171.9K
78

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Hayat (Episode 01)

Meri Hayat By Zarish Hussain

رات کا آ خری پہر چل رہا تھا۔۔۔۔شہر کے بیچوں بیچ یہ ایک مشہور کلب تھا جسمیں اسوقت پارٹی چل رہی تھی جو کہ عروج پر تھی۔۔۔۔۔ رنگ برنگی روشنیوں سے فلور دمک رہا تھا- کاونٹر پر موجود لڑکے ہر قسم کی شراب کےپیگ بنا رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔ویٹر لڑکے ٹرے میں حواس دشمن مشروب سجا کر کلب کے لوگوں کو پیش کر رہے تھے۔۔۔۔۔اس پارٹی میں جتنے بھی لوگ اسوقت موجود تھے وہ سب بزنس سیاست اور شوبز سے وابستہ تھے۔۔۔۔۔یہ سب کے سب دولت اور طاقت کے نشے میں ڈوبے ایلیٹ کلاس کے عیاش لوگ تھا۔۔۔اس پارٹی میں جو سب کی توجہ کا مرکز تھا وہ تھا شوبز کا چمکتا دمکتا ستارہ ماحر سکندر خان”جو کہ ایک کامیاب اور مشہور ایکٹر ہونے کے ساتھہ ساتھہ کامیاب بزنس ٹائیکون بھی تھا۔۔۔۔۔اس شہرت کے پیچھے وجہ صرف اسکا مشہور ومعروف ایکٹر ہونا ہی نہیں بلکہ وہ سکینڈلز بھی تھے جنکی وجہ سے وہ ہمیشہ شہ سرخیوں میں رہتا تھا۔۔۔۔۔۔اسکی شہرت دن بدن بڑھتی جارہی تھی۔۔۔۔۔۔ اس کی زندگی کے صرف تین ہی مقصد تھے۔۔۔۔فلمیں بنانا۔۔۔۔٫پیسہ کمانا اور عیاشی کرنا۔۔۔۔ایکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک ڈائریکٹر اور پروڈیوسر بھی تھا٫٫اس کا اپنا پروڈکشن ہاؤس تھا جہاں وہ اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر بھاری بجٹ کی فلمیں بناتا اور دگنا کماتا۔۔۔۔۔۔ وہ ایک خوبصورت چھا جانے والی سحرانگیز شخصیت کا مالک تھا۔اسکے فینز میں جتنی تعداد فیمیلز کی تھی اس سے کہیں زیادہ میلز کی تھی۔۔۔۔۔

بلیک پینٹ پہ بلیک ہی کوٹ پہنے اپنی تمام تر مردانہ وجاہت کے ساتھ وہ اسوقت سٹیج سے تھوڑا دور ہاتھ میں وائن کا گلاس لئیے کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔۔جس سے تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ سپ لے رہا تھا۔۔۔۔۔۔پہلو میں نئی گرل فرینڈ مثال شیرانی کھڑی تھی جس نے حال ہی میں شوبز کی دنیا میں قدم رکھا تھا””اور پہلی فلم نے ہی اسے شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا۔۔۔۔۔اس فلم میں وہ ماحر سکندر کے ساتھ بطور ہیروئن جلوہ گر ہوئی تھی۔۔یہ بھی ماحر سکندر کی ہی مہربانی تھی۔اسی نے اسے متعارف کروایا تھا۔۔۔۔۔بیس کروڑ کے بجٹ سے بننے والی اس فلم نے ایک ہفتے میں ہی ساٹھ کروڑ کا بزنس کرلیا تھا”وہ جس لڑکی کو بھی اپنے ساتھ بطور ہیروئن کاسٹ کرتا اپنے ساتھ اسے بھی شہرت کے آسمان پر پہنچا دیتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

انڈسٹری کی بہت سی ٹاپ ہیروئنز اسکی مہربانیوں کی وجہ شوبز میں اپنے قدم کامیابی سے جما چکی تھیں””مگر وہ یہ مہربانیاں کسی پہ مفت میں نہیں کرتا تھا۔۔۔۔۔۔جس لڑکی کو بھی وہ بطور ہیروئن متعارف کرواتا اسے مکمل طور پر اپنی تحویل میں لے لیتا اور انڈسٹری کے کسی آ دمی کو اس ہیروئن کی طرف اسوقت تک آنکھ اٹھا کر بھی دیکھنے کی جرات نہ ہوتی جب تک وہ ماحر سکندر کی پناہ میں ہوتی۔۔۔۔۔ فلم کا سیٹ ہو۔۔۔۔۔۔۔ہوٹل ہو۔۔۔۔۔۔یا گھر۔۔۔۔۔۔۔۔ہر جگہ ماحر سکندر کا ایک خاص آ دمی اس ہیروئن پر نظر رکھتا اور اسکے ایک ایک پل کی رپورٹ اپنے باس کو دیتا۔۔۔اور وہ ہیروئن بھی اسکی پناہ میں تب تک رہتی جب تک ماحر سکندر کا دل نہ بھر جاتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

مزاجاً وہ ایک غصیلا اور حاکمانہ طبیعت کا مالک تھا.. جہاں بھی غصہ آ تا کسی کی پرواہ کئیے بنا وہیں پر نکال دیتا۔۔۔۔۔۔۔انڈسٹری کے بہت سے لوگ اسکے ہاتھوں پٹ چکے تھے جن میں کچھ ہیروئنز بھی شامل تھیں اسی وجہ سے ان میں سے کچھ اس سے دل ہی دل میں اس سے شدید نفرت بھی کرتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔اور کچھ لوگ اسکی شہرت سے جیلس تھے،،،،کیونکہ کئی سالوں سے وہ فلم کی دنیا میں ٹاپ پر تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسکی ہٹ فلموں کی لسٹ بہت زیادہ تھی۔۔۔۔۔۔۔ کئی لوگ اس سے ڈرتے بھی تھے تبھی اسکے مخالفت براہ راست پنگا لینے کی ہمت نہیں کرتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسکے علاؤہ وہ ایک مضبوط بیک گراؤنڈ بھی رکھتا تھا۔۔۔۔۔۔۔کئی سیاسی پارٹیوں کے بااثر افراد سے اسکی دوستی بھی تھی۔۔۔۔۔۔لیکن کوئی اگر اس سے دشمنی کرتا تو اسے بہت مہنگی پڑتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

ہر چھے مہینے بعد گرل فرینڈ بدلتا تھا جب بات شادی تک آ تی تو راستہ الگ کر لیتا تھا.. وہ صرف بہت بڑا فلرٹ تھا..یہ بات جب اس ہیروئن کو سمجھ آ تی تو وہ اسکی آس امید چھوڑ کے کہیں اور گھر بسا لیتی..اب تو میڈیا کو بھی عادت ہو گئ تھی اسکی ہر نئی گرل فرینڈ کے بارے میں خوب مرچ مصالحہ لگا کے عوام کے سامنے پیش کرتے تھے۔۔اور لوگ بھی اسکے پرانے افئر کو بھول کے نئے کی طرف متوجہ ہو جاتے۔۔۔مگر اسے ان سب باتوں کی پروا ہی کب تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

دفتعا اسکے موبائل پر کال آ نے لگی۔وہ عموماً پارٹیز میں کسی کی کالز اٹینڈ نہیں کرتا تھا سوائے ڈیڈ کے۔۔اسوقت بھی سکرین پر ڈیڈ کالنگ کے الفاظ دیکھ کر وہ ایک دم سے الرٹ ہوا..شور کی وجہ سے وہ کلب کی ایک سائیڈ پر آ گیا تھا..کہاں ہو ماحر…۔؟جیسے ہی اس نے کال پک کی سکندر علی خان کی آواز گونجی..پارٹی میں ڈیڈ…وہ آ رام سے بولا۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ بھی اسکی سب ایکٹیویٹیز سے واقف تھے تبھی کوئی تبصرا نہیں کیا۔۔اصل بات پر آ ئے۔۔۔۔۔۔۔۔

اوکے میری آ دھے گھنٹے بعد لندن کی فلائٹ ہے ایک بزنس ڈیل کے سلسلے میں ایک ہفتے کے لئے..تم ذرا عبیر کے ساتھ مل کر آفس کے ماملات دیکھ لینا۔۔۔۔۔۔اوکے ڈیڈ..وہ فوراً تابعداری سے بولا.. اوکے TC..انہوں نے مختصر بات کر کے کال بند کر دی..وہ واپس اپنی جگہ پر آ یا تو مثال شیرانی وہاں نہیں تھی..اسکی تلاش میں ادھر آ دھر نظریں دوڑائیں تو جلد ہی وہ اسے سٹیج پر ایک لڑکے کے ساتھ ڈانس کرتے نظر

آ ئی۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ایک معروف بزنس مین سلطان سہگل کا بیٹا تھا..جس کا ایک ہاتھ مثال شیرانی کی کمر میں اور دوسرے ہاتھ میں اسکا ہاتھہ تھا..وہ دونوں بجتے ہوئے تیز میوزک پر تھرک رہے تھے…یہ سین دیکھ کر ماحر سکندر کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے..چہرے پر یکدم غصیلے تاثرات پیدا ہوئے….وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا سٹیج پر پہنچا..ایک جھٹکے سے ان دونوں کو الگ کیا اور ایک زناٹے دار تھپڑ لڑکے کے چہرے پر دے مارا.. یکدم سٹیج پر سناٹا چھا گیا..کسی نے میوزک بند کر دیا تھا…سب کی نظریں ان پر رک گئیں تھیں..وہ لڑکا گال پر ہاتھہ رکھے ڈر اور حیرت کی ملی جلی کیفیت سے اسے دیکھ رہا تھا..جب کہ ماحر اسے کینہ توز نظروں سے گھور رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

پھر وہ مثال شیرانی کی طرف مڑا جو کہ اس سچویشن پر ششدر کھڑی تھی……… اسے بازو سے پکڑا اور بےدردی سے کھنچتا ہوا کلب سے باہر لے آ یا جہاں پارکنگ میں اسکی نئی چمچماتی گاڑی کھڑی تھی۔فرنٹ ڈور اوپن کر کے اسے اندر دھکیلا۔۔۔۔۔۔ اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر آ کے گاڑی سٹارٹ کی۔۔۔۔۔۔ اور ایک جھٹکے سے آ گے بڑھا دی………… گاڑی سے اترنے کے بعد وہ اسے اسی طرح بازو سے پکڑ کر کھینچ کر سیدھا ہوٹل کے اس روم میں لے آیا جو اس نے اس کیلئے بک کرایا ہوا تھا جہاں وہ پچھلے ایک ہفتے سے قیام پزیر تھی کیونکہ ایک ہفتے سے انکی فلم کی شوٹنگ چل رہی تھی جسکیلئے وہ اسلام آباد سے کراچی آئی ہوئی تھی،،،روم میں آکے اس نے زور سے دروازہ بند کیا اور اسے جبڑے سے دبوچا،،،میری ایک بات کان کھول کر سن لو،جب تک تم ماحر سکندر خان کی پناہ میں ہو کسی اور کے بارے میں سوچنا بھی نہیں،،اگر تم نے میرے آرڈرز پر عمل نا کیا اور مجھ سے اختلاف کرنے کی جرات کی تو یاد رکھنا تمہیں آسمان سے زمین پر گرنے میں ایک پل نہیں لگے گا،،،سمجھی تم۔۔وہ غصے سے وارن کرتا جا چکا تھا جبکہ پچھے مثال شیرانی اپنے دکھتے گالوں پہ ہاتھ رکھے اپنے لئیے اس کا یہ روپ دیکھ کر ہق دق کھڑی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

💓

صبح سحر کی مدھم مدھم روشنی ہر سو پھیلی دن کے آغاز کی نوید سنا رہی رھی،لان میں لگے دیسی بدیسی پھولوں کی مہک ہر سو پھیلی ہوئی تھی، بڑا پرکیف اور پرکشش منظر تھا۔۔۔۔۔۔۔وہ ٹریک سوٹ میں ملبوس ایکسرسائز اور جاگنگ سے فارغ ہو کر ایک طرف بنے گرین شیڈ کے نیچے آراستہ ٹیبل اور کرسیوں میں سے ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔وجہیہ چہرے کی سرخ و سپید رنگت کے مساموں سے پسینے کے چھوٹے چھوٹے قطرے مومی موتیوں کی مانند جھڑ رہے تھے۔وہ گہری گہری سانسیں لیتا کرسی کی بیک سے سر ٹکائے بیٹھا تھا،،رات کے واقعے کے باعث اسکا موڈ ابھی تک ٹھیک نہیں ہوا تھا،،مثال شیرانی کو وہ رات اس ہوٹل چھوڑ آیا تھا،جہاں وہ فلم کی شوٹنگ کے سلسلے میں کچھ دنوں سے رہ رہی تھی،،ہوٹل کے روم میں لے جا کر اسے بری طرح ڈانٹا تھا،وہ بچاری نئی ہیروئن تو اس کا یہ روپ دیکھ شاکڈ تھا،،اگرچہ اسکے بارے میں سن تو رکھا تھا کہ وہ غصے کا تیز ہے،مگر اپنے ساتھ اسکے اتنی جلدی ایسے بی ہیو کرنے کی امید نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

وہ جتنا بھی لیٹ سوتا مگر سحرخیزی کی عادت تھی۔۔ایکسرسائز اور جاگنگ کے لئے کافی جلدی اٹھتا تھا،مگر فلم کے سیٹ پہ ہمیشہ لیٹ جاتا تھا،بچارے ڈائریکٹر پروڈیوسر،پوری ٹیم کو لئے ویٹ میں بیٹھے رہتے تھے۔۔۔۔۔۔مگر شکایت کرنے کا رسک کوئی نہیں لیتا تھا،کیونکہ ایک تو وہ بہت پاپولر اور سب سے مہنگا سٹار تھا،پبلک بھی سب سے زیادہ اسی کو سکرین پر دیکھنا پسند کرتی تھی،،دوسرا وہ چھوٹی موٹی فلمیں سائن نہیں کرتا تھا،صرف بڑے پیمانے کی بھاری بجٹ کی فلمیں ہی سائن کرتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غصے کا تیز تھا تو اس سے کچھ بعید نہیں تھا کہ فلم کو درمیان میں ہی چھوڑ دیتا،،سو ڈائریکٹر،پروڈیوسر اسے ناراض کرنے کا رسک نہیں لیتے تھے۔۔۔۔۔۔ملازم اسے ٹاول اور جوس کا گلاس تھمانے کے بعد کچھ فاصلے پر مؤدب کھڑا تھا۔۔۔

وہ پسینہ خشک کر کے جوس کے چھوٹے چھوٹے سپ لیتا آسمان پر چہچاریں مچاتے اڑتے پرندوں کو دیکھ رہا تھا،،اس دوران سورج نے بھی آمد کا نکارہ بجا دیا تھا،،فضا کا نیم اندھیرا سورج کی سنہری شعاعوں سے چمک اٹھا۔۔صبح پوری طرح بیدار ہوکر چھا گئی تھی،،،،

وہ باتھ لینے کے بعد تیار ہو کر نیچے ڈائننگ ہال میں آیا،، ناشتے کی ٹیبل پر عبیر،زین،فاریہ اور ماما کے علاوہ بڑے تایا ،تائی جو کے کچھ دنوں پہلے فرانس سے آئے تھے وہ بھی موجود تھے،،،،،،گڈ مارننگ ایوری باڈی….وہ کرسی گھسیٹ کر بیٹھ۔۔۔۔واٹ آ سرپرائز ہینڈسم بوائے۔۔۔آج آپکو ناشتے کی ٹیبل پر دیکھ کر اچھا لگا،،،ورنہ آپ تو نظر ہی نہیں آتے۔۔تایا جان نے مسکرا کر شکوہ کیا۔۔۔سوری تایا جان،،آجکل بہت بزی ہیں۔۔ایک ساتھ کئی فلموں کی شوٹنگز چل رہی ہیں ۔اسلئیے ٹائم مینج نہیں ہو پارہا۔۔۔۔۔۔اس نے شرمندہ سے انداز میں وضاحت دی۔۔۔۔۔۔۔جی تایا جان بھائی آجکل واقعی بہت بزی ہیں اپنی نئی ہیروئن کے ساتھ،وہ کیا نام ہےاسکا فاریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔عبیر کی زبان پھسلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شٹ اپ۔۔۔۔۔۔جسٹ شٹ اپ۔۔۔اس سے پہلے فاریہ جواب دیتی وہ غصے سے عبیر پر گرجا۔۔۔۔۔۔۔اسکے اتنے سخت ردعمل پر عبیر شرمندہ ہونے کے ساتھ ساتھ گھبرا گیا۔۔۔کول ڈاؤن ماحر۔۔۔۔۔کیا ہو گیا ہے وہ مذاق کر رہا تھا۔۔۔ماما نے اسے ٹھنڈا کرنا چاہا،، مگروہ ایک جھٹکے سے اٹھا اور بنا ناشتہ کیے تن فن کرتا وہاں سے نکل گیا،جبکہ پیچھے وہ سب،چھوٹی سی بات پر اسکے اتنے غصے میں آجانے پر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے،،، وہ تھا ہی ایسا،اچھا موڈ ہوتا تو بڑی سے بڑی بات کو بھی ہنس کر اگنور کر دیتا۔۔۔۔۔۔۔اور اگر موڈ خراب ہوتا تو چھوٹی سے چھوٹی بات پر بھی بھڑک جاتا۔۔۔۔۔۔اگرچہ ماحر کی دونوں چھوٹے بھائیوں کے ساتھ اچھی دوستی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر جب کوئی اسے غصہ دلا دیتا تو پھر اسکی ماحر کے ہاتھوں خیر نا ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

💓

خواب۔۔۔۔۔۔ میرے

ساتھ۔۔۔۔۔۔ میرے

کیوں بھلا یہ کر نا سکے

ساری خوشیاں

غم بنی جو

کیوں گلا بھی کر نا سکے

اے میرے خدا

تو اتنا بتا

کیوں میرا نصیب ایسا لکھا

دروازے پر ہونے والی مسلسل دستک سے اسکی آ نکھہ کھلی”ہاتھ بڑھا کے ٹیبل لیمپ آن کیا٫پورے کمرے میں تیز روشنی پھیل گئی۔۔آنکھیں ملتے وہ اٹھ بیٹھی.وال کلاک کی جانب نظر پڑی تو چودہ طبق روشن ہوگئے.آج اسکا اور حورین کا یونیورسٹی میں پہلا دن تھا اور وہ لیٹ نہیں ہونا چاہتی تھی.. دروازے پر ہونے والی دستک ابھی بھی جاری تھی….حیا بیٹا اٹھ جائیے..اب کہ دستک کے ساتھہ اسکا نام بھی پکارا گیا.. یہ انکی پرانی ملازمہ رحمت بی تھیں.. کئ سالوں پہلےجب وہ یہاں آ ئی تھی اس نے رحمت بی کو ہمیشہ سے یہیں دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

جی رحمت بی اٹھ گئ..دروازہ کھولے بنا رحمت بی کو بلند آواز میں جواب دینے کے ساتھ وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور جلدی سے واش روم میں گھس گئ..پانچ منٹ بعد چہرے کو ٹاول سے رگڑتے وہ باہر آئی.۔رحمت بی شائد مطمئن ہو کے جا چکی تھیں کیونکہ دستک کی آواز اب نہیں آرہی تھی..اس نے وارڈ روب سے ایک ڈریس نکالا ……..یہ وائٹ کلر کی کیپری اور نیوی بلیو کلر کے گھٹنوں تک آتے فراک والا ایک سٹائلش ڈریس تھا..جس پر ایمبرائیڈری کا نفیس کام کیا گیا تھا. چینج کرنے کے بعد اس نے ڈریسنگ مرر کے آگے کھڑے ہو کر اپنے ڈارک براؤن گھنے سلکی بالوں کو اونچی پونی میں قید کیا.. اسے اپنے بال بہت پسند تھے کیونکہ یہ بلکل اسکی مام کے بالوں جیسے تھے..جب بھی ہیئربرش کرتے ہوئے اسکی نظر اپنے بالوں پر پڑتی اسے مام یاد آجاتی تھیں…….اسکے لبوں پہ ایک اداس مسکراہٹ آجاتی تھی۔۔اب بھی ایسا ہی ہوا””آنکھیں اور بال یہ دو چیزیں اس نے اپنی مام سے چرائی تھیں،،باقی ہائٹ میں وہ بابا پہ گئی تھی،،انہی کی طرح لمبی ہائٹ تھی اسکی ،،جبکہ مام کی ہائٹ قدرے چھوٹی تھی،،،،نیلی آنکھوں کی وجہ سے بابا اسے بچپن سے ہی لٹل بلیو پرنسز کہتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔آنکھوں میں اترتی نمی کو پیچھے دھکیلتے اور گزری یادوں پر سر جھٹکتے

ہوئے وہ اپنی تیاری کی طرف متوجہ ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔ آج اسے اور حورین کو اکٹھے یونی جانا تھا…ویسے تو وہ جہاں بھی جاتی ڈرائیور چھوڑ آتا تھا مگر پہلے دن اکھٹے یونی جانا انکے درمیان طے ہوا تھا سو سی لئے حورین کی آمد یقینی تھی..پروفیوم سپرے کر کےبڑی بڑی نیلی آنکھوں میں آئی لینر لگائے وہ بلکل ریڈی تھی..مرر سے تھوڑا دور ہو کے اس نے خود کو ستائشی نظروں سے دیکھا..سب کچھ پرفیکٹ تھا..میک اپ کی اسے ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی کیونکہ اسے گالوں اور لبوں پہ قدرتی لالی تھی جب کہ دکھنے والوں کو میک اپ کا گمان ہوتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

پہلی نظر دیکھتے ہی اس پہ شہزادی کا گمان ہونے لگتا تھا۔۔۔۔۔۔ شائد اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کا تعلق جس ملک سے تھا وہ حسین جگہوں کے ساتھ حسین چہروں کی دولت سے بھی مالا مال تھی یہ سارا حسن اس نے اپنی مام سے ہی تو چرایا تھا………….اپنی تیاری سے مطمئن ہو کے اس نے اپنا بیگ اُٹھایا اور نیچے ڈائنگ ہال میں آئی..ناشتے کی ٹیبل پر اسے صرف ممی بیھٹی نظر آئیں جن کے ہاتھ میں نیوزپیپر تھا”ناشتہ کرنے کے ساتھ ساتھ وہ نیوز پیپر بھی پڑھ رہی تھیں……بابا اور مون نظر نہیں آئے وہ دونوں شائد آفس اور سکول جا چکے تھے……… اسلام علیکم……..اس نے آہستہ سے انہیں سلام کیا جس کا جواب انہوں نے سر کے اشارے سے دیا..وہ کرسی کھینچ کر بیٹھ گئ ابھی اس نے بریڈ کی طرف ہاتھہ بڑھایا ہی تھا کہ حورین کی گاڑی کا مخصوص ہارن سنائی دیا………اور ساتھ ہی موبائل پر پر کال آنے لگی…..جس کا مطلب تھا وہ گیٹ پر آچکی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی…ممی نے نیوزپیپر سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھا… وہ مجھے دیر ہو رہی ہے انکی سوالیہ نگاہوں کے جواب میں اس نے بیگ اٹھاتے وضاحت دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ جوس پیتی جاؤ بیٹا.. خالی پیٹ جانا ٹھیک نہیں،،، اچانک انہوں نے سامنے پڑا جوس کا گلاس اٹھا کر اسکی طرف بڑھایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے حیران ہوئے بنا ان سے وہ گلاس لے لیا کیونکہ اب وہ انکے کبھی کبھی کہ اس مہربان رویے کی عادی ہو چکی تھی… وہ ایسی تھیں حیا کے کسی کام میں دخل نہیں دیتی تھیں،،،،لیکن کبھی کبھی حیا جب اپنے لیئے انکا کوئی کیئرنگ انداز دیکھتی تو اسے اچھا لگتا،،،وہ زیادہ تر شوشل ایکٹیویٹیز میں بزی رہتی تھیں،،،مون کو بھی وہ بہت کم ٹائم دیتی تھیں،،،زیادہ تر حیا ہی اسکا خیال رکھتی تھی،،مون اس سے اٹیچ بھی بہت تھا،،،، گلاس خالی کر کے اس نے ٹیبل پر رکھا اور انہیں خدا حافظ کہتی نکل آئی…گیٹ پر چھوٹی سی گاڑی میں بلیک جینز اور ییلو لانگ شرٹ میں ملبوس کیوٹ سی حورین سیٹ بیلٹ لگائے اسٹیرنگ تھامے اس کا انتظار کر رہی تھی..سوری یار زرا لیٹ ہوگئ..فرنٹ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی کا دروازہ بند کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گڈ مارننگ..حورین نے فوراً احساس دلایا..

او ہاں گڈ مارننگ..وہ سر پہ ہاتھ مار کے مسکرائی………حورین نے گاڑی آگے بڑھا دی…بہت حوبصورت لگ رہی ہو…….حورین نے نے سراہا..وہ ہلکا سا مسکرا دی…….تم بھی کچھ کم نہیں لگ رہی میڈم اس نے بھی جواباً تعریف کی…ہہم..مگر تھارے جیسا کوئی نہیں یار..وہ بھی مسکرائی..وہ تھی ہی ایسی اکثر اسکی تعریفیں کرتی رہتی تھی اور حیا جانتی تھی کہ وہ دل سے کرتی ہے……..وہ اور حورین کالج فرینڈز تھی چار سال انہوں نے کالج میں ساتھہ گزارے تھے سو اب تک انکی دوستی بہت گہری ہوچکی تھی اور اس میں بھی زیادہ ہاتھہ حورین کا تھا وہ ایک صاف دل کی مخلص لڑکی تھی اور ان چار سالوں میں حیا یہ بات جان گئی تھی…….جب وہ پاکستان آئی تھی تو میٹرک تک اسکی کوئی خاص فرینڈ نہ بن سکی کیونکہ وہ ایک خاموش طبعیت الگ تھلگ رہنے والی لڑکی تھی اور اسکے اس مزاج کو اسکا مغرور پن سمجھ کے کوئی لڑکی اسکے قریب نہ آسکی.. لیکن کالج میں جب حورین نے اسکی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تو اس نے خاص رسپانس نہیں دیا لیکن وہ اسے دوسروں کی طرح مغرور سمجھ کے پچھے نہ ہٹی..بلکہ اسکے ساتھ باتیں کرنے کی کوشش کرتی رہتی۔۔ دھیرے دھیرے حیا کو بھی وہ اپنی نٹ کھٹ عادتوں کی وجہ سے اچھی لگنے لگی تھی..یوں آج وہ بیسٹ فرینڈز تھیں……………………”

وہ آٹھ لوگوں کا گروپ تھا جن میں چھے لڑکے اور دو لڑکیاں شامل تھیں۔۔یہ سب نئے آنے والے سٹوڈنٹس کی ریگنگ کر رہے تھے..سات مظلوم سٹوڈنٹس انکے نرغے میں پھنسے ہوئے تھے جن میں تین لڑکیاں بھی شامل تھیں.. لڑکوں کے چہرے پر بلیک مارکر سے موٹی موٹی لکیریں کھینچ کر انہیں مرغا بن کے گراؤنڈ میں چلنے پر مجبور کیا جارہا تھا ساتھ میں ان سب کے والٹ اور رسٹ واچ وغیرہ بھی ریگنگ کرنے والوں کی کسٹڈی میں تھے.. لڑکیاں بے بسی کی تصویر بنے ان لڑکوں کی طرف دیکھ رہی تھیں جو کہ انکے پرس قبضے میں کیے اس میں سے انکی چیزیں نکال نکال کر دیہاتوں میں بری دکھانے والے انداز میں ادھر ادھر لہرا رہے تھے……کچھ سینئرز کے ٹولے وہاں بیھٹے مزے سے یہ تماشا دیکھ رہے تھے..ریگنگ کرنے والے گروپ کا لیڈر ارسلان بھٹی ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے کرسی پر بیٹھا اپنے چیلوں کو آڈرز دے رہا تھا…..حیا اور حورین جیسے ہی گیٹ سے انٹر ہوئیں.. سامنے ہی دو لڑکیاں کھڑی تھیں۔۔نئوسٹوڈنٹس..ان کو آتا دیکھ کر ایک نے کہا.. پرنسپل صاحب کی طرف سے ہمیں نئو سٹوڈنٹس کو گائیڈ کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں.. تاکہ نئے سٹوڈنٹس کو مشکل نہ ہو اور کوئی انکی ریگنگ نہ کر سکے……ان اثبات میں سر ہلانے پر ساتھ کڑی دوسری لڑکی نے وضاحت دی..آئیے آپ دونوں کو ایڈمن آفس تک چھوڑ دوں وہاں سے آ پ لوگوں کو اپنا کلاسز شیڈول ملے گا..اب کے اس نے انہیں چلنے کا اشارہ کیا وہ دل میں شکر کا کلمہ پڑھتے اسکے پچھے چل پڑیں..ورنہ سارے راستے ریگنگ کے ڈر سے وہ دونوں پریشان ہوتے آئیں…….”وہ لڑکی انہیں لے کر سیدھی اس جگہ آئی جہاں سٹوڈنٹس کی ریگنگ ہو رہی تھی..وہ گیٹ والی دونوں لڑکیاں اصل میں ریگنگ والے گروپ کی ہی ممبر تھیں..””سامنے کا منظر دیکھ کر انکے چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگیں اور انہیں اپنے بیوقوف بن جانے کا احساس ہوا..ان سب کی نظریں بھی انکی طرف اٹھیں..ریگنگ کرنے والوں کے چہرے پر مسکراہٹ جب کہ ریگنگ کا شکار ہونے والوں کے چہرے پر ان دونوں کو دیکھ کر بیک وقت بے بسی اور ہمدردی کے تاثرات ابھرے…….ارے یہ نیلی پیلی پریاں کس دیش سے لے آئی..انکو دیکھ کر ایک لڑکے نے انہیں لائی جانے والی لڑکی کو اونچی آواز میں ہانک لگائی…پیلی کا تو پتہ نہیں البتہ نیلی شائد کوہ کاف سے آئی ہے…کسی اور نے کمنٹ کیا…..””حوری نکلو یہاں سے …حیا نے اسکے کان میں سرگوشی کی..اس نے ہاں کے انداز میں آہستہ سے حیا کا ہاتھ دبایا پھر جیسے ہی وہ دونوں واپسی کے لئے مڑیں انکو ساتھ لے کے آنے والی لڑکی نے راستہ روک لیا…؛؛؛راستہ چھوڑو ہمارا …حورین نے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورتے ہوئے کہا۔۔وہ ہٹنے کے بجائے وہیں کھڑی مسکراتی رہی….سنا نہیں تم نے…. اب کے اس نے قدرے اونچی آواز سے کہا..وہ لڑکی تو کیا ہٹتی اسکے ساتھی بھی ان دونوں کے دائیں بائیں کھڑے ہوگئے..جناب آپ لوگوں کو جانے کی پرمیشن تو ہمارے باس سے لینی پڑے گی ایک نے مطلح کیا………

دیکھو ہماری ریگنگ کرنے کی کوشش کی تو اچھا نہیں ہوگا میرا کزن اے سی ہے(حورین نے ایک بہت دور پرے کے کزن جو کہ اسسٹنٹ کمشنر کے تھا اور حورین کی فیملی کے ساتھ انکا خاص آنا جانا بھی نہیں تھا””اس کا رعب جھاڑنے کی کوشش کی)..اے سی ہو یا ائیر کنڈیشنڈ۔۔۔۔۔ ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا..اب تک خاموش بیھٹا ان کا سرغنہ ارسلان بھٹی اٹھ کے سامنے آیا…………مس یہ آ پکی آنکھیں نیچرل بلیو ہیں لینس لگائے ہوئے ہیں……..اب کے وہ حیا کی آ نکھوں کی طرف اشارہ کرتا ہوا اس سے مخاطب ہوا..اپنے کام سے کام رکھو….حورین نے گھرکا….ریلیکس مس میں ان سے بات کر رہا ہوں..بولو بلیو فیری…اس نے خاموش کھڑی حیا کو پھر مخاطب کیا….جانے دو ہمیں یہاں سے ورنہ پرنسپل صاحب سے تم لوگوں کی کمپلین کریں گے……حورین کو دیکھ کے اس میں بھی حوصلہ پیدا ہوا سو حاصے اعتماد سے دھمکی دی….جواب میں اس نے زور سے قہقہہ لگایا..پھر کروفر سے کہا اس یونیورسٹی میں کسی کی ہمت نہیں جو ارسلان بھٹی کی کمپلین کرے تم نئی ہو اس لئے ٹھیک سے جانتی نہیں..خیر جلد ہی جان جاؤ گی کہ ارسلان بھٹی کیا چیز ہے…………….”

تم جو بھی چیز ہو مسٹر اس سے ہمیں کوئی لینا دینا نہیں…اپنے چیلوں سے کہو ہمارے راستے سے ہٹ جائیں….اسکے انداز سے وہ سمجھ چکی تھیں کہ وہی ان کا لیڈر ہے اور اسی کے اشارے پر سب ہو رہا ہے..سو حورین نے دانت پیستے ہوئے اسے کہا….ہٹ جائیں گے راستے سے مگر اس سے پہلے ہماری کچھ شرائط پوری کرنا ہونگی…کہتے کے ساتھ اس نے ساتھ کھڑے لڑکے کو اشارہ کیا..جس نے فوراً سمجھتے ہوئے حورین سے اس کا بیگ جھپٹ لیا…پھر حیا کے بیگ کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اس نے اپنے بیگ کو کس کے سینے سے لگا لیا…خبردار جو میرے بیگ کو ہاتھ لگایا تو…ساتھ میں اس لڑکے کو وارن کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

…..تو…….تو…کیا…اب کےارسلان ںھٹی نے ایک قدم آگےبڑھایا..وہ گھبرا کے ایک قدم پچھے ہٹی…بولو نا تو کیا….اسکی نظریں مسلسل حیا پر تھیں ۔۔۔تو منہ توڑ دیں گے ہم تمارا…جواب حورین کی طرف سے آیا….میڈم اگر ایسی ٹون میں بات کریں گی تو ہم سے جان چھڑوانا اور مشکل ہو جائے گا..یہ یونیورسٹی ہماری ہے اور آج کے دن ریگنگ کرنے کا حق بھی ہمارا ہے..رو کے یا ہنس کے بات تو ہماری ماننی ہوگی بہتر ہے ہمارے ساتھ کو آپریٹ کرو…اور شرافت سے یہ بیگ ہمارے حوالے کرو… حورین سے سرد لہجے میں کہتے ہوئے اس نے حیا کو بیگ حوالے کرنے کا اشارہ کیا۔۔مگر وہ خاموش کھڑی غصے سے دیکھتی رہی..کیا ہوا بات سمجھ میں نہیں آرہی۔۔استہزائیہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے وہ ایک قدم مزید آگے بڑھا اور اگلے ہی پل اپنا ہاتھ حیا کے گال اور لبوں پر پھیرا..وہ ساکت رہ گئ ۔…اس نے یہ حرکت اتنی تیزی سے کی کہ وہ اسے روک بھی نہیں سکی۔۔۔۔۔کیا بے ہودہ حرکت ہے یہ…حورین کو بھی شاک لگا مگر اگلے ہی پل وہ سنبھل کے چلائی.. کیونکہ حیا اسکی بے حد عزیز دوست تھی سو کوئی اسکے ساتھ بدتمیزی کرے یہ وہ برداشت نہیں کر سکتی تھی…ریلیکس مس۔۔میں تو صرف یہ چیک کر رہا تھا کہ انکے گالوں اور لبوں پہ جو لالی ہے وہ نیچرل ہے یا میک اپ کا کمال۔۔لوفرانہ انداز میں کہتے ہوئے وہ مسکرایا………”

اس کی اس بکواس پہ سب کا قہقہہ پڑا تو اب تک شاکڈ کھڑی حیا کو بھی ہوش آیا اور اگلے ہی لمحے اس نے ارسلان بھٹی کے منہ پہ زور دار تماچہ دے مارا۔۔ٔچٹاخ کی آواز کے ساتھ ہی چاروں طرف خاموشی سی چھا گئی،وہ گال پر ہاتھ رکھے کینہ توز نظروں سے حیا کو گھور رہا تھا۔۔۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ پہ ہاتھ آٹھانے کی…وہ گرجا،،،،،جیسے تماری ہمت ہوئی اسے ٹچ کرنے کی۔۔حورین نے بھی دوبدو جواب دیا۔۔۔

یہ تھپڑ بہت مہنگا پڑے گا ۔۔۔اب تم لوگ یہاں سے جا کے تو دیکھاؤ،،وہ گرجا اور اسکے ساتھ ہی ایک جھٹکے سے حیا کے ہاتھ سے اسکا بیگ چھین لیا۔۔۔۔۔۔۔۔”

کیا ہو رہا ہے یہ۔۔۔۔۔۔۔؟سب نے پلٹ کے دیکھا،وہ عمر کاظمی تھا جو اپنے گروپ کے ساتھ وہاں کھڑا ان سب کو خشمگیں نگاہوں سے گھور رہا تھا،،،اس یونی میں بھٹی اینڈ گروپ کی ٹکر کا جو گروپ تھا وہ عمر کاظمی کا گروپ تھا،،یہ اور بات تھی انکی شہرت ا تنی بری نہیں تھی لڑائی جھگڑے میں یہ گروپ بھی ماحر تھا مگر انکی اچھی بات یہ تھی کہ ایک تو یہ لوگ بلاوجہ نہیں لڑتے تھے دوسرا کسی کو ہیلپ کی ضرورت ہوتی تو یہ بلاتوقف اسکی ہیلپ کرتے۔یہ بھی سینئر گروپ تھا مگر یہ لوگ ریگنگ وغیرہ میں شامل نہیں ہوتے تھے۔۔۔۔۔۔؟۔میں پوچھ رہا ہوں کیا ہو رہا ہے یہ کیوں تنگ کر رہے ہو ان لڑکیوں کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟وہ حیا اور حورین کے ہراساں چہروں کو ایک نظر دیکھ کے ارسلان بھٹی کے سامنے آکھڑا ہوا۔۔۔۔کچھ بھی ہو رہا ہو تم اپنے کام سے کام رکھو اور جاؤ یہاں سے ورنہ میں نے اپنے طریقے سے یہاں سے بھیجا تو اچھا نہیں ہوگا،اس نے بے حد سرد انداز میں دھمکی دی،،ٹھیک ہے میں چلا جاتا ہوں،لڑکوں کی ریگنگ سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن لڑکیوں کو چھوڑ دو۔۔۔۔۔۔۔”

اچھا اگر نا چھوڑوں تو کیا کر لوگے۔۔۔۔؟؟اس نے جیسے چیلنج کیا۔۔۔۔۔۔۔۔”

تو تمہارا اور تمہارے گروپ کا وہ حشر کروں گا کہ دوبارہ اس یونیورسٹی میں قدم رکھنے کے لائق نہیں رہو گے۔۔اس نے بے حد سکون سے جواب دیا۔۔۔۔۔۔۔۔

ابے تیری تو۔۔۔۔بھائی کو دھمکی دیتا ہے،ارسلان بھٹی کہ کچھ بولنے سے پہلے اسکے ایک چمچے نے آگے بڑھ کر عمر کاظمی کے گریبان سے پکڑا۔۔۔کاظمی گروپ کے لڑکے کونسا کم تھے وہ بھی فوراً آگے بڑھے،،گریبان سے پکڑنے والے لڑکے کو پہلو میں ایک زوردار لات پڑی وہ تیورا کے گرا۔۔۔۔دونوں گروپس آپس میں گھتم گھتا ہو گئے،،یونیورسٹی کا وہ ایریا جہاں تھوڑی دیر پہلے نئو سٹوڈنٹس کی ریگنگ ہو رہی تھی اب میدان جنگ کا منظر پیش کر رہا تھا،،،،،،،حیا اور حورین اس موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے بیگز لیتے ہی وہاں سے کھسک لیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

💓

ون ٹو تھری۔۔ایکشن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈائریکٹر واجد علی نے زور دار آواز میں کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

میں نہیں جانتا یہ سب کیوں اور کیسے ہے بس جب بھی تمہیں دیکھتا ہوا میرے دل میں ایک عجیب سا احساس جاگنے لگتا،،مجھے اچھا لگتا ہے تم سے نظریں بچا کے بار بار تمہیں دیکھنا،،مجھے اچھا لگتا ہے تمہارے قریب رہنا،مجھے اچھا لگتا ہے تم سے گھنٹوں باتیں کرنا،،مجھے اچھا لگتا ہے ساحل سمندر کی گیلی ریت پہ تمہارے ساتھ ننگے پاؤں چلنا،،میرا دل تو بس تمارے نام پہ ہی ڈھڑکنے لگتا ہے،تمہارے نام پہ ہی مچلنے لگتا ہے،اب یہ ہمیشہ کیلئے تمہارے ساتھ کی رہنے خواہش کرنے لگا ہے،،اگر اسی کو محبت کہتے ہیں تو ہاں مجھے تم سے محبت ہوگئی ہے ماہی۔۔مجھے تم سے محبت ہوگئی ہے۔۔وہ اسکے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھا اسکے ایک ہاتھ کو اپنے ہاتھوں ہیں لئے دل میں پلتے اپنے جذبات اپنے احساسات کا اظہار شدت سے کر رہا تھا،،اور سننے والی کا دل بھی اسی چاہ رہا تھا کاش یہ سچ ہوتا،،اسکے سامنے بیٹھا شخص حقیقت میں اسے یہ سب کہہ رہا ہوتا،،مگر ہر خواب کی تعبیر کہاں ممکن ہوتی ہے وہ صرف سوچ کر رہ گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

ویلڈن ماحر۔۔۔۔۔۔۔امیزنگ ایکسپریشن امیزنگ ڈائیلاگ ڈیلیوری۔۔۔۔واجد علی کی تعریف پہ وہ مغرورانہ آنداز میں مسکرایا۔۔۔۔۔۔۔جب کہ سامنے کھڑی اسکی کوسٹار ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گئی کیونکہ وہ صرف اسی ہیروئن کو لفٹ دیتا تھا جو بھرپور حسن کی مالک ہوتی،،بچپن سے ہی حسن پرست تھا صرف حسین چیز ہی پسند آتی تھی جبکہ یہ کوسٹار کچھ خاص حسین نہیں تھی،،مگر فلم میکر کو اسی بات کی کوئی فکر نہیں تھی فلم ہٹ ہی جانی تھی کیونکہ اس میں ماحر سکندر جو ہیرو تھا۔۔۔۔۔۔۔اس ہیروئن کو بھی کسی کی سفارش پر مشکل سے یہ فلم ملی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

شوٹ مکمل کروانے کے بعد آفس چلا آیا جہاں عبیر موجود تھا،،سوری بھائی،،عبیر نے اسے دیکھتے ہی کان پکڑے،،جواب میں وہ کچھ دیر اسے دیکھتا رہا پھر سیرس انداز میں عبیر کے ہاتھ اسکے کانوں سے ہٹائے جو کہ دونوں کانوں کو پکڑے کھڑا تھا۔۔اپنے دونوں ہاتھوں سے اسکے کانوں کو پکڑ کے جھٹکا دیا تو عبیر بچارے کی چیخ نکل گئی۔۔۔برو…..اس نے خفگی سے بڑے بھائی کو دیکھا،،ماحر مسکراتا ہو ریوالونگ چئیر پہ جا بیٹھا۔۔۔۔بھائی آپ آفس میں ہیں تو کیا میں کچھ دیر کیلئے باہر چلا جاؤں مجھے ذرا کام ہے۔۔۔۔جی ہاں مجھے پتہ ہے کونسا ضروری کام ہوگا آپکو،،ماحر نے اسے طنزیہ دیکھا،کونکہ وہ جانتا تھا عبیر کا ضروری کام اسکی کسی گرل فرینڈ سے ملاقات ہی ہوگا،،ایسے کاموں میں وہ تینوں بھائی ہی ایک جیسے تھے،،،یہیں آفس میں رہو میں صرف ایک نظر دیکھنے آیا تھا مجھے ایک فلم کا شاٹ دینے جانا ہے،،وہ اٹھ کھڑا ہوا،اسکے صاف انکار پہ عبیر کا منہ لٹک گیا،،،،،مگر کیا کر سکتا تھا ٹھنڈی سانس بھر کے رہ گیا،کیونکہ زین پروڈکشن ہاؤس مصروف تھا اور ڈیڈ ملک سے باہر تھے اور ویسے آفس کے معملات ڈیڈ کے ساتھ مل کر زیادہ تر وہی سنبھالتا تھا،،اب اسے نیلی کو کال کر کے اپنے نا آنے کا بتا کے معزرت کرنی تھی،،نیلی بھی ایک اداکارہ تھی پچھلے دو سالوں سے شوبز کی فیلڈ میں ہونے کے باوجود ابھی تک کوئی مقام نہیں بنا پائی تھی،،،،اس نے جو بھی فلمیں کیں وہ یا تو مکمل طور پر فلاپ رہیں یا ان میں سے کچھ بس ٹھیک ہی رہیں،،ہٹ فلم کوئی نہیں دے پائی تھی،،ماحر کے ساتھ تو اسے کام کرنے کا موقع نہیں مل سکا تھا لیکن عبیر سکندر خان کے ساتھ وہ ایک فلم کر چکی تھی،لیکن یہ فلم بھی شائقین پر کوئی خاص تاثر نہیں چھوڑ سکی تھی،لیکن عبیر سکندر سے اسکی دوستی ضرور ہوگئ تھی،اب

پچھلے چار مہینے سے وہ دونوں ڈیٹنگ کر رہے تھے۔۔۔

وہ جب سٹوڈیو پہنچا تو یہاں بھی سب اسکے انتظار میں بیٹھے تھے،،، فلم کے سیٹ پر ہمیشہ لیٹ پہنچنا اور پوری ٹیم کو انتظار کی کوفت میں مبتلا رکھنا یہ تو اسکی پرانی عادت تھی،،اب تو سب عادی تھے،، اس فلم میں اسکے ساتھ مثال شیرانی آنے والی تھے۔۔۔ماحر کو آتا دیکھ کر وہ فوراً اٹھ کے اسکی طرف بڑھی مگر ماحر اسے نظر انداز کرتا ڈائریکٹر کی طرف بڑھ گیا،،فلم کیلئے ڈائیلاگز، اور شاٹس دینے کے علاوہ اس نے مثال سے کوئی بات نہیں کی،،مثال کو اسکا یہ انداز بہت ہرٹ کر رہا تھا کیونکہ آوروں کی طرح وہ بھی اسکی زبردست فین ہونے کے ساتھ ساتھ اس پر بری طرح فدا بھی تھی۔۔۔کام ختم ہونے کے بعد اسکو ماحر سے اکیلے میں بات کرنے کا موقع ملا تو جھٹ سے مافی مانگی،،سو ماحر کا بھی موڈ ٹھیک ہوچکا تھا،،چنانچہ وقت کو رنگین بنانے کیلئے وہ اسے لئے اپنے پرائیویٹ فلیٹ میں چلا آیا جہاں وہ اس جیسی ہیروئنز کے ساتھ وقت گزارتا تھا،،،،،،،،،،،،،اور مثال شیرانی جیسی اداکارائیں اسکو اپنی خوش بختی سمجھتیں،،مگر وہ تو جسٹ انجوئمنٹ ٹائپ انسان تھا،جیسے ہی دل بھرتا فوراً سے پیشتر چھوڑ دیتا اور پھر وہ اداکارہ اپنا ٹوٹا ہوا دل اور ٹوٹے ہوئے خواب لئیے کسی اور سے سیٹنگ کر لیتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سکندر علی خان ایک مشہور و معروف کامیاب بزنس ٹائیکون ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سیاسی جماعت سے بھی تعلق رکھتے تھے،،انک والد حشمت علی خان صوبائی وزیر رہ چکے تھے،،،دولت کی ریل پیل تھی،،،انکے تین بیٹے تھے،سب سے بڑا ماحر سکندر جسکو نا سیاست میں انڑسٹ تھا اور نا بزنس میں،،اس پہ ایکٹر بننے کا جنون سوار تھا،،یہی وجہ تھی جب وہ ہائر سٹڈی کیلئے امریکہ گیا تو پڑھائی کے ساتھ ساتھ ایکٹنگ اکیڈمی بھی جوائن کی اور ساتھ میں فلم میکنگ کا کورس بھی کیا،،،،پاکستان واپس آکے جب اس نے فلمی دنیا میں قدم رکھا تو اسے ہاتھوں ہاتھ لیا گیا،،وجہ ایک تو اسکا خاندانی اثرورسوخ اور دوسرے اسکی غضب کی پرسنالٹی اور کمال درجے کی ایکٹنگ تھی ،،اسکی پہلی فلم نے ہی اسے راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا،،،،،سکندرعلی خان بھی بیٹے کی اس کامیابی سے خوش تھے،،چنانچہ انہی کی تجویز پہ ماحر نے اپنا پروڈکشن ہاؤس کھولا تھا۔۔جسکا نام خان پروڈکشن ہاؤس تھا۔۔ کچھ لوگ اتنے خوش قسمت ہوتے ہیں،ہر چیز جیسے انکے مقدر میں لکھ دی جاتی ہے،،وہ نعمتوں میں گھرے ہی اس دنیا میں آتے ہیں،،ماحر سکندر کا شمار بھی انہی لوگوں میں ہوتا تھا،،،سکندر علی کے باقی دو بیٹے جو کہ ماحر سے چھوٹے تھے،،عبیر سکندر اور زین سکندر،،،، وہ دونوں بھی فلموں میں کام چکے تھے تھے،، مگر ماحر کی طرح کامیاب نہیں ہوئے تھے،،سو وہ اب زیادہ تر سکرین پہ آنے کے بجائے خان پروڈکشن کے زیرہدایت بننے والی موویز کے ڈائریکٹر پروڈیوسر والے امور سنھار سنبھالتے تھے،،،اسکے ساتھ ساتھ وہ سکندر علی خان کے ساتھ ساتھ بزنس بھی سنبھالتے تھے،،، اگرچہ وہ دونوں بھی خوش شکل اور اچھی پرسنالٹی کے مالک تھے مگر جو ماحر سکندر میں تھی وہ کسی میں بھی نہیں تھی،، جبکہ سکندر علی خان کی اکلوتی بیٹی فاریہ جو کہ ماں باپ کے ساتھ ساتھ تینوں بھائیوں کی بھی لاڈلی تھی،،فیشن ڈیزائننگ میں ماسٹر کرنے کے بعد اپنا ایک بہت بڑا بوتیک سینٹر چلا رہی تھی،،جہاں معروف فلمیں شخصیات اور اپر کلاس کی عورتوں کے ڈریسز آرڈر پر تیار کیے جاتے تھے،،،فاریہ سکندر خان کا شمار بھی معروف ڈیزائنرز میں ہوتا تھا،،اسکی منگنی اسکے ماموں کے بیٹے اصفہان سے ہوچکی تھی،،جو کہ اپنی فیملی کے ساتھ ورجینیا میں مقیم تھا،،وہاں انکا خاصہ بڑا کاروبار تھا،،جسکا اکلوتا وارث اصفہان ہی تھا،،،فاریہ اور اصفہان کی رضامندی سے ہی یہ رشتہ طے ہوا تھا سو سبھی مطمئن تھے،،،،،،

منگنی کو ایک سال ہو گیا تھا،اب اگلے مہینے اصفہان اور اسکی ڈیٹ فکس کرنے کراچی آرہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

💓

بیٹا کیسا رہا یونیورسٹی کا دن۔۔۔۔عبدالرحمان صاحب نے رات ڈائنگ ٹیبل پر اس سے پوچھا۔۔اسکے ذہن میں آج کا سارا واقعہ گھوم گیا،،جی بابا اچھا رہا،،،،،ٹیبل پر اسکے علاوہ سائرہ ممی اور مون بھی موجود تھے۔۔۔۔آپی میں بھی آپکے ساتھ اپکے سکول جاؤں گا،سات سالہ پھولے پھولے سرخ گالوں والے مون نے آنکھیں ٹپٹپاتے ہوئے کہا،،،،حیا مسکرا دی،،،،،،بیٹا آپی سکول نہیں یونیورسٹی جاتی ہیں اور وہاں بچے نہیں جاتے۔۔۔عبدالرحمان صاحب کے بتانے پہ مون کا چہرہ اتر گیا،،،،پھر میں کب جاؤں گا پاپا۔۔۔؟؟،،بیٹا جب آپ بڑے ہو جاؤ گے تب… سائرہ بیگم بھی مسکرائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسی طرح کی چھوٹی موٹی باتوں پہ ہنستے مسکراتے کھانا ختم کیا گیا،،کھانے کے بعد ماما پاپا اپنے روم میں چلے گئے جبکہ مون اسکے ساتھ اسکے روم میں آگیا،،،مون کیلئے سائرہ بیگم نے الگ روم ڈیکوریٹ کروایا تھا مگر وہ ضد کر کے حیا کے روم میں ہی سوتا تھا،،روز کی طرح مون اس سے کہانی سننے کے بعد سو گیا،، جب کے وہ ماضی میں کھو گئ،،بہت عرصے بعد اسے ایک ایک کر کے سب یاد آتے گئے،،،، ایسرا آنٹی حلوک انکل،،ہالے،خدیجہ آنٹی ،اسکے بچپن کی دوست ایپک،،،ترکی کے خوبصورت شہر استنبول کی تالیہ کالونی جہاں اسکا چھوٹا سا گھر اور اس گھر کا ٹیرس جہاں سے سارا حسین استنبول نظر آتا تھا،اس ٹیرس پر بنا وہ خوبصورت باغیچہ جہاں وہ ایپک کے ساتھ بیٹھ کر کھیلا کرتی تھی،جہاں شام کو ماما پاپا اسکے ساتھ بیٹھ کر چائے پیتے تھے اور اسکے ساتھ ڈھیروں باتیں کیا کرتے تھے،،اسکی وائٹ کیوٹ سی جرمن بلی اسکی گود میں بیٹھ کر کھیلا کرتی تھی،،،،،

لیکن مام۔۔۔۔مام کی یاد اسے زیادہ شدت سے آئی اور آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے یونہی تکیے پہ سر رکھے اسے بھگوتے جانے کب نیند کی وادیوں میں اتر گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔