171.9K
78

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Hayat (Episode 10)

Meri Hayat By Zarish Hussain

برکھا اور ساتھیا جسکی پچھلے کئی دنوں سے پرموشن جاری تھی آگے پیچھے ریلیز ہوئیں………برکھا واجد علی کی زیر ہدایت بنی تھی جبکہ ساتھیا ماحر کے اپنے پروڈکشن کے تحت بننے والی فلم تھی….برکھا ایک کروڑ کے بجٹ سے تیار کی گئی تھی جس نے ایک ہفتے میں پانچ کروڑ کا بزنس کیا تھا جبکہ ساتھیا جو برکھا کے دو دن بعد ہی ریلیز ہوئی تھی اس نے تو اگلی پچھلی سب فلموں کے ریکارڈ توڑ دیے..پانچ کروڑ کے بجٹ سے بننے والی اس فلم نے تین ہفتوں میں ہی 100 کروڑ کا بزنس کر لیا تھا…جبکہ سینما گھروں میں ابھی بھی بکنگ دھڑا دھڑ جاری تھی……میڈیا میں ہر جگہ اسی کا چرچا ہو رہا تھا…….اس فلم نے مثال شیرانی کو بھی کامیاب اداکاراؤں کی فہرست میں لا کھڑا کیا تھا……..یہ سراسر ماحر کا ہی احسان تھا…”جس لڑکی کو بھی فلمی دنیا میں متعارف کروانا ہوتا اپنی پروڈکشن کے تحت بننے والی فلموں یا پرانی فلموں کے ری میک کا سہارا لے کر اس کو انڈسٹری میں قدم جمانے میں مدد دیتا تھا……..!!

ان دونوں فلموں میں ہیروئین مثال شیرانی ہی تھی”

“اگرچہ دونوں کی جوڑی کو بے حد پسند کیا گیا

تھا…لیکن ماحر سکندر خان ایک بار پھر چھا گیا تھا…”

ساتھیا میں اسکی ڈانس پرفارمینس دیکھ کر فلم بینوں نے چارمنگ ڈانسنگ ہیرو کا خطاب دے ڈالا تھا…فلم کو آسکر کیلئے نامزد کیا گیا تھا ماحر سکندر اسی سلسلے میں لاس اینجلس گیا ہوا تھا جہاں 2021′ کا سب سے بڑا ایواڈ شو منعقد کیا گیا تھا جس میں دنیا بھر کے بڑے بڑے اداکار شرکت کر رہے تھے….” “ایک رنگین ہفتہ اسکی سنگت میں گزارنے کے بعد سومی بھی اسکے ساتھ ہی واپس گئی تھی مگر میڈیا کی نظروں سے بچنے کیلئے دونوں نے الگ الگ فلائٹس لی تھیں…….. ایوارڈ کی رنگا رنگ تقریب جاری تھی۔”

چلے تو چال ہے……بچھے تو جال ہے

تیرا سوال کیوں……………. وبال جان ہے

“رات دیر تک پڑھنے کے باعث وہ صبح دن چڑھے تک سوتی رہی آنکھ کھلی بھی تو موبائل کی بیل سے…آج اور کل چھٹی تھی پرسوں تیسرا پیپر تھا اس کا……..!!

اس نے مندی مندی سی آنکھیں کھولیں اور سائیڈ ٹیبل پر رکھا ہوا اپنا موبائل اٹھا کر دیکھا وہاں کس انجان نمبر سے کالنگ جلتا بجھتا دکھائی دے رہا تھا مگر نمبر پاکستان سے باہر کا تھا….شائد بابا ہوں…. کیونکہ کوڈ سے اندازہ ہو رہا تھا کہ کال امریکہ سے ہی آ رہی ہے…!!

ہیلو……اس نے کہنیوں کے بل اٹھتے ہوئے فون کان سے لگایا……..!!

ہائے کیسی ہیں محترمہ حیات عبدالرحمان…….؟وہی بھاری خوبصورت گھمبیر لہجہ….اس کی پیشانی پر بل پڑ گئے…..!!

کیوں فون کیا ہے آپ نے…….لہجے میں خود بخود رکھائی در آئی….!!

یاد دہانی کروانے کیلئے………!!

کونسی یاد دہانی…….!!

اتنی جلدی بھول بھی گئیں….میری نیکسٹ فلم کی ہیروئن آپ کو بننا ہے نا….سو اس کیلئے ریڈی ہیں نا آپ…….؟؟

کیا ہوا….. میرا سوال وبال جان بن گیا آپ کیلئے……؟

“یا کہیں آپ کچھ اور تو نہیں سوچ رہیں……؟؟

وہ کال پر ہی اسکی سوچ کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہا تھا……..!!

جی نہیں ایسی کوئی بات نہیں….مجھے یاد ہے…!!

وہ سنبھل کر بولی…ابھی۔ وہ اس کو بھنک نہیں پڑنے دینا چا رہی تھی کہ اس کی بات ماننے کا وہ قطعی ارادہ نہیں رکھتی………….!!”

گڈ…….اپنے مائنڈ میں یہ بات بٹھا لینا کہ سائن کئیے ہیں تم نے کنٹریکٹ پہ……سو اب چھوڑنا ممکن نہیں….”در پردہ وہ پھر سے دھمکا رہا تھا….”

اور فلحال وہ ضبط سے سننے پہ مجبور تھی… کیونکہ بابا کے نالج میں لائے بنا وہ اس سے ٹکر نہیں لے سکتی تھی……..”

اوکے ….اب سے ٹھیک ایک منتھ بعد ملاقات ہوگی…. اپنے پرسوں والے تیسرے پیپر کی تیاری کرو…..گڈ بائے”

اسکے ساتھ ہی کال بند ہو گئی…….”

جبکہ وہ ہاتھ میں موبائل لئیے بیٹھی سوچتی رہ گئی کہ اس شخص کو کیسے پتہ کہ میرا پرسوں پیپر ہے اور وہ بھی تیسرا….اس کا مطلب ہے ایڈیٹ انسان جاسوسی کروا رہا ہے میری….انہی سوچوں میں گم تھی کہ دوبارہ گھنٹی بجی نمبر دیکھا تو بابا کا تھا فوراً کال اٹینڈ کی……..!!

کیسا ہے میرا بیٹا…..؟انہوں نے شفقت آمیز لہجے میں پوچھا……!!

میں ٹھیک ہوں بابا آپ کیسے ہیں اور ممی کی طبیعت کیسی ہے کیا کہہ رہے ڈاکٹرز…..؟

ٹھیک ہوں بیٹا اور سائرہ کے ابھی ٹیسٹ چل رہے ہیں فلحال آپریشن کی کوئی ڈیٹ فائنل نہیں ہوئی…شائد اسی میں مزید ایک ہفتہ یا مہینہ لگ جائے….وہ تھکے تھکے انداز میں کہہ رہے تھے حیات میلوں دور بیٹھ کہ بھی انکے لہجے کی پریشانی اور تفکر محسوس کر سکتی تھی……..!!

اپنا اور اپنے بھائی کا بہت خیال رکھنا بیٹا اور پیپرز بھی اچھے سے دینا….کچھ دیر باتیں کر کے انہوں نے فون رکھ دیا…….!!

” وہ دروازہ کھول کے باہر آ گئی….ہمیشہ کی طرح اتنے بڑے گھر میں سناٹا پھیلا ہوا تھا۔اسے لاونج میں آتا دیکھ کر رحمت بوا کچن سے نکل کر اسکے پاس آ گئیں…..!!

اٹھ گئی میری بچی….ناشتہ لے آؤں…محبت سے پوچھا”

بوا مون سکول چلا گیا….؟ ناشتے کیلئے سر ہلاتے اس نے مون کا پوچھا….اسکے ایگزامز کی وجہ سے مون کی ساری ذمہ داری آجکل بوا نے لی ہوئی تھی سو وہ مون کی طرف سے بے فکر تھی……!!

جی بیٹیا رانی….مون چلا گیا…..جواب دے کے بوا اس کیلئے ناشتہ بنانے کچن میں چلی گئیں تو اس نے ٹی وی آن کر لیا چینل سرفنگ کرتے یونہی ایک غیر ملکی انگش چینل پر نگاہ جا رکی.. اس چینل پر ایوارڈ شو دکھایا جا رہا تھا اس کی نگاہ رکنے کی وجہ اس شو میں نظر آتا ماحر سکندر خان کا چہرہ تھا……!!

سوٹ بوٹ پہنے ایوارڈ وصول کرتا وہ ہیرو سے زیادہ کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہا تھا….وہ بے خیالی میں غور سے اسے دیکھے جا رہی تھی کہ بوا کی آواز پر چونکی……یہ تو وہی ہے نا ٹی وی والا جو یہاں گھر پہ آیا تھا……..؟”

بوا ناشتے کی ٹرے اسکے سامنے رکھتے ہوئے خاصے اشتیاق سے پوچھ رہی تھیں…….!!

پتہ نہیں….حیا نے بے زار سے لہجے میں کہتے ہوئے ٹی وی بند کر دیا اور ناشتے کی طرف متوجہ ہو گئی……….!!

تجھے وہ اچھی لگی….. اصفہان نے یہ جملہ کوئی دسویں بار دہرایا تھا…اسوقت وہ ورجینیا میں مقیم اسفند ماموں کے گھر پر موجود تھا…. ایوارڈ وصول کرنے کے بعد وہ سیدھا ماموں کے ہاں چلا آیا تھا…”

ارادہ اگلے دن واپس پاکستان آنے کا تھا مگر ماموں اور انکی فیملی نے روک لیا تھا……..!! اصفہان سے اسکی بچپن سے ہی اچھی دوستی تھی………!!

ہاں اچھی ہے………انداز سر سری تھا…..!!

اچھی…..خالی اچھی ہونے پہ تم ہاتھ دھو کے اس کے پیچھے پڑ گئے…اسے کڈنیپ کروا لیا….فلم کے کنٹریکٹ پہ سائن کروا لئیے…… کچھ تو خدا کا خوف کرو یار….

اگر وہ خالی اچھی ہے تو انڈسٹری میں تو ایک سے ایک بڑھ کر اچھی ہیروئنز ہیں انہی میں سے کسی کو لے لیتا….اس کو ایسے کام نہیں پسند تو بچاری کے ساتھ زبردستی کرنے کی کیا ضرورت تھی….. اصفہان نے سمجھانا چاہا…..”

“ماحر نے آبرو اچکا کے دیکھا… تمہیں کیوں احساس ہو رہا اس کا اتنا…..صرف کنٹریکٹ پر ہی تو سائن کروائے ہیں….باقی تو کوئی نقصان نہیں پہچایا….اور تمہیں بتانے کا یہ مطلب نہیں تھا کہ تم اس کی ہمدردی میں گھلتے رہو….وہ اچھا خاصا برا مان گیا……..”

اچھا چھوڑو اس بات کو…یہ بتاؤ خوبصورت ہے…..؟؟ اصفہان نے اگلا سوال کیا……!!

بہت…. برجستگی سے کہا…. اصفہان نے گہری سانس لی اور مسکرایا……!!

تجھے اس سے پیار ہو گیا کیا…..؟؟

پیار………اسے جیسے کرنٹ لگا لفظ پیار پہ…..کیسی بے کار باتیں کرتے ہو یار….یہ چیزیں صرف فلموں میں ہی اچھی لگتی ہیں….اور میرا تو تمہیں پتہ ہے…ایک چہرے پہ زیادہ عرصہ نظر نہیں ٹکتی…جو چیز پسند آئے فوراً پا لیتا ہوں……اور جب دل بھر جائے چھوڑ دیتا ہوں….سو میرے جیسے بندے کیلئے پیار ویار کوئی معنی نہیں رکھتا….دنیا میں صرف پیار ہی ایک رشتہ ہے…..؟یا کسی کا اچھا لگنا شرط ہے……؟ماحر نے گریز پائی سے کہا….”

شرط تو کوئی نہیں….کچھ باتوں میں شرائط لاگو نہیں ہوتیں…سو کسی کے اچھا لگنے میں بھی کوئی شرط نہیں ہوتی مگر بہت زیادہ اچھا لگنے کی کوئی نا کوئی خاص وجہ تو ہوتی ہے…..مگر مجھے ایک بات سمجھ نہیں آ رہی تو اسے اپنی فلم کی ہیروئن بنانا چاہتا ہے یا گرل فرینڈ……..؟؟

دونوں……..!!وہ بے ساختہ بولا

اور وہ ان دونوں کاموں پہ راضی نہیں….!! اصفہان نے قہقہہ لگایا……!!

ہاں لیکن میں بھی ماحر سکندر خان ہوں ٹیڑھی انگلی سے کھیر نکالنا مجھے بھی اچھے سے آتا ہے……!!اس نے مغرور انداز میں اترا کے کہا……..”

ٹیڑھی انگلی سے کھیر نہیں گھی نکالتے ہیں… اصفہان نے تصحیح کی…..ساری سٹڈی فلم پر کی… تھوڑا اردو پر بھی توجہ دے دیتے وہ قہقہ لگا کے ہنس رہا تھا…

ماحر نے صرف گھورنے پر اکتفا کیا…….!!

ویسے ایک بات بتاؤ اس کی بیوٹی میں سب سے یونیک چیز کیا ہے…جس نے تمہارے جیسے سپرسٹار کو اتنا پاگل….آئی مین امپریس کیا ہے… اصفہان نے خاصے اشتیاق سے سوال کیا………!!

اس کی ساری کی ساری بیوٹی ہی یونیک ہے…یوں سمجھو پاکستانی اور ترکش بیوٹی کا مکسچر ہے وہ…آنکھوں کے پردے پر یکدم حیات عبدالرحمان کے من موہنے چہرے کا عکس لہرایا………!!

ترکش بیوٹی….؟؟

ہاں اسکی مدر کا تعلق ترکی سے تھا…..!!

اوہ…… اچھا ویسے اسکی آنکھوں کا کلر کیا ہے…..؟اصفہان کا اشتیاق بڑھا………!!

آنکھوں کا کلر بلیو ہے….اور اب بس کرو سوال پوچھنا…اس نے اکتا کے سافٹ ڈرنک کا کین منہ سے لگایا……..!!

اوکے سوال نہیں پوچھتا مگر تیرے منہ سے اسکی خوبصورتی کے چرچے سن کے مجھے اسے دیکھنے کا خاصا شوق ہو گیا ہے…. اس کی کوئی تصویر ہے تو دکھا……یا پھر وعدہ کر اگلے ہفتے جب میں پاکستان آؤں گا تو تو مجھے اس سے ملائے گا……!!

میرے پاس اسکی کوئی تصویر نہیں ہے…رہی بات دیکھنے کی تو جب وہ سکرین پہ آئے گی تو دیکھ لینا…ماحر نے لاپرواہی سے کہا……!!

تجھے یقین ہے کہ وہ تیری فلم میں کام کرنے پر راضی ہو جائے گی…….؟؟اگر وہ کنٹریکٹ سے مکر گئی یا یہ بات میڈیا تک پہنچا دی تو…. اصفہان نے خدشہ ظاہر کیا……!!

فلم میں کام تو اسے کرنا ہی پڑے گا….اس کا فیس بنا ہی سکرین کیلئے ہے….رہی بات میڈیا کو بتانے کی تو وہ ایسی غلطی نہیں کرے گی… اور تو اب اس میں انٹرسٹ لینا چھوڑ اور اپنی شادی پہ توجہ دے…!!

شاور لے کے آتا ہوں….کہتے ہی وہ اٹھ کر روم کی طرف بڑھ گیا…..!!

پیچھے اصفہان اس کا بچا ہوا ڈرنک پینے لگا….!!

وہ جیسے ہی یونیورسٹی میں اینٹر ہوئی گیٹ سے ہی یونیورسٹی میں معمول سے زیادہ رش نظر آ رہا تھا…

آج اسکے فرسٹ سمسٹر کا تیسرا پیپر تھا…….!!

پہلے دو پیپرز کے دوران اسے فرحین نظر نہیں آئی نمبر بھی اس کا بند جا رہا تھا…..مگر آج جیسے ہی وہ ایگزامینیشن ہال کے سامنے پہنچی تو ہال کے باہر کچھ سٹوڈنٹس کے ساتھ فرحین کھڑی نظر آئی… فرحین پہ نظر پڑتے ہی اس کا خون جلنے لگا وہ تیر کی تیزی سے اسکے پاس پہنچی…ابھی اس نے اسے مخاطب بھی نہیں کیا تھا کہ فرحین کی نظر اس پر پڑ گئی..حیات کو دیکھ کے اس نے کھسکنا چاہا مگر اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہوسکی اس سے پہلے ہی حیات اس کے راستے میں آ گئی …آس پاس سٹوڈنٹس کی پروا کیے بنا اونچی سرد و سپاٹ آواز میں اسے مخاطب کیا………!!

مس فرحین عنایہ عارف…جان سکتی ہوں ایسی کیا دشمنی ہے مجھ سے جو مجھے نقصان پہچانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہو……..!!

ساتھ کھڑی کچھ لڑکیاں بھی متوجہ ہو گئیں…..”

میں نے کیا کیا ہے بھلا…..؟؟ فرحین نے انجان بننے کی ایکٹنگ کی…… !!

زیادہ ڈرامے مت کرو….صاف صاف بتاؤ کیوں اور کس کے کہنے پہ ایسا کر رہی ہو…..میں نے تو کبھی تمہارا برا نہیں چاہا…نا کبھی تمہارے ساتھ کچھ برا کیا…. ہمیشہ تمہیں دوست سمجھا…. جب بھی تمہیں ہیلپ کی ضرورت پڑی تم نے مجھ سے کہا میں نے کبھی انکار نہیں کیا….. پھر تم آستین کا سانپ کیوں بنی…کیا غلطی ہو گئی مجھ سے….کیوں کیا میرے ساتھ ایسا….. ؟؟غصے سے کہتے ہوئے آخر میں اسکی آواز بھرا گئی…..!!

اس نے جو بھی کیا میرے کہنے پر کیا…. فرحین کے کچھ بولنے سے پہلے ہی قریب سے آواز ابھری….حیات نے مڑ کے دیکھا تو ارسلان بھٹی کو سامنے پایا جس کے ہونٹوں پہ استہزائیہ مسکراہٹ تھی………!!

ویسے کیا ہوا تھا تمہارے ساتھ سنا ہے کسی نے کڈنیپ کیا تھا تمہیں……!!وہ مزا لینے والے انداز میں بولا…. خیر کسی چاہنے والے نے ہی کڈنیپ کیا ہوگا…اب اتنی حسین ہو تو کئی چاہنے والے ہوں گے نا…. !!

بکواس بند کرو اپنی… کیا سمجھا ہوا ہے مجھے…..اس دن والا ارتضیٰ سر کا تھپڑ بھول گئے کیا… حیات نے نفرت سے کہا……!!

نہیں بھولا تو نہیں ہوں… بدلہ تو لوں گا تمہارے اس عاشق سے……!!وہ چبا چبا کے بولا…..!!

لفظ عاشق پہ حیات کا خون کھول اٹھا.. اگلے ہی پل حیات کا ہاتھ اٹھا اور ارسلان بھٹی کے چہرے پہ زور دار آواز کے ساتھ جا لگا…….!!

اب اس تھپڑ کو بھی یاد رکھنا…دوبارہ کوئی بھی اوچھی حرکت کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لینا….زہریلی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے وہ اپنی طرف سے حساب بے باق کر کے جانے لگی تھی جب وہ لمحہ بھر میں ڈگ بھر کر پھر اسکے سامنے آ کھڑا ہوا…اس نے حیات کا راستہ روک دیا….سرخ پڑتے چہرے سمیت اس نے بے دردی سے اس کا بازو اپنی طرف کھینچ ڈالا…حیات عبدالرحمان کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ اس درجہ ہتک اور توہین آمیز جسارت پر اتر آئے گا…….”

ایک دم جھٹکا لگنے سے اسکی نگاہوں کے سامنے زمین آسمان گھوم گئے……!!

یو ایڈیٹ…..ڈونٹ ٹچ می… اپنے بازو کو اس کے گرم آہنی ہاتھوں سے نکالنے کی بھرپور کوشش کی مگر ناکام رہی…ڈبڈبائی آنکھوں سمیت بے بسی سے ایک بار پھر سے خاموش تماشائی بنے فاصلے پہ کھڑے سٹوڈنٹس کی طرف دیکھا……..!!

بہت بڑی غلطی کی مجھ پہ ہاتھ اٹھا کے….. کیا سمجھتی ہو خود کو…تم دنیا کی آخری حسین لڑکی ہو کیا…بڑا غرور ہے تمہیں اپنے حسن پر….اس حسن کو اپنے قدموں تلے نا روندا تو میرا نام بھی ارسلان بھٹی نہیں…..کسی کو منہ دکھانے لائق نہیں چھوڑوں گا تمہیں…… وہ خونخوار لہجے میں غرایا…….!!

ہاتھو چھوڑو مس حیات کا…..!! قریب سے ابھرنے والی بے حد سرد اور بھسم کر دینے والی آواز پہ حیات عبدالرحمان اور ارسلان بھٹی دونوں نے بیک وقت پلٹ کے دیکھا تو ارتضیٰ حسن کو پایا جو کہ غیض بھری آگ برساتی نگاہوں سے گھور رہا تھا….. ارسلان بھٹی نے فوراً اس کا بازو چھوڑ دیا مگر ایک خشمگیں نگاہ کچھ فاصلے پر کھڑی فرحین پر ڈالنا نا بھولا…جس نے ارتضیٰ حسن کو وہاں آتے دیکھ کر اسے مطلعِ نہیں کیا تھا……..!!”

ارتضیٰ حسن کے اچانک وہاں پہنچ جانے پہ حیا نے سکون کا سانس لیا………!!

کیا کہہ رہے تھے…اسے اپنے قدموں تلے روندو گے…؟؟ کسی کو منہ دکھانے لائق نہیں چھوڑو گے اسے….!! ارتضی حسن کی آنکھوں سے پھوٹتی چنگاریوں اور کڑے تیوروں سے ارسلان بھٹی تو کیا حیات عبدالرحمان تک خائف ہو گئی…….!!

“وہ چلتا ہوا قریب آیا اور ایک بار پھر سے زناٹے دار تھپڑ اسے دے مارا….اس تھپڑ کی گونج پہلے والے تھپڑ سے کئی گنا زیادہ تھی……!! اس تھپڑ نے ارسلان بھٹی کو مشتعل کر دیا…وہ بپھر اٹھا….بھول گیا کہ سامنے کوئی یونی کا سٹوڈنٹ نہیں بلکہ پروفیسر+ وائس چیئرمین ارتضیٰ حسن کھڑا ہے…….!!

“پروفیسر کیا سمجھتا ہے تو خود کو ہر بار اس لڑکی کیلئے مجھے مارے گا…..وہ چیخ کر بولا اور ارتضیٰ حسن کے گریبان میں ہاتھ ڈالا دونوں گھتم گھتا ہوگئے…..سب لڑکے لڑکیاں اس سچویشن پہ ہکابکا ہو گئے…کئی سٹوڈنٹس بھاگ کر ان بپھرے ہوؤں کو چھڑانے کی کوشش کرنے لگے….. ارتضیٰ حسن قد کاٹھ اور جسامت میں ارسلان بھٹی سے زیادہ مضبوط تھا سو اس نے ارسلان بھٹی کو مکوں اور ٹھڈوں پہ رکھ لیا…. حیا اس صورتحال پہ بھونچکا رہ گئی….آن کی آن میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پوری یونیورسٹی میں پھیل گئی……!!

” چیئرمین, پروفیسرز سمیت پوری یونیورسٹی وہاں جمع ہو گئی…!! پروفیسرز اور طلباء نے مل کے ان کو الگ کیا… ارسلان بھٹی کے ہونٹوں سے خون رس رہا تھا چہرے پہ تھپڑوں ٹھڈوں مکوں کے نشان تھے…جبکہ ارتضیٰ حسن کا گریبان پھٹا ہوا تھا…ہیرسٹائل بھی بکھرا ہوا تھا… دونوں ایک دوسرے کو خونخوار نگاہوں سے گھور رہے تھے….سب سٹوڈنٹس حیران اس بات پر تھے کہ ارسلان بھٹی نے وائس چیئرمین کے ساتھ فائٹ کیا……!! چیئرمین صبغت اللّٰہ چانڈیو نے فوراً ارسلان بھٹی کو یونی کی طلبہ کو حراس کرنے اور پروفیسر پر ہاتھ اٹھانے کے جرم میں پولیس کے حوالے کر دیا…….!!

اس واقعے کی وجہ سے آج کا پیپر بھی کینسل کر دیا گیا……..!!

اس واقعے کی وجہ سے وہ افتاں و خیزاں یونی سے واپس آئی تھی…آتے ہی کمرے میں بند ہو گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی…!!

آج کے واقعے نے اسے بری طرح ہراساں کر دیا تھا….!!

یا اللّٰہ ایسا کیا گناہ ہو گیا مجھ سے جس کی مجھے اس طرح سزا مل رہی ہے کہ سکون ہی چلا گیا میری زندگی سے… ایک مسئلہ ختم نہیں ہوتا اور دوسرا شروع ہو جاتا یے ….وہ روتے ہوئے اپنے آپ سے مخاطب تھی……..!!

لیکن وہ جانتی نہیں تھی کہ یہ کوئی سزا نہیں کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ تھا……..!!

ایک ایسا طوفان جو کہ اس کا منتظر تھا جس نے نا صرف اسے تنکا تنکا بکھیر دینا تھا بلکہ اپنے ساتھ ہی بہا لے جانا تھا……!!

اس کے مقدر میں گہرے سیاہ اندھیرے لکھے جا چکے تھے…..اور وہ ان سیاہ اندھیروں سے آنے والے طوفانوں سے بے خبر روتے روتے نیند کی وادیوں میں گم ہو چکی تھی….!!

آج جیسے ہی پیپر ختم ہونے کے بعد وہ ہال سے نکلی پیون نے ارتضیٰ حسن کا پیغام دیا کہ وہ اسے آفس میں بلا رہے ہیں…..

کہیں کل والے واقعے پر( investigation) یا ڈانٹ کیلئے تو نہیں بلایا….”سست قدموں سے وہ آفس کی طرف بڑھ گئی…….. دل میں ڈر سے ہول اٹھ رہے تھے….ہمت کر کے وہ آفس میں داخل ہوئی تو سامنے ہی سرخ وسفید رنگت والے پروجہیہ شخصیت کے مالک ارتضیٰ حسن کسی سے فون پر محو گفتگو تھے….وہ خاصے خوشگوار موڈ میں کسی سے بات کر رہے تھے……. کل والے واقعے کے چہرے پر اثرات تک نہیں تھے…. وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے ٹیبل کے قریب آ کھڑی ہوئی….اس نے اشارے سے بیٹھنے کا کہا تو وہ جھجھکتے ہوئے کرسی پہ ٹک گئی….انداز ایسا تھا جیسے ابھی اٹھ کے باہر نکل جائے گی…..!!

آپ نے بلایا سر….کال ختم کر کے وہ حیات کی طرف متوجہ ہوا تو وہ ڈرتے ڈرتے بولی… ہتھیلیاں پسینے سے تر محسوس ہونے لگیں…..!!

“وہ گہری نظروں سے اس کا جائزہ لینے لگا…”

“کافی دیر تک بنا کچھ بولے وہ اس کے چہرے پر

نگاہیں جمائے بیٹھا رہا تو حیات عبدالرحمان کو گھبراہٹ ہونے لگی….”

اس کی نظروں کی تپش اسے جھلسانے لگی….. اس نے بے چینی سے پہلو بدلا تو ارتضیٰ حسن کو بھی اپنی پوزیشن کا احساس ہوا……!!

نظروں کا زاویہ بدلتے ہوئے بولا………..!!

کیسی ہیں آپ مس حیات عبدالرحمان…..؟؟

جی…….. وہ جو اس سے ارسلان بھٹی والے واقعے سے متعلق بات کی توقع کر رہی تھی….اس کے اس غیر متوقع سوال پہ حیران رہ گئی……!!

اتنا مشکل سوال تو نہیں پوچھ لیا میں نے جو آپ حیران ہو رہی ہیں… وہ اسکے چہرے کے تاثرات دیکھ کے مسکرایا… جبکہ حیات اسے پہلی بار مسکراتے دیکھ کے مزید حیران ہو رہی تھی….!!

اوکے یہ بتائیں پیپر کیسا ہوا……؟؟ پہلے کا جواب نہیں ملا تو اگلا سوال پوچھا………!!

آآآ….آچھا ہو گیا سر…..نارمل انداز میں جواب دینے کی کوشش کی….زندگی میں وہ کبھی کسی کے سامنے اتنا کنفیوژ نہیں ہوئی تھی جتنا وہ ارتضیٰ حسن کے سامنے ہو جاتی تھی…. حالانکہ ماحر سکندر جیسے سپر سٹار تک کو اس نے کھری کھری سنائی تھیں…مگر ارتضیٰ حسن…..شائد ان کے درمیان رشتہ ہی ایسا تھا…. سٹوڈنٹ اور ایک سخت گیر ٹیچر کا…………….!!

گڈ……اینی وے کچھ امپورٹینٹ بات کرنی ہے آپ سے.. سیریس انداز میں کہا……!!

جی سر……وہ پورے جی جان سے متوجہ ہوئی…..!!

چند لمحے گہری نظروں سے اس کی طرف دیکھتا رہا جبکہ وہ سر جھکائے اس کے بولنے کی منتظر اپنی انگلیاں مروڑ رہی تھی……!!

شادی کریں گی آپ مجھ سے…..؟؟حیات عبدالرحمان کے سر پہ تو حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے…جھٹکے سے سر اٹھایا اور ہکا بکا اسے دیکھنے لگی…….!!