171.9K
78

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Hayat (Episode 56) Part - 1

Meri Hayat By Zarish Hussain

اپنے اس فیصلے سے وہ خوش نہیں تھی۔۔ لیکن کسی حد تک مطمئن ضرور تھی۔اس نے ایک ماں کا دل رکھا

تھا۔ایک ماں کو خالی ہاتھ نہیں لوٹایا تھا۔فائزہ سکندر

اسکی ممنون تھی۔احسان مند تھی۔۔فارس کو پتہ چلا

تو اس نے ناراضگی کا اظہار کیا۔وہ اسی وقت گھر آیا

تھا۔سکندر علی خان اور انکی مسز موجود تھے وہ ان سے سلام دعا کیے بغیر سیدھا حیات کے کمرے میں آیا

فضا نے فون پر ہی اسے حیات کے فیصلے کا بتا دیا تھا

وہ سخت شاکڈ تھا۔۔۔

حیا یہ میں کیا سن رہا ہوں تم نے اس گھٹیا شخص کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔۔۔۔؟ بے یقینی حیرت صدمہ

ناراضگی سب کچھ تھا اسکے لہجے میں۔۔۔۔”

وہ بے اختیار نظریں چرا گئی۔۔۔۔۔

جی بھائی۔۔ سر جھکا کر پست آواز میں اعتراف کیا

فارس کچھ پل کھڑا بغور اسے دیکھتا رہا۔۔۔

ایک بات پوچھوں سچ سچ بتاؤ گی۔۔؟؟

وہ جو بے چینی سے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں مروڑ رہی تھی الجھے منتشر خیالات اور دھڑکتے دل کے ساتھ فارس کو دیکھنے لگی۔۔۔

جی بھائی پوچھیں۔اس نے بمشکل حلق تر کر کے کہا۔۔

اسے فارس سے عجیب طرح کی شرمندگی ہو رہی تھی کل تک وہ اسکے گلے لگ کر رو رو کے کہتی تھی بھائی اس شخص سے میری جان چھڑوا دیں اور اب انہیں بنا بتائے۔۔۔ بنا مشورہ کیے۔۔۔اس شخص کو قبول کر لینے کا فیصلہ کر بیٹھی تھی۔۔۔

تمہیں ان لوگوں نے کہیں اس فیصلے کیلئے فورس کیا یا ڈرایا دھمکایا تو نہیں۔۔۔۔۔؟؟

وہ جانچتی ہوئی نگاہوں سے اس کے چہرے کا جائزہ لے رہا تھا۔۔

نن۔۔۔ نہیں بھائی ایسی تو کوئی بات نہیں میں نے اپنی مرضی سے کیا ہے یہ فیصلہ۔۔اس نے فوراً سے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔وہ سخت کنفیوژ ہو رہی تھی بھائی

کے سامنے۔۔۔۔۔۔نا ہوتے ہوئے بھی اپنے آپ کو مجرم اور

شرمندہ محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔۔

نو امپاسبل۔۔۔میں نہیں مانتا کہ یہ فیصلہ تم نے اپنی مرضی سے کیا ہے۔۔۔بتاؤ کس نے تمہیں اس فیصلے پر

مجبور کیا ہے۔۔بیٹے نے یا ماں باپ نے۔۔۔۔؟؟

وہ اس کے قریب بیٹھا پوچھ رہا تھا بے اعتباری اسکے چہرے سے عیاں تھی۔

میں نے بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے بھائی

کسی کے مجبور کرنے پر نہیں۔ایسے فیصلے انسان کسی

کے خوف سے تو نہیں کرتا کیونکہ جس سے خوف ہو

انسان اسکے ساتھ بھلا کیسے رہ سکتا ہے۔۔۔وہ نگاہیں جھکا کر بولی نمی کو پلکوں کی اوٹ میں روکا۔۔۔۔۔۔

اگر خوف سے نہیں کیا تو میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں

تم نے ترس کھا کے یہ فیصلہ کیا ہے۔۔۔ اس عورت نے

تمہیں ایموشنلی بلیک میل کیا ہے نا۔۔۔؟؟

اگر ایک ماں کی آنکھوں میں میری وجہ سے آنسو ہوں

تو میں کیسے سکون سے رہ سکتی تھی۔۔۔۔اسی لئیے”

میں ابھی جا کر انکار کرتا ہوں انہیں۔تم ہرگز کسی پر ترس کھا کر یہ فیصلہ نہیں کرو گی۔فارس اسکی پوری بات سنے بغیر مشتعل ہو کر اٹھا۔حیات نے گھبرا کر فوراً

اسکے بازو سے پکڑ کر روکا۔۔۔۔بھائی پلیز آپ ایسا کچھ

نہیں کریں گے۔۔۔وہ التجائیہ انداز میں کہنے لگی۔فارس

نے ناراض نگاہوں سے اسکی طرف دیکھا۔۔۔۔

اور تم کسی کی ایموشنل بلیک میلنگ کی وجہ سے ناچاہتے ہوئے اتنا بڑا فیصلہ کرو گی۔۔۔؟؟

وہ پیشانی پر شکنیں لئیے سنجیدگی اور خفگی سے کہہ رہا تھا۔

بھائی پلیز۔۔۔آرام سے میری بات سن لیں۔میں نے صرف مسز سکندر کے آنسوؤں سے پگھل کر یہ فیصلہ نہیں کیا۔اس میں میرا اپنا فائدہ بھی ہے۔۔اور آپ۔۔وہ ایک پل کو رکی۔۔فارس دوبارہ بیٹھ گیا۔۔۔۔

آپ نے اپنی حالت دیکھی ہے۔میری وجہ سے پریشانی ڈپریشن نے آپکے چہرے کی تازگی چھین لی ہے۔۔۔آپ

بظاہر خود کو پرسکون دکھانے کی کوشش کرتے ہیں

مگر آپ کی اندرونی کیفیت مجھ سے چھپی ہوئی نہیں۔میری وجہ سے ٹینشن لے لے کر آپ۔۔۔۔”

فارس نے اسکی بات کاٹ کر کہا۔۔۔

اوہ۔۔۔تو تم اس لئیے خود کی قربانی دے رہی ہو تاکہ تمہارے بھائی کو تمہاری وجہ سے ٹینشن نا لینا پڑے۔

اس نے افسوس بھری نظروں سے اسکی طرف دیکھا

وہ خاموشی سے سر جھکائے لب کاٹنے لگی۔۔

لیکن بھائی اتنے خود غرض نہیں ہوتے کہ خود کو بے سکونی اور ٹینشن سے بچانے کیلئے بہنوں کو جانتے

بوجھتے آگ میں جھونک دیں۔۔۔ کانٹوں پر دھکیل دیں اور خود پھولوں کے بستر پر سکون کی نیند سوئیں۔تم نے ایسا سوچا بھی کیسے کہ تمہارا بھائی اتنا بے حس

و خود غرض ہوگا کہ اپنے سکون کیلئے تمہیں قربان

ہونے دے گا۔ماضی میں جو کچھ تمہارے ساتھ ہوا وہ میری لاعلمی کی وجہ سے ہوا۔۔۔۔مگر حال اور مستقبل میں’ میں طوفان تو کیا کسی سرد ہوا کے جھونکے کو بھی تمہاری طرف نہیں آنے دوں گا۔۔۔

وہ دکھی لہجے اور نم آنکھوں سے کہہ رہا تھا۔۔

مجھے فخر ہے آپ پر اور آپکی محبت پر بھائی۔۔۔لیکن

ایک سوال کا جواب پوچھنا چاہتی ہوں۔۔۔۔اگر میں اس

شخص سے ڈیورس لے لیتی ہوں تو پھر میرا فیوچر کیا

ہوگا۔۔؟؟

اس نے سوالیہ نگاہوں سے فارس کی طرف دیکھا۔۔۔

تم سکون سے اپنی سٹڈی کمپلیٹ کروگی۔۔۔

پھر اسکے بعد ۔۔۔۔۔؟؟

کوئی اچھا سا رشتہ دیکھ کر تمہاری شادی کر دوں گا۔۔

شادی۔۔۔یعنی آخر میں کرنی شادی ہی پڑے گی۔۔۔اسکی آنکھوں میں ایک کرب سا آ ٹھہرا تھا۔۔۔

ظاہر ہے گڑیا۔۔لڑکیاں ساری زندگی ماں باپ یا بھائی کے پاس تو نہیں رہ سکتیں۔انہیں ایک نا ایک دن اپنے گھر تو لازمی جانا پڑتا ہے۔۔۔۔فارس نے سمجھاتے ہوئے کہا

ٹھیک ہے مان لیا۔۔۔۔۔ آپ ساری زندگی مجھے اپنے پاس نہیں رکھ سکتے اس لئیے کسی نا کسی سے میری شادی کروا دیں گے لیکن جس شخص کو آپ منتخب کریں گے

میرے لئیے۔۔۔۔ تو کیا اسے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ میں آلریڈی دو عدد نکاح کر چکی اور ایک ہوتے ہوتے رہ گیا اوپر سے طلاق یافتہ بھی ہوں۔۔۔۔

یہ سب اسے بتانا ضروری نہیں۔۔۔۔فارس نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔

ٹھیک ہے فرض کریں ہم یہ سب نا بھی بتائیں تو کیا یہ بات ساری زندگی چھپائی جا سکے گی۔۔۔۔؟؟

فارس خاموشی سے اسے دیکھتا رہا..

ناممکن ہے۔۔۔۔۔ایسی باتیں کبھی نہیں چھپ سکتیں۔۔۔

اگر ہم اس شخص کو یہ سوچ کر بھی سب بتا دیں کہ کسی کو دھوکے میں رکھنا گناہ ہے تو کیا وہ چندلفظوں سے مطمئن ہو پائے گا۔۔۔۔۔؟؟

سوالیہ نگاہوں سے فارس کی طرف دیکھا اور پھر خود

ہی نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی۔۔۔ہرگز نہیں۔۔۔۔وہ چند لفظوں سے مطمئن نہیں ہوگا۔لازماً تفصیلات جاننا چاہے

گا۔ سب سے پہلے اسکے دماغ میں شکوک وشبہات جنم لیں گے۔ ضروری نہیں کہ سب جاننے کے بعد وہ میرے بارے میں پوزیٹو ہی سوچے۔ میرے کردار کو لے کر وہ مشکوک ہو سکتا ہے۔۔۔اور اگر کوئی ایسا رشتہ مل بھی جائے جو سب کچھ جاننے کے بعد مجھے قبول کر بھی

لے تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ وہ مجھے پہلی دو شادیوں کا کبھی طعنہ نہیں دے گا۔۔۔۔؟؟؟

اسکے سوال نے فارس کو بالکل لاجواب کر دیا تھا۔یہ گارنٹی وہ کیسے دے سکتا تھا بھلا۔۔۔

حیات کی آنکھوں میں نمی چمکی وہ بھرائی ہوئی آواز میں کہنے لگی۔۔

اعلیٰ ظرف مرد بہت کم ہوتے ہیں۔ضروری نہیں میری قسمت میں کوئی اعلیٰ ظرف انسان ہی آئے۔۔ جو میری زندگی کے ان تمام تاریک پہلوؤں سمیت فراغ دلی سے مجھے ایکسیپٹ کرے۔۔۔

وہ رکی۔۔ڈبڈبائی آنکھوں سے ساکت بیٹھے فارس کی طرف دیکھا۔۔۔۔

بدنصیبی کی تندو تیز ہواؤں نے مجھے بہت تھکا دیا ہے

بھائی۔۔ میں کسی نئے انسان کے حوالے سے رسک نہیں لینا چاہتی۔مزید کسی نئے تجربے سے گزرنے کا حوصلہ نہیں ہے مجھ میں۔۔اپنے لئیے پہلے بیوہ اور پھر طلاق یافتہ کا لفظ سننے کی بھی ہمت نہیں۔۔۔اس شخص کے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ میں نے دل سے نہیں دماغ سے کیا ہے۔۔۔۔۔۔کیونکہ شریف و باکردار لڑکیاں بار بار شوہر تبدیل نہیں کرتیں۔اس شخص کے ساتھ رہتے ہوئے کم از کم مجھے یہ خوف تو لاحق نہیں ہوگا کہ میرے ماضی کے کسی حوالے کا وہ مجھے طعنہ دے گا۔کیونکہ میرے سب برے حالات کا ذمہ دار وہ خود ہے۔میرے ماضی کا عینی شاہد۔۔۔۔ اس کے ساتھ اگر میں خوش نہیں تو اپنی قسمت کا لکھا سمجھ کر مطمئن ضرور رہوں گی مگر وہ ہمیشہ شرمندہ رہے گا مجھ سے۔۔۔۔کبھی سر اٹھا کر میرے سامنے کھڑا نہیں ہو پائے گا۔۔۔آنسو مومی موتیوں کی طرح اسکی بھی آنکھوں س ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگے۔۔۔۔۔کرب ناک وقت ذہن کی سکرین پر پھر تازہ ہو گیا تھا۔۔

فارس نے اس کی تمام باتیں خاموشی سے سنی تھیں

اس دوران اس کا چہرہ سپاٹ اور لب خاموش رہے تھے

حیات نے آنکھیں رگڑ کر اسکی طرف دیکھا۔وہ چپ

چاپ کسی گہری سوچ میں گم تھا۔۔۔

بھائی۔۔۔۔۔۔؟؟اس نے خدشات میں گھر کر پکارا

ہوں۔۔۔۔وہ چونک کر متوجہ ہوا۔۔۔۔

آپ خاموش کیوں ہیں۔؟؟ اسکی خاموشی اسے پریشان

کرنے لگی تھی۔۔۔

کچھ نہیں۔فارس کی آنکھیں بے اختیار بھر آئیں۔۔اس نے بے اختیار آگے ہو کر اسکے سر پر بوسہ دیا۔۔۔

اچھا کیا جو تم نے دل سے نہیں دماغ سے سوچا۔دل تو ہوتا ہی احمق ہے۔ان سب باتوں کی طرف تو میرا دھیان ہی نہیں گیا تھا۔میری بہن تو مجھ سے زیادہ سمجھدار ہے۔۔۔۔وہ نم آنکھوں سے کہہ رہا تھا۔۔۔۔آواز بھی دکھ سے بھیگی ہوئی تھی۔۔۔۔

وہ کسی سوچ میں گم یک ٹک اسے دیکھے گئی۔۔۔

کیا سوچ رہی ہو حیا۔۔۔؟؟ وہ اسکے اندرونی احساسات

سے بے خبر پریشانی سے استفسار کر رہا تھا۔۔

“۔۔اس نے اپنے فخر و مان کو بلند کرنے والے بھائی کی طرف دیکھا۔اسکی جنگ لڑنے میں وہ خود کو فراموش کر بیٹھا تھا۔بظاہر مضبوط اور ہمت حوصلہ دکھانے والا اس وقت بہت تھکا تھکا اور نڈھال لگ رہا تھا۔شائد بہن کی دوری کا خیال اسے مضطرب کیے جا رہا تھا۔۔۔۔

کچھ نہیں بھائی۔اس نے زبردستی مسکرانے کی کوشش

کی۔۔۔تم اپنے فیصلے سے مطمئن تو ہو نا۔۔۔۔؟؟فارس نے

اسکے چہرے پر اطمینان کی کوئی رمق کھوجنا چاہی۔۔۔

جی بھائی میں اپنے فیصلے سے مطمئن ہوں خوش ہوں

اس نے مسکرا کر بھائی کو تسلی دی۔۔۔

آپ مجھ سے ناراض تو نہیں نا۔۔۔۔؟؟

اتنی پیاری اور سمجھدار بہن سے میں ناراض نہیں ہو سکتا۔۔۔وہ مسکرایا۔۔۔

تھینکس بھائی۔ممنونیت کے احساس سے اسکی آنکھیں

جل تھل ہو گئی تھیں۔۔۔۔بھیگی آنکھوں سمیت آسودگی

اور طمانیت سے مسکرائی تھی۔اوکے میں ان لوگوں سے

بات کر لوں وہ ڈرائنگ روم میں بیٹھے میرا انتظار کر رہے ہیں۔فارس اس کا سر تھپکتے کمرے سے باہر چلا گیا۔۔۔۔۔”

وہ گہری سانس لے کر سوچنے لگی۔۔۔

اس فیصلے کی سب سے بڑی وجہ اس کا اپنا بھائی تھا اور یہ بات وہ انہیں بتا نہیں سکتی تھی۔۔فائزہ سکندر

کے آنسو اور منت تو بہانہ بنے تھے۔۔۔۔ورنہ یہ فیصلہ تو وہ انکی آمد سے قبل کر چکی تھی۔۔

اپنی وجہ سے فارس کا جارحانہ مرنے مارنے والا انداز

دیکھ کر وہ دل ہی دل میں بری طرح ڈر گئی تھی ایک خوف سا لاحق ہو گیا تھا اسے کہ کہیں ماحر خان اس کے انکار سے مشتعل ہو کر اسکے بھائی کو کوئی نقصان نا پہنچا دے خود سے جڑے اس آخری خونی رشتے کو وہ کھونے کی بالکل متحمل نہیں ہو سکتی تھی۔۔ماحر خان کی پاور سے ڈر کر وہ ہاں کر بیٹھی تھی۔۔۔۔۔ لیکن اصل میں یہ اسکے اپنے ذہن کا بے بنیاد خوف تھا۔۔۔۔ وہ شخص ساری زندگی اسکے راضی ہونے کا انتظار تو کر سکتا تھا مگر اب اسے ذرا سی بھی تکلیف پہنچانے کا

نہیں سوچ سکتا تھا۔۔ اب وہ عشق کے اس مقام پر تھا جہاں محبوب کی رضامندی عاشق کے لئے اپنے یکطرفہ عشق سے بڑھ کر ہوتی ہے۔۔

سوچوں کا سلسلہ بڑھنے لگا۔۔۔۔۔ وہ پریشان ہونے لگی

ماحر خان کے ساتھ رہنے کا فیصلہ تو کر بیٹھی تھی مگر دل میں اس کیلئے ذرا برابر بھی عزت نا تھی۔اس

کی نظر میں وہ ایک برا انسان تھا۔جو شراب پیتا تھا۔۔ناچ گانا کرتا تھا۔ناجانے کتنی ہی عورتوں کے ساتھ اس

کے مراسم رہ چکے تھے۔۔پھر جو پروفیشن تھا اسکا۔اس میں شہرت و دولت اور عزت تو سمیٹ رہا تھا۔۔ مگر حیات عبدالرحمان کی نظر میں یہ کوئی حلال ذرائع آمدنی نہیں تھا۔۔یہ بات اسے ٹینشن مبتلا کر رہی تھی آخر کار یہ سوچتے ہوئے اس خیال کو اپنے ذہن سے جھٹکنے کی کوشش کی کہ وہ کیوں ٹینشن لے رہی

ہے بھلا۔۔۔۔ اپنے اعمال کا جواب دہ تو وہ خود ہوگا۔۔۔

پھر فارس کی رضامندی ملتے ہی سکندر علی خان اور مسز سکندر ہتھیلی پر سرسوں جمانے لگے۔۔۔۔ وہ اسی وقت حیات کی رخصتی کیلئے اصرار کر رہے تھے۔فارس مان تو گیا تھا تاہم زیادہ مطمئن نہیں ہیں تھا۔۔۔۔آخر کار بہت سوچ سمجھ کر اس نے حیات کی سیفٹی کیلئے ماحر خان کے سامنے ایک شرط رکھی۔۔۔

اسکے تمام ذاتی اثاثے۔۔ تمام پراپرٹی حیات عبدالرحمان کے نام لکھ کر دینے کی شرط۔۔۔

وہ اپنی بہن کی سیکیورٹی چاہتا تھا۔تاکہ کل کلاں کو وہ اسے چھوڑنے کا نا سوچ سکے۔۔۔۔۔

۔حیات کی طرح اسے بھی خدشات لاحق تھے کہ شوبز والوں کی شادیاں زیادہ دیر چلتی نہیں وہ رسک نہیں لینا چاہتا تھا۔۔۔اسی لئیے اس نے یہ شرط رکھی۔۔

یہ ڈیمانڈ اس نے صرف اور صرف اپنی بہن کے تحفظ کی خاطر کی تھی۔۔۔کسی لالچ کے تحت نہیں۔۔۔۔ اگرچہ

انکی طرح ارب پتی نہیں تھا۔۔مگر دولت کی کمی اسے نہیں تھی۔۔۔۔اپنا بزنس کرتا تھا۔۔ اپنی پراپرٹی کا ایک معقول حصہ وہ اپنی بہن کے نام کر چکا تھا۔۔

فارس عبدالرحمٰن نے عقلمندی کا کام کیا تھا۔۔اگر ماحر خان کبھی حیات کو ڈیورس دیتا تو اسکی تمام دولت جو اربوں مالیت کی تھی حیات کی تحویل میں چلی جاتی۔لیکن وہ اس دولت کو اپنے مصرف میں بھی نا لاتی بلکہ خیراتی اداروں کو دے دیتی لیکن ماحر خان کنگال ہو جاتا۔۔۔۔

فارس کی شرط سن کر وہ بلا چوں چراں کیے فوراً ہی راضی ہو گیا تھا۔ حیات عبدالرحمان کیلئے وہ اپنا سب کچھ لٹانے کو تیار تھا۔وکیل نے کاغذات تیار کیے تو اس نے خوشی خوشی سائن کر دیے اپنی تمام دولت کا بلا شرکت غیرے اسے مالک بنا دیا۔۔اگرچہ سکندر علی خان فارس کی اس شرط سے کچھ خائف ضرور تھے۔۔ تاہم بیٹے کی خوشی کی خاطر خاموش ہو گئے تھے۔۔۔۔خود حیات کو بھی اگرچہ فارس کا یہ اقدام پسند نہیں آیا تھا لیکن وہ بھائی کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی اس لئیے خاموش رہی۔۔۔ تمام معاملات طے ہوئے تو اسکی رخصتی کا وقت آن پہنچا۔فارس کے گلے لگ کر وہ اتنا روئی کہ ساتھ کھڑے افراد کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔۔۔۔”

ماحر خان تو اسے پا کر گویا ہواؤں میں اڑ رہا تھا۔اتنے

اتنےدنوں سے جس پریشانی اور اداسی نے اسکے چہرے کا احاطہ کر رکھا تھا۔۔ایک دم سے غائب ہو گئی تھی۔۔۔ چہرہ کھل اٹھا تھا۔۔۔رونق لوٹ آئی تھی۔ چمک بحال ہو گئی تھی۔اسکے چہرے کی وجاہت و شادابی میں مزید سرخیوں کا اضافہ ہو گیا تھا۔۔۔۔بلیو پینٹ پر ریڈ شرٹ پہنے۔۔ خوبصورت ہیئر اسٹائل بنائے۔۔ اپنے دلکش نقوش کے ساتھ وہ بے حد ہینڈسم پرکشش و چارمنگ لگ رہا تھا۔ہنستا مسکراتا ہر ٹینشن سے بالکل آزاد دکھ رہا تھا۔اس کا شمار ان دلکش مردوں میں ہوتا تھا جن کے آگے حسین اور خوبصورت کے لفظ بھی کم پڑ جاتے تھے۔فلم انڈسٹری میں اگر وہ اتنا کامیاب تھا۔۔۔۔ تو اس کی سب سے پہلی اور بڑی وجہ اسکی یہ سحر انگیز شخصیت اور بے مثال وجاہت تھی۔۔۔۔۔۔

اسکے دونوں چھوٹے بھائی اگر اس جتنے کامیاب اداکار نہیں تھے تو وجہ یہی تھی کہ وہ اسکی طرح متاثر کن شخصیت کے مالک نہیں تھے نا اس جتنی بہترین ایکٹنگ کر سکتے تھے۔۔ فلم انڈسٹری میں کامیاب ہونے کیلئے اچھی ایکٹنگ کے ساتھ اچھی شکل و صورت اور پرسنالٹی کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔۔ورنہ خالی خولی ایکٹنگ کے بل بوتے پر کامیاب ہونے والے اداکار بہت کم ہوتے ہیں۔ جبکہ وہ ایکٹنگ اور وجاہت دونوں میں نمبر ون چلا آ رہا تھا۔انڈسٹری کے تمام ہیروز کے مقابلے میں اسکی فین فالونگ بوائز اور گرلز دونوں میں سب سے زیادہ تھی۔چونکہ لاکھوں گرلز کے دلوں کی دھڑکن تھا۔ایسے میں اب اسکی شادی کی خبر کا منظر عام پر آنا یقیناً بہت بڑا دھماکہ ہوتا۔۔۔۔۔بہت سے دل ٹوٹتے۔۔۔۔

مگر وہ فلحال اس خبر کو میڈیا اور پبلک سے مخفی رکھنے کا ارادہ رکھتا۔۔ جب تک شادی کی باقاعدہ ایک بڑے پیمانے پر تقریب کا اہتمام نا ہو جاتا۔۔۔ اگر یہ خبر وقت سے پہلے لیک ہو جاتی تو میڈیا نے دھاوا بول دینا تھا۔ اسکے گھر کے باہر ڈیرہ ڈال کر بیٹھ جانا تھا۔سکندر علی خان اس سے اسی بارے میں ڈسکشن کر رہے تھے وہ بہت سرشار سا ڈرائیونگ کرتا انکی باتوں پر اظہار خیال کر رہا تھا۔گاہے بگاہے مرر سے بیک سیٹ پر فائزہ سکندر کے بازو کے گھیرے میں بیٹھی حیات پر بھی نظر ڈال رہا تھا۔۔

۔وائٹ ستاروں سے مزین ڈوپٹے کے ہالے میں اس کا پر نور چہرہ چاند کی مانند دمک رہا تھا۔۔رخصتی کے وقت جب وہ تیار ہو کر اپنی بھابی کے ہمراہ باہر آئی تو وہ اسے دیکھتا رہ گیا تھا۔۔۔ سفید کلر کے پاؤں کو چھوتے ستاروں سے جھلملاتے ہوئے فراک میں وہ کوئی کوہ کاف سے اتری پری لگ رہی تھی۔۔۔ ہلکا سا نفیس وائٹ کلر کا جیولری سیٹ بھی پہنا ہوا تھا۔۔ وائٹ نگوں والا نیکلس اور وائٹ ٹاپس نظر آ رہے تھے۔جیولری کی دمک اسکی آنکھوں سے مشابہ تھی۔۔۔۔ ڈوپٹے کو سلیقے سے سر پر لئیے وہ نگاہیں جھکائے خاموش بیٹھی تھی۔۔۔۔چہرے پر کوئی تاثر کوئی جذبہ نا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ شہد رنگ ریشمی بالوں کی لٹیں بھی ڈوپٹے سے جھانک رہی تھیں۔ماحر خان کی نگاہیں بار بار شیشے کی طرف اٹھ رہی تھیں لیکن اس نے ایک بار بھی اسکی طرف نہیں دیکھا تھا۔ناجانے کیوں وہ غیر ارادی طور پر منتظر تھا اسکی ایک نگاہ کیلئے۔گو کہ اچھی طرح اندازہ تھا اسے کہ وہ دل سے اس کیلئے راضی نہیں ہوئی تھی۔۔۔ یقیناً اسکی مام کی منتوں سماجتوں نے ہی اس کا دل موم کیا تھا۔۔وہ بھی اپنی ماں کی طرح اس کا احسان مند تھا۔۔بیٹے کی طرح ماں بھی مسرور سی لگ رہی تھیں حیات انہیں بہت پسند آئی تھی۔۔۔ مستقبل میں یقیناً وہ انکی لاڈلی اور فیورٹ بہو ثابت ہونے والی تھی۔۔پہلی دونوں بہویں اپنی بولڈنیس کی وجہ سے انہیں کچھ خاص پسند نہیں تھیں تاہم ان کیلئے وہ روایتی ساس والا عناد بغض بھی انکے اندر نہیں تھا۔۔۔ وہ ان ساسوں میں سے نہیں تھیں جنہیں بہو پسند نا ہو تو وہ ان سے لڑتی جھگڑتی ہیں انکا جینا اجیرن کر دیتی ہیں وہ بہت مختلف مزاج کی حامل خاتون تھیں۔بہویں اگر انہیں پسند نہیں آ سکی تھیں تو کیا ہوا۔ بیٹوں کو تو پسند تھیں۔۔ پھر وہ کیوں اعتراض کرتیں بھلا۔یہی بات سوچ کر وہ مطمئن رہتیں کبھی ان دونوں کو کسی بھی بات یا کام پر روکا ٹوکا نہیں تھا۔ دونوں کے ساتھ نارملی بی ہیو کرتیں۔بس زیادہ گھلتی ملتی نہیں تھیں انکے ساتھ۔۔مگر یہ بہو انہیں دل و جان سے پسند آئی تھی۔۔

کار وائٹ گیٹ سے اندر داخل ہوئی۔۔۔سر سبز بے تحاشا وسیع وعریض لان کے وسط میں سفید رنگ کا بلند و بالا محل بڑی شان و طمطراق سے کھڑا تھا۔۔۔۔۔ اسکی نگاہیں خیرہ ہونے لگی تھیں۔۔۔ وہ محل تھا۔۔۔ بہت بڑا

بہت خوبصورت۔۔سفید پھولوں سے ڈھکا ہوا۔۔۔

پورٹیکو میں کھڑی گاڑیوں کی لمبی لائن مکینوں کی دولت و امارات کا منہ بولتا ثبوت تھی۔ڈرائیور نے گاڑی روکی تو سکندر علی خان نے گاڑی سے اتر کر خود بہو کی سائیڈ والا دروازہ کھولا۔۔۔

فائزہ سکندر اس کا ہاتھ پکڑ کر کار سے باہر نکل آئیں۔پورٹیکو عبور کر کے وہ جیسے ہی سنگ مر مر سے بنی روش پر پہنچے تو قطار میں کھڑے ملازمین نے اس پر پھول نچھاور کیے۔۔

سب کے چہروں پر تجسس اور اشتیاق تھا۔یہ بات ابھی

صرف گھر کے ملازمین کو ہی معلوم ہوئی تھی۔ انہیں سختی سے منع کیا گیا تھا کہ فلحال اس بات کی بھنک

میڈیا کو نہیں پڑنی چاہیے۔۔وہ خود ہی کچھ دنوں میں

اناؤنس کریں گے۔۔اسکے دائیں طرف فائزہ سکندر تھیں

جنہوں نے اس کا ہاتھ بڑی نرمی اور محبت سے تھام رکھا تھا۔۔۔بائیں طرف سکندر علی خان تھے۔۔۔جبکہ وہ شخص پیچھے پیچھے چل رہا تھا جسکے حوالے سے اسے یہاں لایا گیا تھا۔۔۔۔

ویلکم بھابھی۔۔۔۔ ایک خوبرو سا نوجوان سیڑھیاں اتر

کر اسکے رو برو آیا اور بڑے خلوص سے اس کے سامنے سر خم کیا۔۔

یہ عبیر ہے میرا تیسرے نمبر والا بیٹا۔۔۔فائزہ سکندر نے تعارف کروایا۔۔۔۔

اس نے سرسری نظر ڈالتے ہوئے سر ہلا دیا۔۔

فائزہ سکندر اسے ساتھ لئیے سیڑھیاں چڑھتے مختلف کمروں اور راہداریوں سے گزر کر ایک روم میں لائیں تو وہ گھبرا اٹھی کہیں وہ اسے ماحر کے روم میں تو نہیں لے آئیں۔مگر اس وقت وہ مطمئن ہو گئی جب انہوں نے

ایک ماں کی طرح اسکا ماتھا چومتے ہوئے شفقت بھرے

لہجے میں کہا۔بیٹا تم یقیناً ابھی اپ سیٹ ہو اسی لئیے میں نے تمہارے لئیے الگ کمرہ سیٹ کروایا ہے۔ مطمئن

ہو کر تم یہاں رہو۔۔فلحال آرام کرو میں ملازمہ کے ہاتھ

کچھ کھانے کو بجھواتی ہوں۔یہ انٹرکام لگا ہوا ہے کسی

بھی چیز کی ضرورت ہو اسی پر بتا دینا ٹھیک ہے۔۔اور

پریشان ہونے کی بالکل ضرورت نہیں یہاں اس کمرے میں میرے علاؤہ کوئی نہیں آئے گا۔۔۔

اسکا گھبرانا وہ نوٹ کر چکی تھیں تبھی نرمی سے اس

کا گال تھپتھپاتے تسلی دی۔۔۔

حیات نے انکی طرف دیکھا۔۔۔

انکے چہرے پر بڑی نرمی و گداز پن تھا۔چاند کی روشن کرنوں کی مانند شفقت محبت اور حلاوت تھی اس کے

لئیے۔بے اختیار اس کا دل انکی طرف کھنچا تھا۔وہ اسے

پیار کر کے چلی گئیں تو وہ کمرے کا جائزہ لینے لگی۔۔۔۔۔

اسکے گھر کے اپنے کمرے سے یہ کافی بڑا کمرہ تھا۔اعلیٰ

فرنیچر۔۔۔۔بہترین پردے۔۔امپورٹڈ وال ٹو وال کارپٹ سے ڈیکوریٹڈ کمرہ۔۔پنک اور گولڈن شیڈز کا خوبصورت بیڈ کور بے شکن تھا۔۔۔۔۔۔۔۔روم میچنگ کی وجہ سے بہت ہی خوبصورت لگ رہا تھا۔۔۔

کچھ دیر وہ طائرانہ نگاہوں سے جائزہ لیتی رہی۔۔۔۔پھر سینڈل اتار کر ریک میں رکھے۔۔۔۔ دروازہ لاک کیا۔۔ بالوں سے کیچر نکال کر سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر وہ دراز ہو گئی گو کہ اچھے جذبات لے کر وہ یہاں نہیں آئی تھی صرف کمپرومائز کرنے آئی تھی۔۔مگر فائزہ سکندر کا رویہ اسے

تھوڑا بہت متاثر کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔۔پھر رات

تک گھر کے تمام افراد سے وہ متعارف ہو چکی تھی۔

جن میں ماحر کے بھائیوں کے علاؤہ انکی بیویاں شامل

تھیں۔۔۔۔ اکلوتی نند فاریہ سے اسکی ویڈیو کال پر بات ہوئی تھی۔وہ بہت خوش لگ رہی تھی نئی بھابھی کو دیکھ کر۔۔۔۔۔ جبکہ حیات نے اس سے خاصے خشک انداز میں بات کی تھی۔۔۔۔۔

زین کی بیوی ماریہ اسے عبیر کی بیوی لیزا کی نسبت معقول حلیے اور معقول اخلاق والی لگی۔ جبکہ لیزا عبیر کی تو ڈریسنگ دیکھ کر وہ حیرت زدہ رہ گئی تھی۔ٹخنوں سے کافی اونچی تنگ سی ٹائٹس۔ چھوٹی سے فٹنگ والی شرٹ جس میں سے ذرا سا ادھر ادھر ہونے پر پیٹ صاف نظر آتا۔ناجانے کیسے رہتی تھی وہ اسطرح کے کپڑے پہن کر گھر کے مردوں کے سامنے۔اور گھر کے مرد بھی کیسے بے غیرت ہیں کچھ کہتے کیوں نہیں ہونگے اسے۔۔

وہ سوچ رہی تھی۔۔۔پھر خیال آنے پر طنزیہ مسکراہٹ لبوں پر آئی۔۔۔اوہو میں بھی کیا سوچ رہی۔۔لبرل مائنڈڈ فلمی فیملی ہے یہ بھلا کیوں اعتراض کریں گے گھر کی عورتوں کی ایسی ڈریسنگ پر۔پھر اسے یاد آیا لیزا عبیر تو ماڈل ایکٹریس تھی غالباً۔۔

ایک بار انکی فیملی کے بارے میں وہ اخبار میں پڑھ رہی تھی تو وہاں عبیر سکندر خان کی بیوی کے حوالے سے لکھا ہوا تھا کہ وہ فلموں میں کام کرتی ہے۔۔۔ یہاں آئے اسے پانچ دن گزر گئے۔۔وہ ابھی تک اسی ایک کمرے تک محدود تھی۔کھانا وغیرہ بھی کمرے میں ہی کھاتی تھی۔۔۔ڈائننگ ٹیبل پر جانا تو دور وہ کمرے سے نکلنے پر ہی راضی نہیں تھی فائزہ سکندر نے بہت بار پیار سے نرمی سے سمجھایا اصرار کیا مگر وہ نہیں مانی تو وہ چپ ہو گئیں۔۔ وہ اب اسکی خوشی چاہتی تھیں کسی بھی بات کیلئے مجبور نہیں کرنا چاہتی تھیں۔۔شائد وہ ماحر کی وجہ سے وہ روم سے باہر آنے سے کتراتی تھی انہیں یہی وجہ ہی لگی۔۔ مگر ایسا کب تک چلتا کہ وہ یونہی ایک کمرے میں بند رہتی۔۔۔۔انہوں نے اپنے شوہر سے ڈسکس کیا تو ان دونوں کا مشترکہ فیصلہ یہ طے پایا کہ انکی شادی اناؤنس کر کے ایک تقریب منعقد کی جائے اور اسکے بعد اسے باقاعدہ طور پر ماحر کے کمرے میں شفٹ کیا جائے تاکہ وہ خود کو مہمان یا الگ تھلگ سمجھنے کے بجائے گھر کا فرد سمجھے۔۔۔۔اگرچہ سکندر علی خان بھی کئی بار اسکے پاس جا کر پیار سے نرمی سے کہہ چکے تھے کہ وہ خود کو خان کی فرد سمجھے یوں اکیلی روم میں بند نا رہے۔۔۔ باہر نکلے ان کے ساتھ

بیٹھ کر کھانا کھائے۔۔گھلے ملے۔۔۔۔وہ اس گھر کی سب سے بڑی بہو ہے مگر ان سب باتوں کو اس نے صرف خاموشی سے سنا تھا۔۔۔ عمل کیا نہیں تھا۔۔۔۔فارس اور فضا بھی تین بار آ کر اسے مل گئے تھے۔خان فیملی کی طرف سے بڑا پروٹوکول بڑی عزت دی گئی تھی انہیں۔سکندر علی خان اور انکی مسز نے فارس فضا کو بلا

کر ان سے باقاعدہ مشورہ کر کے ولیمہ کی تقریب منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔۔۔۔