Meri Hayat By Zarish Hussain Readelle50271 Meri Hayat (Episode 24)
Rate this Novel
Meri Hayat (Episode 24)
Meri Hayat By Zarish Hussain
“فضا نے تیسری بار دروازے پر دستک دی۔۔۔۔۔اس بار اندر سے حیات کی آواز سنائی دی۔۔
کون ہے۔۔۔
حیا میں ہوں۔۔۔۔دروازہ کھولو۔۔۔۔اندر خاموشی چھا گئی
کچھ دیر بعد لاک کھلنے کی آواز آئی۔۔۔دروازہ کھلتے ہی حیات کا چہرہ نظر آیا۔۔
کیسی ہو یار دروازہ کیوں بند کیے بیٹھی ہو۔۔۔؟ فضا تشویش سے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے بولی”
۔۔۔۔۔رویا رویا سا سرخ متورم چہرہ۔۔۔۔وہ چونک گئی۔۔۔۔
تم روئی ہو کیا۔۔۔۔۔؟بے اختیار اسکے منہ سے نکلا
نہیں روئی نہیں بس ذرا سر میں درد تھا۔۔۔۔حیات نے مسکرانے کی کوشش کی”
کہیں بخار تو نہیں فضا نےاس کا ہاتھ پکڑ کر ٹمپریچر چیک کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا”۔۔۔۔۔نہیں بخار تو نہیں ہے تم کوئی ٹیبلیٹ لے لیتیں۔۔۔وہ اس کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے بولی۔
” لی تھی ٹیبلٹ اب ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔آپ سنائیں کیسے آئیں۔۔۔۔
“مجھے بوا نے فون کیا تھا۔۔۔۔تم دروازہ نہیں کھول رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔وہ پریشان ہو گئی تھیں۔۔
سو رہی تھی نا تو سن نہیں سکی۔۔۔آپ بیٹھیں میں فریش ہو کے آتی ہوں۔۔۔۔وہ اٹھتے ہوئے بولی
نہیں تم ریسٹ کرو میں چلتی ہوں۔فارس میرا انتظار کر رہا ہوگا۔ڈاکٹر سے اپائنٹمنٹ لیا تھا”۔۔۔فضا کے باہر نکلتے ہی اس نے دروازہ پھر سے لاک کر لیا اور تکیے میں منہ دے کر ایک بار پھر ہچکیوں سے رونے لگی۔
حیا یار یہ تم نے کیا کیا۔۔۔۔؟اس نے جیسے ہی حورین کی کال پک کی وہ چھوٹتے ہی بولی۔
کیا کیا میں نے۔۔۔؟؟وہ نا سمجھی سے گویا ہوئی
“یار تم نے ماحر خان کی کال ریکارڈنگز کیوں لیک کر دیں۔۔۔میڈیا میں ہر جگہ چرچا ہو رہا ہے۔تم نے ایسا کر کے اپنے لئیے برابلم کیوں کری ایٹ کیا۔جانتی ہو نا وہ
کوئی عام بندہ نہیں ہے۔۔۔کم از کم ایک بار مشورہ تو کر لیتی مجھ سے۔۔اسکی پریشانی بھری آواز آئی۔
حیات نے اسے ٹوکا۔۔
ایک منٹ۔۔۔۔مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔تم کیا کہہ رہی ہو۔کونسی کال ریکارڈنگز وائرل کی میں نے۔۔۔؟؟
تم نے ماحر سکندر خان کی تمام کال ریکارڈنگز میڈیا کو نہیں دیں کیا۔۔۔۔۔؟اس نے سوالیہ انداز میں پوچھا
نہیں میں نے تو ایسا کچھ نہیں کیا۔۔
“مائی گاڈ تم نے نہیں کیا ایسا تو پھر کس نے کیا۔۔؟
“حورین کی حیرت بھری آواز آئی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔حیات تمہاری اور اسکی تمام کالز وائرل ہو چکی ہیں۔۔”میڈیا میں ہر سوشل پلیٹ فارم پر چرچا ہو رہا ہے۔تم ذرا ٹی وی آن کر کے تو دیکھو۔۔۔۔بلکہ رکو میرے پاس واٹس ایپ پر آ چکی ہے میں تمہیں سینڈ کرتی ہوں۔۔
حورین کی دی گئی خبر نے اسے پریشانی میں مبتلا کر دیا۔اگر ایسا ہو چکا تھا”تو بہت برا ہوا تھا۔۔۔
اگلے ہی پل ریکارڈنگ کلپ خبر سمیت اسکے سامنے تھا۔
وہ ششدر رہ گئی۔۔۔
“۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے ایسا نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔زبانی کلامی دھمکی دینا الگ بات تھی۔لیکن حقیقت میں ایسا کوئی قدم اٹھانے کا اس کا ارادہ نہیں تھا”وہ بیوقوف نہیں تھی جانتی تھی۔۔۔۔۔۔۔”ایسا کچھ کرنے کی صورت میں زیادہ نقصان اسے ہی اٹھانا پڑتا۔۔یہ کسی تیسرے بندے کا کام تھا۔۔۔کیونکہ اس نے تو ایسا کچھ کیا نہیں تھا”۔۔۔ماحر خان خود تو اپنے خلاف یہ سب میڈیا میں دینے سے رہا۔۔۔۔۔۔پھر ایسا کون ہو سکتا ہے جسکے نے یہ سب کیا۔سب سے شاکنگ آمیز بات تو یہ تھی کہ کسی اور کے پاس وہ ریکارڈنگز پہنچیں کیسے۔۔۔۔ان تمام سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا اسکے پاس۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
۔۔۔۔۔۔اس کا دماغ ماؤف ہو رہا تھا۔۔۔۔یہ خبر اب تک اس شخص تک بھی پہنچ چکی ہوگی۔۔۔۔۔۔ناجانے کیسا ری ایکٹ کیا ہو گا اس نے۔۔۔۔اور ناجانے اب وہ کیا کرنے والا ہوگا۔کیونکہ اسکی دانست میں تو یہ سب حیات نے کیا ہوگا”۔۔۔۔۔ٹینشن سے برا حال تھا اس کا”
۔۔۔سب سے زیادہ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ کسی اور کے پاس تمہاری ریکاڈنگز پہنچیں کیسے۔۔۔۔۔؟؟؟
“حورین نے وہ سوال کیا جس کا جواب تو اسے خود نہیں مل رہا تھا”یار حوری میرا دماغ ماؤف ہو رہا ہے۔
کس نے کیا ہوگا یہ سب۔۔وہ روہانسی لہجے میں بولی
اچھا اپنے مائنڈ کو ریلیکس رکھو اور یہ بتاو کیا تم نے اپنا فون کسی کو استعمال کرنے کو دیا تھا”۔۔۔۔۔حورین کے پوچھنے پر وہ اپنے ذہن پر زور دیکر یاد کرنے لگی۔
“۔نہیں فون تو کسی کو نہیں دیا تھا۔لیکن ہاں کل رات مجھے میرا فون نہیں مل رہا تھا۔۔۔۔میں نے بہت ڈھونڈا پورا کمرہ چھان مارا نہیں ملا”۔۔لیکن حیرت انگیز طور پر آج صبح وہ سٹڈی ٹیبل پر پڑا ہوا ملا۔۔۔مجھے کافی حیرانی ہوئی لیکن پھر میں نے اگنور کر دیا۔۔۔۔۔
“بس پھر یوں سمجھ لو کسی نے تمہارا موبائل چرا کے ریکارڈنگ حاصل کیں اور پھر انہیں لیک کر دیا۔۔۔حورین نے وثوق سے کہا۔
“۔۔۔۔۔۔میرے موبائل سے۔۔۔۔مگر یہ بھی تو ہو سکتا ہے۔ریکارڈنگ میرے موبائل کے بجائے اسکے موبائل سے لیک ہوئی ہوں۔۔۔حیات نے پر سوچ انداز میں کہا
نہیں مجھے نہیں لگتا کہ اس نے اپنی ہی کالز ریکارڈ کی ہونگی۔۔۔۔۔۔۔۔اور ویسے بھی جس نے ایسا کیا ہے وہ
تم دونوں کا دشمن ہو سکتا ہے۔۔۔کیونکہ اسے پتہ ہوگا۔اس سے نا صرف ماحر خان کا نیگیٹو امیج دنیا کہ سامنے آئے گا۔۔۔۔۔”بلکہ وہ تمہارا بھی دشمن بن جائے گا۔
لیکن مجھ سے کوئی کیوں دشمنی کرے گا بھلا۔میں نے کسی کا کیا بگاڑا ہے۔۔۔۔۔۔
“تم بھول رہی ہو۔فرحین اور ارسلان بھٹی نے کیا کیا تھا تمہارے ساتھ۔۔۔۔۔”اور ارسلان بھٹی کو تو تمہاری وجہ سے یونی سے نکالا گیا۔۔۔۔۔۔ہو سکتا ہے اس نے بدلہ لینے کیلئے یہ سب کیا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور فرحین کو بھی تمہاری وجہ سے ماحر نے اپنی فلم میں نہیں لیا تھا”۔۔۔حورین کی باتوں نے اسے سوچنے پر مجبور کر دیا۔۔۔۔واقعی وہ دونوں ہی تھے جو اس سے بلاوجہ دشمنی کرتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اب کیا ہوگا حوری۔۔۔۔وہ تو یہی سمجھ رہا ہوگا نا کہ میں نے یہ سب کیا ہے۔ کیونکہ دو تین بار اسے اس بات کی دھمکی دی تھی میں نے۔۔۔وہ سخت متوحش تھی
اور تمہاری اسی دھمکی سے کسی اور نے فائدہ اٹھا لیا”
اس بات کا اگر ارتضیٰ سر کو پتہ چلا تو تم کیا کہو گی انہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حورین کی بات اور سوال نےاسے مزید پریشان کر دیا۔۔۔ارتضیٰ کو تو وہ بھولے بیٹھی تھی۔۔
“۔۔۔۔۔میری کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا حوری۔۔تم فون رکھو میں بابا سے بات کرتی ہوں۔۔”اسے آخری حل یہی لگا کہ بابا سے بات کرنی چاہیے اب جو کچھ کریں گے وہی کریں گے۔
ٹھیک ہے اور پریشان مت ہونا پلیز میری کسی قسم کی بھی ہیلپ کی ضرورت ہو بلاجھجک بتانا۔۔۔میں تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔حورین نے تسلی دی”
تھینکس یار۔۔۔فون بند کر کے وہ روم سے باہر جانے لگی تھی کہ فون کے دوبارہ بجنے پر رک گئی۔
“ہاں حوری بولو۔۔۔۔جلدی میں اس نے نمبر دیکھے بغیر کال ریسیو کی۔۔”
“۔۔۔۔بہت برا کیا ہے تم نے حیات عبدالرحمان۔۔بہت برا
اب دیکھنا میں کتنا برا کرتا ہوں تمہارے ساتھ۔۔”شیر کی مانند دھاڑ سن کر اس کا ہارٹ فیل ہوتے ہوتے رہ گیا۔۔۔۔۔اسے سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ دوسری طرف کال پر کون ہے”
اسکے ہاتھوں پیروں میں کپکپاہٹ سی ہوئی۔۔۔خوف کی ایک سرد لہر اسکے وجود میں اتر گئی۔۔۔دیکھیں یہ سب میں نے نہیں کیا ایکچولی۔۔۔۔۔”خود کو سنبھالتے ہوئے اس نے کہنا چاہا مگر دوسری طرف ماحر خان نے نہایت درشتی سے اسکی کی بات کاٹ دی”
“۔۔۔شٹ اپ۔۔۔ بکواس بند کرو۔۔۔تم نے نہیں کیا یہ سب تو تمہارے فرشتوں نے کیا ہے۔۔۔۔۔سب جانتا ہوں میں۔۔۔چھوڑوں گا نہیں میں۔۔۔۔ نا تمہیں اور نا اس چینل کے اونر کو جس کو تم نے ریکارڈنگز بھیجیں اور اس کمینے نے آگے پھیلا دیں”۔۔۔۔۔۔۔ وہ چیخ کر بولا
“۔۔۔۔بس ویٹ کرو تم۔۔۔۔۔۔اور دیکھو میں کرتا کیا ہوں تمہارے ساتھ۔۔۔کیا برا کیا تھا تمہارے ساتھ۔۔۔کڈنیپ کیا۔بنا کوئی نقصان پہنچائے چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔۔کیا نہیں کر سکتا تھا میں۔۔۔۔”مگر میری حساس طبیعت اور میری ماں کی تربیت نے مجھے پستی میں گرنے کی اجازت نہیں دی۔صرف آفر ہی تو کی تھی فلم کی۔اور کچھ برا
تو نہیں کیا تھا تمہارے ساتھ۔۔۔مگر تم نے اچھا نہیں کیا۔۔میں برا نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔”مگر تم نے مجھے برا بننے پر مجبور کر دیا ہے۔اب دیکھنا کتنا برا بن کر دیکھاتا ہوں
میں تمہیں۔۔۔۔۔وہ زخمی شیر کی مانند دھاڑ رہا تھا۔
دیکھیں پلیز۔۔۔۔وہ التجائی انداز میں کچھ کہنے ہی والی تھی کہ دوسری طرف سے کال کاٹ دی گئی۔۔اس نے کال ملائی تو دوسری طرف سے نمبر بزی جا رہا تھا”
۔۔۔۔۔۔۔وقفے وقفے سے وہ کوششیں کرتی رہی مگر ماحر سکندر خان نے نا اسکی کسی کال کا جواب دیا”۔۔۔۔۔۔نا میسیج کا۔۔۔۔۔
“پہلی بار وہ خود اس سے بات کرنا چاہتی تھی۔اسے سمجھانا چاہتی تھی کہ اس سب میں اسکی کوئی غلطی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مگر ماحر سکندر کی طرف سے نو رسپونس اسے مایوسی اور پریشانی سے سخت دوچار کر رہا تھا”وہ اس سے اب بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔
شائد ڈائریکٹ کوئی ایکشن لینے کا ارادہ تھا۔یہی بات اسے ڈرا رہی تھی۔۔۔۔وہ اس سے دشمنی مول نہیں لینا چاہتی تھی۔اس شخص سے دشمنی افورڈ کرنا اسکے بس کی بات نہیں تھی”وہ فون ہاتھ میں لئیے بیٹھی تھی۔۔۔۔۔”اس واقعے اور ماحر خان کی کال نے اسکے حواس معطل کر دیے تھے۔۔۔۔۔معاملہ گھبیر ہو گیا تھا۔۔
“۔۔۔۔اس تمام صورتحال پر اسے رونا آنے لگا۔۔۔۔
اسی وقت عبدالرحمان صاحب دستک دے کر اسکے روم میں آئے۔۔۔”انکے چہرے پر خاصی پریشانی تھی۔
حیات فوراً اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔۔۔۔
حیا یہ سب کیا ہے۔۔تم نے کیا کیا ہے۔۔باہر میڈیا کے لوگ آئے ہوئے ہیں۔۔۔وہ کہہ رہے ہیں تم نے فلمسٹار ماحر خان کے خلاف میڈیا میں بیان دیا ہے اور اسکی کوئی ریکارڈنگز وائرل کی ہیں”۔۔۔۔ان کا انداز سخت تھا”
حیات کا رنگ فق ہو گیا۔۔۔۔۔ جسم ہولے ہولے لرزنے لگا”
بابا اللّٰہ کی قسم میں نے کچھ نہیں کیا۔وہ ریکارڈنگز میرے فون میں تھیں لیکن میں نے وائرل نہیں کیں۔ابھی اس کا فون آیا بابا۔۔وہ وہ۔۔۔مجھے دھمکیاں دے رہا تھا۔اس نے کہا ہے وہ بہت برا کرے گا میرے ساتھ۔وہ ہچکیاں لے لے کر رونے لگی۔۔۔۔۔عبدالرحمان صاحب نے آگے بڑھ کر اسے سینے سے لگایا”
گھبرائیے مت بیٹا۔۔آپ کے بابا کے ہوتے ہوئے وہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔۔۔۔آپ رونا بند کرو۔۔۔۔میں پولیس اسٹیشن جا رہا ہوں”اور ان میڈیا والوں کو بھی بھگاتا ہوں۔۔۔آپ اپنا خیال رکھو جب تک میں نا آؤں گھر سے باہر نہیں نکلنا۔وہ اسے ڈھیروں تسلیاں دے کر چلے گئے۔مگر حیات دیکھ سکتی تھی کہ جاتے وقت انکے چہرے پر تفکرات کے گہرے سائے تھے”
“۔۔۔فلمسٹار ماحر سکندر خان کی ایک اور پرسنل کال وائرل۔۔۔۔۔”
ناظرین آپ کو بتاتے چلیں کچھ گھنٹے قبل جس لڑکی نے سپرسٹار ماحر سکندر خان کی پرسنل کالز لیک کیں۔۔”جن کا ہر چینل ہر سوشل ٹیٹ ورک پر چرچا ہو رہا ہے۔ ماحر خان کی اس لڑکی کو ایک مرتبہ پھر کال اور کال پر دی دھمکی۔۔
“۔۔۔۔۔یہ دیکھیں ناظرین ماحر خان کی تازہ ترین کال ایک مرتبہ پھر وائرل ہو چکی ہے۔۔۔۔۔۔”
“۔۔۔۔۔۔خبر کے مطابق چھے گھنٹے پہلے سپر سٹار ماحر سکندر کی کچھ خفیہ کال ریکاڈنگز منظر عام پر آئیں۔جس میں وہ کسی حیات عبدالرحمان نامی لڑکی کو اخلاق سے گری ہوئی باتیں کہہ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔اور بات نا ماننے کی صورت میں اسے دھمکیاں بھی دے رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ان کال ریکارڈنگ سے پتہ چلتا ہے ماحر خان نے اسکے گھر جا کر بھی اسے حراس کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔”
“۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ خبر اب تک ملکی غیر ملکی نیوز چینلز کے علاوہ ہر قسم کے سوشل نیٹ ورک کی زینت بن چکی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اسکے بعد اب ایک اور تازہ ترین کال وائرل ہوئی ہے جو ماحر خان نے ایک گھنٹہ پہلے اس حیات عبدالرحمان نامی لڑکی کو کی ہے۔۔۔۔۔۔جس میں وہ ایک مرتبہ پھر اسے سخت نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔۔
لوگوں کے بحث و مباحثے جاری ہیں۔۔۔۔۔۔ماحر خان کے مخالفین بڑھ چڑھ کر انکے خلاف بول رہے ہیں۔۔۔۔۔
“۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اس لڑکی سے کھل کر ہمدردی کا اظہار کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”جہاں تک بات ہے ماحر خان کے فینز کی تو زیادہ تر خاموش ہیں جبکہ کچھ کے بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔”وہ ان کال ریکارڈنگز کو فیک قرار دے رہے ہیں۔۔۔۔۔۔اور کہہ رہے ہیں ان کال ریکارڈنگز سے انکے دلوں میں فلمسٹار ماحر خان کیلئے عزت اور محبت کم یا ختم نہیں ہو سکتی۔۔۔۔۔۔۔۔”
لڑکی نے سستی شہرت حاصل کرنے کیلئے یہ سب ڈراما رچایا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”جہاں بات ہے ماحر سکندر خان کی تو انکی طرف سے فلحال مکمل خاموشی ہے”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے اس حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا نا ان فون کالز کی تردید یا تصدیق یا تصدیق کی ہے۔۔۔۔۔۔انکے پرسنل اسسٹنٹ سے رابط کیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔”مگر اس نے کوئی بھی بیان دینے سے انکار کر دیا۔حتیٰ کہ ماحر کے قریبی دوست اداکار بھی اس معاملے پر خاموش ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”شائد پرائی آگ میں کوئی بھی کودنا نہیں چاہتا”اس واقعے کی وکٹم مس حیات عبدالرحمان سے رابط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔جیسے ہی مزید معلومات حاصل ہوتی ہیں ہم آپ کو آگاہ کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔”
“۔۔۔۔۔۔حیات ساکت سی ٹی وی کے آگے بیٹھی یہ تمام خبریں سن رہی تھی۔اس نے اپنا موبائل آف کر دیا تھا۔۔۔مختلف انجان نمبروں سے کالز پر کالز آ رہی تھیں۔جن میں سے چند اس نے اٹینڈ کیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ کوئی ٹی وی چینلز والے تھے جو اسے اپنے چینل پر بلا کر انٹرویو لینا چاہتے تھے۔حیات نے کسی کو جواب نہیں دیا اپنا فون ہی سوئچ آف کر دیا۔۔۔۔
“۔۔۔۔۔۔اس تمام صورتحال نے اسے حواس باختہ کر دیا تھا۔۔۔۔وہ شدید ٹینشن میں تھی۔۔عبدالرحمان پولیس اسٹیشن جانے کا کہہ کر گئے تھے۔اس تمام صورتحال نے انہیں بھی شدید تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔۔حیات کی سیکیورٹی کے حوالے سے وہ فکرمند تھے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“۔۔۔۔حیات کو ارتضیٰ کی فکر بھی کھائے جا رہی تھی۔ اسکو جب یہ سب پتہ چلے گا تو نا جانے اس کا ری ایکشن کیا ہوگا۔۔۔۔۔”
“بیٹا کچھ کھا لو۔۔۔۔۔صبح سے بھوکی بیٹھی ہو۔۔۔۔جو ہونا ہوتا ہے وہ تو ہو کر رہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس میں پیٹ کو کیوں سزا دینی۔۔۔۔رحمت بوا نے کوئی پانچویں بار آ کر اسے کہا تھا۔انہیں بھی سب معلوم ہو چکا تھا۔ وہ بھی عبدالرحمان صاحب اور حیات دونوں کی طرح پریشان تھی۔۔۔۔۔۔بوا کی بات سنی ان سنی کر کے وہ ویسے ہی بیٹھی رہی۔فون کی گھنٹی بجی تو وہ خوف سے ایسے اچھلی جیسے موت کا فرشتہ آیا۔
بوا پلیز مت اٹھائیے گا کال۔۔۔شائد وہ شخص یا میڈیا والے ہونگے۔۔۔اس نے فون کی طرف بڑھتی بوا کو روکا۔
کال اٹھانا ضروری ہے بیٹا۔تمہارے بابا بھی تو ہو سکتے ہیں۔موبائل تمہارا بند ہے تو اگر انہیں کال کرنا پڑی تو اسی پہ کریں گے نا۔گبھراؤ نہیں کوئی اور ہوا تو کال بند کروں گی میں۔۔۔۔۔۔۔۔”۔۔بوا نے اسے تسلی دی تو وہ سانس روکے انہیں دیکھنے لگی۔۔۔۔”
بیٹا ارتضیٰ کی کال ہے۔تم سے بات کرنا چاہتا ہے۔بوا نے فون نے فون اسکی طرف بڑھایا”
“حیات کی ہارٹ بیٹ فاسٹ ہو گئی۔۔۔۔”
۔۔۔۔۔شائد ارتضیٰ کو پتہ نا چلا ہو ابھی تک۔وہ اپنے آپ کو تسلی دینے لگی۔۔۔۔۔”
ہیلو۔۔اسلام علیکم۔۔۔۔اس نے تھوک نگل کر سلام کیا”
مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی حیا”(سب کی طرح وہ بھی اسے حیات کے بجائے حیا کہتا تھا)اسکی بے حد سنجیدہ سرد آواز نے اسکے ہاتھوں طوطے اڑا دیے”
“بالآخر اسے پتہ چل گیا تھا۔۔۔۔
“۔۔۔۔۔۔اب کیا انکے رشتے ہیں دراڑ آنے والی تھی۔۔
“۔۔۔۔۔۔کیا ارتضیٰ یہ سب جان کر اسے چھوڑ دے گا۔
“۔۔۔۔وہ سانس روکے ریسیور تھامے کھڑی تھی۔۔۔۔۔۔
“اب خاموش کیوں ہو۔۔۔۔انکی آواز میں برہمی تھی۔
اسے بولنا ہی پڑا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خشک لبوں پر زبان پھیرتی وہ دھیمے لہجے میں کہنے لگی۔۔۔۔۔۔۔میں آپ کو سب بتانا چاہتی تھی۔مگر میں ڈرتی تھی۔۔۔۔۔۔آپ مجھے غلط نا سمجھ لیں۔۔۔مگر اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔۔۔۔۔مجھے معاف کر دیں پلیز۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔اگلے ہی پل وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی”وہ کچھ دیر اسے روتا سنتا رہا پھر گہری سانس لے کر بولا۔۔۔۔۔
مجھے تم پر غصہ نہیں ہے اور نا ہی میں ناراض ہوں۔بس مجھے صرف یہی افسوس ہے کہ تم اتنی ٹینشن سے گزرتی رہی لیکن مجھے اس قابل نہیں سمجھا کہ مجھ سے اپنی پریشانی شئیر کر سکو۔۔۔۔وہ شکوہ کر رہا تھا۔حیات لاجواب ہو گئی۔۔۔”
تم تو مجھے ابھی بھی نا بتاتیں یہ تو انکل نے مجھے فون کیا اور ساری بات سے آگاہ کیا۔۔۔۔تمہیں ڈرنے یا گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”تم اکیلی نہیں ہو۔تمہاری حفاظت کرنا میری ذمہ داری ہے۔۔۔۔ “افسوس کہ
اس ذمہ داری سے غافل رہا میں۔۔۔۔۔۔اگر نکاح کے ساتھ
ہی رخصتی کروا لیتا اور تمہیں بھی اپنے ساتھ امریکہ لے آتا تو آج اس سب کی نوبت نہیں آتی۔۔۔۔۔۔۔۔”بہرحال پرسوں شام کی فلائٹ سے میں آ رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”تمہیں رخصت کروا کر یہیں لے آؤنگا۔۔”
۔۔۔۔۔بس میرے آنے تک اپنا خاص خیال رکھنا۔کہیں بھی اکیلے جانے کی ضرورت نہیں گھر میں رہنا۔۔۔۔۔۔”ارتضیٰ حسن کی تسلیوں نے اسکی پریشانی کچھ حد تک کم کر دی۔اس نے بے اختیار گہری سانس لے کر اللّٰہ کا شکر ادا کیا۔کہ ارتضیٰ کے بارے میں اسکے سارے وہم غلط ثابت ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“بولو فرقان کیا خبر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟الکوحل کا گھونٹ اپنے اندر اتارتے اس نے اضطرابی انداز میں استفسار کیا۔
سر چند چینلز کے مالکان سے بات ہوئی ہے۔پیسے لے کر انہوں نے اپنے اپنے چینلز سے وہ خبر ہٹا دی ہے۔۔باقی میں کوشش کر رہا ہوں۔۔۔اور”
کچھ بھی کرو۔۔۔۔یو ٹیوب سمیت ہر سوشل پلیٹ فارم سے ہٹواؤ اسے”وہ سرد لہجے میں بولا”
۔۔۔جی سر۔۔۔۔ایک منٹ سر۔۔۔۔۔دوسری طرف وہ کسی سے بات کرنے لگا”
سر ایک اور مسئلہ ہو گیا۔ آپ نے اس لڑکی کو دوبارہ جو کال کی ہے وہ بھی منظر عام پر آ چکی ہے۔پہلے سے بھی زیادہ زور و شور سے وائرل ہو رہی۔۔۔۔۔۔۔۔فرقان کی نئی اطلاع پر اسے پہلے سے بھی زیادہ زور کا جھٹکا لگا۔۔۔۔”وہ بھونچکا رہ گیا
مارے اشتعال کے اسکے منہ سے حیات عبدالرحمان اور اس چینل کے مالک کیلئے گالی نکل گئی۔۔۔۔۔۔جسکو وہ بھیج رہی تھی اور وہ آگے وائرل کر رہا تھا۔۔۔۔”
سر یہاں پرڈکشن ہاؤس کے باہر میڈیا کے لوگ آئے ہوئے ہیں۔آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں بہت شور کر رہے تھے”
انہیں کیا کہوں میں۔۔۔۔۔۔؟؟
فرقان پریشانی بھرے لہجے میں بولا
“۔۔۔گولی مارو ان میڈیا والے حرام زادوں کو۔۔۔۔۔۔کوئی جواب مت دو اور فراز سے کہو جلدی وہ کام کرے جس کا اسے کہا ہے۔۔مزید انتظار نہیں ہو گا مجھ سے اب۔۔۔۔
دونوں ہاتھوں سے اپنی کنپٹیوں کو دبانے لگا۔۔۔ رگوں میں خون ابلنے کے باعث دماغ بہت گرم ہو رہا تھا۔وہ تیزی سے آگے کا لائحہ عمل سوچنے لگا۔۔۔۔۔۔”
ماحر یہ سب کیا ہو رہا ہے تمہارے خلاف سوشل میڈیا پہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔گارڈ کہہ رہا ہے کہ گھر کے باہر بھی میڈیا کا مجمع لگا ہوا ہے”ٹی وی چینلز پر ہر جگہ تمہارے بارے میں خبریں چل رہی ہیں۔۔۔۔۔۔کیا چکر ہے یہ سب”سکندر علی خان نے وہاں آ کر خاصی سنجیدگی سے استفسار کیا۔۔۔انکے ہمراہ فائزہ سکندر بھی تھیں۔۔۔جنکے چہرے پر غصہ اور پریشانی بیک وقت تھی”
“ڈیڈ یہ سب میرے مخالفوں کی چال ہے۔میرا کیرئیر ختم کرنے دنیا کے سامنے میرا غلط امیج لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”جسکے لئیے اس لڑکی کو پیسے دے کر اس کام کیلئے ہائر کیا گیا”۔۔۔۔۔۔اس نے صفائی سے جھوٹ بولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سکندر خان نے فائزہ کی طرف جتانے والی نظروں سے دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”میں نے یہی بات تمہیں پہلے ہی کہی تھی کہ یہ ہمارے بیٹے کو بدنام کرنے کیلئے اسکے دشمنوں کی چال ہے”۔۔۔۔۔۔ہماری فیلڈ میں اس قسم کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔۔۔۔”ہماری کامیابی سے ہر کوئی خوش نہیں ہوتا۔۔کئی حسد کرنے والے دشمن بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”جن سے ہماری کامیابی برداشت نہیں ہوتی اور وہ ہمیں گرانے،نیچا دکھانے کیلئے اس قسم کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اب تو تمہیں عادت ہو جانی چاہیے ایسی باتوں کو برداشت کرنے کی”۔۔۔۔۔۔۔لیکن تم چھوٹی چھوٹی باتوں کو اپنے ذہن پر سوار کر لیتی ہو۔۔۔”اب وہ انہیں سمجھا رہے تھے۔۔۔ماحر خاموش کھڑا سن رہا تھا اور دل میں شکر ادا کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”کہ ڈیڈ نے اسکی بات پر فوراً یقین کر لیا اور مام کو بھی قائل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مگر فائزہ سکندر کے چہرے کے تاثرات سے لگ رہا تھا وہ مطمئن نہیں ہوئیں۔۔”
مگر وہ کالز ریکارڈنگ جو میڈیا پہ آئی ہیں۔۔۔میں نے سنی ہیں آواز تو تمہاری ہی لگ رہی تھی۔۔۔۔انہوں نے مشکوک نگاہوں سے بیٹے کو دیکھا”ماحر نے گہری سانس لے کر باپ کی طرف دیکھا”وہ بھی اسکی ماں تھی انہیں مطمئن کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔۔۔۔”
ارے یار مام فیک کالز ہیں وہ۔۔۔۔۔”آپ کیوں فکر کرتی ہیں۔۔۔۔ماحر نے زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر انکے گرد بازو حائل کیے”
آپ بتائیں نا آپ کا ٹوور کیسا رہا۔۔۔۔۔فاریہ خوش تھی۔
اور ماموں جان کی فیملی سب ٹھیک تھے نا۔۔۔۔۔”ماحر انہیں لے کر صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ارادہ ان کا دھیان اس بات سے ہٹا کر دوسری طرف لگانا تھا۔۔۔سکندر بیٹے کی چلاکی سمجھتے تھے”۔۔۔۔۔۔۔۔بیوی کے سامنے تو وہ دشمنوں کی چال کہہ کر معاملہ کور کر گئے۔۔۔۔۔۔”مگر انہیں شک تھا کہ کہیں نا کہیں کچھ نا کچھ صداقت تو تھی اس سب میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اکیلے میں اس سے باز پرس کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔تبھی وہاں سے نکلنے لگے تو ماحر نے انہیں پکار لیا”
“۔۔۔۔۔۔ڈیڈ ایک فیور دے دیں پلیز۔۔۔۔مجھے باہر جانا ہے اس میڈیا والی بارات کو کسی طرح گیٹ پر سے ہٹا دیں۔۔۔۔۔سکندر خان اثبات میں سر ہلاتے ہوئے باہر نکل گئے۔۔۔۔۔”
“۔۔۔۔۔وہ ابھی فون کے پاس ہی کھڑی تھی جب دوبارہ گھنٹی بجی۔۔۔۔اس بار وہ فون اٹھاتے ہوئے ڈری نہیں لیکن فون اٹھانے کے بعد دوسری طرف سے اسے جو خبر دی گئی اسے سن کر اسکے پیروں تلے زمین نکل گئی۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ پاگلوں کی طرح عبدالرحمان صاحب کا نمبر ملا رہی تھی جو کہ مسلسل بند جا رہا تھا” فون پھینک کر وہ باہر کی جانب بھاگی۔۔۔”
کیا ہوا حیات بی بی۔۔۔۔”چوکیدار نے اسے بھاگ کر آتے ہوئے اور اسکے چہرے پر اڑتیہوائیں دیکھ کر استفسار کیا۔۔۔”
سرور چاچا وہ بابا کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔تمہارے پاس ڈرائیور فیاض کا نمبر ہے نا اسے فون کرو پلیز۔۔۔۔
چوکیدار نے اسکے کہنے پر جلدی سے ڈرائیور فیاض کا نمبر ملایا۔۔۔۔۔”
“۔۔۔۔۔۔۔۔۔بی بی فیاض کا نمبر تو بند ہے۔۔۔۔۔۔چوکیدار نے مایوسی سے کہا”
تم مجھے کوئی ٹیکسی لا دو فوراً۔۔۔بلکہ رہنے دو دیر ہو جائے گی میں خود لے لوں گی۔۔۔تم بس رحمت بوا کو بتا دینا بابا کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے میں آغا خان ہوسپٹل جا رہی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔”چوکیدار کو ہدایت دیتی وہ تیز تیز چلتی ہوئی روڈ پر آئی…. عبدالرحمان کے ایکسیڈنٹ کی خبر نے اسے ہلا کر رکھ دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔بمشکل وہ اپنے کمزور اعصاب کو قابو کر رہی تھی۔۔۔۔”دعاؤں اور قرآنی آیات کا ورد اسکی زبان پر جاری تھا”
آس پاس بلند و بالا عمارات کھڑی تھیں۔دوپہر کا وقت ہونے کی وجہ سے زیادہ تر دکانیں بند تھیں۔
لمبی شفاف سڑک پر اکا دکا گاڑیاں آ جا رہی تھیں۔۔۔۔وہ تیزی سے فٹ پاتھ پر چلتی ٹیکسی کی تلاش میں ادھر ادھر نظریں دوڑا رہی تھی۔۔۔کہ سائیڈ سے نکلتی ریڈ مرسڈیز بجلی کی سی تیزی سے اسکے قریب آ رکی۔ اس سے قبل وہ کچھ سنبھلتی سر پر کیپ اور چہرے پر ماسک لگائے ماحر فرنٹ سیٹ سے نیچے اترا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے کار میں پٹخ کر تیزی سے کار آگے بڑھا لے گیا۔یہ سب اتنی تیز رفتاری سے ہوا کہ اسے سنبھلنے بچنے یا چیخنے چلانے تک کا موقع نہیں ملا۔آنا فانا سیٹ پر پٹخنے کے انداز میں دھکیل دیا گیا۔
وہ اس افراد پر ہراساں تھی۔اپنا توازن برقرار نہیں رکھ سکی۔سر ڈیش بورڈ سے جا ٹکرایا تھا۔۔۔۔۔ذہن و دل پہلے ہی بابا کے ایکسیڈنٹ کی وجہ سے صدمے اور خوف کی گہرائیوں میں تھا۔۔۔۔۔۔مستزاد ماحر خان کا اس قدر جارحانہ انداز میں اسے اغوا کرنا۔۔۔۔۔۔چند لمحے تو وہ جیسے ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گئی۔ذہن ماؤف ہو گیا۔آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا”کچھ منٹ بعد وہ اس خود فراموشی کی کیفیت سے نکلی تو نظر اس شخص پر پڑی جو خوشبوؤں میں بھیگا رش ڈریوائنگ کرنے میں مصروف تھا۔بلو شرٹ اور بلیک جینز میں اسکے خوبصورت وجہیہ چہرے پر اسوقت۔۔۔۔۔
سختی۔۔۔وحشت۔۔۔۔۔۔بربریت۔۔۔۔سفاکیت۔۔۔۔ڈوبتے سورج جیسی لہو رنگ سرخی کیا کیا نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔”ماسک چہرے سے ہٹ چکا تھا جبکہ ڈراک سن گلاسز کی وجہ سے آنکھوں کا تاثر پوشیدہ تھا۔گلابی ہونٹ سختی سے
بھینچے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔۔سفید مضبوط ہاتھ سٹیرنگ پر سختی سے جمے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ مجسم آگ بنا ہوا تھا۔اس کی نس نس سے شرارے نکل رہے تھے۔۔۔۔”
حیات نے ایک نظر اسکے دہکتے ہوئے چہرے پر ڈالی۔جہاں انسانیت کی ہلکی سی رمق بھی نظر نہیں آ رہی تھی۔۔۔”
گاڑی روکیں ورنہ میں شور مچا دوں گی کہ آپ مجھے اغوا کر کے لے جا رہے تھے۔۔۔حواس بحال ہوتے ہی وہ اسکی طرف دیکھ کر اضطرابی انداز میں چیخی۔۔۔
مچاؤ شور مجھے فرق نہیں پڑتا۔۔ویسے بھی شور تو تم آلریڈی مچا ہی چکی ہو میڈیا میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس کی اژدھوں کی مانند پھنکار اور سرد لہجہ اسے وسوسوں کے
بے لگام گھوڑے پر سرپٹ دوڑانے لگا۔۔۔۔۔”
“۔۔۔۔۔۔کہاں لے کر جا رہے ہیں آپ مجھے۔۔۔۔۔۔اس شخص کا خوف اسکی رگوں میں تیزی سے سرایت کرنے لگا۔۔۔اس کا دل کسی انہونی کے خیال سے لرزنے لگا۔۔۔
اپنے فارم ہاؤس۔۔۔۔۔وہ مطمئن مگر سرد انداز میں بولا
کیوں۔۔۔۔۔اس کے لرزتے ہونٹوں سے نکلا
حساب کتاب لینے۔۔جو تم نے کیا ہے۔۔۔۔۔بہت ہو گیا اب۔بہت رعایت دے چکا ہوں میں تمہیں۔اب اور نہیں۔۔۔آج میں تمہیں بتاؤں گا کہ سپر سٹار ماحر خان کی حکم عدولی کرنے اور اس سے دشمنی مول لینے کا کیا انجام ہوتا ہے”تم نے خود اپنے پیروں پر کلہاڑی ماری ہے۔تم میرے دشمنوں کی فہرست میں شامل ہو چکی ہو اور اپنے دشمنوں کے ساتھ میں ذرا بھی رعایت نہیں کرتا۔۔۔
اسکی آنکھیں اس کا لہجہ مسلسل شعلے برسا رہا تھا۔
“دیکھیں میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔۔۔میں نے ایسا کرنا ہوتا تو بہت پہلے کر چکی ہوتی۔۔۔۔میرا فون غائب ہوا تھا دو دن پہلے۔۔۔۔جس نے غائب کروایا اسی نے خود کیا ہے یہ سب۔۔۔خود یا کسی اور کے کہنے پر۔۔۔۔دیکھیں میں سچ کہہ رہی ہوں۔۔۔۔۔وہ گلوگیر لہجے میں بولی۔۔۔”
“اچھا چلو مان لیا پہلے والی کالز تم نے لیک نہیں کیں۔۔مگر آج صبح والی کال کے بارے میں کیا کہو گی۔۔۔۔؟؟
وہ بھی اسی نے کی ہوگی۔۔۔۔آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو پیچھے دھکیلتے ہوئے بولی”
جواباً وہ لب بھینچے خاموش رہا۔۔صاف لگ رہا تھا کہ وہ اسے ہی قصوروار سمجھ رہا تھا”اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا”وہ کیا کرے۔۔۔۔۔۔۔۔”کیسے اپنی بے گناہی کا یقین دلائے۔۔۔۔۔اسکے پاس کوئی ثبوت بھی تو نہیں تھا اپنی بے گناہی کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”کہانی اچھی ہے مگر افسوس تم ایکٹریس نہیں ہو ایک عام لڑکی ہو۔۔۔۔۔۔تمہارے ڈائیلاگز تمہاری ایکٹنگ مجھے متاثر نہیں کر پا رہی”
“گاڑی روکیں پلیز۔ میں سچ کہہ رہی ہوں میں نے آپ کی کالز لیک نہیں کیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”دروازہ کھولنے کی ناکام کوشش کے بعد وہ اس سے مخاطب ہوئی۔۔۔۔۔بے انتہا خوف،گھبراہٹ،اشتعال و اضمحلال اسکے سراپے اور آواز میں لرزاں تھے۔۔۔۔”
کہاں لے کر جا رہے ہیں مجھے۔۔۔۔؟؟وہ وحشت بھری نظروں سے اسے دیکھنے لگی”
“دنیا کے اس پار بھیجوں گا۔۔۔۔مگر فلحال میرے فارم ہاؤس۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ایک نظر اسے گھورنے کے بعد وہ سامنے دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں بولا”
گاڑی روکو۔۔۔۔۔وہ چلائی۔۔۔۔وہ ہنوز فل سپیڈ سے دوڑا رہا تھا”
یہ گاڑی اب میرے فارم ہاؤس ہی جا کر رکے گی۔۔اس کا لہجہ پر اسرار طمانیت لئیے ہوئے تھا”
میں آپکے ساتھ کہیں نہیں جاؤں گی۔۔۔۔۔جب میں نے کچھ کیا ہی نہیں تو کیوں ڈروں میں۔گاڑی روکو گھٹیا، کمینے،عیاش،شرابی ذلیل انسان۔۔۔۔۔اسکی ہٹ دھرمی پر وہ ڈر خوف بھول کر بپھر اٹھی”
“ماحر نے قہر آلودہ نظروں سے اسکی طرف دیکھا اور پھر زہر خند لہجے میں بولا۔۔۔۔۔۔۔۔”بکواس بند کرو میں کوئی تمہارا عاشق نہیں ہوں جو چپ چاپ تمہاری گالیاں سن لوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” مجھے مزید غصہ مت دلاؤ۔۔۔۔۔”ورنہ یہیں گاڑی روک کر تمہاری تمہاری ساری اکڑ توڑ دوں گا۔۔۔۔۔۔”اسکے بعد تمہارا گلہ گھونٹ کر یہیں روڈ پر پھینک جاؤں گا۔۔۔۔۔۔تمہارا باپ اور تمہارا وہ عاشق کیا بگاڑ لیں گے میرا۔۔۔۔۔”سپر سٹار ہوں میں دنیا مٹھی میں ہے میری۔۔۔۔۔۔کسی کو بھی خریدنا مشکل نہیں میرے لئیے۔۔۔۔۔۔۔۔”اسکے لہجے کی غراہٹ اور لفظوں کی سفاکیت نے اسے سن کر دیا۔۔۔۔۔غصہ۔۔۔۔۔۔اشتعال۔۔۔۔۔نفرت۔۔۔۔۔مزاحمت سب بھول کر وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسکی طرف دیکھنے لگی۔۔۔۔۔”
کیا ہوا ڈر گئی نا۔۔۔۔اسکی طرف دیکھ کر تمسخرانہ انداز میں مسکرایا۔۔۔۔۔”
“۔۔۔۔۔۔آپ کیا سمجھتے ہیں میں اتنی آسانی سے آپ کی دسترس میں آ جاؤں گی۔۔اس نے اپنے اعصاب کو یکجا کرتے ہوئے کانپتے لہجے پر قابو پانے کی کوشش کی۔
سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحیتیں اب میری مقفود ہو چکی ہیں۔۔۔۔۔اب میں انجام سے بے پروا ہو کر وہی کروں گا جو میرا دل چاہے گا۔۔۔۔۔۔۔۔بلکہ دل تو میرا یہی چاہ رہا ہے تمہارا قتل کر کے لاش یہیں روڈ پر پھینک دوں۔۔۔۔۔۔۔ وہ سفاک لہجے میں بولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نا جانے وہ اسے ڈرانے کی کوشش کر رہا تھا یا سچ کہہ رہا تھا” حیات اندازہ نہیں لگا پائی۔۔۔”
“۔۔۔۔۔۔میں کسی غریب لاچار فیملی سے نہیں ہوں جو تم مجھے مارو گے اور کوئی تمہیں پوچھے گا بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔میرے بابا تو اب تک تمہارے خلاف پرچہ بھی کٹوا چکے ہونگے۔۔۔۔۔۔۔۔”ابھی تک تو میں نے کچھ نہیں کیا تھا”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن اب دیکھنا میں خود ٹی وی پر جا کر تمہارے سارے کرتوت پوری دنیا کے سامنے لاؤں گی”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمہارا یہ آرٹیفیشل گھناؤنا چہرہ سب کو دکھاؤں گی۔۔۔۔۔۔بڑے ہیرو بنے پھرتے ہو اصل میں زیرہ سے بھی کم لیول کے ہو تم۔۔۔۔۔وہ نفرت سے بولی”
“۔۔۔۔۔۔۔تم عورتوں کی نیچر ایک سی ہوتی ہے۔۔۔۔ماحر نے اسے سخت نظروں سے گھورا۔۔۔۔۔۔پہلے خود وار کرتی ہو جب بات اپنے پہ آتی ہے تو ان ہتھکنڈوں سے بلیک میل کرنا شروع کر دیتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”لیکن میں نا بلیک میل ہونے والوں میں سے ہوں اور نا ڈرنے والوں میں سے۔۔۔اور اپنے چہرے کی فکر کرو محترمہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”تمہیں زندہ سلامت چھوڑوں گا تو میڈیا کو اپنا یہ حسین چہرہ دکھا کر میرا آرٹیفیشل گھناؤنا چہرہ سب کے سامنے لاؤ گی نا۔۔۔۔۔۔”اسکے چہرے پر درندگی اور وحشت تھی۔۔۔
“۔۔۔۔حیات کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی۔۔۔۔کیا یہ شخص واقعی اسے برباد کر دے گا۔۔۔۔۔ مار کر کہیں پھینک دے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔خوف سے اسکی رنگت بالکل زرد پڑ چکی تھی۔۔۔۔۔۔اس شخص سے رحم کی بھیک مانگنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔۔۔۔۔۔کیونکہ وہ اسوقت رحم کے موڈ میں قطعی نہیں لگ رہا تھا”
حیات نے ادھر ادھر دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔شہر کی حدود ختم ہو چکی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔نامعلوم کونسی سڑک تھی جس پر اسوقت کار تیزی سے دوڑ رہی تھی۔۔۔۔۔سرسبز و شاداب علاقہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سڑک کے دونوں اطراف اونچے اونچے درختوں کی بہتات تھی۔۔۔۔۔کراچی میں کئی سال سے رہائش کے باوجود بہت سے ایسے علاقے ایسی جگہیں تھیں جنکے محل وقوع اور نام سے وہ نابلد تھی۔۔۔”یہ راستہ اور علاقہ اسکے لئیے بالکل انجان تھا”سورج سبک رفتاری سے اپنے مسکن کی جانب محو سفر تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔برابر میں ڈرائیو کرتے شخص کا موڈ اور انداز بہت جارحانہ اور ناقابل شکست تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کا فارم ہاؤس شائد شہر سے کافی دور ہٹ کے تھا۔۔۔۔۔۔Celebritiesاپنے فارم ہاؤس زیادہ تر شہر سے دور ہی بناتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سڑک خاصی سنسان لگ رہی تھی” آمدو رفت نا ہونے کے برابر تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بے تحاشا خوف کا شکار ہو گئی۔۔۔۔اس سنسنان جگہ پہ وہ واقعی کچھ بھی کر سکتا تھا”
اسے مار کر یہیں درختوں کے کسی جھنڈ میں دبا سکتا تھا وہ اسے روک نہیں سکتی تھی۔۔۔۔۔”
“۔۔۔۔نہیں مجھے اس وحشی کے ہاتھوں عزت گنوا کے بے بسی کی موت نہیں مرنا….”
“۔۔۔۔مار دونگی یا مر جاؤنگی مگر اس ذلیل انسان کے ناپاک عزائم کی تکمیل نہیں ہونے دونگی۔۔۔۔۔”
کچھ لمحے اس نے سوچا۔۔۔۔۔۔اگر مرنا ہی ہے تو عزت کی تو قربانی ہرگز نہیں دونگی اور نا ہی اس شخص کے ہاتھوں مروں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”بلکہ اس کمینے کو بھی ساتھ لے کر ہی مرونگی”
انسان جب تک کسی فیصلے یا انجام کا سوچ نا لے وہ کشمکش اور پریشانی میں مبتلا رہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔جب دماغ فیصلہ کی مہر دل پر لگا دے تو منتشر و بے اوسان اعصاب اعتدال پر آ کر پر سکون ہو جاتے ہیں۔۔۔۔”
۔۔۔۔۔۔۔حیات بھی پر سکون ہو گئی تھی۔۔خود کو سنبھال چکی تھی۔فیصلہ کر چکی تھی مار دے گی یا مر جائے گی۔۔۔۔۔اسکے رویے اور خوفناک ارادوں کے باوجود وہ زیادہ دیر خوفزدہ نا رہ سکی۔۔۔۔۔۔۔”دماغ نے جیسے ہی اوکے کا سگنل دیا۔۔۔۔۔۔۔۔”اسکا سارا خوف کہیں دور جا سویا اور اگلے ہی پل وہ بپھر ی ہوئی شیرنی کی طرح اسکے ہاتھوں پر جھپٹ پڑی”۔۔۔۔۔
“وہ شائد اس سے اس درجہ جرات مندی کی توقع نہیں کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔” حیات عبدالرحمان کے اچانک حملے پر وہ سنبھل نہیں پایا اور اسکے دونوں ہاتھوں کو قابو کرنے کے چکر میں اسٹیرنگ پر کنٹرول کھو بیٹھا۔۔۔۔۔۔
“۔۔۔۔۔۔نتیجتاً گاڑی سڑک سے اتر کر درختوں کے جھنڈ کی طرف بڑھتی چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔”گاڑی کو کنٹرول کھوتا دیکھ کر ماحر نے اسکے ہاتھوں کو چھوڑ دیا اور سٹیرنگ کو سنبھالنا چاہا۔۔۔۔۔مگر اس شخص کے ہاتھوں ذلت اٹھا کے مرنے سے اس نے گاڑی کے ایکسیڈنٹ میں مرجانا بہتر سمجھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔”تبھی وہ دوبارہ اسکے ہاتھوں پر جھپٹی”۔۔اس بار گاڑی مکمل طور پر گہرائی میں درختوں کے جھنڈ کی طرف لڑھک گئی”۔۔۔۔۔
