Meri Hayat By Zarish Hussain Readelle50271 Meri Hayat (Episode 64) Last Episode (Part - 3)
Rate this Novel
Meri Hayat (Episode 64) Last Episode (Part - 3)
Meri Hayat By Zarish Hussain
” فلحال اسکی ضرورت نہیں ہے یار۔۔فوڈ کے کچھ کاٹن باہر گاڑی میں رکھے ہیں جو ساتھ لے جائیں گے۔۔تم فکر
مت کرو سویٹ ہارٹ اپنے ملک پہنچ کر بھی اسکی فوڈ امریکہ سے منگوا لوں گا۔اب اس پیرٹ پر سے دھیان ہٹا کر تھوڑی توجہ مجھ پر بھی دے دو یار۔محبت نا سہی پسندیدگی کی سند سے ہی نواز دو سویٹ ہارٹ۔۔اسکی
توجہ مسلسل طوطے کی طرف دیکھ کر کچھ جھنجلا
سا گیا۔۔۔۔
“کیا ہوا جلن ہو رہی ہے میرے مٹھو سے۔۔۔۔؟؟ پیرٹ کے پنجرے کو سائیڈ پر رکھتے وہ مسکرائی۔۔۔۔ پہلی بار وہ اسے فرینکلی انداز میں چھیڑ رہی تھی۔۔۔
کچھ ایسا ہی سمجھ لو۔۔۔۔ اور آئندہ کیلئے سن لو میری موجودگی میں اس پر زیادہ توجہ نا دینا۔ورنہ میں اس
رقیب روسیا کے بچے کو تمہارے پاس نہیں رہنے دونگا۔۔
وہ دھمکانے والے انداز میں کہتا بیڈ سے اٹھ بیٹھا۔۔۔۔۔
حیات نے حیران ہو کر اسکی طرف دیکھا۔۔۔اگلے ہی پل اس کے حسین چہرے پر حیرانی کی جگہ غصہ نمودار
ہوا۔۔ٹھیک ہے واپس لے لیں۔۔مجھے کوئی ضرورت نہیں اسکی۔وہ بے حد ناراضگی سے بولتے ہوئے صوفے پر جا
بیٹھی۔۔
ارے ارے مذاق کر رہا تھا سویٹ ہارٹ۔۔۔تم تو مائنڈ کر گئیں۔اوکے رئیلی سوری۔۔۔وہ گھبرا کر فوراً اسکی طرف بڑھا جب سے انکے بیچ نزدیکیاں آئی تھیں۔ تب سے لے
کر اب تک پہلی مرتبہ حیات نے اسکی کسی بات کا برا مانا تھا۔پھر اسکی ناراضگی تو وہ کسی صورت افورڈ نہیں کر سکتا تھا کیونکہ بڑی مشکل سے تو انکے بیچ سب ٹھیک ہوا تھا۔۔
“سویٹ ہارٹ بیشک تم اپنے مٹھو کو زیادہ ٹائم دو اس پر زیادہ توجہ دو مجھ بیچارے غریب شوہر کو کم ٹائم دو۔۔کم توجہ دو۔میں گزارا کر لوں گا۔لیکن مجھ سے اب
ناراض ہرگز مت ہونا۔۔کیونکہ تمہاری ناراضگی میں ہرگز
افورڈ نہیں کر سکتا کیونکہ پیار کی عادت پڑ چکی ہے۔۔سمجھ رہی ہو نا میری بات سویٹ ہارٹ۔۔۔۔۔۔؟؟وہ معنی
خیز لہجے میں بولا۔سرخ پھولے گالوں کے ساتھ وہ اسے بہت پیاری لگی تھی بے اختیار جھک کر اسے چوم لیا۔
حیات جھینپ کر رہ گئی۔۔۔۔
ٹھیک ہے پیچھے تو ہٹیں اور یہ دیکھیں ذرا اسکو کیج کی سلاخوں پر چونچ مار رہا ہے۔۔۔۔کہیں بھوک تو نہیں لگی اسکو۔۔۔۔؟؟ خود پر سے اسکی توجہ ہٹانے کے لئیے طوطے کی جانب مبذول کرانے لگی۔۔
ماحر نے اسکے شانوں سے ہاتھ ہٹا لئیے۔پھر کندھے آچکا
کر بولا۔۔پتہ نہیں یار۔میں فلحال اسے ہوٹل کے عملے کے حوالے کرتا ہوں وہی اسکی دیکھ بھال کریں گے۔۔۔جاتے وقت ان سے لیتے جائیں گے۔۔۔۔حیات نے اثبات میں سر ہلایا وہ Cage لے کر روم سے باہر چلا گیا۔۔واپس آیا تو وہ روم ٹہلتی کچھ سوچ رہی تھی۔۔ اسے آتے دیکھ کر بولی۔۔۔سنیں ابھی تو یہ پیرٹ جو خوراک کھاتا ہے وہی کھائے گا لیکن اپنے ملک پہنچ کر میں ایسی مہنگی فوڈ
نہیں منگوانے دونگی۔۔۔غضب خدا کا ایک پرندے پر اتنا پیسہ خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے بھلا۔۔۔۔جتنے پیسے اسکی خوراک پر خرچ ہوتے ہیں اس سے اچھا ہے کسی غریب کا پیٹ بھرنے کے کام آ جائیں۔۔مجھے بڑی حیرت ہوتی ہے بلکہ بہت غصہ آتا ہے ان رئیس بے حس لوگوں پر جنکے پاس کتوں بلیوں اور پرندوں پر خرچ کرنے کے لئے تو لاکھوں روپے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔ لیکن سسک سسک کر بھوک سے مرتے غریب کی یہ لوگ مدد نہیں کرتے۔۔۔کس قدر سنگدل ہوتے ہیں ایسے لوگ۔۔کہنے کے ساتھ ہی اس نے لسٹ کے چار ٹکڑے کر دئیے۔۔ماحر جو توجہ سے اس کی بات سن رہا تھا احتجاج کرتے ہوئے بولا۔بھئی مجھے تو اس لسٹ میں شامل نا کرو میں ان بے حس امیروں
میں سے ہرگز نہیں ہوں میری تنظیم کا تو تمہیں پتہ ہے غریبوں کی مدد کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔۔۔۔
ارے نہیں۔۔۔آپکا تھوڑی کہہ رہی ہوں۔۔آپکی تنظیم کا تو مجھے اچھی طرح پتہ ہے۔۔۔کچھ عرصہ وابستہ بھی تو رہی ہوں۔بہت اچھے طریقے سے کام کر رہی ہے۔۔ میں تو ان امیروں کی بات کر رہی ہوں جو غریبوں پر پیسہ خرچ کرنا گناہ سمجھتے ہیں۔۔۔۔
حیات نے صفائی دیتے ہوئے کہا۔۔۔
اچھا بھئی ٹھیک ہے۔۔لیکن اب وہ غریب طوطا کھائے گا کیا۔۔۔؟اگر تمہارا اسے بھوکا مارنے کا ارادہ ہے تو واپس بھجوا دوں۔۔۔؟؟وہ پھر بھول کر واپسی کی بات کر رہا
تھا۔۔۔
حیات نے پھر خاصی ناراضگی سے اسے دیکھا۔۔۔
ہرگز نہیں۔۔۔میں اسے چوری کا عادی بناؤں گی۔۔اور آپ شائد بھول رہے ہیں۔۔کچھ دیر پہلے آپ نے کہا تھا کہ یہ میری منہ دکھائی کا گفٹ ہے اور اب پھر واپس بھیجنے کی بات کر رہے چاہتے ہیں۔۔۔وہ پھولے ہوئے منہ کیساتھ کہہ رہی تھی۔۔۔
ارے ہاں تمہاری منہ دکھائی کا ہی گفٹ ہے وہ ہنس پڑا
تھا۔ اچھا یہ چوری کیا ہوتی ہے۔میں تو پہلی بار یہ نام سن رہا ہوں۔وہ بھنویں آچکا کر اسے دیکھنے لگا۔۔۔
ہائیں آپ کو نہیں پتہ چوری کا۔۔۔؟؟اسکی نیلی آنکھوں میں حیرانگی آن سمائی۔۔۔۔ وہ واقعی انجان تھا یا پھر جان بوجھ کر بن رہا تھا حیات سمجھ نہیں پائی۔۔۔
نہیں یار۔پتہ ہوتا تو تم سے پوچھتا کیا۔اس نے سنجیدہ چہرے کیساتھ نفی میں سر ہلایا۔۔جیسے زندگی میں یہ
نام کبھی سنا بھی نا ہو۔۔
“چوری دیسی گھی کی بنتی ہے۔۔۔۔۔ بچپن میں کافی بار کھائی ہے میں نے۔۔۔۔۔ رحمت بوا تھیں نا وہ بنا کر دیتی
تھیں۔۔۔لیکن مجھے حیرت ہو رہی ہے کہ آپکو چوری کا
کیوں نہیں پتہ۔۔ آپ کونسا کسی ایبروڈ کنڑی میں پیدا ہوئے جو اس لفظ سے ہی ناواقف ہیں۔۔۔ وہ تحیر بھرے انداز میں کہتی اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
“پیدا تو اپنے ملک میں ہی ہوا ہوں یار۔۔۔۔ بٹ رہا زیادہ ٹائم باہر ہی اسلئیے ان سوغات سے واقفیت نہیں ہے۔۔۔ اگر تمہیں بنانی آتی ہے تو بنا کر کھلانا۔ویسے ہوتی کس شکل کی ہوتی ہے۔۔۔۔؟؟
آپ نے واقعی کبھی نام بھی نہیں سنا۔۔۔؟؟ وہ مشکوک نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔۔اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا اسکے بیان پر۔۔۔
ارے نہیں یار۔۔۔۔۔۔ اگر دیکھی اور کھائی ہوتی تو تم سے پوچھتا کیا۔۔۔۔وہ مسکراہٹ دباتے ہوئے بولا
ااااااچھا۔۔اس نے اچھا کو لمبا کھینچا۔۔ہیر رانجھا مووی بھی نہیں دیکھی کیا،یا انکی لو سٹوری بھی نہیں سنی
وہ تو اتنی مشہور ہے۔۔۔۔۔ ہیر جب کھیتوں میں رانجھے
سے ملنے جاتی تھی تو اس کیلئے چوری بنا کر لے جاتی تھی۔۔
یہ ہیر رانجھا کون تھے۔۔۔؟؟ اس نے بھولپن سے پوچھا۔۔
سنجیدہ چہرہ۔۔مگر آنکھیں مسکراتی ہوئیں۔۔اب کی بار
حیات نے غور سے دیکھا تو اسکی آنکھوں میں چمکتی
شرارت صاف نظر آ رہی تھی۔جسے سمجھتے ہوئے اسے ٹھیک ٹھاک غصہ چڑھا تبھی بے حد جل کر جواب دیا۔۔۔
بھائی بہن تھے۔جواب میں ماحر کا قہقہ بے ساختہ تھا۔اوہو اچھا۔۔۔میں تو انہیں لور سمجھتا تھا۔۔خیر شکر ہے تم نے میری اصلاح کر دی۔۔۔۔۔ماحر نے ہنستے ہوئے اسے
اپنی بانہوں میں بھرا۔۔اسکی گہری آنکھیں ہنستے ہوئے جیسے جگمگا سی اٹھی تھیں۔۔۔۔۔حیات اسکے مضبوط
بازوؤں میں کسمسانے لگی۔۔
سویٹ ہارٹ آئس کریم کھانے چلیں۔۔۔؟؟ ماحر نے اسکے چہرے کی طرف جھک کر کہا۔۔۔
ابھی۔۔۔؟مگر رات کو ہماری فلائٹ ہے تو پیکنگ بھی تو
کرنی ہے نا۔۔ماحر نے اسے اپنی گرفت سے آزاد کیا تو وہ سیدھی ہو بیٹھی۔۔ اور دونوں ہاتھوں سے اپنے بکھرے بال سمیٹنے لگی۔۔۔۔
پیکنگ ہو جائیگی ابھی ٹائم پڑا ہے کافی۔۔اور آئسکریم پارلر ہوٹل سے زیادہ دور نہیں۔۔۔۔ہم تھوڑا سا گھوم پھر
کر آ جائیں گے سویٹ ہارٹ۔۔اسکا لہجہ محبت کی مہک
سے بوجھل تھا۔۔۔ ہاتھ بڑھا کر اسکے رخسار پر جھولتی لٹ کو کان کے پیچھے اڑسا۔۔اسکی نظروں کی چمک اور
ہاتھ کی حرکت نے حیات کو جھینپ جانے پر مجبور کر دیا۔کپڑے نکالنے کے بہانے وہ وہاں سے اٹھ گئی تو ماحر
بھی مسکراتے ہوئے چینج کرنے کیلئے چلا گیا۔پانچ منٹ
بعد چینج کر کے باہر آیا۔۔ تو وہ بھی تیار ہو چکی تھی اور جوتے پہن رہی تھی۔۔۔
کیسا لگ رہا ہوں سویٹ ہارٹ۔۔۔؟؟ وہ اسکے عین سامنے
جم کر کھڑا تھا۔سینڈل کے سڑپ بند کرتی حیات نے سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا۔۔۔۔
سرخ و سپید رنگت۔۔۔بلیک پینٹ پر وائٹ شرٹ۔۔۔ بلیک کوٹ پہنے۔سلیقے سے ہئیر اسٹائل بنائے۔۔خوشبوؤں میں
مہکتا ہوا۔۔۔۔ اس پر اسکی مبہوت کر دینے والی وجاہت
وہ واقعی کچھ دیر نظریں نہیں ہٹا سکی۔۔۔
کیا ہوا سویٹ ہارٹ۔۔بہت ہینڈسم لگ رہا ہوں نا۔۔۔لگتا
ہے تم پر بھی جادو چل گیا میرے حسن کا۔۔۔۔ امپریس
ہو گئی نا مجھ سے۔۔اسکے کھلکھلاتے انداز پر حیات نا صرف چونکی بلکہ خفت سے سرخ پڑتی بے ساختہ نظریں چرا گئی۔۔۔
بہت ہی کوئی کنجوس لڑکی ہو۔۔۔کبھی ایک لفظ تعریف کا بول کر مجھے خوش مت کرنا۔۔۔۔ وہ مصنوعی خفگی
سے بولا۔۔قسمت دیکھو پچھلے بیس سالوں سے لاکھوں فینز کے منہ سے اپنی تعریفیں سننے والا سپرسٹار اپنی
بیوی کے منہ سے اپنے لئیے تعریف کا ایک لفظ سننے کو
ترس رہا ہے۔۔۔ ویسے سویٹ ہارٹ تم تو کافی مذہبی ہو اسلامی کتابیں پڑھتی رہتی ہو کیا یہ بات نہیں معلوم تمہیں کہ شوہر کی تعریف کرنے میں کتنا ثواب ملتا ہے شرارتی انداز میں کہتے ہوئے وہ اس کے پہلو میں ٹک گیا اور ہاتھ بڑھا کر خود سے قریب کر لیا۔۔۔
شوہر کی تعریف اور ثواب کے بارے میں کسی اسلامی کتاب میں ابھی تک میں نے تو نہیں پڑھا۔۔وہ مسکراہٹ دباتی اس سے اپنا آپ چھڑوا کر ڈریسنگ مرر کے سامنے جا کھڑی ہوئی اور براؤن گھنے ریشمی بالوں میں برش کرنے لگی۔۔۔
چلو کوئی بات نہیں میں نے بتا دیا نا۔۔۔ اب اس بات کو
ہمیشہ یاد رکھنا۔۔۔وہ پھر اسکے قریب جا کھڑا ہوا۔۔اتنا
نزدیک کہ اسکے لباس سے اٹھتی پرفیوم کی مہک حیا
کے نتھنوں میں گھسنے لگی۔۔۔۔ وہ اسکے بالوں پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔۔۔
کیا کر رہے ہیں۔۔۔۔۔؟؟ وہ جھنجھلائی۔۔۔برش ہاتھ سے گر گیا تھا۔۔۔۔۔ جبکہ وہ اسکی جھنجھلاہٹ سے حظ اٹھاتے ہوئے بولا۔چیک کر رہا ہوں سویٹ ہارٹ کہ تمہارے ہئیر کا کلر اصلی ہے یا تم نے ڈائی کئیے ہوئے ہیں۔۔وہ مسکرا
رہا تھا۔۔حیات عبدالرحمان کو تپ چڑھی۔۔۔
ایکسکیوزمی مسٹر بالکل اورجنل کلر ہے۔۔۔۔ ڈائی وائی
کبھی نہیں کئیے میں نے۔اس نے کھنکھارتے ہوئے خفگی سے ٹوکا۔۔۔
مائنڈ کیوں کرتی ہو سویٹ ہارٹ۔۔مذاق کر رہا تھا اچھا
ادھر دو میں برش کرتا ہوں۔۔۔ کہنے کے ساتھ ہی اس کے
ہاتھ سے برش لے لیا اور اسکے بالوں میں چلانے لگا۔۔۔۔
یہ بات بات پر سویٹ ہارٹ کیوں بولتے ہیں۔۔۔کچھ اور
نہیں بول سکتے کیا۔۔۔ مطلب کے میرا نام بھی تو لیا جا سکتا ہے۔حیات نے اسکے ہاتھ سے برش لینا چاہا مگر وہ
اسکا ہاتھ پیچھے کر کے اپنا کام جاری رکھتے ہوئے بولا
نام تو لے سکتا ہوں تمہارا۔۔مگر کیا کروں تم ہو ہی اتنی
سویٹ کہ یہ لفظ سویٹ ہارٹ تم پر زیادہ جچتا ہے۔۔۔
لیکن پلیز اب تم مجھ پر کوئی حد نافذ نا کر دینا۔پہلے بھی شادی ہوجانے کے باوجود ایک سال تمہارے لئیے صرف آہیں بھرتے گزارا ہے۔۔۔اللّٰہ اللّٰہ کر کے تو تم راضی ہوئی ہو۔۔اب میں تمہاری کوئی ناراضگی کوئی پابندی برداشت نہیں کروں گا۔وہ ہلکی سی خفگی کیساتھ کہہ رہا تھا۔حیات کے پنک لپ اسٹک سے سجے ہونٹوں پر بے ساختہ مسکراہٹ چمکی۔۔۔۔۔
“اچھا بس کریں میں خود کر لوں گی۔۔۔ وہ اسے پیچھے دھکیلتے ہوئے بولی۔۔۔ تو وہ بھی مسکراتے ہوئے شرافت سے صوفے پر جا بیٹھا۔۔۔۔
پھر کچھ دیر بعد وہ دونوں ہوٹل سے باہر تھے۔۔اسوقت شام کے چار بج رہے تھے۔۔۔ آٹھ بجے انکی نیویارک کیلئے فلائٹ تھی۔۔۔۔ سڑک پار کر کے وہ دونوں ہوٹل کے دائیں جانب بنے ولٹڈ پارک میں آ گئے جس کے اندر آئس کریم پارلر تھا۔چونکہ شام کا وقت تھا اسلیئے پارک میں چہل پہل صبح کی نسبت زیادہ تھی۔۔۔۔۔ ایشین کالے گورے ہر ملک ہر خطے کے لوگوں سے پارک بھرا ہوا تھا۔۔۔پارک کے کناروں پر سر بلند ہوتی عمارتیں روشنیوں سے جگمگا رہی تھیں۔حیات کی نظر پارک کے ایک گوشے پر سرسبز درختوں میں گھری جھیل پر پڑی تو اس نے بےاختیار ماحر کو اس طرف متوجہ کیا۔۔
آرلینڈو میں جو چیز اسے سب سے زیادہ پسند آئی تھی وہ تھیں وہاں کی خوبصورت جھیلیں جن میں قدرتی اور مصنوعی دونوں جھیلیں شامل تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکی
دلچسپی دیکھ کر ماحر اسے جھیل کی طرف لے آیا۔۔۔ایک تو شام کا سماں تھا۔۔۔ اوپر سے مصنوعی روشنیوں میں جگمگاتی جھیل۔۔۔۔وہ اسکی خوبصورتی میں کھو گئی۔۔آرلینڈو کی حسین شام جیسے درختوں میں گھری کائی زدہ جھیل پر اتری ہوئی تھی۔۔۔۔۔ درختوں کے اوپر فینسی ٹیوب لائٹس لگی ہوئی تھیں۔۔جنکی رنگ برنگی روشنیاں سیدھی جھیل کے پانی پر پڑ رہی تھیں۔جھیل کے اوپر قدیم طرز کا خمدار پل بھی بنا ہوا تھا۔بہت سے لوگ وہاں جمع تھے۔۔۔بہت سارے بچے جھیل میں تیرتی بطخوں کیطرف ڈبل روٹی کے ٹکڑے پھینک رہے تھے۔۔۔۔انہی بچوں میں حیات کی نظر ایک حسین بچے پر پڑی سال ڈیڑھ سال کا وہ انگریز بچہ اپنی ماں کی گود میں چڑھا کھلکھلاتے ہوئے بطخوں کیطرف ڈبل روٹی پھینک رہا تھا۔۔وہ گول مٹول سا بچہ اتنا کیوٹ اتنا خوبصورت تھا کہ بے ساختہ اس کا دل اس بچے کی طرف ہمکنے لگے۔۔۔
ماحر دیکھیں وہ بچہ کتنا خوبصورت ہے۔۔۔مجھے اسکے کیساتھ پکچر بنوانی ہے۔۔اس بچے کی طرف اشارہ کرتے اس نے ماحر سے کہا۔۔۔
“ماحر نے چونک کر اس طرف دیکھا جدھر وہ اشارہ کر
رہی تھی۔بلیو ٹی شرٹ میں ملبوس وہ ننھا بچہ واقعی
اس وقت وہاں موجود تمام بچوں میں سب سے زیادہ کیوٹ تھا۔۔۔میری طرف سے تو پرمیشن ہے سویٹ ہارٹ مگر اسکی ماں شائد نا دے پرمیشن۔۔۔
میں جا کر اسکی ماں سے پوچھوں۔۔۔؟؟حیات نے فوراً اجازت چاہی۔۔۔
ایز یو وش سویٹ ہارٹ۔۔۔۔ماحر نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا تو وہ خوشی خوشی اس عورت کی طرف بڑھ گئی جس کی گود میں وہ حسین بچہ تھا۔۔۔
ایکسکیوزمی میم۔۔۔اپکا بچہ بہت کیوٹ ہے۔۔۔۔کیا میں اسکے ساتھ ایک فوٹو بنوا سکتی ہوں۔۔۔اس عورت کے
قریب جا کر اس نے انگلش میں پوچھا۔۔۔
ماں سے پہلے قریب کھڑے باپ نے نہایت خوشدلی سے کہا وائے ناٹ میم۔۔شیور۔۔۔شیور۔۔۔۔۔۔ عورت کا گڈ لکنگ
ہزبینڈ مسکرایا تھا۔۔حیات خوش ہو گئی۔۔۔ ورنہ اسے ڈر
تھا کہ وہ منع کر دیں گے کیونکہ فارنرز کسی اجنبی کو
اپنے بچوں کی پکچرز کھینچنے کی پرمیشن نہیں دیتے۔
اس نے ایکسائیڈڈ ہو کر ماحر کو اشارے سے قریب آنے کو کہا جو کچھ فاصلے پر کھڑا اپنی کال سن رہا تھا۔۔۔ اسکے اشارہ کرنے پر قریب آیا تو حیات نے اس انگریز بچے کو گود میں لے لیتے ہوئے اسے فوٹو لینے کو کہا۔۔ ماحر نے اپنے موبائل سے دو تین فوٹو بنا دیے تو وہ اس انگریز جوڑے کا شکریہ ادا کرتی ان کا بچہ انکو تھما کر ماحر کیساتھ آگے بڑھ گئی۔ تھوڑی مزید چہل قدمی کے بعد وہ آئس کریم پارلر میں آ بیٹھے۔۔۔یہاں بھی لوگوں کا رش تھا۔۔۔۔ کارنر پر موجود ایک ٹیبل کے گرد وہ بھی بیٹھ گئے۔۔ ماحر نے بلیو گوگلز کے ساتھ سر پر کیپ لے رکھی تھی تاکہ لوگ آسانی سے پہچان نا سکیں۔۔۔انگریزوں سے اسے ایسا کوئی زیادہ خطرہ نہیں تھا۔مگر
وجہ یہ تھی کہ اپنے ملک کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد وہاں دکھائی دے رہی تھی۔۔۔۔اگر کسی کو پتہ چل جاتا کہ وہ معروف فلمسٹار ماحر خان ہے تو یقیناً لوگوں کی ایک بھیڑ نے وہاں جمع ہو جانا تھا۔۔۔فارن کنٹریز میں تو وہ پھر بھی آرام سے گھوم پھر لیتا تھا لیکن اپنے ملک میں اسکا پبلک پلیسز پر نکلنا بھی محال تھا۔۔۔۔
تمہیں بچے اچھے لگتے ہیں۔۔۔۔؟؟جب ویٹر آئس کریم ان
کی ٹیبل پر سجا کر جا چکا تھا تب ماحر نے اس سے یہ سوال کیا تھا۔۔۔
ہاں نہیں۔۔۔مطلب سارے نہیں بس جو کیوٹ ہوں صرف وہی اچھے لگتے ہیں۔۔۔وہ ناجانے کیوں اسکے اس سوال پر گڑبڑا سی گئی تھی۔۔۔
اوہو صرف کیوٹ بچے۔۔۔اسکا مطلب ہے ہمارے بچوں کا کیوٹ ہونا بہت ضروری ہے ورنہ اگر ہمارے بچے کیوٹ
نا ہوئے تو تم انہیں پیار ہی نہیں کرو گی ہے نا۔۔۔اس نے مسکراہٹ دباتے ہوئے حیات کو دیکھا تو اسکی پرشوق نگاہوں کے تاثر سے نروس ہو کر اس نے چہرہ جھکا لیا۔۔
نہیں اب ایسی بات بھی نہیں۔۔۔ اپنے بچے خوبصورت نا بھی ہوں لیکن ماں باپ کو تو خوبصورت ہی لگتے ہیں۔وہ سرخ چہرے کیساتھ شرمندہ سی ہنس دی تھی۔۔۔
اسکا سرخ پڑتا چہرہ دیکھ کر وہ ہنس دیا۔۔۔
ہاں یہ بات تو صحیح ہے اپنی اولاد خوبصورت نا بھی ہو ماں باپ کو خوبصورت ہی لگتی ہے۔۔اس سے مجھے ایک جوک یاد آ رہا ہے تمہیں سناؤں۔۔۔؟؟اس نے سوالیہ نگاہوں سے اسکی طرف دیکھا۔۔۔
جی سنائیں۔۔۔وہ ہم تن گوش ہوئی۔۔۔۔اوکے۔وہ کھنکھارا
ایک بچہ روز اپنی ماں سے سوال کرتا تھا کہ ممی میں
کیسے پیدا ہوا۔۔۔۔وہ کبھی کوئی جواب دیتی اور کبھی کوئی۔۔مگر ایک دن بچے کے پوچھنے پر اس نے کہا۔۔بیٹا
میں نے گوشت کا ایک ٹکڑا ایک گھڑے کے اندر ڈال کر رکھ دیا تھا پھر کچھ دنوں بعد دیکھا تو گوشت کے اس ٹکڑے سے تم بن چکے تھے،بچہ کریٹیو مائنڈ رکھتا تھا۔اس نے سوچا ماں والا ایکسپیرینس میں بھی ٹرائی کر
کے دیکھوں۔۔۔سو اس نے بھی گوشت کا ایک ٹکڑا لے کر خالی گھڑے میں رکھ دیا پھر کچھ دنوں بعد دیکھا تو گوشت کے اس ٹکڑے کی جگہ ایک مینڈک بیٹھا ہوا تھا۔وہ اس مینڈک کو اٹھا کر کہنے لگا۔۔۔۔ہو تو بڑی ہی بدصورت مگر کیا کروں پیار تو کرنا پڑے گا کیونکہ اولاد جو اپنی ہو۔۔۔یہ کہہ کر اسے چوم لیا۔۔۔
ماحر نے لطیفہ ختم کیا تو حیات جو کافی توجہ سے سن رہی تھی ایک دم کھلکھلا کر ہنسنے لگی۔۔۔پہلی بار وہ اس کے سامنے یوں کھلکھلا کر ہنس رہی تھی۔ماحر بے حد غور سے اسے ہنستے ہوئے دیکھ رہا تھا۔۔۔ اب تک وہ جتنی بھی لڑکیوں سے مل چکا تھا ان میں یہ پہلی ایسی لڑکی تھی جس کی ہنسی بھی دل موہ لینے والی تھی۔۔۔ہمارے بچوں کا خوبصورت ہونا کنفرم ہے سویٹ ہارٹ کیونکہ ہم دونوں ہی حسین ہیں۔۔۔وہ کہنیاں ٹیبل پر جمائے مسکراتے ہوئے اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔
“اپنی تعریف خود کر رہے۔۔۔۔۔ حیات نے ہنس کر شرمندہ کرنا چاہا۔۔تمہاری بھی تو ساتھ کر رہا ہوں۔۔۔وہ مسکرایا
جی شکریہ نوازش۔۔وہ شانے آچکا کر بے نیازی سے بولی اور اپنی آئس کریم کی طرف متوجہ ہو گئی۔گلابی اور بلیک کمبینیشن کے برانڈڈ لباس میں ملبوس وہ آرلینڈو کی گلابی شام کا ہی حصہ معلوم ہو رہی تھی۔۔
واپسی پہ ہوٹل کی طرف آتے ہوئے سڑک کے بائیں طرف چنار اور صنوبر کے درختوں میں گھری ایک جگہ دیکھ
کر وہ رک گئی تھی۔یہاں جگہ جگہ پر ایسے خوبصورت پر سکون مقامات ملتے۔۔۔جب میں پہلی بار یہاں آیا تھا یہ سن ننانوے کی بات ہے۔۔۔۔ یہاں کی نیچرل بیوٹی نے
مجھے بھی ایسے ہی متاثر کیا تھا۔۔اسکے بعد میں جب بھی امریکہ آیا ہوں یہاں کا چکر تو لازمی لگاتا ہوں اور اس بار تو تم میرے ساتھ ہو سو آرلینڈو کا ٹور اور بھی حسین ہو گیا ہے۔۔وہ سامنے موجود چڑھائی کو دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔اونچا نیچا ناہموار راستہ تھا۔مگر اوپر سے سبزے میں گھری جنگلی پھولوں سے ڈھکی چوٹی نظر آ رہی تھی۔۔۔۔۔ اسکی کشش انہیں اوپر کھینچ رہی تھی۔فلائٹ رات کو تھی اور رات ہونے میں ابھی خاصا ٹائم تھا سو وہ اطمینان سے وہاں گھوم پھر رہے تھے۔۔
تم فیل کرو حیا۔۔یہاں قدرتی حسن کیساتھ بہت سکون ہے نیویارک جیسا ہنگامہ شور شرابہ اس شہر میں نہیں ہے۔۔۔۔۔ وہ سبزے میں گھرے جنت نظیر گوشے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہہ رہا تھا۔۔۔جنگلی پھولوں کی بھینی
بھینی مہک ماحول کو پرکیف بنا رہی تھی۔ہوٹل کے ارد
گرد دور دور تک سبزہ اور جنگلی پھول ہی نظر آتے تھے
نرم مخملیں گھاس پر ننگے پیر چلنے کی خواہش ہوئی تو وہ جھک کر سینڈل اتارنے لگی۔ مگر ماحر نے یہ کہہ کر روک دیا یہ جنگلات کا علاقہ ہے چھوٹے بڑے سانپ یہاں بکثرت پائے جاتے ہیں۔لہذا گھاس پر ننگے پیر چلنا صحیح نہیں۔۔۔۔ وہ اثبات میں سر ہلاتی اسکے ہاتھ سے ڈیجیٹل کیمرہ جسے وہ آتے وقت ہوٹل سے باہر کھڑی اپنی گاڑی سے نکال کر لائے تھے لے کر اس جگہ کی
مختلف زاویوں سے تصویریں لینے لگی۔۔۔۔
چلو سویٹ ہارٹ اب تمہاری پکچرز لیتا ہوں۔۔۔۔جب وہ اس جگہ کی تصویریں لے چکی تھی تو ماحر نے اسکے ہاتھ سے کیمرہ لیتے ہوئے کہا۔۔۔
“یہاں نہیں اوپر چوٹی پر پہنچ کر بنائیے گا۔۔۔۔ وہ جگہ زیادہ خوبصورت ہے۔۔وہ اوپر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔
لیکن وہ جگہ تو کافی اونچائی پر ہے یار۔۔۔۔۔تم چڑھ لو گی کیا۔۔۔؟؟ماحر نے سوالیہ انداز میں دیکھتے ہوئے کہا
کوشش کرتی ہوں۔۔۔”
اوکے آؤ پھر۔۔۔وہ کندھے اچکاتا آگے بڑھ گیا۔۔
حیات بھی سنبھل کر آگے بڑھی تھی۔۔۔ مگر دو چار قدم کے بعد ہی اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ خاصا مشکل کام ہے
وہ ہچکچا کر رک گئی تھی ماحر اسے دیکھنے کیلئے مڑا
تو اسکی پریشان شکل دیکھ کر ہنس دیا۔۔۔۔
کیا ہوا سویٹ ہارٹ ہمت جواب دے گئی۔۔۔ وہ مسکراتا
اسکا مذاق اڑاتا چار قدم نیچے آیا اور اسکا ہاتھ تھام
کر اوپر کی طرف بڑھنے لگا۔۔دس منٹ کے بعد ہی حیات
کی ہمت جواب دینے لگی تھی جبکہ ماحر بڑے اطمینان سے چل رہا تھا۔۔۔
کاش یہ راستہ کبھی ختم نا ہو۔۔۔ہم اسطرح ساتھ ساتھ چلتے رہیں۔۔۔۔ وہ ساتھ چلتے ہوئے اک جذب سے کہہ رہا تھا۔۔۔
خدا کا خوف کریں۔۔۔میں کب سے دعا مانگ رہی ہوں کہ
جلدی ختم ہو۔۔۔نیچے سے تو چوٹی اتنی دور نہیں لگتی
مگر اب تو دور سے دور تر ہوتی جا رہی ہے۔۔۔۔وہ گہرے سانس لیتے ہوئے کوفت زدہ لہجہ میں بولی۔۔۔
“یار تم کتنی بور کتنی ان رومینٹک لڑکی ہو۔۔اس وقت تمہاری جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو جو خیالات میرے ہیں اس کے بھی یہی ہوتے۔۔۔۔۔ وہ مایوسی بھرے لہجے میں بولا۔ویسے تمہیں میری قدر ہی نہیں ہے۔۔معلوم ہے
ننانوے فیصد لڑکیوں کا کرش ہوں میں لیکن تمہیں جو
بن مانگے مل گیا اس لئیے جناب کی نظروں میں کوئی
ویلیو ہی نہیں ہماری۔۔۔۔۔ وہ کہتے ہیں نا جو چیز آسانی سے مل جائے اسکی انسان قدر نہیں کرتا۔۔میرے معاملے
میں بھی تم ویسا ہی کر رہی ہو۔۔۔ تمہیں تو اپنی خوش
قسمتی کا اندازہ نہیں۔۔ کسی اور لڑکی سے پوچھ کر تو
دیکھو وہ تمہیں بتائے گی کہ تم کتنی خوش نصیب ہو
تمہیں ہیرا ملا ہے ہیرا۔وہ اسکے لبوں پر مسکراہٹ دیکھ
چکا تھا اس لئیے جل کر کہہ رہا تھا۔۔۔
ہو گیا آپ کا اپنا تعریف نامہ ختم تو میں یہاں بیٹھ کر
تھوڑی دیر کیلئے ریلیکس کر لوں۔۔کیونکہ مجھ سے اب
مزید نہیں چلا جا رہا۔۔۔وہ مسکراہٹ روک کر رونے والی شکل بناتے ہوئے بولی۔۔۔۔
نہیں بس پانچ منٹ کا تو مزید فاصلہ رہ گیا ہے۔۔۔۔ہمت کرو سویٹ ہارٹ۔اگر کہو تو میں اٹھا لوں تمہیں۔۔۔ماحر
نے تسلی دینے کیساتھ اٹھانے کی بھی پیشکش کی۔۔۔۔
نہیں نہیں ہرگز نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ یوں بدکی جیسے وہ سچ میں اسے اٹھا لے گا۔۔۔ حالانکہ راستہ ایسا ہرگز نہیں تھا کسی کو اٹھا کر بندہ آرام سے چل پاتا۔۔۔ملائم گھاس پر پیر پھسلنے کا خطرہ تھا۔۔۔اسکا بدکنا دیکھ کر وہ ہنس
دیا۔۔۔پھر تسلی دیتے ہوئے بولا۔۔۔
نہیں اٹھاتا یار چلو تم۔ہم پہنچنے والے ہیں وہ اسے لئیے تیز تیز قدم اٹھاتا بالآخر اس جگہ لے آیا جسے وہ نیچے سے دیکھ کر مچل اٹھی تھی۔۔۔۔
مائی گاڈ۔۔۔کتنی خوبصورت جگہ ہے یہ تو۔۔۔۔ وہ جنگلی پھولوں کے درمیان کھڑی چاروں طرف نظریں گھماتے
وہ ستائشی لہجے میں کہہ رہی تھی۔۔۔۔۔ اب جلدی سے میری پکچرز بنائیں۔۔۔۔حسین چہرے پر دلکش مسکراہٹ
سجائے پھولوں کے درمیان بیٹھی۔۔۔۔ وہ خود بھی انہی پھولوں کا حصہ معلوم ہو رہی تھی۔۔۔۔ ماحر مسکراتے ہوئے اسکی تصویریں لینے لگا۔۔ساتھ ساتھ وہ اس سے
مختلف پوز بھی بنوا رہا تھا۔۔۔۔ اسکی ہدایات پر کبھی مسکراتے تو کبھی شرماتے ہوئے عمل کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
زندگی کتنی حسین ہو چکی ہے۔۔اسکا احساس پھولوں کے درمیان بیٹھی حیات عبدالرحمان کو پہلی بار ہو رہا تھا۔۔وہ اپنے اندر مکمل طمانیت اور سرشاری محسوس کر رہی تھی۔۔۔
اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ یا ٹوئٹر اکاؤنٹ پر میری پکچرز اپلوڈ مت کیجیئے گا۔۔۔جب وہ اسکی دس بارہ پکچرز لے چکا تھا تب حیات نے اسے کہا۔۔۔
بے فکر رہو سویٹ ہارٹ۔۔۔پہلے کی بات اور تھی مگر اب
اب مجھے خود بھی اچھا نہیں لگے لگا کہ میں پبلک کے سامنے اپنی بیوی کی نمائش کرتا پھروں۔۔۔
وہ بھرپور سنجیدگی سے کہتے ہوئے اسکے قریب گھاس پر بیٹھ گیا۔تقریباً تیس منٹ انہوں نے وہاں گزارے۔۔اس
دوران دونوں نے بہت سی باتیں کیں۔۔۔۔ حیات کا تو دل
ہی نہیں کر رہا تھا وہاں سے نیچے آنے کو۔مگر آنا تو تھا واپسی پر بھی وہ اسی طرح اسکا ہاتھ پکڑ کر ہی اتری تھی۔۔پھر آرلینڈو سے سیدھے وہ لوگ نیویارک گئے تھے جہاں فاریہ، اصفہان کے ساتھ ایک دن گزار کر دوسرے دن وہ واپس پاکستان آ گئے۔۔۔
مگر کراچی ائیرپورٹ پر تقدیر نے اسے جھٹکا دیا۔۔۔۔اسکی زندگی کا بہت بڑا جھٹکا+دھچکا۔۔۔
ہمیشہ کی طرح ائیرپورٹ پر ماحر خان کے فینز کا ایک
ہجوم جمع ہو گیا تھا۔ہجوم کے بیچ سے گزرتی وہ ماحر
کیساتھ آگے بڑھ رہی تھی جب غیر ارادی طور پر اسکی
نظر کچھ فاصلے پر کھڑی گاڑی میں سوار ہوتے شخص پر پڑی وہ اپنی جگہ پر منجمد ہو گئی تھی پھٹی پھٹی
آنکھوں سے بلیک کوٹ پینٹ میں ملبوس اس شخص کو دیکھ رہی تھی جو اسکا ماضی بن کر گزر چکا تھا۔۔
مگر اب تمام تر حقیقت کے ساتھ سامنے تھا۔۔۔
وہ جو کوئی بھی تھا ارتضیٰ حسن۔۔۔۔۔ یا ہوبہو اسکی کاربن کاپی۔۔اس سے کچھ فاصلے پر کھڑا کسی کیساتھ
فون پر بات کر رہا تھا۔۔مڑ کر ایک نظر اس نے ہجوم پر ڈالی تھی مگر اسکی نظر رکی نہیں۔۔۔۔چہرے پر چشمہ
لگا ہونے کی وجہ سے وہ جان نہیں پائی کہ وہ حیات عبدالرحمان کی جھلک دیکھ پایا تھا یا نہیں۔۔۔۔
وہ گاڑی میں بیٹھ چکا تھا۔۔ اسلئیے چہرے کا اب صرف سائیڈ پوز ہی نظر آ رہا تھا۔۔۔مگر سائیڈ پوز سے ارتضیٰ حسن کی واضع شباہت نظر آ رہی تھی۔۔
اگر ارتضیٰ حسن زندہ تھا تو اسکے نکاح میں ہوتے ہوئے وہ ایک اور نکاح کر بیٹھی تھی۔۔۔یعنی نکاح پہ نکاح کا
گناہ۔۔کیا وہ اس گناہ کی مرتکب ہو بیٹھی تھی۔۔۔۔؟؟؟
مگر یہ ناممکن تھا ارتضیٰ حسن بھلا کیسے زندہ کیسے ہو سکتا تھا۔۔سفید کفن میں لپٹا اسکا وجود خود اپنی آنکھوں سے اس نے دیکھا تھا۔۔۔۔
تو پھر یہ شخص کون تھا۔۔۔؟؟
اسکا دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا۔۔۔
جسم میں ہلکی سی کپکپاہٹ در آئی تھی۔۔
ماتھے پر پسینے کی ننھی منی بوندیں نمودار ہو گئیں۔۔۔
وہ شخص اب تک گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکل چکا تھا جب کہ اس کیلئے سوالیہ نشان چھوڑ گیا تھا۔۔۔
حیات نے اپنا سر چکراتا اور دل ڈوبتا محسوس کیا۔۔۔
ر۔۔۔۔ کافی ٹارچر کے بعد ظفر کاظمی کے سیکرٹری نے تسلیم کیا ہے کہ عبدالرحمٰن علی کا قتل ظفر کاظمی نے ہی کروایا تھا اور اس سلسلے میں عبدالرحمان علی کا علاج کرنے والے ڈاکٹر نے ہیلپ کی تھی۔۔۔۔اس کا پرسنل سیکرٹری رضا اس سارے معاملے کا عینی شاہد ہے۔ظفر کاظمی فلحال اپنے بیٹے کے پاس دوبئی گیا ہوا ہے۔لیکن اگلے چند دنوں میں اس کی واپسی متوقع ہے۔۔۔۔۔۔میرے کہنے پر اسکے سیکرٹری نے اس سے فون پر بات کی ہے تاکہ اسے کسی قسم کا شک نا ہو۔۔۔ میری رائے تو یہ ہے سر وہ جیسے ہی یہاں کی سرزمین پر قدم رکھے آپ اسے فوراً اریسٹ کروا لیجئیے۔۔
وہ جیسے ہی پروڈکشن ہاؤس آیا فرقان نے اسے رپورٹ دی اور ساتھ میں اپنی رائے بھی۔۔۔۔۔
تھینکس فرقان مجھے تم سے یہی امید تھی۔۔۔۔۔تمہاری
رائے مجھے پسند آئی ہے۔۔۔۔میں ڈی آئی جی فرخ شواظ
سے بات کرتا ہوں۔اسے ائیرپورٹ سے ہی اریسٹ کرواؤں
گا۔اور ہاں اسکے سیکرٹری کو اچھی طرح ڈرا دھمکا کے رہا کرنا ایسا نا ہو کہ وہ بعد میں اپنے اس بیان سے مکر جائے اور عدالت میں گواہی نا دے۔بلکہ ممکن ہو تو اس کی کسی کمزوری کا پتہ لگا کر اسے تب تک بلیک میل کرو جب تک وہ ظفر کاظمی کے خلاف عدالت میں گواہی نا دے دے۔۔ماحر نے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے اسے سنبھل جانے کی تاکید کی۔۔۔
اوکے سر۔آپ بالکل فکر نا کریں جب تک وہ عدالت میں گواہی نہیں دے دے گا تب تک وہ ہماری نگرانی میں ہی رہے گا۔۔فرقان نے مؤدبانہ جواب دیا پھر کچھ توقف کے بعد بولا۔۔۔۔ سر کیا بات ہے آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں کیا اسلئیے کہ ظفر کاظمی کے بیٹے علی کاظمی آپ کے دوست ہیں اور آپ۔۔۔”
نہیں فرقان ایسی بات نہیں ہے۔علی کاظمی سے تو میں
دوستی کب کی ختم کر چکا ہوں۔مجھے تو اس بات کی فکر ہو رہی ہے میں حیا کو یہ بات کیسے بتاؤں گا کہ اس کے فادر کی موت طبعی نہیں تھی بلکہ مرڈر تھا۔۔۔
وہ گہرا سانس بھر کر کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے دھیمی آواز میں بولا۔۔۔۔ مگر اسکی یہ مشکل بھی
قدرت نے آسان کر دی تھی۔۔۔۔ اسی شام ٹی وی پر ایک
بریکنگ نیوز چل رہی تھی۔۔۔ معروف سنگر علی کاظمی کے والد ظفر کاظمی کی دوبئی میں شیخ زید روڈ پر ایکسیڈنٹ میں ہلاکت۔۔۔۔
قانون کی سزا سے قبل ہی قاتل کو خود خدا نے ہی سزا دے دی تھی۔۔۔
بیچارے ظفر انکل۔۔۔۔پردیس میں موت۔۔۔سو سیڈ۔۔۔اللّٰہ
انکی مغفرت فرمائے۔۔۔۔۔ حیات نے یہ خبر سنی تو اپنی ازلی نرم دلی کیوجہ سے دشمن کیلئے بھی افسوس کا اظہار کر رہی تھی جس نے اسے گھر بدر کیا تھا۔۔۔۔۔۔
بھول گئی اس نے کچھ اچھا نہیں کیا تھا تمہارے ساتھ
اور اب تم اسکی مغفرت کی دعا مانگ رہی ہو۔۔ماحر نے
یاد دلاتے ہوئے کہا تھا۔۔۔
اچھا تو آپ نے بھی میرے ساتھ نہیں کیا تھا۔۔۔جب آپ کو معاف کر سکتی ہوں تو اس کو کیوں نہیں۔۔۔حیات نے جس انداز میں جتاتے ہوئے کہا تھا اس نے ماحر کو شرمندہ کرنے کیساتھ ساتھ خاموش بھی کرا دیا۔۔۔وہ اس کو یہ نہیں کہہ سکا کہ اس نے اسکے جو نقصان کیے وہ قابل تلافی تھے مگر ظفر کاظمی نے اسکا جو نقصان کیا وہ ناقابل تلافی تھا۔۔۔۔
وہ بے خبر تھی اپنے اس نقصان سے تو اب اسے ہمیشہ
بے خبر ہی رہنا تھا۔ماحر کا ارادہ اسے زندگی بھر بے خبر
رکھنے کا تھا۔۔۔ کیونکہ کچھ راز ایسے ہوتے ہیں جن کو جاننے کے بعد صرف اور صرف تکلیف ہی ہوتی ہے اور وہ حیات کو اس تکلیف سے ہی بچانا چاہتا تھا۔۔۔
انہیں امریکہ کے ٹور سے واپس آئے ایک ہفتے سے زیادہ ہو چکا تھا۔۔۔۔دونوں کے درمیان کے خوشگوار تعلقات نے جہاں فائزہ سکندر اور سکندر علی خان کو مطمئن کیا وہاں فارس فضا اور کی بھی تسلی ہوگئی۔۔۔ حورین نے
بھی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ماحر اپنی فلم دیوانے کی پروموشن کے سلسلے میں دن رات مصروف تھا۔۔۔اسی وجہ سے وہ حیات کو ٹائم نہیں دے پا رہا تھا۔۔ جس کا اسے شدت سے احساس بھی تھا۔دوسری طرف وہ کچھ گم صُم سی تھی۔۔۔ اسکے ٹائم نا دینے کیوجہ سے نہیں بلکہ جب سے ارتضیٰ جیسا دکھنے والا شخص اس نے ائیرپورٹ پر دیکھا تھا تب سے مینٹلی اپ سیٹ تھی۔حالانکہ وہ جانتی بھی تھی کہ ارتضیٰ حسن اس دنیا
میں نہیں ہے۔اسکا مردہ جسم اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا مگر پھر بھی دل ورغلا رہا تھا ذہن الجھا رہا تھا۔حتیٰ کہ بھوک پیاس تک کم ہو گئی تھی۔۔۔۔۔ بار بار اسی شخص کا خیال آتا جسے اس نے اپنے پورے ہوش و حواس میں دیکھا تھا۔اسکی بےچین کیفیت کو ماحر نے اپنے انداز میں لیا۔ایک دن کہنے لگا۔سویٹ ہارٹ کیا کوئی خوش خبری ہے۔۔۔؟ کیونکہ تمہاری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگتی مجھے۔۔ڈاکٹر کو بلاؤں۔۔۔۔۔؟؟ وہ اسکا ماتھا چھو کر دیکھ رہا تھا۔وہ اتنی گم صُم تھی کہ اس اسکے الفاظ پر دھیان ہی نہیں دے سکی۔۔۔۔ پھر اس نے واقعی ڈاکٹر کو بلوا لیا۔حیات کو ہلکا ہلکا بخار بھی تھا ڈاکٹر نے تفصیلی چیک اپ کے بعد مینٹل سڑیس بتایا۔۔
ماحر پریشان ہو گیا۔۔ حیات سے معلوم کرنے کی اس نے کافی کوشش کی مگر حیات نا مانی اس کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر کو غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔۔ تین دن اس کا بخار رہا تھا ان تین دنوں میں ماحر نے اپنی فلمی مصروفیات کو پس پشت ڈال کر اسکی بےحد کئیر کی۔۔۔جب اسکی
طبیعت سنبھلی تو وہ اپنی فلمی سرگرمیوں کی طرف متوجہ ہو گیا فلم ریلیز ہونے کے دوسرے دن ہی اس نے حیات کو ایک سرپرائز دیا۔وہ اسے اسکے باپ کے گھر لے گیا تھا۔۔عبدالرحمان علی کے گھر جو ماحر نے بہت پہلے ہی ظفر کاظمی سے واپس لے لیا تھا۔۔۔۔ مگر یہ بات وہ اسے تب بتانا چاہتا تھا۔جب انکے آپس کے تعلقات ٹھیک
ہوتے چنانچہ اب وہ دن آ گیا تھا۔۔پورے دو سال کے بعد اس نے اپنے گھر کو دیکھا تھا۔۔۔ اس دن وہ اپنے گھر کے در و دیوار کیساتھ لپٹ کر روتی رہی تھی وہاں خوشبو بکھری ہوئی تھی اسکے پیارے بابا کی۔۔۔۔وہ سب کو یاد کر کے روتی رہی۔۔۔وہ اسے گلے سے لگائے دلاسے دیتا رہا۔
چپ کرواتا رہا۔۔ حیات وہ گھر فارس کے نام کرنا چاہتی تھی مگر فارس نے لینے سے صاف انکار کر دیا تھا اسکا کہنا تھا کہ اس گھر پہ صرف حیات کا حق ہے مگر وہ نا مانی۔۔اس کا اصرار تھا کہ جتنا اس گھر پہ اسکا حق ہے اتنا ہی فارس کا بھی ہے اسلئیے وہ اپنی خوشی سے یہ گھر اسکے نام کرنا چاہتی ہے۔۔۔۔۔ فارس نے ناراضگی دکھا کر اور ڈانٹ ڈپٹ کر اسے اس بات پر راضی کر لیا کہ گھر اسکے ہی نام رہے گا۔۔۔وہ صرف دیکھ بھال کرے گا۔مجبوراً حیات کو اسکی بات ماننا پڑی۔۔۔ماحر فلم کے
تمام تر مراحل سے فری ہو کر اس پر مکمل توجہ حیات پر دے رہا تھا۔۔۔اسکی یونیورسٹی بھی سٹارٹ ہو چکی تھی۔۔ماحر نے صرف ایک کال کی تھی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو اور دوسرے دن ہی اسے ایم ایس سی سائیکالوجی کے سیکنڈ سمسٹر میں بٹھا دیا گیا۔۔۔ماحر خود اسے چھوڑنے اور لینے جا رہا تھا۔۔۔وہی یونیورسٹی تھی۔۔وہی ماحول تھا مگر اسکے تمام کلاس فیلوز اپنی
ڈگری لے کر جا چکے تھے۔اگر اسکی زندگی میں وہ سیاہ
وقت نا آیا ہوتا۔ تو اب تک وہ بھی ڈگری مکمل کر چکی ہوتی۔۔۔ہمیشہ کی طرح اس نے اپنے ان نئے کلاس فیلوز کی آنکھوں میں بھی اپنے لئیے ستائش دیکھی۔۔۔ہمیشہ کی طرح کئی ہاتھ دوستی کیلئے اسکی طرف بڑھے اور پھر اسکے نظر انداز کرنے پر پیچھے ہٹ گئے۔۔۔۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ فلمسٹار ماحر خان کی بیوی ہے۔۔
ورنہ شائد لوگوں کا اس میں انڑسٹ اور بھی بڑھ جاتا عبیر کے بچوں کی برتھڈے تقریب کی وجہ سے وہ ایک دن یونیورسٹی نہیں آ پائی تھی۔۔۔۔۔ دوسرے دن آئی تو مس ہوئے لیکچرز کی فکر لگی ہوئی تھی کیونکہ پہلے بھی سٹڈی کا کافی حرج ہو چکا تھا۔۔۔گیارہ بجے پہلی کلاس سٹارٹ ہوئی جو کہ پروفیسر رضا احمد کی تھی وہ کلاس روم میں آئی تو ساتھ والی کرسی پر بیٹھی لڑکی سے کہا۔۔۔
“کل سر رضا کی کلاس سمیت جتنی بھی کلاسز ہوئی ہیں ان سب کے لیکچرز آپ نے نوٹ کئیے ہونگے پلیز وہ
نوٹس مجھے دے دیں گی آپ۔۔؟میں اپنی نوٹ بک میں وہ پوائنٹس کاپی کر کے آپ کو واپس کر دوں گی۔۔۔ ایکچولی کل میں چھٹی پر تھی۔۔۔
سوری ڈئیر۔۔ ایکچولی کل میں خود بھی چھٹی پر تھی
باقی کلاسز کا تو مجھے نہیں پتہ لیکن سر رضا احمد کے بارے میں سنا ہے کہ وہ ہمیشہ کیلئے چلے گئے انکی
کوئی نئے پروفیسر آئے ہیں اور کل انہوں نے ہی کلاس
لی تھی اور سنا ہے کافی سخت قسم کے ہیں۔۔۔۔
اوہو۔۔۔اچھا۔۔۔حیات نے مایوسی سے کہا۔۔لڑکی سر ہلاتے
ہوئے اپنے فون کی طرف متوجہ ہو گئی۔۔۔ پھر کچھ دیر بعد کلاس روم میں داخل ہونے والے پروفیسر کو دیکھ کر جہاں تمام سٹوڈنٹس الرٹ ہوئے وہاں وہ ششدر رہ گئی۔۔لائٹ گرے ویسٹ کوٹ میں ملبوس اپنی وجہیہ پرسنالٹی کیساتھ اسکے سامنے وہ ہو بہو ارتضیٰ حسن ہی تھا۔وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی جو ڈائس پر لیب ٹاپ رکھے لیکچر سٹارٹ کر چکا تھا۔۔۔
ارتضیٰ۔۔۔۔اس کے لبوں نے بے آواز جنبش کی۔۔۔
آنکھیں پانیوں سے جھلملانے لگیں۔۔۔۔
“وہی متاثر کن شخصیت۔۔۔۔۔وہی پڑھانے کا انداز۔۔۔وہی رعب۔۔۔وہی وقار اور سنجیدگی۔۔۔ سٹوڈنٹس کی طرف اٹھتیں سیریس نگاہیں۔اور سب سے بڑھ کر سبجیکٹ بھی وہی پڑھا رہا تھا جو ارتضیٰ پڑھاتا تھا۔۔اسکا دماغ چکرانے لگا۔۔طبعیت بے چین ہونے لگی۔اب یہ حیات کی نظروں کی تپش تھی یا اس کے پرکشش حسین چہرے کی کشش۔۔اس نے بھی کئی بار حیات کی طرف دیکھا مگر اسکی نگاہیں حیات کو بے تاثر ہی لگیں۔۔۔چہرے پر پرانی کسی شناسائی کی رمق تک نہیں ابھری تھی یہی بات اسے حیران کر رہی تھی۔۔۔اسکے اعصاب اسکا دماغ مفلوج ہو رہا تھا۔۔وہ یکدم اٹھی اور بھاگتے ہوئے کلاس سے باہر نکل گئی۔۔۔۔ پروفیسر سمیت تمام سٹوڈنٹس نے خاصی حیرانی سے اسے یوں اچانک کلاس سے بھاگ کر جاتے دیکھا۔۔کوریڈور کے سرے پر کھڑی وہ منہ پر ہاتھ رکھے رو رہی تھی۔۔ پھر یکدم اسے ابکائی آئی تو قریبی واش روم کی طرف لپکی۔۔ وومیٹنگ سے بے حال ہوتے بڑی مشکل سے اس نے فون کر کے ڈرائیور کو بلایا تھا۔۔ گھر پہنچی تو نوکروں کے علاؤہ کوئی گھر پر نہیں تھا ماحر تو صبح ہی اسے ڈراپ کرنے کے بعد کہیں شوٹ پر چلا گیا تھا باقی بھی کوئی نہیں تھا اس نے شکر پڑھا کیونکہ جو اسکی مینٹلی کنڈیشن ہو رہی تھی اسوقت وہ کسی کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔سہ پہر تک وہ
ٹینشن میں مبتلا روم میں پڑی رہی اس دوران مزید دو بار وومیٹنگ ہوئی تھی۔آنکھوں سے ناجانے کیوں بار بار پانی نکل رہا تھا۔۔۔۔ اسے بڑی دیر بعد خیال آیا کہ کلاس چھوڑنے سے پہلے اپنے کسی کلاس فیلو سے کم از کم اس پروفیسر کا نام تو پوچھ لیتی۔اسے افسوس ہوا وہ جلد بازی میں نکل آئی تھی اب کل جب تک یونی پہنچ کر اس کا نام نا معلوم کر لیتی تب تک اسے یونہی ذہنی اذیت میں مبتلا رہنا تھا۔۔شام کے چار بج رہے تھے اسکے اندر کی گھٹن مزید بڑھنے لگی۔ گھر میں بھی ابھی تک کوئی نہیں آیا تھا۔۔ البتہ ماحر نے کئی بار کال کی جسے اس نے جان بوجھ کر اٹینڈ نہیں کیا۔۔کیونکہ جس ذہنی
کوفت و اذیت نے اسے بے حال کر رکھا تھا۔۔۔۔ ایسے میں اسکا بات کرنے کا بالکل موڈ نہیں تھا۔۔۔۔۔ البتہ جب لینڈ لائن پر اس کی کال آئی تو اس نے میڈ سے بول کر اسے کہلوا دیا کہ وہ سو رہی ہے وہ مطمئن ہو گیا۔۔۔ تاہم میڈ کو اس نے تاکید کی کہ حیات جیسے ہی اٹھے وہ اسکی بات کروائے۔۔۔اضطراب اور بے کلی جب حد سے زیادہ ہو گئی تو وہ ڈرائیور کے ساتھ فارس بھائی کے گھر چلی آئی ارادہ تھا فضا بھابھی سے اپنی ٹینشن شئیر کرنے کا
ڈرائنگ روم سے باتوں کی آواز آ رہی تھی وہ اوپن ڈور سے اندر داخل ہوئی اور سامنے صوفے پر بیٹھے شخص کو دیکھ کر اسکے سر پر جیسے آسمان آ گرا تھا۔۔۔
صبح والے ڈریس میں ملبوس وہی شخص وہاں بیٹھا ہوا تھا۔۔۔۔اس کے برابر میں کچھ فاصلے پر بیٹھی فضا بھابھی آنسو بہا رہی تھیں۔۔۔۔۔ جبکہ دوسرے صوفے پر فارس بھائی بھی موجود تھے۔۔۔۔ڈرائنگ روم کا ماحول
خاصا افسردہ لگ رہا تھا۔۔۔۔۔ وہ بے یقینی سے دیکھ اس منظر کو دیکھ رہی تھی۔۔جسطرح فضا بھابھی بے تکلف
انداز میں اس کے پہلو میں بیٹھی آنسو بہا رہی تھیں اور جواب میں جسطرح وہ انکے سر پر ہاتھ رکھ کر ان
کو دلاسہ دے رہا تھا۔اس سے بالکل واضع ہو رہا تھا کہ دونوں میں کوئی قریبی رشتہ ہے۔۔اگر یہ ارتضیٰ حسن ہےتو۔۔۔۔یا خدایا یہ سب کیا ہو رہا ہے۔۔۔اسکے دماغ میں ایک فشار برپا ہونے لگا تھا۔۔سہارے کیلئے اس نے قریب
رکھے سٹول کو تھامنا چاہا تو اس پر رکھا ہوا پتھر کا گلدان زور دار آواز کیساتھ زمین بوس ہوا۔۔آواز پر سب اسکی طرف متوجہ ہوئے۔۔۔۔
