Meri Hayat By Zarish Hussain Readelle50271 Meri Hayat (Episode 55)
Rate this Novel
Meri Hayat (Episode 55)
Meri Hayat By Zarish Hussain
صبح سے موسم ابر آلود تھا۔حیات نے آہستہ سے کھڑکی سے پردہ ہٹایا۔۔۔۔شیشے کے پار موسم بہت دلفریب اور
ہوشربا لگ رہا تھا۔لان میں لگے خوبصورت رنگ برنگے پھولوں پر بہار آئی ہوئی تھی۔پورے ماحول پر حسن و نکھار چھایا ہوا تھا۔۔۔اندرونی خلفشار سے گھبرا کر وہ کھڑکی کھول کر کھڑی ہو گئی۔اپنی ظاہری حالت پر وہ کافی حد تک کنٹرول کر چکی تھی۔مگر اندر سے لگی آگ اس میں اسی طرح ہی الاؤ دہکا رہی تھی۔۔۔
نظریں بظاہر سامنے نظر آتے لان پر تھیں۔۔۔۔۔ مگر دماغ فارس بھائی کی طرف لگا ہوا تھا۔۔۔۔آج فارس اور فضا اسے آوٹنگ پر لے گئے تھے۔سمندر کنارے انہوں نے پکنک منائی پھر وہاں سے وہ میوزیم گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔سارا دن گھومنے پھرنے کے بعد چار بجے فارس نے اسے اور فضا کو گھر چھوڑا اور خود ماحر خان سے ملنے کا کہہ کر چلا گیا تھا۔فارس کو گئے ہوئے ایک گھنٹہ ہو گیا تھا وہ ٹینشن میں مبتلا تھی دل میں طرح طرح کے وسوسے اٹھ رہے تھے کہیں وہ غصے اور جوش میں اسکے ساتھ فائٹ نا کر بیٹھیں۔۔۔۔وہ دل ہی دل میں اللّٰہ سے دعا گو تھی کہ یہ معاملہ بنا کسی لڑائی جھگڑے کے خوش اسلوبی سے حل ہو جائے۔۔۔
حیا۔۔۔۔؟؟ فضا بھابھی کی آواز پر اس نے پلٹ کر دیکھا وہ دروازے پر کھڑی تھیں۔۔۔
جی بھابھی۔۔۔؟ اس نے سوالیہ نگاہوں سے انہیں دیکھا۔
فارس بلا رہا ہے تمہیں سٹنگ روم میں۔انہوں نے قریب آ کر کہا۔۔۔
فارس بھائی آ گئے۔۔۔۔۔؟؟اسکے منہ سے بے اختیار نکلا
ہاں آ گئے۔۔۔۔فضا نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔
ناجانے کیسی ملاقات رہی ہوگی فارس بھائی کی اس شخص سے۔۔۔اس کا دل بے اختیار دھڑکا۔۔
کندھے پر جھولتے ڈوپٹے کو درست کرتی وہ تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی مگر فضا کی پکار رک گئی۔بات سنو حیا۔۔ اس نے مڑ کر دیکھا۔۔فضا اپنی جگہ پر کھڑی ہوئی تھی چہرے کے تاثرات بے حد سنجیدہ تھے۔۔اسکے
دل میں ہول اٹھنے لگے
کیا بات ہے بھابھی کچھ ہوا ہے کیا۔۔۔؟؟ وہ خوفزدہ ہو کر پوچھنے لگی۔۔۔
نہیں وہ ایکچولی فارس کے ساتھ ماحر خان آیا ہے۔۔انہوں مدھم لہجے میں کہا
کیا۔۔مگر کیوں فارس بھائی تو اس سے بات کرنے گئے تھے پھر اسے ساتھ کیوں لے آئے۔۔؟؟
اسے سخت شاک لگا تھا۔۔
وہ بے حد سراسیمہ ہو گئی تھی۔۔
گھبراؤ نہیں اب تم تنہا نہیں ہو۔۔۔۔۔۔ ہم دونوں تمہارے ساتھ ہیں۔۔۔۔وہ تم سے بات کرنے آیا ہے۔۔۔۔تمہارا فیصلہ تمہارے اپنے منہ سے سننا چاہتا ہے۔۔۔بہت منت کی تھی اس نے فارس کی تبھی وہ اسے ساتھ لایا۔۔۔
فضا نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی۔۔
مگر بھابھی میں کیا بات کرونگی اس سے۔میرا فیصلہ آپ لوگ جانتے تو ہیں۔۔اسکے انداز میں ہچکچاہٹ بلکہ کسی حد تک گھبراہٹ تھی۔۔۔۔اس سے پہلے فضا کچھ
بولتی فارس دروازہ کھول کر اندر آیا۔۔۔۔
گڑیا وہ شخص ڈیورس کا مطالبہ تمہارے اپنے منہ سے سننے کا خواہشمند ہے۔۔۔ڈیورس پیپرز پر سائن کرنے کے لئیے یہی مطالبہ رکھا اس نے تو مجبوراً مجھے اسے تم سے ملوانے کی ہامی بھرنا پڑی۔۔۔اب تم چلو میرے ساتھ
اور چل کر اس گھٹیا شخص سے کہو کہ تم اس سے
علیحدگی چاہتی ہو۔۔۔۔۔
اگرچہ اس سے بات کرتے ہوئے فارس کا لہجہ کافی نرم تھا مگر اس لہجے میں ماحر خان کیلئے چھپی سختی سنگینی اور غصہ وہ محسوس کر سکتی تھی۔۔۔
مگر بھائی۔۔۔۔۔اسکی ہچکچاہٹ ہنوز برقرار تھی۔۔
فارس نے اسکا گھبرانا ہچکچانا بغور دیکھا۔۔
ریلیکس۔۔۔اب وہ شخص تمہیں ڈرا دھمکا نہیں سکتا
ویسے بھی میں تمہارے ساتھ ہوں پھر کیوں ڈر رہی
ہو۔۔۔۔۔۔۔فارس نے نرمی سے کہتے ہوئے اسکا ہاتھ تھاما
اور سٹنگ روم میں لے آیا۔۔۔۔حیات کا دل ناجانے کیوں
بے طرح دھڑک رہا تھا۔۔۔۔۔سامنے ہی صوفے پر بیٹھا وہ دروازے کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔اسے آتے دیکھ کر بے قراری سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
ماحر کی بے تاب مسرتوں سے چمکتی ہوئی نگاہیں بہت بے قراری اور بے اختیاری سے اسکے چہرے اور وجود کا طواف کر رہی تھیں۔۔
حیات عبدالرحمان کے قدموں کو گویا زمین نے جکڑ لیا
اسکی نظریں ساکت تھیں۔بے یقینی تھی۔۔حیرت تھی۔۔آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔اس شخص کو دیکھ کر وہ ورطہ حیرت میں مبتلا نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔۔اسکی اس شدید حیرانگی کی وجہ اسکے ساتھ موجود دوسرا انسان تھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
احمر وقار۔۔۔زندہ سلامت۔۔۔ناقابل یقین منظر۔۔۔وہ ماحر خان کے ساتھ کھڑا تھا۔۔۔اسوقت وہ دونوں ایک ساتھ
اسکے گھر میں موجود تھے۔۔۔بلیک پینٹ۔۔ییلو شرٹ۔۔۔پرفیکٹ ہائٹ۔۔۔۔۔پرکشش چہرہ۔۔۔سمارٹ پرسنالٹی۔۔۔۔جتنا بھی خوبرو تھا۔۔۔مگر اس وقت ساتھ کھڑے ماحر خان کا بالکل بھی مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔۔۔”
احمر پر سے ہوتی ہوئی اسکی نگاہیں ساتھ والے شخص پر رکیں۔۔
فراغ پیشانی۔۔۔خوبصورت روشن آنکھیں جن میں ملال
جدائی بے قراری اور تڑپ کا رنگ واضع تھا۔۔۔ایک جہان کا درد بسا تھا اسکی ان پرکشش گہری آنکھوں میں مایوسی۔۔اداسی۔۔ہجر۔۔فراق۔۔حزن و ملال۔۔۔کیا کیا بیان نہیں کر رہی تھیں اسکی آنکھیں۔۔۔
حیات کے اندر تو جیسے تیز ہواؤں کے جھکڑ چلنے لگے تھے۔انتشار اور بے ترتیبی سی دماغ میں ہونے لگی تھی احمر وقار اس شخص کے ساتھ کیسے۔۔۔؟؟
اسکی نیلی آنکھوں میں حیرانگی ہیرے بن کر جگمگا رہی تھی۔۔۔”
آپ۔۔۔۔۔؟؟ اس کے منہ سے بے اختیار نکلا تھا
تم جانتی ہو اسے۔۔۔۔فارس نے چونک کر استفسار کیا
جی بھائی۔۔۔۔یہ۔۔۔۔وہ۔۔۔۔ایکچولی۔۔۔بہت۔۔۔ہیلپ۔۔کی۔۔۔تھی۔۔انہوں نے میری۔۔۔مگر”۔۔۔۔۔۔وہ رک رک کر بول رہی
تھی۔۔۔مگر یہ ماحر خان کے ساتھ کیسے۔۔۔۔۔یہ بات وہ
کہہ نہیں پائی۔۔احمر اسکی آنکھوں میں مچلتا سوال پڑھ چکا تھا تبھی ہلکی سی دوستانہ مسکراہٹ
چہرے پر سجائے اس نے اپنا تعارف کروایا۔۔۔
میجھے احمر کہتے ہیں ہم دونوں کزنز ہیں۔۔۔بدقسمتی سے ہمیں کچھ عرصے پہلے ہی اپنے اس رشتے کا پتہ چلا تھا۔ورنہ حالات شائد آج مختلف ہوتے۔اس سے پہلے ہم ایک دوسرے کو نہیں جانتے تھے نا کبھی ملے۔کیسے
ملے اور آپس کے اس رشتے کا کیسے پتہ چلا یہ ایک لمبی کہانی ہے۔۔بہرحال مس حیات مجھے جانتی ہیں ہماری پہلی ملاقات جنگل میں ہوئی تھی اسکے بعد دوسری ملاقات یہیں کراچی میں حادثاتی طور ہوئی
اور پھر۔۔۔”
اس کا مخاطب فارس تھا۔۔جس نے خاصی ناگواری و بیزاری سے اسے ٹوک دیا۔۔
مسٹر ہمیں تمہاری ان سٹوریز سے کوئی دلچسپی نہیں
جس کام کیلئے آئے ہو اسی پر بات کرتے ہیں۔۔۔بہت بڑی خواہش تھی نا ان محترم کی میری بہن کے منہ سے لفظ طلاق سننے کی۔چلو حیا پوری کرو اسکی خواہش کہو اس سے کہ تم اس سے سیپریشن چاہتی ہو۔۔۔فارس
نے تنفر بھری نظروں سے ماحر خان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
ایک منٹ۔۔۔۔۔ حیا مجھے تم سے اکیلے میں بات کرنی ہے
پلیز کچھ دیر کیلئے میری بات سن لو۔۔۔۔فارس کو اگنور کرتے اس نے آگے بڑھ کر خاموش کھڑی حیات سے التجاء کی۔۔
جو بات کرنی ہے میرے سامنے کرو۔۔۔فارس کا لہجہ تیز تھا۔۔۔
پلیز آپ ان دونوں کو تھوڑی دیر کیلئے اکیلے میں بات کرنے دیں۔۔۔مسئلہ دونوں فریقین کی باہمی مشاورت سے طے پائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔۔
احمر بھی اس کی حمایت کیلئے آگے آیا۔۔۔
میں نے کہا نا۔۔۔۔جو بات کرنی ہے میرے سامنے کرو
فارس نے درشت لہجے میں کہا
کم آن فارس صاحب یہ دونوں نامحرم نہیں ہیں جو آپ انہیں تھوڑی دیر کیلئے اکیلے نہیں ملنے دے سکتے
اور مس حیا۔ان پر نا سہی لیکن مجھ پر شائد بھروسہ ہوگا آپ کو۔۔۔پلیز میرا مان رکھ لیں انکی بات سن لیں
میں یقین دلاتا ہوں فیصلہ آپ کا ہی ہوگا۔۔۔فارس کی
ہٹ دھرمی پر احمر کو بھی تاؤ آ گیا اس نے جھنجلا
کر حیات سے کہا جو اس سارے سین میں اپنے بھائی کے پہلو میں خاموش تماشائی بنی کھڑی تھی۔۔
تم اپنا منہ بند رکھو۔۔میں نے کہا نا جو بات ہوگی میرے
سامنے ہی ہوگی۔۔میرے گھر میں صحیح سلامت کھڑے ہو دونوں اتنا کافی سمجھو ورنہ جس طریقے سے میری بہن کو یہ مینٹلی ٹارچر کرتا رہا میرا دل کرتا ہے اسکے ٹکڑے ٹکڑے کر کے چیل کتوں کو کھلا دوں۔۔۔فارس نے پھنکارتے ہوئے کہا
بھائی پلیز۔۔۔یہ بہت اچھے انسان ہیں میری کافی ہیلپ
کی تھی انہوں نے۔۔۔۔حیات کو فارس کا احمر کی بے عزتی کرنا پسند نہیں آیا۔۔۔
شکر ہے آپ نے بھی بولنے کی زحمت کی۔۔۔احمر نے اس
پر خفیف سا ظنز کیا۔۔۔
اس پورے سین میں خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے والی ایک اور فرد فضا بھی بول پڑی۔۔۔
فارس وہ بار بار کہہ رہے ہیں۔کیا حرج ہے ایک بار اکیلے میں بات کرنے دیں دونوں کو۔۔۔معاملہ باہمی رضامندی اور خوش اسلوبی سے حل ہو جائے تو زیادہ صحیح رہے گا۔۔۔اس نے دبے دبے لہجے میں شوہر کو سمجھانے کی کوشش کی۔۔۔
تم چپ رہو۔میری بہن کیلئے کیا صحیح ہے اور کیا غلط
میں خود بہتر سمجھتا ہوں۔۔۔۔فارس نے جھڑک دیا۔فضا
شرمندہ سی ہو گئی۔۔
ٹھیک ہے مگر حیا سے تو پوچھ لیں یہ کیا چاہتی ہے
فارس سے جھڑکی کھا کر بھی وہ دوبارہ ہمت کرتے ہوئے آہستہ سے منمنائی۔۔۔
فارس نے اسے تیز نظروں سے گھورا پھر خاموش کھڑی حیات کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔
حیا تم اس شخص کی بات سننا چاہتی ہو۔۔۔؟؟
وہ سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔
وہ جو شش وپنج میں مبتلا کھڑی تھی۔۔تذبذب بھرے انداز میں بھائی کی طرف دیکھنے لگی۔۔نا ہاں کر پائی
اور نا نا کر پائی۔۔
ٹھیک ہے کر لو بات۔۔۔۔۔۔۔لیکن ایک بات یاد رکھنا اگر تم
نے میری بہن کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔فارس نے باقاعدہ ہاتھ اٹھا کر
وارننگ دی۔۔۔۔۔ماحر نے اثبات میں سر ہلایا
فارس اور فضا دونوں ہی سٹنگ روم سے باہر چلے گئے۔
کمرے میں تین نفوس تھے۔۔۔۔۔حیات عبدالرحمان کا سر جھکا ہوا تھا۔وہ اضطراری کیفیت میں مبتلا اپنے ہونٹ کاٹ رہی تھی۔۔۔۔۔ماحر کی بے قرار نظریں اسی پر جمی ہوئی تھیں وہ تیزی سے اسکے قریب ہوا۔۔۔۔وہ گھبرا کے پیچھے ہٹ گئی۔۔۔۔۔احمر نے ماحر کو تنبیہی نگاہوں سے دیکھا اور پرخلوص لہجے میں حیات سے مخاطب ہوا
آپ یقیناً مجھے اپنے ہزبینڈ کے ساتھ دیکھ کر حیران ہوئی ہونگی۔۔اس نے لفظ ہزبینڈ پر زور دیا۔۔کاش مجھے
اس بات کا پہلے پتہ چل گیا ہوتا۔۔۔۔۔ تو جو کچھ آپ کو
اسکی وجہ سے بھگتنا پڑا۔۔۔۔اس نے ساتھ کھڑے ماحر کی طرف اشارہ کیا۔۔۔۔۔جو جو مشکلات اسکی وجہ سے
آپ کو اٹھانی پڑیں وہ سب کچھ نا ہوتا۔۔اگر مجھے اس
وقت پتہ چل جاتا ک یہ میرا کزن ہے تو روک لیتا میں اسے۔۔۔ایک خفگی بھری نگاہ اس نے ماحر کے شرمندہ
چہرے پر ڈالی۔۔۔
بہرحال جو انسان کی قسمت میں لکھا ہوتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے۔میری آپ سے ریکوئسٹ ہے جذباتی ہو کر فیصلہ
کرنے کے بجائے دماغ سے سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں
غلطیاں انسانوں سے ہی ہوتی اور انسان اپنی غلطیوں
سے ہی سیکھتا ہے۔۔۔۔اگر کوئی انسان غلطی کرتا ہے تو
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ وہ برا انسان ہے۔سال
ہو گیا ہے ہماری دوستی کو۔انسان اگر کسی کو جاننا
چاہے تو سال تو کیا دو تین مہینوں میں ہی جان لیتا
ہے۔اتنے عرصے میں میں اسے بہت اچھی طرح سے جان گیا ہوں یہ جذباتی ہے غصے کا تیز ہے۔مگر دل کا بے حد نرم مخلص اچھا پر خلوص احساس کرنے والا اور اپنے
وعدے نبھانے والا انسان ہے۔۔ابھی آپ جذبات اور غصے
کے زیر اثر ہیں مگر فیصلہ کرتے ہوئے میری ایک بات
ضرور ذہن میں رکھئیے گا۔۔۔یہ شخص آپ سے ٹوٹ کر محبت کرتا ہے مجھے نہیں لگتا اس سے زیادہ کوئی اور آپ سے محبت کرے گا یا کرتا ہوگا۔۔آگے آپ کو جو بہتر لگے۔۔پھر وہ ماحر کی طرف مڑا۔۔
اوکے میں باہر گاڑی میں بیٹھ کر ویٹ کرتا ہوں۔تم اپنا کیس اچھے سے لڑنا کیا پتہ فیصلہ تمہارے حق میں ہو جائے میں تمام نیک تمنائیں تمہارے ساتھ ہیں۔۔۔اس کا کندھا تھپک کر وہ باہر نکل گیا۔۔۔۔۔باہر نکلتے ہوئے ایک نمکین پانی کا قطرہ اسکی دائیں آنکھ سے گرا تھا۔۔۔
جسے اس نے غیر محسوس طریقے سے صاف کیا تھا
اب ان قطروں نے ناجانے کب تک یونہی ٹپکتے رہنا تھا
احمر کے باہر نکلتے ہی دونوں کی نظریں ملیں۔۔
ایک کے چہرے پر مسرت خلوص و محبت کے حسین رنگ جھلملا رہے تھے تو دوسرے چہرے پر برفیلی سرد مہری و چمکتی ہوئی بے گانگی تھی۔۔۔
کیسی ہو حیا۔۔۔۔؟؟انتہائی خلوص و چاہت سے پوچھا
گیا۔۔۔
حیات نے حیران مگر ناگوار نظروں سے اس سوال پر اسکی طرف دیکھا اور غصے سے لب بھینچ لئیے
اسکے وجہیہ چہرے پر صدیوں کی تھکن و اداسی رقم تھی۔روشن گہری آنکھوں کی شفاف سطح پر اذیتوں کا الاؤ دہک رہا تھا۔۔۔چہرہ ہی دل کے حال کی عکاسی کر رہا تھا۔
وہ کچھ لمحے اسکی طرف تکتا اسکے جواب کا منتظر رہا۔۔پھر ایک تھکن بھری گہری سانس لی
کیوں چلی گئی تھی مجھے چھوڑ کر۔۔۔۔۔؟؟ کیا میں اتنا برا تھا۔؟؟ دوسری چئیر پر اسکے روبرو بیٹھتے وہ آزردہ انداز میں گویا ہوا۔۔اسکے لہجے کی تڑپ سوز اور درد نے اسے چونکا دیا تھا۔۔
یہ سوال آپ کو کرنا چاہیے۔۔۔۔۔؟؟آپ کیسے ہیں اس کا ابھی تک خود اندازہ نہیں ہو سکا آپ کو۔ایک بے ارادہ نگاہ اس پر ڈال کر وہ سخت طنزیہ انداز میں گویا ہوئی۔۔جواباً اس کا چمکتا چہرہ یکدم سے بجھ سا گیا
تھا۔۔
احمر نے ابھی کہا ہے نا کچھ غلطیاں انسان سے غیر ارادی طور پر سرزد ہو جاتی ہیں۔۔۔انسان ہوں خطا کا پتلا ہوں۔مجھ سے بھی ہو گئیں۔اگر غلطی ہو جائے تو کیا اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ وہ انسان مکمل غلط
مکمل برا انسان ہے۔۔۔؟؟
اس نے آہستگی سے پوچھا۔۔۔۔
ہونہہ۔۔۔۔حیات نے تنفر بھرے انداز میں چہرے کا رخ دوسری طرف پھیر لیا۔۔
وہ حسرت بھری نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔۔
نیٹ کی بلیک شرٹ سے اسکے بے حد گورے نازک سے بازو ایسے چمک رہے تھے۔جیسے سیاہ بادلوں کی اوٹ سے ستارے جگمگا رہے ہوں۔گلاب چہرے پر پہلے والی دلکشی و تروتازگی آ چکی تھی۔براؤن ریشمی بالوں کی کچھ لٹیں چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔ گلابی گالوں پر لالی بکھری ہوئی تھی جیسے میک اپ کیا گیا ہو۔۔مگر یہ تو قدرتی لالی تھی۔۔
وہ حسین تھی۔۔۔بلا کی حسین۔۔۔اس کے حسن کے سحر سے نکل آنا چٹانی حوصلہ رکھنے والے مردوں کے بھی بس کی بات نہیں تھی۔۔۔۔ سامنے بیٹھا شخص اسکے حسین چہرے کا ہی نہیں دیوانہ تھا۔۔۔۔وہ اسے جسم و جاں سمیت روح کی گہرائیوں سے چاہتا تھا۔اپنی پوری زندگی اسی سنگدل حسینہ کے ساتھ گزارنے کا متمنی تھا۔اگرچہ شروع میں واقعی وہ صرف اور صرف اسکے حسن سے متاثر ہو کر اسے پانا چاہتا تھا۔مگر اب اس کا دل حیات عبدالرحمان کی محبت سے لبریز تھا۔۔۔اب وہ عمر بھر کیلئے اس کا حصول چاہتا تھا۔۔۔
وہ اسے دیوانوں کی طرح تک رہا تھا۔۔
اسکی نظروں کی تپش سے وہ جھجھلائی پھر اسکی
طرف دیکھ کر سرد مہری سے بولی۔۔
جو رشتے ناجائز جذبوں کی بنیاد پر تعمیر کیے جائیں
وہ کبھی بھی پائیدار ثابت نہیں ہو پاتے۔۔ہوس کی آگ بجھتے ہی سب جذبے سرد پڑ جاتے ہیں پھر انسان نئی
دریافتوں کی تلاش میں نکل کھڑا ہوتا ہے کیونکہ حرام کھانے کی عادت ہو تو حلال سے انسان مطمئن نہیں ہو پاتا نا اس کا پیٹ بھرتا ہے۔۔۔
نہایت ہی زہر خند لہجہ تھا اس کا۔۔
اس کے الفاظ پر وہ تو جیسے تڑپ اٹھا تھا۔۔۔
پلیز فار گاڈ سیک میری پاکیزہ محبت کو گالی تو مت دو۔میں تمہیں دل کی گہرائیوں سے چاہتا ہوں۔تمہارے لئیے میری محبت اب جنون کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ناممکن ہے تمہارے بغیر رہنا اب۔کیسے یقین دلاؤں تمہیں۔۔وہ بے بسی سے بولا
حیات نے تمسخرانہ نگاہوں سے اسکی طرف دیکھا۔۔
مسٹر محبت جنون وغیرہ پر میں یقین نہیں رکھتی یہ پانی کے بلبلے کی طرح ہوتا ہے جتنی شدت سے یہ ابل
کر اوپر آتا ہے اسطرح نیچے غائب ہونے میں بھی اسے
دیر نہیں لگتی۔۔یہ چیزیں آپکی فلموں میں ہی اچھی
لگتی ہیں رئیل میں ایسی چیزوں کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔۔کسی چیز کو حاصل کرنے کی ضد جب ہو جائے تو چین نہیں آتا۔۔انسان اپنی اس ضد کو محبت سمجھتا
ہے لیکن جب اسے وہ چیز حاصل ہو جاتی ہے تو پھر
اس چیز کی اہمیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔جس محبت کا وہ دعویٰ کر رہا ہوتا پہلے۔۔۔۔وہ صابن کی جھاگ کی طرح بیٹھ جاتی ہے۔۔بہتر ہوگا یہ ڈائیلاگز اپنی فلموں میں ہی بولا کریں مجھ پر کوئی اثر نہیں ہونے والا آپ کی اس سستی عاشقی کا۔۔۔
اسکے لہجے میں چٹانوں کی سی سختی اور برف کی سی سردی تھی۔حسین چہرے پر سرد مہری تھی۔۔۔
سستی عاشقی۔۔۔۔۔۔؟؟ اسے سخت صدمہ ہوا۔۔۔سستی عاشقی وہ ہوتی ہے جو آپ کا عاشق آپ کا محبوب آپ کا بوائے فرینڈ جھاڑتا ہو۔جس سے آپ کا شرعی رشتہ نا ہو۔۔۔۔۔۔۔شوہر کی محبت کو سستی عاشقی نہیں کہا جا سکتا۔۔سستی عاشقی بیوی سے نہیں گرل فرینڈ سے کی جاتی ہے۔۔۔۔
تو آپ نہیں کرتے رہے کیا۔۔۔۔؟؟ اسے گھورتے ہوئے سخت لہجے میں بولی۔۔
کرتا رہا ہوں۔۔۔بالکل کرتا رہا ہوں۔۔۔مگر اپنی گرل فرینڈز سے۔۔۔تم سے کیوں کروں گا یار تم تو میری اپنی بیوی ہو وہ تھکے ہوئے انداز میں گویا ہوا۔۔۔
میں آپکی کسی قسم کی باتوں میں نہیں آنے والی۔یہ صرف اور صرف مجھے پانے کی چال ہے۔اصل میں آپ
سے یہ بات برداشت نہیں ہو رہی کہ آپ مجھے ایسے ہی چھوڑ دیں۔مجھے پانے کی دھن سوار ہے آپ پر اسی
لئیے تو پہلے مجھے گھٹیا پرپوزل دیتے رہے میرے انکار
پر بہلا پھسلا کے نکاح کے جال میں پھنسا لیا کہ چلو ویسے نا سہی تو ایسے ہی سہی۔۔۔نکاح کے باوجود بھی اپنی خواہش پوری کرنے میں ناکام رہے تو اب جھوٹی محبت کا جال پھینک کر شکار کرنا چاہتے ہیں۔مگر میں آپ کی کوئی بھی گھٹیا خواہش پوری نہیں ہونے دوں گی۔ چاہے اسں کیلئے مجھے اپنی جان بھی کیوں نا لینی پڑے۔اس لہجہ بھی اسکے ارادے کی طرح مضبوط تھا۔۔۔پختہ تھا۔۔وہ سخت متنفر و بدگمان ہو چکی تھی اس سے۔۔وہ جو سکتے کے عالم میں بیٹھا اسکی تند و تلخ باتیں سن رہا تھا۔۔گہری سانس لے کر بولا۔۔۔۔
کیسی باتیں کر رہی ہو یار۔۔۔۔ تم کوئی مچھلی ہو جو تمہیں شکار کرنے کیلئے جال پھینکوں گا۔؟؟
وہ صرف سخت نظروں سے گھور کر رہ گئی۔۔۔
کچھ لمحے وہ افسوس بھری نظروں سے اسکی طرف دیکھتا رہا۔۔۔۔پھر گہری سنجیدگی سے گویا ہوا
تم کبھی میری دسترس سے دور نہیں رہیں حیا جو تمہیں حاصل نا کر پاتا۔۔چلو پہلے کو تو چھوڑو نکاح
کے بعد کیا ایک دفعہ بھی میں نے اپنی خواہش کیلئے
تمہاری طرف دیکھا یا تمہیں مجبور کیا۔۔۔۔۔؟؟ میرے غلطی سے دئیے گئے ایک غلط پرپوزل کی بنیاد پر تم
نے مجھے غلط انسان سمجھ لیا۔۔۔۔میں چاہتا تو نکاح
کے بعد تم سے اپنا رشتہ مضبوط بنانے کیلئے ازدواجی
تعلق قائم کر سکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔مگر میں نے ایسا نہیں کیا کیونکہ مجھے تمہارے وجود سے نہیں تمہاری روح سے
تمہارے دل سے محبت تھی اور ہے۔اگر تم اس خوف میں مبتلا ہو کہ تمہیں پانے کے بعد میرا دل تم سے بھر
جائے گا۔۔۔۔کیونکہ میں تو کلی کلی منڈلانے والا بھنورا ہوں۔حرام کھانے کی عادت ہے تو حلال پر کیسے قناعت کر سکتا ہوں بھلا۔۔۔۔۔تو میں تمہیں لکھ کر دینے کو تیار ہوں کہ اگر تم صرف میرے ساتھ رہنے کی حامی بھر لو تو میں کبھی بھی تم سے کوئی ڈیمانڈ نہیں کروں گا۔۔کوئی شادی والا تعلق نہیں ہوگا ہمارے درمیان۔تم چاہو تو مجھ سے کوئی بھی قسم اٹھوالو یا لکھوا لو۔۔۔
یہ ایگریمنٹ صرف اور صرف ہم دونوں کے درمیان رہے گا۔قیامت تک کسی کو خبر نہیں ہوگی۔۔ تم جیسے چاہو میں کرنے کو تیار ہوں۔۔۔۔۔وہ بھرپور یقین دلاتے ہوئے بولا۔۔۔
حیات عبدالرحمان کا چہرہ سرخ ہو گیا۔۔۔نامعلوم غصے
کی وجہ سے یا شرم کی وجہ سے۔۔۔
شوبز والوں کی شادیاں زیادہ دیر نہیں ٹکتیں۔۔۔۔بہتر
ہوگا مجھے آزاد کر دیں ویسے بھی میں سیدھی سادی
ہوں آپکے ٹائپ کی نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔آپ فلمسٹار ہیں یقیناً لبرل مائنڈڈ ہونگے میرے جیسی سمپل لڑکی آپکے ساتھ سوٹ نہیں کرے گی۔۔فلمی ہیروز کے ساتھ بولڈ لڑکیاں ہی جچتی ہیں جو بنا کسی جھجھک کے شارٹ ڈریسز پہنتی ہوں۔۔۔ انکے ساتھ پارٹیز فنکشز شوز وغیرہ اٹینڈ کر سکتی ہوں۔اسموکنگ ڈرنک۔ کیمروں کی لائم لائٹس
یہ سب میں نہیں کر سکتی سوری۔۔۔وہ سپاٹ لہجے میں گویا ہوئی۔۔
ایسا مت کہو یار۔۔۔میں تمہیں لکھ کر دینے کو تیار ہوں
ہماری شادی کبھی نہیں ٹوٹے گی کم از کم میری وجہ سے تو کبھی نہیں۔۔۔۔میں کبھی بھی تمہیں کسی بات کیلئے مجبور نہیں کروں گا۔اپنی مرضی کا لائف اسٹائل اپنانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رہی بات بولڈنیس کی تو اپنی بیوی میں بولڈنیس کوئی پسند نہیں کرتا چاہے وہ عام بندہ ہو یا فلمی اداکار۔۔۔۔
کرتے ہیں پسند آجکل بہت سے ایکٹرز کی بیویوں کی بولڈنیس کی وجہ انکے شوہر حضرات کی ڈیمانڈ یا سپورٹ ہوتی ہے۔۔۔وہ اپنی بات پر زور دیتے ہوئے بولی
اچھا کرتے ہونگے۔۔۔مگر میں ایسا نہیں ہوں۔۔مجھے تو تمہارے جیسی۔۔باحیا باکردار۔۔شرم و حیا والی لڑکی
چاہیے۔۔۔۔
اس کا مخمور لہجہ اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔
باحیا باکردار لڑکی بھی اپنے لئیے باکردار باحیا شریف شوہر چاہتی ہے۔۔۔۔وہ جتاتے ہوئے بولی۔۔۔
وہ کچھ دیر بول نہیں سکا۔۔پھر کارپٹ پر اسکے قدموں
میں جا بیٹھا۔۔۔۔
فار گاڈ سیک۔۔۔میری تمام غلطیوں کی معافی دے دو
اور میرا ساتھ قبول کر لو۔۔۔تم جو بھی ڈیمانڈ رکھوگی
مجھے قبول ہوگی بس بدلے میں مجھے تمہارا ساتھ
چاہیے۔۔تمہیں میری وجہ سے جو جو تکلیفیں پہنچیں
میں ان کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں۔۔۔پلیز مان جاؤ۔۔وہ اس
کے ہاتھ تھامتا ملتجی انداز میں کہہ رہا تھا۔۔۔
وہ اپنے ہاتھ چھڑاتے ہوئے بولی۔۔۔
پہلے زخم دیتے ہیں اور پھر مرہم لگاتے ہیں۔۔۔۔۔۔چلیں جائیں یہاں سے جو بھائی نے آپ سے کہا ہے وہی میرا
فیصلہ ہے۔۔۔اسکے لہجے میں نرمی تو کیا ذرا سی بھی رعایت کی گنجائش نہیں تھی۔۔۔بالکل ٹھوس اور بے لچک لہجہ تھا اس کا۔۔۔
تمہیں میری طرف سے جو بھی تحفظات لاحق ہیں وہ
مجھے بتاؤ۔۔۔۔؟؟میں تمہیں لکھ کر دینے کو تیار ہوں
وہ اس سے دستبردار ہونے کو ہرگز تیار نہیں تھا۔۔۔
میں فیصلہ کر چکی ہوں جو کہ فارس بھائی آپ کو سنا چکے ہیں۔۔ڈیورس چاہیے مجھے۔سختی سے جواب آیا کسی قسم کی رعایت نہیں تھی۔۔۔
طلاق میں مر کر بھی نہیں دوں گا۔۔وہ سرکش ہونے لگا
آپ کے مرنے کے بعد مجھے طلاق لینے کی ضرورت ہی
نہیں ہوگی۔۔۔۔وہ سنگدلی سے بولی تھی۔۔
ماحر نے بے حد دکھ سے اسکی طرف دیکھا۔
اتنی سنگدل تو مت بنو یار۔۔مجھ سے محبت نہیں کر سکتیں تو ترس ہی کھا لو۔۔میں تم سے تمہارے ساتھ کی بھیک مانگ رہا ہوں۔مجھے خالی ہاتھ مت لوٹاؤ۔۔تمہارے بغیر جینے کا تصور میرے لئیے محال ہے۔۔۔۔
یہ ڈائیلاگ اپنی فلموں میں ہی استعمال کیا کرو۔۔
اس پر کوئی اثر نہیں ہوا۔۔۔
وہ پلکیں جھپکائے بنا اسے دیکھتا رہا۔۔
ایسا مت کہو اب یہ تعلق میرے مرنے کے بعد ہی ٹوٹے گا۔۔
اسکی آواز بھرا گئی۔۔۔آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے
تو مر جاؤ پھر۔۔۔سختی سے کہتی وہ چیخ پڑی تھی
خدا کیلئے مجھ پر رحم کرو۔۔۔میری بات مان لو۔۔۔۔کتنا
تڑپاؤ گی۔۔کتنی سزا دوگی۔۔میں نہیں رہ سکتا تمہارے
بغیر تم میرا ذہنی سکون ہو حیا۔۔۔۔۔ پلیز میرا یہ ذہنی سکون مجھے واپس لوٹا دو۔۔۔۔۔۔تم نے بھی کبھی مجھ سے محبت کی تھی تھوڑے ٹائم کیلئے سہی مگر کی تو
تھی کیا اس محبت کی ہلکی سی چنگاری بھی تمہارے دل میں موجود نہیں کیا۔۔۔مکمل طور پر بجھ چکی ہے
وہ محبت کیا۔۔۔؟؟؟وہ سراپا سوال بنا بیٹھا تھا۔۔
اسکی بوجھل آواز کے ہر تاثر کو توڑتی ترشی سے بولی
وہ محبت نہیں میری غلطی تھی جس کا احساس آپکی اصلیحت سامنے آتے ہی میرے دل سے ختم ہو گیا تھا۔
اب میرے اندر محبت کی کوئی چنگاری تو نہیں البتہ
دھواں اور راکھ ضرور موجود ہے۔۔۔۔۔آپ نے مجھے اس بری طرح توڑا ہے کہ میرا جسم تو کیا روح بھی جل کر راکھ ہو گئی۔اب آپ تو کیا کوئی بھی سمیٹنا چاہے تو سمیٹ نا پائے۔۔اس بری طرح سے بکھر چکی ہوں میں۔اسکی آنکھیں نم تھیں لہجے میں درد تھا کرب تھا۔۔۔
ایسا الزام تو مت لگاؤ۔۔۔میں نے فزیکلی تو تمہیں کبھی
ٹارچر نہیں کیا۔۔۔اس الزام پر وہ بھیگی شکایتی نظروں سے اسے طرف دیکھنے لگا۔۔۔
جتنی منتیں کریں روئیں گڑ گڑائیں میرا فیصلہ وہی
ہوگا۔میں کسی صورت آپ کو قبول نہیں کروں گی۔اس
کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔۔کتنی سختی۔کتنی
پختگی تھی اسکے انداز میں۔وہ محسوس کر سکتا تھا
پلیز اپنا فیصلہ بدلو۔۔۔میرا ہاتھ تھام لو۔۔۔تم جیسا کہو گی میں ویسا کروں گا۔۔۔پلیز نہیں رہ سکتا میں تمہارے
بغیر۔۔۔۔ترس کھاؤ مجھ پر۔۔اپنے سے دور مت کرو پلیز وہ اسکے ڈوپٹے کا پلو تھام کر رونے لگا۔۔۔
وہ کچھ دیر کیلئے ساکت بیٹھی رہی۔پھر اپنا دوپٹہ کھینچتے ہوئی بولی۔۔۔
میں صرف اور صرف آپ کی ضد ہوں اور کچھ نہیں
نہیں تم میری ضد نہیں ہو۔۔ میری محبت ہو۔۔میرا پیار ہو۔۔میرا عشق ہو۔۔۔۔۔میرا سکون ہو ۔۔۔۔میری زندگی ہو
میری حیات ہو تم۔۔۔۔میری حیات۔۔۔میں جیتے جی تم
سے دستبردار نہیں ہو سکتا۔۔۔کبھی نہیں۔۔۔
وہ روتے ہوئے ضدی انداز میں بولا۔۔۔
آپ صرف اپنی ضد پوری کرتے ہیں۔مجھ سے فلم میں
کام کرواتے ہوئے کہاں سو گئی تھی آپ کی یہ محبت عشق سکون زندگی ہاں۔۔مجھ سے فلم میں کام کروانا ضد تھی آپکی جو کہ پوری کروا لی آپ نے۔اسی ضد کے پیچھے تو آپ نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا۔۔۔کروا لیا
مجھ سے گناہ۔۔۔پوری ہو گئی تھی آپ کی حسرت۔۔مل گیا تھا آپ کو سکون۔۔۔
اسکی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔۔اگلے ہی پل وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔
اسے اپنے فلم میں کام کرنے کا بہت دکھ تھا۔۔۔۔
نہیں نہیں وہ ضد نہیں تھی۔۔تمہیں اپنے قریب رکھنے
کی وجہ تھی ایک بہانہ تھا۔۔۔ورنہ جب سے تمہارے لئیے دل میں فیلنگز آئی تھیں۔۔۔ تب سے یہ تمہیں اپنی فلم میں ہیروئن بنانے کی خواہش میری ختم ہو گئی تھی۔
وہ تو تم نے خود کہا تو میں نے ہاں کر دی تھی یہ سوچ
کر کہ اسی بہانے تم پاس تو رہوگی کچھ عرصہ۔۔۔
میں نہیں مانتی آپ کی کسی بھی وضاحت کو۔مجھے صرف اتنا معلوم ہے آپ نے مجھ سے وہ کام کروایا جو مجھے قطعاً پسند نہیں تھا۔جس پر میں آج بھی اللّٰہ سے توبہ کرتی ہوں۔۔۔۔
وہ فلم کبھی ریلیز نہیں ہوگی۔۔یہ ارادہ اسی وقت کیا
تھا میں نے جب تم نے فلم کیلئے حامی بھری تھی۔۔۔
حیات نے بھیگی حیران آنکھوں سے اسکی طرف دیکھا
پھر نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی
جھوٹ بولتے ہیں آپ۔۔۔اس فلم پہ آپ کروڑوں روپے لگا چکے ہیں۔۔۔۔آپ اسے ریلیز کریں گے کیونکہ میں آپ کے اپنے منہ سے سن چکی ہوں آپ نے میڈیا کو کہا تھا کہ وہ فلم عید پر ریلیز ہوگی۔۔۔
میری جان میں نے کہا ہے نا وہ صرف اور صرف تمہیں قریب رکھنے کا بہانہ تھا۔وہ فلم کبھی ریلیز نہیں ہوگی
اس نے بچوں کی طرح پچکارتے ہوئے سمجھایا تو وہ
اسکے میری جان بولنے پر غصے میں بھی جھینپ گئی
فضول لینگوئج یوز مت کریں میرے ساتھ۔۔۔۔۔ اور میں نہیں مانتی۔۔۔۔کون اپنا کروڑوں کا نقصان برداشت کرتا ہے۔۔۔۔۔۔اس نے ضدی انداز میں کہتے ہوئے نفی میں سر ہلائے جیسے اسکی کسی بات پر اسے کبھی یقین نہیں آئے گا۔۔۔
میں سچ کہہ رہا ہوں نہیں ہوگی کبھی ریلیز۔۔۔۔تمہارے لئیے کروڑوں کیا اربوں کا نقصان بھی برداشت کر سکتا ہوں۔۔ مجھے میری ماں کی قسم۔۔۔
کیا سمجھتے ہیں آپ یہ بات کہہ کر اپنے لئیے میرا دل
صاف کر لیں گے ہرگز نہیں۔میرا فیصلہ پتھر پر لکیر کی طرح ہے۔۔۔چلے جائیں یہاں سے میرا دل کبھی آپ کیلئے نرم نہیں ہوگا۔۔۔اس کا لہجہ دھیما مگر چہرے اور آواز
میں کٹھور پن اور درشتی تھی۔
اس کا حتمی جواب اسے سن کر گیا تھا۔۔
ہوگئی بات سن لیا میری بہن کا فیصلہ۔اندر آتے فارس
نے اسکے آخری جملے سن کر طنزیہ انداز میں جو
ششدر سا بیٹھا اسکی طرف دیکھ رہا تھا۔۔
اس کا چہرہ دھواں دھواں ہو رہا تھا۔۔۔۔
شکست خوردہ انداز میں وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
فارس نے میز پر سے ڈیورس پیپرز اور پن اٹھا کر اسکی طرف بڑھایا۔۔
کرو سائن۔۔۔اس نے درشت لہجے میں کہا
ماحر نے خالی خالی نظروں سے ان کاغذات کی طرف دیکھا جو اسے ڈیورس پیپرز نہیں بلکہ اپنے ڈیتھ وارنٹ لگ رہے تھے۔۔۔
پھر نرمی یا ترس کی امید کے سہارے حیات کی طرف
دیکھا۔۔۔۔
اس کے چہرے پر اپنے لئیے چھائی نفرت کو دیکھ کر موسم سرما کی اداس شاموں کے وحشت ناک سناٹے اس نے اپنے اندر گہرائی تک اترتے محسوس کیے۔۔۔۔۔
اس کی کوئی التجاء کوئی آنسو ،معافی تلافی منتیں اس پتھر میں دراڑ نا ڈال سکی۔۔۔حیات عبدالرحمان کا لہجہ اس کا انداز قطعی تھا۔چہرے پر پتھریلے تاثرات تھے۔۔۔۔۔۔ جن میں ہلکی سی بھی نرمی رعایت یا کسی گنجائش کی رمق نظر نہیں آ رہی تھی۔فارس کے ہاتھ سے پیپرز لے کر اس نے چار ٹکڑوں میں تقسیم کیے اور بہن بھائی کا ری ایکشن دیکھے بنا سنسناتے دماغ اور منتشر حواسوں کے ساتھ وہ تیزی سے وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔
حیات عبدالرحمان کے گھر سے نکل کر وہ سیدھا اپنے کلفٹن والے فلیٹ پر گیا تھا۔۔۔پورے دو دن وہ پہلے کی
طرح اسموکنگ ڈرنک کا سہارا لئیے کمرے میں پڑا رہا
احمر نے حوصلہ دینے کی کوشش کی مگر وہ اس پر
کچھ اثر نہیں ہوا۔۔۔۔۔کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔
نا احمر کی تسلیاں دلاسے نا گھر والوں سے رابط کرنا
بالکل بھی چین سکون نہیں آ رہا تھا۔۔۔۔دگرگوں ہوتی حالت اور مخدوش کیفیت نے اسے بالکل نڈھال کر دیا تھا۔۔سب سے لاتعلق وہ اکیلا اپنے فلیٹ میں پڑا اپنا
غم غلط کر رہا تھا۔۔۔۔فائزہ سکندر بار بار کالز کر رہی تھیں مگر وہ کسی کال کا جواب نہیں دے رہا تھا۔۔
دل کی دنیا ویران تھی۔۔۔۔حیات عبدالرحمان کے انکار
نے اسے غم اور اذیت کے صحرا میں دھکیل دیا تھا۔
اسکی محبت اس سے متنفر ہو چکی تھی۔۔اسے موت
کے منہ میں دھکیلتی جا رہی تھی۔۔۔وہ اپنے مرنے اور
اپنی حیات کی سنگدلی کا سوگ منا رہا تھا۔۔
احمر نے سکندر علی خان اور فائزہ سکندر کو ساری صورتحال بتا دی تھی۔وہ دونوں احمر سے ایڈریس لے کر اپنے بیٹے کی خوشیاں مانگنے حیات عبدالرحمان کے گھر جا رہے تھے۔۔
فائزہ سکندر کی بے تاب نگاہیں اس کے حسین چہرے
دلکش و دلربا سراپے کا بہت باریک بینی سے جائزہ لے رہی تھیں۔بلیک چائنہ ویلوٹ کی شرٹ جس پر گولڈن
تلے کی بے حد نفیس اور خوبصورت کڑھائی کی ہوئی تھی۔۔گولڈن بنارسی ٹراؤزر اور گولڈن ڈوپٹہ اوڑھے اس
کا نوخیز حسن نگاہوں کو خیرہ کر رہا تھا۔۔۔۔۔مشرق و
مغرب کے سنگم کا بہترین شاہکار۔۔۔۔انہوں نے دل ہی دل
میں بیٹے کے انتخاب کو سراہا۔۔۔۔۔وہ مجنوں بنا ہوا تھا
تو واقعی وہ اس لائق تھی کہ اس کیلئے مجنوں بن کر
صحرا میں بھٹکا جائے۔۔ان کا جی چاہا اس چاند چہرہ والی کو آگے بڑھ کر گلے سے لگا لیں۔۔۔جو انکی بہو تھی ان کے لاڈلے ضدی بیٹے کی پسند تھی۔۔۔مگر فلحال ایسا کرنا صحیح نہیں لگا تھا۔۔کیونکہ اس چاند چہرہ والی کے چہرے پر یہ جاننے کے بعد کہ وہ ماحر خان کے پیرنٹس ہیں شدید قسم کی ناگواری چھا گئی تھی۔۔ کچھ دیر اسے بغور تکتے رہنے کے بعد وہ اسکے ناگوار تاثرات نظر انداز کیے آگے بڑھیں اور اس کے نازک وجود کو پھولوں کی طرح سمیٹ کر سینے سے لگا لیا۔۔فائزہ سکندر کے انداز میں بہت اپنائیت اور گرمجوشی تھی۔تصنع و بناوٹ سے پاک غیر ارادی طور پر وہ کچھ دیر اسے سینے سے لگائے کھڑی رہیں۔حیات تو بالکل بت بن گئی تھی اسے سمجھ نہیں آیا وہ کیا ری ایکشن دے۔ان کے محبت اور گرمجوشی سے بڑھے ہاتھوں کو جھٹک دے یا خاموش رہے۔۔۔۔اسی سوچ میں مبتلا کنفیوژ سی وہ ان کے سینے سے لگی سٹیچو بنی کھڑی رہی۔۔۔۔جب انہوں نے خود سے علیحدہ کیا اور سکندر علی خان نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا تو اسکے وجود میں جنبش ہوئی اس نے سر اٹھا کر انکی طرف دیکھا۔۔
گرے کلر کے سوٹ کوٹ میں انکی پرسنالٹی خاصی پروقار اور متاثر کن تھی۔۔۔سرخی مائل چہرے پر ایسا رعب و دبدبہ تھا کہ مقابل خود بخود ہی مؤدب ہو جائے۔۔۔
اسلام علیکم بیٹا کیسی ہیں۔۔۔۔۔ان کا لہجہ شفقت اور
نرمی سے بھرپور تھا۔۔۔
وعلیکم السلام۔۔اس نے جھجکتے ہوئے آہستہ سے جواب
دیا۔۔انکی اس متاثر کن شخصیت کی انفرادیت سے وہ
ناچاہتے ہوئے بھی مرعوب سی ہو گئی تھی۔۔۔۔
بیٹھئیے پلیز۔۔۔کچھ لیں گے آپ۔۔۔چائے کافی۔۔؟ فضا نے بادل ناخواستہ آداب میزبانی نبھائی۔۔۔۔۔۔
مہمان کافی اچھے اپنائیت والے لگ رہے تھے مگر فلحال جس کے حوالے سے وہ یہاں آئے تھے ایسے میں انکی پرخلوص مہمانداری کرنے سے وہ قاصر تھیں۔۔فارمیلٹی
نبھانے کیلئے تو اب رویے میں تھوڑی بہت لچک لانا
ضروری تھا۔فارس گھر پہ نہیں تھا۔ورنہ ناجانے اس کا کیا ری ایکشن ہوتا۔۔۔
چائے ودھ آؤٹ شوگر۔۔فائزہ سکندر نے جواباً بے تکلفی سے کہا۔۔پل بھر کو فضا کی آنکھوں میں حیرت ابھری
جسے فوراً چھپاتے ہوئے وہ ملازمہ کو چائے کا کہنے سٹنگ روم سے نکل گئی۔۔۔
بیٹا پڑھتی ہیں آپ۔۔۔۔؟؟ سکندر علی خان نے اس سے سوال کیا۔۔۔۔
جی پڑھتی ہوں۔۔ ایم ایس س۔۔۔سیکنڈ سمسٹر۔۔ اس نے نگاہیں جھکائے جواب دیا۔۔
گڈ۔۔ چہرے سے لگتا نہیں۔۔آپ تو اسکول گرل لگتی ہیں
وہ توصیفی انداز میں کہتے ہوئے ذرا سا مسکرائے تھے۔۔
جواباً وہ نگاہیں جھکائے خاموش بیٹھی رہی۔۔
وہ چاہ کر بھی ماحر خان کے والدین کے ساتھ بدتمیزی نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔۔ورنہ اس کا دل تو چاہ رہا تھا کہ وہ انہیں کھری کھری سنائے۔۔۔۔انہیں بتائے کہ ان کا بیٹا جس کو وہ ہیرو سمجھتے ہیں کس قدر گھٹیا ہے۔۔انکے بیٹے کی وجہ سے اس کا کتنا نقصان ہوا۔کیا یہی تربیت کی تھی انہوں نے اپنے بیٹے کی۔۔مگر یہ تمام باتیں وہ صرف سوچ ہی سکی تھی کہنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ابھی کچھ دیر پہلے جب گارڈ نے انٹرکام پر ماحر کے والدین کی آمد کی اطلاع دی تھی تو اس نے صاف منع کرنا چاہا مگر فضا نے یہ کہہ کر روک دیا وہ ماحر خان کے والدین سہی مگر ہیں تو بڑے بزرگ۔۔۔۔
ان سے ملنے سے انکار کر کے انہیں دروازے سے لوٹا دینا بدتمیزی کے زمرے میں آتا ہے۔۔۔۔بادل نخواستہ وہ مان گئی تھی۔مگر ان کو دیکھ کر اپنے چہرے پر ابھرنے والے ناگوار تاثرات کو چھپا نہیں پائی تھی۔پھر بھی وہ اس کی ناگواری کو نظر انداز کرتے بڑی محبت اور اپنائیت سے اسے ملے تھے۔۔۔۔۔اب وہ ناچاہتے ہوئے بھی ان سے اچھے انداز میں بات کرنے پر مجبور تھی۔۔۔۔
آپ کے بھائی کب تک آئیں گے۔۔۔انہوں نے رسٹ واچ پر نگاہ ڈالتے ہوئے پوچھا۔۔
“میں نے فون کر دیا ہے وہ بس تھوڑی دیر تک آ جائیں
گے۔۔ملازمہ کے ہمراہ چائے کی ٹرالی لاتی فضا نے جواب دیا۔۔۔
حیا بیٹا تمہارے بھائی کے آنے تک میں تم سے بات کرنا
چاہتی ہوں مگر اکیلے میں۔۔۔۔۔فائزہ سکندر کا انداز ایسا تھا جیسے التجاء کر رہی ہوں۔۔۔۔۔حیات نے کنفیوژ ہو کر فضا کی طرف دیکھا جیسے پوچھ رہی ہو کہ کیا کروں
جی ضرور کر لیں بات آپ۔۔۔۔حیا ان کو اپنے کمرے میں لے جاؤ۔۔فضا نے چائے کا مگ سکندر علی خان کی طرف
بڑھاتے ہوئے حیات سے کہا تو وہ انہیں اپنے کمرے میں لے آئی۔۔۔۔۔”فائزہ سکندر صوفے پر بیٹھنے کے بجائے بے تکلفی سے اس کے بیڈ پر بیٹھ گئیں اور اسے بھی ہاتھ سے پکڑ کر اپنے قریب بٹھا لیا۔۔
جیسا سوچا اس سے بڑھ کر پایا۔۔۔۔۔میرا بیٹا اس قدر حسین چاند سا مکھڑا ڈھونڈھ لائے گا گمان نہیں تھا مجھے۔۔۔۔ہاتھوں کے پیالے میں اسکے چہرے کو لئیے وہ
سرشار لہجے میں کہہ رہی تھیں۔۔آنکھوں میں ستائش
ہی ستائش تھی۔۔۔انکی تعریف سے وہ جھینپ سی گئی
اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ ان سے کیا اور کس انداز
میں بات کرے۔۔
کیا سوچ رہی ہو بیٹا۔۔؟؟فائزہ بیگم کی شیریں نرم آواز
اسکی سماعت سے ٹکرائی ۔۔۔۔۔حیات نے غور سے انکی طرف دیکھا۔۔۔آف وائٹ سوٹ میں ملبوس۔۔بے حد لائٹ
میک اپ۔ہلکی پھلکی جیولری پہنے وہ گریس فل لیڈی
لگ رہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔ایلیٹ کلاس کی عورتوں والا غرور و طنطنہ ان میں بالکل دکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔حالانکہ
وہ عام خاتون نہیں تھیں۔۔۔۔۔۔فلم انڈسٹری پر راج کرنے والے مشہور ہیرو کی ماں مشہور فلمی سیاسی سماجی
خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔۔۔۔۔جو دولت شہرت اور طاقت کے لحاظ سے ملک کا نمبر ون خاندان تھا۔۔۔مگر
انکے ہر انداز سے سادگی جھلک رہی تھی۔اگر یہ خاتون
ماحر خان کی والدہ نا ہوتیں تو وہ یقیناً ان سے بہت
خوش اخلاقی سے ملتی۔۔۔۔اس کے قریب بیٹھیں وہ
محبت بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھیں۔۔۔۔
کچھ نہیں۔۔۔آپ۔۔۔۔۔وہ نروس سی ہوگئی انہیں کیا کہہ کر مخاطب کرے۔۔۔
اتنا گھبرا کیوں رہی ہو بیٹا مجھے اپنی ممی سمجھو۔۔
بیٹیاں ماؤں سے تکلف نہیں کرتیں۔میں چاہتی ہوں آپ
میرے ساتھ کھل کر بے تکلفی سے بات کرو۔۔میں جانتی ہوں آپ جس تکلیف اور پریشانیوں سے گزری ہیں۔۔۔۔۔میرے بیٹے کی وجہ سے آپ کو در بدر ہونا پڑا۔مشکلات
اٹھانی پڑیں۔پھر جس طرح اس نے تمہیں مجبور کر کے نکاح کیا۔اسکے ملازموں کی وجہ سے تمہیں اپنا بھائی کھونا پڑا۔۔میں ایک ایک بات سے واقف ہوں۔۔اپنی سب
غلطیوں کا اعتراف کیا ہے میرے سامنے اس نے سوائے
ایک غلطی کے۔۔۔ جسے وہ غلطی ماننے کو تیار نہیں اور وہ ہے تم سے نکاح کرنا۔۔۔۔۔۔بہت ڈانٹا میں نے اسے بہت
برا بھلا کہا۔۔۔بہت رویا ہے وہ میرے آگے۔۔۔بالکل چھوٹے
بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر روتے دیکھا ہے میں نے اسے۔وہ تمہیں بہت چاہتا ہے۔اسکی آنکھوں میں تمہارا عکس دیکھا ہے میں نے۔میں یہ بھی جانتی ہوں اسکی زندگی میں بہت سی لڑکیاں آئیں۔۔۔۔مگر میں یقین کے ساتھ کہہ سکتی ہوں اب آخری لڑکی تم ہو ۔۔۔۔تمہارے علاوہ اب وہ کسی لڑکی کی طرف نہیں دیکھے گا اب۔بچپن سے ہی بہت ضدی ہے وہ ایک بار جو کہہ دے اس سے پیچھے کبھی نہیں ہٹتا۔۔۔۔وہ کہتا ہے تمہارے علاؤہ کسی لڑکی کو اپنی زندگی میں نہیں لائے گا تو اسکی ماں ہونے کے ناطے میں قسم کھا کر کہتی ہوں وہ اپنا یہ وعدہ آخری دم تک نبھائے گا۔۔۔۔۔کیونکہ اگر اس میں کوئی خوبی ہے تو یہی وعدہ نبھانے والی ہے۔۔۔۔تھوڑی
سی گنجائش پیدا کر لو اس کیلئے اپنے دل میں بیٹا
بہت چاہتا ہے وہ تمہیں۔۔۔اسے تو خالی ہاتھ لوٹا دیا تم
نے مگر میں تمہاری ماں جیسی ہوں مجھے مت لوٹاؤ
خالی ہاتھ۔دیوانوں جیسی حالت ہو گئی ہے اسکی۔دو دن سے نڈھال پڑا ہوا ہے کمرے میں۔میں اپنے بیٹے کی یہ حالت نہیں دیکھ سکتی۔۔ایک مجبور ماں اس وقت تمہارے سامنے بیٹھی تم سے اپنے بیٹے کی زندگی اور خوشیوں کی بھیک مانگ رہی ہے کیونکہ اگر تم نے اسے چھوڑ دیا تو میرا بیٹا زندگی سے بہت دور چلا جائے گا۔
تم تو حیات ہو۔میں تم سے اپنے بیٹے کی حیات مانگتی ہوں۔۔۔۔میری جھولی بھر دو۔۔مجھے خالی مت لوٹاؤ بیٹا اس کے دونوں ہاتھ تھامے التجاء کرتے اچانک انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اسکے سامنے جوڑ دیے۔۔۔
یہ۔۔۔۔ آپ کیا کر رہی ہیں۔۔وہ جو سکتے کی حالت میں بیٹھی انکی باتیں سن رہی تھی ان کے جڑے ہاتھ دیکھ کر بوکھلائی۔۔۔۔کچھ بھی ہو بڑوں کے احترام کے جذبے سے اس کا دل کبھی خالی نہیں ہوا تھا۔۔۔۔۔فائزہ سکندر
کا ہاتھ جوڑنا۔۔۔۔۔۔التجاء کرنا اسے عجیب سے مخمصے میں ڈال گیا۔۔۔وہ نا تو انکار کر پا رہی تھی اور نا اقرار
دل و دماغ میں جنگ سی چھڑ گئی تھی۔۔۔تم سوچ لو
میں یہیں بیٹھی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔تمہیں جتنا بھی ٹائم لگے گا
میں بیٹھی رہوں گی۔کیونکہ تمہارے فیصلے سے میرے
بیٹے کی زندگی کی ڈور بندھی ہوئی ہے۔ماں ہوں بیٹے
کو یوں گھٹ گھٹ کر مرتا ہوا نہیں دیکھ سکتی اس
کیلئے مجھے تمہیں اور تمہارے بھائی کے پاؤں پر ہاتھ
رکھنے پڑے میں رکھوں گی۔۔۔۔۔جو سزا دینی ہے مجھے
دے دو۔۔میرے بیٹے کو مت دو۔۔۔وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھیں۔۔
پلیز یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ۔۔۔ایسا مت کہیں۔۔میں۔۔وہ
حیات عبدالرحمان سخت مشکل میں پڑ گئی تھی فائزہ
سکندر کی باتیں ان کا رونا اسے سخت شرمندگی خفت
اور پریشانی سے دوچار کر رہا تھا۔مجرم نا ہوتے ہوئے بھی وہ خود کو مجرم سمجھ رہی تھی۔۔۔
بیٹے کی وجہ سے ان کا ٹوٹا بکھرا وجود مسلسل بہتے
اشک حیات عبدالرحمان کے دل کو کچھ ہونے لگا۔۔۔
میں تب تک یہاں تمہارے پاس سے نہیں ہلوں گی جب
تک تم میرے بیٹے کی زندگی کی نوید نہیں سنا دیتی
وہ متواتر آنسو بہاتے ہوئے کہہ رہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔حیات بے
بسی سے انہیں دیکھنے لگی۔۔پھر ایک لمحہ لگا تھا اسے
سوچنے اور اقرار کرنے میں۔۔جب اس کے اندر کسی بات
کی ضد بیدار ہوتی تو وہ ثابت قدمی سے اس پر ڈٹی
رہتی اڑی رہتی۔۔۔لیکن جب کبھی مشکل سچویشن میں
پھنس کر اسے فیصلہ کرنا پڑتا تو صرف ایک پل لگاتی تھی وہ۔۔فائزہ سکندر اس کا اقرار پا کر کھل اٹھی تھیں
اسے گلے سے لگائے وہ ایک ماں کی طرح اسکے ماتھے اور بالوں کو مسلسل چومے جا رہی تھیں۔انکی آنکھوں میں آنسو مگر ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔بیٹا لاکھ سر
پٹخنے کے باوجود بھی پتھر میں دراڑ پیدا نا کر سکا
جب ماں کے آنسوؤں نے پتھر کو موم کر دیا تھا۔۔۔
املا کی غلطیوں کو اگنور کریں۔۔
