Meri Hayat By Zarish Hussain Readelle50271 Meri Hayat (Episode 11)
Rate this Novel
Meri Hayat (Episode 11)
Meri Hayat By Zarish Hussain
جی ی ی ی……..!!منہ سے صرف یہی لفظ ہی نکل سکا”
مس حیات عبدالرحمان پوری کلاس میں آپ میری فیورٹ سٹوڈنٹ ہیں… میں آپ کو بہت لائک کرتا ہوں اور اسی لئیے اپنی زندگی میں آپ کو ہمیشہ کیلئے شامل کرنا چاہتا ہوں….. تو کیا آپ میری حوصلہ افزائی کریں گی……؟؟
وہ اپنا مدعا کہہ کے اس کے جواب کے منتظر تھے…جب کہ وہ دھڑ دھڑ کرتے دل کے ساتھ ازحد حیرانی سے ان کی طرف دیکھ رہی تھی…….”
ان کے خوبصورت کلین شیو چہرے پر بکھرا اطمینان اور آنکھوں میں رقص کرتی روشنی اسے ان کے دل کے چھپے رازوں کا پتا دے رہی تھی…….”
شائد تبھی وہ کنفیوژ ہو گئی تھی……”
سر………..آآآآآآآپ……..مم میں……اسے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ وہ ارتضیٰ حسن کی بات کا کیا جواب دے………”
“اٹس اوکے…..آپ گھبرائیں مت……میں سمجھ سکتا ہوں آپ کی فیلنگز….. ارتضیٰ حسن نے اسے تسلی دینے والے انداز میں کہا……..”
ایکچولی……میں نہیں جانتا یہ سب کیوں اور کیسے ہے ….مجھے پہلے دن سے ہی آپ میں اٹریکشن فیل ہوئی تھی….پھر جس دن آپ کو شایان کے ولیمے میں دیکھا تھا…اس کے بعد میںرا دماغ خود بخود آپ کے بارے میں سوچنے لگا…..کلاس میں آپ پر نظر پڑتی تو نظر ہٹانے کو دل نہیں کرتا تھا…..”
” اگرچہ میں نے دل کو روکنے اور سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ یہ صحیح نہیں ہے ہمارے درمیان ٹیچر اور سٹوڈنٹ کا رشتہ ہے کیونکہ میں ان ٹیچرز کو پسند نہیں کرتا تھا جو اپنے سٹوڈنٹس سے افئیر چلاتے ہوں یا دوسری ٹائپ کے رشتے بناتے ہوں….لیکن آپ کے معاملے میں میں بے اختیار ہوتا گیا…اپنی اس بے اختیاری کو بے نیازی کے پردے میں لپیٹنے کی کوشش
کی……….. آپ کا تصور آپ کا خیال ذہن سے جھٹکنے کی کوشش کرتا رہا مگر ناکام رہا……پھر اس دن آپ کو اپنی سسٹر کے گھر دیکھ کے خوشگوار حیرت ہوئی مگر اس سے زیادہ یہ جان کر میرا دل خوشی سے ہمکنے لگا کہ اتنے عرصے سے فضا جس لڑکی کو میرے لئیے پسند کیے بیٹھی تھی…….جس کیلئے وہ مجھے قائل کرنے کی کوشش کرتی رہتی تھی…وہ لڑکی کوئی اور نہیں تم ہوگی ایسا میرے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا……….”
عشق و محبت جیسی چیزوں کو میں فضول سمجھتا تھا مگر آج میں اعتراف کرنے پر مجبور ہو گیا ہوں کہ یہ ایک خوبصورت جذبہ ہے…..مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ مجھے آپ سے محبت ہو گئی ہے….
کیا آپ کو میری ہمراہی قبول ہے………؟؟
اپنی بات مکمل کر کے وہ منتظر نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا……….”
وہ جو کنفیوژ سی بیٹھی سر جھکائے سن رہی تھی….دھیرے سے سر اٹھا کے دیکھا تو سامنے بیٹھے شخص کی آنکھوں میں اسے محبت کا سمندر ٹھاٹھیں مارتا ہوا دکھائی دیا….مگر اسکے علاؤہ ایک اور چیز بھی اسکی آنکھوں میں اسے دکھ رہی تھی وہ تھی اسکی نظروں میں حیات عبدالرحمان کیلئے عزت اور احترام……..وہ بے اختیار اسے دیکھے گئی….مردانہ قد کاٹھ…..چوڑا سینہ… لمبا قد…. سرخ وسفید رنگت خوبصورت مردانہ نین نقش سے مزین چہرہ کالی سیاہ گہری آنکھیں اس بھرپور وجاہت سے مزین سراپے پر گرے پینٹ اور وائٹ شرٹ تھی…..”بلاشبہ سامنے بیٹھا شخص وجاہت میں بے مثال تھا….ایک ایسے ہی شخص کی تمنا تو تھی اسکے دل میں…. میچور…ریسپیکٹ کرنے والا…… ایجوکیٹڈ…..بظاہر منع کرنے کی کوئی وجہ اسے نظر نہیں آئی مگر پھر بھی وہ کچھ کنفیوژ ہو گئی……”
ایکچولی میری سٹڈی کمپلیٹ نہیں ہوئی ابھی…..” دھڑکتے دل کے ساتھ کہا….”کیونکہ دل کی دھڑکن کچھ اور ہی کہہ رہی تھی……”
وہ کوئی مسئلہ نہیں شادی کے بعد کمپلیٹ ہو جائے گی میں مکمل سپورٹ کروں گا….بلکہ خود پڑھاؤں گا….” ہلکا سا مسکراتے ہوئے اسے یقین دلانے والے انداز میں کہا…….”
لیکن شادی کے بعد کیسے پڑھ سکوں گی…؟؟وہ ہونق پن سے بولی……..”
کیوں نہیں پڑھ سکیں گی…فکر مت کریں آپکی سٹڈی کمپلیٹ ہونے تک ہمارے درمیان ٹیچر سٹوڈنٹ والا ہی ریلیشن رہے گا… اور شادی کے بعد تو زیادہ اچھے سے پڑھائی ہوگی آپکی کیونکہ مفت کا پرمانینٹ ٹیچر جو مل جائے گا….” جو آپ کو پڑھائے گا بھی…..آپ کا خیال بھی رکھے گا…..اور سٹڈی کو لے کے بالکل بھی نہیں ڈانٹے گا…..” بولتے ہوئے آخر میں اس کا انداز چھیڑنے والا ہو گیا…….وہ بے ساختہ جھینپ گئی….”
اب کوئی اور اعتراض….؟؟ ہونٹوں پہ خوبصورت مبہم سی مسکراہٹ لئیے وہ پوچھ رہا تھا حیات عبدالرحمان کا سر آپ ہی آپ جھک گیا…..”
مس حیات آپ کی خاموشی مجھے خوش فہم ہونے کا موقع دے رہی ہے…..وہ پھر بولے تھے…..جواب میں وہ سر اٹھاتے ہوئے بولی…….اور آپ کی خواہش مجھے میرے خوش نصیب ہونے کی خوشخبری دے رہی ہے…”
ارتضیٰ حسن اسکے جواب پہ ہنس پڑا تھا…….
تھینکس…سوئٹ گرل…. انشاء اللّٰہ آئی پرامس میرے ساتھ آپ بہت اچھی زندگی گزاریں گی……ہر اس موقعے پر جب آپ کو میری ضرورت ہوگی میں بھرپور سپورٹ کروں گا…..جب ایک بار آپ کا نام میرے نام کے ساتھ جڑ جائے گا تو آپ کی پروٹیکشن میری ذمہ داری ہوگی……!!پھر کسی کی ہمت نہیں ہوگی کہ آپ کو یہاں پریشان کرے اور پھر نا کسی کے پاس جواز ہوگا باتیں بنانے کا…… وہ دبے دبے انداز میں ارسلان بھٹی کی طرف اشارہ کر رہے تھے………”
“حیات نے ہلکا سا مسکراتے ہوئے صرف سر ہلانے پہ اکتفا کیا……..”
“اوکے آپ امتحانات سے فارغ ہو جائیں تو فضا آپی کو بھیجتا ہوں آپ کے گھر……. انشاء اللّٰہ باقی کے معاملات بھی جلد ہی نمٹ جائیں گے………اور پھر باقی کے سمسٹرز کی پڑھائی کیلئے مفت کا ٹیوٹر بھی دن رات کیلئے (Available)ہوگا…….”
وہ پھر سے شرارت بھرے انداز میں بولے…..حیات تو انکے اس طرح کے انداز پہ کئی بار غش کھاتے کھاتے رہ گئی……..”
آپکی مدر کی طبیعت کیسی ہے اب……؟؟اچانک یاد آنے پر وہ پوچھنے لگے…….”
“بابا لے گئے ہیں انہیں آپریشن کیلئے امریکہ……”
اللّٰہ ان کا آپریشن کامیاب کرے گا….میں سمجھ سکتا ہوں آپکی فیلنگز….ماں کھونے کا درر کیسا ہوتا ہے…میں جانتا ہوں…مگر آپ کو ہمت سے کام لینا ہوگا….وہ تسلی دینے والے انداز میں کہہ رہے تھے…
اس درد سے میں دس سال کی عمر میں ہی گزر چکی ہوں سر…….اس نے دھیرے سے گھنی پلکیں اٹھا کے ارتضیٰ حسن کی طرف دیکھتے ہوئے کہا……میری مدر کی تب ڈیتھ ہوئی تھی جب میں دس سال کی تھی….انکی ڈیتھ کے بعد بابا ترکی کو ہمیشہ کیلئے چھوڑ کے پاکستان چلے آئے تھے…پھر گرینی نے انکی دوسری شادی سائرہ ممی سے کروا دی تھی…. ارتضیٰ حسن کے نرم رویے اور انداز کو دیکھ کر وہ بول گئی”
اوہو……..تو آپکی رئیل مدر کا تعلق ترکی سے تھا…. ارتضیٰ حسن نے چونک کے استفسار کیا…..!!
جی سر…….اس نے سادہ سے انداز میں سر ہلایا
تبھی میں کہوں کے آپ مجھے خالص پاکستانی بیوٹی کیوں نہیں لگتی تھیں…..تو آپ پاکستان+ترکی کا مکسچر حسن ہیں……وہ دلچسپی سے پر شوق انداز میں اسکے حسین چہرے کو فوکس کرتے ہوئے کہہ رہے تھے….جبکہ وہ نروس سی ہو کے اپنے ہاتھ مروڑنے لگی……”
” پھر ان کے سیل پر کال کے آ جانے سے وہ موقع سے فائدہ اٹھا کے وہاں سے کھسک آئی……..”
جیسے ہی باہر نکلی تو دروازے کے پاس ٹہلتی فرحین پر نظر پڑی…..حیات اسے نظر انداز کرتی آگے بڑھ گئی..
کب تک واپس آؤ گے ماحر……؟؟
وہ جو ڈریسنگ مرر کے آگے کھڑا کوٹ پہن رہا تھا فائزہ سکندر اندر کے پوچھنے پر مڑ کے انہیں دیکھنے لگا….”
کوئی کام ہے مام……؟؟ہاں وہ فاریہ کی ڈیٹ فکس کرنی ہے نا پرسوں تو اسی سلسلے میں کچھ بات کرنی تھی……”
میں تو لیٹ ہو جاؤں گا مام کیونکہ شو سے واپسی پہ ایک فرینڈ کی برتھڈے پارٹی میں بھی جانا ہے….آپ ابھی کر لیں جو بات کرنی ہے…..”
ابراہیم بھائی اور بھابھی کی کال آئی تھی……. پرسوں وہ لوگ پاکستان پہنچ جائیں گے…… کہہ رہے تھے کہ شادی اسی مہینے میں ہونی چاہیے….مگر اتنی جلدی کیسے….تیاری بھی تو کرنی ہے نا….”اور پھر عبیر کی اس لڑکی کیلئے ضد کو دیکھ کے تمہارے ڈیڈ بھی مان گئے….اور کہہ رہے ہیں کہ فاریہ اور عبیر کی اکھٹی ہونی چاہیے……..”
تم کیا کہتے ہو……؟؟فائزہ سکندر نے تفصیل سے بتاتے ہوئے اسکی رائے پوچھی…..
آپ لوگ مان گئے عبیر کیلئے….وہ اپنا والٹ اور موبائل اٹھاتا رک گیا……”
میں تو کبھی نا مانتی اس لڑکی کیلئے….مگر تمہارے ڈیڈ مان گئے…..فائزہ سکندر نے ناراضگی بھرے انداز میں کہا……”
چلیں اچھا ہے عبیر والی ٹینشن تو ختم ہو گئی….آپ کو بھی موقع مل جائے گا پوتے پوتیوں کو کھلانے کا…. ماں کا موڈ ٹھیک کرنے کیلئے مسکرا کے چھیڑا…. جواباً فائزہ سکندر نے اسے مصنوعی غصے سے گھورا…..”
وہ تو ٹھیک ہے لیکن یہ خواہش تم سے پورا کروانے کی میری بہت بڑی خواہش ہے….. کیونکہ ان دونوں کا تو مجھے پتا ہے کسی نا کسی کے ساتھ گھر بسا لیں گے…لیکن تمہارے ایسے کچھ ارادے مجھے نہیں لگتے ماحر…… تمہاری عمر کے لڑکوں کے دو دو تین تین بچے ہوتے ہیں اور تم ابھی تک چھڑے چھانٹ پھر رہے…. فائزہ سکندر نے اسکے لتے لینے شروع کر دیے….اور وہ ہمیشہ کی طرح کان لپیٹے سنتا رہا…….
اوکے مام اگر ماموں لوگ اسی مہینے شادی کرنا چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے کر دیں……..آپ کو تیاریوں کی فکر ہے تو نو پرابلم…..آپ کونسی مڈل کلاس ماں ہیں جو بیٹی کی شادی کی چیزیں لینے بازاروں کے دھکے کھائیں گی……. ڈیزائنر…..ڈریکوریٹر….سب کو یہیں بلا لیں گے…… ہر چیز فوراً ارینج ہو جائے گی….اوکے بائے مام اب میں جا رہا ہوں…. صبح ملاقات ہوگی ٹیک کیئر….ماں کے گال پر بوسہ دیتا وہ باہر نکل گیا….
جب پیچھے فائزہ سکندر اسکی چلاکی پہ کھول کے رہ گئیں….جو کہ اپنی شادی سے متعلق سوال کو گول کر کے رفو چکر ہو گیا تھا…….”
” آج دوسرا دن تھا اسے لاس اینجلس سے واپس آئے ہوئے اصفہان بھی اسکے ساتھ آیا تھا…..” جو کہ اسوقت عبیر اور زین کے ساتھ کہیں آوٹنگ پر نکلا ہوا تگ تھا…..فاریہ بھی انکے ساتھ گئی ہوئی تھی…..
“اسکی فلم ساتھیا مزید چار دنوں میں دو سو کروڑ کما چکی تھی…. ماحرسکندر نے اس سال 44 کروڑ کا ٹیکس ادا کیا تھا…..جب کے پچھلے سال 32 کروڑ کا ٹیکس ادا کیا تھا……یعنی اشتہارات فلمز اور ٹی شوز سے حاصل ہونے والی آمدنی سے ٹیکس بھرنے میں اس سال 12 کروڑ کی ترقی کی…… ماحر سکندر نے اس سال فلم سے زیادہ پیسے اشتہارات اور اشتہارات سے بھی زیادہ ٹی وی شوز کی میزبانی سے اپنے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کیے……آج کراچی میں منعقد ہونے والے فلم فیئر ایوارڈ کی تقریب میں اسے ایوارڈ دینے کیلئے بلایا گیا تھا….. ایوارڈ شو رات دس بجے سٹارٹ ہوا… مثال شیرانی اور وہ اکھٹے وہاں پہنچے تھے…ماحر سکندر کی پہلے کی طرح بھرپور توجہ پا کے وہ پھولے نہیں سما رہی تھی……….بارہ بجے وہ مثال شیرانی کے ساتھ وہاں سے نکلا اور ماضی کی معروف اداکارہ رشمی نیازی کی برتھڈے پارٹی میں جا پہنچا…….جو کہ اپنی 51 سالگرہ منا رہی تھی….رشمی نیازی اپنے وقت کی مقبول اداکارہ تھی جو کہ مس ورلڈ بھی رہ چکی تھی…ماحر سکندر نے جب سترہ سال کی عمر میں فلمی دنیا میں قدم رکھا تھا تو اسکی پہلی فلم کی ہیروئن رشمی نیازی ہی تھی…. ماحرسکندر پہ نئی نئی جوانی چڑھ رہی تھی سو وہ رشمی کے عشق میں بری طرح گرفتار ہو گیا تھا……جب کے رشمی نیازی اسوقت 31 سال کی تھی……. میڈیا رپورٹس کے مطابق اداکارہ رشمی نیازی نے اپنے کیریئر کے عروج پر ہی خاموشی سے جہانزیب ملک نامی شخص سے شادی کر لی تھی…اس حوالے سے ایک سوال کے جواب میں اداکارہ کا کہنا تھا کہ انہیں یہ خوف لاحق ہو گیا تھا کہیں شادی کے بعد ان کا فلمی کیریئر ختم نا ہو جائے اسلیئے انہوں نے سب سے یہ بات چھپائی تھی….”
!رشمی نیازی اب اپنے شوہر کے ساتھ خوشگوار زندگی گزار رہی تھی…. جہانزیب ملک سے انکی دو بیٹیاں تھیں…جبکہ ڈیشنگ ڈانسنگ ہیرو ماحر سکندر نے اپنے ایک پرانے انڑویو میں انکشاف کیا تھا کہ وہ رشمی نیازی کے لئے اس حد تک پاگل تھا کہ ایک دن خود ہی انکے گھر چلے گیا اور اداکارہ کے والد سے ان کا ہاتھ مانگ لیا مگر اداکارہ کے والد نے رشتے سے انکار کر دیا تھا… میزبان نے ماحر سکندر سے انکار کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا شائد میں انکے معیار پر پورا نہیں اترتا تھا…. بہرحال رشمی جی میری اچھی دوست ہیں…تاہم ماحر کے معاشقے اسکی بہت ساری کو سٹارز کے ساتھ سامنے آئے تھے…اور یہ سلسلہ ابھی بھی جاری تھا………”
” ریڈ کلر کے لانگ گاؤن میں ملبوس مثال شیرانی ماحر سکندر کے ساتھ رشمی نیازی کی برتھڈے پارٹی میں پہنچی….”
رشمی نیازی نے خاص خاص لوگوں کو انوائٹ کیا تھا……کیک وغیرہ کاٹنے کے بعد رشمی کے پوچھنے پر ماحر نے اسے اپنی آنے والی فلم اور فلم کی ہیروئن کے بارے میں مختصراً بتایا تو مثال شیرانی کے کان کھڑے ہو گئے….ماحر سے نظر بچا کے ایک سائیڈ پر آ کے اپنے فون میں موجود ماحر کے سیکرٹری فراز کا نمبر ڈائل کیا…….”
فراز میں مثال بات کر رہی ہوں…..کیا تمہیں پتہ ہے ماحر اگلی فلم میں کسے ہیروئن لے رہا ہے….دل میں کلبلاتا سوال فوراً سے پیشتر پوچھا…..دوسری طرف فراز نے لاعلمی کا اظہار کیا تو وہ دانت پیس کر رہ گئی…..”
ٹھیک ہے میں تم سے ملنا چاہتی ہوں……
کس لئیے میم……………..فراز نے محتاط انداز میں پوچھا…….کیونکہ وہ جانتا تھا مثال شیرانی فلحال ماحر کی ملکیت میں ہے سو اس سے بات کرنا یا ملنا وہ افورڈ نہیں کر سکتا تھا……اور ایسی صورت میں تو بالکل نہیں جب وہ جاب بھی اسکے پاس کر رہا تھا…..”
تم ملو تو سہی پتا بھی چل جائے گا…..جانتے ہو لڑکے میری ایک جھلک کے دیوانے ہیں اور تم نخرے دکھا رہے ہو……..!!جب ایک خوبصورت لڑکی کسی اکیلی جگہ بلائے تو پوچھنے کی تک بنتی ہے کیا…..وہ اسے دانہ ڈال رہی تھی……
نہیں میم…میں تو ماحر سر کی وجہ سے…….وہ خاموش ہوگیا…….”
” اسکی فکر مت کرو اسے پتا نہیں چلے گا……میں تمہیں ایک اڈریس سینڈ کروں گی اس پتے پر پہنچ جانا… مثال شیرانی نے جلدی جلدی کال ختم کی کیونکہ کچھ شور کی آوازیں آ رہی تھی اسے…….
آگے جو منظر اسے دیکھنے کو ملا وہ حیران رہ گئی…. ماحر سکندر ماضی کے اداکار اکمل کھرانہ کے نوجوان بیٹے دانش کھرانہ جو کہ فلمی دنیا میں قدم جمانے کی کوشش کر رہا تھا…..کو بری طرح پیٹ رہا تھا….”
رشمی نیازی کے شوہر جہانزیب ملک اور کچھ اور ایکٹرز نے مداخلت کر کے ماحر سکندر کو روک کر ٹھنڈا کیا….جبکہ دانش کھرانہ فوراً وہاں سے چلا گیا…..”
کیا ہوا…..ماحر کیوں پیٹ رہا تھا اس لڑکے کو….مثال نے قریب کھڑی ایک ساتھی اداکارہ سے پوچھا……
پتہ نہیں کسی فلم کے سین پر بحث ہوئی دونوں کی اور بات بڑھ گئی…..اب یہ بات نیوز میں خوب مرچ مصالحے کے ساتھ آئے گی……. بہت غصے والے ہیں ماحر سکندر خان……..
ہممم…. غصے والے تو بہت ہیں….اس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا……”
یہ اسکی زندگی کی گزری پہلی رات تھی جس میں اس نے ارتضیٰ حسن کے حوالے سے کچھ خوبصورت خواب دیکھے…….پوری رات ایک خوبصورت مسکان اسکے خوبصورت ہونٹوں پر موجود رہی……پیپر کی فکر چھوڑے وہ ارتضیٰ حسن کو سوچتی رہی…….
” رات ارتضیٰ حسن نے اسے کال بھی کی تھی….اپنے اور اسکے مستقبل کے بننے والے رشتے کے حوالے سے کچھ خوبصورت باتیں کہی تھیں………جنہیں سن کے وہ رات کافی دیر تک شرماتی رہی تھی……..ناشتے کے بعد وہ آرام سے بیٹھی پڑھائی کر رہی تھی کہ ارتضیٰ حسن کی پھر سے کال آتی دیکھ کے اس کا دل دھڑ دھڑ کرنے لگا……….”
“ارتضیٰ حسن جیسا اصول پسند مغرور اور سخت گیر ٹیچر اچانک اس پر مہربان ہو گیا اوپر سے پیار محبت کی باتیں کرنے لگا…..کوئی اور شخص ہوتا تو اور بات تھی مگر ارتضیٰ حسن کے منہ سے اسطرح کی باتیں سن کے اسے کل رات سے ہی عجیب طرح کی حیا آ رہی تھی……..
دھڑکتے دل پہ قابو پا کے اس نے کال ریسیو کی…..
کیا ہو رہا ہے…..؟؟ اس نے یوں بے تکلفی سے پوچھا جیسے وہ اس کا ٹیچر نہیں بلکہ کوئی پرانا بے تکلف دوست ہو…اسکی یہی بے تکلفی تو حیات عبدالرحمان سے ہضم نہیں ہو رہی تھی…….”
جی سر وہ کل والے پیپر کی تیاری کر رہی ہوں….خاصے ادب سے جواب دیا……
پھر ہو گئی تیاری……؟؟
جی…..بس کچھ ٹاپکس رہتے ہیں جن کی سمجھ نہیں آ رہی تھی تو نیٹ پہ دیکھ رہی ہوں…..
میں آ جاؤں سمجھانے……اس نے فوراً آفر کی……
نن…..نو سر میں کر لوں گی…..آپ تو یونی میں ہونگے نا اسوقت…..” اس نے بھی فوراً انکار کیا…..
جی یونی میں ہی ہوں…..مگر آپ تو جب بلائیں بندہ سر کے بل حاضر…..دوسری طرف وہ شوخ ہوا تو وہ جھینپ سی گئی……..
اوکے آپ سٹڈی کریں….جلدی ملتے ہیں خدا حافظ…..اسے خاموش پا وہ خدا حافظ کہہ گیا……جب کے حیات عبدالرحمان نے اپنی اٹکی ہوئی سانس بحال کی اور لیب ٹاپ کی طرف متوجہ ہو گئی جہاں وہ سائیکالوجی کے کچھ ٹاپکس کو سرچ کر رہی تھی…..
“پندرہ منٹ بعد ملازمہ نے اسے آ کے بتایا کہ کوئی ارتضیٰ صاحب آپ سے ملنے آئے ہیں تو وہ ہکا بکا رہ گئی……او گاڈ………….ارتضیٰ سر تو سچ مچ میں آ گئے…..اب کیا کروں…..وہ ہونٹ کاٹنے لگی…….!!جانا تو پڑے گا آخر گھر آئے ہیں…… لیکن میں اتنا شرما+گھبرا کیوں رہی ہوں….وہ پوائنٹس سمجھانے ہی تو آئے ہیں….فیس ٹو فیس تو کوئی رومینٹک بات نہیں بولیں گے…..خود کو ڈپٹتے ہوئے وہ ڈرائنگ روم میں چلی آئی جہاں ملازم نے اسکے کہنے پہ ارتضیٰ حسن کو بٹھایا تھا…… دوپٹا سلیقے سے شانوں پر پھیلائے ریشمی زلفوں کو کیچر میں مقید کیے ترکش حسن رکھنے والی حیات عبدالرحمان نے جیسے ہی ڈرائنگ روم میں قدم رکھا تو صوفے پر بیٹھا ارتضیٰ حسن فوراً اٹھ کھڑا ہوا………..”
اسلام علیکم سر….. حیا نے فوراً سلام کیا……
وعلیکم السلام……
بیٹھیے سر……..اسے کھڑا دیکھ کے حیا نے بیٹھنے کو کہا……….”
جبکہ وہ پرشوق نظروں سے اس کا جائزہ لے رہا تھا…. اسوقت وہ بلیک جینز اور کاٹن کی ڈھیلی ڈھالی پنک شرٹ پہنے خود بھی کوئی پنک روز ہی لگ رہی تھی…..وہ چاہ کے بھی اپنی نظروں کو اس پر سے
ہٹا نا پایا تو مجبوراً حیات کو اسے پھر سے کہنا پڑا………….سر بیٹھئیے نا……..وہ چونکا اور شرمندہ سی سمائل دیتے ہوئے بیٹھ گیا……حیات عبدالرحمان بھی اسکے سامنے بیٹھ گئی…….وہ سر جھکائے انگلیاں چٹخانے لگی……
مجھے لگا آپ مذاق کر رہے ہونگے….. آپ کو میرے گھر کا کیسے پتا چلا…….؟؟ چند پل کی خاموشی کے بعد وہ سر اٹھا کے اسے دیکھتے ہوئے بولی……..
جہاں انسان کا دل اٹکا ہو…..وہاں کے بارے میں سب معلوم ہو جاتا ہے……ویسے بھی محبوب کا خیال دل میں گھر کر چکا ہو تو محبوب کا گھر ڈھونڈھنا کونسا مشکل ہے…….. وہ دلکش انداز میں مسکرایا….
“سر کیا منگواؤں آپ کیلئے…..چائے یا کولڈ ڈرنک….وہ بات بدلنے کی غرض سے بولی….
فلحال تو اپنی بک منگوا لیجیئے…….پہلے وہ ٹاپکس سمجھا دوں آپکو جو رہتے ہیں….. چائے وائے بعد میں ہو جائے گی……وہ سیریس انداز میں بولا تو وہ سر ہلاتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی اور روم سے جا کے بک لے آئی………
یہاں برابر میں بیٹھیں…….وہ جو اسکے سامنے والے صوفے پر بیٹھنے لگی تھی ارتضیٰ حسن کے کہنے پہ جھجھکتی ہوئی اس برابر میں کچھ فاصلے پر بیٹھ گئی………..
وہ اپنے اسی بہترین انداز میں آرام سے سمجھا رہا تھا مگر اس بار لہجے میں فرق تھا……لہجہ پہلے کی طرح سرد سپاٹ نہیں بلکہ شہد کی طرح میٹھا تھا……
تمہارے پیرنٹس کب واپس آ رہے ہیں….؟ایک ٹاپک سمجھاتے ہوئے اس نے اچانک پوچھا…….
اسی ہفتے ممی کا آپریشن ہے….اسکے بعد…..وہ اسکے سوال کا مقصد سمجھ گئی تھی تبھی نگاہیں جھکائے دھیمے لہجے میں جواب دیا……..
مجھ سے صبر کرنا مشکل ہو رہا ہے یار……وہ کھوئے ہوئے انداز میں بولا تو حیات عبدالرحمان حیرت سے اسے دیکھنے لگی……
“میرا دل چاہتا ہے میں تمہیں اب ہمارے بیڈروم میں پڑھاؤں……کچھ تمہیں پڑھوں…. تھوڑا تم بھی مجھے پڑھو……. لکھو اور سمجھو…..تمہارے اس معصوم حسن کو سراہوں….. کھل کے تعریف کروں…..”
تمہیں قریب سے پیار کروں……
وہ خاصے جذب کے عالم میں باکی سے کہہ گیا…… جبکہ حیات عبدالرحمان کا کاٹو تو بدن میں خون نہیں والی کیفیت تھی…..اسے ارتضیٰ حسن سے اس درجہ بے باکی کی امید نہیں تھی……”
“ارے یار مزاق کر رہا تھا میں……وہ اس کا چہرہ دیکھ کے ہنس پڑا پھر اگلے ہی پل سنجیدگی سے گویا ہوا….تمہاری تعلیم میرے لئیے بہت امپورٹینٹ ہے حیا…….. جب تک تم اپنی سٹڈی کمپلیٹ نہیں کر لو گی……میں تم سے کوئی ڈیمانڈ نہیں کروں گا….. اسی طرح تمہارا ٹیچر تمہارا دوست بن کے رہوں گا…….ہاں اس عرصے میں تمہیں مجھ سے ہر قسم کی ڈیمانڈ کرنے کی اجازت ہو گی……. وہ کب مس حیات سے حیا اور آپ سے تم پر آیا…… اسے پتا ہی نہیں چلا………”
“سر آپ اس طرح کی باتیں ابھی نا کریں نا مجھے بہت عجیب سا لگتا ہے…..وہ نظریں چرا کر آہستہ آواز میں بولی….جبکہ ارتضیٰ حسن قہقہہ لگا کے ہنس پڑا……
اچھا ابھی نا کروں……یعنی بعد میں کر سکتا ہوں… آنکھوں میں شرارت لئیے وہ پوچھ رہے تھے حیات نے ایک پل کیلئے شکایتی نظروں سے انکی طرف دیکھا…..
ارتضیٰ حسن نے انتہائی نرمی سے اسکا نازک سا ہاتھ تھام لیا…..انکے ہاتھ تھامنے کے انداز میں انتی عقیدت اور احترام شامل تھا کہ حیات عبدالرحمان نے ان سے اپنا ہاتھ نہیں چھڑوایا…..”
دیکھو حیا میں چاہتا ہوں تم مجھ سے گھبرانا کنفیوژ ہونا چھوڑ دو……میں چاہتا ہوں تم بنا کسی جھجھک کے ہر بات کرو مجھ سے…..اپنا ہر مسئلہ شئیر کرو مجھ سے…… وہ نرمی سے اسے کہہ رہا تھا……”
اچھا یہ بتاؤ بطور ٹیچر میں تمہیں کیسا لگتا ہوں……….؟؟
اچھے ہیں…..بلکہ آپ میرے فیورٹ پروفیسر ہیں…..آپ کے پڑھانے کا انداز مجھے شروع سے پسند ہے…..بلکہ اگر یہ کہوں کہ آپ وہ پہلے انسان ہیں جن سے میں بے حد امپریس ہوئی ہوں تو غلط نہیں ہوگا…………. ارتضیٰ حسن کے انداز اور الفاظ نے اسے حوصلہ بخشا تو وہ بھی بنا کسی جھجھک کے بول گئی……
اچھا یعنی بطور ٹیچر تو تمہیں اچھا لگتا ہوں….. لیکن بطور شوہر کتنا اچھا لگوں گا یہ تو بتاؤ……. ؟؟وہ مسکرا کے پوچھ رہے تھے……..”
سر پلیز………!!حیات نے جھینپ کے کہنے کے ساتھ احتجاجاً اپنا ہاتھ بھی کھینچ لیا……..”
اچھا سنو…..شادی کے بعد تو سر مت کہنا…..ورنہ مجھے عجیب سا لگے لگا……وہ مصنوعی بے چارگی سے کہہ رہے تھے جواباً وہ پہلی بار انکے سامنے کھکھلا کے ہنس پڑی…….تب تک تو کہوں گی جب تک آپ سے پڑھتی رہوں گی………!!دل ہی دل میں اسکی خوبصورت مسکراہٹ پہ فدا ہوتے وہ بھی مسکرائے…
ایک گھنٹہ اسے اچھے سے ٹاپکس سمجھانے اسکے ہاتھ کی بنی چائے پینے کے بعد جب وہ وہاں سے روانہ ہوئے تو وہ لبوں پر خوبصورت مسکان لئیے اپنے روم میں آ گئی…..ابھی وہ بکس لے کے بیٹھی ہی تھی کہ ملازمہ نے آ کے کہا کہ لینڈ لائن پر اس کیلئے کال ہے…..وہ سیڑھیاں اتر کر نیچے آئی…….”
” فون اٹھایا تو آگے سے جو آواز اور الفاظ اسے سننے کو ملے اس نے اس کے رگ و پے میں سنسناہٹ پیدا کر دی…….!!وہ سن سی ہو گئی….
ختم ہو گئی پروفیسر صاحب سے ملاقات…..؟؟خاصے طنزیہ انداز میں کہا گیا……
کیا ہوا ڈر گئیں……؟؟اسکی خاموشی پہ دوسری طرف سے پھر طنز ہوا………
میرے پرسنل معاملات سے آپ کا کوئی لینا دینا نہیں…..یہ بتائیں کیوں فون کیا ہے…….؟؟ اگلے ہی پل وہ ناگواری سے کہہ رہی تھی……..
پانچ بجے آپ کو میرے پروڈکشن ہاؤس آنا ہے……”اس کیلئے ساڑھے چار بجے میرا ڈرائیور آپ کو پک کرنے آئےگا……وہ تحکم بھرے انداز میں کہہ رہا تھا…..
اسکے نئے حکم پہ حیات عبدالرحمان تلملا اٹھی……
کیا مطلب ہے آپ کا…..کیوں آؤں میں…..؟؟
سکرین ٹیسٹ لینا ہے آپ کا……دوسری طرف سے اطمینان بھرے انداز میں کہا گیا……
کیا……..کیسا ٹیسٹ اور کس لئیے….؟؟وہ سمجھ نہیں پائی…….
فلم کیلئے ہوتا ہے یہ……
تو…….؟؟
تو مطلب آپ میری نیکسٹ فلم کی ہیروئن ہونگی نا….” تو فلم میں کام کرنے سے پہلے سکرین ٹیسٹ لیا جاتا ہے…..وہی لینا ہے آپ کا…….وہ سمجھانے والے انداز میں بولا………
“بھاڑ میں جائے آپکی فلم اور آپ کا ٹیسٹ…..میں نہیں آؤں گی…..سمجھ کیا رکھا ہے آپ نے مجھے……میں کوئی غریب مجبور لڑکی نہیں جس کو آپ بلیک میل کریں گے….. سٹیٹس میں آپ کے ہم پلا نا سہی مگر کم بھی نہیں ہوں……دوبارہ مجھے فون کیا نا تو پولیس میں کمپلین کر دونگی….وہ جو بابا کے آنے کا انتظار کر رہی تھی کہ جب تک بابا نہیں آ جاتے تب تک اسے ٹالے رکھنا ہے(یعنی سجی دکھا کے وقت آنے پہ کھبی مارنی ہے) اسوقت غصے میں بھول گئی کہ ابھی وہ تنہا بابا کے بنا اس شخص سے نہیں نمٹ سکتی…سو غصے کی زیادتی میں اسے پہلے دن کی طرح انکار کر گئی…….
سوچ لیں مس حیات عبدالرحمان……اگر آپ نا آئیں تو میں خود آپ کے گھر آ جاؤں گا ٹیسٹ لینے……وہ اپنی بات پہ زور دیتے ہوئے بولا…….
گو ٹو ہیل ودھ یور ٹیسٹ…..غصے میں ریسیور پٹخ دیا بلکہ کریڈل پر الٹا رکھ دیا………
کھولتی ہوئی وہ گیٹ پر گئی…. چوکیدار کو ہدایت کی کہ کسی شخص کو گھر میں نا گھسنے دے…. آج گھر میں بوا بھی نہیں تھیں….انکے ایک رشتے کی بہن
جو کہ کسی دور دراز کے گاؤں میں رہتی تھی انتقال کر گئی تھی……. تین چار گھنٹے کا سفر تھا…..بوا جاتے وقت تذبذب کا شکار تھیں…..کیونکہ وہ حیات کو اکیلے چھوڑ کر نہیں جانا چاہ رہی تھیں… مگر جانا بھی ضروری تھا….. ایک ہی رات کی تو بات تھی سو حیات نے انہیں مطمئن کر کے بھیج دیا تھا…. صبح سویرے پہنچنے کا کہہ کے وہ چلی گئی تھیں……”
!! وہاں سے مطمئن ہو کے وہ مون کا انتظار کرنے لگی جو کہ آنے والا تھا….دس منٹ بعد وہ آ گیا تو حیات نے اسے لنچ کرانے کے ساتھ خود بھی کیا….لنچ کے بعد وہ اپنے کمرے میں کمپیوٹر پر گیم کھیلنے لگ گیا جبکہ حیات کچھ دیر سونے کی غرض سے لیٹ گئی…..
“چار بجے اسکی آنکھ کھلی نماز ادا کرنے کے بعد وہ بک لئیے لان میں چلی آئی… مون وہاں پہلے سے کھیل رہا تھا حیا نے اسے اپنا سکول بیگ لانے کو کہا….مون کو ہوم ورک کرانے کے بعد وہ اپنے پیپر کی تیاری کرنے لگی………رات کے کھانے کے بعد اس نے مون کو اسکے کمرے میں سلا دیا………مون کا روم اسکے روم کے بالکل ساتھ ہی تھا درمیان میں ایک دروازہ تھا…
پڑھتے پڑھتے وہ شاور لینے کی غرض سے اٹھی…..
شاور لے کے گیلے بالوں کو تولیے سے خشک کرتے وہ جیسے ہی اپنے روم میں اینٹر ہوئی اسکا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا………سامنے ہی کوئی چہرے پر ماسک لگائے بڑی شان سے اسکے بیڈ پر براجمان اسی کا جائزہ لیا رہا تھا……..
خون ہو تم……..؟؟؟؟خوف سے زرد پڑتے چہرے کے ساتھ کپکپاتی آواز میں ہمت کر کے پوچھا…… جواباً اس نے چہرے سے ماسک ہٹا دیا….. اس کا چہرہ دیکھ کے حیات کا اپنا چہرہ جو خوف سے زرد ہو رہا تھا یکلخت سفید پڑ گیا……..
آآآپ………….بمشکل منہ سے نکلا….. ہاں میں…. وہ اٹھ کے اسکے مدمقابل آ کھڑا ہوا………وہ گھبرا کے ایک قدم پیچھے ہٹ گئی….. اور چور نظروں سے دروازے کی طرف دیکھا جسے وہ آتے وقت ہی لاک کر چکا تھا……..
آپ کی ہمت کیسے ہوئی میرے گھر اور روم میں آنے کی…..اور آئے کیوں آپ…… !!دل کو مضبوط کرتے ہوئے بظاہر سخت لہجے میں کہا مگر اندر سے ہول اٹھ رہے تھے جو شخص چوکیدار اور باقی نوکروں کی موجودگی میں اسکے گھر کیا آرام سے بیڈروم تک بھی پہنچ گیا اس سے کچھ بعید نا تھا کہ وہ مزید کیا کرے گا………..”
“آپ نے ہی مجبور کیا یہاں آنے پر محترمہ……وہ اسکے دلکش چہرے اور بھیگے بھیگے سراپے کو بغور دیکھ رہا تھا………. بلیک کیپری کے ساتھ لان کاٹن کی وائٹ شرٹ پہنے ہوئے تھی وہ…….. جس کا اگے کا گلا بھی گہرا تھا….اوپر سے اسکے بالوں سے رستے پانی اور بھیگے بدن کی وجہ سے چپک گئی تھی….وہ پہلی بار اسے بنا ڈوپٹے کے دیکھ رہا تھا……سو نظریں پھسلتی ہی جا رہی تھیں………. تولیے کو ہاتھ میں پکڑے کھڑی حیات عبدالرحمان کو اسکی بے باک نظروں کا احساس ہوا تو فوراً سے ہاتھ میں پکڑے تولیے کو ڈوپٹے کی طرح پھیلا کر گردن اور فرنٹ کو کور کیا…….
میں نے مجبور کیا…….؟؟
سکرین ٹیسٹ کیلئے بلایا تھا نا آپ کو…….آپ نے آنے سے انکار کر دیا تو میں نے سوچا خود جا کے لے لیتا ہوں سکرین ٹیسٹ……..وہ بھی آپ کے بیڈروم میں….اچھا ہوا آپ نے پروڈکشن ہاؤس آنے سے انکار کر دیا کیونکہ بیڈروم میں جتنے اچھے طریقے سے ٹیسٹ لیا جا سکتا ہے وہ کسی اور جگہ نہیں…..لفظ بیڈروم پر خاصا زور دیتے ہوئے وہ مسکرایا………
حیات عبدالرحمان کی ریڑھ کی ہڈی میں سرسراہٹ ہوئی……..!! وہ سیریس تھا…..مذاق کر رہا تھا…..یا اسے ڈرا رہا تھا……وہ سمجھ نہیں پائی……..
“دیکھئیے پلیز آپ یہاں سے چلے جائیے….کل میں خود آپ کے آفس آؤں گی…….وہ اکیلی تھی…. اکیلے کمرے میں اسکے رحم وکرم پر تھی سو اس شخص کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی……اس لئیے بہتر تھا کہ وہ اسے نرمی سے ہینڈل کرتی اور جانے پر مجبور کرتی….”
“کیوں مجھے کیوں بھگانا چاہتی ہو…..اس پروفیسر کے ساتھ تو ایک گھنٹہ اکیلے کمرے میں خوب انجوائے کیا ہے…..!! دونوں کے درمیان حائل دو قدموں کے فاصلے کو ختم کرتے وہ اسکے بے حد قریب ہوا اور ہاتھ بڑھا کے اسکی گیلی لٹ کو چھوتے ہوئے بولا………. حیات عبدالرحمان کو کرنٹ لگا……… اسکی بات اور حرکت دونوں نے اسے سن کر دیا……”
“دور ہٹو گھٹیا انسان…..اور بکواس بند کرو اپنی……وہ چیخی اور تھپڑ دے مارا اسے……اگرچہ یہ کوئی بھاری تھپڑ نہیں تھا……نازک ہاتھ سے پڑا تھا….ہلکا ہی تھا مگر اس تھپڑ نے ماحرسکندر خان کو بری طرح مشتعل کر دیا….چند سیکنڈ گال پر ہاتھ رکھے اس نے حیرانی سے سامنے گھڑی اس نازک حسین لڑکی کی ہمت کو دیکھا جو کہ بند کمرے میں اسکے رحم و کرم پر کھڑی اتنی بڑی جرت کر گئی تھی…..اسکی آنکھوں سے شرارے پھوٹنے لگے…….اگلے ہی پل اس نے اس نازک لڑکی کو اس بری طرح جھنجھوڑ ڈالا جیسے توڑنے کا ارادہ ہو…………”
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی ماحر سکندر پر ہاتھ اٹھانے کی….کیا سمجھتی ہو خود کو……… بہت پارسا ہو تم اور ہم شوبز والے بیڈ کیریکٹر ہوتے ہیں…..بہت اکڑ ہے تم میں…..بہت غرور ہے اپنے حسن پر…..ابھی اور اسی وقت تمہارا غرور توڑتا ہوں….پر کاٹتا ہوں تمہارے….اکیلے کمرے میں پروفیسر کے ساتھ وقت گزارنا اچھا لگتا ہے اور میں جو کہ سپر سٹار ہوں جس کے پیچھے لاکھوں لڑکیاں پاگل ہیں… میں پسند نہیں تمہیں…..!!مجھے انکار کرتی ہے……آج کے بعد تم اس قابل ہی نہیں رہو گی کہ انکار کر سکو….. اسکی آنکھوں سے نکلتی شعلوں کی لپیٹیں اسکے وجود کو جیسے جلا دینا چاہتی تھیں….. وہ خاصے جارحانہ انداز میں بولتا اسے بیڈ کی طرف لا رہا تھا….!!جبکہ حیات عبدالرحمان اسکی چٹانوں جیسی سخت گرفت میں کسی پرندے کی طرح مچل مچل کے پھڑ پھڑا رہی تھی…..ماحر سکندر کے الفاظ اور عزائم خطرناک تھے…… حیات عبدالرحمان کے اندر کوئی سرد لہر سی اتر گئی……وہ چیخ رہی تھی…..مگر کوئی فائدہ نہیں تھا کیونکہ اس کا روم ساؤنڈ پروف تھا….زندگی میں پہلی بار اسے اپنے روم کے ساؤنڈ پروف ہونے کا افسوس ہوا…..مگر وہ پاگل لڑکی یہ نہیں سوچ رہی تھی جو شخص دھڑلے سے اسکے بیڈروم میں پہنچ سکتا ہے تو یقیناً پہلے اس نے باہر کوئی انتظام کیا ہوگا….. اگر روم ساؤنڈ پروف نا بھی ہوتا تو بھی کوئی نہیں آ سکتا تھا اسکی مدد کیلئے…… اس وقت غصے کی آگ میں جلتا وہ انسانیت سے بے بہرہ لگ رہا تھا…..وہ اسوقت اسکی گرفت میں خود کو قطعی بے بس محسوس کر رہی تھی…… اسے شدت سے ماحر سکندر پر ہاتھ اٹھانے والی اپنی غلطی کا احساس ہوا……”
