171.9K
78

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Hayat (Episode 33)

Meri Hayat By Zarish Hussain

ایک بار پھر میڈیا میں کھلبلی مچ چکی تھی۔۔۔میڈیا میں شور اٹھا ہوا تھا۔فلمسٹار ماحر خان پر الزامات کا سلسلہ ایک بار پھر سے شروع ہو چکا تھا۔چینلز مالکان کو اپنے چینلز پر چلانے کیلئے ایک چٹ پٹی خبر مل چکی تھی۔لیکن اس بار الزامات پہلے سے بھی زیادہ سنگین تھے۔۔فلمی حلقوں میں چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں۔۔ٹی وی ہوسٹ،اینکرز کو اپنے شوز کی ریٹنگ بڑھانے کیلئے مزیدار قسم کا مواد مل گیا تھا۔سچ ٹی وی پر برقعہ میں ملبوس ایک لڑکی کو دکھایا جا رہا تھا جو کہ فلمسٹار ماحر خان پر نہایت ہی سنگین قسم الزامات لگا رہی تھی۔سچ ٹی وی چینل پر اس ویڈیو بیان کے چلنے کی دیر تھی کہ دیکھتے ہی دیکھتے باقی چینلز پر بھی ویڈیو وائرل ہوتی گئی۔

ایک بار پھر سے سوشل میڈیا پر عوام۔،۔سلیبریٹیز اور نیوز اینکرز کے درمیان نا ختم ہونے والا بحث مقابلہ شروع ہو چکا تھا”ماحر خان کے حامیوں اور مخالفوں کے درمیان سرد جنگ چھڑ گئی تھی”۔۔۔خان فیملی کو ایک بار پھر سے الزامات کا سامنا تھا۔کیونکہ اس بار قتل اور اقدام قتل جیسے سنگین الزامات لگے تھے۔۔

سکندر خان اسوقت فرانس میں بیٹھے تھے۔مگر ماحر سے پہلے ان تک خبر پہنچ گئی تھی۔۔۔وہ وہیں سے اپنے اثرورسوخ استعمال کر کے ان خبروں کو مزید وائرل ہونے سے روکوانے کی کوشش کر رہے تھے۔۔۔۔ماحر نے اپنا فون بند کر رکھا تھا تاکہ اسکی فیملی سمیت کوئی بھی رابطہ نا کر سکے۔۔۔۔ماہی بلوچ کی برتھڈے پارٹی میں جیسے ہی علی کاظمی کے تھرو اسے پتہ چلا تھا حیات عبدالرحمان ایک بار پھر اسکے خلاف میڈیا میں گئی ہے تو وہ قہر بن کر وہاں سے نکلا تھا۔۔اسکی چال الٹ جائے گی اسے اندازہ نہیں تھا۔۔۔حیات عبدالرحمان کے اس ویڈیو بیان کو وائرل ہوئے اگرچہ صرف پچیس منٹ ہوئے تھے مگر ان پچیس منٹوں میں پچیس لاکھ لوگ سن اور دیکھ چکے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کا رخ سیدھا عبدالرحمان ہاؤس کی طرف تھا۔وہ اتنا شدید غصے میں تھا کہ اسے پانے کے خیال پر لعنت بھیج کر جان سے مارنے کے درپے ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔علی کاظمی اگر اسے نا روکتا تو وہ عبدالرحمان ہاؤس پر قہر بن کر نازل ہوتا۔۔۔وہ اسے منت سماجت کر کے اپنے گھر لے آیا تھا۔اسوقت وہ کاظمی ہاؤس میں علی کے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا۔۔۔

میں اس لڑکی کو عزت دے کے آسمان پر بٹھانا چاہتا تھا۔اور یہ سالی مجھے زمین پر گرانے پہ تلی ہوئی ہے۔

چھوڑوں گا نہیں میں اسے۔۔۔

اس کا غصے سے برا حال تھا وجہیہ چہرے پر قہر و غصے کے رنگ پھیلے ہوئے تھے آنکھیں لہو رنگ ہو رہی تھیں۔وہ کمرے میں ادھر ادھر چکر کاٹ رہا تھا۔۔کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ابھی کرے کیا۔۔۔۔۔۔پہلے معاملہ ہینڈل کرے یا اس لڑکی کو سبق سکھائے”

اسکے اندر کی دنیا بکھر گئی تھی۔دل چاہ رہا تھا سب کچھ تہس نہس کر دے۔

ہونٹوں کو سختی سے بھینچ کر اس نے اپنا موبائل آن کیا اور کسی کو کال کرنے کا موقع دیے بنا تیزی سے فرقان کو کال ملائی۔۔جو کہ فوراً ریسیو ہوئی۔وہ شائد منتظر بیٹھا تھا تبھی فوراً اٹھائی

۔۔۔۔سنو۔۔۔۔۔ابھی کہ ابھی گارڈز کو ساتھ لے کر جاؤ اور اس لڑکی کو اٹھا کر فلیٹ پر لے آؤ۔۔وہ غیض وغضب کا اشتہار بنا کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔علی کاظمی کو اس کے اتنے خوفناک ارادے اور تیور دیکھ کر بے اختیار جھر جھری سی آ گئی۔اسے حیات عبدالرحمان کا انجام صاف دکھائی دینے لگا۔۔”آرڈر دے کر وہ ایک مرتبہ پھر کمرے میں ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہا تھا۔۔۔

سر وہ لڑکی اپنے باپ کے پاس ہاسپٹل میں ہے اور وہاں ہم اتنے لوگوں کے سامنے اسے کڈنیپ نہیں کر سکتے۔۔۔تھوڑی دیر بعد ہی فرقان کی کال آ گئی تھی۔۔۔

لعنت ہے تم سب بزدلوں پر۔۔۔۔وہ گرجا۔۔۔فون آف کر کے

جیب میں ڈالا اور باہر نکلنے لگا۔۔۔۔

کہاں جا رہے ہو۔۔۔۔علی کاظمی بوکھلا کر اسکے پیچھے لپکا۔۔۔”

اس لڑکی کو اسکے انجام تک پہنچانے۔۔۔وہ بپھرے ہوئے سانڈ کی مانند لگ رہا تھا۔علی کاظمی نے بازو سے پکڑ کر روکا۔۔۔

دیکھو ماحر میری بات سنو۔۔۔یہ موقع درست نہیں ہے۔ابھی معاملہ تازہ تازہ اور بہت گرم ہے۔۔۔۔ایسے میں تم ایسا کوئی قدم اٹھاؤ گے تو یہ صحیح نہیں ہوگا۔۔۔پہلے کچھ دن گزرنے دو۔۔معاملے کو ذرا ٹھنڈا ہونے دو۔۔کتنے دن یہ سب چلے گا بھلا۔۔۔۔زیادہ سے زیادہ چار پانچ دن ہمیشہ سے یہی تو ہوتا آیا ہے کسی بھی ایسی تہلکہ مچانے والی خبر کی گرما گرمی چند دنوں تک ہی رہتی ہے اسکے بعد لوگ بھی بھول بھال جاتے ہیں۔اور میڈیا والے بھی اس کو چھوڑ کر کسی نئی خبر کی تلاش میں لگ جاتے ہیں۔تم فلحال اس لڑکی کو چھوڑ کر یہ سوچو کہ ان خبروں کی تردید کیسے کرنی ہے۔۔۔۔۔اپنی پوزیشن کیسے کلئیر کرنی ہے۔۔۔۔میڈیا کو بلا کر پریس کانفرنس کرو۔۔کہو کہ ہمیشہ کی طرح تمہارے مخالفوں کی چال ہے یہ جو تمہارا کیریئر تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ٹویٹ کرو۔۔اپنے چاہنے والوں کو تسلی دو کہ یہ سب جھوٹ ہے پروپیگنڈا ہے تمہارے خلاف یہ وہ۔اسکے بعد انتظار کرو جب معاملہ بالکل ٹھنڈا ہو جائے تب تم اس لڑکی پر وار کرو اسے سبق سکھاؤ کہ خود سے اونچے لوگوں کے ساتھ ٹکرانے پنگے لینے کا انجام کیا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”علی کاظمی نے نہایت ہی سمجھداری کا ثبوت دیتے ہوئے جسطرح اسے سمجھایا

وہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔۔۔اپنے غصے کو کنٹرول کر لیا۔۔۔”

بہت غلط کیا اس لڑکی نے یار۔۔۔۔۔۔سمجھ نہیں آتا اپنے ساتھ ہوئے ہر حادثے کا ذمہ وہ مجھ پر کیوں ڈال دیتی ہے۔۔شیشے کے نفیس گلاس سے ڈرنک کا گھونٹ لیتے ہوئے وہ بولا۔۔۔۔علی کاظمی کے سمجھانے اور ڈرنک نے خاصا اثر کیا تھا اب پہلے کی طرح وہ طیش والی طوفانی کیفیت نہیں تھا۔۔غصہ کچھ مدھم ہو گیا تھا لیکن موجود تو بہرحال تھا ہی۔۔

یار دیکھو پہلے تم نے اسے فلم آفر کی چلو یہ پرپوزل تو ٹھیک تھا۔لیکن اس نے انکار کر دیا۔۔۔پھر تم نے اسے اپنے ساتھ ٹائم گزارنے کی آفر دی۔۔جو کہ تمہارے ہمارے لئیے اور ہماری فیلڈ کے لوگوں کیلئے ایک عام سی بات ہے مگر اس جیسی لڑکی کیلئے ان ڈیسنٹ پرپوزل تھا۔تمہیں چاہیے تھے تم اپنے اس پرپوزل پر معذرت کر لیتے اسے اٹھوانے ڈرانے دھمکانے کے بجائے نرمی سے ہینڈل کرتے۔۔۔۔۔تمہیں اتنی پسند تھی تو شریفانہ طریقے سے محبت کا جال پھینکتے۔۔۔۔۔۔اور پھر اس جال میں پھنسا کر محبت کے نام پر اتنا مجبور کر دیتے کہ وہ نا صرف تمہاری خواہش پوری کر دیتی بلکہ تمہاری فلم کی ہیروئن بھی بن جاتی۔مگر تم نے ہمیشہ جذبات سے کام لیا ہے۔تم ایموشنل بہت جلدی ہو جاتے ہو۔نتیجہ کیا نکلا تمہارے اس غلط پرپوزل کی وجہ سے تمہارا امیج اسکی نظر میں بری طرح مسخ گیا ہے۔۔۔۔اسی لئیے اب اپنے ہر نقصان کے پیچھے اسے تمہارا ہاتھ لگتا ہے۔ویسے یار مائنڈ مت کرنا ڈائریکٹلی تو نہیں بٹ ان ڈائریکٹلی اسکے ہر لاس کے پیچھے تمہارا ہی ہاتھ ہوتا ہے۔۔۔۔علی کاظمی صاف گوئی سے بولا۔۔۔

کیا مطلب۔۔اسکی غراہٹ نما آواز ہونٹوں سے خارج ہوئی۔بات سچی تھی لیکن کڑوی تھی۔۔

یہ تم مجھے کہہ رہے ہو کہ اسکے ہر نقصان کے پیچھے ان ڈائریکٹلی میرا ہاتھ ہوتا ہے۔۔تم بھول رہے ہو ایک نقصان کے پیچھے تو تمہارا بھی ہاتھ تھا۔۔۔ماحر نے بے حد طنزیہ نگاہ سے اسے دیکھتے ہوئے کہا”

علی کاظمی اس بات پر کوئی جواب نا دے پایا اور جز بز ہو کر رہ گیا۔۔۔۔”

اچھا اب تم کیا کر سکتے ہو میرے لئیے۔۔؟تمہارے ڈیڈ اس لڑکی کے ہمدرد ہیں نا ان کے دوست کی بیٹی جو ہے۔۔پھر تم کیا کرو گے میرے لئیے بھلا۔۔۔ماحر کا انداز ہنوز طنزیہ تھا۔

فکر مت کرو یار تمہاری دوستی مجھے بہت عزیز ہے۔ڈیڈ نے اس لڑکی کو سمجھایا تھا مگر وہ نہیں مانی تھی۔ابھی میری ان سے بات ہوئی ہے انہیں میں نے بتایا ہے سب۔۔۔وہ بھی بہت برہم ہیں اس پر۔۔۔۔

اپنے ڈیڈ سے کہو۔۔۔اسے سمجھائیں کیوں اپنی جان اور عزت گنوانا چاہتی ہے۔۔ایک اؤر ویڈیو بیان دے وہ جس میں مجھ پر لگائے تمام الزامات واپس لے۔۔۔۔اور ویڈیو میں مجھ سے معافی بھی مانگے۔۔تو پھر بخش دوں گا اسے۔۔۔وہ سرد لہجے میں کہہ رہا تھا”

ٹھیک ہے میں ڈیڈ کو فون کرتا ہوں وہ اسے سمجھائیں گے۔۔۔مگر تم کہاں جا رہے ہو اب۔۔۔؟؟میڈیا والے تمہارے ٹھکانوں کے باہر تمہاری تاک میں ہونگے۔۔۔۔علی کاظمی اسے اٹھتے دیکھ کر استفسار کرنے لگا۔۔۔

گھر کے باہر تو سیکیورٹی ڈیڈ نے سخت کروا دی تھی۔وہاں نہیں جا پائیں گے وہ۔۔۔میں اپنے پروڈکشن ہاؤس

جا رہا ہوں۔۔۔وہاں کے معاملات دیکھنے ہیں۔۔۔”

ٹھیک ہے لیکن پھر پہلے گارڈذ بلوا لو اپنے انکے ساتھ جانا۔۔۔۔۔علی کاظمی نے مشورہ دیا”

میں خود چلا جاؤں گا۔۔۔ڈرتا نہیں ہوں میں ان سالے میڈیا والوں سے۔۔وہ تنفر سے بولا”

اوکے جیسے تمہاری مرضی۔۔۔علی کاظمی نے کندھے اچکائے۔

سردی کی گلابی شام سرمئی ردا اوڑھنے لگی تھی۔۔۔دن لپیٹا جا رہا تھا۔۔۔۔رات کی چادر تننے والی تھا۔۔۔لان میں لگے درختوں پر بنے گھونسلوں میں پرندوں کی آمد شروع ہو چکی تھی۔رنگ برنگے پرندوں کی آوازوں سے فضا گونج رہی تھی۔۔۔حیات کچھ دیر کھڑی سب دیکھتی رہی اور پھر وہ بالکونی سے ہٹ کر اپنے کمرے میں آ گئی تھی۔

اسکے بال بکھرے ہوئے تھے۔۔لباس پر شکن تھا۔۔۔چہرہ سپاٹ تھا۔سرخ متورم آنکھیں گریہ وزاری کی گواہ تھیں۔کمرے میں آ کر آنکھیں بھیگتی چلی گئی تھیں۔

وہ بیڈ پر بے جان انداز میں بیٹھی گزرے لمحوں پر ماتم کناں تھی۔کچھ دیر پہلے ہی بوا نے منتیں کر کے اسے ہاسپٹل سے گھر بھیجا تھا تاکہ وہ کچھ دیر آرام کر لے۔یہاں اسکے پاس مون اور امینہ تھے۔جبکہ وہاں ہاسپٹل میں عبدالرحمان کے پاس رحمت بوا کے علاؤہ ظفر کاظمی بھی تھے۔۔۔۔۔اس نے ایک نظر سنگل بیڈ پر سوئے مون پر ڈالی اور اپنے بیڈ پر لیٹ گئی۔کچھ دیر پہلے ہی اس نے مون کو بہلا پھسلا کر زبردستی کھانا کھلانے کے بعد سلا دیا تھا۔۔وہ اپنے باپ کو مس کر رہا تھا۔انکے پاس جانے کی ضد کر رہا تھا۔لیکن حیات نے بہلا لیا تھا۔وہ نو سال کے اس بچے کو ہاسپٹل کے ایک کمرے میں بستر پر بے جان پڑے بابا کے پاس نہیں لے کر جا سکتی تھی۔۔جب وہ اپنے باپ کو پکارتا اور آگے سے کوئی جواب نا ملتا تو حیات اسے کیا بتاتی کہ انکے بابا ایسی کنڈیشن میں جا چکے ہیں جہاں نا ان کو زندہ کہا جا سکتا ہے اور نا مردہ۔۔۔

کافی دیر تک وہ سونے کی کوشش کرتی رہی۔ایک کروٹ کے بعد دوسری اور پھر اسی کروٹ پر یکدم اوندھے منہ اور پھر تھک کر وہ اٹھ بیٹھی۔۔۔

“۔۔۔۔۔اس شخص کے زندگی میں آنے سے پہلے وہ کافی سکون کی نیند سوتی تھی۔مگر جب اسکی زندگی کے کسی بدقسمت لمحے میں ماحر خان کی نظر اس پر پڑی تھی تب سے حیات عبدالرحمان کا چین و سکون غارت ہو گیا ہے”پہلے وہ باتوں اور دھمکیوں سے ٹارچر کرتا رہا۔پھر اسکے بعد اپنی دھمکیوں پر عمل کرنا شروع ہو گیا۔اور اس کی زندگی اجیرن کر دی تھی۔

اٹھ کر کمرے میں دو تین چکر یہاں سے وہاں کاٹے تھے”پھر ٹیبل پر رکھا گلاس اٹھایا۔جگ سے پانی انڈیلا اور ایک ہی سانس میں سارا پانی اندر انڈیل لیا۔۔حلق تھوڑا تر ہوا مگر اندر کے خوف کو معدوم نہیں کر پائی تھی۔۔ چار گھنٹے پہلے وہ جو کچھ کر کے آئی تھی اب نا جانے اس کا کیا نتیجہ نکلنا تھا۔اگرچہ ثوبیہ انجم نے یقین دلایا تھا کہ وہ اور اس کی ٹیم اس کا پورا پورا ساتھ دے گی۔۔۔مگر پھر بھی وہ ایک عجیب قسم کے خوف اور اضطراب میں مبتلا تھی۔۔۔شائد یہی خوف اسے پر سکون نہیں ہونے دے رہا تھا کہ اتنے بڑے آدمی سے ٹکرانے کا انجام کیا ہوگا۔اپنی پروا کرنا تو اب چھوڑ چکی تھی۔مگر اس کا معصوم بھائی نیم مردہ باپ اور رحمت بوا یہ لوگ تو تھے نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہیں اسکے کیے کا بھگتان اسکے پیاروں کو نا بھگتنا پڑے۔۔۔اسکے اندر وہمے وسوسے سر اٹھانے لگے”

“۔۔لوگوں کو ان فیئر کر کے کیسے سکون مل جاتا ہے۔مجھے تو فیئر کر کے بھی سکون نہیں ملتا۔وہ باآواز بلند بڑبڑائی تھی۔

آج دوپہر ایک بجے جب اس نے ثوبیہ انجم سے کنٹیکٹ کر کے رضامندی دی تو اس نے فوراً اسے اپنے ٹی وی سٹوڈیو پہنچنے کا کہا۔۔۔اب چونکہ کیمرے کے سامنے آ کر سب کچھ کہنا تھا سو اس نے برقع پہن لیا ایسے سب کے سامنے آنا اسے ٹھیک نہیں لگا۔بیشک وہ پردہ نہیں کرتی تھی مگر پھر بھی ہمیشہ خود کو سلیقے سے ڈھانپ کر رکھا تھا۔مگر اب معاملہ ٹی وی کا تھا سو برقعہ اسے بیسٹ آپشن لگا۔ جب وہ سٹوڈیو جا ہی رہی تھی تو سامنے روڈ پر صدر تھانے کا بورڈ دیکھ کر اسکے قدم خود بخود تھانے کی عمارت کی طرف اٹھ گئیے۔۔۔۔۔۔۔تھانیدار نے اسکی بات تو سنی مگر بنا کسی ٹھوس ثبوت کے وہ رپورٹ لکھنے پر راضی نہیں تھا۔پھر ایکدم اچانک سے وہ اسکی ایموشنل تقریر سن کر مان گیا۔۔۔۔۔۔رپورٹ لکھوانے کے بعد وہ ثوبیہ انجم کے چینل کے آفس پہنچی پھر کچھ دیر بعد وہ چہرے پر نقاب لئیے سچ ٹی وی کے پروگرام آئیں ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں میں اپنے ساتھ ہونے والے واقعات اور ان سب کے ذمہ دار ماحر خان کے بارے تفصیلات بتا رہی تھی۔شروع سے لے کر اینڈ تک اسکی کی گئی تمام حرکتوں سے پردہ اٹھا رہی تھی۔

فلمسٹار ماحر خان ایک نیچ کمینہ اور گرا ہوا انسان ہے۔ہماری یونیورسٹی میں شوٹنگ کیلئے آیا تھا۔۔۔۔وہیں پر مجھے دیکھ کر پیچھے پڑ گیا تھا۔۔۔۔۔اپنی فلم میں کام کرنے کیلئے فورس کرتا رہا اسکے لئیے مجھے کڈنیپ تک کیا۔بلیک میل کر کے کنٹریکٹ پیپرز پر زبردستی سائن کروا لئیے۔پھر بھی میں نہیں مانی تو اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا۔میرے گھر آ کر مجھے دھمکانے لگا۔میں ترکی گئی تو میرے پیچھے وہاں پہنچ گیا۔۔۔مجھے مینٹلی ٹارچر کرتا رہا۔۔اس شخص نے مجھے اپنی ضد بنا لیا ہر حال میں مجھے پانا چاہتا تھا۔اسی وجہ سے میری شادی والے دن میرے شوہر کا بے دردی سے قتل کروا دیا۔اسکے بعد مجھ سے شادی کرنے کیلئے مجھے اور میرے بابا کو بلیک میل کرنے لگا۔بابا کے صاف انکار پر انکی گاڑی کا ایکسیڈنٹ کروا دیا۔مگر اللّٰہ کے فضل سے وہ بچ گئے لیکن کومہ میں چلے گئے۔اب وہ آغا خان ہوسپٹل کے ایک کمرے میں نیم مردہ حالت میں پڑے ہیں جس کا ذمہ دار ماحر خان ہے۔میری وزیر اعظم صاحب سے درخواست ہے کہ مجھے انصاف دلایا جائے۔تمام اعلیٰ حکام سے اپیل ہے کہ وہ ماحر خان جیسے گھٹیا آدمی کو کیفر کردار تک پہنچانے میں میرا ساتھ دیں۔۔عوام سے بھی اپیل ہے کہ وہ میرا ساتھ دیں۔۔وہ بولتی گئی بے تحاشا بولتی گئی۔۔۔۔

اختتام پر ساتھ بیٹھی شو کی ہوسٹ نے اپیل کی کہ قوم کی اس مظلوم بیٹی کا ساتھ دیا جائے۔اسے ہر قسم کی سپورٹ فراہم کی جائے۔۔۔

جیسے جیسے شو چلتا گیا۔اسکی ریٹنگ اوپر آتی گئی۔

لاکھوں لوگوں نے گھر بیٹھ کر دیکھا جب ایک شریف پردہ دار لڑکی روتے ہوئے ایک فلمسٹار کا اصلی چہرہ عوام کو دکھا رہی تھی۔

اس وڈیو بیان نے تہلکہ تو مچا ہی دیا تھا۔شام تک کئی لوگ لڑکی کے حق اور ماحر خان کے خلاف نعرے بازی کرتے سڑکوں پر نکل آئے۔۔۔

اب یہ اور بات تھی کہ ان احتجاجی کارکنان میں زیادہ تر لوگ ماحر خان کے مخالفوں کے بھیجے ہوئے تھے جو پیسے لے کر اسکے خلاف نعرے بازی کرنے آئے تھے۔

وہ سوچوں میں گم چت لیٹی چھت کو گھور رہی تھی جب موبائل سکرین کو بلنک ہوتے دیکھا۔۔۔۔۔نمبر اجنبی تھا۔۔۔وہ موبائل ہاتھ میں لئیے اٹھ بیٹھی ایک عجیب سا خوف پورے وجود میں سرایت کر گیا۔۔۔کہیں وہی شخص نا ہو۔۔

ڈرتے ڈرتے اس نے کال ریسیو کی۔۔۔ارادہ تھا اگر آواز انجان ہوئی تو کاٹ دے گی کال”

ہیلو مس حیات کیسی ہیں آپ۔۔۔۔۔۔اسکے کال ریسیو کرتے ہی دوسری طرف سے بڑی بھاری بھرکم آواز میں خوشدلی سے پوچھا گیا۔

حیات کی ساری حسیات بیدار ہو گئی تھیں”

جی کون۔۔۔۔۔اس نے محتاط لہجے میں پوچھا”

ارے محترمہ تھانیدار رفیق کھوکھر بات کر رہا ہوں شام کو تو آپ آئی تھیں نا رپورٹ لکھوانے اس فلم والے کے خلاف۔۔۔۔دوسری طرف سے یاد دلایا گیا”

جی جی۔۔۔تو۔۔۔۔اس کا دل دھڑک اٹھا وہ فوراً الرٹ ہوئی”

“آپ سے کیس کے سلسلے میں کچھ ضروری بات کرنی ہے آپ کے گھر آ رہا ہوں۔۔۔۔

ابھی اسوقت۔۔۔وہ کچھ پریشان ہوئی کیونکہ رات کا وقت تھا۔

ہاں تو کیا ہوا۔۔۔۔ابھی کونسا آدھی رات ہوئی ہے۔۔۔۔میں ڈیوٹی سے فارغ ہوں۔۔پہلے آپ کی طرف آتا ہوں کیس کے بارے میں تفصیلی بات کرتے ہیں۔۔اس دوران آپ کے ہاتھ کی بنی چائے بھی پی لوں گا اور پھر گھر جاؤں گا۔۔دوسری طرف سے لائحہ عمل گویا پہلے سے تیار تھا”

ٹھیک ہے آ جائیں۔۔۔بادل نخواستہ اس نے اجازت دے دی ورنہ لمبی مونچھوں اور بڑی توند والے گینڈے نما اس سانولے سے تھانیدار کی صورت یاد کر کے ہی اسے وحشت ہونے لگی تھی”مگر یہ تسلی بھی تھی کہ وہ اکیلی نہیں تھی۔امینہ بھی تھی باہر گیٹ پر چوکیدار سرور بھی تھا۔

بیس منٹ بعد امینہ نے اسے تھانیدار رفیق کھوکھر کے آنے کی اطلاع دی۔۔۔۔۔۔۔وہ ڈوپٹہ اپنے گرد لپیٹ کر باہر نکلنے ہی لگی تھی کہ رک گئی اور پلٹ کر الماری سے بڑی سی چادر نکالی اور ڈوپٹے کے اوپر اسکو بھی پھیلا کے خود کو اچھی طرح ڈھانپ کر ڈرائنگ روم میں چلی آئی جہاں رفیق کھوکھر بیٹھا اپنی مونچھوں کو مروڑ رہا تھا۔۔۔

حیات کو دیکھتے ہی اسکی خباثت بھری سرمے والی آنکھوں میں چمک ابھری۔۔۔۔۔کالے موٹے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیلی۔جیسے کیس ڈسکس کرنے نہیں بلکہ دعوت پر آیا ہو۔

جی تھانیدار صاحب کہیے۔۔۔۔۔۔۔وہ اسکے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گئی اور اپنی ناگواری دبا کر بولی۔

اسے اس تھانیدار کے دیکھنے کا انداز اور مسکراہٹ بہت بری لگی تھی۔مگر ضبط کر گئی تھی۔۔

تھانیدار نے ایک بار پھر اپنے موٹے ہونٹوں کو پھیلایا اور ساتھ ہی صوفے پر بھی یوں پھیل کر بیٹھ گیا۔گویا اپنے گھر کے ڈرائنگ روم میں بیٹھا ہو۔

آپ کے کیس پر میں نے بہت سوچا ہے۔کیس چونکہ کسی عام بندے پر نہیں ہے اسلیئے بڑا خطرہ ہے اس میں۔۔ ڈی آئی جی صاحب سے بھی بات کی وہ خود گھبرا گئے تھے ماحر خان کا نام سن کر۔۔انہوں نے تو مجھے منع کر دیا کہ میں اسکے خلاف کوئی کمپلین درج نا کروں۔۔۔

مگر۔۔۔۔۔۔

“۔۔۔اپنی بات کے ری ایکشن میں اس کے مایوس پڑتے حسین سوگوار چہرے پر نظریں گاڑے وہ ایک لمحے کو رکا۔۔۔

حیات نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔اگرچہ اس کا بالکل دل نہیں چاہ رہا تھا اس بندے کو دیکھنے کا۔۔۔۔۔۔لیکن مجبوری تھی”

مگر آپ کیلئے میں کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں۔۔۔۔لیکن اسکے لئیے آپ کو بھی کچھ تعاون کرنا ہوگا میرے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔وہ معنی خیز لہجے میں بولا

کیا تعاون۔۔۔۔۔۔وہ مرے مرے لہجے میں بولی۔۔۔۔سامنے بیٹھے اس تھانیدار کی آنکھوں کی خباثت وہ پہچان گئی تھی اب۔۔۔

کچھ نہیں بس تھوڑا بہت ٹائم ہمیں دے دینا۔بدلے میں ہم آپ کیلئے سر دھڑ کی بازی لگا کر اس ایکٹر کو سزا دلوائیں گے۔۔وہ اپنی بھدی مسکراہٹ کے ساتھ بولا”

یعنی تھانیدار کی شکل میں ایک اور ماحر خان۔۔۔

اسکی گھٹیا بات سن کر حیات کے تو تن بدن میں آگ لگ گئی۔۔۔اگرچہ اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ ایسی ہی کوئی غلیظ بات کہنے والا تھا”مگر سننا پھر بھی ناقابل برداشت تھا۔

اے سی کی فل کولنگ میں بھی مساموں سے پسینہ پھوٹ پڑا۔

آپکی ہمت کیسے ہوئی اتنی گھٹیا بات بولنے کی۔۔ابھی کے ابھی میرے گھر سے نکل جائیں۔۔۔۔وہ کھڑے ہو کر چلائی۔۔۔

میں تو آپ کی مدد کر رہا تھا اور آج کے دور میں کون الو کا پٹھا ہو گا جو بنا مطلب کے کسی کی مدد کرے گا۔۔اسکے ری ایکشن پر ایک لمحے کو تو وہ بوکھلا گیا

پھر سنبھل کر طنزیہ انداز میں بولا۔

مجھے آپ کی مدد نہیں چاہیے مہربانی کر کے جائیں یہاں سے۔۔۔امینہ

وہ سخت لہجے میں بولی اور ساتھ ہی امینہ کو آواز لگائی۔۔وہ بوتل کے جن کی طرح حاضر ہوئی۔۔۔

ان صاحب کو باہر کا راستہ دکھائیں۔۔۔ماتھے پر بل ڈالے کھڑے تھانیدار کو تنفر سے دیکھتی وہ ڈرائنگ روم سے نکل گئی۔رفیق کھوکھر بھی ایک گھوری امینہ پر ڈالتا مونچھوں کو تاؤ دیتا باہر نکل گیا”

باہر گھپ اندھیرا پھیل چکا تھا۔رات ہو چکی تھی مگر اسے وقت کا کوئی احساس نہیں تھا۔۔۔۔۔وہ پروڈکشن ہاؤس میں اپنے پرائیویٹ روم میں بیٹھا تھا۔کچھ دیر پہلے سیکریٹری فراز اور مینیجر فرقان باری باری آئے تھے مگر اس نے دروازے پر سے ہی انہیں لوٹا دیا تھا۔اس کا پورا وجود جیسے کسی نے جلتے الاؤ میں اٹھا کر ڈال دیا تھا۔علی کاظمی کے سمجھانے پر وہ بظاہر تو ٹھنڈا ہو گیا تھا۔مگر اندر لگی آگ کم نہیں ہو پائی تھی۔

بالآخر رات دو بجے وہ اٹھ کھڑا ہوا۔مرے مرے قدموں سے چلتا پروڈکشن ہاؤس سے باہر نکلا۔۔۔رات دو بجے پورا فلور کیا پوری بلڈنگ ہی ویران ہو رہی تھی۔شام سے باہر دھرنا مارے بیٹھے رپورٹرز بھی جا چکے تھے۔جو اس سے بات کرنے کیلئے کئی گھنٹوں

باہر روڈ پر جمے رہے تھے۔مگر اب وہاں سیکیورٹی گارڈز کے علاؤہ کوئی ذی روح نہیں تھا۔اپنے گارڈز کو پہلے ہی وہ وہاں سے بھیج چکا تھا۔۔۔گاڑی میں آ کر بیٹھا تو گاڑی سٹارٹ کرتے ہی اسکی نظر آئینے میں نظر آتے اپنے عکس پر پڑی۔۔۔۔اپنی بے تحاشا سرخ ہوتی آنکھوں میں اسے وحشت ہی وحشت نظر آئی۔یہ وحشت صرف اسکی آنکھوں میں نہیں اسکے پورے وجود میں سرایت کر چکی تھی۔۔

اسکی آنکھوں میں چھائی وحشت اسوقت کوئی دیکھ لیتا تو بری طرح ڈر جاتا۔

اس کا اپنے گھر جانے کو جی نہیں چاہ رہا تھا۔وہ بے مقصد یونہی سڑکوں پر گاڑی دوڑاتے رہنا چاہتا تھا۔اگرچہ دن کے وقت پبلک پلیسز پر اکیلے گھومنا بہت مشکل ہوتا تھا اس کیلئے۔مگر اسوقت کون پہچان سکتا تھا اسے بھلا۔۔۔۔۔وہ اسوقت دنیا کے کسی بھی فرد سے ملنا بات کرنا نہیں چاہتا تھا مگر پھر بھی گاڑی اس نے گھر کے راستے پر ڈال ہوئی تھی۔۔۔سکندر علی خان تو بزنس ٹور پر فرانس گئے ہوئے تھے۔۔مگر فائزہ سکندر گھر پر تھیں جو پچھلے کئی گھنٹوں میں اسے کئی بار فون کر چکی تھیں۔۔مگر ماحر نے فون کو سائلنٹ پر کر دیا تھا۔سکندر خان کی بھی کئی کالز آئی تھیں مگر اس نے ریسیو نہیں کیں۔۔۔۔پورچ میں گاڑی کھڑی کر کے وہ وسیع وعریض اور طویل روش کو عبور کرتا گھر کے مرکزی دروازے کی طرف بڑھا تو دروازہ کھلنے کی آواز پہلے ہی سنائی دے گئی تھی۔سامنے ہی فائزہ سکندر کھڑی تھیں۔اسکی گاڑی کے اندر آنے کی آواز سن کر وہ ادھر آئی تھیں۔ان کے چہرے پر شدید پریشانی بکھری ہوئی تھی۔

ماحر کیا ہے یہ سب۔۔۔؟

کیوں بار بار میڈیا میں تمہارے متعلق ایسی باتیں ہو رہی ہیں۔؟

کون ہے وہ لڑکی جو تم پہ اتنے سنگین الزامات لگا رہی ہے۔۔؟؟کیا تعلق ہے تمہارا اس سے۔۔؟؟

اور تم پروڈکشن ہاؤس میں اتنی دیر کیوں رکے رہے۔؟؟

فون کیوں نہیں اٹھایا تم نے نا میرا نا اپنے ڈیڈ کا۔۔؟

انہوں نے ایک ہی سانس میں کئی سوال کر ڈالے”وہ پریشان تو تھیں لیکن برہم بھی لگ رہی تھیں”

پلیز مام میں اس بارے میں فلحال کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔تھکا ہوا ہوں سونا چاہتا ہوں۔گڈ نائٹ۔ان کے تمام سوالوں کو نظر انداز کرتا اندر داخل ہوا اور وہاں ایک پل بھی ٹھہرے بنا سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔

فائزہ سکندر اسکے پیچھے آ رہی تھیں۔وہ ماں کا بے چینی سے اپنے پیچھے آنا محسوس کر رہا تھا لیکن انکی کوئی بات سننے کیلئے رکا نہیں۔اور تیز قدموں سے سیڑھیاں چڑھ کر سیدھا اپنے کمرے میں آ گیا۔

وہ چئیر پر جا بیٹھا۔جیب سے سگریٹ کا پیکٹ اور لائٹر نکال کر اس نے ایک سگریٹ سلگائی۔ایک کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری سلگائی۔۔۔۔باقی رہ جانے والی رات کے یہ چند گھنٹے اس نے ایک کے بعد ایک سگریٹ سلگاتے اور حیات عبدالرحمان کے بارے میں سوچتے گزاری۔۔۔⁦

وہ ہمیشہ سے آسمانوں پر اڑتا آیا تھا۔

زندگی پھولوں۔خوشبوؤں اور اجالوں میں بسر کی تھی۔

جو چاہا وہ پایا۔۔۔۔من مانی کرنا اس کا شیوہ تھا۔

اپنی منوانا جتوانا ہابی تھی۔مگر اس لڑکی کے معاملے میں ہمیشہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اور یہ بات اسے سخت جھنجلاہٹ میں مبتلا کر رہی تھی۔

حیات عبدالرحمان تم اب میرے لئیے بہت اہم ہو تمہارا حصول میرے لئیے ایک چیلنج بن چکا ہے۔۔۔۔۔شائد یہ تمہاری محبت ہے جو مجھے دیوانہ بنا رہی ہے۔اب میں تب تک چین سے نہیں بیٹھوں گا جب تک تمہیں اپنے لئیے اپنی طرح بے قرار نا کر دوں۔تب تک مجھے سکون نہیں مل سکتا جب تک تمہارے لئیے میری دوری روح فرسا خیال نا بن جائے۔۔وہ سگریٹ پیتے دل میں عہد کرتا رہا تھا۔⁩

صبح کو وہ ہاسپٹل جانے کیلئے نکل رہی تھی کہ چوکیدار نے اطلاع دی عادل نیازمی نامی کوئی شخص اس سے ملنے آیا ہے۔پہلے اس نے سوچا کہ انکار کر دے پھر پتہ نہیں کیا سمایا دل میں کہ چوکیدار کو اسے اندر بھیجنے کو کہا۔۔۔

عادل نیازمی نامی وہ شخص جب اندر آیا تو حیات کو اس کا چہرہ دیکھا دیکھا سا لگا مگر وہ فوری طور پر پہچان نا ہائی۔

اس نے جب اپنا تعارف کروایا تو پھر اسے خیال آیا کہ اسے شائد اس نے کبھی ٹی وی پر دیکھا ہے۔۔لیکن یہ جان کر کہ وہ فلمسٹار ہے حیات کا رویہ سرد ہو گیا جسے عادل نیازی نے محسوس کر لیا تھا”

آپ شائد فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے سخت بدظن ہیں۔مگر جس طرح پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں اسی طرح سب فلمسٹارز بھی ایک جیسے نہیں ہوتے۔۔ میں آپ کی مدد کرنا چاہتا ہوں ماحر خان کو سزا دلوانے میں۔ وہ رسانیت سے کہہ رہا تھا”

لیکن آپ کیوں میری مدد کرنا چاہتے ہیں۔آجکل کے دور میں بنا کسی مطلب کے کوئی کسی کی مدد نہیں کرتا۔۔وہ اسے مشکوک نگاہوں سے دیکھتی روکھے لہجے میں کہہ رہی تھی۔

آپ صحیح کہہ رہی ہیں بنا مطلب کے کوئی کسی کی ہیلپ نہیں کرتا۔۔میرا بھی مطلب ہے لیکن آپ سے نہیں۔ماحر خان سے کچھ پرانے حساب کتاب نکلتے ہیں میرے۔۔اسکو سزا دلوا کر اپنا حساب چکانا چاہتا ہوں

آپ کو بھی انصاف مل جائے گا۔۔۔اس نے کچھ اس انداز سے کہا کہ ناچاہتے ہوئے بھی اسے یقین کرنا ہڑا۔۔۔۔

“ٹھیک ہے پھر کوئی بڑا اور قابل وکیل ہائر کرنے میں میری مدد کریں۔۔۔۔اسے جانچتے ہوئے انداز سے دیکھتے حیات نے م کہا۔

ٹھیک ہے میں کل ہی کسی قابل اور اعلیٰ چوٹی کے وکیل سے بات کرتا ہوں۔۔۔اس نے فوراً ہامی بھر لی تھی۔چند مزید رسمی باتوں کے بعد عادل نیازی نامی وہ اداکار رخصت ہو گیا تھا۔مگر جس وقت وہ جا رہا تھا اسی وقت ظفر کاظمی بھی وہاں چلے آئے تھے۔وہ عادل نیازی کو جانتے تھے۔مگر چونکہ انکے بیٹے علی کاظمی کی اسکے دشمن ماحر خان سے دوستی تھی سو کاظمی اور اس کا بیٹا بھی اس کے ان ڈائریکٹ دشمنوں کی کیٹگری میں آتے تھے۔۔۔۔۔عادل نیازی اسے اگنور کرتے نکل گیا تھا۔

یہ کیا کرنے آیا تھا یہاں۔۔۔۔؟اندر داخل ہوتے ہی انہوں نے سامنے کھڑی حیات سے ناگوار لہجے میں پوچھا۔ان کے چہرے کے سرد گھمبیر تاثرات بتا رہے تھے کہ کچھ گڑ بڑ ہے۔وہ ہاسپٹل سے شائد سیدھے یہیں آ رہے تھے۔

کیا ہوا انکل بابا تو ٹھیک ہیں نا۔۔۔؟؟ابھی تو بوا سے میری بات ہوئی۔۔ان کے سوال کو نظر انداز کرتے وہ عبدالرحمان کا پوچھنے لگی ۔اسکے دل میں ہول اٹھنے لگے تھے۔

میں تم سے یہاں تمہاری اس حرکت کے بارے میں بات کرنے آیا ہوں۔جو تم کر آئی ہو۔۔حیات بہت غلط کیا ہے تم نے۔میں نے تمہیں منع کیا تھا نا۔۔۔وہ سخت ناراض لہجے میں کہہ رہے تھے۔

پہلے والی نرمی کی جگہ برہمی نے لے لی تھی۔

حیات کو اپنے کیے پر کوئی پچھتاوا نہیں تھا۔کیونکہ اس کی نظر میں اس نے جو کچھ کیا تھا اور اب جو کرنے جا رہی تھی بالکل ٹھیک تھا۔۔۔وہ خود کو حق بجانب سمجھ رہی تھی۔لیکن وہ اپنے خیالات اپنے نظریات اب کسی کو زبردستی قائل کرنے سے تو رہی۔سو سپاٹ چہرے کے ساتھ خاموش کھڑی رہی۔

تم میرے دوست کی بیٹی ہو مجھے تمہاری فکر ہے۔لیکن جس شخص سے تم پنگا لے رہی ہو جانتی ہو کتنا بڑا آدمی ہے وہ۔۔۔۔کیا کر سکتا ہے وہ تمہارے ساتھ۔۔اسکی خاموشی نے ظفر کاظمی کے انداز میں مزید برہمی پیدا کر دی۔وہ اسے ڈانٹ رہے تھے۔ڈرا رہے تھے.

مگر جانتے نہیں تھے۔اس لڑکی کے دل سے اب ڈر نکل چکا تھا۔وہ نفع و نقصان کی پروا کیے بنا میدان میں اتری تھی۔۔۔۔

مجھے کوئی پروا نہیں کہ وہ شخص کیا کیا کر سکتا ہے۔جہاں تک ہو سکے گا میں اسکے ساتھ لڑوں گی۔اگر اس لڑائی میں جیت میری نا بھی ہو سکی تو بھی کل کو مجھے پچھتاوا تو نہیں ہوگا کہ میں اسکی پاور سے ڈر کر بزدلوں کی طرح خاموش بیٹھی رہی تھی۔

وہ نڈر انداز میں بولی۔۔۔اسکے ارادے کسی چٹان کی طرح سخت اور مضبوط لگ رہے تھے۔۔۔

تم بہت ضدی لڑکی ہو۔۔۔وہ جز بز ہو کر بولے۔۔

کچھ دیر کے توقف کے بعد دوبارہ کہا۔۔۔

دیکھو حیات اگر مجھے اپنے باپ کی طرح سمجھتی ہو تو میری بات مانو۔تم دوبارہ ٹی وی پر جاؤ۔یا پھر میں میڈیا والوں کو یہیں بلا دیتا ہوں۔۔تم انکے سامنے ایک اور ویڈیو بیان دو۔۔۔۔جس میں تم کہو کہ تمہیں غلط فہمی ہو گئی تھی ماحر خان کا اس میں کوئی ہاتھ نہیں اور تم اسے سے معافی مانگتی ہو۔۔۔۔۔اپنے تمام الزامات واپس لیتی ہو۔۔ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔

وہ قطعیت بھرے انداز میں بولے”

حیات کو شاک لگا انکے مطالبے سے۔

وہ حیرانی سے انہیں دیکھنے لگی۔

اگلے ہی پل وہ بھی برہم انداز میں بولی۔۔سوری انکل میں ایسا کچھ نہیں کرنے والی۔کیونکہ میں جانتی ہوں میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔۔۔ارتضیٰ کے انصاف کیلئے مجھ سے جو ہو سکا میں کروں گی۔۔اس کا لہجہ اور انداز اٹل تھا۔

اسکی ہٹ دھرمی پر ظفر کاظمی کو بے تحاشا غصہ آیا تھا۔۔وہ اسے مزید کچھ کہنے ہی والا تھا کہ اس کا فون بج اٹھا۔۔

ہیلو۔۔۔۔۔

کیا۔۔۔کب اور کیسے لگی آگ۔۔۔۔انکے ہیلو کے جواب میں جو کچھ بتایا گیا۔اسے سن کر وہ بری طرح پریشان ہو گئے۔

اوکے اوکے میں آ رہا ہوں۔۔۔جلدی جلدی بول کر انہوں نے موبائل بند کر کے جیب میں رکھا اور وہاں سے چلے گئے البتہ جانے سے پہلے ایک ناراض نظر اس پر ڈالی جو سپاٹ چہرے کے ساتھ وہاں کھڑی تھی۔

بی بی جی وہ باہر کچھ ٹی وی والے آئے ہیں آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ظفر کاظمی کے جانے کے بعد امینہ نے بتایا”

ٹھیک ہے انہیں وہیں روکو میں آ رہی ہوں۔۔وہ مڑ کر اپنے کمرے میں چلی گئی وہاں جا کر نقاب پہنا اور گیٹ پر آ گئی۔۔

میڈیا والے اس سے وہی سوالات کر رہے تھے جنکی اسے امید تھی۔۔اور جوابات بھی تیار تھے۔

ماحر خان آپ کے پیچھے کیوں پڑا۔۔۔؟

آپ نے اسکی فلم آفر کو کیوں ٹھکرایا۔۔۔؟

آپ نے اسکی دھمکیوں بھری کال ریکارڈنگز وائرل کیں جواب میں اسی لئیے اس نے آپ کو کڈنیپ کروایا۔۔۔؟

آپ کے شوہر کو اس نے کیوں مارا وغیرہ وغیرہ۔۔

وہ بڑے اعتماد سے جواب دیتی رہی۔پندرہ منٹ میڈیا والوں سے بات کرنے کے بعد وہ ہاسپٹل آ گئی۔۔

وہ عبدالرحمان کے سرہانے بیٹھی قرآن پاک پڑھ رہی تھی۔آنسو بھر بھر اسکی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔

نلیوں میں جکڑے وہ کسی بے جان مردے کی طرح لیٹے ہوئے تھے۔رحمت بوا کچھ فاصلے پر ہاتھ میں تسبیح لئیے بیٹھی تھیں۔۔⁩

دو دن گزر گئے۔۔۔نا تو عادل نیازی نے کنٹیکٹ کیا اور نا

کاظمی انکل نے۔۔اور نا وہ عبدالرحمان کو دیکھنے آیا۔۔۔۔۔۔تین دن بعد اچانک وہ ہاسپٹل آ گیا۔۔۔۔حیات انہیں دیکھ کر پر سکون ہوئی کیونکہ وہ یہی سمجھ رہی تھی کہ وہ اس سے ہمیشہ کیلئے ناراض ہو گئے ہیں۔

شکر ہے انکل آپ آ گئے ورنہ میں ڈپریس تھی کہ آپ اب کبھی نہیں آئیں گے بابا کو دیکھنے۔۔وہ پھیکی سے مسکراہٹ کے ساتھ بولی”

ظفر کاظمی نے اسے کوئی جواب نہیں دیا اور سپاٹ نظروں سے مشینوں میں جکڑے آنکھیں بند کیے عبدالرحمان صاحب کی طرف دیکھتے رہے جیسے کچھ سوچتے رہے تھے پھر حیات کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کر کے باہر نکل گئے۔

ہاسپٹل کے وسیع و عریض گراؤنڈ میں ایک طرف گھاس پر رکھے سنگی بینچ پر وہ بیٹھ گئے اور اسے بھی سامنے والے بینچ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔

حیات خاموشی سے انہیں دیکھتی انکے بولنے کی منتظر تھی۔۔

انہوں نے گلہ کھنکھار کر صاف کیا اور پھر خشک لہجے میں گویا ہوئے۔

دو دن پہلے میری فیکٹری میں آگ لگ گئی تھی۔کچھ نہیں بچا سب کچھ جل کر راکھ ہو گیا۔۔اسکے علاؤہ میں کنسٹرکشن کمپنی بھی چلا رہا ہوں جس میں تمہارا باپ میرا پارٹنر تھا۔۔لیکن اسکے شئیرز صرف چالیس فیصد تھے۔جبکہ میرے ساٹھ فیصد۔۔بولتے بولتے وہ ایک سیکنڈ کیلئے چپ ہو گئے۔

حیات دم سادھے بیٹھی سن رہی تھی۔بات بزنس کی تھی تو یقیناً کوئی نا کوئی بری خبر تھی کیونکہ ان کا انداز اور مزاج اتنا سرد لگ رہا تھا کہ اسے یقین ہو گیا کوئی ٹینشن والی بات ہو گی۔ کسی متوقع پریشانی کا سوچ کے ہی اس کا بی پی لو ہونے لگا۔۔۔

انکل آپ یہ سب مجھے کیوں بتا رہے ہیں۔۔۔؟وہ گھبرا کر بول پڑی”

کیونکہ اب تمہارا باپ تو اس پوزیشن میں ہے نہیں کہ اس سے بات کی جائے سو تم سے ہی کروں گا۔وہ جس طرح تیز لہجے میں بولے حیات تو ان کے انداز پر حق دق رہ گئی۔

“۔۔تمہارے باپ نے جتنا پیسہ لگایا تھا کاروبار میں اس سے ڈبل اس نے وصول کیا۔جب بھی وہ مانگتا تھا میں اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے بنا کوئی سوال کیے اسے دے دیتا تھا۔سائرہ بھابھی کے علاج پر سارا پیسہ میں نے لگایا عبدالرحمان کا اکاؤنٹ تو کب کا خالی ہو چکا تھا۔۔۔۔۔جانتی ہو امریکہ جانے سے پہلے میں نے انہیں دو کروڑ کا چیک دیا تھا۔وہاں وہ ایک مہینہ رہے سائرہ بھابھی کو دن میں دو انجکشن لگتے تھے جن کی قیمت ایک ایک لاکھ روپے ہوتی تھی۔۔۔۔۔کل ملا کر تمہارے باپ نے ساڑھے چار کروڑ لیا مجھ سے۔۔۔۔۔۔۔اور جب میں نے دو کروڑ کا چیک انکے ہاتھ پر رکھا تھا تو انہوں خود اصرار کر کے اپنا ایک کروڑ کا بنگلہ یعنی اپنا گھر گروی رکھوا دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔کہ اگر انہیں قرض ادا کرنے سے پہلے کچھ ہو گیا یا وہ ایسی پوزیشن میں چلے گئے جہاں مجھے لگے کہ وہ میرا قرض ادا نہیں کر سکتے تو میں ان کا گھر اپنے قبضے میں لے سکتا ہوں۔یہ ساری کاغذی کاروائی وکیل مسٹر بیگ نے کی جو کہ تمہارے بابا کے دوست بھی ہیں۔دو دن پہلے میری اپنی ذاتی فیکٹری میں آگ لگ گئی سب کچھ جل کر راکھ ہو گیا جو بزنس تمہارے باپ کے ساتھ مل کر شروع کیا تھا وہ بھی ڈوبنے کے آخری دہانے پر ہے کچھ نہیں بچا میرے پاس۔۔۔۔اگر اپنے ڈوبتے بزنس کو نا سنبھالا تو میں دو دن میں ہی سڑک پر آ جاؤں گا۔لہذا مجھے پیسوں کی سخت ضرورت ہے۔

دو دن تک مجھے میری وہ تمام رقم چاہیے جو عبدالرحمان نے مجھ سے لی تھی۔۔

انکا لہجہ مروت۔لحاظ احساس سے ان سب سے بالکل عاری تھا۔۔۔اسوقت وہ ایسے انسان لگ رہے تھے جنہیں دوسرے کی مجبوری سے نہیں صرف اور صرف اپنے پیسے سے غرض تھی۔

انکل میں کہاں سے لاؤں اتنی بڑی رقم اور بابا نے تو مجھے کبھی نہیں بتایا اس سب کے بارے میں۔۔۔وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی۔۔

اس کیلئے یہ بہت بڑا شاک تھا کہ اس کے بابا ساڑھے چار کروڑ کے مقروض تھے۔

اب تمہارے باپ نے تمہیں کیوں نہیں بتایا کہ بات مجھے نہیں معلوم۔لیکن مجھے اپنے پیسے ہر حال میں اور دو دن کے اندر اندر چاہیں۔۔۔۔۔۔ورنہ تمہیں اپنا گھر چھوڑنا ہوگا۔۔

ویسے تو وہ گھر اور اس میں موجود سامان کو بیچ کر بھی میری رقم پوری نہیں ہو سکتی لیکن تمہارے باپ سے دوستی کے ناطے اتنی رعایت پھر بھی دے رہا ہوں۔کہ اسی گھر اور سامان پر اکتفا کر لوں گا۔۔۔۔۔باقی رقم معاف کر دوں گا۔۔۔

بے رحم انداز میں بولتے ہوئے ذرا سی رحمدلی بھی دکھانی چاہی۔

انکل میں گھر نہیں بیچ سکتی اگر گھر بیچ دونگی تو خود کہاں جاؤں گی۔آپ پلیز مجھے ٹائم دیں میں کوئی جاب ڈھونڈھ لوں گی اور آپ کا سارا قرض آہستہ آہستہ کر کے ادا کر دونگی۔۔۔وہ روہانسی ہو کر بولی

ہونہہ جاب۔۔کتنی ایجوکیشن ہے تمہاری جس کے بل بوتے پر تمہیں ایک کروڑ منتھلی سیلری والی جاب مل جائے گی۔۔۔۔۔۔وہ تمسخرانہ انداز میں گویا ہوئے۔

حیات کو انکے رویے پر رونا آنے لگا۔۔۔۔اتنے نرم شفیق رویے والے کاظمی انکل کیسے اچانک ایکدم سے بدل گئے تھے۔سچ کہتے ہیں جب برا وقت آتا ہے تب لوگوں کا اصلی چہرہ دیکھنے کو ملتا ہے۔

لڑکی تمہیں میری بات سمجھ میں نہیں آئی۔مجھے دو دن کے اندر اندر پیسوں کی سخت ضرورت ہے۔اگر تم گھر نہیں بیچ سکتی تو کسی سے ادھار لے لو۔۔۔ویسے بھی جب سے ماحر خان کے خلاف میڈیا میں گئی ہو تمہارے تو بڑے ہمدرد سامنے آ گئے ہیں۔وہ طنزیہ انداز میں بولے۔۔۔شائد عادل نیازی کا طعنہ دے رہے تھے۔

کون مجھے اتنی بڑی رقم ادھار دے گا۔۔؟؟انکے طنزیہ انداز اور گھٹیا طعنے کو نظرانداز کر کے وہ ڈبڈبائی آنکھوں سے دیکھتی الٹا انہی سے پوچھنے لگی۔

مجھے کیا پتہ جیسے کردار کی تم لڑکی ہو ایک سے مانگو گی سو کی لائن لگ جائے گی دینے کیلئے۔۔وہ حقارت سے بولے۔۔۔

انکل۔۔۔۔۔۔حیات کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ایک پل میں ظفر کاظمی اسکی نگاہوں سے گر گیا۔

ہونہہ۔۔۔سچ برداشت کہاں ہوتا ہے

آپ میرے بابا کی طرح تھے آپ سے مجھے ایسی امید ہرگز نہیں تھی۔آنسوؤں کے بیچ وہ شکوے بھرے انداز میں بولی۔۔ سخت حیران تھی وہ ظفر کاظمی کے اس روپ اور رویے نے اسے بے تحاشا ٹھیس پہنچائی تھی۔

اپنے ایموشنل ڈائیلاگز اپنے پاس رکھو۔دو دن کا ٹائم ہے تمہارے پاس۔۔۔۔۔۔میری رقم ادا کر دو ورنہ تیسرے دن پولیس کو لے کر آؤں گا۔۔یا تو رقم دینی ہو گی یا گھر میرے حوالے کرنا ہوگا۔۔وہ سنگدلی سے کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔

انکل پلیز ایسا مت کریں۔۔۔میں کہاں جاؤں گی بابا کا علاج کیسے کرواؤں گی۔۔۔۔۔آپ کو بابا کی دوستی کی قسم ایسا مت کریں۔۔۔وہ آس پاس لوگوں کو ایک نظر دیکھ کر ظفر کاظمی کے آگے گڑ گڑانے لگی۔انکی منت سماجت کرنے لگی۔

مگر ان پر حیات کے گڑ گڑانے کا کوئی اثر نا ہو چہرے پر ویسی ہی سرد مہری چھائی رہی۔۔۔

میں جا رہا ہوں۔اب پرسوں ملاقات ہو گی۔۔۔وہ چل پڑے

انکل۔۔انکل پلیز خدا کیلئے ایسا مت کریں۔۔۔۔حیات انکے پیچھے بھاگی۔۔۔

ٹھیک ہے لیکن پھر اس کا ایک ہی حل ہے۔۔اسکی منت سماجت پر وہ رک گئے اور گہری نظروں سے کچھ دیر اسے دیکھتے رہے۔جس کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا اور وہ رحم بھرے انداز میں التجائی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔

انکی بات پر حیات کا رکا ہوا سانس بہال ہوا۔امید پیدا ہونے لگی۔

وہ کیا انکل۔۔۔۔؟؟اس نے بے چینی سے پوچھا

دیکھو فیکٹری بزنس سب اگرچہ تباہ ہو چکا ہے میرا لیکن میں اس نقصان کو اس صورت میں برداشت کر سکتا ہوں جب بدلے میں کچھ تو بھر پائی ہو۔۔۔۔۔تم تو جانتی ہو میری بیوی کا بہت سالوں پہلے انتقال ہو چکا ہے۔اکلوتا بیٹا بھی زیادہ تر باہر ہی رہتا ہے۔۔۔تنہائی سے میں اکتا چکا ہوں اگر تم میری تنہائی دور کر دو مجھ سے نکاح کر لو تو نا صرف سب رقم معاف کر دوں گا۔بلکہ تمہارے باپ کا علاج اور ماحر خان کو سزا دلوانے میں بھی تمہاری مدد بھی کروں گا۔۔۔

وہ سن دل و دماغ کے ساتھ کھڑی کی کھڑی رہ گئی۔سماعت بصارت گویائی سلب ہو گئی تھی۔صرف یکے بعد دیگرے ہوتے ذہن میں دھماکوں کو سن رہی تھی۔

اس نے کیا سوچا تھا اور کیا نکلا۔۔۔۔ظفر کاظمی جو اسکی باپ کی عمر کا تھا۔۔بیٹی بیٹی کہنے والا اب بیوی بنانا چاہتا تھا۔اس کے دماغ پر ہتھوڑے برس رہے تھے ذہن کے کسی گوشے میں بلکہ وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ کوئی ایسی بات بھی کہہ سکتے تھے۔

حیرت۔ بے یقینی اور صدمے سے وہ آنکھیں پھاڑے انہیں دیکھ رہی تھی