Meri Hayat By Zarish Hussain Readelle50271 Meri Hayat (Episode 44) Part - 2
Rate this Novel
Meri Hayat (Episode 44) Part - 2
Meri Hayat By Zarish Hussain
ایک منٹ نرگس۔۔۔۔یہ لڑکی مجھے چاہیے۔۔۔گرو نے روتی سسکتی حیات عبدالرحمان کی طرف اشارہ کر کے کہا۔۔
گرو جی آپ۔۔۔۔۔وہ ہکا بکا ان کو دیکھنے لگی
ہاں مجھے یہ لڑکی چاہیے۔۔۔۔انہوں نے تحکم بھرے انداز میں کہا۔۔۔۔
لیکن گرو جی۔۔۔آپ اس لڑکی کا کیا کریں گے بھلا۔۔۔
میرا مطلب ہے آپ کے کس کام کی یہ۔۔۔۔؟؟
نرگس بائی نے طریقے سے بات کو سنبھالتے ہوئے منع کرنا چاہا۔۔۔۔درحقیقت گرو کے اس مطالبے نے اس کے ہوش اڑا دیے تھے۔
اگر وہ کسی اور لڑکی کی ڈیمانڈ کرتے تو وہ آرام سے دے دیتی مگر یہ انتہائی حسین و جمیل ہیرا تھا۔جس کو کیش کروا کر وہ خوب مالا مال ہونے کے خواب دیکھ رہی تھی۔۔اب اسے گرو جی کے حوالے کر دینا
وہ بری طرح پریشان ہو گئی تھی۔۔وہ اس لڑکی سے کسی بھی قیمت پر دستبردار نہیں ہو سکتی تھی۔۔
مگر گرو کو انکار کرنا بھی ناممکن تھا۔۔۔
اس کا یہ کوٹھا درحقیقت گرو کی ہی ملکیت تھا۔۔گرو
کی وجہ سے ہی وہ اتنے آرام سے اپنا دھندہ چلا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔گرو کی وجہ سے ہی پولیس اسکے کوٹھے پر چھاپہ مارنے کبھی نہیں آئی تھی۔وہ بری طرح گرو کے احسانوں تلے دبی ہوئی تھی۔۔گرو کو انکار کرنا خود کو برباد کرنے کے مترادف تھا۔۔۔
لہذا انکار کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔۔۔اس نے طریقے سلیقے سے اس نے گرو کو سمجھانا چاہا۔۔اسے اپنے ارادے سے باز رکھنا چاہا کہ اول تو یہ لڑکی اسکے کسی کام کی نہیں۔۔پھر بھی اگر اسے کوئی لڑکی چاہیے ہی تو وہ اس کوٹھے کی باقی لڑکیوں میں سے کوئی بھی لے لے مگر اس کو رہنے دے۔۔۔
مگر گرو یہ بات سن کر غصے میں آ گیا۔۔۔
تم کو میری ایک بات سمجھ میں نہیں آتی نرگس میں نے کہا ہے نا مجھے یہی لڑکی چاہیے۔۔۔میرے کسی کام کی ہے یا نہیں اسکی فکر کرنے کی تمہیں ضرورت نہیں
بوبی گرو کو غصے میں دیکھ کر وہ بوکھلا کر معافی مانگنے لگی۔۔۔پھر مرے مرے لہجے میں اپنی لڑکیوں کو حکم دیا اس لڑکی کو گرو جی کی گاڑی تک چھوڑ کے آؤ۔۔۔۔۔۔۔بائی کے حکم پر لڑکیاں روتی چلاتی حیات کو کھینچتی ہوئی نیچے کھڑی گرو کی کار تک لے آئیں
ڈرائیور نے دروازہ کھولا۔۔۔۔گرو بھی پیچھے تھا۔۔حیات
مسلسل مزاحمت کر رہی تھی وہ کسی صورت گاڑی میں بیٹھنے پر راضی نا تھی۔۔۔تب گرو جی نے لڑکیوں کو اسے چھوڑنے اور پیچھے ہٹ جانے کا حکم دیا اور خود قریب جا کر آہستہ آواز میں کہا۔۔
سن لڑکی۔۔۔اگر میرے ساتھ نہیں چلے گی تو یہ بائی تجھے کبھی یہاں سے نکلنے نہیں دے گی۔۔اپنی عزت
گنوا دوگی۔ایک بار اس دلدل میں پھنس گئی تو دوبارہ کبھی نکل نہیں پاؤ گی۔
اگر میرے ساتھ چلے گی تو جہاں میں تمہیں لے کر جاؤں گا وہاں تمہاری عزت کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔۔مجھے دیکھ کر اتنا اندازہ تو تمہیں ہو ہی گیا ہوگا کہ کون ہوں میں۔۔۔۔
وہ رونا چھوڑ کر اسے دیکھنے لگی
اب بتاؤ میرے ساتھ چلو گی یا پھر یہاں اس بائی کے کوٹھے پر رکنا ہے۔۔؟؟
اسے تذبذب میں دیکھ کر گرو نے طنزیہ انداز میں سوال کیا تو وہ خاموشی سے گاڑی میں بیٹھ گئی
گرو بھی دوسری طرف سے اسکے ساتھ آ بیٹھا۔وہ
ڈر کے مارے سمٹ کر دروازے سے چپک گئی۔۔
ڈرو نہیں۔۔۔میں نے کہا نا ہم سے تمہیں کوئی خطرہ نہیں۔۔۔۔اسے ڈرتے دیکھ کر گرو نے نرم لہجے میں کہا
اس کا نرم انداز دیکھ کر وہ سیدھی ہو بیٹھی۔۔
اس کے بعد اس نے مزید کوئی بات نہیں خاموشی سے لاتعلق انداز میں شیشے سے باہر دیکھتا رہا۔جبکہ وہ سارے راستے یہ سوچتی رہی یہ انسان اسے کہاں اور کیوں لے جا رہا ہے۔مون کا بھی رہ رہ کے خیال آ رہا تھا ۔ ناجانے کہاں ہوگا۔۔کس حال میں ہوگا۔۔ان تین دنوں میں وہ اسکے لئیے اتنا رو چکی تھی کہ اب تو آنکھیں بھی دکھنے لگی تھیں۔۔
تیس چالیس منٹ کی ڈرائیونگ کے بعد گاڑی ایک اور
بلڈنگ کے سامنے رکی۔۔یہ دو منزلہ عمارت یقیناً کوئی رہائشی بلڈنگ ہی تھی۔۔گرو کے کہنے پر وہ ڈرتے ڈرتے گاڑی سے اتری۔۔۔کہیں کوئی اور آزمائش منتظر نا ہو۔۔
اس خیال سے دل میں ہول اٹھ رہے تھے۔گرو کے کہنے
پر اس کے ساتھ اندر کی طرف بڑھی۔۔۔
گرو سیڑھیاں چڑھ کر اسے اوپری منزل پر واقع ایک ہال میں لے آیا تھا۔۔
آگے کا منظر اسے ساکت کر گیا تھا۔۔یہ تو وہ جان گئی تھی کہہ گرو کون ہے۔مگر ایسی جگہ لائے گا یہ خیال تو اسے آیا ہی نہیں تھا۔۔وہ ساکت و جامد کھڑی تھی
سامنے کا منظر اس کیلئے بے حد ناقابل برداشت تھا۔
اچانک اسے ابکائی سی آئی تھی جسے اس نے منہ پر
ہاتھ رکھ کر روکا تھا۔۔
ناول اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے۔۔میری کوشش ہوگی باقی جتنی ایپیسوڈز رہتی ہیں وہ بہت لانگ دوں۔۔۔
