہ بات جانتے تھے۔۔۔فارس نے ایک اور انکشاف کیا
کیا۔۔۔۔۔۔؟؟حیات نے سخت حیرانگی سے انہیں دیکھا۔۔
مارے حیرت و استعجاب کے اس کا منہ کھل گیا۔پھر یکدم غصے اور دکھ کی وجہ سے اسکے آنسو نکلنے لگے
سب واقف تھے صرف اس سے چھپائی گئی یہ بات
فارس نے بہن کی طرف دیکھا۔وہ اسکی فیلنگز سمجھ رہا تھا۔۔۔۔ ہولے سے اپنا مضبوط ہاتھ اسکے سر پر دھر دیا۔۔۔۔
حیا ایکچولی تمہاری اور ارتضیٰ کی شادی سے دو دن پہلے ہی وہ اس راز سے واقف ہوئے تھے۔وہ بھی اسطرح کہ ایک رات میں انکے پاس شادی کے انتظامات کے حوالے سے کچھ ڈسکشن کرنے آیا تھا جیب سے کچھ نکالتے ہوئے میرا والٹ وہیں رہ گیا تھا۔۔اس میں امی کی تصویر تھی صبح سویرے وہ میرے پاس آئے تھے پھر میں نے یہ ڈائری انکو دکھا دی تھی۔۔۔تمہارا یقین بالکل درست ہے حیا بابا نے مجھے اس دن سینے سے لگا کر بہت چوما تھا۔۔بہت خوش ہوئے تھے وہ یہ جان
کر کہ میں ان کا بیٹا ہوں۔۔۔پھوپھو کی داستان پڑھ کر وہ بہت روئے تھے۔۔۔ہم تمہیں بھی اسی روز سب بتانے ہی والے تھے کہ ارتضیٰ نے منع کر دیا تھا۔وہ خود تمہیں شادی والے دن یہ سر پرائز دینا چاہتا تھا۔۔۔مگر قسمت نےمہلت نا دی اور وہ”
ارتضیٰ کا نام لیتے ہوئے فارس کی آواز بھرا گئی تھی اور وہ خاموش ہو گیا۔۔
ارتضیٰ کے ذکر پر اس نے سر جھکا لیا۔اب کی بار اسکی
آنکھوں سے نکلنے والے شفاف موتی ارتضیٰ حسن کے نام کے تھے۔۔ جسکی بہت ہی مختصر سی رفاقت اسکے حصے میں آئی تھی۔پھر چاہ کر بھی وہ اسے کبھی بھلا نہیں پائی۔۔
کچھ پل کی خاموشی کے بعد وہ بات جاری رکھتے ہوئے بولا۔۔۔
“۔۔پھر اسکے بعد بابا نے فضا کے رویے کو دیکھتے ہوئے
مجھے منع کر دیا تھا تمہیں اس راز سے آگاہ کرنے کے لئیے وہ نہیں چاہتے تھے کہ اس راز سے آگاہی کے بعد تمہیں ہمارے رویوں سے زیادہ تکلیف پہنچے۔۔۔کیونکہ
خون کے رشتوں کی بے اعتنائی نفرت انسان کو زیادہ
دکھ دیتی ہے بہ نسبت منہ بولے رشتوں کے۔میں تمہیں
اور بابا کی چھوڑ کر لندن جانا نہیں چاہتا تھا مگر بابا
نے اس بات کیلئے مجھے خود مجبور کیا تھا اور ساتھ
ہی انہوں نے مجھ سے وعدہ لیا تھا میں ان سے اور تم سے بھی کنٹیکٹ نہیں رکھوں گا تب تک جب تک فضا
کے دل میں تمہارے لئیے جو وقتی غصہ اور نفرت پیدا ہوئی تھی وہ ختم نہیں ہو جاتی۔۔۔۔۔پھر لندن میں میرا ایک بہت ہی خوفناک ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔۔معجزاتی طور پر میں بچ گیا تھا۔۔ مگر چوٹیں بہت شدید تھیں۔خاص طور پر سر میں لگنے والی چوٹ کی وجہ سے چھے مہینے میں ہوش و حواس سے بیگانہ رہا۔۔۔۔ارتضیٰ کے ایک دوست اور اسکی فیملی نے ہمارا بہت ساتھ دیا تھا۔۔۔۔ٹریٹمنٹ چلتا رہا جب میں مینٹلی طور پر بالکل ٹھیک ہوا تب آٹھ مہینے گزر چکے تھے۔شعور کے بیدار
ہوتے ہی مجھے تمہارا اور بابا کا خیال آیا میں نے فوراً
کنٹیکٹ کرنے کی کوشش کی مگر نا بابا سے رابط ہو پایا اور نا تم نے۔اسی پریشانی کے عالم میں میں نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا فضا سے کوئی بہانہ کرنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ ایک دن وہ تمہیں اور بابا کو یاد کر کے میرے سامنے رو پڑی اور کہا کہ وہ پاکستان جانا چاہتی ہے۔میں بہت خوش ہوا کہ شکر ہے اسکے دل سے تمہارے لئیے غصہ ختم ہو گیا۔۔میں نے فوراً ٹکٹس لیں اگلے روز ہی ہم یہاں پر تھے۔۔۔۔مگر آہ قسمت ہمیں آنے میں دیر ہو گئی تھی نا بابا ملے نا تم ملی۔۔گھر پر بھی کسی اور کا قبضہ تھا۔۔۔۔۔۔میں بتا نہیں سکتا کس قدر اذیت میں مبتلا رہا فضا اپنے آپ کو دوش دیتی تھی تین ماہ تک میں تمہیں اور بابا کو ڈھونڈھتا رہا۔۔۔خدا گواہ ہے ان تین مہینوں میں ایک لمحہ بھی سکون سے نا سو سکا۔۔میری نیند میرا چین سکون سب لٹ چکا تھا۔ پھر ایک دن خدا کو شائد مجھ پر ترس آ گیا تھا اس نے میری بہن کو مجھ سے ملا دیا۔۔۔۔
۔فارس نے جھک کر اسکے سر پر نرمی سے بوسہ دیا۔۔۔
ایک اور اہم بات۔۔۔ تمہیں شائد معلوم نہیں حیا تمہارا بھائی۔۔ یعنی بابا کا سگا بیٹا صرف میں ہی ہوں مون سائرہ آنٹی کی بہن کا بیٹا تھا جسے اس کے ماں باپ کی ڈیتھ کے بعد وہ اپنے ساتھ لے آئی تھیں۔۔۔
ایک اور انکشاف۔۔۔۔
کیا۔۔۔۔وہ بھونچکا رہ گئی۔۔۔
مگر مجھے تو کبھی کسی نے نہیں بتایا اور پھر آپ کو کیسے پتہ۔۔؟؟وہ سخت حیرانی سے پوچھ رہی تھی۔۔۔
یہ بات مجھے بابا نے بتائی تھی۔۔۔۔مون کو وہ تب لائے تھے جب تم ایک سال بورڈنگ اسکول میں رہی تھی۔۔
اوہو۔۔۔۔۔اس کے منہ سے بے اختیار گہری سانس خارج ہوئی۔مون کو اس نے بابا کا بیٹا سمجھ کر ہمیشہ اپنی جان سے بھی زیادہ پیار کیا تھا۔۔مگر اسے اس بات سے اب بھی کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ وہ اسکے بابا کی اولاد تھا یا نہیں۔مون کی محبت اسکے دل میں ہمیشہ ویسی کی ویسی ہی رہنے والی تھی۔
اب بھی اس معصوم کا خیال اسکے دل میں درد بن کر اچانک سے تڑپانے لگا تھا۔بھائی کے مضبوط شانے پر سر ٹکائے وہ دھواں دھار رونے لگی۔
فارس اسے ہولے ہولے تھپکتا رہا۔ چپ چاپ تسلی دیتا رہا۔شائد اس لمحے لفظوں کی ضرورت نہیں تھی۔یا جو کچھ ہوا تھا اب لفظوں سے اسکی تسلی نہیں کرائی
جا سکتی تھی یا پھر الفاظ ہی ناکافی تھے۔۔۔۔اب چپ چاپ صبر کرنا تھا۔صرف صبر۔۔اور یہ صبر بھی اللّٰہ ہی
دے سکتا تھا۔۔۔
فارس کا اپنا چہرہ بھی بھیگا ہوا تھا۔کافی دیر بعد جب
وہ کھل کر رو چکی تھی۔دل کا غبار آنسوؤں کے ذریعے نکل گیا تو وہ خاموشی سے الگ ہو کر بیٹھ گئی۔۔
جتنا رونا تھا تم نے رو لیا۔۔۔ بس آج کے بعد میں تمہیں روتا ہوا نا دیکھوں سمجھ آئی۔۔۔۔وہ محبت بھرے لہجے میں ڈپٹے ہوئے بولا۔حیات نے فوراً آنسو صاف کیے۔لمبے عرصے بعد دل سے مسکرائی تھی۔
میں کیوں روؤں گی اب بھلا۔۔۔۔پہلے تو اس لئیے روتی تھی کیونکہ مون کے بعد مجھے لگتا تھا۔۔۔۔میرے پاس کوئی رشتہ نہیں بچا۔۔۔۔میں بالکل اکیلی رہ گئی۔مگر میں غلط تھی۔ اللّٰہ نے ایک بھائی اگر لے لیا تو دوسرا بھی دے دیا۔۔۔۔یہ اس ذات پاک کا بہت بڑا احسان ہے مجھ پر۔۔اب وہ طمانیت سے مسکرا رہی تھی۔۔فارس بھی مسکرایا۔پھر نرمی سے بولا۔۔۔حیا کل سے تم اپنی نارمل روٹین لائف سٹارٹ کروگی یونی جاؤ گی۔۔۔۔
میں خود تمہیں چھوڑنے جاؤں گا واپسی پر ہم تینوں آوٹنگ پر جائیں گے۔تمہارے منہ سے انکار میں بالکل نہیں سنوں گا۔بہت ہو گیا تمہارا رونا دھونا اور سوگ منانا۔کل سے تم وہی پہلے والی ہنستی مسکراتی حیا
بن کر اپنی نارمل لائف سٹارٹ کروگی اوکے۔۔۔
اس نے حکمیہ انداز میں کہا۔۔۔
مگر بھائی وہ۔۔۔۔۔” وہ جھجھک سی گئی۔۔
وہ کیا۔۔۔۔؟؟فارس نے چونک کر دیکھا۔۔وہ سر جھکا گئی
پھر فوراً سمجھ گیا۔یکدم اس نے اپنے لب بھینچے۔اور
سپاٹ لہجے میں بولا۔۔۔۔اس حوالے سے فکرمند ہونے کی
ضرورت نہیں اس گھٹیا شخص سے میں خود نپٹ لوں گا۔بہت جلد ڈیورس لیں گے تمہاری۔فارس کی آواز میں
اب سختی تھی۔۔چہرے پر تناؤ تھا۔۔۔
لفظ Divorce سن کر ناجانے کیوں وہ گم صُم سی ہو گئی تھی۔چند لمحے خاموشی چھائی رہی۔۔فارس نے گم صُم بیٹھی حیات کی طرف بغور دیکھا۔۔۔۔۔پھر اس کی آنکھوں میں چمکتی نمی اسے تڑپا گئی۔اس نے فوراً آگے بڑھ کر اسے بازو کے حلقے میں لیا۔وہ جو خود پر ضبط کر رہی تھی۔بھائی کی مہربان شفیق آغوش میں ضبط کھو بیٹھی۔ایک بار پھر آنسو موتیوں کی مانند اسکی حسین آنکھوں سے گر رہے تھے۔۔۔
پتہ ہے بھائی۔۔بہت عرصہ ہو گیا میں نماز پڑھنی چھوڑ دی کیونکہ میں اللّٰہ سے ناراض تھی کہ اس نے مجھ سے میرے سارے رشتے لے لیے۔۔۔۔کتنی بڑی غلطی ہوئی مجھ سے اللّٰہ تعالیٰ تو ہم سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے پھر وہ بھلا کیسے مجھ سے میرے سارے
رشتے لے لیتا۔۔۔دے دیا نا آپ کی شکل میں بھائی۔فضا
کی شکل میں بھابھی اور کزن۔۔۔۔وہ رو بھی رہی تھی اور ہنس بھی رہی تھی۔۔۔۔۔
بس اب میں اللّٰہ سے کبھی شکوہ نہیں کرونگی اور آج سے نماز بھی پانچ وقت پڑھوں گی۔وہ آنسو صاف کرتے ہوئے شرمندہ سے لہجے میں کہہ رہی تھی۔۔۔۔۔فارس نے
اسکے سر پر ہلکی سی چپت لگاتے ہوئے شرارتی لہجے میں کہا۔میری بیوقوف سی آپا آج سے نہیں بالکل ابھی سے سٹارٹ کرو کیونکہ فجر کی نماز کا وقت ہو گیا ہے
آپا۔۔۔۔؟؟حیات نے صدمے سے اسکی طرف دیکھا۔۔۔
ہاں بہن کو آپا ہی تو کہتے ہیں۔۔۔وہ کندھے آچکا کر صوفے سے اٹھتے ہوئے بولا۔۔۔۔
وہ بڑی بہن کو کہتے ہیں۔اور میں آپ سے چھوٹی ہوں
وہ منہ پھلا کر کہتی سٹڈی روم سے نکل گئی۔۔
بڑھی ہوئی شیو پرشکن لباس بے ترتیب بکھرے بال اور
نشے کی زیادتی سے سوجے ہوئے پپوٹے،بوجھل انگاروں
کی طرح دہکتی ہوئی آنکھیں۔۔ایک عجیب سی وحشت
اور بے چارگی اور وحشت اسکے حلیے سے جھلک رہی تھی۔۔۔ٹیبل پر سیال مشروب کی بوتل رکھی ہوئی تھی ساتھ میں پڑی ایش ٹرے بھی سگریٹ کے ٹکڑوں سے بھری ہوئی تھی۔وہ اس وقت نشے میں دھت لگ رہا تھا
سکندر علی خان افسردگی۔۔۔دلگرفتی۔۔۔۔ اور صدمے سے اسے دیکھتے رہ گئے۔۔۔۔۔پچھلے دو ہفتوں سے وہ فیکٹری کیلئے مشینری خریدنے جاپان گئے ہوئے تھے۔۔۔۔۔آج صبح گھر واپس آئے تو بیوی کو پریشان دیکھا۔۔۔۔
پوچھنے پر بتایا کہ ماحر کل رات سے گھر نہیں آیا تھا اور نا ہی فون اٹھا رہا تھا۔۔۔۔سکندر علی خان نے اسکے مینیجر کو فون کیا تو پتہ چلا وہ اپنے کلفٹن والے فلیٹ پر ہے وہ فوراً ہی وہاں چلے آئے تھے۔۔اب اسکی یہ حالت دیکھ کر ان کے دل پر چرکے لگ رہے تھے۔۔۔ہنستا
مسکراتا زندہ دل ہینڈسم ڈیشنگ سا ان کا ہیرو بیٹا
اسوقت کوئی دیوانہ پاگل ہوش و حواس سے بیگانہ کوئی نشئی لگ رہا تھا۔
ماحر۔۔۔۔سکندر علی خان کی دھیمی سی آواز پر اس نے فوراً آنکھیں کھولیں۔۔۔ڈیڈ۔۔۔باپ کو سامنے کھڑا دیکھ کر اس نے اٹھنے کی کوشش کی مگر لڑکھڑا گیا۔سکندر علی خان نے فوراً آگے بڑھ کر اسے سہارا دیا۔۔۔
کیا حالت بنا رکھی ہے بیٹا۔۔؟؟اسے سہارا دے کر بیڈ پر
بٹھایا اور خود بھی اسکے ساتھ بیٹھ گئے۔اپنا بازو اس
کے کندھے کے گرد پھیلایا ہوا تھا۔۔۔
کیا ہوا ہے بیٹا کسی سے جھگڑا ہو گیا ہے کیا۔۔۔؟؟انہوں نے نرمی سے پوچھا۔۔۔۔
نو۔۔۔ ڈیڈ۔۔۔۔ کس۔۔۔کی۔۔۔ہمت۔۔۔ہے۔۔۔۔کہ۔۔۔۔۔مجھ۔۔۔سے۔۔۔جھگڑا۔۔۔کرے۔۔۔میں۔۔پھر۔۔۔چھوڑتا۔۔۔کہاں۔۔۔۔کسی”
وہ رک رک کر بول رہا تھا۔نشے کی زیادتی کی وجہ سے اسکی آنکھیں بند ہو رہی تھیں۔۔ سکندر علی خان نے فوراً تکیہ سیدھا کر کے اسے لٹا دیا۔۔اور پریشانی کے عالم میں اسے دیکھنے لگے۔۔
اس کا ڈرنک کرنا۔۔ سگریٹ نوشی۔۔ لڑکیوں سے دوستی تعلقات کی نوعیت ،اس سب سے بہت اچھی طرح آگاہ تھے وہ۔۔۔۔۔ڈرنک تو سکندر علی خان خود بھی کئی بار اس کے ساتھ بیٹھ کر چکے تھے۔۔۔۔اگرچہ عادی تو نہیں بس یونہی شوقیہ کرلیتے تھے۔جس فیلڈ اور سوسائٹی
میں وہ موو کرتے تھے وہاں ایسی سرگرمیاں سٹیٹس کا حصہ تھیں۔یہ تو ہو ہی نہیں سکتا تھا کوئی فلمسٹار
ہو۔نا پارٹیز میں جاتا ہو نا ڈرنک کرتا ہو نا عورتوں سے
تعلقات رکھتا ہو۔ماحر بھی ان تینوں چیزوں کا دلدادہ تھا مگر سکندر علی خان نے پہلے کبھی اسے اس قدر نشے ہوش ہو حواس سے بیگانہ نہیں دیکھا تھا۔وہ پی کر بھی اپنے حواس کنٹرول میں رکھتا تھا ویسے بھی
وہ ڈرنک عموماً بے تحاشا خوشی میں یا ٹینشن میں
ہی کرتا تھا۔نارمل حالت میں وہ اس چیز کو زیادہ منہ نہیں لگاتا تھا۔سکندر علی خان بے حد تشویش سے اسے دیکھ رہے تھے۔۔
حیا۔۔۔۔حیا۔۔اچانک ہی وہ مدہوشی کے عالم میں بڑبڑایا
اور پھر پہلے کی طرح بے سدھ ہو گیا۔۔۔
سکندر علی خان چونک گئے تھے۔اسکے منہ سے کسی لڑکی کا نام سننا کوئی تعجب آمیز بات نہیں تھی وہ
پہلے بھی بہت بار ان کے سامنے بے تکلفی سے اپنی گرل فرینڈز کا نام لے لیتا تھا۔۔لیکن اس نام کو لیتے وقت اسکے لہجے میں کوئی ایسی خاص بات ضرور تھی جس سے انہیں یہ لگا کہ ہو نا ہو اسکی حالت کا تعلق
اسی نام سے ہے۔۔۔وہ کافی دیر سوچتے رہے پھر کمرے سے باہر آ کر اسکے مینیجر فرقان کو کال ملائی۔۔۔۔
فرقان ماحر کی تمام سرگرمیوں کے بارے میں تمہیں معلوم ہوتا ہے لہذا یہ بتاؤ یہ حیا کون ہے۔۔۔؟؟؟
فرقان کے کال اٹینڈ کرتے ہی انہوں نے سوال داغا
فرقان چند لمحے تو بالکل چپ کا چپ رہ گیا۔۔۔
تمہاری خاموشی بتا رہی ہے۔۔تم اچھی طرح واقف ہو
دیکھو مجھ سے کچھ مت چھپانا۔۔۔۔میرا جاننا بہت ضروری ہے کیونکہ ماحر کی حالت ٹھیک نہیں۔۔۔
سر وہ انکی وائف ہیں۔۔۔
وائف۔۔۔۔۔؟؟سکندر علی خان بھونچکا رہ گئے
جی سر وائف۔۔۔کچھ عرصہ پہلے انہوں نے مس حیات سے نکاح کیا تھا۔۔۔۔لیکن وہ انہیں ناپسند کرتی تھیں یا
غصہ تھا یہ تو نہیں معلوم لیکن آٹھ دن پہلے وہ چپکے
سے ان کا فلیٹ چھوڑ کر چلی گئیں۔۔۔۔۔۔سر کے کہنے پر میں انہیں تب سے ڈھونڈ رہا ہوں مگر تاحال کچھ پتہ نہیں چل سکا ان کا۔۔ماحر سر اسی لئیے اتنے ٹینس ہیں
فرقان کی باتوں نے سکندر علی خان کو چکرا کر رکھ دیا تھا۔۔۔۔۔پہلے تو اسکے نکاح والی بات حیران کن تھی اور دوسری ناقابل یقین بات کہ ماحر کو وہ لڑکی چھوڑ کر چلی گئی تھی۔۔۔۔وہ کرید کرید کر فرقان سے مختلف سوال کرتے رہے مگر زیادہ تر سوالوں کے بارے میں اس نے لاعلمی کا اظہار کیا۔۔۔۔۔
فائزہ سکندر کی کال آئی تو انہوں نے ماحر کی حالت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا وہ شدید پریشانی کے عالم میں ڈرائیور کے ساتھ تھوڑی ہی دیر میں وہاں
پہنچ گئیں۔بیٹے کی حالت دیکھ کر وہ رونے لگیں دیکھ
کر وہ رونے لگیں سکندر علی خان انہیں دلاسہ دے رہے
تھے۔۔۔۔ ساتھ ہی انہوں نے ماحر کی اس حالت کی وجہ بھی بتا دی مگر یہ جان کر حیران رہ گئے وہ پہلے سے ہی جانتی تھیں۔۔۔ماحر کچھ دن پہلے انہیں سب کچھ بتا چکا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں میاں بیوی تعجب و تکلیف سے اپنے جوان بیٹے کی طرف دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔۔جو بھری بہار میں خزاں رسیدہ درخت کی مانند لگ رہا تھا۔۔۔۔
میں اپنے بیٹے کو اس حالت میں نہیں دیکھ سکتی آپ خود ڈھونڈھیں اسکی حیات کو۔۔۔۔اپنے بیٹے کی زندگی میں اسے واپس لانے کیلئے مجھے اسکے سامنے ہاتھ بھی جوڑنے پڑے تو میں یہ کروں گی۔سوئے ہوئے بیٹے
کے بالوں میں محبت سے انگلیاں پھیرتے اس نے سامنے بیٹھے پرپشان سے شوہر کی طرف آنسو بھری آنکھوں سے دیکھتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا۔۔سکندر علی خان نے اثبات میں سر ہلا کر انہیں تسلی دی۔فائزہ سکندر کتنی ہی دیر بھیگی آنکھوں سے بیٹے کو تکتی رہی تھیں۔۔۔
