171.9K
78

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Hayat (Episode 30)

Meri Hayat By Zarish Hussain

یار شہناز ایک بات مجھے سمجھ میں نہیں آتی اس لڑکی حیات کے ہزبینڈ کو کس نے مارا ہوگا۔۔۔۔۔؟؟

مثال شیرانی نے کافی کا سپ لیتے ہوئے اپنی اسسٹنٹ شہناز سے پوچھا جو اسکے ساتھ بیٹھی کمپیوٹر پر اس کا نیا شیڈول تیار کر رہی تھی۔۔۔شہناز کہنے کو تو اسکی اسسٹنٹ تھی لیکن اسکے چھوٹے بڑے ہر فیصلے وہی کرتی تھی۔ اسکے کھانے پینے پہننے سونے جاگنے سے لے کر اس بات کا بھی فیصلہ کرتی تھی کہ اسے کونسا رول ایکسیپٹ کرنا ہے اور کونسا ریجیکٹ۔۔کس کو کب اور کونسی ڈیٹ دینی ہے ،کس کے شو میں جانا ہے اور کس کے شو میں نہیں جانا۔۔۔۔۔الغرض شہناز کو اسکی لائف کے ہر فیصلے کا اختیار تھا سوائے اسکے کہ اسے کس سے دوستی کرنی ہے یا نہیں کرنی کس سے ملنا ہے یا نہیں”

اس معاملے میں وہ صرف مشورہ دے سکتی تھی وہ بھی اس صورت میں کہ مثال شیرانی خود اس سے مانگے”

ظاہری بات ہے ماحر خان کے علاؤہ کون کر سکتا ہے یہ کام۔۔وہ سپر سٹار ہے کیسے برداشت کر سکتا تھا کہ وہ لڑکی اسکے مقابلے میں ایک پرفیسر کو ترجیح دے۔۔۔شہناز نے کمپیوٹر پر انگلیاں چلاتے ہوئے جواب دیا”

مگر جب اسکے ہزبینڈ کا مرڈر ہوا ماحر تو اٹلی جا چکا تھا۔۔۔۔۔۔وہ الجھے ہوئے انداز میں بولی

تو خود کے رکنے کی کیا ضرورت تھی کسی کو پیسے دے کر یہ کام کروایا ہوگا۔۔۔۔بلکہ مجھے تو لگتا ہے وہ اٹلی گیا ہی اس لئیے ہوگا تاکہ شک اس پر نا آئے۔اگر آئے تو وہ صاف کہہ سکے کہ وہ تو یہاں تھا ہی نہیں۔۔۔۔شہناز نے خیال ظاہر کیا۔۔۔مثال شیرانی نے چونک کر اسکی طرف دیکھا اور پھر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولی

تم ٹھیک کہہ رہی ہو شائد۔۔۔ویسے مجھے حیرانی ہے کہ وہ لڑکی خاموش کیوں ہے اسکے شوہر کا قتل ہوا ہے۔یہ بات تو یقیناً وہ جانتی ہو گی کہ اس کے شوہر کو مارا کس نے۔۔۔۔پھر بھی خاموش ہے”وہ حیرت سے بولی

۔۔۔۔۔ شائد اس لئیے کہ اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہوگا”پھر عدالت تو ظاہر سی بات ہے ثبوت مانگتی ہے اور پھر اس کو ماحر خان کی طاقت کا بھی اندازہ ہوگا تبھی بچاری ڈر کے مارے خاموش ہو گئی ہوگی۔۔۔۔شہناز نے سوچتے ہوئے کہا”

ہممم۔۔۔تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔۔وہ کچھ دیر سوچتی رہی پھر ذہن میں ایک جھماکا ہوا۔۔۔۔۔۔وہ تو چپ ہے لیکن میں نہیں رہوں گی۔۔۔وہ پر اسرار انداز میں مسکرائی۔۔اور اپنے فون سے کسی کا نمبر ملانے لگی

کیا مطلب۔۔کسے فون کر رہی ہو۔۔۔۔؟شہناز نے حیرانی سے دیکھتے ہوئے پوچھا

ثوبیہ انجم کو۔۔۔۔۔وہ ہنوز پر اسرار مسکراہٹ سے بولی

وہ کون ہے۔۔۔۔۔۔؟؟

سچ نیوز چینل کی اونر۔۔۔۔۔

اسے کیا کہو گی۔۔۔۔؟؟وہ نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی

ہیلو۔۔۔دوسری طرف سے کال ریسیو کر لی گئی تھی۔مثال نے اشارے سے اسے چپ رہنے کو کہا”

ہیلو ثوبیہ۔۔۔ایک کام ہے یار وہ اسے بتانے لگی۔۔۔

اس سے کیا ہوگا بھلا۔۔۔۔؟؟اس نے جیسے ہی بات ختم کی شہناز نے فوراً سوال کیا۔۔۔

بس تم دیکھتی جاؤ۔۔۔وہ مکاری سے مسکرائی”

شہناز گہری سانس لے کر رہ گئی۔۔نا جانے اس کا بدلہ کب پورا ہوگا”اتنا کچھ کر کے بھی دل نہیں بھرا۔

کمرا تاریک قبر بنا ہوا تھا۔۔۔۔جامد خاموشی اور سناٹے میں اسکی سسکیاں گونج اٹھتیں تو ماحول اور زیادہ پر درد اور سوگوار ہو جاتا۔اپنی ساری وفائیں محبتیں

چاہتیں جسکے وجود سے وہ منسلک کر چکی تھی۔۔۔اس وجود کو کسی نے انتہائی بے دردی اور سنگدلی سے ختم کر دیا تھا۔اس کا آشیانہ بسنے سے پہلے ہی اجڑ گیا تھا۔وہ نیلی آنکھوں والی ترکش بیوٹی اپنی خیالی دنیا میں ارتضیٰ حسن کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اسکی چاہت کی سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے افق پر اڑنے لگی تھی۔۔۔۔۔۔۔ مگر کسی ظالم نے ایک ہی جھٹکے میں اس سیڑھی کو اتنی بے رحمی اور سفاکی سے کھینچا کہ چاہتوں کے افق پر چڑھی کسی مجروح ستارے کی طرح ٹوٹ کر زمین پر بکھر گئی تھی۔۔۔۔اپنا ٹوٹا بکھرا زخمی وجود لئیے آج بیسواں دن تھا اسے ارتضیٰ حسن کی موت کا سوگ مناتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔یونیورسٹی جانا وہ چھوڑ چکی تھی۔۔تعلیم اس نے ادھوری چھوڑ دینے کا فیصلہ کیا تھا”ماحر خان کے خلاف آواز نا اٹھانے کے فیصلے پر کچھ دنوں تک وہ عبدالرحمان صاحب سے ناراض رہی لیکن پھر انہوں نے منا لیا اور بڑے پیار سے اسے سمجھایا۔۔۔۔۔

دیکھو بیٹا کبھی کبھی وقت ہمیں ایسے الجھاوے میں الجھا دیتا ہے نا صحیح اور غلط کا احساس ہوتا ہے اور نا پہچان۔۔۔۔وہ شخص بہت پاور فل ہے ہم اس سے نہیں لڑ سکتے۔بالفرض ہم اسکے خلاف آواز اٹھائیں بھی تو جو شخص ایک بار کسی کی جان لے سکتا ہے تو کیا اس کیلئے دوبارہ کسی کی جان لینا مشکل ہو گا۔مجھے اپنی پروا نہیں ہے لیکن تمہاری سلامتی کی فکر ہے۔۔۔میں تمہیں نقصان پہنچتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔۔بلکہ خدانخواستہ اگر تمہیں نقصان پہنچا تو میں تو زندہ بھی نا رہ سکوں گا شائد۔۔۔۔۔۔وہ بولتے ہوئے رنجیدہ ہو گئے۔۔

لیکن بابا اگر ہم چپ رہیں گے تو اس شخص کو اور شہہ ملے گی وہ ہمیں کمزور جان کر مزید شیر ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔۔اور اگر میں کچھ نہیں کروں گی تو ارتضیٰ کو انصاف کیسے ملے گا۔اور پھر اس سے یہ بھی ظاہر ہو گا کہ میں اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی پر بے حسی دکھا رہی ہوں۔۔۔۔۔میں اپنے ساتھ مخلص نہیں ہوں۔۔وہ دلگرفتہ لہجے میں بولی”

پر بیٹا یہ بھی تو کنفرم نہیں نا کہ یہ سب واقعی اسی نے کیا ہے اور پھر اس نے معافی نامہ بھی تو بھیجا تھا۔۔ہو سکتا ہے اس کا اس سب میں ہاتھ نا ہو

ارتضیٰ کے اپنے ہی کسی دشمن کا کام ہو۔۔۔وہ اس کا دھیان ماحر خان پر سے ہٹانا چاہتے تھے”

وہ سب ڈھونگ تھا۔۔۔اسکی چال تھی۔۔۔وہ بہت کمینہ فطرت انسان ہے ان فلموں والوں کی رگوں میں خون کے ساتھ شراب بھی گردش کر رہا ہوتا ہے۔۔جس شخص کی زندگی میں حرام حلال کی کوئی تمیز نا ہو وہ اچانک سے کیسے سدھر سکتا ہے معافی مانگ سکتا ہے۔میں نہیں مانتی مجھے پورا یقین ہے یہ سب اسی نے کیا ہے۔ورنہ ارتضیٰ کے ساتھ اور کس کو پرخاش ہو سکتی ہے۔اسی نے ہی مارا ہے ارتضیٰ کو۔۔۔۔۔بات کے اختتام پر وہ پھر رونے لگی تھی”

اسے روتا دیکھ کر عبدالرحمان صاحب کا دل بھی بھر آیا۔ محبت سے خود سے لگا کر اس کا سر تھپکنے لگے۔۔۔

بیٹا تم اس شخص کا خیال اپنے دماغ سے نکال دو میں نے معلوم کروایا تھا جس دن ارتضیٰ کامرڈر ہوا اس سے ایک دن پہلے وہ اٹلی شوٹنگ کیلئے جاچکا تھا۔کسی اور کا کام ہے یہ تم فکر مت کرو فارس پوری کوشش کر رہا ہے جلد ہی ارتضیٰ کا قاتل سلاخوں کے پیچھے ہو گا۔۔۔

انہوں نے اسے دلاسہ دینے کی کوشش کی کیونکہ وہ

چاہتے تھے حیات کے دل سے اس شخص سے بدلہ لینے کا خیال یا ارادہ نکل جائے۔۔۔ماحر خان جیسے آدمی سے لڑنا کوئی آسان کام نہیں تھا” ممکن تھا کہ اس صورت میں وہ شخص انہیں کوئی اور ناقابل تلافی نقصان پہنچا دیتا۔۔یہی ڈر انہیں ایسے کسی اقدام اٹھانے سے روک رہا تھا۔مگر یہ بات حیات کو سمجھ نہیں آ رہی تھی۔اسکے سر پر بس ارتضیٰ کے قاتل کو سزا دلوانے کا جنون سوار تھا۔۔۔۔۔لہذا وہ اسے سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے تھے۔ورنہ دل تو ان کا بھی کہتا تھا کہ اسکے پیچھے ماحر خان کا ہی ہاتھ ہو سکتا ہے۔۔۔

بابا مجھے پورا یقین ہے یہ اسی شخص کا ہی کام ہے چھوڑوں گی نہیں میں اسے۔۔اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے وہ مضبوط لہجے میں بولی۔۔۔۔۔عبدالرحمان صاحب نے اسکی ہٹ دھرمی پر زچ ہو کر بے حد ناراضگی سے اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا۔

مگر اس کا انجام کیا ہوگا تم جانتی نہیں ہو۔۔۔اگر تم اپنے باپ کو زندہ دیکھنا نہیں دیکھنا چاہتی تو شوق سے وہ کرو جو تمہارے دل میں آئے۔۔۔۔۔۔انہوں نے سرد مہری سے کہا۔۔۔۔اور پھر حیات کو مجبوراً ہتھیار ڈالنے پڑے”۔۔۔۔۔ ماحر خان کو میڈیا اور پولیس میں گھسیٹنے کے خیال کو تھپک تھپک کر سلانا پڑا۔۔۔۔۔سو وہ وقتی طور پر وہ چپ ہو گئی تھی۔۔۔ورنہ دل اس کا خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔۔۔۔۔ماحر خان کو پھانسی کے تختے پر دیکھنے کی خواہشمند تھی وہ۔۔مگر عبدالرحمان صاحب کی ایموشنلی بلیک میلنگ نے اسے اپنے قدم اٹھانے سے پہلے ہی روک لینے پر مجبور کر دیا تھا۔ اسوقت وہ اپنے کمرے میں بیٹھی موبائل پر ارتضیٰ کی آئی ڈی میں سے اسکی تصویریں نکال کر دیکھ رہی تھی کہ امینہ نے آ کر اطلاع دی ڈرائنگ روم میں عبدالرحمان صاحب اسے بلا رہے ہیں۔۔۔۔ موبائل رکھ کر وہ آنسو پونچھتی ڈرائنگ روم میں چلی آئی سامنے ہی عبدالرحمان کے ساتھ فارس بھائی بیٹھے ہوئے تھے حیات نے انہیں آہستہ سے سلام کیا اور عبدالرحمان صاحب کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔۔

فارس اور فضا جا رہے ہیں ہمیشہ کیلئے یہاں سے۔۔۔وہ جو سر جھکائے بیٹھے فارس بھائی کے بولنے کی منتظر تھی عبدالرحمان صاحب کی بات پر اسے شاک لگا”وہ بے یقینی سے فارس بھائی کی طرف دیکھنے لگی جو اسکے اسطرح دیکھنے پر شرمندہ سے انداز میں نظریں چرا گئے تھے۔

بابا کیا کہہ رہے ہیں فارس بھائی آپ لوگ واقعی۔۔۔دکھ کے مارے اسکی آواز ہی بھرا گئی۔۔

مجبوری ہے بہنا فضا اب یہاں رہنے پر راضی نہیں حسن کی یادیں بکھری پڑی ہیں یہاں۔۔وہ افسردہ لہجے میں کہہ رہے تھے”

وقت بدل جائے تو انسان بھی بدل جاتے ہیں۔۔کل تک اسے بہنوں کی طرح پیار کرنے والی فضا آج اس سے بات تک نہیں کرنا چاہتی تھی۔حیات کے پاس شکوہ کرنے کا حق نہیں تھا اب۔کیونکہ فضا اسے اپنے بھائی کی مجرم سمجھتی تھی۔اس سے ملنا بات کرنا تو دور اب وہ حیات کی شکل دیکھنے کی بھی روا دار نہیں تھی۔حالانکہ کے ایک وقت تھا اسی شکل کو وہ چاند سے تشبیہ دیتی اسے اپنے بھائی کی زندگی میں لانے کیلئے بے قرار تھی۔بھائی نہیں رہا تھا تو اسے حیات عبدالرحمان کی شکل سے بھی نفرت ہو گئی تھی۔

کب جانا ہے اور ہم سے ملنے تو آئیں گے نا۔۔۔؟؟مضحمل چہرے پر نمی چمکنے لگی۔

ابھی دو گھنٹے بعد کی فلائٹ ہے اور میں ملنے ہی آیا ہوں۔۔۔۔۔وہ دھیمے لہجے میں بولے۔۔بخوبی نظر آ رہا تھا کہ وہ فضا کے اس طرح کے رویے پر انکے آگے شرمندہ تھے۔۔”

دو گھنٹے بعد ہمیشہ ہمیشہ کیلئے آپ لوگ پاکستان چھوڑ کر جا رہے اور ہمیں اب بتا رہے۔۔۔وہ شکوے بھری نظروں سے انہیں دیکھتے ہوئے بولی۔لہجے میں درد و رنج نمایاں تھا”

بس اچانک فیصلہ کرنا پڑا۔۔۔پھر سب کچھ جلدی میں ہوا۔۔۔بزنس سمیٹنے گھر سیل کرنے میں اتنا بزی تھا کہ آپ لوگوں کو جلدی نا بتا سکا”وہ شرمندہ سے لہجے میں وضاحت دے رہا تھا”

عبدالرحمان اس دوران بالکل خاموش بیٹھے ہوئے تھے۔

کوئی بات نہیں ویسے بھی اب ہم سے کونسا رشتہ رہا آپ لوگوں کا جو ہماری پروا کرتے۔۔پہلے بتاتے۔۔۔۔۔۔فضا بھابھی تو شائد میری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی اب۔۔اللّٰہُ جانتا ہے فارس بھائی اگر مجھے ذرا سا بھی اندازہ ہوتا کہ مجھ سے رشتہ جڑتے ہی ارتضیٰ کی جان چلی جائے گی تو میں کبھی اس رشتے کیلئے ہاں نا کرتی۔۔۔۔۔۔۔۔وہ سسکنے لگی”

اسکی آنکھیں آنسوؤں سے دھنلا رہی تھیں۔۔چہرہ بھیگ رہا تھا”

بیٹی کو سسکتا دیکھ کر عبدالرحمان صاحب کی آنکھوں میں بھی نمی چمکنے لگی۔۔۔

فارس بھائی تڑپ کر اس کے پاس آئے۔اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر بولے اللّٰہ گواہ ہے حیات تم مجھے ہمیشہ سگی

بہن کی طرح عزیز رہی ہو۔۔ میں جانتا ہوں حسن کی موت کا جتنا دکھ ہمیں ہے اس سے کہیں زیادہ تمہیں ہے۔۔۔تم ایسی باتیں مت کرو۔۔۔۔۔مجھے فضا کے تم سے رکھے گئے رویے کا احساس ہے اور بہت افسوس ہے۔تمہارا اس میں کوئی قصور نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے اسے سمجھانے کی بہت کوشش کی مگر وہ ابھی صدمے میں ہے میری کوئی بات نہیں سن رہی۔۔۔۔آئی ایم سو سوری۔۔فضا کے رویے کی میں تم سے معافی مانگتا ہوں۔بھیگی نگاہوں کے ساتھ وہ نادم ہو کر کہہ رہے تھے”

کمرے میں موجود تینوں نفوس اب بے آواز رو رہے تھے”

آپ معافی مت مانگیں بھائی مجھے فضا بھابھی کے رویے کا گلہ نہیں ہے لیکن کیا وہ جانے سے پہلے ملنےآئیں گی ہم سے۔۔۔۔؟؟رو کر دل ہلکا ہوا تو بھیگی پلکوں والی نیلی آنکھوں میں امید لئیے اس نے سوال کیا جواباً فارس ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گیا جس کا مطلب وہ بخوبی سمجھ گئی تھی”

آپ ان سے کہیے گا کہ مجھے معاف کر دیں۔۔۔۔۔۔ کچھ لمحے کے توقف کے بعد وہ بولی۔ اور بھرائی ہوئی آواز میں انہیں خدا حافظ کہتی ہوئی ڈرائنگ روم سے نکل گئی۔۔۔۔۔۔

یہ شہر خموشاں تھا۔ تازہ بنی ہوئی مگر کچی قبر کے پاس پچھلے آدھے گھنٹے سے بیٹھی وہ تلاوت کر رہی تھی۔۔آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں جاری تھیں۔۔کچھ فاصلے پر ایک درخت کے نیچے ڈرائیور اسکے انتظار میں مؤدب کھڑا تھا۔تلاوت ختم کرنے کے بعد اس نے قرآن پاک کو گود میں رکھا اور قبر پر اپنا ہاتھ رکھ کر عذاب قبر ہٹا لینے والا درود پڑھنے لگی۔۔اسکے آنسو قبر کی مٹی پر گر رہے تھے۔۔منوں مٹی تلے اس کا محبوب شوہر سو رہا تھا جس کی ایک دن کی رفاقت بھی اسکے نصیب میں نہیں تھی۔۔درود پڑھنے کے بعد تمام اہل قبور کی بخشش کی دعا مانگ کر وہ چادر سنبھالتی اٹھ کھڑی ہوئی ایک حسرت بھری نگاہ مٹی کے ڈھیر پر ڈال کر وہ سست قدموں سے واپسی کے لئیے چلنے لگی۔

اسے آتا دیکھ کر ڈرائیور بھی قبرستان سے باہر کھڑی گاڑی کی طرف بڑھ گیا اور اسکے لئیے پچھلا دروازہ کھولا۔حیات کے بیٹھتے ہی گاڑی آگے بڑھ گئی۔ اس نے گردن موڑ کر پچھلی ونڈو سے ایک بار پھر خاموش ویران قبرستان کی طرف دیکھا۔گہری سانس لے کر سر سیٹ کی پشت سے ٹکا دیا اور آنکھیں موند لیں۔۔ایک ایسا درد ملا تھا اسے جس کا کوئی علاج ہی نہیں تھا۔۔رہ رہ کر اسکی یاد آتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔” ارتضیٰ حسن کی خوبصورت سرگوشیاں اسے چین نہیں لینے دیتی تھیں

کبھی وہ پھوٹ پھوٹ کر اونچی آواز میں روتی اور کبھی بے آواز آنسو بہاتی۔۔۔۔۔۔۔اسوقت بھی وہ آنکھیں موندے بے آواز رو رہی تھی جب ڈرائیور کی آواز پر چونکی۔۔۔

بی بی جی۔۔۔گھر آ گیا۔۔۔۔ڈرائیور کی آواز اسے ماضی میں حال سے لے آئی۔۔۔۔کب گھر آیا اسے پتہ ہی نہیں چلا”۔۔۔۔۔۔۔چادر کے پلو سے آنسو صاف کرتے ہوئے وہ

گاڑی سے اتری اور اندر کی طرف بڑھی۔۔ارادہ سیدھا اپنے بیڈروم میں جانے کا تھا کیونکہ اس وقت کسی سے بات کرنے کو دل نہیں چاہ رہا تھا۔۔۔۔۔وہ باہر والے دروازے سے سیدھی بیڈروم میں جانا ہی چاہتی تھی کہ ڈرائنگ روم سے آتی باتوں کی آواز سن کر قدم خود بخود ڈرائنگ روم کی جانب بڑھ گئے۔۔۔۔اندر داخل ہوئی تو بری طرح چونک گئی۔۔۔

عبدالرحمان صاحب کا رخ دروازے کی جانب تھا۔جبکہ انکے سامنے بیٹھے شخص کی دروازے کی طرف پشت تھی۔۔اسکے چونکنے کی وجہ اس شخص کے بائیں جانب کھڑا باوردی گارڈ تھا جسکے ہاتھ میں گن تھی”

عبدالرحمان صاحب کی نظر اس پر پڑی حیات نے دیکھا ان کے چہرے کا رنگ متغیر تھا۔۔

اس شخص نے بھی عبدالرحمان صاحب کی نظروں کے تعاقب میں مڑ کر دیکھا۔۔۔ حیات ششدر رہ گئی۔۔۔اگلے ہی پل جارحانہ انداز میں آگے بڑھی۔۔۔۔

تم۔۔ تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی گھٹیا کمینے ذلیل انسان وہ چیخ کر دونوں ہاتھوں سے اس پر حملہ آور ہونے ہی لگی تھی کہ عبدالرحمان صاحب نے فوراً آگے بڑھ کر اسے پکڑ لیا”

چھوڑیں بابا مجھے چھوڑیں۔۔۔میں اس ذلیل انسان کو زندہ نہیں چھوڑوں گی اس نے ارتضیٰ کو مارا ہے۔۔۔جان لی ہے اس نے ارتضیٰ کی۔

غصے اشتعال جوش غضب س وہ تھر تھر کانپ رہی تھی۔خوبصورت آنکھیں شعلے برسانے لگی تھیں۔۔۔۔۔۔حسین چہرے کی رنگت متغیر تھا۔۔۔”

سٹاپ اٹ حیات۔۔۔وہ ارتضیٰ کی ڈیتھ کیلئے تعزیت کرنے آیا ہے۔۔۔وہ شدید اشتعال بھرے انداز میں پھر سے آگے بڑھنا چاہتی تھی کہ عبدالرحمان صاحب کی غصے بھری آواز سن کر رک گئی اور آنسوؤں سے تر نفرت اور غصے بھری نگاہوں سے ماحر خان کو گھورنے لگی جو سپاٹ چہرے کے ساتھ کھڑا تھا”

حیات کی گالیوں پر ماحر خان کا چہرہ قندھاری انار کی مانند سرخ ہو گیا۔۔۔۔۔وہ اپنے جنون و اشتعال کو بمشکل قابو میں کیے ہوئے تھا۔پیشانی کی رگیں ابھر آئی تھیں۔۔اسکی سنجیدہ سرد نگاہیں حیات پر ہی ٹکی ہوئی تھیں جو اسوقت شدید غم و غصّے میں بپھری ہوئی شیرنی لگ رہی تھی۔

تعزیت۔۔۔خود ہی مار کر خود ہی تعزیت کرنے آیا ہے یہ گھٹیا انسان۔۔۔وہ ہذیانی انداز میں چیخ کر بولی

حیات بی ہیو یور سیلف۔ گھر آئے مہمانوں کی انسلٹ نہیں کرتے۔۔عبدالرحمان صاحب نے ماحر خان کے سرخ چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے گھبرا کر اسے ڈپٹا”

مہمان۔۔۔آپ ایک قاتل کو مہمان بول رہے ہیں بابا۔۔اس نے افسوس بھری نظروں سے اپنے باپ کو دیکھا۔۔۔۔

میں نے آپ کے داماد کا مرڈر نہیں کروایا عبدالرحمان صاحب۔اگر مجھے ایسا کچھ کرنا ہوتا تو بہت پہلے کر چکا ہوتا اس کیلئے مجھے آپ کی بیٹی کی شادی کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔۔مجھے اپنی پچھلی تمام غلطیوں پر گلٹ تھا اس لئیے تعزیت کرنے چلا آیا ۔اس نے سرد لہجے میں کہتے ہوئے کڑی نگاہوں سے حیات عبدالرحمان کی طرف دیکھا جو شدید غم و غصّے اور نفرت بھری نگاہوں سے اسے ہی گھور رہی تھی”

ماحر خان کو وہ کوئی شدید صدمے سے ہوش کھو دینے والی مینٹل حسینہ لگ رہی تھی”

تمہاری ہم سے ایسی کونسی رشتہ داری ہے یا ہم کونسا تمہارے سٹیٹس کے لوگ ہیں جو تم تعزیت کرنے چلے آئے۔ اگر گلٹ تھا تو معافی نامہ تو بھیج دیا تھا پھر اپنے ناپاک قدم ہمارے گھر میں رکھنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔وہ عبدالرحمان صاحب کی آنکھوں ہی آنکھوں میں کی جانے والی تنبیہہ کو نظر انداز کر کے بپھرے ہوئے لہجے میں دانت بھینچ کر خونخوار انداز میں غرائی۔۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کچھ فاصلے پر کھڑے اس شخص کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے جو اسکے محبوب شوہر کو مارنے کے بعد کس قدر دیدہ دلیری سے اسکے گھر میں اسکے سامنے کھڑا تھا۔۔وہ ایسا کرنے کی کوشش ضرور کرتی اگر بابا کا ڈر نا ہوتا تو۔ ارتضیٰ کی موت نے اسے بہادر بنا دیا تھا اب اسے نفع نقصان کی کوئی پروا نہیں تھی وہ صرف اور صرف اسکے ناحق خون کا بدلہ لینا چاہتی تھی۔۔۔

انف از انف۔۔۔۔۔۔۔وہ آگ بگولہ ہوا اور خون آشام نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے عبدالرحمان سے مخاطب ہوا

اوکے عبدالرحمان صاحب میں چلتا ہوں آپکی بیٹی شائد صدمے سے پاگل ہو چکی ہے کسی سائیکاٹرسٹ سے اس کا علاج کروائیں۔۔۔بگڑے تیوروں کے ساتھ کڑے لہجے میں کہتے گارڈ کو اشارہ کر کے وہ ایک سخت نظر حیات پر ڈال کر باہر جانے لگا تو اس کی آواز سن کر رک گیا”

دوبارہ یہاں آنے کی غلطی مت کرنا اگر بابا نا روکتے تو میں تمہارا یہ گھناؤنا خونی چہرہ پوری دنیا کو دکھا چکی ہوتی اور تمہیں پھانسی کے پھندے پر لٹکا کر دم لیتی۔۔وہ بے حد نفرت بھرے انداز میں کہہ رہی تھی”

وہ رکا۔۔۔پھر اسکی طرف پلٹ کر بے حد طنزیہ انداز میں مسکرایا۔۔۔۔تم باپ بیٹی نے میڈیا میں جا کر پہلے کونسا تیر مار لیا جو اب مار لیتی۔۔۔رہی بات پھانسی کی تو کسی بھول میں مت رہنا اس ملک کی عدالت تک کو خریدنے کی استطاعت رکھتا ہے ماحر سکندر خان لہذا مجھ سے ٹکرانے کی غلطی مت کرنا ورنہ اگلی بار اس سے بھی بڑا نقصان اٹھاؤ گی”۔۔۔۔۔۔۔۔انگلی اٹھا کر اسےوارننگ دیتا وہ رکا نہیں ایک نظر اسکے دہکتے ہوئے چہرے پر ڈال کر باہر نکل گیا”

بابا آپ نے اس خونی کو گھر میں داخل کیوں ہونے دیا۔۔اسکے جانے کے بعد وہ سخت احتجاج بھرے انداز میں پریشان کھڑے عبدالرحمان صاحب سے مخاطب ہوئی۔۔۔

رحمت بوا اس لڑکی کو سمجھاؤ۔۔۔خود سے اونچے لوگوں کے ساتھ مقابلہ کر کے یہ مجھے برباد کر کے چھوڑے گی۔۔۔انہوں نے بے بس لہجے میں ڈرائنگ روم میں داخل ہوتی رحمت بوا سے کہا اور ایک افسوس بھری نظر اس پر ڈال کر وہاں سے چلے گئے۔۔۔۔

بوا دیکھیں کیا ہو گیا ہے بابا کو اب مجھے ڈانٹنے لگے ہیں پہلے تو کبھی ہلکا سا بھی ڈانٹا تھا۔۔وہ رحمت بوا کے گلے لگ کر روتے ہوئے بولی۔۔

بیٹا آپ غلط کر رہی ہو۔۔وہ آپکے بابا اگر وہ آپ کو کسی کام سے روک رہے ہیں تو اس کا یہی مطلب ہوا نا کہ وہ کام آپ کیلئے صحیح نہیں ہوگا۔۔۔وہ اسے دھیرے دھیرے سمجھا رہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔وہ کافی دیر تک وہیں بیٹھی روتی رہی اور رحمت بوا اسے چپ کراتی رہیں”

حیات بی بی کوئی عورت آپ سے باہر ملنے آئی ہے۔۔اسی وقت امینہ نے آ کر کہا۔۔۔۔

کہاں ہے۔۔۔۔؟؟حیات جو صوفے پر رحمت بوا کی گود میں سر رکھے سسک رہی تھی۔ملازمہ کی بات سن کر اٹھ بیٹھی”رونے کی وجہ سے چہرہ مکمل سرخ اور آواز بھی بھاری ہو رہی تھی۔

وہ جی ابھی گیٹ پر ہی کھڑی ہے سرور نے اس کو اندر نہیں آنے دیا۔کہا ہے پہلے آپ سے پوچھ آؤں۔

آپ یہیں رکیں بوا میں دیکھ کر آتی ہوں۔۔وہ اپنی آنکھوں کو رگڑتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔گیٹ پر پہنچی تو پینٹ شرٹ میں ملبوس ایک ماڈرن عورت کھڑی تھی جسکے چھوٹے چھوٹے بال شانوں تک کٹے ہوئے تھے اور چہرے پر چشمہ لگا ہوا تھا۔۔۔۔

آپ حیات عبدالرحمان ہیں۔۔۔؟وہ عورت اسے دیکھتے ہی بولی

جی ہاں۔۔۔۔۔لیکن آپ کون ہیں اور مجھ سے کیوں ملنا چاہتی ہیں۔۔۔۔وہ بے تاثر انداز میں اسے دیکھتے ہوئے بولی

مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے کیا ہم کہیں بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں۔۔۔؟؟وہ عورت ادھر ادھر دیکھتے ہوئے گویا ہوئی

آئیے۔۔۔چند لمحے سوچنے کے بعد حیات نے اسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔گیٹ کے قریب ہی واقع انیکسی کے گیسٹ روم میں وہ اسے لے گئی۔۔۔”

اب بتائیے آپ کون ہیں اور مجھ سے کیا بات کرنی ہے جب وہ عورت صوفے پر بیٹھ گئی تو حیات نے اس سے پوچھا۔۔

میں ایک نیوز چینل چلاتی ہوں میرا نام ثوبیہ انجم ہے۔مجھے پتہ چلا تھا کچھ عرصہ پہلے آپ کے شوہر کا آپ کی شادی والے دن ہی مرڈر ہو گیا تھا اور کس نے مرڈر کیا یہ آپ جانتی ہیں اور مجھے بھی معلوم ہے کہ کس نے کیا ہے ایسا۔۔۔وہ بات کرتے کرتے رک کر اس کو بغور دیکھنے لگی جسکے چہرے کا رنگ اسکی بات سن کر بدل گیا تھا”

کس نے کیا ہے۔۔۔؟؟اسکے منہ سے سر سراتی ہوئی آواز نکلی۔۔۔

وہی جس نے کچھ عرصہ پہلے آپ کو کڈنیپ کیا جسکی کال ریکارڈنگز آپ نے وائرل کیں میڈیا میں بہت چرچا ہوا تھا۔۔۔وہ معنی خیز انداز میں بولی

حیات خالی خالی نظروں سے اسے دیکھتی رہی سمجھ میں نہیں آیا کہ اسکی بات کو جھٹلا دے یا نہیں”

آپ کی خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو کچھ میں نے کہا ہے وہ سچ ہے۔۔وہ عورت پر یقین لہجے میں بولی

سچ ہو یا جھوٹ آپ کا اس معاملے سے کیا تعلق جو آپ یہاں آئیں۔۔۔۔؟اس کی بات سن کر اس نے روکھے لہجے میں کہا”وہ عورت اسے کسی گیم کا حصہ لگی

دیکھیں مس حیات مجھے پتہ ہے آپ کا بہت بڑا نقصان ہوا ہے اتنا چاہنے والا شوہر کھویا ہے آپ نے۔۔۔۔ یقیناً آپ اسکے قاتل کو سخت سے سخت سزا دلوانے کی خواہش رکھتی ہونگی۔۔۔۔۔۔۔میں نہیں جانتی کیا وجہ ہے آپ کی اس خاموشی کی۔۔۔۔لیکن جہاں تک میرا اندازہ ہے آپ اس سے ڈرتی ہیں اسی لئیے چپ ہیں لیکن اگر آپ ایسے چپ رہیں گی تو قاتل اپنے انجام کو کیسے پہنچے گا۔۔ظلم کے خلاف آواز نا اٹھانا بھی ظلم ہے۔۔وہ عورت اپنی چرب زبانی سے اسے قائل کرنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن حیات کو سمجھ نہیں آیا کہ اس کا اس سب سے کیا تعلق اور وہ کیوں ہمدردی دکھا رہی تھی”

ایک منٹ۔۔۔آپ چاہتی کیا ہیں مجھے اب تک یہ سمجھ میں نہیں آیا۔۔۔؟؟حیات اسے مشکوک نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔۔

میرا چینل ایسے کیسز کو ہائی لائٹ کرتا ہے جہاں وکٹم مظلوم ہو۔۔۔۔۔ہم ایک پروگرام کرتے ہیں جس کا نام ہے آئیں ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں۔۔۔۔ہم مظلوم کا مکمل ساتھ دیتے ہیں اس کو انصاف دلانے میں۔۔۔چاہے ظلم کرنے والا کتنا ہی طاقتور کیوں نا ہو۔۔۔۔میں چاہتی ہوں آپ میرے چینل پر کیمرے کے سامنے آ کر ماحر خان کے خلاف بیان دیں کہ آپ کے ہزبینڈ کا مرڈر اسی نے کیا ہے۔میرا وعدہ ہے ہم آپ کا مکمل ساتھ دیں گے آپ کو انصاف دلانے میں”وہ عورت ہمدرادنہ لہجے میں اسے یقین دلاتے ہوئے بولی”

انصاف۔۔۔انصاف تو وہ چاہتی تھی”مگر یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔ملک کی عدالتوں کے قانون کا اسے پتہ تھا بااثر افراد کو کبھی سزا نہیں ہوتی۔۔۔۔الٹا اسی کا نقصان ہو جاتا تھا جو پہلے ہی ظلم کا شکار ہو چکا ہوتا تھا”

اس عورت کی پیشکش پر وہ کچھ دیر اسے جانچتی ہوئی نظروں سے دیکھتی رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”کہیں یہ عورت کسی کا بھیجا ہوا مہرہ نا ہو مجھے ایسے کسی کی باتوں میں نہیں آنا چاہیے۔بابا کو پتہ چلا تو وہ ناراض ہوں گے۔۔۔۔۔۔مجھے اس کو انکار ہی کر دینا چاہیے”

مجھے نہیں پتہ کہ میرے ہزبینڈ کا مرڈر کس نے کیا ہے میں ایسے کسی کے خلاف سٹیٹمنٹ نہیں دے سکتی۔۔خشک لہجے کہتی وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ اب آپ تشریف لے جائیں۔۔۔

آپ شائد مجھ پہ ٹرسٹ نہیں کر رہیں۔۔ورنہ مجھے پتہ ہے آپ قاتل سے اچھی طرح واقف ہیں۔۔بہرحال کوئی بات نہیں آپ اچھی طرح سوچ لیجئے میرے چینل سچ نیوز پر ہمارا پروگرام دیکھئے..ہر روز شام کو سات بجے لگتا ہے۔۔۔میں اپنا کارڈ چھوڑ کر جا رہی ہوں۔۔۔۔اگر آپ اپنے شوہر کے قاتل کو سزا ملتے دیکھنا چاہتی ہیں تو مجھ سے کنٹیکٹ کر لیجیے گا۔۔۔۔۔”ورنہ جیسے آپکی مرضی۔۔۔۔۔وہ اپنا کارڈ ٹیبل پر رکھ کر باہر نکل گئی۔۔حیات کچھ لمحے سوچتی رہی اور پھر ٹیبل پر رکھا کارڈ اٹھا لیا”

تمہاری شوٹنگ کیسی رہی۔۔۔۔۔۔؟؟وہ جم کے لئیے نکلنے ہی والا تھا کہ علی کاظمی اسکے پاس چلا آیا۔۔ماحر نے جم جانے کا ارادہ ملتوی کیا اور اسکے ساتھ کافی پینے ایک معروف ریسٹورنٹ چلا آیا۔۔

شوٹنگ اچھی رہی تھی لیکن ہیروئن مجھے ذرا پسند نہیں آئی تھی۔کسی سابقہ وزیر کی بھانجی تھی اس لئیے واجد بھائی کو اسے کاسٹ کرنا پڑا۔۔وہ منہ بنا کر بولا۔

اوہو مطلب تمہارے معیار پر پوری نہیں اتری۔۔۔علی کاظمی نے معنی خیز انداز میں کہا”

نہیں یار میں اس حوالے سے بات نہیں کر رہا۔۔نا تو اسے ڈھنگ سے ایکٹنگ کرنا آ رہی تھی نا ڈائیلاگز صحیح سے بول پاتی تھی اسکی وجہ سے بار بار ری ٹیک کرنا پڑتا۔۔یقین کرو رونے تک کا سین نہیں ہو رہا تھا اس سے ایکسپریشنز اتنے فضول دیتی تھی کہ کئی بار میرا جی چاہا کہ اس کا گلہ دبا دوں۔۔۔وہ سخت کڑوے لہجے میں بولا۔۔۔علی کاظمی ہنس پڑا۔۔۔۔۔شکر ہے تم نے ایسا نہیں کیا ورنہ دو قتل تمہارے کھاتے میں آ جاتے۔۔۔۔

لفظ دو قتل پر ماحر نے اسے سخت نظروں سے گھورا۔۔

۔سوری سوری یار مذاق کر رہا تھا”۔۔۔۔اس نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا۔۔۔

جو ہوا بہت غلط ہوا میں ایسا نہیں چاہتا تھا”۔۔۔۔وہ مجھے قاتل سمجھ رہی ہے اس دن اسکے گھر گیا تھا بہت برا ری ایکٹ کیا اس نے۔۔اسکی نگاہوں میں حیات عبدالرحمان کا اس دن والا بپھری شیرنی والا روپ جھلملایا”

ہاں مجھے بھی افسوس ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے تھے۔لیکن دیکھا جائے تو ایک طرح سے اچھا ہوا تمہارا راستہ صاف ہو گیا۔۔۔۔”کافی کا سپ لیتے ہوئے مزے سے بولا

لیکن اس کا دل تو صاف نہیں ہوا نا۔۔۔۔صرف راستہ ہی صاف ہوا ہے۔۔۔وہ سپاٹ لہجے میں بولا

تم اس سے اکیلے میں ملو اور اسے سمجھاؤ کے اس کے ہزبینڈ کو تم نے نہیں مارا۔۔۔ویسے تم اسے صرف پانا ہی چاہتے ہو نا۔۔۔۔؟؟

نہیں میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔وہ کافی کا کپ اٹھاتے ہوئے بولا۔

کیا کرو گے شادی کر کے یار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم شوبز والوں کی شادیاں کتنے عرصے چلتی ہیں۔۔سب جانتے ہیں۔۔۔علی کاظمی ہنسا”

مجھے نہیں پتہ کتنا عرصہ چلے گی لیکن کرنی بہرحال شادی ہی ہے۔۔۔کافی کا کپ ٹیبل پر رکھ کر اس نے فائنل انداز میں کہا۔۔۔۔انداز بہت ہر اعتماد اور اٹل تھا”

ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی۔۔ کرو اسے ایگری پھر۔۔علی کاظمی نے کندھے اچکائے۔۔

شوٹنگ کی ڈیٹ فکس کر لی ہیں تم نے۔۔۔؟کچھ توقف کے بعد ماحر نے اس سے پوچھا”

نہیں یار ایک پرابلم ہو گئی ہے۔۔۔

کیسی پرابلم۔۔۔؟؟

کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد پریشانی سے گویا ہوا۔جس ماڈل نے البم میں کام کرنا تھا وہ ایڈوانس لے کر ایک معروف ایڈورٹائزنگ کی جانب سے دوبئی چلی گئی ہے۔اب اسے وہاں طویل عرصہ لگ جائے گا جب تک اسکی واپسی ہوگی میرے سونگز البم کی ویلیو مارکیٹ ڈاؤن ہو جائے گی۔اس ماڈل کو لمبی رقم دی ہے اب میرے پاس دوسری ماڈل کو بک کرنے کیلئے پیسہ نہیں ہے کیونکہ آلریڈی دو مزید البم پر لگا چکا ہوں۔۔۔۔

اور وہ جو کچھ عرصہ پہلے اپنے ہٹ البم سے کروڑوں کمایا تھا تم نے وہ کہاں گیا۔۔۔۔؟؟ماحر نے حیرانی سے پوچھا”

اس کا میں نے امریکہ میں ایک فلیٹ لے لیا تھا۔۔۔۔تم جانتے تو ہو کس قدر مہنگے فلیٹس ہیں وہاں۔۔البم کا سارا پیسہ لگ گیا وہاں۔۔۔وہ افسوس بھرے انداز میں بولا

تو تم اپنے ڈیڈی سے کیوں نے لے لیتے۔۔۔ماحر نے کافی پیتے ہوئے اطمینان سے مشورہ دیا”

ڈیڈی مجھے صاف انکار کر چکے ہیں۔۔۔۔وہ منہ لٹکا کر بولا

تو پھر اس سے ایڈوانس واپس لینا تھا نا اسطرح کیوں جانے دیا۔۔۔

یار تم جانتے تو ہو اس فیلڈ کے لوگوں کو۔۔۔۔۔۔جتنی گلیمرائز ان لوگوں کی پرسنالٹیز ہوتی ہیں اسی قدر ہی فراڈ اور کرپٹ حرکتیں ہوتی ہیں ان کی۔مجھے بتائے بنا ہی وہ محترمہ فلائی کر گئی تھی۔

اچھا مجھ سے لے لینا۔۔۔۔اس نے آفر کی۔۔علی کاظمی نے مشکور نگاہوں سے اسے دیکھا”

سر پلیز ایک سیلفی لینی ہے آپ کے ساتھ۔۔۔اسی وقت ایک لڑکا اور ایک لڑکی انکے پاس آ کر بولے۔۔۔۔۔”

وہ دونوں اپنی طرف سے تو ایسے حلیے میں آئے تھے کہ پہلی نظر میں کوئی پہچان نا سکے۔۔لیکن انکی تمام احتیاط رائگاں گئی۔تھوڑی ہی دیر میں لوگوں کا ہجوم جمع ہو چکا تھا انکے ساتھ تصویریں بنوانے کیلئے۔۔۔

عبدالرحمان صاحب کی ناراضگی کی وجہ سے اسے اپنا پڑھائی چھوڑنے کا فیصلہ بدلنا پڑا۔۔آج پورے چھبیس دن بعد وہ یونیورسٹی جا رہی تھی۔ان کی ناراضگی کا خیال نا ہوتا تو وہ دوبارہ یونیورسٹی کبھی نا جاتی۔یونی میں ارتضیٰ حسن کی یادیں بکھری ہوئی تھیں۔وہ جانتی تھی کہ چاہ کے بھی اب سٹڈی پر (Concentrate) نہیں کر پائے گی۔۔بے حد اداس دل کے ساتھ وہ یونی کیلئے جا رہی تھی۔وہی کلاس روم ہوگا وہی سٹوڈنٹس ہونگے وہی پڑھائی ہو گی لیکن پڑھانے والا ارتضیٰ حسن نہیں ہو گا بے ساختہ اسکی آنکھیں بھیگنے لگیں۔۔۔اچانک جھٹکے سے گاڑی رکی تو وہ اپنے خیالات سے واپس آئی۔۔چونک کر آگے دیکھا جہاں ڈرائیور گھبرایا ہوا کسی سے فون پر بات کر رہا تھا۔گھبراؤ مت میں آ رہا ہوں بس۔وہ کسی سے اونچی آواز میں کہہ رہا تھا”

کیا ہوا۔۔۔؟؟جیسے ہی اس نے فون بند کیا حیات نے فوراً پوچھا”

بی بی جی۔۔۔میری بیوی کی طبیعت سخت خراب ہے”بچہ ہونے والا ہے اور وہ گھر میں بالکل اکیلی ہے مجھے فوری طور پر اسے ہسپتال لے کر جانا ہے آپ کا بہت بڑا احسان ہوگا بی بی جی اگر آپ اجازت دیں میں اسی گاڑی میں پہلے اس کو ہسپتال لے جاؤں پھر آپ کو یونیورسٹی چھوڑ دوں گا۔ وہ سخت پریشان لگ رہا تھا پھر جس طرح اس نے منت بھرے انداز میں اس سے التجاء کی اس کا دل فوراً پسیج گیا کیونکہ وہ تو تھی ہی نرم دل۔۔۔

ٹھیک ہے کہاں ہے تمہارا گھر۔۔۔۔؟؟

یہ یہاں آگے ہی تھوڑے سے فاصلے پر ہے۔۔۔

ٹھیک ہے پھر جلدی چلو۔۔۔ڈرائیور نے جلدی سے گاڑی اسٹارٹ کر دی۔۔پانچ منٹ بعد ہی اس نے جس رہائشی بلڈنگ کے سامنے گاڑی روکی حیات کو قدرے حیرانی ہوئی کیونکہ وہ بلڈنگ مہنگے ایریا میں تھی اس میں موجود تمام فلیٹس نہایت ہی مہنگے تھے جنہیں خریدنا یا رینٹ پر لینا کم از کم ایک ڈرائیور تو افورڈ نہیں کر سکتا تھا”مگر فلحال سچویشن ایسی تھی کہ اس نے سوال کرنا مناسب نہیں سمجھا”

بی بی جی اگر آپ میری تھوڑی سی اور مدد کر دیں تو آپ یہ احسان زندگی بھر نہیں بھولوں گا۔۔۔ میرا فلیٹ چوتھی منزل پر ہے۔۔۔۔۔اور جس حالت میں وہ ہے میں اکیلا اسے نہیں سنبھال سکوں گا آپ مہربانی فرما کر میرے ساتھ آئیں اور اسے گاڑی تک لانے میں میری مدد کریں۔۔۔۔۔وہ بیٹھی ہوئی تھی جب ڈرائیور اگلی سیٹ کا دروازہ کھول کر نیچے اترا اور اس سے ایک بار پھر التجا کی۔۔

چلو۔۔۔۔۔بادل نخواستہ وہ اس مدد پر بھی تیار ہو گئی۔ورنہ ایک انجان آدمی کے ساتھ کسی فلیٹ میں جانے کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔مگر اسکی بیوی کی زندگی کا سوال تھا”سو وہ چلی آئی۔۔

تھرڈ فلور فلیٹ نمبر تھری پر وہ اسکے ساتھ کھڑی تھی

پہلی بیل پر ہی آٹو میٹک ڈور کھل گیا۔وہ اپنا گلابی ڈوپٹہ درست کرتی ڈرائیور کے پیچھے اندر چلی آئی۔یہاں تو بہت خاموشی ہے۔کہاں ہے تمہاری بیوی۔۔۔؟اس نے فل فرنشڈ اے سی روم کا جائزہ لیتے ہوئے کہا”کمرہ خوش ذوقی و امارت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔۔۔۔۔جہاں ڈیکوریٹڈ تمام اشیا امپورٹڈ تھیں۔اسے سخت حیرت ہو رہی تھی کہ ایک معمولی سا ڈرائیور اس مہنگے فلیٹ میں رہتا ہے۔

کہاں ہے تمہاری بیوی۔۔۔؟جواب نا ملنے پر دوبارہ سے سوال کرتے ہوئے پیچھے مڑ کر وہ ڈرائیور سے مخاطب ہوئی اور چکرا گئی۔ڈرائیور نا معلوم کس لمحے غائب ہوا تھا اسے احساس بھی نہیں ہو سکا تھا”

وہ گھبرا کر وحشت زدہ سی دروازے کی طرف بڑھی۔اسی دم درمیانی دروازہ کھول کر جو شخص اندر آیا

اسے دیکھ کر وہ سکتے کی کیفیت میں مبتلا ہو گئی تھی۔سرخ چہرہ۔۔بکھرے بال۔۔۔لہو رنگ آنکھیں وہ شخص اسے اپنے حواسوں سے بیگانہ محسوس ہوا۔

ماحر خان نے کھٹاک سے اندرونی دروازہ لاک کر لیا۔