171.9K
78

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Hayat (Episode 42)

Meri Hayat By Zarish Hussain

حیات عبدالرحمان کے حواس تو پہلے ہی گم ہو رہے تھے رہی سہی کسر اسکی زہریلی باتوں اور خوفناک ارادوں نے پوری کر دی تھی۔عین وقت پر مون نے اس پر حملہ کر کے اس کا دھیان اپنی آپی کی طرف سے ہٹوا دیا تھا۔مگر خود اسکی پکڑ میں آ گیا تھا۔مون کو اس کی جارحانہ گرفت میں دیکھ کر اس کا تو ذہن ہی ماؤف ہو گیا ہر سو اندھیرا پھیلتا محسوس ہوا۔اپنے گھناؤنے عزائم کے باعث حیات کو وہ انسان کے بجائے ایک سفاک عفریت لگ رہا تھا۔جو کسی بھی لمحے اسے اور اسکے بھائی کو بھنبھوڑ کر نگلنے والا تھا۔۔۔

اگلے ہی لمحے اس خود فراموشی کی کیفیت سے نکل کر ہوش میں آ گئی اور بجلی کی سی تیزی سے اٹھ کر میز پر رکھا گلدان اٹھایا اور اس کے سر میں پوری قوت سے دے مارا۔ماحر کی چونکہ اسکی طرف پشت تھی دوسرا وہ جارحانہ انداز میں مکمل طور پر مون کی طرف متوجہ تھا۔جو اپنے دونوں ہاتھوں سے اسے مارنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس لئیے اسے سنبھلنے یا اپنے بچاؤ کا کوئی موقع نا مل سکا۔تیسرا حیات عبدالرحمان سے ایسے حملے کی امید بھی نہیں تھی شائد تبھی کچھ دیر کیلئے اسکی طرف سے لاپروا ہو گیا تھا۔۔۔مگر اس لاپرواہی کا خمیازہ بری طرح بھگتنا پڑا۔۔ایک تو پوری قوت سے پھینکا گیا گلدان۔۔اوپر سے اس کا نشے میں ہونا۔سنبھل ہی نہیں پایا تھا وہ۔۔۔ایک اذیت بھری کراہ اس کے منہ سے خارج ہوئی اور وہیں ڈھیر ہو گیا۔حیات خوف اور بے یقینی کی ملی جلی کیفیت میں مبتلا اس ہٹے کٹے لمبے چوڑے باڈی بلڈر شخص کو دیکھ رہی تھی۔جو کئی حسیناؤں کے دل کی دھڑکن اور سپنوں کا ہیرو تھا۔جس کی مضبوط متاثر کن باڈی کے نوجوان دیوانے تھے۔وہ ہٹا کٹا لمبا چوڑا بے پناہ وجاہت کا مالک باڈی بلڈر ایک گلدان کے وار سے ہی ڈھیر ہو گیا تھا۔وہ بھی ایک لڑکی کے ہاتھوں۔شراب کے نشے میں دھت مزاحمت کے قابل ہی نہیں رہا تھا وہ۔۔۔

ملک کا نامور سپر سٹار ماحر خان نشے میں دھت لڑکی سے دست درازی کرتے ہوئے اسی کے ہاتھوں گلدان کے وار سے چاروں شانے چت ہو گیا۔۔۔۔اگر یہ خبر وائرل ہو جاتی تو دھمکاکے دار خبر ہوتی۔۔۔

آپی چلو یہاں سے چلیں۔۔۔”

ناجانے کب تک وہ جونہی خوف میں مبتلا اپنی جگہ پر جمی رہتی جب مون نے انتہائی خوفزدہ ہو کر اسکے بازو سے پکڑ کر ہلایا۔۔۔

ہوں۔۔۔۔ہاں۔۔وہ فوراً ہوش میں آئی۔۔اپنے شانوں پر سے ڈھلکی چادر کو سرعت سے اپنے سر اور جسم کے گرد مضبوطی سے لپیٹا۔ آگے بڑھ کر اپنا گرا ہوا بیگ اٹھایا اور مون کا ہاتھ تھامے برق رفتاری سے دروازے کی طرف بڑھی مگر ایک خیال آنے پر ٹھٹھک کر رکی،خوف کی ایک سرد لہر اس کے پورے وجود میں سرایت کر گئی اس شخص نے کہا تھا۔باہر پولیس کھڑی ہے جو

اسے گرفتار کرنے آئی تھی۔۔۔

پہلے سے ہی اتنی خوفزدہ تھی پولیس کے خیال نے رہی سہی کسر پوری کر دی۔۔اسکے جسم کے مساموں سے پسینہ پھوٹ پڑا۔۔۔۔۔لمحے بھر میں وہ پسینے میں نہا گئی۔۔

کیا واقعی باہر پولیس موجود ہے۔۔؟؟

بدترین خدشے کی تصدیق کرنے کیلئے وہ تیزی سے گیلری میں آئی اور جالی کی ونڈو سے باہر جھانکا۔۔نیچے بلڈنگ کے مرکزی دروازے کے عین سامنے پولیس وین کو کھڑا دیکھ کر اس کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔۔۔

اب کیا کروں۔۔۔؟؟

اس پر کپکپاہٹ سی طاری ہونے لگی پورا وجود لرزنے لگا۔۔

کیا کرے کیسے نکلے یہاں سے۔۔؟اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔تھا۔۔۔اگر زیادہ دیر یہاں رکتی اور اس شخص کو ہوش آ جاتا تو وہ اسے چھوڑتا کیا۔۔۔؟؟ناممکن تھا۔۔۔

لیکن باہر نکلتی اور پولیس کے ہاتھوں پکڑی جاتی تو۔۔؟خوف سے سفید پڑنے لگی۔

” کیونکہ ونڈو سے وہ دیکھ چکی تھی کہ اس کا مینیجر بھی ان پولیس والوں کے ہمراہ موجود تھا۔واضع امکان تھا کہ اسکے باہر نکلنے پر وہ مینیجر

اسے پہچان جاتا۔اگر ایسا ہوجاتا تو یہ اسکے حق

میں بہت برا ثابت ہوتا۔۔۔۔

آگے کنواں پیچھے کھائی۔۔اندر بھی خطرہ۔۔ باہر بھی خطرہ۔۔۔وہ بیچاری کرتی تو کیا کرتی۔۔۔۔

مگر کچھ نا کچھ تو کرنا ہی تھا۔۔خود کو اور بھائی کو بچانے کیلئے تھوڑا بہت خطرہ تو مول لینا ہی تھا۔۔

یہی سوچ کر وہ کانپتے قدموں اور دھڑکتے دل کے ساتھ دروازے کی طرف بڑھی۔دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے گردن گھما کر لاؤنج میں کارپٹ پر بے ہوش پڑے وجود پر کراہیت اور نفرت آمیز خوف زدہ نگاہ ڈالی۔۔

دروازے کو ذرا سا کھولا۔۔۔یہاں سے اگرچہ پولیس وین نظر نہیں آ سکتی تھی مگر وہ جانتی تھی کہ سیڑھیاں اتر کر جیسے ہی نیچے جائے گی مرکزی دروازے کے آگے موجود ہوگی۔ابھی وہ یہاں سے نکلنے کی کوئی ترکیب سوچ بھی نہیں پائی تھی کہ اس نے دیکھا اس فلیٹ کے بالکل سامنے والے فلیٹ کا دروازہ کھلا اور زرق برق لباسوں میں ملبوس پانچ چھے عورتیں باہر آئیں۔انہوں نے ہاتھوں میں بڑے بڑے مٹھائیوں، پھولوں کے ٹوکرے اور سفری بیگ اٹھا رکھے تھے شائد کسی دور دراز کی شادی پر جا رہی تھیں۔۔حیات کے دماغ نے برق رفتاری سے کام کیا وہ مون کا ہاتھ پکڑے تیزی سے سیڑھیاں اترتی ان عورتوں کے پیچھے ہو لی۔مون اس سے زیادہ ذہین تھا۔اپنا ہاتھ چھڑا کر ان عورتوں کے پیچھے چلنے کے بجائے ان کے درمیان میں ہی گھس کر چلنے لگا۔۔

عورتوں کے اس گروپ کے ساتھ جیسے ہی وہ نیچے آئی

سامنے پولیس والوں کو کھڑے دیکھ کر اسکے دل کی رفتار اس حد تک تیز ہو گئی کہ لگتا تھا ابھی پسلیاں توڑ کر باہر نکل آئے گا۔مگر اللّٰہ نے کرم کیا۔خیریت رہی وہ اور مون بحفاظت وہاں سے نکل آئے۔پولیس والوں نے عورتوں کے گروپ پر سرسری سی نظر ڈالی تھی گلی کے نکڑ پر پہنچ کر وہ ان عورتوں سے الگ ہو گئی اور مون کا ہاتھ تھامے مخالف سمت میں تیز تیز قدموں سے چلنے لگی۔۔پانچ منٹ بعد وہ مین روڈ تھی سامنے ہی کچھ ٹیکسی ڈرائیور اپنی ٹیکسیاں لئیے سواریوں کے انتظار میں کھڑے تھے۔۔۔

کدھر جانا ہے بی بی۔۔۔؟؟ایک ٹیکسی ڈرائیور نے قریب

آ کر پوچھا۔۔

ریلوے اسٹیشن۔۔ایک پل لگا تھا اسے فیصلہ کرنے میں۔اس شہر کو چھوڑ دینا ہی بہتر تھا۔۔۔اگر وہ یہیں رکتی اور رہنے کے لیے کوئی محفوظ ٹھکانہ ڈھونڈ بھی لیتی تو بھی اس شخص سے نہیں بچ سکتی تھی۔اسکے ہاتھ بہت لمبے تھے۔ کسی نا کسی طرح لازمی اس تک پہنچ جاتا اور پھر سے اسکی زندگی اجیرن کر دیتا۔اسے خود کو بچانا تھا اس شخص کی پہنچ سے دور رکھنا تھا اپنے آپ کو۔۔کسی ایسے شہر میں ٹھکانہ ڈھونڈھنا تھا جہاں اس شخص کی سوچ نا جا پاتی۔۔۔اور وہ سکون سے جی پاتی۔اپنے بچے ہوئے واحد رشتے یعنی اپنے بھائی کا مستقبل بنا پاتی۔۔۔اور ایسا اسی صورت میں ممکن تھا جب وہ اس شہر کو خیر باد کہہ دیتی۔اس شہر میں اس عفریت کے ہوتے ہوئے سکون سے رہنا ناممکن تھا اس کیلئے۔۔۔”

ٹھیک ہے بی بی۔۔لیکن اسٹیشن یہاں ہے کافی دور ہے ہم پورا تین سو لے گا۔۔ٹیکسی ڈرائیور نے حتمی انداز میں کہا۔۔

ٹھیک ہے لے لینا۔۔۔۔دروازہ کھولو اور جلدی چلو کہیں میری ٹرین نا چھوٹ جائے۔اس نے کن انکھیوں سے ادھر ادھر دیکھتے اپنے کانپتے لہجے پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔۔۔

ٹیکسی ڈرائیور نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے دروازہ کھولا۔۔حیات نے فوراً مون کو اندر دھکیلا اور خود بھی بیگ سمیت دھپ سے اندر بیٹھ گئی۔۔۔

بی بی اپنا بیگ دے دو۔۔۔ہم اوپر ٹیکسی کی چھت پر رکھ دیتا ہے۔۔ڈرائیور نے کہا تو حیات نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔

نہیں ٹھیک ہے۔۔۔۔آپ بس جلدی سے چلو۔۔۔۔؟؟دل کی دھڑکن ابھی تک نارمل رفتار پر نہیں آئی تھی۔اسے لگ

رہا تھا جیسے ابھی اس شخص کے گارڈز آئیں گے یا بھیجے گئے پولیس والے اور اسے فوراً پکڑ لیں گے۔

پھر کبھی وہ اسکی قید سے رہائی نا پا سکے گی۔۔

جیسے آپکی مرضی بی بی۔۔۔ٹیکسی ڈرائیور نے کندھے اچکائے اور ٹیکسی اسٹارٹ کر دی۔۔۔تھوڑی دیر میں ہی ٹیکسی کشادہ سڑک پر رواں دواں تھی۔۔ٹھیک پنتالیس

منٹ بعد ٹیکسی ڈرائیور نے اسے ریلوے اسٹیشن پر پہنچا دیا۔۔سامنے ہی ایک ٹرین روانگی کیلئے تیار کھڑی تھی۔لوگ بھاگم بھاگا اس میں سوار ہو رہے تھے۔حیات کو نہیں پتہ تھا ٹرین کہاں جا رہی ہے۔اسے تو بس جلد از جلد اس شہر سے نکلنا تھا۔تبھی لوگوں کی دیکھا دیکھی وہ بھی اس میں سوار ہو گئی۔۔یہ زندگی میں اس کا ٹرین کا پہلا سفر تھا۔اس سے پہلے اس نے ٹرین کو صرف پٹڑی پر چلتے ہوئے دیکھا تھا۔۔۔تبھی ٹکٹ وغیرہ کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھی۔۔ٹرین روانہ ہوئی تو اس کا خوف بھی تھوڑا کم ہو گیا۔چہرہ چادر سے ڈھکا ہوا تھا۔۔سر کو سیٹ کی پشت سے ٹکائے وہ نڈھال سی بیٹھی تھی۔۔۔اس شخص کے منہ سے اذیت ناک انکشافات سن کر وہ لہولہان ہو گئی تھی۔

ابھی تو وہ احمر کی موت کی خبر سے ہی شاک میں تھی اوپر سے اس شخص کے ہاتھوں پامال ہوتے ہوتے رہ جانا۔ان سب واقعات نے اسے آدھ موا کر دیا تھا۔جسم کی ساری توانائی نچوڑ لی تھی۔

ٹرین پوری رفتار سے کچے پکے علاقوں اور چھوٹے موٹے جنگلوں سے گزر رہی تھی۔بظاہر اسکی نظریں باہر بھاگتے دوڑاتے مناظر پر تھیں مگر اندر ایک طوفان برپا تھا۔جس چاہت کے مہکتے گلاب کی مہک وہ پوری طرح ابھی سونگھ بھی نا پائی تھی کہ پہلے ہی کانٹوں نے اسکے جذبوں احساس و چاہت کو گھائل کر دیا۔وہ سر سے پیر تک ان دیکھی آگ میں بری طرح جھلس گئی تھی۔محبوب کے ہاتھوں محبت کے نام پر بہت بڑا دھوکہ کھا گئی تھی وہ۔خوش فہمیوں کی خوشنما تتلیاں اڑ چکی تھیں۔کچھ عرصہ پہلے وہ خود کو آکاش کے روضوں پر دیکھ رہی تھی اور اب خود کو پاتال کی گہرائیوں میں اترا ہوا محسوس کر رہی تھی۔۔۔وہ اندر سے بری طرح ٹوٹی بکھری ہوئی تھی۔ان پے در پے ہونے والے حادثات نے اسے بری طرح توڑ کر رکھ دیا تھا۔اس نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وہ زندگی میں کبھی ان بدترین حالات کا شکار ہوگی۔آنسو کسی آبشار کی مانند اسکی خوبصورت آنکھوں سے ٹوٹ ٹوٹ کر گر رہے تھے۔ روح پر بہت گہرے گھاؤ لگے تھے۔اس شخص کی وجہ سے وہ آج اکیلی رہ گئی تھی۔بالکل اکیلی۔کسی نامعلوم منزل کی جانب رواں دواں۔۔۔اب اس خدا کی سر زمین پر خدا کا ہی آسرا تھا۔۔اسکی سسکیاں نکلنے لگیں جو ٹرین کے شور میں دب جاتی تھیں۔۔یادوں کی مہک اور

جدائیوں کے درد انگیز لمحوں میں وہ ناجانے کب تک آنکھوں سے موتی لٹاتی رہی۔۔۔۔۔کافی دیر رونے کے بعد جب وہ تھک گئی تو اپنے آس پاس کا جائزہ لینے لگی۔

وہ اور مون کھڑکی کے ساتھ والی سنگل سیٹوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔دوسری طرف والی ڈبل سیٹوں پر تین عورتیں اور ایک مرد تھا جبکہ اسکے سامنے والی سنگل سیٹوں پر ایک ادھیڑ عمر جوڑا بیٹھا ہوا تھا۔۔۔مرد لگ بھگ پچاس پچپن کا لگ رہا تھا۔۔۔چہرے پر داڑھی تھی جو اسکے چہرے کو نورانی بنا رہی تھی جبکہ عورت بھی کم و بیش اسکی عمر کی تھی۔۔۔۔سفر کرتے ہوئے ناجانے کتنا ٹائم گزرا جب ایک ٹکٹ چیکر نے آ کر اس سے ٹکٹ دکھانے کو کہا۔۔وہ بری طرح پریشان ہو گئی

کیونکہ وہ بغیر ٹکٹ کے ٹرین میں سوار ہوئی تھی اسے پتہ تھا بغیر ٹکٹ سفر کرنے والوں کو ریلوے انتظامیہ پولیس کے حوالے کر دیتی ہے۔۔پولیس کے خیال نے ایک بار پھر اسے مضطرب کر دیا۔دل کی دھڑکن بڑھا دی۔۔

وہ گھبرا کر ٹکٹ چیکر سے بولی۔۔بھائی میں ٹرین میں پہلی بار سفر کر رہی ہوں۔اس لئیے مجھے نہیں پتہ تھا کہ ٹکٹ کہاں سے ملتا ہے۔۔بٹ میں آپ کو پیسے دے دیتی ہوں پلیز آپ مجھے لا دیں۔۔۔

ٹکٹ چیکر جو اسے کچھ سخت سنانے کا ارادہ رکھتا تھا اس کا منت بھرا انداز دیکھ کر چپ کر گیا۔۔

کہاں جانا ہے آپ کو۔۔۔۔۔؟؟ٹکٹ چیکر نے سوال کیا

یہ ٹرین کہاں تک جائے گی۔۔۔؟؟حیات نے جواب کے بجائے الٹا سوال کیا

ٹرین کو چھوڑیں بی بی آپ اپنا بتائیں کونسے اسٹیشن پر اترنا ہے آپ کو۔۔۔وہ روکھے انداز میں بولا

جہاں یہ ٹرین رکے گی۔میں اتر جاؤں گی۔۔یہی جواب سوجھا تھا بس۔۔

کیا مطلب۔۔۔ٹکٹ چیکر نے حیرانی سے دیکھا۔۔۔آس پاس بیٹھے لوگ بھی حیرانی اور دلچسپی سے انکا مکالمہ سن رہے تھے۔۔۔

کہاں جانا ہے بیٹی۔۔۔۔۔؟؟سامنے بیٹھے بزرگ نے اس کا پریشان انداز دیکھ کر نرم لہجے میں استفسار کیا۔۔

یہ ٹرین کہاں جا رہی ہے انکل۔۔۔؟اس نے بزرگ کا نرم انداز دیکھ وہی سوال تھوڑا سا چینج کر کے کیا۔۔۔

مگر بزرگ کے جواب دینے سے پہلے تپا ہوا ٹی ٹی بول پڑا۔۔۔

یہ ٹرین تو ملتان راولپنڈی لاہور پشاور پورے پاکستان سے گھومتی ہوئی پھر واپس کراچی آئے گی۔۔آپ کو بھی اسکے ساتھ واپس کراچی آنا ہے کیا۔۔؟؟اس نے طنزیہ انداز میں کہا۔۔۔

نہیں ایسا کریں مجھے راولپنڈی کا ٹکٹ لا دیں۔کچھ دیر سوچنے کے بعد اس نے راولپنڈی کا انتخاب کیا۔کیونکہ باقی تمام شہر اس کیلئے انجان تھے۔جب کہ راولپنڈی اسلام آباد،نادرن ایریاز وہ کئی بار بابا،سائرہ ممی اور مون کے ساتھ جا چکی تھی۔۔

شکر ہے۔۔ٹکٹ چیکر نے زیر لب شکر پڑھتے ہوئے اسے راولپنڈی کا ٹکٹ کاٹ کر دے دیا۔۔

ٹرین ایک اسٹیشن پر رکی تو ڈبل سیٹوں پر بیٹھے وہ عورتیں مرد اتر گئے اور ان کی جگہ ان سیٹوں پر چار عجیب و غریب حلیوں والے لڑکے آ کر بیٹھ گئے۔گھٹنوں سے پھٹی ہوئی جینزیں۔۔۔ شوخ ملٹی کلرز کی شرٹیں ہاتھوں میں کڑے،انگلیوں میں انگوٹھیاں۔کانوں میں بالیاں پونیوں میں مقید لمبے لمبے بال۔وہ سب کے سب زنانہ ٹائپ مردانہ نمونے لگ رہے تھے۔۔۔پورے ڈبے میں صرف دو ہی عورتیں تھیں ایک وہ خود اور دوسری اسکے سامنے والی سیٹ پر بیٹھی ادھیڑ عمر عورت۔

اب بوڑھی عورت کی طرف دیکھ کر کیا کرنا تھا۔سو انکی غلیظ نگاہیں حیات کا ہی جائزہ لے رہی تھیں۔اگرچہ اس کا چہرہ چادر میں مکمل طور پر چھپا ہوا تھا۔صرف ذرا سی آنکھیں نظر آ رہی تھیں جسم بھی پورا چادر میں ڈھکا ہوا تھا۔وہ خود کو اچھے سے پیک کیے بیٹھی تھی۔پھر بھی دیکھنے والے قیامت کی نگاہ رکھتے ہیں۔۔۔نظریں اور وہ بھی مردوں کی۔۔

اسکے دبلے پتلے سراپے سے ہی انہوں نے اندازہ لگا لیا کہ وہ کوئی لڑکی ہے پھر جب مون کو بیگ سے بسکٹ نکال کر دینے کیلئے اس نے چادر میں چھپے اپنے سرخ و سفید مومی بے حد خوبصورت ہاتھوں کو چادر سے باہر نکالا۔تو وہ لڑکے تو پورے دل و جان سے اسکی طرف متوجہ تھے۔بھلا ان سے کس طرح مخفی رہ سکتا تھا یہ نظارہ۔انکی ہوس بھری نظریں تو اسکے ہاتھوں پر جم کر رہ گئی تھیں۔۔۔اب تو انہیں پکا یقین ہو گیا کہ چادر میں کوئی حسینہ ہی چھپی بیٹھی ہے۔لہذا اسکے بعد تو وہ نظریں اس پر ٹکائے ایک دوسرے کی طرف معنی خیز جملے اچھالنے لگے۔۔۔حیات نے اپنا رخ مکمل طور پر کھڑکی کی طرف موڑ لیا تھا۔۔۔

اسے سخت وحشت ہو رہی تھی۔دل و دماغ میں تو پہلے ہی اتنے سارے صدموں کی وجہ سے ہلچل مچی ہوئی تھی۔۔۔اوپر سے ان غنڈوں کی حرکتوں نے اسے مزید غم و غصّے سے دوچار کر دیا۔مگر وہ کر بھی کیا سکتی تھی سوائے صبر کرنے کے۔۔

جب ان لڑکوں کے معنی خیز بے ہودہ جملے اور قہقے حد سے بڑھنے لگے تو سامنے والی سیٹ پر بیٹھے اس ادھیڑ عمر داڑھی والے مرد نے انہیں سخت نظروں سے گھورا تو وہ کچھ سنبھل گئے اور بزرگ کی گھوریوں کی تاب نا لا کر ان میں سے دو برتھ سیٹوں پر جا کر چادریں تان کر لیٹ گئے جبکہ باقی نیچے والی سیٹوں پر لیٹ کر چادروں میں گھس گئے۔حیات کو بنا دیکھے بے چینی ہونے لگی اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ لڑکے چادروں کے اندر سے بھی اسے جھانک کر دیکھ رہے تھے۔اس بات کا احساس شائد ان بزرگ کو بھی ہو گیا تھا۔۔ کیونکہ حیات نے دیکھا وہ وقفے وقفے سے ان پر ایک قہر بھری نگاہ ڈال رہا تھا۔چادروں کے اندر انکی حرکات و سکنات سے لگ رہا تھا کہ وہ سونے کا ناٹک کر رہے تھے۔۔۔ان بزرگ کے ہوتے ہوئے حیات کو قدرے تحفظ کا احساس ہوا تھا۔ان لڑکوں پر لعنت بھیج کر وہ اپنے آئندہ کے مسائل پر غور وفکر کر رہی تھی۔رہنے کیلئے ایک محفوظ ٹھکانہ اور ضروریات زندگی کو پورا کرنے کیلئے نوکری چاہیے تھی۔۔۔

رات کا ناجانے کونسا پہر تھا ٹرین شور شرابہ کرتی پوری رفتار سے اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی۔شام سے رات ہو چکی تھی اس کے حلق میں پانی کا ایک قطرہ تک نہیں گیا تھا۔بھوک۔۔ پیاس۔۔۔ نیند کے احساس سے بے نیاز وہ مسلسل سوچوں میں الجھی ہوئی تھی۔مون اسکے شانے پر سر رکھے کب کا سو چکا تھا۔سامنے بیٹھی عورت بھی اونگھ رہی تھی جبکہ اس کا شوہر چاق و چوبند بیٹھا اندھیرے میں کھڑکی سے نظر آتے دھندلے مناظر دیکھنے میں مگن تھا۔۔۔

وہ اپنے سامان کی رکھوالی کیلئے جاگ رہا تھا اور شائد ساتھ ان آوارہ لڑکوں کی وجہ سے بھی۔حیات کو اسکے ہونے سے تحفظ کا احساس ہو رہا تھا۔۔کھانا کھاتے وقت انہوں نے اسے اور مون کو کھانے میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی جسے حیات نے شائستگی سے ٹھکرا دیا تھا۔البتہ مون کو اس عورت نے زبردستی ایک سبزی رول پکڑا دیا تھا۔۔۔سفر کٹتا رہا۔۔۔۔۔۔رات سرکتی رہی

اندھیرا کم ہو کر دھیمی دھیمی سی روشنی میں بدلنے لگا تھا جب ٹرین ایک اسٹیشن پر رکی۔حیات نے اس آدمی کو مخاطب کیا۔۔۔

انکل یہ کونسا اسٹیشن ہے۔۔؟؟

ملتان ریلوے اسٹیشن۔۔۔کھڑکی سے باہر دیکھتا وہ اسکی طرف متوجہ ہوا۔۔۔۔

آپ نے راولپنڈی اترنا ہے نا۔۔ہم نے بھی وہیں اترنا ہے بے فکر رہو بیٹا جب ہمارا مطلوبہ اسٹیشن آئے گا تو میں آپ کو بتا دوں گا۔۔انہوں نے تسلی دی۔۔حیات ایک بار پھر سوچوں میں گم ہو گئی۔۔۔۔اسے یہ سوچ سوچ کر شدید ٹینشن ہو رہی تھی کہ پنڈی میں اتر کر وہ جائے

گی کہاں۔۔کسی ویمنز ہاسٹل کا بھی نہیں پتہ تھا۔اور

دارلامان کا تو تصور ہی اس کیلئے ہولناک تھا۔۔کئی بار اس کا دل چاہا کہ وہ ان بزرگ میاں بیوی سے مدد مانگ لے۔مگر پھر اپنی اس سوچ کو خود ہی رد کر دیتی کہ کہیں وہ اس کے متعلق غلط نا سوچنے لگ جائیں۔عمومآ اکیلی لڑکیوں کو لوگ غلط کردار والی لڑکیاں سمجھتے ہیں۔۔یا اللّٰہ مجھے کسی کا محتاج نا کر تو خود ہی میری مدد فرما۔۔۔۔جیسے پہلے میری حفاظت کی تھی اب بھی حفاظت کر کوئی محفوظ ٹھکانہ عطا کر مجھے۔۔وہ درودشریف کا ورد کرتے دل ہی دل میں اللّٰہ پاک سے دعا گو تھی۔

ٹرین کافی دیر چلتی رہی۔۔۔ پھر ایک اسٹیشن پر رکی صبح مکمل طور پر نمودار ہو چکی تھی۔۔۔

حیات نے دیکھا ٹرین کے رکتے ہی وہ لڑکے نیچے اتر گئے ڈبہ خالی ہو گیا۔اس نے دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کیا۔وہ بزرگ بھی نیچے چلے اتر گئے تھے غالباً کچھ لینے گئے تھے۔انکی بیگم بھی واش روم میں چلی گئیں۔جب کہ وہ ہر ضرورت سے بے نیاز تھکاوٹ زدہ جسم اور منتشر اعصاب لیے کسی مجسمے کی طرح ساکت بیٹھی تھی۔۔مون کھڑکی سے بارے اسٹیشن کی چہل پہل دیکھ رہا تھا۔۔وہ بھی حیات کی طرح ہر ضرورت سے بے نیاز تھا۔۔البتہ اس نے اصرار کر کے چند بسکٹ اسے کھلا دیے تھے۔مگر اپنی بھوک پیاس کا احساس اسے ابھی تک نہیں ہوا تھا۔۔۔۔تھوڑی دیر بعد وہ بزرگ واپس آئے تو انکے ہاتھ میں چائے کا تھرماس تھا۔اسکی بیوی نے پلاسٹک کے بیگ سے کپ نکالے اور چائے ڈالنے کے بعد ٹرے حیات کی طرف بڑھائی اشارے سے دو کپ اٹھانے کو کہا۔حیات نے انکار کیا تو وہ اصرار کرنے لگیں

لے لو بیٹا میں نے دیکھا جب سے ٹرین میں سوار ہوئی ہو کچھ بھی نہیں کھایا پیا۔۔۔ان کا لہجہ بہت نرم تھا۔

حیات کی آنکھیں بھر آئیں ان کو دیکھ کر اسے رحمت بوا یاد آ گئی جسکی بے گورو کفن لاش اسپتال میں رہ گئی تھی۔بعد میں احمر نے اس کے کہنے پر لاش کیلئے ہاسپٹل انتظامیہ سے رابط کیا تھا تو معلوم ہوا انہوں

نے لاوارث جان کر ایدھی فاؤنڈیشن کے حوالے کر دیا تھا جسے وہ دفنا چکے تھے۔۔

اس کا انکار ہاں میں نا بدلا تو وہ بزرگ بھی اصرار کرنے لگے مجبوراً اس کو ایک کپ لینا پڑا۔مون تو چائے پیتا نہیں تھا۔۔۔حیات نے چند گھونٹ ہی لیے پھر انکی نظر سے بچا کر باقی چائے کھڑکی سے باہر اچھال دی۔۔ اجنبی لوگوں سے کچھ لے کر کھانا پینا اسکے مزاج خودداری اور نفاست پسند طبیعت کو گوارا نہیں تھا۔۔کچھ دیر بعد ٹرین نے روانگی کا وصل بجایا تو وہ چاروں نمونے ایک بار پھر سے نازل ہو گئے جو تھوڑی دیر کا اطمینان اسے محسوس ہوا تھا وہ بھی رخصت ہو گیا۔۔ایک بار پھر نے ان کی حرکتیں سٹارٹ ہو گئی تھیں۔اب تو انہوں نے بڑے میاں کی گھوریوں کی بھی پروا نہیں کی تو وہ بھی بڑبڑا کر خاموش ہو گئے۔۔۔

کئی گھنٹوں کے تھکن آمیز سفر کے بعد ٹرین ایک اسٹیشن پر رکی تو بزرگ نے حیات کو متوجہ کیا۔۔

بیٹی ہمارا اسٹیشن آ چکا ہے۔۔۔”حیات چونکی۔۔۔

وہ ادھیڑ عمر جوڑا اب اپنا سامان اٹھا رہا تھا۔۔

اس نے اپنے کندھے پر سر رکھے مون کو اٹھایا۔وہ بزرگ جوڑا اب اپنا سامان اٹھائے ڈبے سے اتر رہا تھا۔لڑکے پہلے ہی اتر چکے تھے۔۔۔۔شل ہوتی ٹانگوں سے اس نے بمشکل کھڑے ہو کر اپنا بیگ تھاما اور دوسرے ہاتھ سے مون کا ہاتھ پکڑے ٹرین سے اتر آئی۔۔۔۔

اسٹیشن پر بہت چہل پہل بہت رش تھا۔وہ بزرگ جوڑا بھی اسی رش میں کہیں گم ہو گیا تھا۔۔

انجان شہر۔۔۔انجان لوگ۔۔۔۔

وہ بوکھلا کر رہ گئی تھی اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا اب آگے کہاں جائے۔۔؟راولپنڈی تو آ گئی تھی۔مگر نا راستوں کا پتہ نا منزل کا۔۔۔خوبصورت جوان اکیلی لڑکی۔۔۔کم عمر لڑکا جو اپنی بھی حفاظت کرنے کے قابل نہیں تھا

اسکی کیسے کرتا۔وہ خوف جو ٹرین میں بیٹھ کر تھوڑا کم ہو گیا تھا۔اب دوبارہ سے پوری طرح جاگ گیا تھا۔۔کسی سے مدد لینے کی کوشش کرتی تو ممکن تھا جوان لڑکی کو دیکھ کر اسکی نیت خراب ہو جاتی۔۔۔۔۔اسی خوف نے کسی سے مدد لینے سے بھی باز رکھا۔۔دوسرا وہ کسی پر اپنی کمزوری ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی کہ وہ اس شہر میں بالکل نئی ہے اکیلی ہے۔۔اس بات سے لوگ فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔

کیونکہ کٹی پتنگ اور گھر سے بے گھر ہونے والی اکیلی بے سہارا لڑکی میں کوئی فرق نہیں ہوتا سبھی انہیں لوٹنے کیلئے ہی بھاگتے ہیں۔۔۔۔

ایک سمت کا انتخاب کیے وہ بس چلتی چلی جا رہی تھی۔ اسے نہیں معلوم تھا۔ جگہ کونسی ہے۔جس روڈ پر چل رہی ہے وہ روڈ کونسا ہے۔ کہاں جا رہا۔۔۔

معلوم تھا تو بس اتنا۔کہ اسوقت وہ راولپنڈی میں تھی نامعلوم چلتے چلتے کتنا وقت سرک گیا تھا جب ساتھ چلتے مون نے آہستہ سے سرگوشی کی۔۔

آپی وہ بیڈ بوائز ہمارے پیچھے آ رہے ہیں۔۔۔۔

ہوں۔۔کون۔۔۔وہ جو پہلے ہی بری طرح پریشان تھی ایک دم سے گھبرا کر چونکی۔ پلٹ کر پیچھے دیکھا تو پورے وجود میں کپکپاہٹ سی دوڑ گئی۔۔۔۔سینے میں موجود دل کی دھڑکن آخری حدوں پر جانے لگی۔۔وہ ٹرین والے

چاروں آوارہ لڑکے انکے پیچھے آ رہے تھے۔ناجانے کب سے وہ پیچھے تھے۔۔۔۔۔شائد اسٹیشن سے ہی وہ پیچھا کرتے آ رہے تھے۔۔۔اب تو وہ اسٹیشن سے بھی کافی دور نکل آئی تھی۔۔یعنی یہ بھی تب سے فالو کر رہے تھے۔۔

اسکی جان نکلنے لگی جسم سے۔یا اللّٰہ میری اور میرے بھائی کی حفاظت کر۔۔۔اپنے حبیب کے صدقے بچا لے۔۔

وہ باآواز بلند گڑگڑانے لگی۔۔خوف کے مارے وجود میں سرد لہریں پیدا ہو رہی تھیں۔۔

پورے جسم کی طاقت سمٹ کر ٹانگوں میں آ گئی تھی مون کا ہاتھ پہلے سے زیادہ مضبوطی سے پکڑے وہ بھاگنے کے انداز میں چلنے لگی۔۔۔

مون بیچارہ چل نہیں پا رہا تھا بلکہ ساتھ کھینچا چلا آ رہا تھا۔۔

ہمارے پیچھے آ رہے ہیں کیا۔۔؟تیز تیز چلتے ہوئے اس نے کانپتی آواز میں آہستہ سے پوچھا

ہاں آ رہے ہیں۔۔پر آپ ڈریں نہیں آپی۔انہوں نے آپ کو کچھ کہا تو میں ان کو ماروں گا۔۔۔۔بالکل ویسے جیسے وہ گندے ماحر بھائی اپنے موویز میں غنڈوں کی پٹائی کرتے ہیں۔۔۔مون نے پھولی سانسوں کے ساتھ جوش بھرے انداز میں اسے تسلی دی۔۔

وہ چلتے چلتے رو پڑی۔۔۔

مون بچہ تھا مگر اتنا چھوٹا نہیں کہ حالات کی نزاکت کو نا سمجھ پاتا۔۔اسے معلوم تھا یہ گندے لڑکے اسکی آپی کو تنگ کرنے کی نیت سے پیچھے آ رہے تھے۔ٹرین میں وہ انکی حرکتیں بغور دیکھتا آیا تھا۔خود ڈرا ہونے کے باوجود اس نے بہن کو تسلی دینے کی کوشش کی تھی۔حیات کا دل چاہا اسے گلے لگا کر دھاڑیں مار مار کر روئے۔اپنی عمر کے لحاظ سے جتنا ہو سکتا تھا وہ بہن کو پرٹیکٹ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔اسے دلاسا دے رہا تھا۔مگر ماحر کا نام اسے شدید اذیت سے دو چار کر گیا تھا۔۔۔

اسی شخص کی وجہ سے تو وہ آج ان مصائب میں پھنسی ہوئی تھی۔

ہم بھاگتے نہیں ہیں آپی رک جاتے ہیں۔اور مل کر فائٹ کرتے ہیں جیسے اس گندے ماحر بھائی سے کی تھی۔۔گندہ بھی کہہ رہا تھا۔۔بھائی بھی بول رہا تھا۔۔۔

جس شخص کی وجہ سے وہ آج یوں درندوں سے خود کو بچانے کیلئے بھاگ رہی تھی مون نا سمجھی میں بار بار اسی کا نام لے کر اسکے درد کو بڑھا رہا تھا۔۔۔

نہیں مون ہم ان سے فائٹ نہیں کر سکتے۔۔ہمیں بھاگنا ہوگا۔۔۔۔بھاگنا ہوگا۔۔۔وہ روتے ہوئے بولی۔۔۔

روڈ پر چونکہ گاڑیوں اور لوگوں کی آمدورفت جاری تھی تبھی وہ لڑکے مناسب فاصلہ رکھ کر پیچھا کر رہے تھے۔ان سے بچنے کیلئے حیات نے اندھادھند روڈ کراس کیا۔شکر تھا کسی گاڑی سے ٹکر نہیں ہوئی تھی۔روڈ کے دوسری طرف پہنچ کر پلٹ کے دیکھا تو وہ بھی روڈ کراس کر رہے تھے۔رخ سیدھا انہی کی طرف ہی تھا۔۔

اسکی حالت مزید خراب ہوتی گئی۔۔۔پناہ کیلئے ادھر ادھر دیکھا کیونکہ اب چلتے جانا،بھاگتے جانے مسئلے کا حل نہیں تھا۔اگر وہ اسی طرح چلتی جاتی تو لازمی کسی سنسنان جگہ پر پہنچ کر وہ اسے گھیرنے کی کوشش کرتے۔۔

اچانک اسکی نظر بسوں کے اڈے پر پڑی جو کہ چند قدموں کی دوری پر تھا۔۔کئی بسیں تیار کھڑی تھیں۔وہ بنا سوچے سمجھے تیر کی طرح اس طرف بڑھی اور سب سے پہلی بس جو سامنے کھڑی تھی۔تیزی سے اس میں سوار ہو گئی۔ڈرائیور کے پیچھے ایک سیٹ چھوڑ کر دوسری خالی پڑی تھی۔وہ مون اور بیگ سمیت اس پر ٹک گئی۔۔ابھی بیٹھے ایک منٹ بھی نہیں ہوا تھا کہ کنڈیکٹر اس کے پاس آیا۔۔

باجی ٹکٹ لے لیا۔۔۔؟

نن نہیں کہاں سے ملتا ہے۔۔۔؟؟تیز تیز چلنے کی وجہ سے اسکی سانسیں پھولی ہوئی تھیں۔۔دل برابر دھک دھک کر رہا تھا۔۔۔

وہ اس طرف کاؤنٹر ہے وہاں چلی جائیں۔وہیں سے ملتا ہے۔۔ کنڈیکٹر نے ہاتھ سے ایک طرف اشارہ کیا

حیات نے منت بھرے انداز میں کہا۔بھائی میرے ساتھ سامان اور بچہ ہے میں نہیں اتر سکتی آپ کو پیسے دے دیتی ہوں پلیز آپ مجھے لا دیں۔۔

کنڈیکٹر نے اثبات میں سر ہلایا۔۔حیات نے بیگ سے پانچ ہزار کا نوٹ نکال کر اس کو تھمایا۔۔۔۔۔تھوڑی دیر بعد کنڈیکٹر نے ٹکٹ اور بقیہ پیسے اسکے ہاتھ پر رکھے۔اب وہ دل ہی دل میں بس کے جلدی چلنے کی دعا مانگ رہی تھی۔اسے تو یہ بھی نہیں پتہ رگ تھا بس جا کہاں رہی تھی۔خیال آنے پر ٹکٹ دیکھا تو لاہور کا تھا۔۔یعنی بس لاہور جا رہی تھی۔۔ایک اور انجان شہر کا سفر۔۔۔

اب اس نے خود کو مکمل قسمت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا۔۔۔پنڈی تو اسے راس نہیں آیا تھا۔۔۔

اب ناجانے لاہور جسے پاکستان کا دل کہا جاتا ہے برے وقت کی بے رحم چکی میں پستی حیات عبدالرحمان کو راس آنے والا تھا یا نہیں۔۔۔۔۔۔اس بارے میں وہ خود بھی ابھی نہیں سوچنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔اسکی زبان پر دعاؤں اور قرآنی آیات کا ورد جاری تھی۔برے لوگوں کی بری نظروں سے خود کو بچانے کیلئے خاصی احتیاط کر رہی تھی۔ چہرہ تو اسکا مکمل پردے میں تھا۔ہاتھوں کو بھی اس نے چادر میں چھپایا ہوا تھا۔۔

بس چلی تو اسے ایک سائیڈ پر کھڑے وہ لڑکے بھی نظر آ گئے۔جو اسی کی طرف ہی دیکھ رہے تھے۔۔دور سے بھی حیات کو ان کی آنکھوں میں چھلکتی کمینگی صاف نظر آ رہی تھی۔۔۔۔لڑکی کے ہاتھ سے نکلنے پر وہ خاصے جھنجلائے ہوئے لگ رہے تھے۔۔

گھر سے اکیلے باہر نکلنے کا اس کے لئیے یہ پہلا تجربہ تھا۔آج اسے احساس ہوا تھا کہ لوگوں کی نگاہوں میں کتنی گندگی بھری ہوتی ہے۔قریباً نوے فیصد دیکھنے والے اسے ایک ہی جیسی نازیبا بلکہ للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ان کی آنکھوں میں ایک بے ساختہ اور قطعی ناروا چمک ابھرتی تھی۔وہ اس پر پہلی نگاہ پڑنے کے بعد حد نگاہ تک دیکھنے کی کوشش کرتے تھے۔جیسے وہ عورت نا ہو دنیا کا آٹھواں عجوبہ ہو۔اس میں عمر کی بھی تخصیص نہیں تھی۔ہر عمر کے مرد اس کارخیر میں حصہ لیتے نظر آئے۔۔بس اڈے کے ارد گرد تو اسے یہی لگا جیسے ہر نگاہ اسکی چادر کو پار کر کے جسم کو چھید رہی ہو۔۔۔

“بس وہاں سے نکلی اور اپنی رفتار پکڑی تو اس نے سکون کا سانس لیا۔۔۔۔اب ایک بار پھر وہ نامعلوم منزل کی جانب سفر کر رہی تھی۔۔۔

فرقان مجھے آج شام تک وہ لڑکی ہر حال میں چاہیے۔سنا تم نے۔۔۔آج شام تک ہر حال میں۔۔۔۔۔اس نے میری تذلیل کی ہے۔۔۔مجھ پر حملہ کر کے بھاگی ہے وہ۔۔مجھ پر یعنی نامور سپر سٹار ماحر خان پر۔۔۔۔۔کیا سمجھتی ہے بچ جائے گی مجھ سے۔۔۔ہرگز نہیں۔۔۔برباد کر دوں گا میں اسے۔۔جس عزت کو بچانے کیلئے مجھ پر اٹیک کر کے بھاگی ہے نا وہ۔۔۔۔۔اسی عزت کیلئے رحم کی بھیک مانگے کی مجھ سے۔۔۔۔مگر میں چھوڑوں گا نہیں اسے۔بہت برا حشر کروں گا۔۔بہت برا حشر۔۔پل پل تڑپاوں گا اسے۔۔سمجھتی کیا ہے خود کو۔۔کسی کو منہ دکھانے کے تو کیا جینے کے لائق بھی نہیں چھوڑوں گا اسے۔۔۔۔۔میری توہین کی ہے اس نے۔۔چاہے پاتال میں بھی چھپی ہو ڈھونڈ نکالو اسے۔۔۔مجھے ہر صورت میں شام کو وہ میرے فلیٹ پر ملنی چاہیے۔۔۔سنا تم نے۔۔۔

وہ شیر کی مانند گرج رہا تھا۔۔نس نس سے شرارے نکل رہے تھے۔۔چہرہ غم و غصے کی آگ سے جل رہا تھا۔آنکھوں میں اس قدر سفاکی اتری ہوئی تھی کہ اگر کوئی دیکھ لیتا تو دہل جاتا۔۔۔

انتقامی جذبات اس پر اس قدر طاری ہو چکے تھے کہ وہ مہذب پن اور شرافت بھول کر خونخوار بھیڑیے کا روپ دھار چکا تھا۔

اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ابھی کہ ابھی وہ لڑکی کہیں سے اسکی دسترس میں آئے اور وہ تڑپا تڑپا کر مارے اسے۔دماغ میں اشتعال اس قدر زیادہ تھا کہ سر میں ناقابل برداشت ٹیسیں اٹھنے لگیں۔۔

اس نے بے ساختہ دونوں ہاتھوں سے سر کو پکڑا جس پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔۔۔

یہاں چوٹ لگائی نا تم نے۔۔۔۔اب دیکھنا تمہارے وجود

پر اتنے گھاؤ لگاؤں گا کہ مرحم لگانے کے بجائے اپنے مرنے کی دعا کرو گی۔وہ تصور میں اس سے مخاطب تھا جو اسکے ہاتھ سے نکل کر ناجانے کہاں بھاگ گئی تھی۔۔۔موبائل کی گیلری میں جا کر اسکی تصویر کو اوپن کیا۔کچھ دیر دانت کچکچاتے شدید غصیلے انداز

میں گھورتا رہا۔۔۔

ترکی میں ایک پکنک پوائنٹ پر کھینچی گئی یہ تصویر حیات عبدالرحمان نے اسکے اصرار پر نکاح سے ایک دن پہلے اسے سینڈ کی تھی۔

جتنا بھاگ سکتی ہے بھاگ لے۔۔۔چھوڑوں گا میں تمہیں پھر بھی نہیں۔۔کسی عام بندے کی تذلیل نہیں کی تم

ماحر سکندر خان کی کی ہے۔جسکی ایک جھلک دیکھنے کیلئے لوگ گھنٹوں انتظار کرتے ہیں اس کو تم جیسی دو ٹکے کی لڑکی نے صبر آزما انتظار کروایا۔۔۔

ایک بار ہاتھ تو لگو دیکھنا تمہارے ساتھ کرتا کیا ہوں۔۔وہ پرعزم لہجے میں خود سے بول رہا تھا۔۔جبکہ اسکی بلبلاہٹ اور غصے سے بے خبر اپنی تصویر میں مسکراتی رہی۔۔مگر یہ مسکراہٹ اب صرف تصویر تک ہی محدود ہو کر رہ گئی تھی۔وہ خود تو حالات کی زد میں آ کر ادھر ادھر ڈولتی پھر رہی تھی۔۔

موبائل بند کر کے مٹھیاں بھینچے وہ اپنے اندر کے اشتعال پر قابو پانے کی کوشش کرتا رہا۔۔۔۔۔

ماحر بیٹا کیسی طبعیت ہے اب۔۔۔۔؟؟اسی وقت فائزہ سکندر نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا۔۔

آئی ایم فائن مام۔۔۔۔

ماں کو دیکھ کر فوراً سیدھا ہوا اور چہرے کے تاثرات بھی نارمل کیے۔۔۔۔

پین تو نہیں ہو رہا۔۔۔۔انہوں نے آگے بڑھ کر اسکے سر پر بندھی پٹی کو ہلکا سا چھوتے ہوئے کہا۔۔

ٹھیک ہوں مام۔۔۔وہ بیزاری چھپا کر بولا

ماحر سچ بتانا یہ چوٹ تمہیں گرنے سے لگی ہے یا کسی کے ساتھ لڑائی ہوئی ہے۔۔۔؟؟فائزہ سکندر نے مشکوک نگاہوں سے دیکھتے ہوئے سوال کیا

نو مام ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔۔آپ کو پہلے بتایا تو تھا ڈرنک تھوڑی زیادہ کر لی تھی کل رات اسلئیے خود کو سنبھال نا سکا اور سیڑھیوں پر پھسل گیا۔۔

وہ نظریں چراتے ہوئے بولا۔۔۔

سیڑھیوں پر پھسلے تھے یا کہیں اور۔۔۔ان کا لہجہ جتاتا ہوا اور انداز کھوج والا تھا۔۔۔

کیا مطلب مام میں سمجھا نہیں۔۔۔؟؟وہ چونکا

سمجھے نہیں یا سمجھنا نہیں چاہتے۔دیکھو ماحر میں تمہاری ماں ہوں۔۔۔۔۔اور ماں اپنی اولاد کی رگ رگ سے واقف ہوتی ہے۔۔۔اولاد کا جھوٹ اور سچ اسکے چہرے سے ہی پڑھ لیتی ہے۔اب تم منہ سے اقرار کرو یا نہیں مگر میں جانتی ہوں یہ چوٹ تمہیں سیڑھیوں سے گر کر نہیں لگی۔۔۔۔۔کوئی اور معاملہ ہے تمہارا کسی لڑکی سے جھگڑا چل رہا ہے اسی کی وجہ سے تمہیں چوٹ لگی ہے نا۔۔۔۔؟؟

انکے بالکل صحیح اندازہ لگانے پر وہ بھونچکا رہ گیا

نہیں مام ایسی تو۔۔۔”اس نے اپنی پوزیشن کلئیر کرنے کیلئے جھوٹ بولنا چاہا مگر فائزہ سکندر نے برہمی سے ٹوک دیا۔۔

میں نے کہا نا جھوٹ مت بولنا سب جانتی ہوں میں۔

ابھی تم فون پر جو باتیں بول رہے تھے نا اپنے مینیجر کو تمہارے کمرے کے باہر کھڑے ہو کر سب سنی ہیں میں نے۔کیا کہہ رہے تھے لڑکی کو پاتال سے بھی ڈھونڈ کر لاؤ تم اسے برباد کرو گے۔۔ زندہ رہنے کے لائق نہیں چھوڑو گے۔۔۔اسکی عزت پامال کرو گے۔۔۔؟ یہی کہہ رہے تھے نا تم۔۔۔؟انہوں نے بے حد افسوس بھرے لہجے میں میں کہتے ہوئے شدید غصے سے اسکی طرف دیکھا۔۔

مام۔۔۔۔۔وہ ساکت رہ گیا۔۔۔۔۔کچھ بولنے کے قابل نہیں رہا تھا۔۔۔

زندگی میں پہلی بار وہ اپنی ماں کو اتنے شدید غصے میں دیکھ رہا تھا۔۔۔

کیا میں نے تمہیں یہی سکھایا تھا کہ تم عورتوں کی عزت نا کرو انییں پامال کرتے رہو۔۔۔۔؟؟کیا اسی دن کیلئے تمہیں پیدا کیا تھا کہ بڑے ہو کر تم دوسروں

کی عزتوں اور جانوں سے کھیلو۔۔

وہ یکدم چلائی تھیں۔۔۔ان کا ہاتھ اٹھا اور ماحر کے گال پر پڑا تھا۔۔۔۔

“وہ گال پر ہاتھ رکھے بے یقینی سے ماں کو دیکھ رہا تھا۔جنکی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔وہ ساکت انکے ہاتھ اٹھانے پر نہیں ہوا تھا بلکہ انکے رونے پر ہوا تھا۔۔

تمہیں زخمی اسی لڑکی نے کیا ہے نا۔۔۔۔؟؟کچھ پل بعد انہوں نے آنسو پونچھتے ہوئے سپاٹ لہجے میں دریافت کیا۔۔۔

وہ اپنے لب کاٹتا سر جھکائے خاموش بیٹھا رہا۔۔

زبان سے نا انکار کیا نا اقرار۔۔۔مگر اسکی خاموش اس کا اقرار تھی۔۔

میں جانتی ہوں کہ اس نے ایسا کیوں کیا ہوگا۔۔اسکی خاموشی پر کچھ توقف کے بعد وہ گویا ہوئیں۔۔۔

جانتے ہو عورت صرف ایک صورت میں مرد کے آگے نہیں جھکتی جب اسے اپنی عزت جانے کا خطرہ ہو۔۔عزت بچانے کیلئے وہ اپنی جان دینے اور اس لٹیرے مرد کی جان لینے تک بھی تیار ہو جاتی ہے۔عورت کو سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہوتا ہے وہ اسکی عزت کا ہی ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اس لڑکی کو بھی یقیناً ایسے ہی کسی خطرے کا سامنا کرنا پڑا ہوگا۔۔۔جو اس نے ایک مضبوط مرد پر حملہ کیا۔۔۔۔مجھے بہت افسوس ہے ماحر تم نے میری تربیت کی لاج نہیں رکھی۔۔۔میرے لئیے مرنے کے برابر ہے یہ بات سننا کہ میرے بیٹے نے کسی لڑکی کو پامال کرنا چاہا۔۔وہ بے حد دکھ سے بولیں

اسکی نگاہیں اور سر مارے ندامت کے جھکتا چلا گیا

ایسی حرکت کرتے ہوئے تم کیوں یہ بات بھول گئے تھے کہ تمہاری بھی ایک بہن ہے اگر گوئی اسکے ساتھ۔۔۔

مام پلیز۔اس نے تڑپ کر سر اٹھایا اور ماں کی بات کاٹی

اپنی بہن پر بات آئی تو برداشت نہیں ہوا نا۔ذرا سوچو وہ بھی کسی کی بہن بیٹی ہوگی۔۔اس کا کوئی بھائی ہوگا تو یقیناً اپنی بہن کے متعلق ایسی بات برداشت نہیں کر سکے گا۔۔۔

تمہیں اپنی بہن اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے تو کیا وہ اپنے بھائی کو عزیز نہیں ہو گی۔۔۔؟؟میری بھی بیٹی ہے۔۔ایک ماں کا اپنی بیٹی کی بربادی کیلئے درد کیسا ہوتا ہے محسوس کر سکتی ہوں میں۔۔۔دل پھٹ جاتا ہے ماں کا بیٹی کو اجڑی حالت میں دیکھ کر۔۔۔۔ جیتے جی مر جاتی ہے ایسی ماں۔۔۔

ماں کی دعا اللّٰہ کبھی رد نہیں کرتا لیکن ایک مظلوم ماں کی بد دعا تو عرش اللّٰہ ہلا دیتی ہے۔۔۔۔بہت ڈرتی ہوں میں اس وقت سے جب کسی کی ماں جھولی اٹھا کر میرے بیٹے کو بد دعا دے۔۔خود پر نہیں تو اپنی ماں پر رحم کھاؤ بیٹا۔۔ماں اور بہن کی عزت کر سکتے ہو تو دوسری عورتوں کی تمہارے نزدیک کیوں کوئی عزت نہیں۔۔۔میرے چاروں بچوں میں صرف تم ہی سب سے زیادہ جذباتی ہو۔۔۔ سب سے زیادہ غصہ تمہیں ہی آتا ہے جو کہ آؤٹ آف کنٹرول ہوتا ہے۔۔۔۔لیکن میں جانتی ہوں میرے بیٹا اندر سے ایک نرم دل انسان ہے اس کا غصہ وقتی ہوتا ہے۔۔جو بعد میں جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے۔۔دیکھو بیٹا مجھے معلوم ہے کہ کسی کے ساتھ بھی لڑائی میں پہل تمہاری طرف سے نہیں ہوتی مگر انتہا تمہاری طرف سے ہی ہوتی ہے۔۔

اچھا یہ بتاؤ یہ لڑکی وہی ہے نا جس نے میڈیا میں تمہارے خلاف بیان دے تھے۔۔؟؟

فائزہ سکندر نے بیٹے کے شرمندہ پیشمان چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔

ماحر نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ گہری سانس لے کر گویا ہوئیں۔۔۔

لوگوں کو معاف کرنا سیکھو بیٹا اللّٰہ معاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔۔۔لیکن جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا اللّٰہ بھی اس پر رحم نہیں کرتا۔۔۔۔۔کبھی سوچا ہے تم نے اللّٰہ نے کیا کچھ نہیں دیا تمہیں دولت۔۔۔ شہرت۔۔ عزت طاقت۔۔تمہیں تو اس کا شکر ادا کرنا چاہیے لیکن اگر تم اسکی دی گئی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے بجائے مخلوق خدا کو ستانے کیلئے استعمال کرو گے تو وہ کیا تم سے خوش ہو گا۔۔ہر گز نہیں ایک وقت ایسا آئے گا وہ تم سے یہ سب کچھ چھین لے گا تم خالی ہاتھ رہ جاؤ گے۔اگر کوئی تمہارے ساتھ زیادتی کرتا بھی ہے تو تم اس سے بدلہ نا لو بلکہ اسے دل سے معاف کرو۔۔۔دیکھنا

اللّٰہ تمہاری اس بات سے خوش ہو کر تمہیں مزید نوازے گا۔۔۔اس لئیے اگر تمہاری نظر میں ماں کی بات کی ذرا بھی اہمیت ہے تو اس لڑکی کو ڈھونڈ کر اس سے اپنے کیے کی معافی مانگو۔۔۔ناجانے وہ بیچاری تمہارے خوف سے کہاں کہاں چھپتی پھر رہی ہوگی۔۔۔وہ بہت کچھ بولتی رہیں۔۔۔کب انہوں نے بات ختم کی اور کمرے سے نکلیں۔۔اسے کچھ احساس نا تھا۔۔۔احساس تھا تو صرف اور صرف اپنے کیے کا۔۔۔۔۔

یہ کیا ہو گیا مجھ سے۔۔۔؟؟اپنی حیات کے پھولوں کو

خود ہی اپنے ہاتھوں سے پتی پتی کر کے مسل ڈالا۔۔

کیا اسی کو محبت کہتے ہیں۔۔؟؟اسے حیات کو اپنے قدموں پر گرنا گڑگڑانا۔۔۔اسکی خوبصورت آنکھوں کا خوف اور صدمے کی حالت میں پھٹ جانا۔۔۔اسکی سراسیمگی موتیوں کی طرح اسکے گرتے آنسو۔۔۔سب یاد آنے لگا۔۔۔اف کس قدر وحشی ہوں میں۔۔حیوانوں سے بڑھ کر درندگی اور سفاکی ہے میرے اندر۔۔کتنا

ظالم ہوں میں۔۔۔۔۔۔مجھے انسان کہلانے کا کوئی حق

نہیں۔۔وہ منہ پہ ہاتھ رکھے پیشمان بیٹھا تھا۔۔۔شدید

پیشمان۔۔