Meri Hayat By Zarish Hussain Readelle50271 Meri Hayat (Episode 22)
Rate this Novel
Meri Hayat (Episode 22)
Meri Hayat By Zarish Hussain
اسکے سیکنڈ سمسٹر کی پڑھائی شروع ہو چکی تھی۔ڈاکٹر طارق نیازی نے ان لوگوں کو اسائنمنٹ دیا تھا۔جو ارتضیٰ حسن کی جگہ پڑھانے آئےتھے۔۔امریکہ سے پی ایچ ڈی کر کے آئے ان پروفیسر کو وہ نئے سمسٹر کے آغاز سے ہی اپنی کارکردگی سے متاثر کرنا چاہتی تھی۔
“۔۔۔۔بعض چیزوں کے بارے میں وہ ارتضیٰ سے مدد لینا چاہتی تھی۔اسی لئیے اس رات اس نے ارتضیٰ کو فون کیا۔اس سمسٹر کا یہ پہلا اسائنمنٹ ہے اور میں چاہتی ہوں بہت اچھا بنے۔۔۔جواب میں وہ قہقہہ لگا کے ہنس پڑا۔اچھا تو یہ ساری محنت ڈاکٹر صاحب کو امپریس کرنے کیلئے کی جا رہی ہے۔کہ وہ نئے سمسٹر کی ابتداء سے ہی ہماری مسسز کی ذہانت اور قابلیت سے بری طرح امپریس ہو جائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ تمہیں اپنی تعریفیں سننے کا زیادہ شوق نہیں ہوتا جا رہا لڑکی۔ وہ شرارتی لہجے میں چھیڑ رہے تھے۔۔۔۔۔”
ہاں آپ نے تو جیسے میری تعریفوں کے پل باندھے ہوئے ہیں نا۔۔۔۔خود تو نمبر دینے میں کنجوسی کرتے تھے۔اب چاہتے ہیں کہ پروفیسر نیازی بھی کم مارکس دیں۔۔۔۔۔
یہ ارتضیٰ کے ہی بخشے گئے اعتماد کا نتیجہ تھا جو وہ منہ پر بول گئی۔۔۔۔۔۔جواباً اس کا قہقہہ بے ساختہ تھا”
محترمہ نکاح کے بعد اتنی تو تعریفیں کر چکا ہوں میں آپکی۔۔۔۔۔اگر پل بنانا ہے تو وہ آپ بے فکر رہیں رخصتی کے بعد بہت بڑا پل تعمیر کروں گا۔۔۔۔۔بس آپ موقع دے دینا ہمیں۔۔۔۔۔اور رہی بات مارکس کی تو اسکی بھی تلافی کر دوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔فل کیا ایکسڑا مارکس بھی دیا کروں گا۔۔۔۔وہ شوخ لہجے میں کہہ رہا تھا”
میں ان تعریفوں کی بات نہیں کر رہی۔۔۔وہ سٹپٹا کر جلدی سے بولی۔۔۔۔۔”
تو پھر کن تعریفوں کی بات کر رہی ہیں آپ۔۔۔۔ارتضیٰ کا انداز تنگ کرنے والا تھا”
۔۔۔۔قابلیت اور ذہانت کی۔۔۔۔۔۔۔”وہ برا ماننے کے انداز میں بولی”
“اوہو۔۔۔۔ قابلیت اور ذہانت۔۔۔۔۔وہ ہنسا
۔۔۔اسکی تو کیا ہی بات ہے۔۔۔
قابلیت ذہانت بلکہ بے وقوفی سے بھی ہم تو آلریڈی امپریس ہیں کسی اور کو کرنے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔۔۔اشارہ اسکے پیپر ڈراپ کرنے والی بات کی طرف تھا”وہ ایک بار پھر سے شرمندہ ہو گئی۔۔۔۔۔کاش نا ان سے ہیلپ مانگنے کی غلطی کرتی اور نا پھر اس غلطی کو سدھارنے کیلئے پیپر چھوڑنا پڑتا۔۔
میرا مقصد انہیں امپریس کرنا نہیں اچھی اسائنمنٹ بنانا ہے۔۔۔۔”
اچھی اسائنمنٹ دیکھ کر امپریس تو وہ ہو ہی جائیں گے۔خیر آجاؤ سکائپ پر۔۔۔۔جو سمجھنا ہے سمجھا دیتا ہوں۔۔۔کافی دنوں سے دیکھا نہیں تمہیں۔۔سو دیکھ بھی لوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور تھوڑی بہت رومینٹک باتیں کرنے کی پریکٹس بھی کر لوں گا۔۔۔۔سرشار لہجے میں مسکراتے ہوئے بولا”
۔۔۔حیات جھینپ سی گئی۔۔۔۔
۔۔۔۔ویڈیو کال ضروری ہے کیا۔۔۔؟؟آڈیو سے کام نہیں چل سکتا ۔۔۔۔۔؟اسے پتہ تھا سمجھائے گا کم۔۔ دیکھے گا زیادہ۔۔
وہ کیوں ویڈیو میں کیا مسئلہ ہے؟؟اس نے زیر لب مسکراتے ہوئے مصنوعی حیرت سے کہا۔مسئلہ تو وہ سمجھ ہی چکا تھا۔۔۔جانتا تھا اس کا وارفتگی بھری نظروں سے دیکھنا حیات کو پزل کر دیتا تھا”
۔۔۔۔۔نہیں مسئلہ تو کوئی نہیں۔بس ایسے ہی کوئی بہانہ سمجھ نہیں آیا۔۔۔۔۔۔۔۔آپ بس اسی کال پر سمجھا دیں۔
ویڈیو کال پر تمہیں زیادہ اچھے سے سمجھ آئے گی نا
چلو جلدی سے آجاؤ ویڈیو کال پر۔۔۔۔۔۔”
نہیں مجھے آڈیو کال پر بھی اچھے سے سمجھ آجاۓ گی۔۔۔۔۔آپ کو اسائنمنٹ میں میری ہیلپ کرنی ہے تو اسی کال پر کریں۔۔۔۔۔وہ ضدی انداز میں بولی”
“۔۔۔بہت ضدی ہو یار۔۔۔۔۔۔۔۔کبھی تو دل خوش کر دیا کرو۔۔۔۔۔بہت ہی کوئی نالائق سٹوڈنٹ ہو میری۔۔۔۔۔ ہر امتحان میں فیل ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ قریب تھا تب بھی نالائق سٹوڈنٹ تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔اب سات سمندر پار ہوں تب بھی نالائقی کے جھنڈے گاڑھ رہی ہو۔۔۔۔وہ مایوسی سے بولا
“۔۔۔۔میں نالائق سٹوڈنٹ ہوں۔۔۔۔؟وہ صدمے سے بولی
آف کورس۔۔۔ اسے چڑانے کی خاطر وہ زور دیکر بولا
اوکے سر میں نالائق سٹوڈنٹ ہوں۔۔۔۔ تو نالائق سٹوڈنٹ ہی سہی۔۔وہ چڑنے کے بجائے کھل کر ہنسی۔۔۔۔۔”
۔۔۔ارتضیٰ کی پیاسی سماعتیں سیراب ہونے لگیں۔۔۔۔”
تم ایسے نہیں خیال کروگی میرا۔۔۔۔تھوڑی جدائی اور دکھ کی آنچ دینی پڑے گی پھر صحیح معنوں میں پگھلو گی تم اور میری تڑپ کا اندازہ ہوگا تمہیں۔۔۔
ہاہا جدائی اور آپ۔۔۔۔پانچ مہینے تو میرے بغیر نکالے نہیں جا رہے آپ سے۔۔۔۔وہ ہنستے ہوئے اب مذاق اڑا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔”
شایان یہ ساری گفتگو سن رہا ہے۔۔۔تھوڑی عزت رکھ لو یار۔۔۔۔۔۔۔وہ مصنوعی بے چارگی سے بولے
کیا شایان بھائی۔۔۔۔۔اسے جھٹکا لگا۔۔۔۔۔۔۔وہ آپ کے پاس کیسے۔۔۔۔۔؟؟ میرا مطلب ہے وہ تو لندن میں ہوتے ہیں
ہاں مجھ سے ملنے کل ہی آیا ہے امریکہ۔۔۔۔۔
اوکے آپ انہیں کمپنی دیں میں فون رکھتی ہوں۔۔۔وہ جلدی سے بولی۔۔۔۔پہلے ہی شرمندگی ہو رہی تھی کہ کہیں ساری باتیں تو نہیں سن لیں۔۔۔۔۔”
اچھا سنو۔۔۔۔میں تھوڑی دیر میں تمہیں رنگ کروں گا۔۔۔
آجانا سکائپ پر میں صرف تمہارے اسائنمنٹ کے بارے میں ہی بات کروں گا۔ کوئی رومینٹک بات نہیں کہوں گا۔۔۔۔۔نا زیادہ دیکھوں گا تمہاری طرف جس سے تم ڈر رہی ہو۔۔۔۔وہ ہنس کر کہہ رہا تھا”۔۔۔۔۔وہ خفیف سی ہو کر فون بند کر گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اب وہ حورین کو کال ملا رہی تھی۔ ارادہ اسکے کان کھینچنے کا تھا۔۔۔۔جس نے اسے یہ ضروری اطلاع نہیں دی کہ شایان ارتضیٰ سے ملنے امریکہ گیا ہوا ہے۔حورین سے بات کرنے کے دس منٹ بعد ارتضیٰ کی دوبارہ کال آئی تو چاروناچار اسے سکائپ پر جانا پڑا۔۔ارتضیٰ نے اس سے ایک گھنٹہ بات کی اسائنمنٹ کے حوالے سے کئی اہم پوائنٹس اور ٹپس اسے بتائیں”اسائنمنٹ سبمٹ کروانے میں ایک ہفتہ تھا سو وہ ریلیکس ہو کر سو گئی۔۔۔۔۔۔۔”رات کو چاہے وہ لیٹ سوتی یا جلدی اٹھتی۔آنکھ اسکی حسب معمول صبح سویرے ہی کھل جاتی تھی۔تیار ہو کر ناشتے کی ٹیبل پر آئی تو وہ خالی تھی۔بوا اسکے لئیے ناشتہ لگا رہی تھی۔۔۔۔۔”
“۔۔۔۔بوا بابا ناشتہ کر کے چلے گئیے کیا۔۔۔۔۔۔حیات نے انکی خالی کرسی کی طرف دیکھتے ہوئے پراٹھے رکھتی بوا سے پوچھا۔۔۔۔۔۔
“۔۔۔۔۔نہیں بیٹا وہ تو ابھی تک نہیں اٹھے۔۔۔میں بلا لاتی ہوں۔۔”نہیں آپ رہنے دیں میں خود جاتی ہوں۔۔۔۔۔۔وہ کرسی سے اٹھتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔۔ناک کر کے ان کے کمرے میں آئی تو وہ بستر پر کمبل اوڑھے سو رہے تھے۔کچھ دیر کھڑی انہیں دیکھتی رہی کہ آیا اٹھائے یا نہیں پھر آہستہ سے انکی پیشانی پر ہاتھ رکھا تو وہ گرم تھی”
وہ پریشان ہو گئی۔۔۔۔۔ابھی ایک منتھ پہلے ہی تو اتنا شدید بخار ہوا تھا انہیں۔۔۔۔اب پھر سے۔۔۔۔اسے تشویش ہونے لگی۔۔۔۔۔” یونیورسٹی جانے کا ارادہ اس نے بدل دیا اور انکے جاگنے کے انتظار میں وہیں کرسی پر بیٹھ گئی۔۔دس منٹ بعد انہوں نے کروٹ لی اور آنکھیں کھولیں۔۔۔۔۔۔حیات فوراً انکی طرف متوجہ ہوئی۔وہ جاگ چکے تھے۔اسے اس ٹائم وہاں دیکھ کر چونکے۔۔۔”
کیا ہوا بیٹا آپ یونیورسٹی نہیں گئیں۔۔۔۔؟انہوں نے اٹھنے کی کوشش کی حیات نے فوراً آگے بڑھ کر انہیں سہارا دیا۔دن بدن وہ خاصے کمزور ہوتے جا رہے تھے۔
بابا آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔میں ڈاکٹر کو بلاؤں۔۔وہ ان کا سوال نظر انداز کر کے پریشانی سے بولی
ارے نہیں بیٹا معمولی سا بخار ہے میں میڈیسن لے لونگا۔آپ کو دیر ہو رہی ہے آپ جاؤ یونیورسٹی۔۔وہ ملائمت سے بولے”
۔۔۔۔۔نہیں بابا میں چھٹی کر لوں گی آج۔۔۔۔۔اور آپ بھی آفس نہیں جائیں گے آپ کی طبیعت بالکل ٹھیک نہیں ہے میں ڈاکٹر کو فون کرتی ہوں۔۔۔۔۔وہ اٹھنے لگی”
عبد الرحمن صاحب نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روک دیا۔
۔۔۔بیٹا میں کہہ رہا ہوں نا مجھے ہلکا بخار ہے۔ڈاکٹر کی ضرورت نہیں میڈیسن میں لے لوں گا۔۔۔آپ یونیورسٹی جاؤ آپکی پڑھائی سٹارٹ ہو چکی ہے۔پہلے بھی ایک پیپر مس ہو گیا تھا آپ کا۔۔۔۔سو اب میں نہیں چاہتا کہ آپ کی پڑھائی کا ذرا بھی حرج ہو۔۔۔۔وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولے”
ٹھیک ہے بابا لیکن آپ ناشتہ بھی لازمی کر لیجئے گا اور میڈیسن بھی ضرور لے لیجئے گا۔بوا کو تاکید کرتی جاؤں گی میں اور میں جلدی آجاؤں گی۔اگر میرے آنے تک آپ کا بخار ٹھیک نا ہوا تو میں خود آپ کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جاؤں گی۔۔۔۔۔وہ انکا ہاتھ چوم کر آنکھوں سے لگاتے ہوئے بولی۔۔”
“۔۔۔۔۔اوکے مائی پرنسز۔۔۔۔۔وہ مسکرا دیے
۔۔۔۔۔حیات۔۔۔۔۔وہ انکے کمرے سے نکلنے ہی لگی تھی کہ انہوں نے آواز دی۔”
جی بابا۔۔۔۔وہ سوالیہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے انکے پاس آ گئ۔۔۔
۔۔۔۔اس شخص نے پھر تو کوئی دھمکی وغیرہ نہیں دی نا۔۔۔۔؟؟وہ اسکے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے بولے
“۔۔۔۔۔نن نہیں بابا۔۔۔۔وہ نا چاہتے ہوئے بھی جھوٹ بول گئی۔۔۔۔۔۔۔
“چلو اچھی بات ہے۔۔۔میرے نوٹس بھجوانے کے بعد وہ سنبھل گیا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔چند پل اسکے چہرے کو غور سے دیکھتے رہنے کے بعد انہوں نے سر ہلاتے ہوئے کہا
جی۔۔۔۔اس نے مردہ سی آواز میں کہا اب کیا بتاتی اس شخص نے تو نوٹس کے بعد بھی اس کا پیچھا نہیں چھوڑا تھا۔بلکہ اور بپھر گیا تھا۔۔اسکے پیچھے ترکی تک پہنچ گیا۔۔۔اسے کڈنیپ کیا”گھٹیا ڈیمانڈ رکھی۔۔۔کتنی ساری باتیں تھیں لیکن یہ سب وہ انہیں بتا کر مزید پریشان نہیں کر سکتی تھی۔۔۔۔۔”
“۔۔۔۔۔ان پر کمبل ڈال کر واپس بیڈروم میں آ گئی تاکہ پرس اور فائل لے سکے۔ناشتہ کرنے کا اب اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا نا ٹائم بچا تھا۔۔۔۔پرس اور فائل اٹھانے کے بعد اس نے چارجنگ پر لگا موبائل اتارا۔۔موبائل پر ٹائم دیکھتے اسے پرس میں ڈالنے کے ارادے سے اس نے زپ کھولی ہی تھی کہ موبائل بجنے لگا۔۔۔۔ptcl کا نمبر تھا۔۔۔۔”
۔اس نے کچھ خوفزدگی سے فون کی طرف دیکھا”
ہیلو۔۔۔۔۔اس نے دوسری طرف خاموشی محسوس کر کے کہا دل ایک بار پھر سے دھڑک اٹھا تھا۔۔”
جان آسیب۔۔۔۔دوسری طرف وہی بھاری منجمد دلکش آواز گونجی۔۔اس کا دل ایک لمحے کو سکڑ کر پھیلا
“۔کیا فیصلہ کیا پھر تم نے اس دن والے میرے مشورے کے بارے میں۔۔؟؟
۔۔۔۔۔۔اسے ترکی سے واپس آئے آج سولہواں دن تھا۔۔۔اس سولہ دنوں میں وہ آج پہلی بار کنٹیکٹ کر رہا تھا۔۔۔”
میں سوچ بھی نہیں سکتی کہ کوئی شخص اتنی پست ذہنیت کا مالک بھی ہو سکتا ہے۔نکاح کو مذاق سمجھا ہوا ہے کیا۔۔۔۔ایک نمبر کے گھٹیا ذلیل اور آوارہ آدمی ہو
تم سے نکاح کرنا تو کجا تم پر تھوکنا بھی اپنی توہین سمجھتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے کال کاٹی،موبائل کو بیڈ پر اچھالا۔۔۔۔۔۔شدید غصے سے اس کا رواں رواں کانپ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔چہرہ سرخ انگارا بن گیا۔۔۔۔۔اسی وقت ملازمہ نے ڈرائیور کے کار نکالنے کی اطلاع دی تو وہ بیگ اٹھاتے ہوئے ڈرائیور وے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔”
ملازمہ امینہ دبے قدموں سے ڈرائینگ روم میں آئی۔احتیاط سے ادھر ادھر دیکھا۔عبدالرحمان صاحب کے کمرے کا دروازہ بند تھا جبکہ بوا سامنے کچن میں اسکی طرف سے پشت کیے کام میں مگن تھی۔وہ ہاتھ میں ڈسٹر لئیے سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئی۔رخ حیات کے کمرے کی طرف تھا۔۔۔اندر پہنچ کر اس نے متلاشی نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھا۔۔۔۔سائیڈ دراز کو کھولنے کیلئے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ نظر بیڈ کے وسط میں گئی۔جس چیز کی تلاش میں یہاں آئی تھی۔۔ ۔وہ سامنے ہی پڑی تھی۔اسکی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ایک بار مڑ کر کمرے کے بند دروازے کی طرف دیکھا اور پھر جھپٹ کر بیڈ پر پڑی اپنی مطلوبہ چیز کو اٹھا کر کپڑوں میں چھپا لیا۔۔اور جس طرح احتیاط سے آئی اسی طرح ادھر ادھر دیکھتے باہر نکل گئی۔”
بوا آپ نے بابا سے میری شکایت کی ہے۔حیات مسکرا کر بوا سے مخاطب ہوئی۔
بیٹا مجھے آپ کی خاموشی سے ڈر لگتا ہے۔آپ جب سے ترکی سے واپس آئی ہیں۔۔۔۔۔۔۔بہت خاموش اور پریشان لگتی ہیں میرے پوچھنے پر بھی نہیں بتاتیں۔اسی لئیے
میں نے آپکے بابا سے کہا کہ وہ آپ سے معلوم کریں۔کہ کیا بات ہے۔
آپ اتنی گہرائی سے میرا جائزہ لیتی ہیں۔حیات حیران ہوئی۔وہ سمجھتی تھی بوا نے اسے صرف پالا ہے سو وہ اس کیلئے ماں جیسی حسیات نہیں رکھتی ہوگی۔
بیٹا یہ بات حقیقت ہے کہ میں آپ کی سگی ماں نہیں ہوں۔مگر خدا گواہ ہے آپ کو ہمیشہ میں نے اپنی سگی بیٹی ہی سمجھا۔۔بیس سال ہو گئے مجھے اس گھر میں رہتے ہوئے۔آٹھ سال کی تھیں جب آپ یہاں آئی تھیں۔اسکے بعد سے میں نے آپکی پرورش کی۔اس دن سے آج تک میں اپنے دل میں آپ کیلئے وہی محبت اور اپنائیت محسوس کرتی ہوں جو ایک ماں اپنے بچے کیلئے کرتی ہے۔۔۔۔آپ میرے سینے میں دل بن کر دھڑکتی ہیں۔۔۔میں صرف اپنی پے کا حق ادا نہیں کرتی۔اپنے اندر چھپی مامتا کی تسکین بھی کرتی ہوں۔اپنی بے اولادی کا غم آپ کو پا کر میں بھول گئی تھی۔انکے لہجے میں محبت ہی محبت تھی۔۔۔۔”
پلیز بوا پے کا نام کبھی زبان مت لائیے گا۔مام کو کھونے کے بعد جب میں یہاں آئی تھی تو آپ کے روپ میں مجھے دوسری ماں مل گئی تھی۔۔۔۔تبھی میں نے انکی کمی کبھی محسوس نہیں کی۔حیات انکے سینے سے لگ
کر بولی۔۔۔”
پھر کیا بات ہے بیٹا آپ اتنی پریشان کیوں رہتی ہیں۔کیا ارتضیٰ بیٹے نے کچھ کہا ہے۔۔۔۔؟؟
آپ کو وہم ہو گیا ہے بوا ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔اگر کوئی ایسی ویسی بات ہوئی تو سب سے پہلے آپ کو ہی بتاؤں گی۔۔۔۔۔
اچھا ایک کپ چائے مل جائے گی۔آج یونی میں بہت تھک گئی۔۔۔۔۔۔۔اس نے انہیں مسکرا کر مطمئن کر دیا تھا۔مگر اپنے آپ کو نہیں کر پا رہی تھی۔
اسکی چھٹی حس اسے بار بار آگاہ کر رہی تھی کہ وہ
شخص اسکا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔مگر یہ بات اسکی سمجھ میں نہیں آ رہی تھی کہ کرے تو کرے کیا۔۔۔۔”
رات کھانے کے بعد کمرے میں جا کر لیٹنے کے بعد اسے خلاف معمول جلدی نیند آ گئی لیکن سونے کے فوراً بعد ایک برا خواب دیکھنے کے بعد وہ خوفزدہ ہوتی اٹھ کر بیٹھ گئی۔سانس دھونکی کی مانند چل رہا تھا۔۔۔۔۔”وہ خوف سے کانپ رہی تھی اس پل اسے کمرے میں پھیلے اندھیرے اور خاموشی سے بے تحاشا ڈر لگا”اس نے اٹھ کر لائٹ جلائی پانی پیا مگر اس کا خوف اور ڈر پھر بھی ختم نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔وہ بے ساختہ کمرے کا دروازہ کھول کر باہر نکل آئی اس کا رخ لاونج کی طرف تھا۔ اسوقت اسے آوازیں چاہیے تھیں شور چاہیے تھا۔۔۔۔۔ایسا شور جو اس کے اندر کے خوف کو دبا سکے۔
اس لئیے وہاں آ کر اس نے جلدی سے ٹی وی آن کیا”
عبد الرحمن صاحب کی طبیعت اب ٹھیک ہو چکی تھی وہ بھی اسکی طرح کھانے کے فوراً بعد کمرے میں چلے گئے تھے۔بوا بھی کب کی سو چکی تھیں۔مون تو سوتا ہی سب سے پہلے تھا”
اس نے نیوز چینل لگا لیا۔اور صوفے پر لیٹنے کے انداز میں بیٹھ گئی۔نیوز کاسٹر ملکی صورتحال پر خبریں پڑھ رہا تھا۔دیکھ تو وہ سامنے رہی تھی مگر ذہن کہیں اور تھا۔اچانک جانے پہچانے نام پر اس کا دل ایک لمحے کو سکڑ کر پھیلا۔۔فوراً سے پیشتر سیدھی ہو بیٹھی توجہ مکمل طور پر ٹی وی کی جانب تھی”
ناظرین معروف فلم سٹار ماحر سکندر خان ترک صدر رجب طیب اردوغان کی اہلیہ ایمینے اردوغان سے ملاقات کے بعد شہ سرخیوں میں ہیں۔اور سوشل میڈیا پر ٹرول کر رہے ہیں۔۔۔
“۔۔۔۔۔۔تفصیلات کے مطابق ماحر خان ان دنوں اپنی فلم گینگسٹر ٹو کی شوٹنگ کے سلسلے میں ترکی میں موجود ہیں۔۔۔۔۔۔۔جہاں خاتون اول کے ساتھ دیکھے گئے۔کہا جا رہا ہے کہ خاتون اول نے انہیں کافی پر بلایا۔اور ایک دن پہلے اپنے ٹوئٹر پر تصاویر بھی شئیر کیں۔۔۔انہوں نے لکھا میں نے استنبول میں عالمی شہرت یافتہ اداکار،ہدایت کار اور فلمساز سے ملاقات کی۔مجھے یہ جان کر خوشی ہو رہی ہے کہ ماحر سکندر خان اپنی نئی فلم گینگسٹر ٹو کی شوٹنگ ترکی کے مختلف علاقوں میں کر رہے ہیں۔۔۔۔۔”
۔۔۔۔۔۔ساتھ ہی سکرین پر تصویر بھی دکھائی جا رہی تھی جس میں وہ حجاب میں ملبوس خوبصورت خاتون ایمینے اردوغان کے ساتھ انکے گھر کے ٹیرس پر کھڑے تھے جبکہ ایمینے اردوغان مسکراتے ہوئے اسے کوئی بات کہہ رہی تھی۔۔۔
“۔۔۔۔۔۔میری طرف تو کس قدر بے باکی بھرے انداز میں مکروہ نگاہوں سے دیکھتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ان خاتون کے سامنےکیسے عزت و احترام سے نظریں جھکائے کھڑا ہے۔گھٹیا شخص۔۔۔۔۔۔۔۔وہ بڑبڑائی۔۔۔۔۔۔کچھ دیر بعد وہ ٹی وی بند کر کے کمرے میں آ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔
“ذہن میں مختلف سوچیں چل رہی تھیں۔۔۔۔۔میرے انکار سے کہیں وہ شخص مجھے یا ارتضیٰ کو کوئی نقصان نا پہنچا دے۔۔۔۔۔۔یہ خیال بار بار دماغ میں گردش کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔”
۔۔۔۔۔۔کیا مجھے ارتضیٰ کو بتا دینا چاہیے۔۔۔؟؟وہ اپنے آپ سے سوال کر رہی تھی۔۔۔دل اور دماغ ایک دوسرے کی مخالف سمت میں چل رہے تھے۔دل کہہ رہا تھا بتا دو ارتضیٰ کو وہ تمہارا محرم ہے تم سے محبت کرتا ہے۔تمہیں کبھی غلط نہیں سمجھے گا تمہیں لازمی پرٹیکٹ کرے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مگر دماغ روک رہا تھا ۔۔۔نہیں اگر اس نے تمہاری بات کو تمہارے انداز سے دیکھنے کے بجائے کسی اور انداز سے دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔وہ تم پر بھروسہ کرتا ہے ۔۔۔۔۔کہیں تمہارا کردار اسکی نگاہوں میں مشکوک نا ہو جائے سو بہتر یہ ہے اس بات کو دل میں دبا دو۔۔۔۔اگر وہ شخص باز نا آئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرے۔۔۔۔۔
“۔۔۔۔۔کوئی چارہ باقی نا رہے تب بتاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔”مگر بہت سوچنے کے بعد دل کی آخری دلیل نے اسے فیصلہ دل کے حق میں ہی کرنے پر مجبور کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔اگر ارتضیٰ کو یہ بات کہیں اور سے پتہ چل گئی تو تب کیا تمہارا کردار اسکی نظروں میں مشکوک نہیں ہو جائے گا۔تم نے اس سے یہ سب چھپایا۔۔۔۔ کیا وہ یہ بات برداشت کرے گا۔۔۔۔۔؟نہیں نہیں مجھے بتا دینا چاہیے ارتضیٰ کو۔۔۔۔بالآخر وہ دل کی سنتے ہوئے اٹھی موبائل کی تلاش میں ادھر ادھر نظریں دوڑائیں۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔دس منٹ میں اس نے پورا کمرہ چھان مارا۔۔۔۔۔مگر موبائل ہوتا تو ملتا نا۔۔۔۔آخر گیا کہاں وہ پریشانی سے سوچنے لگی۔۔۔۔۔ذہن پر زور دیا تو یاد آیا کہ صبح اس گھٹیا انسان کی کال کے وقت اس نے آف کر کے بیڈ پر اچھالا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر اب بیڈ تو کیا پورے کمرے میں کہیں نہیں تھا۔۔۔۔۔۔وہ پریشانی سے ماتھا مسلنے لگی۔
ماحر کب واپس آ رہے ہو۔۔۔۔۔۔؟سکندر خان نے اسے فون لگایا۔۔۔۔
بس ڈیڈ۔۔۔۔۔چالیس فیصد شوٹنگ یہاں کمپلیٹ ہو چکی ہے باقی کی اپنے ملک میں کریں گے۔۔۔۔آج رات کی فلائٹ سے واپس آ رہے ہیں ہم”
اپنی ماں سے بات کرو تمہارے لئیے بہت فکرمند رہتی ہے۔۔۔۔سکندر خان نے فون فائزہ سکندر کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔”
ہیلو مام۔۔۔۔۔”ماحر کب آ رہے ہو۔۔۔؟؟اتنے دن ہو گئے بیٹا
تمہاری طبیعت تو اب ٹھیک ہے نا۔۔۔۔؟؟وہ فکر مندی سے پوچھ رہی تھیں”آف کورس مام آئی ایم فٹ۔۔۔۔۔آج رات گیارہ بجے کی فلائٹ سے۔۔۔۔۔۔”
۔۔۔۔اچھا ٹھیک ہے خیر خیریت سے آؤ۔۔۔۔۔اپنا اور اپنے بھائی کا خیال رکھنا۔۔۔۔انہوں نے فون سکندر خان کی طرف بڑھا دیا۔۔۔۔۔”
کیا سوچ رہی ہو بیٹا۔۔۔؟عبدالرحمان صاحب حیات سے مخاطب ہوئے جو لان میں کھلے پھولوں کو بڑے غور سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔”
“۔۔۔۔۔۔۔کچھ نہیں بابا پھولوں کو دیکھ رہی ہوں کتنے خوبصورت لگ رہے ہیں نا شاخ پہ لگے ہوئے۔۔۔۔اگر کوئی بے رحم ہاتھ انہیں شاخ سے جدا کر دے تو یہ مرجھا کر ختم ہو جائیں گے۔۔۔اپنا رنگ اپنی خوشبو کھو دیں گے۔۔لوگ اتنے ظالم کیوں ہوتے ہیں بابا۔۔۔۔اسکے دل کا کرب لہجے میں سمٹ آیا”
۔۔۔حیا کوئی پریشانی ہے کیا۔۔۔۔دیکھو بیٹا مجھ سے چھپانا نہیں۔۔۔وہ انہیں بہت مضحمل اور تھکی تھکی سی لگی۔۔آنکھوں کی سرخی بے خوابی کا نشان تھی۔اوپر سے اسکے لہجے نے انہیں پھر سے تشویش میں مبتلا کر دیا تھا”
نہیں تو بابا ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔آپ پریشان مت ہوں میں تو ایسے پھولوں کو دیکھ کر جو ذہن میں آیا کہہ دیا۔۔۔وہ سنبھل کر بولی اور انہیں مطمئن کرنے کو چہرے پہ مسکراہٹ سجا لی”
آپ کہتی ہیں تو مان لیتا ہوں۔اچھا بیٹا میں تو بھول ہی گیا تھا کہ کیا کہنے آیا تھا آپ سے۔وہ میرا بزنس پارٹنر ہے نا ظفر کاظمی اسکے ہاں پارٹی ہے انوٹیشن دیا ہے۔۔۔۔۔۔کہا ہے کہ ضرور آؤں آپ کو ساتھ لانے کا بھی خاص طور پر کہا ہے۔۔۔۔۔۔آپ تو جانتی ہیں آپ کی ممی کی بیماری کے ٹائم میں بزنس کو بالکل ٹائم نہیں دے پایا وہ خود ہی اکیلے سنبھالتے رہے بلکہ انکے شئیرز بھی زیادہ ہیں۔لیکن انہوں نے کبھی مجھے نہیں جتایا۔۔جتنے پیسوں کی بھی مجھے ضرورت پڑی انہوں نے پرافٹ میں سے میرے حصے سے بھی زیادہ دیے”۔۔۔۔انکے احسانات ہیں مجھ پر۔۔اتنے خلوص سے بلایا ہے تو نا جانا بد اخلاقی ہوگی۔۔آپ بھی ساتھ چلنا تھوڑا مائنڈ بھی فرش ہو جائے گا۔۔۔۔۔”
“۔۔۔۔۔۔بابا آپ تو جانتے ہیں مجھے پارٹیز وغیرہ میں کوئی انٹرسٹ نہیں۔۔۔”وہ بے زاری سے بولی
بیٹا یہی تو عمر ہوتی ہے لوگوں میں گھلنے ملنے کی فرینڈز بنانے کی۔حورین کے علاؤہ آپ نے کوئی دوست بنائی ہی نہیں اگر آپ لوگوں سے ملیں گی۔نئی فرینڈز بنائیں گی تو آپ کا ذہن بھی بٹ جائے گا۔ورنہ مجھے تو آپ کو اس طرح دیکھ کر بہت ٹینشن ہونے لگی ہے آجکل۔۔۔”اسی لئیے میں چاہتا ہوں کہ آپ پارٹی میں چلیں آپ کا دل بہل جائے گا۔۔۔۔۔۔”
لیکن بابا۔۔۔۔۔۔ اس نے پھر سے انکار کیلئے لب کھولنے چاہے۔۔۔۔۔مگر عبد الرحمن صاحب نے پیار سے ٹوک دیا۔لیکن ویکن کچھ نہیں آپ بس چلیں گی۔۔۔۔”
اوکے بابا۔۔۔کب چلنا ہے۔۔؟ناچاہتے ہوئے بھی وہ مان گئی
کل شام کو چھے بجے جب میں آفس سے واپس آؤں گا۔۔آپ ریڈی رہنا۔۔۔۔آپ کے جانے سے آپ کے کاظمی انکل کو اچھا لگے گا وہ اکثر پوچھتے رہتے ہیں آپ کا۔۔۔۔”
اوکے اوکے میرے پیارے بابا آپکی خوشی کیلئے چلوں گی۔۔۔۔۔وہ مسکرائی تو عبد الرحمن صاحب بھی مسکرا دیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
جو کام تمہیں سمجھایا گیا ہے وہ کر تو لو گے نا۔۔۔۔؟؟
مثال شیرانی نے کوئی تیسری بار یہ سوال پوچھا۔۔۔۔”
آف کورس میم اگر آپ کو میری قابلیت پر بھروسہ نہیں تو آپ کسی اور کو بلا لیں۔۔۔۔۔۔۔۔جینز شرٹ میں ملبوس سر پر کیپ پہنے سامنے بیٹھے شخص کے ماتھے پر اب کی بار بل پڑ گئے تھے۔۔۔۔موبائل کو ہاتھ سے الٹ پلٹ کرتے اس نے تیکھے لہجے میں جواب دیا۔۔۔۔۔۔”
“۔۔۔۔۔ ارے نہیں تمہارے بارے میں میں نے سنا ہے کہ تم بہت ماہر ہیکر ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اسی لئیے تو تمہیں بلوایا ہے۔قابلیت پر شک نہیں کر رہی صرف پوچھ رہی تھی۔۔۔ کیونکہ میں چاہتی ہوں کوئی ایسی ڈیوائس ہو جس سے اس فون کا سسٹم میرے موبائل سے کنیکٹ ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہر وہ کال میسج جو اس فون پر آئے مجھے اپنے موبائل پر ریسیو ہو سکے۔۔۔۔۔۔”بے چینی بھرا انداز تھا۔۔۔۔۔ “
” ۔۔۔۔۔یہ شخص ایک بہت ہی قابل اور مایہ ناز ہیکر تھا۔۔۔۔۔۔۔جسکو مثال شیرانی کے حکم پر فراز اسکے پاس لے کر آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آج صبح ہی اس نے حیات کی ملازمہ کی مدد سے اس کا فون چوری کروایا تھا”اس کام کیلئے ملازمہ اور اسکے شوہر کو جو کہ حیات عبدالرحمان کے گھر چوکیدار تھا پیسے دے کر خریدا گیا تھا”
کتنا ٹائم لگے گا۔۔۔۔۔؟؟؟مثال شیرانی سے صبر نہیں ہو رہا تھا”
بس میم آپ مجھے بیس منٹ دیں آپ کا کام مکمل طور پر ہو جائے گا۔۔۔۔اس شخص کے کہنے پر مثال شیرانی نے اثبات میں سر ہلایا اور فراز کو اسکے پاس بیٹھنے کا اشارہ کر کے خود کمرے سے باہر چلی گئی”
اپنے کہے کے مطابق بیس منٹ بعد وہ اپنا کام مکمل کر چکا تھا۔۔۔۔۔۔
“۔۔۔۔۔۔میم اس فون کا تمام ڈیٹا میں آپکے لیپ ٹاپ میں ٹرانس کر چکا ہوں۔۔۔۔۔۔اس فون میں میں نے ایک ایسی پاور فل ڈیوائس ڈال دی ہے۔۔۔۔۔جس سے اس فون پر موصول ہونے والی تمام کالز میسجز آپ کو اپنے موبائل پر میں موصول ہونگے۔۔۔۔۔ شیرانی کی باچھیں کھل گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ویری گڈ۔۔۔وہ توصیفی انداز میں بولی۔۔۔۔۔”
فراز اس کو رقم دو اور ہاں تم لڑکے اپنا منہ بند رکھنا۔مجھے تو تم جانتے ہی ہوگے کہ میں کون ہوں سو اگر تم نے کسی کے سامنے میرا نام لیا اس سب کا ذکر کیا تو تمہارے لئیے اچھا نہیں ہوگا۔۔۔تمہارا تمام بائیو ڈیٹا نکلوانے کے بعد ہی تمہیں یہاں بلایا گیا۔وہ اسے دھمکی دینا نہیں بھولی۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔اس شخص نے لاپرواہی سے کندھے آچکا دیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ اسکے لئیے نئی بات نہیں تھی لوگ ایسے ہی اس سے اپنا خفیہ کام کروانے کے بعد اس بات کو راز میں رکھنے کیلئے دھمکی دیتے تھے۔۔۔۔”
“۔۔۔۔۔۔وہ جو کاظمی انکل کی پارٹی کو کوئی عام بزنس پارٹی سمجھی تھی۔۔۔”یہاں آ کر اسے پتہ چلا یہ پارٹی دراصل انکی نہیں بلکہ انکے بیٹے علی کاظمی کی تھی۔ اور کوئی عام پارٹی نہیں بلکہ خاص اور بڑے پیمانے کی پارٹی تھی۔۔۔۔۔۔۔
“۔۔۔۔۔۔۔ جس میں شہر کے بڑے بڑے رئیس آئے ہوئے تھے۔۔۔۔۔علی کاظمی ایک سنگر تھا۔۔۔۔۔۔۔پچھلے دنوں اسے اپنی کسی البم کی کامیابی پر ایوارڈ ملا تھا”۔جس کی خوشی کو سیلیبریٹ کرنے کیلئے یہ پارٹی منعقد کی گئی تھی۔۔۔۔”
۔۔۔۔پارٹی میں شوبز کی فیلڈ سے وابستہ کافی لوگ آئے ہوئے تھے۔۔۔۔چند ایک چہروں کو تو وہ پہچان گئی تھی جنہیں اس نے ٹی وی پر دیکھا ہوا تھا”پارٹی کا انتظام ظفر کاظمی کے وسیع و عریض محل نما گھر کے لان میں کیا گیا تھا۔۔”
۔۔۔۔۔اورنج جارجٹ کے گھٹنوں تک آتے فراک پر بلیک نیٹ کی کوٹی پہنے۔۔۔۔” فراک بلیک نگوں سے مزین تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اورنج بارڈر والے ڈوپٹے سے جھانکتا اس کا گلابی چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح روشن تھا۔۔اتنے سارے کیل کانٹوں سے مزین چہروں میں وہ لیپا پوتی سے پاک چہرہ بہت شاداب اور دلکش لگ رہا تھا۔
۔۔۔پارٹی اپنے عروج پر تھی۔۔۔۔وسیع و عریض لان اس وقت مرکری لائٹس ،رنگ برنگ آنچلوں سے جگمگا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔”ماحول میں قیمتی پروفیومز کی خوشبوؤں کی مہک رچی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔موسم اسوقت بہت حسین ہو رہا تھا۔۔آسمان ایک دم صاف و شفاف گہرا نیلا ہو گیا تھا۔۔اس پر جگمگاتے لاتعداد ستاروں کے بیچ روشنی بکھیرتا چاند بہت حسین لگ رہا تھا۔۔۔۔”
۔۔۔۔۔ دھیرے دھیرے چلتی پرنم مہکتی ہوا نے ماحول کو سحر انگیز بنا دیا تھا۔۔۔۔پورے لان میں بڑے قرینے سے بڑی بڑی گول میزوں کے قریب کرسیاں رکھی ہوئی تھیں۔۔۔۔”میزوں پر بہت خوبصورت سرخ پرنٹڈ دسترخوان تھے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔آرکسٹرا پر انگلش دھن بج رہی تھی۔۔۔۔آرکسٹرا کی یہ مدھم دھنیں پورے ماحول کو خواب ناک بنا رہی تھیں۔۔۔۔۔”سفید وردی میں ملبوس ویٹر ہاتھ میں ٹرے پکڑے مشروبات سرو کر رہے تھے۔۔۔۔”
“مشروبات میں شربت کے ساتھ ساتھ کئی قسم کے الکوحل بھی تھے۔۔۔کھنکتے قہقے۔۔۔۔” حسیناؤں کی شوخ ادائیں،مردوں کی بے باک نگاہیں۔۔۔۔۔”
۔۔۔حیات لیمن اسکواش کا گلاس لئیے کرسی پر بیٹھی ہلکے ہلکے سپ لے رہی تھی۔۔۔۔”بابا اس سے کچھ دور کھڑے کاظمی انکل اور کسی دوسرے آدمی کے ساتھ باتیں کر رہے تھے۔۔۔۔۔” وہ خاموش بیٹھی سب کا جائزہ لے رہی تھی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔پہل پہلے وہ یہاں آ کر بے چینی کا شکار ہو گئی تھی۔۔۔۔۔”عبدالرحمان صاحب بھی اسکے چہرے کے اتار چڑھاؤ اور پارٹی کا ماحول دیکھ کر عجیب سے احساسات کا شکار ہو گئے تھے۔۔۔۔
۔۔۔ کہ شائد انہیں وہاں حیات کو اصرار کر کے نہیں لانا چاہیے تھا۔۔۔”تاہم کاظمی نے ان کا جس خلوص سے پر تپاک استقبال کیا۔۔۔وہ شرمندہ ہو گئے۔۔۔۔۔حیات سے بھی وہ خاصی محبت سے ملے تھے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔اپنے بیٹے سے بھی ان کا تعارف کروایا تھا۔۔حیات کو انکی نسبت ان کا بیٹا بالکل پسند نہیں آیا۔۔۔کیونکہ وہ اندر تک اترنے والی گہری نظروں سے اس کا جائزہ لے رہا تھا۔۔۔۔۔۔تبھی وہ ناگوار تاثرات کے ساتھ وہاں سے ہٹ گئی تھی اور کارنر پر لگی ٹیبلز میں سے ایک کے گرد بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔۔۔”
کچھ دیر بعد اس نے دیکھاعلی کاظمی گٹار ہاتھ میں لئیے وہاں پر بنے سٹیج پر کھڑا لہک لہک کر گا رہا تھا۔۔۔۔تمام لوگ اسکی طرف متوجہ تھے اور داد و تحسین پیش کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔”
وہ بھی بے تاثر نگاہوں کے ساتھ سٹیج کی جانب دیکھ رہی تھی دفعتاً اس نے ایک شخص کو سٹیج کی طرف بڑھتے اور لوگوں کو اپنی اپنی سیٹوں سے کھڑے ہو کر اس کا نام پکارتے اور تالیاں بجاتے سنا۔۔۔۔
۔۔اس کی سانس تھم گئی۔۔۔اس نے اپنی آنکھوں کو رگڑ کر صاف کیا۔۔۔۔کہیں اس کا تخیل تو نہیں۔۔۔۔۔مگر نہیں وہ خیال نہیں تھا۔۔۔۔”اس سے کچھ دور سٹیج پر وہ مکمل مردانہ وجاہت کا شاہکار ، سحر انگیز شخصیت رکھنے والا شوبز کی دنیا کا بے تاج بادشاہ جو کہ لاکھوں دلوں کی دھڑکن تھا۔۔۔۔۔پوری حقیقت کے ساتھ موجود تھا”
۔۔۔۔ بلیک پینٹ کوٹ میں ملبوس ریڈ ڈائس ٹائی لگائے اپنے دلکش ہیئر اسٹائل کے ساتھ گلوکارعلی کاظمی سے گلے ملتے ہوئے وہ اب وہاں موجود تمام لوگوں کی طرف مسکراتے ہوئے ہاتھ ہلا رہا تھا۔۔۔۔۔کئی فنکار اس سے مل رہے تھے” وہ یک ٹک اسے دیکھے گئی۔۔
۔۔۔۔۔کتنا ہینڈسم تھا یہ شخص ارتضیٰ حسن سے بھی زیادہ۔۔۔۔۔۔”بے خیالی میں وہ اس کا موازنہ ارتضیٰ سے کرنے لگی۔۔۔۔اسکے دل نے اعتراف کیا ارتضیٰ حسن جتنا بھی ہینڈسم سہی مگراس شخص کے پاسنگ بھی نہیں تھا۔۔۔۔”جتنا اس کا ظاہر خوبصورت ہے کاش باطن بھی اتنا ہی خوبصورت ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“علی کاظمی سے بات کرتے ہوئے ماحر کی غیر ارادہ نگاہ کونے والی ٹیبل کی طرف اٹھ گئی۔۔۔حیات جو اسی کی طرف ہی دیکھ رہی تھی۔۔ نےاچانک اسے چونکتے دیکھا”پھر جلد ہی اس نے اس پر سے اپنی نگاہ ہٹا لی۔۔۔وہ فنکار تھا۔۔۔۔اپنے چہرے کے تاثرات کو چھپانا اسے آتا تھا”
۔۔۔اب وہ سٹیج سے اتر آیا تھا۔اور سٹیج کے نزدیک کھڑا ایک مشہور کرکٹر سے محو گفتگو تھا۔اس نے دو دفعہ اسکے چہرے پر نگاہ ڈالی اور اتفاق سے دونوں دفعہ ہی انکی نگاہیں آپس میں ٹکرا گئی تھیں۔۔۔۔۔”
۔۔۔اسکی نگاہوں کی خود سری اور ہٹ دھرمی نے حیات کی چھٹی حس کو بیدار کر دیا تھا۔۔”کسی نامعلوم خطرے کی گھنٹیاں اسے اپنے ارد گرد بجتی محسوس ہو رہی تھیں۔۔اسکے ہاتھوں پیروں میں ہلکی ہلکی کپکپاہٹ شروع ہو گئی تھی۔۔
۔۔۔۔قریب سے گزرتے ویٹر سے اس نے کافی کا کپ لیا چند گھونٹ پی کر اپنے ڈسٹرب اعصاب کو نارمل کرنے لگی۔۔۔۔۔دفعتاً اس نے اپنے قریب وہی آواز سنی۔۔۔کافی کا کپ اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر اسکے کپڑوں کو داغدار کر گیا۔۔۔۔”وہ خوف سے نگاہیں اوپر نہیں اٹھا سکی۔اسے امید نہیں تھی کہ اتنے لوگوں کی موجودگی میں وہ اسکے پاس آنے یا مخاطب ہونے کی کوشش کرے گا۔تبھی تو وہ وہاں سے اٹھی نہیں تھی”
مس حیات عبدالرحمان کیسی ہیں آپ۔۔۔۔۔؟حیات کو اس کا لہجہ طنزیہ لگا”۔۔۔۔وہ کچھ بول نہیں پائی۔۔۔
۔۔۔۔۔اسکی جھکی نگاہیں اسکے بلیک چم چم کرتے شوز اور بلیک پینٹ کے پائنچوں پر تھیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔کافی سے ڈریس خراب ہونے کے احساس نے اسے کھڑا ہونے پر مجبور کر دیا۔۔۔۔وہ اسے بنا جواب دیے تیزی سے وہاں سے چلی گئی۔۔۔ماحر کی نظریں اس کا پیچھا کر رہی تھیں۔۔۔”
۔۔۔۔۔۔وہ واش روم کی تلاش میں آگے بڑھ رہی تھی کہ سامنے سے کاظمی انکل اور بابا اسے اپنی طرف آتے دکھائی دیے۔۔۔۔”
۔۔۔۔۔۔ارے بیٹا چلیے کھانا لگ گیا اور”ارے یہ آپ کے کپڑوں پر کیا ہوا۔۔۔۔۔ظفر کاظمی اسے کھانے کا کہتے ہوئے چونکے۔۔۔۔
“انکل وہ کافی گر گئی ہے۔۔۔۔۔واش روم کس طرف ہے۔۔۔؟؟اس نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا۔۔
واش روم تو اس طرف ہے بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک منٹ ارے شاہدہ ادھر آؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے قریب سے گزرتی ایک ملازمہ ٹائپ خاتون کو آواز دی”
انہیں واش روم دکھا دو۔۔۔۔۔۔اس عورت کے قریب آنے پر انہوں نے کہا تو وہ عورت سر ہلاتے ہوئے اسے گھر کی رہائشی بلڈنگ میں واقع ایک چمچماتے واش روم میں لے آئی۔۔۔۔۔”
میں تھوڑی دیر میں آتی ہوں۔۔۔۔۔آپ پلیز جائیے گا نہیں یہیں باہر رکیے گا۔۔۔۔۔۔۔نامعلوم دل میں اٹھتے عجیب وسوسوں کے باعث وہ کہہ گئی تھی۔۔۔۔”
باہر چونکہ ملازمہ موجود تھی اسی لئیے اس نے صرف دروازہ بند کیا چٹخنی نہیں چڑھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فراک کو فرنٹ سے پکڑ کر نل کے آگے کیا اور دھونے لگی۔۔۔۔۔پانی کے گرنے کے شور کی وجہ سے وہ دروازہ کھلنے کی آواز تو نہیں سن سکی لیکن کسی کے اندر داخل ہونے اور دروازہ بند کرنے کی آواز اس نے ضرور سن لی تھی۔۔۔۔۔۔فورا سے پیشتر اس نے گردن گھمائی۔۔۔۔۔۔ماحر خان کو وہاں دیکھ کر اس کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
