171.9K
78

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Hayat (Episode 50)

Meri Hayat By Zarish Hussain

خبر ایسی تھی کہ وہ کانپ اٹھا تھا۔۔۔۔زندگی میں پہلی بار اسکے ہوش اڑے تھے۔دماغ سائیں سائیں کرنے لگا تھا۔میں آ رہا ہوں۔۔بکھرے حواسوں کے ساتھ وہ بمشکل کہہ سکا۔۔۔۔فون بند کرتے ہی اس نے پلٹ کر حیات کی طرف دیکھا جو لاتعلقی سے گلاس وال سے باہر دیکھ رہی تھی۔۔۔”

ماحر نے فوراً اس کا ہاتھ تھاما اور اسے کھینچتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھا۔۔۔وہ حیران پریشان اسے دیکھنے لگی۔مگر کچھ بولی نہیں۔۔اب کیا فرق پڑتا تھا وہ کہیں

بھی لے جائے۔۔۔جگہ تو ہر ایک اسی کی ہی تھی۔۔۔۔

ہٹ کا دروازہ یونہی کھلا چھوڑے وہ اسے لئیے تیز تیز قدموں سے چلتا گاڑی کی طرف آیا۔۔اسے بٹھانے کے بعد

تیزی سے گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ پر آیا پھر کچھ دیر بعد گاڑی ہواؤں سے باتوں کر رہی تھی۔۔۔

رات کے وقت اتنی تیز ڈرائیونگ۔۔وہ متفکر ہو رہی تھی اسےٹوکنا چاہتی تھی،منع کرنا چاہتی تھی کہ گاڑی کی سپیڈ کم کرے مگر اسکے چہرے کی خطرناک حد تک سنجیدگی دیکھ کر خاموشی اختیار کر لیتی اور دل ہی دل میں قرآنی آیت کا ورد کرنے لگتی۔

اسے سوچ سوچ کر الجھن ہو رہی تھی کہ فون پر آخر ایسی کونسی اطلاع دی گئی ہے جس سے یہ شخص اتنا زیادہ پریشان ہو گیا ہے۔اس کا دل کر رہا تھا وہ اس

سے پوچھ لے مگر پھر یہ سوچ کر اپنی زبان کو روک لیتی وہ کیوں اس کی پریشانیوں مسئلوں میں انٹرسٹ لے۔اسکے ساتھ کیا کم برا کیا اس نے جو وہ فکر کرے۔بھاڑ میں جائے میری طرف سے۔۔۔منہ ہی منہ میں بڑبڑاتے ہوئے اس نے مکمل لاتعلق انداز اختیار کر لیا کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی تاکہ اسے پتہ چلے کہ اس کے مسئلوں سے اسے کوئی سرو کار نہیں۔طوفانی رفتار سے ڈرائیور کرتے ہوئے اس نے ایک گھنٹے کا فاصلہ پچیس منٹ میں طے کیا۔گاڑی جیسے ہی فارم ہاؤس کے قریب پہنچی تو لاتعلق دکھنے

کا پوز کرتی حیات کا دل ایک لمحے کو سکڑ کر پھیلا۔اتنی افراتفری میں فارم ہاؤس آنا۔ یعنی جو بھی مسئلہ تھا اسی فارم ہاؤس سے ریلیٹڈ تھا۔۔۔۔یہاں تو مون بھی ہے۔اس خیال کے آتے ہی دل کی دھڑکن تیز سے تیز تر ہو گئی۔۔۔۔کسی انہونی کے خوف سے اس کے پورے وجود میں سرد سی لہر دوڑ گئی۔۔۔گاڑی فارم ہاؤس کے کھلے دروازے سے گولی کی رفتار سے اندر آئی۔۔۔۔اس نے اتنے زور سے بریک لگائی تھی کہ حیات کا سر کھڑکی سے جا ٹکرایا تھا۔۔۔وہ بنا اسکی طرف دیکھے یا کچھ بولے آندھی طوفان کی طرح گاڑی سے نکل کر اندر کی طرف بھاگا۔

وہ بھونچکا رہ گئی۔۔سر میں اٹھتی درد کی ٹیسوں سے

بے پروا وہ بھی اسکے پیچھے بھاگی۔۔

نا زمین پھٹی تھی۔۔۔ نا آسمان گرا تھا۔۔

مون کو ماحر خان کے فارم ہاؤس پر کام کرنے والے دو ملازموں نے زیادتی کے بعد گلہ دبا کر مار دیا تھا۔۔

کچھ ہی پل لمحوں بعد فارم ہاؤس حیات عبدالرحمان کی درد ناک چیخوں سے گونج اٹھا تھا۔۔۔مون کی لاش کو دیکھ کر وہ چیختے چلاتے بے ہوش ہو گئی تھی۔۔۔

پانچ دن وہ مسلسل بے ہوش رہی تھی۔۔ڈاکٹر کے مطابق اس کا صدمے سے نروس بریک ڈاؤن ہوا تھا۔۔۔ماحر اسے

ڈاکٹر مائیکل کلارک کے ہاسپٹل لایا تھا۔۔۔جو کہ اسکی دوست اداکارہ سنتھیا کا ہزبینڈ تھا۔۔۔سنتھیا اور اسکے

شوہر نے اس کا مکمل ساتھ دیا تبھی میڈیا کو اسکے متعلق کوئی سن گن نہیں مل سکی۔

چھٹے دن وہ ہوش میں آئی تھی۔۔۔۔ہوش میں آتے ہی اس نے چیخنا چلانا شروع کر دیا تھا۔۔یہ کیفیت اگلے

ایک ہفتے تک رہی۔ہوش میں آتے ہی چلا چلا کر کمرے

کو سر پر اٹھا لیتی تھی۔مجبوراً ڈاکٹر مائیکل کو اسے

نیند کا انجکشن دے کر سلانا پڑتا تھا۔۔پورے دس دن حلق کے ذریعے خوراک کا ایک ذرہ اسکے معدے میں

نہیں گیا۔ڈاکٹر کو ڈرپس کے ذریعے اسکی یہ ضرورت

پوری کر رہے تھے۔۔

آخر گیارہویں دن وہ مکمل ہوش میں آ گئی۔۔۔چیخی چلائی بھی نہیں بس خالی خالی نظروں سے کمرے

کی چھت کو گھور رہی تھی۔۔

وہ ڈاکٹر مائیکل سے بات کرتے ہوئے گاہے بگاہے اس پر نظر ڈال رہا تھا۔جسکی حالت انتہائی قابل رحم لگ رہی

تھی۔سرخ متورم آنکھیں۔۔ستا ہوا چہرہ۔۔دگرگوں حالت

اسکے دل کو گویا کسی نے مٹھی میں لے کر مسل دیا تھا۔۔

اس کا معائنہ کرنے کے بعد ڈاکٹر مائیکل نے اسے ٹینشن اور سٹریس سے بچانے کی مکمل ہدایت کی تھی۔ڈاکٹر

کے جانے کے بعد وہ مکمل طور پر متوجہ ہوا۔کروٹ بدل

کر وہ اپنی آنکھوں پر بازو رکھ چکی تھی۔تاہم قدموں

کی چاپ سن رہی تھی جو اب بیڈ کے پاس آ کر تھم گئی تھی۔۔

کیا ہم بات کر سکتے ہیں۔۔؟؟ اسکی آواز شدید پریشانی

کا پتہ دے رہی تھی۔۔

حیات کی جانب سے خاموشی رہی۔۔۔

اتنے سارے الزامات کی لسٹ وہ اپنے کندھوں پر اٹھائے وہ اسکے قریب بیٹھ گیا۔۔۔

حیا۔۔؟؟چند لمحے اسکی طرف دیکھتے رہنے کے بعد اس نے بے حد مدھم آواز میں پکارا۔۔۔۔۔مگر اسکے بدن میں کوئی جنبش نا ہوئی۔۔اس نے کندھے پر آہستہ سے ہاتھ

رکھا اور اس کا ہاتھ رکھنا قیامت ہو گیا۔۔وہ تڑپ کر اتنے زور سے چیخی کہ وہ گھبرا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔

مار دیا تم لوگوں نے میرے بھائی کو۔۔۔۔۔۔خوش ہو جاؤ

چھین لیا مجھ سے میرا آخری رشتہ بھی۔۔۔۔مبارک ہو

کتنا کہا تھا میں نے اسے ساتھ لے چلیں۔ساتھ لے چلیں زاروقطار روتے چلاتے بولتے ہوئے اس نے بیڈ سے اترنا

چاہا مگر کمزوری کی وجہ سے لڑکھڑا گئی۔۔۔منہ کے بل گرنے لگی تھی کہ اس نے آگے بڑھ کر اپنے بازوؤں میں سنبھالا۔۔حیا میری بات سنو۔خدا گواہ ہے مون کا مجھے

بھی اتنا دکھ ہے جتنا تمہیں۔۔۔۔۔تم کیوں مجھے اتنا برا سمجھتی ہو کہ ایک معصوم بچے کے ساتھ ہوئے ظلم

پر مجھے دکھ نہیں ہوگا۔بتاؤ کیوں سمجھتی ہو مجھے اتنا برا۔۔۔۔۔۔؟؟ وہ اس کے بازو پکڑے گڑ گڑا رہا تھا مگر حیات اسکی کوئی بات نہیں سننا چاہتی تھی۔۔وہ خود کو اسکی گرفت سے چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی مگر اس نے بہت مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا وہ کسی

طرح خود کو چھڑا نہیں پا رہی تھی۔۔

پھر ناجانے کیا ہوا۔ ایک عجیب سی ہیجانی کیفیت اس پر سوار ہو گئی۔۔۔۔اس نے خود کو چھڑانا بند کر دیا اور اسے مارنے لگی۔۔اسکے چہرے پر تھپڑوں کی بوچھاڑ کر دی۔ایک عجیب سی بے یقینی اور دکھ کی کیفیت اس کے چہرے پر تھی۔

مگر اس نے حیات عبدالرحمان کو نہیں چھوڑا نا روکنے کی کوشش کی بس خاموشی سے مار کھاتا رہا،حیات کا دل چاہ رہا تھا مار مار کر اسکی خوبصورت شکل بگاڑ دے۔وہ چہرہ جسے دیکھ کر اسے خود پر بیتا برا وقت یاد آ جاتا تھا وہ اس چہرے کو مٹا دینا چاہتی تھی۔اسکے ناخنوں سے اسکے چہرے پر جابجا خراشیں پڑ گئی تھیں۔۔۔ہونٹ پھٹ گیا تھا۔۔۔ناک سے ہلکا ہلکا خون

رسنے لگا تھا۔۔گریبان کے سارے بٹن ٹوٹ گئے تھے۔۔پھر

بھی وہ بڑی ثابت قدمی سے اسے پکڑے مار کھاتا رہا۔۔

اس پر حملہ کرتے ہوئے وہ کوئی خونخوار قسم کی جنگلی بلی لگ رہی تھی۔مسلسل مارتے اور روتے وہ اسے بد دعائیں دے رہی تھی۔

اللّٰہ کرے تم مر جاؤ۔۔۔تمہاری بھی پوری فیملی مر جائے کوئی ایک نا بچے۔۔۔۔۔۔تمہاری وجہ سے میں ہر رشتے سے محروم ہو گئی ہوں۔۔۔۔۔تم مر جاؤ۔۔۔اللّٰہ کرے تم مر جاؤ ماحر خان۔۔۔وہ پاگلوں کی طرح چلا چلا کر بد دعائیں دے رہی تھی۔۔۔۔پھر اسے مارتے مارتے اسکے ہاتھ تھک

گئے تو وہ رک گئی اور ہانپنے لگی۔ماحر نے اسکے بازو

چھوڑ دیے تو وہیں فرش پر ڈھے گئی اور چیخیں مار مار کر رونے لگی۔اس نے اسے چپ کروانے کی کوشش نہیں کی۔نجانے کتنی دیر وہ روتی رہی وہ قریب بیٹھا

نم آنکھوں سے اسے تکتا رہا۔۔۔۔اسکی آنکھوں سے بہتے اشک اسے دکھ پہنچا رہے تھے۔۔۔جب آنسو نکلنا ختم ہو گئے تواس نے دونوں ہاتھوں سے سر کو تھام لیا اور وحشت ناک نگاہیں سامنے دیوار پر جما دیں۔۔

اس حال اور پوز میں بیٹھی وہ بالکل کوئی لٹی پٹی لڑکی لگ رہی تھی جس کا سب کچھ چھن گیا ہو۔۔۔

ساری بھڑاس اس پر نکال کر شائد تھک چکی تھی اب۔اس نے سائیڈ ٹیبل پر پڑے جگ سے پانی لیا اور گلاس اسکی طرف بڑھایا۔۔۔۔اس نے کوئی رسپونس نہیں دیا تو ماحر نے گلاس اسکے ہونٹوں سے لگانا چاہا جسے اس نے ہاتھ مار کر پرے کر دیا اور چلائی۔۔

چلے جاؤ یہاں سے میں تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔۔۔جاؤ یہاں سے۔۔۔۔وہ خاموشی سے اٹھا اور باہر

نکل گیا۔۔۔

عجیب قیامت کا ٹائم گزر رہا تھا اس پر۔۔۔۔ہاسپٹل کے ٹھنڈے فرش بنا کسی شال ڈوپٹے کے سودائیوں کی طرح بیٹھی وہ روئے جا رہی تھی۔۔۔۔سب کچھ کھونے

کے بعد صرف ایک ہی رشتہ بچا تھا اور وہ بھی اب

ہاتھ سے چھوٹ چکا تھا۔۔۔۔

سب مر گئے۔۔مام۔۔۔بابا۔۔۔سائرہ ممی۔۔ ارتضیٰ۔۔بوا۔۔۔مون

پھر میں کیوں زندہ ہوں۔۔۔؟؟ مجھے بھی مر جانا چاہیے میں زندہ نہیں رہنا چاہتی۔۔

میم آپکی دوائی کا ٹائم ہو گیا ہے۔۔نرس کی آواز پر اس نے چونک کر دیکھا۔۔۔وہ بیڈ کے پاس اسکے قریب کھڑی تھی۔۔۔ہاتھ میں پکڑی ٹرے جس میں انجکشن سیریپ

اور مختلف کیپسول تھے اس نے میز پر رکھ دی اور اس کے ہاتھ سے پکڑ کر اٹھانا چاہا۔۔۔۔۔

۔۔حیات کی نیلی آنکھوں میں بے پناہ سرخی کے ساتھ خوفناک وحشتیں پھیلی ہوئی تھیں۔۔چہرے پسینے سے

تر تھا۔۔

نہیں چاہیے مجھے دوائی۔۔۔۔نہیں رہنا مجھے زندہ۔۔اس نے دوائیوں کی ٹرے اٹھا کر دیوار میں دے ماری۔۔۔۔۔

میرے سب مر گئے۔۔۔میں جی کر کیا کروں گی۔۔۔۔۔مجھے بھی نہیں رہنا زندہ۔۔وہ مسلسل یہی الفاظ بڑبڑاتے ہوئے

ہوش و حواس سے بالکل بیگانہ لگ رہی تھی۔ نرس نے

اسے سنبھالنے کی کوشش کی مگر وہ بپھری ہوئی شیرنی لگ رہی تھی۔۔نرس کو اس نے دھکا دیا۔۔سائیڈ ریک پر رکھی تمام دوائیوں کی بوتلیں اور شیشیاں ہاتھ مار مار کر نیچے گرانے لگی۔۔۔۔۔۔اسکے منہ سے وہی الفاظ مسلسل نکل رہے تھے۔۔۔۔بال پونی میں سے نکل کربکھر چکے تھے۔وجود چادر ڈوپٹے سے بے نیاز تھا۔۔نرس دہشت زدہ سی ہو کر ماحر کو بلا لائی۔۔وہ تیر کی طرح کمرے میں پہنچا مگر اندر قدم رکھتے ہی اسے اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا۔۔۔

۔۔۔سامنے ہی وہ شیشے کی ٹوٹی بوتل کا ٹکرا ہاتھ میں لئیے شائد اپنی نس کاٹنے لگی تھی۔۔۔۔وہ لپک کر اسکے قریب پہنچا اور اس کا وہ ہاتھ پکڑ لیا جس میں ٹوٹا ہوا کانچ تھا۔۔۔۔اسکی پھیلی ہوئی آنکھوں میں وحشت

تھی۔۔دیوانگی تھی پہچان کا کوئی عکس نا تھا۔بکھرے

بال۔۔لال رخساروں پر بہتی آنسوؤں کی لڑیاں۔۔۔۔

یہ کیا کر رہی ہو۔۔۔چھوڑو اسے۔۔وہ لڑکھڑاتی زبان میں

بولا۔۔۔

میں زندہ نہیں رہنا چاہتی۔سب مر گئے۔مجھے بھی مرنا

ہے انکے پاس جانا ہے۔۔۔میں اکیلے نہیں رہ سکتی اب۔۔۔

چھوڑو مجھے۔۔میں جاؤں گی انکے پاس۔تم مجھے روک

نہیں سکتے سمجھے۔۔۔وہ اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے غرائی۔۔اسوقت وہ بہت جنونی ہو رہی تھی

ماحر نے اسے اتنی زور سے جھٹکا دیا کہ اسکے ہاتھ سے کانچ چھوٹ گیا۔۔۔اسکے دونوں ہاتھوں کو قابو کیے اپنے

سینے سے لگا کر اسکی پبھری مشتعل جنونی حالت کو قابو کرنے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔۔اتنے میں ڈاکٹر مائیکل بھی اندر آ گیا۔۔۔اس نے جلدی سے نرس سے انجکشن لے کر اسکے بازو میں لگایا۔۔۔۔چھوڑو مجھے نہیں رہی رہنا

زندہ۔۔۔۔انہی لفظوں آدھی ادھوری تکرار کرتی وہ اسکے

بازوؤں میں ہی جھول گئی تھی۔۔

حیا۔۔۔حیا۔۔۔۔۔کسی نے بازو سے پکڑ کر جھنجوڑا تھا۔ایک

جھٹکے سے اسکی آنکھ کھل گئی تھی۔۔

مکمل آنسوؤں سے بھری ہوئی آنکھیں۔۔چڑھا ہوا سانس

اڑی ہوئی رنگت۔۔۔کانپتا لرزتا جسم۔۔۔۔

“۔۔اس نے بمشکل سانس لیتے خود پر جھکے چہرے کو دیکھا۔۔۔وہ ماحر تھا۔۔۔وہ خود سے بیدار نہیں ہوئی تھی

اسے جگایا گیا تھا۔۔

اس کے سہارا دینے پر وہ لرزتے وجود کے ساتھ اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔۔۔تنفس بھاری تھا۔۔۔پیشانی غرق آلود ہو رہی تھی۔۔وہ وحشت زدہ سی بوکھلائی ہوئی بیٹھی تھی۔۔

آج پہلی بار سائرہ ممی کو ان کی وفات کے بعد اس نے خواب میں دیکھا تھا۔۔انکی کی آنکھوں میں آنسو تھے۔شکایت کرتی نظروں سے وہ حیات کی طرف دیکھ رہی تھیں۔۔

جیسے کہہ رہی ہوں۔۔۔۔۔حیا تم نے میرے بیٹے کا خیال نہیں رکھا میں تمہیں سونپ کر گئی تھی اسے۔۔۔

ماحر نے پانی کا گلاس اسکی طرف بڑھایا۔وہ بے حس و حرکت بیٹھی رہی تو اس نے خود ہی آگے بڑھ کر گلاس کو اسکے ہونٹوں سے لگا دیا۔۔۔

وہ اس کا ہاتھ جھٹکنا چاہتی تھی مگر جھٹک نا پائی اور یوں پانی پیا جیسے صدیوں کی پیاسی ہو۔۔

نا حالت سنبھلی۔۔۔نا آنسو تھمے۔۔سائرہ ممی کی شکایت کرتی نظریں جیسے اسکے دماغ پر نقش ہو کر رہ گئی تھیں۔۔اسکی سسکیاں تیز سے تیز ہونے لگیں۔۔کچھ دیر

بعد وہ اونچی آواز میں اس قدر شدت سے رونے لگی

کہ وہ بھی اپنے آنسوؤں پر قابو نا رکھ سکا۔

وہ روتے ہوئے بری طرح مچل رہی تھی۔۔اسکی مزاحمت کو نظر انداز کیے اسے خود میں بھینچے وہ بے آواز رو رہا تھا۔اس معصوم بچے کا درد اسے بھی اندر سے تڑپاتا تھا۔مجرموں کو سزا مل چکی تھی۔مگر جو نقصان ہوا

تھا وہ تو پورا نہیں ہو سکتا تھا۔۔

ممی نے مجھ سے وعدہ لیا تھا۔۔میں انکے بیٹے کا خیال رکھوں گی۔۔۔اسے پڑھاؤں گی۔۔۔آرمی میں بھیجوں گی۔۔مگر۔۔۔میں اس کا خیال نا رکھ پائی۔۔۔کتنی بڑی غلطی ہو گئی مجھ سے۔۔وہ ابھی میرے خواب میں آئی تھیں

شکایتی نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھیں۔۔۔

وہ رونے کے درمیان بمشکل اٹک اٹک کر بول رہی تھی

ان تین مہینوں میں پہلی بار وہ اپنی ناراضگی۔نفرت

اور غصہ سارے اختلاف بھلائے اسکے گلے لگی اپنا درد شئیر کر رہی تھی۔وہ اسے نرمی سے سمیٹے نم آنکھوں سے اسکی باتیں سن رہا تھا۔اس کے آنسوؤں کی نمی اسکے گریبان کو بھگو رہی تھی وہ وقفے وقفے سے اسکے سر پر بوسہ دے رہا تھا لیکن وہ ہر احساس سے

عاری صرف اپنے بھائی کو یاد کر کے روئے جا رہی تھی

کافی دیر بعد جب رو رو کر تھک گئی تو اسکا حصار

توڑ کر الگ ہو گئی۔۔

حالت کچھ سنبھلی تو احساس ہوا جسکے گلے لگی اپنا درد دل شئیر کر رہی تھی۔۔۔۔ وہی تو ان سارے حالات کا ذمہ دار تھا۔۔نا وہ اسے فارم ہاؤس پر لاتا نا وہ سب ہوا ہوتا۔

مجھے اکیلا چھوڑ اب۔۔اپنی ہتھیلیاں مسلتے ہوئے اس نے رندھی ہوئی آواز میں کہا۔۔اسوقت جو اسکی حالت ہو رہی تھی اس کے بعد وہ ماحر خان کو اپنے ارد گرد بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔۔

مگر وہ کھڑا رہا۔۔۔اسکے بالکل پاس۔۔اسکے بالکل سامنے۔

اس حال میں وہ اسے اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔۔

سنائی نہیں دیا۔۔کیا کہا میں نے آپ سے۔۔۔حیات نے سر اٹھا کر سخت لہجے میں کہا۔۔۔آواز بے حد کمزور ہو رہی تھی۔۔۔ناراضگی غصہ اپنی جگہ لیکن اتنی تہذیب اور مروت اسکے اندر ابھی بھی تھی چاہے جتنی بدتمیزی

سے مخاطب ہوتی۔۔کہتی اسے آپ ہی تھی۔۔۔

وہ اپنی جگہ سے ایک انچ نہیں ہلا تو غصے سے بڑبڑاتے

ہوئے گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹے وہ چہرے کا رخ موڑ گئی۔وہ اس کے برابر میں بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔

حیا۔۔۔اس نے بے حد نرمی سے پکارا۔۔۔

حیا۔۔۔پلیز میری بات سنو۔۔۔اسکا لہجہ شدید التجائیہ تھا۔۔مگر حیات پر بالکل اثر نہیں ہوا۔۔نا اس نے رخ بدلا

اور نا سر اٹھایا۔۔

وہ کچھ پل اسکی طرف سے کسی ردعمل کا انتظار کرتا رہا۔پھر بازو پھیلا کر بہت ہی نرمی سے اپنے حصار میں لیا۔۔اسکی اس حرکت پر وہ لمحے بھر کیلئے ساکت

سی ہوئی۔پھر اگلے ہی پل اسکا حصار توڑتے ہوئے یوں

تڑپ کر نکلی گویا کرنٹ لگا ہو۔۔۔

کیا ہوا۔۔۔؟؟ وہ حیرانی سے دیکھنے لگا۔۔

کیوں ہاتھ لگایا مجھے۔۔۔؟؟وہ بپھری ہوئی تھی

حیا میں تم تمہیں۔اس نے کچھ کہنا چاہا مگر وہ اسکی

بات کاٹ کر چیخی۔۔۔

بدنیت انسان بہانے بہانے سے قریب آتے ہو۔کیا سمجھتے

ہو میں اس صدمے میں ہوں تو پچھلا سب بھلا دونگی

آپکی اس جھوٹی محبت اور ہمدردی میں پگھل کر آپ

کے من کی مرادیں پوری کر دونگی ہرگز نہیں۔۔اپنےسارے ارمان اپنے ساتھ قبر میں ہی لے کر جاؤ گے۔

دنیا جہان کی نفرت تھی اسکے لہجے میں اسوقت۔۔وہ سن ہو کر رہ گیا تھا۔۔۔

حیا پلیز مجھ پر شک مت کرو۔۔۔۔میری نیت میں کوئی کھوٹ نہیں ہے۔تم بھول کیوں نہیں جاتیں وہ گزرا برا وقت۔وہ مکمل بے بسی کی تصویر بنا کھڑا اسکی طرف گھائل نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔اسے لگ رہا تھا وہ چاہے جتنی کوشش کر لے حیات عبدالرحمان کے پتھر دل کو

اپنے لئیے کبھی بھی نرم نہیں کر سکتا۔۔کبھی اسکے دل

تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔۔

اگر میری جگہ آپ ہوتے تو کیا بھول جاتے میری تمام

زیادتیاں۔۔۔؟؟

ہاں اگر تم مجھ سے سچے دل سے معافی مانگتی تو میں ضرور بھلا دیتا۔۔۔

لیکن میں کبھی نہیں بھلاؤں گی۔۔سب کچھ یاد رکھوں گی اور آپ کو بھی یاد دلاتی رہوں گی۔۔اسکا انداز ہٹ

دھرمی اور خود سری سے بھرپور تھا۔۔

میری تو خیر ہے لیکن یوں کڑھ کڑھ کے تم اپنا سکون برباد کر لوگی اور ڈپریشن کی مریض بن جاؤ گی۔۔وہ

فکر مندی سے بولا۔۔

مجھ سے شادی آپکو بہت بھاری پڑے گی۔۔زندگی جہنم بنا دوں گی آپ کی۔۔غصے سے دیکھتے ہوئے اس نے اپنے عزائم سے آگاہ کیا۔۔

خیر ہے بھگت لوں گا۔۔فکر مجھے تمہاری ہے۔۔مجھ سے نفرت کے چکر میں اپنی زندگی جہنم مت بنا لینا پلیز۔

میں تمہیں خوش دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔

میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔اپنی زندگی سے مجھے اب ذرا دلچسپی نہیں رہی۔۔

تم مجھے معاف نہیں کر سکتیں۔۔۔؟؟

ہرگز نہیں۔۔ساری زندگی بھی میرے سامنے ہاتھ جوڑ کے کھڑے رہیں تو بھی معاف نہیں کروں گی۔آپ اس قابل

ہی نہیں کہ آپ کو معاف کیا جائے۔۔۔۔میری دعا ہے کہ ساری زندگی کبھی سکون نصیب نا ہو

دیکھو میں نے جان بوجھ کر کچھ نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔۔جو کچھ ہوا غیر ارادی طور پر غصے کی حالت میں ہوا تھا

پھر جلد ہی مجھے احساس ہو گیا تھا اسی لئیے تو میں تمہیں اپنانا چاہتا تھا تاکہ اپنی تمام غلطیوں کی تلافی

کر سکوں۔تم ایک موقع تو دو مجھے تمہارے سارے درد

سمیٹ لوں گا۔۔پلیز میری بات پہ غور کرو۔۔۔

تو اب آپ مجھے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ میرے ساتھ جو بھی ہوا اس میں آپ کی کوئی پلاننگ نہیں تھی۔۔۔۔؟؟

آنسوؤں سے لبریز آنکھیں اس پر جمائے لڑ پڑی تھی۔

میں بھلا کیوں چاہوں گا کہ تمہارے ساتھ ایسا ہو۔۔اسے

بہت اندر تک دکھ ہوا۔۔۔جتنا چاہے وہ دلیلیں وضاحتیں

پیش کرتا۔اسے موم کرنے میں مسلسل ناکام تھا۔۔۔

یہ سوال آپ مجھ سے پوچھ رہے ہیں۔۔چلو مان لیا بوا

اور میرے بابا خدا کی زندگی اتنی ہی تھی۔اس کے ذمہ

دار آپ نہیں۔۔مگر مون۔۔اس کے بارے میں کیا کہیں گے

آپ۔۔آپ ہی کے فارم ہاؤس پر آپکے ہی ملازمین نے جان

لی اس کی۔۔بھول گئے کیا۔۔۔جب اس رات میں کہہ رہی

تھی اسے ساتھ لے چلتے ہیں تو کیا کہا تھا آپ نے۔۔ کہ

جلدی واپس آئیں گے ہم ملازمین خیال رکھیں گے اس

کا۔۔۔یہ خیال رکھا انہوں نے۔۔۔۔۔؟؟اس کا لہجہ اور آواز

غم غصے درد کی شدت سے پھٹ رہا تھا۔۔

وہ نہیں بھولا تھا۔۔۔بھول ہی نہیں سکتا تھا۔۔مگر جب وہ یاد دلاتی تھی تب زیادہ تکلیف ہوتی تھی۔۔۔جب وہ

ذکر کرتی تب زیادہ پچھتاوا ہوتا کہ کاش اس رات اسے

فارم ہاؤس پر نا چھوڑا ہوتا۔۔۔

آپ کے لوگوں نے مجھ سے میرا آخری رشتہ بھی چھین

لیا۔۔میں کبھی معاف نہیں کروں گی آپ کو اور نا کبھی

اعتبار کروں گی آپ پر۔۔۔۔وہ روئے جا رہی تھی۔۔۔۔گہری سانس لیتے ہوئے اس نے بے ساختہ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔۔

ٹھیک ہے میں مانتا ہوں۔شروع میں تمہیں فلم کے لئیے مجبور کرتا رہا تھا۔لیکن پھر میں نے سچے دل سےاپنانے کا سوچا۔۔۔حالانکہ کسی نے مجھے بہکانا بھی چاہا کہ نکاح کے نام پر تمہیں حاصل کرنے کے بعد چھوڑ دوں” مگر میرا دل اس بات پر راضی نہیں ہوا۔۔میں نے سوچا

تھا پانے کے بعد تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا۔پھر میں

نے تمہیں پرپوز کیا تم آرام سے بھی انکار کر سکتی تھیں مجھے اتنا برا نا لگتا۔مگر تم نے جس طرح حقارت

اور توہین کا مظاہرہ کیا میں کیا کوئی اور بھی ہوتا تو

برداشت نا کرتا۔اسکے بعد کچھ غلطیاں مجھ سے ہوئیں

کچھ تم سے۔مگر میرے دل میں تمہارے لئیے ایک نرم گوشہ بھی ہمیشہ رہا۔شدید غصہ ہونے کے باوجود میرا

دل تمہیں نقصان پہچانے پر راضی نا ہوا۔میں اپنی جنم

دینے والی ماں کی قسم کھا کر کہتا ہوں اس رات فلیٹ

میں میرا کچھ غلط کرنے کا ارادہ نہیں تھا میں صرف

تمہیں ڈرا رہا تھا تاکہ تم مجھے قبول کرنے پر راضی ہو جاؤ۔وہ جو پولیس وہاں آئی ہوئی تھی وہ اصل پولیس

نہیں تھی بلکہ سب ایکٹرز تھے۔اس دن فلم کی شوٹنگ کیلئے جا رہے تھے ہم وہاں ایک سین عکسبند کروانا تھا

سب کو پولیس والوں کے گیٹ اپ میں۔۔اسی لئیے وہ

لوگ نیچے کھڑے میرا انتظار کر رہے تھے۔۔

بہرحال جو کچھ بھی ہوا صرف اس لئیے کہ اس وقت شائد میں بہت غصے میں تھا یا پھر بہت اپ سیٹ تھا تمہارے رویے سے۔۔۔بہرحال میں اپنی ہر غلطی تسلیم کرتا ہوں۔۔

اسکی پوری بات حیات عبدالرحمان نے نہایت ہی تحمل

کچھ دکھ اور بے یقینی سے سنی تھی۔بس ایک لمحے کے لئیے منجمد احساسات پگھلے تھے کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کر رہا ہے۔۔مگر اس کے بعد۔۔۔

آپ کی کسی بھی بات کا مجھ پر اثر نہیں ہوگا۔۔۔۔اب اعتراف جرم کا کوئی فائدہ نہیں۔۔اس کے آنسو متواتر گر رہے تھے۔۔

ماحر نے بڑی بے بسی سے اسکی طرف دیکھا۔۔وہ کچھ سننے سمجھنے کو تیار ہی نہیں تھی۔۔

اس نے کچھ کہنے کے لئیے منہ کھولا اور پھر بند کر لیا

“۔۔۔۔وہ حیات عبدالرحمان سے نہیں جیت سکتا تھا۔۔۔۔”

ان حالات میں۔۔۔اس سچویشن میں تو بالکل نہیں۔۔اس

نے زندگی میں اپنے آپ کو اتنا بے بس کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔۔۔جتنا اسوقت کر رہا تھا۔۔وہ خاموشی سے

اٹھ کر کمرے سے باہر چلا گیا۔۔۔۔۔بند دروازے کے اس پار

کتنی ہی دیر وہ بھاری دل کے ساتھ کھڑا رہا۔۔۔کتنی ہی دیر وہ اسکے رونے کی آواز سنتا رہا۔آہستہ آہستہ اسکی

کی سسکیاں تھم گئیں۔اس کا رونا بند ہو گیا۔۔اب صرف

خاموشی تھی جو اسکے آس پاس ہر طرف ٹھہر گئی تھی۔۔وہ آہستہ سے دروازہ کھول کر اندر آ گیا۔۔۔۔حیات سو چکی تھی۔۔۔۔۔رو رو کر آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔۔

سرخ چہرہ۔۔کہیں کہیں آنسو پلکوں پر ٹھہرے ہوئے تھے

ایک تاسف بھری نظر اس پر ڈالتے ہوئے اس نے بے حد احتیاط سے اسکے سر کے نیچے تکیہ رکھا۔کمبل درست

کیا اور کمرے سے باہر آ گیا۔۔

باہر تاریکی میں وقفے وقفے سے بجلی چمک رہی تھی۔گلاس والز پر کہیں کہیں بارش کے ننھے منے قطروں

میں شہر کی روشنیاں منعکس ہو رہی تھیں۔

وہ اپنے لئیے کافی بنوا کر گلاس والز کے سامنے جا کھڑا ہوا۔۔بجلی ایک بار پھر چمکی تھی۔پھر ہر طرف اندھیرا

پھیل گیا تھا بالکل ویسا جیسا اسے آج کل اپنی زندگی

میں پھیلتا محسوس ہو رہا تھا۔۔

میں تھک گیا ہوں یار۔۔۔۔۔۔۔۔وہ میری کوئی بات سننے پر راضی نہیں ہوتی۔۔۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر اچھا خاصا

سین کری ایٹ کر دیتی ہے۔۔۔۔۔رونے اور چیخنے لگتی ہے

میں سخت ٹینشن میں ہوں۔۔۔۔اپنے کام پر بالکل فوکس نہیں کر پا رہا۔۔

۔۔وہ بہت فکر مندی سے فون پر کسی سے کہہ رہا تھا۔۔

بلیک جینز و گرے ٹی شرٹ میں اسکے وجہیہ چہرے

پر ایک گھمبیر سی اداسی اور بے کل کر دینے والی

سنجیدگی تھی۔۔۔۔

دوسری طرف فون پر موجود ہستی نے کچھ کہا تو وہ جواباً گویا ہوا۔۔۔

میں خیال رکھتا ہوں یار۔۔۔۔۔۔مگر وہ غصہ ہوجاتی ہے۔چاہتی ہے اسکی پروا چھوڑ دوں میں۔۔۔ٹھیک ہے مجھ

سے کچھ غلطیاں ہوئیں۔۔۔۔حالات میری وجہ سے اسکے خراب ہوئے۔۔ لیکن میں ایسا تو نہیں چاہتا تھا جو ہوا۔

وہ سمجھتی ہے اسکی زندگی میں جو بھی برا ہوا ہے

میں نے جان بوجھ کر کیا ہے۔۔۔۔میری نیت پر شک کرتی

ہے۔مجھ پر اعتبار کرنے کو بالکل تیار نہیں۔۔۔۔۔میں کیا کروں۔۔۔۔۔۔۔زندگی میں اتنی مایوسی کا سامنا تو کبھی

نہیں کرنا پڑا جتنا اب کرنا پڑ رہا ہے۔اس کا لہجہ مکمل ٹوٹا ہوا تھا۔

دوسری طرف سے کچھ کہا گیا۔۔۔۔۔۔جواب میں وہ بولا

میں شکوہ نہیں کر رہا۔۔۔۔مجھے بس دکھ ہوتا ہے جب

وہ میری نیت پر اسطرح سے شک کرتی ہے۔۔۔

وہ مجھ پر کبھی ٹرسٹ نہیں کرے گی۔۔۔۔۔۔دل کی آواز تھی جو مایوس ہو رہا تھا۔۔۔

دوسری طرف سے شائد تسلی دی گئی۔۔۔وہ پر امید سا ہو کر پوچھنے لگا۔۔۔

رئیلی۔۔۔تم بات کرو گے اس سے۔۔۔؟؟

پھر کب آ رہے ہو۔۔۔۔؟؟ اگلے ہفتے۔۔۔۔۔۔؟؟ٹھیک ہے میں بے صبری سے تمہارا انتظار کروں گا۔۔۔۔میری بات نہیں سن رہی مگر مجھے یقین ہے تم میرے حق میں تھوڑی بہت

راہ ضرور ہموار کروا لو گے۔۔۔۔”

تھنکس یار اگر تم میری پرابلم سالو کرنے میں ہیلپ کر دوگے تو تمہارا مجھ پر بہت بڑا احسان ہوگا۔۔۔بدلے میں کچھ بھی مانگ لینا۔ممنونیت سے کہتا وہ ہلکا سا ہنسا

اچھا یہ بتاؤ سب کا رویہ تمہارے ساتھ کیسا ہے۔۔۔؟؟ایڈجسٹمنٹ ہو گئی ہے نا۔۔۔۔۔؟؟

دوسری طرف سے پھر کچھ کہا گیا تو وہ شکر کرتے ہوئے بولا چلو اچھی بات ہے۔باقی ماموں ممانی اصفہان فاریہ اور لٹل بوائے حمزہ ٹھیک ہے نا۔۔؟؟

دوسری طرف سے ناجانے کیا کہا گیا وہ ہنس پڑا۔۔

کیوں نہیں انشاء اللّٰہ جلد آؤں گا اسے دیکھنے۔۔۔۔بس اسکی ممانی جان راضی ہو جائیں۔۔۔اسکے لہجے میں

ہلکی سی شوخی در آئی۔۔۔

مام آئی ہیں۔۔۔۔۔اچھا بات کرواؤ میری۔۔۔۔۔اسلام علیکم

مام کیسی ہیں۔۔۔وہ فائزہ سکندر سے بات کرنے لگا۔۔ان

سے بات کرنے کے بعد اس نے فون بند کیا۔۔۔۔اور لاؤنج میں پڑے صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔

گہری آنکھوں میں سنگریزے سے ابھر آئے تھے۔۔جس بے کلی و اضطراب سے نکلنے کے لئیے وہ روز دن میں کئی بار معافی کی آرزو لئیے اسکے پاس جاتا۔۔۔۔جواب میں اسکی تلخ و تند اور نفرت بھری باتیں اس کیفیت کو مزید بڑھا دیتی تھیں۔۔۔۔

ناجانے کتنی دیر وہ یونہی بیٹھا رہا جب اسے خود پر کسی کی نظروں کی تپش محسوس ہوئی۔۔اس نے پلٹ

کر دیکھا۔۔وہ دروازے کے پاس کھڑی تھی۔۔۔دونوں ہاتھ

اور سر اس نے دروازے سے ٹکا رکھا تھا۔۔۔۔۔۔یک ٹک وہ اسے دیکھے جا رہی تھی۔۔۔وہ ہچکچایا۔۔۔۔جھجھکا اور

نظر چرا گیا۔۔۔اس کا نظر چرانا قیامت ہو گیا۔۔وہ اسی حالت میں کھڑی باآواز بلند رونا شروع ہو گئی۔وہ فوراً

تڑپ کر اسکی طرف بڑھا۔۔۔مگر اس نے پہلے وہ اس کے

پاس جاتا وہ پیچھے ہوئی اور دھاڑ سے دروازہ بند کر دیا۔۔۔۔وہ واپس صوفے پر آ بیٹھا۔۔۔۔۔اس کا درد سمجھ سکتا تھا وہ۔۔۔اس نے اپنا معصوم بھائی کھویا تھا۔اس

بچے سے تو اسے بھی لگاؤ تھا کافی۔۔تبھی اسکی موت

نے اسکی بے پناہ غمزدہ کیا تھا۔۔۔قہر بن کر ٹوٹا تھا وہ

اپنے فارم ہاؤس کے تمام ملازمین پر۔۔۔دن یونہی گزرتے

گئے چار مہینے بیت گئے۔حیات کی حالت میں اگر کوئی

تبدیلی آئی تھی تو وہ صرف یہ کہ اس کا رونا چیخنا

چلانا پہلے کی نسبت کم ہو گیا تھا۔سارے دن وہ بیٹھی

خلاؤں میں بیٹھی تکتی رہتی۔نا کھانے پینے سے غرض ہوتی نا نہانے دھونے سے۔صدمے نے اتنا اثر کیا دماغ پہ کہ نماز تک سے بے پروا ہو گئی۔۔۔کئی کئی دن کھانا نا کھاتی۔۔پھر اچانک بھوک لگتی تو خود ہی فریج سے

کھانے پینے کی اشیا نکال کر یوں کھاتی جاتی جیسے

کسی قحط سالی کے شکار علاقے سے آئی ہو۔۔۔

نہانا تو بالکل ہی چھوڑ دیا تھا اس نے۔۔ اپنے میلے حلیے کا احساس تک ہی نا ہوتا تھا اسے ماحر کے کہنے پر میڈ اسکی منتیں کر کر کے اور کبھی زبردستی ہاتھ سے پکڑ کر واش روم چھوڑ آتی تو وہ وہیں واش روم کے فرش پر بیٹھی رہتی۔۔۔۔۔نا نہاتی نا باہر نکلتی مجبوراً میڈ کو خود ہی اسکے بالوں میں شیمپو اور برش کرنا پڑتا۔چند ایک بار ماحر نے بھی اسکے یہ کام سرانجام دینے کی کوشش کی مگر وہ بپھر اٹھی تھی۔وہ بالکل پیچھےہٹ گیا تھا۔۔۔البتہ اسکی تمام تر ناپسندیدگی اور غصے کے باوجود وہ سوتا اسی کے کمرے میں تھا۔۔۔۔دراصل اسے ڈر تھا کہیں وہ کبھی خود کو کوئی نقصان نا پہنچا لے

پورا دن میڈ اسکے ساتھ سائے کی طرح رہتی وہ اپنے کام پر جاتا۔۔البتہ رات کو یہ ڈیوٹی وہ خود سنبھالتا تھا۔

❤️

دسمبر کے اوائل کے دن تھے۔۔۔شدید سردی تھی اوپر سے

سے سیاہ منہ زور گھٹا نے سورج کو مکمل طور پر اپنے

دامن میں چھپا لیا تھا۔دن کا ایک بج رہا تھا مگر موسم ابر آلود ہونے کی وجہ سے صبح کا وقت ہی لگ رہا تھا۔

تیز چلتی ہوائیں بھی بہت ٹھنڈی تھیں۔وہ بہت دنوں

بعد گھر چکر لگانے گیا تھا کیونکہ سکندر علی خان اور

فائزہ سکندر پونے چار ماہ کے لمبے ٹور کے بعد آج گھر

واپس آئے تھے۔وہ عقبی دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا

لوگوں کی نظروں سے بچنے کیلئے وہ اس اپارٹمنٹ میں

داخل ہونے کے لئیے عقبی راستہ ہی استعمال کرتا تھا۔بلیک پینٹ پر پنک شرٹ اور بلیک جیکٹ پہنے وہ بہت

گریس فل لگ رہا تھا۔سردی سے سرخ ہوتا چہرہ کافی

دلکش لگ رہا تھا۔۔۔اس کے ہونٹوں میں سلگتا ہوا سگار

تھا۔وہ دھواں اڑاتا اندر کی طرف بڑھا۔۔۔اسکی بے چین

نگاہیں جلد از جلد اس سنگدل حسینہ کے دیدار کی

خواہشمند تھیں۔۔۔

گلاس ڈور کے پار سے ہی وہ اسے نظر آ گئی تھی۔بیڈ پر بے خبر پڑی سو رہی تھی۔کمبل اس پر سے ڈھلکا ہوا تھا

چہرے پر بہت معصومیت طاری تھی۔۔چہرے کی زردی پھر سے گلابوں میں بدل چکی تھی۔۔پونے چار ماہ لگے

تھے اسکے چہرے کی رونق تھوڑی بہت بحال ہو چکی

تھی۔۔گلابی رنگت نے چہرے کو پر نور جلا بخشی تھی۔

وہ دبے قدموں کمرے میں داخل ہوا۔۔۔گریٹ ایش ٹرے میں رگڑ کر بجھا دی اور بے آواز اسکے سرہانے جا بیٹھا وہ سوتے ہوئے کوئی ڈری سہمی سی بچی لگ رہی تھی

وہ بے خودی میں اسے تکتا رہا۔۔۔۔

اسی حسین چہرے کی وجہ سے تو دنیا بدل گئی تھی اسکی بھی اور اس حسین چہرے والی کی بھی۔۔۔۔

بے اختیار ذرا سا جھک کر اس نے اسے چوم لیا تھا۔اس

کے لمس کا احساس شائد گہرا تھا تبھی اسکی فوراً آنکھ کھل گئی تھی۔۔نظر سیدھی خود کو تکتے اس شخص سے جا ٹکرائی۔اسے اپنے قریب دیکھ کر وہ شائد ڈر گئی تھی تبھی ہڑبڑا کر اٹھی۔۔کمبل وجود پر سے اتر گیا تھا۔۔۔

گڈ آفٹر نون۔۔۔۔۔۔اسے اٹھتے دیکھ کر وہ ذرا سا مسکرایا

جواباً وہ خاموش رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔پہلے کی طرح اب وہ روتی چلاتی لڑتی یا برا بھلا نہیں کہتی تھی۔۔۔۔۔بس خاموش

بیٹھی رہتی تھی۔اسکی باتوں پر کوئی ری ایکشن نہیں

دیتی تھی لیکن اگر وہ ذرا سا چھوتا تو تب اسکے فیس

پر ناگواری کے تاثرات ابھرتے اور وہ اس کا ہاتھ جھٹک

دیتی۔۔۔

کیسی طبعیت ہے۔۔۔؟؟

جانتا تھا جواب نہیں ملے گا۔پھر بھی پوچھ رہا تھا۔۔اس نے سرہانے پڑی اپنی کشمیری سیاہ شال اٹھائی اور صوفے پر جا بیٹھی۔۔۔وہ غور سے اسے دیکھنے لگا۔۔اس

کا گلابی چہرہ پہلے کی نسبت پرسکون تھا۔۔۔۔

کچی نیند سے جاگی گئی آنکھوں کے گرد سرخی سی چھائی ہوئی تھی۔دنیا جہان کا درد کرب سمایا ہوا تھا اسکی آنکھوں میں۔۔

۔۔اسی وقت میڈ دستک دے کر ٹرے میں چائے اور کپ رکھ کر کمرے میں لے آئی۔۔ٹرے ٹیبل پر رکھ کر وہ چائے بنانا چاہ رہی تھی مگر ماحر نے اشارے سے منع کر

دیا تو وہ چلی گئی۔۔۔

چائے بنانا تو آتی ہوگی آپ کو۔۔؟اسے لاتعلق بیٹھا دیکھ

کر بولنے پر اکسانے کیلئے کہا۔۔۔

جواباً اس نے جن درشت نظروں سے اسکی طرف دیکھا وہ بخوبی سمجھ گیا کہ چائے کے بجائے وہ اسے زہر

پلانے کی خواہش رکھتی ہے۔۔۔

اچھا میرے لئیے نہیں لیکن اپنے لئیے تو بنا سکتی ہیں نا۔۔۔۔۔۔؟؟ ایکچولی میں آپ کی مہمان نوازی کرتے کرتے تھک گیا ہوں۔۔۔۔۔یہ گھر آپ کا اپنا ہے سو اپنے کام اب آپ خود کیا کریں۔۔۔۔۔۔ ویسے بھی میں کوئی عام بندہ نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔سپر سٹار ہوں نخرے اٹھاتا نہیں اٹھواتا ہوں۔۔۔

اس نے جان بوجھ کر کہا۔۔۔۔۔۔وہ اسے صرف اور صرف بولنے پر آمادہ کرنا چاہتا تھا۔۔۔

۔۔۔۔پتھر پر اگر مسلسل پانی کی بوند گرتی رہے تو اس میں بھی سوراخ کر دیتی ہے پر حیات عبدالرحمان تو پھر بھی انسان تھی۔۔۔ایک نرم و نازک احساسات رکھنے

والی لڑکی۔۔۔۔مگر شائد حیات کی سوچ بدل چکی تھی

کہ خاموشی نفرت کے اظہار کا بہترین ذریعہ ہے تبھی

وہ اب خاموش رہ کر نفرت دکھا رہی تھی۔۔۔۔

“اسکی مسلسل خاموشی پر گہری سانس لے کر وہ رخ موڑ کر گلاس وال سے باہر دیکھنے لگا۔پھر کچھ لمحوں کے توقف کے بعد اٹھ کر اسکے قریب صوفے پر جا بیٹھا

وہ سمٹ کر بالکل ایک سائیڈ پر ہو گئی۔۔باقی کوئی ری

ایکشن نا دیا۔۔۔وہ گہری نگاہیں اسکے چہرے پر جمائے

گویا ہوا۔۔۔

سنو حیا۔میں اسوقت بہت ضروری بات کرنے آیا ہوں تم سے۔دیکھو کسی بھی صدمے کو ساری زندگی ساتھ لے

کر نہیں چلا جا سکتا۔۔تمہیں اب اپنے آپ کو نارمل کرنا ہوگا۔میرے مام ڈیڈ لمبے ٹور کے بعد آج واپس آ گئے ہیں

مام کو میری شادی کی جلدی ہے۔۔۔۔اب میں تمہیں اپنی فیملی سے انٹروڈیوس کرانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔تم اپنے

آپ کو مینٹلی prepare کر لو۔۔۔۔۔میں کل تمہیں اپنے ساتھ گھر لے جاؤں گا۔۔۔۔۔۔اور فکر مت کرنا میری فیملی تمہارا بہت اچھے سے ویلکم کرے گی۔۔۔۔انہیں بس اسی

بات سے غرض ہے کہ میں شادی کر لوں۔۔۔۔۔سو کل میں ہماری شادی سوشل میڈیا پر اناؤنس کر دوں گا۔۔۔ہماری ولیمےکی تقریب بھی منعقد ہوگی۔۔اور وہ تمہارے حلال کی کمائی والے حق مہر کا مسئلہ بھی حل ہو گیا ہے۔۔۔۔

میرے ماموں بہت بڑے بزنس ٹائیکون ہیں۔۔امریکہ میں کافی بڑے پیمانے پر ان کا بزنس پھیلا ہوا ہے۔۔۔فلم لائن

سے انکی فیملی کا دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں۔اس

لئیے انکی کمائی کو آپ مکمل حلال کی کمائی سمجھ سکتی ہیں۔۔میں نے فیصلہ کیا ہے ان سے پانچ سو کروڑ لے کر تمہارا مہر ادا کروں گا اور بدلے میں اپنی کمائی سے اتنی ہی رقم انہیں دے دوں گا۔۔۔وہ آرام سے لے لیں گے انہیں تمہاری طرح ایسا کوئی مسئلہ نہیں۔۔وہ اس

کی اندرونی حالت سے بے خبر کہہ رہا تھا۔۔۔

ناجانے کتنی دیر بیٹھا وہ بولتا رہا۔۔۔۔مستقبل کے کئی سہانے سپنے بنتا رہا۔۔۔۔۔جنہیں وہ بے حس و حرکت بیٹھی سنتی رہی۔۔اسکے جانے کے بعد اسکے بے حس

و حرکت وجود میں حرکت پیدا ہوئی۔۔۔

اپنی شال سنبھالے وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔۔۔اور میکانکی انداز میں چلتی کمرے سے باہر نکل آئی اس کا رخ مین

ڈور کی جانب تھا۔دروازے کی طرف اسکے بڑھتے قدم

اچانک تھم گئے۔پلٹ کر کچن کی طرف دیکھا جہاں میڈ

کام کر رہی تھی۔۔۔وہ دبے قدموں دروازے کی طرف آئی

میڈ کی دروازے کی طرف پشت تھی اسکی آمد سے بے خبر وہ اپنے کام میں مصروف تھی۔۔اس نے بنا آہٹ پیدا

کیے ہاتھ بڑھا کر کچن کا دروازہ باہر سے بند کر دیا اور خود تیزی سے اپارٹمنٹ سے باہر نکل آئی۔۔۔۔۔

اس کا رخ مین روڈ کی طرف تھا۔۔۔۔۔۔وہ خالی ہاتھ تھی اسے نہیں پتا تھا کہاں جانا ہے۔۔۔بس وہ اس شخص سے دور جانا چاہتی تھی۔۔۔۔۔اس کا گھر نہیں بسانا چاہتی تھی جسکی بدولت اس کا اپنا آشیانہ بکھرا تھا۔۔

اپنے طفیل وہ اسے کوئی سکھ کوئی خوشی نہیں دینا چاہتی تھی۔وہ اسے سزا دینا چاہتی تھی۔۔۔اسکے سپنے

چکنا چور کرنا چاہتی۔۔جیسے وہ تڑپی تھی اسے بھی تڑپانا چاہتی تھی۔۔۔

شام کے چار بج رہے تھے اسوقت۔۔۔سردی کی شدت میں اضافے کی وجہ سے گہری شام لگ رہی تھی۔۔۔سڑک پر

ٹریفک کا رش اس ٹائم زیادہ تھا۔۔سردی۔۔۔شام۔۔۔نامعلوم

راستہ۔۔۔نامعلوم منزل۔۔۔۔اسے کچھ پروا نا تھا۔۔۔۔اسکے

دماغ میں صرف ایک ہی بات چل رہی تھی اس شخص سے دور جا کر اسے سزا دینی ہے بس۔صرف یہی خیال سوار تھا دماغ پر۔باقی ہر احساس سے عاری وہ روڈ کے بیچوں بیچ بنا ٹریفک کی پروا کیے چل رہی تھی۔کتنی گاڑیوں کے ہارن اسے اپنے اردگرد سنائی دے رہے تھے مگر وہ سر جھکائے ایسے چل رہی تھی جیسے بہری ہو

یا زندگی کی کوئی پروا نا ہو۔۔اچانک ایک گاڑی کے ٹائر اسکے بالکل قریب چرچرائے۔۔۔۔شائد گاڑی والے نے اسے بچانے کیلئے اسکے قدموں کے بالکل قریب بریک لگا کر

گاڑی کو روکا تھا۔۔۔۔۔پھر بھی وہ اسکے فرنٹ سے ٹکرا گئی تھی۔۔۔۔۔بے ساختہ اسکے منہ سے چیخ نکلی تھی ٹانگوں پر بڑی شدید قسم کی چوٹ لگی تھی۔۔۔۔

وہ اچھلی اور منہ کے بل پختہ سڑک پر گری تھی۔۔۔آس پاس سے گزرتی کئی گاڑیاں رکیں۔۔لوگ جمع ہونے لگے۔۔مگر لڑکی کو دیکھ کر ہاتھ لگانے سے ہچکچا رہے تھے لوگ۔۔اسی اثنا میں گاڑی والا بھی اتر آیا۔۔پہلے ہچکچایا

لیکن ٹکرائی تو اسی کی گاڑی سے تھی۔۔۔ فرض بنتا تھا

اس کا کہ وہ اسے ہاسپٹل لے جائے۔۔گھبراتے جھجھکتے

اس نے اوندھی پڑی حیات کو بازو سے پکڑ کر سیدھا کیا پھر اسکے چہرے پر نظر پڑتے ہی اسے کرنٹ لگا۔۔

حیا۔؟؟بے یقینی اور صدمے کے عالم میں اسکے ہونٹوں سے نکلا۔۔۔۔۔۔پھر اگلے ہی لمحے بے اختیار اونچی آواز میں چلا کر اسے پکارنے لگا۔۔۔۔حیا۔۔۔حیا۔۔۔۔اٹھو۔۔۔کیا

ہوا تمہیں۔۔۔؟؟اٹھو۔۔۔ہوش میں آؤ حیا۔۔۔۔۔

( آپکے خیال میں یہ شخص کون ہو سکتا ہے۔۔۔؟؟ )