Meri Hayat By Zarish Hussain Readelle50271 Meri Hayat (Episode 52)
Rate this Novel
Meri Hayat (Episode 52)
Meri Hayat By Zarish Hussain
آسمان سیاہ تھا۔تاریکی نے ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔تیز سرد ہوا بادلوں کی گرج چمک کے ساتھ ہلکی ہلکی بوندا باندی بھی جاری تھی۔رات کے بارہ بج رہے تھے۔ جب اسکی بلیک ہنڈا نے خان ہاؤس کا گیٹ کراس کیا اور پورچ میں آ کر رک گئی۔۔تھکے تھکے انداز میں اس نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور باہر آیا۔۔۔۔لائٹ براؤن سلکی بال پیشانی پر بے ترتیبی سے بکھرے ہوئے تھے۔۔۔جیکٹ کے آگے والے سارے بٹن کھلے ہوئے تھے۔۔۔شرٹ بھی گریبان سے اوپن تھی۔۔بارش کی نمی کہیں کہیں کپڑوں اور بالوں پر ٹھہری ہوئی تھی۔۔۔۔
فلمی دنیا کا کامیاب ترین ہیرو اس وقت ایک ہارا ہوا ناکام ترین عاشق لگ رہا تھا۔۔
“مقناطیسی کشش کا حامل چہرہ بجھا بجھا سا تھا۔۔
حیات عبدالرحمان کو اپنی طرف مائل کرنے میں نا اس اکی بے مثال وجاہتیں کام آئیں اور نا اسکی محبت کئیر اور اچھائیاں۔اس کے دل میں اپنے لئیے نرم جذبات پیدا کرنے میں وہ مکمل طور پر ناکام رہا تھا۔اس لڑکی کے سینے میں دھڑکتا دل اب شائد کوئی پتھر بن چکا تھا جسے اب خود خدا ہی پگھلا سکتا تھا۔۔۔
حیات عبدالرحمان کو اس کا فلیٹ چھوڑے چار دن ہو گئے تھے۔جب اسے اسکے چلے جانے کا پتہ چلا تھا تو وہ بری طرح کٹ کر رہ گیا تھا۔یہ بات اسکے لئیے نہایت ہی تکلیف دہ تھی کہ وہ اسکی نفرت میں اس مقام پر پہنچ چکی تھی کہ اسکے سوا کوئی سہارا نا ہونے کے باوجود بھی اسے اسکی پناہ میں رہنا گوارا نا تھا۔۔گھر کی محفوظ چاردیواری چھوڑ کر باہر کی غیر محفوظ دنیا میں چلے جانا اس نے بہتر سمجھا۔۔۔۔چار دن گزرنے کے باوجود بھی اس کا سراغ نہیں مل سکا تھا پریشانی اور مایوسی کی انتہا پر تھا وہ۔۔اسے بے طرح خوف تھا کہ وہ خدانخواستہ کسی غلط ہاتھوں میں نا چڑھ گئی ہو۔ مرکزی دروازے سے اندر داخل ہو کر سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا اور نڈھال سے انداز میں آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھنے لگا۔مکمل ویل ڈیکوریٹڈ شاہی بیڈروم
میں آکر خاموشی سے اپنے بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔جیکٹ اتار کر وہیں سائیڈ میں رکھتا اب جھک کر اپنے جوتے اتار رہا تھا۔جوتے اتارنے کے بعد اوندھے منہ بیڈ پر لیٹ گیا۔۔
باہر ہواؤں کے زور کو اب بارش نے توڑ دیا تھا۔۔۔۔ہلکی بوندا باندی اب موسلا دھار بارش میں تبدیل ہو چکی تھی تیزی سے گرتی بارش گلاس وال سے صاف نظر آ رہی تھی۔۔۔۔پانی کے شفاف قطرے دھاروں کی صورت
میں گر رہے تھے۔۔۔ایسے ہی شفاف قطرے اوندھے منہ
لیٹے شخص کی آنکھوں سے بھی گر رہے تھے۔۔۔۔۔سارا
ضبط و برداشت آنسو بن کر آنکھوں سے بہہ نکلے تھے
وہ دہری تکلیف میں مبتلا تھا۔۔۔۔ایک طرف اپنی محبت
کی ناکامی حیات کی نفرت۔۔۔۔اور دوسری طرف اسکو
کوئی نقصان پہنچنے کے اندیشہ اسکے اندر قیامت برپا
کر رہے تھے۔جب اس میں مزید ضبط کا یارانہ نا رہا تو اٹھ کر بیٹھ گیا اور گھٹنوں میں سر دیے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔۔
ساری رات اسکی یونہی بیٹھے بیٹھے گریہ وزاری کرتے گزر گئی۔۔۔کب صبح ہوئی اسے کچھ پتہ نہیں تھا۔ٹائم
دیکھنے کا خیال تک نہیں تھا اسے۔فائزہ سکندر ملازمہ کو چائے کا کہہ کر اسکے کمرے کی طرف آئیں۔۔۔
۔۔۔۔ابھی کمرے میں داخل ہونا ہی چاہتی تھیں کہ ادھ کھلے دروازے سے آتی آوازوں نے انہیں متوحش کر دیا
یہ آوازیں رونے کی تھیں وہ بھی ماحر کے۔۔۔۔۔آواز میں
شدید رنج تکلیف کرب اور اذیت تھی۔۔۔۔وہ کچھ پل کے لئیے بالکل گم صُم سی ہو گئیں۔۔۔۔ پھر فوراً اپنے آپ کو سنبھال کر کمرے میں داخل ہوئیں۔وہ سامنے ہی بیڈ پر بیٹھا تھا۔گھٹنوں پر سر رکھے روتا ہوا۔۔۔۔۔۔۔ان کا وجود سناٹوں کی زد میں آ گیا تھا۔ اگلے ہی لمحے تڑپ کر آگے بڑھیں۔۔۔
کیا ہوا ہے بیٹا۔۔۔؟؟
فائزہ سکندر اسکے قریب بیٹھ گئیں اور اس کا کندھا ہلا کر وحشت زدہ لہجے میں پوچھنے لگیں۔۔۔
وہ بالکل تھم گیا۔۔۔ساکت ہو گیا۔۔۔رونے کی آواز آنا بند ہو گئی۔۔۔ماں کے لمس اور سوال نے اسے یکدم خاموش کر دیا تھا۔۔۔
بولو بیٹا میرا دل گھبرا رہا ہے۔۔انہوں نے گھبراہٹ بھرے لہجے میں کہتے ہوئے اس کا سر اوپر کرنا چاہا۔۔
مام۔۔۔۔وہ سیدھا ہوا اور انکی طرف دیکھا تو وہ ششدر
رہ گئیں اسکی آنکھیں رونے سے بے تحاشا سرخ ہو رہی تھیں۔جسکی آنکھوں انہوں نے کبھی نم نا دیکھا تھا۔وہ
آنکھیں آج بادلوں کی مانند برس رہی تھیں۔۔۔وہ حیران رہ گئی تھیں۔۔۔۔۔مضبوط، دراز قد سحر انگیز شخصیت
رکھنے والے اپنے اتنے بڑے سپر سٹار بیٹے کو روتے اور وہ بھی اتنی غم زدہ حالت میں۔۔۔۔۔وہ کچھ دیر ہق دق
پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسکی طرف دیکھتی رہیں
مام۔۔۔اگلے ہی لمحے وہ انکی گود میں سر رکھے بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا۔اسکی ابتر حالت بتا رہی تھی کہ اسے کوئی شدید صدمہ لگا ہے۔۔
فائزہ سکندر دم بخود رہ گئیں۔۔
ماحر کیا ہوا۔۔۔۔؟؟کچھ بتاؤ تو سہی بیٹا۔۔۔وہ بری طرح
پریشان ہو گئیں۔۔۔۔۔ماں تھی انکا پریشان ہونا فطری تھا اور پھر اس نے آج سے پہلے اسے کبھی روتے ہوئے بھی تو نہیں دیکھا تھا اسطرح۔۔۔
کچھ نہیں ہوا مام بس ویسے ہی۔۔۔۔۔انکی گود سے اپنا
سر ہٹایا اور اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔۔
کیا مطلب کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔۔تم ایسے خوامخواہ میں رو رہے ہو۔۔۔۔وہ سخت متعجب لیکن خفگی آمیز انداز گویا ہوئیں۔۔۔
وہ سر جھکائے خاموش رہا۔۔۔
وہ چند پل پرسوچ انداز میں اسکے جھکے ہوئے چہرے کا جائزہ لیتی رہیں پھر استعجابیہ انداز میں بولیں
تم ساری رات جاگتے اور روتے رہے ہو۔؟؟؟ماحر نے کوئی
جواب نا دیا۔۔سر ہنوز جھکا ہوا تھا۔۔۔وہ کوئی بات نہیں کر رہا تھا۔۔کسی سوال کا جواب نہیں دے رہا تھا۔۔
فائزہ سکندر اسکے بولنے کی منتظر اسکے چہرے پر نگاہیں جمائے بیٹھی تھیں۔جب اسکی خاموشی طویل ہو گئی تو وہ گہرا سانس لے کر گویا ہوئیں۔۔۔۔
دیکھو بیٹا۔۔۔مجھ سے مت چھپاؤ۔۔۔۔میں تمہیں اچھی طرح جانتی ہوں۔۔۔۔کوئی بہت ہی دکھ دینے والی بات ہوئی ہے۔ جو تم برداشت نہیں کر پا رہے۔۔ہے نا۔؟؟ انہوں نے تصدیق کیلئے اسکے چہرے کے تاثرات کو جانچا۔۔۔
تمہاری خاموشی مجھے بتا رہی ہے کہ تم مجھ سے کچھ چھپا رہے ہو۔۔۔۔
بالآخر اس نے بولنے کا فیصلہ کیا۔۔۔۔سر اٹھا کی ماں کی طرف دیکھا جو پریشان نظروں سے دیکھتں اسکے بولنے منتظر تھیں۔۔۔۔
مام مجھے آپ کو ایک بات بتانی تھی۔۔وہ نظریں چراتے ہوئے بولا۔۔۔۔
ہاں بولو میری جان۔۔۔۔وہ ہم تن گوش تھیں
میں نے شادی کر لی ہے۔۔۔ اس نے مدھم لہجے میں کہا
کیا واقعی۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ پہلے انہیں جھٹکا لگا پھر خوشگوار حیرت میں مبتلا ہو گئیں
جی مام۔۔۔وہ حیرانگی سے ان کا چہرہ تکنے لگا جس پر بے تحاشا خوشی نظر آ رہی تھی۔۔۔
آپ کو غصہ نہیں آیا۔۔۔۔؟؟وہ تعجب سے بولا
بالکل نہیں۔۔ غصہ تو مجھے تب آتا تھا جب میں خبروں میں سنتی تھی کہ میرا بیٹا لڑکیوں کے ساتھ ٹائم پاس کرتا ہے۔اب اس نے شادی کر لی۔۔۔۔ مطلب کہ اس حسینہ کا دل نہیں توڑا۔۔ میرے لئیے تو بہت خوشی کی بات ہے یہ، کہ تم نے گھر بسا لیا۔۔۔۔۔اب جلدی سے میری بہو کو یہاں لے آؤ۔۔۔نکاح تو تم نے کر لیا اب تمہارے ولیمے کا فنکشن ہم کریں گے۔۔۔۔۔۔ وہ پرمسرت لہجے میں گویا ہوئیں۔۔۔
اچھا یہ بتاؤ دکھنے میں کیسی ہے۔۔۔؟؟فلموں میں کام کرتی ہے کیا۔۔۔؟؟
پہلے سوال پر لہجے میں تجسس تھا۔۔۔۔۔جبکہ دوسرا چونک کر پوچھا تھا۔۔۔۔اس نے نفی میں سر ہلایا۔۔
شکر ہے فلمی ایکٹریس نہیں۔۔۔انہوں نے بے اختیار شکر ادا کیا۔۔۔
پھر گھر کب لا رہے ہو اسے۔۔۔۔؟؟اور تم نے بتایا نہیں رو کیوں رہے تھے۔۔؟؟؟ اس کے نکاح کی خبر سن کر وہ اس کا کچھ دیر پہلے والا رونا فراموش کر بیٹھی تھیں۔اب
اچانک یاد آیا تھا تو لہجے میں پھر اضطراب سمٹ آیا
وہ دو زانوں بیٹھا انکے گھٹنوں پر سر جھکائے پھر سے رونے لگا۔۔
مام وہ چلی گئی۔۔مجھے چھوڑ کر چلی گئی۔۔۔میں کیا
کروں ایک ہفتہ ہو گیا ہے۔۔۔۔۔۔میں اسے نہیں ڈھونڈ پایا
ناجانے کہاں گئی ہوگی۔۔۔۔۔۔۔مجھ سے نفرت کرتی ہے وہ
میں نے بہت بار معافی مانگی مگر وہ نہیں مانی اس نے مجھے معاف نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔اور اب چھوڑ کر چلی گئی۔مام مجھ سے” وہ ہچکیوں سے روتے ہوئے بول رہا تھا۔۔ایک ایک بات شروع سے بتاتا جا رہا تھا۔اپنی ایک ایک غلطی کا اعتراف کرتا جا رہا تھا۔۔۔۔فائزہ سکندر گم صُم سی بیٹھیں اپنا ایک ہاتھ اسکے شانے پر ہاتھ رکھے اسے سن رہی تھیں۔۔۔
اوائل راتوں کا پرشباب، مہتاب، اپنی تابانیاں بکھیر رہا تھا۔دھیمی دھیمی ہوا چل رہی تھی۔۔۔ابھی رات کے آٹھ بجے تھے۔۔۔۔۔۔۔فضا بھابھی ملازمہ کے ساتھ مل کر کچن میں کھانا تیار کر رہی تھیں اور فارس بھائی گھر سے باہر کہیں گئے ہوئے تھے۔۔۔پچھلے ایک ہفتے سے وہ کسی ایسے ایسے قابل وکیل کو ڈھونڈنے میں لگے ہوئے تھے جو ایسی مہارت سے کیس لڑے کہ ماحر خان کو نا صرف حیا کو ڈیورس دینی پڑے بلکہ لمبے عرصے کیلئے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی جانا پڑے اور کیس اتنا مضبوط ہو کہ اسکی اپروچ تعلقات کچھ کام نا آئیں۔۔۔۔۔۔اس سلسلے میں وہ شہر کے تین چار بہترین وکیلوں سے ملے جن میں تین نے تو ماحر خان کا نام
سن کر ہی کیس لینے سے انکار کر دیا تھا۔۔۔۔جبکہ ایک
نے کروڑوں میں اپنی فیس بتائی۔۔۔فارس کے اعتراض
پر اس وکیل کا کہنا تھا۔۔۔۔ کہ کیس چونکہ کسی عام بندے کے خلاف نہیں ہے۔۔۔۔ اس لئیے فیس وہ ہزاروں لاکھوں میں نہیں بلکہ کروڑوں میں لے گا۔۔۔فارس کی
اچھی خاصی گرما گرمی ہو گئی تھی اس وکیل سے
حیات کو جب اس بات کا پتہ چلا تو آج صبح ناشتے کی ٹیبل پر اس نے فارس سے کہا۔۔۔۔۔۔
بھائی عدالتوں وکیلوں کے چکروں کو چھوڑیں۔۔۔۔۔ ہم ڈائریکٹ اس سے بات کرتے ہیں۔۔۔ڈیورس دینے پر راضی ہو گیا تو ٹھیک۔۔۔ ورنہ میں بھی جتنی زندگی ہے ایسے گزار دونگی مگر اس کا ساتھ قطعاً قبول نہیں کروں گی۔۔۔
!جواب میں فارس نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے نرمی سے کہا۔۔۔۔۔گڑیا آئندہ تم اس بارے میں کوئی بات نہیں کرو گی نا ہی اس بارے میں سوچوگی۔۔۔۔جو کچھ کرنا ہے میں خود کروں گا۔۔۔۔۔ تم بس اپنے مائنڈ کو ریلیکس رکھو۔۔۔۔ تمہاری بکس آج لے آؤں گا۔پرنسپل سے میں نے بات کر لی ہے ارتضیٰ کی وجہ سے انہوں نےمکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔۔پرسوں سے تم یونی جوائن کر رہی ہو اوکے۔۔
فارس نے حکم دینے والے انداز میں کہہ کر بات ختم کر دی تھی اور ٹیبل سے اٹھ کر چلا گیا تھا۔۔تاہم اٹھنے سے پہلے اسے فل ناشتہ کرنے کی تاکید کر گیا تھا۔۔یہ اس کا
معمول بن چکا تھا۔جب سے وہ یہاں آئی تھی وہ دونوں
اسکی ڈائٹ اور نیند کا خوب خیال رکھ رہے تھے۔۔
۔ وہ لان کے اس گوشے میں بیٹھی تھی۔ جہاں موتیے اور گلاب کے پودے لگے ہوئے تھے۔انکی بھینی بھینی خوشبو ماحول میں رچی بسی ہوئی تھی۔وہ ماربل کے بینچ پر پاؤں سمیٹے ہوئے بیٹھی تھی۔دائیں طرف قطار میں بنے بنگلوں پر اس نے نگاہیں دوڑائیں تو آنکھیں بھر آئیں۔چند قدموں کے فاصلے پر اس کا اپنا گھر موجود تھا۔وہ گھر جہاں وہ بابا مون اور رحمت بوا کے ساتھ رہتی تھی مگر اب وہ کسی اور کے قبضے میں تھا۔۔نا گھر رہا تھا اور نا گھر اپنے پیارے رہے تھے۔اس خیال کے آتے ہی دل میں درد سا ہونے لگا تھا۔
آنسوؤں میں روانی آئی تو ہچکیاں لے لے کر رونے لگی۔کچھ دیر بعد فضا کھانے کیلئے بلانے آئی تو اسے روتا دیکھ کر ڈانٹتے ہوئے اندر لے گئی۔کھانے کی ٹیبل پر وہ نارمل ہو چکی تھی۔فارس بھی آ گیا تھا۔وہ دونوں کھانے کے دوران اس کا ذہن بٹانے کیلئے ہلکی پھلکی مزاحیہ گفتگو کرتے رہے تھے
رات کے کھانے کے بعد وہ اپنے کمرے آ گئی۔ بیڈ پر بیٹھی سوچوں میں گم تھی کہ فارس دستک دے کر اسکے کمرے میں آیا۔۔اسکے ہاتھ میں بلیک کلر کی کوئی کتاب
یا ڈائری تھی۔۔
جی بھائی۔۔۔انہیں دیکھ کر وہ فوراً بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔پچھلے ایک ہفتے میں ان دونوں نے اسکی اتنی کئیر کی تھی کہ ٹانگوں کے زخم بھی بالکل ٹھیک ہو چکے تھے اور فپہلےزیکل کنڈیشن بھی بہتر تھی۔۔۔
۔۔۔حیا کچھ دنوں سے ہم تمہیں ایک بات بتانا چاہ رہے تھے۔۔۔مگر تمہاری فزیکلی اور مینٹلی کنڈیشن اتنی آپ
سیٹ تھی کہ ہم نے سوچا پہلے تم بالکل ٹھیک ہو جاؤ
پھر بتائیں گے۔۔۔
کیسی بات بھائی۔۔۔؟؟ اس نے پریشانی سے استفسار کیا
پریشان مت ہو گڑیا۔۔۔یہ ڈائری پڑھ لینا۔۔۔انہوں نے ہاتھ
میں پکڑی ڈائری اسکی بڑھائی جسے اس نے ناسمجھی سے تھام لیا۔۔۔
شائد اپنے منہ سے صحیح طرح بتا یا سمجھا نا سکوں
اس لئیے میں نے سوچا تم خود یہ ڈائری پڑھ لو۔اوکے
وہ اس کا سر تھپتھپا کر کمرے سے باہر چلے گئے۔
حیات نے الجھن بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے ڈائری کھول لی۔۔۔
پہلے صفحے پر لکھا تھا۔۔۔
میں ہوں در شہوار۔۔۔۔اماں ابا کی لاڈلہ بیٹی۔۔۔۔۔۔عبدل بھائی کی لاڈلی بہن۔۔عبدل بھائی کا نام تو عبدالرحمان
تھا لیکن اماں ابا پیار سے اسے عبدل ہی کہتے تھے۔میں
کالج میں تھی۔۔بھائی یونیورسٹی میں تھے۔۔انہی دنوں
بھائی نے انجینئرنگ کی ڈگری مکمل کی تو انہیں فوراً
ایک کمپنی میں جاب مل گئی۔ابا اماں کو بھائی کے سر
پہ سہرا سجانے کا بہت شوق تھا۔۔۔لہذا زور و شور سے
لڑکی تلاش کی جانے لگی۔۔۔کافی رشتے دیکھنے کے بعد اماں کی نظروں میں ایک لڑکی سمائی۔۔۔یتیم تھی آگے
پیچھے کوئی نہیں تھا۔۔کسی دور پرے کے رشتے داروں
کے ہاں رہتی تھی۔اماں جھٹ پٹ اسے بہو بنا لائیں۔۔۔
تین اگست 1988۔۔۔۔۔
یہ وہ دن تھا جب عائشہ نے میری بھابھی بن کر ہمارے
گھر میں قدم رکھا۔۔اکلوتا بھائی تھا سو میں بہت زیادہ
خوش تھی وہ سارے ارمان جو بھائیوں کی شادیوں پر
بہنیں پورے کرتی ہیں میں نے بھی پورے کیے۔۔۔۔بھائی اور بھابھی دونوں خوش تھے۔۔۔۔۔۔انہیں خوش دیکھ کر اماں ابا بھی مطمئن تھے۔ہنسی خوشی وقت گزر رہا تھا کہ انہی دنوں میری زندگی میں ایک طوفان کی آمد ہوئی۔۔نئے نئے دن تھے یونیورسٹی جوائن کیے میں بہت ایکسائیٹڈ تھی۔۔۔یہ یونیورسٹی وہی تھی جہاں عبدل
بھائی پڑھتے رہے تھے۔۔۔میں نے ضد کی تھی اسی یونی
میں ایڈمشن لوں گی جہاں سے عبدل بھائی نے پڑھا ہے
وہ خود گئے تھے میرا ایڈمشن کروانے۔کلاسز اٹینڈ کرتے
مجھے تیسرا ہفتہ ہوا تھا کہ ایک دن لائبریری سے نکلتے
ہوئے ایک لڑکا مجھ سے آن ٹکرایا تھا۔اسکے بعد وہ وقتاً
فوقتاً کئی بار مجھ سے ٹکراتا رہا کبھی کلاس روم میں
کبھی کوریڈور تو کبھی سیڑھیوں پہ۔میرا اس کا بھول
نا سکنے کی وجہ اسکی کسی فلمی ہیرو کی طرح سحر انگیز پرسنالٹی تھی۔۔میں تو فلموں کی دیوانی ہی تھی
انہی دنوں عامر خان اور جوہی چاولہ کی فلم قیامت
سے قیامت تک ریلیز ہوئی تھی۔۔۔۔ہمارے ہاں جب سینما
میں لگی تھی تو میں ابا سے چھپ کر دیکھنے گئی۔۔۔۔سینما ہمارے گھر سے زیادہ دور نہیں تھا اسلیئے میں خود ہی چلی گئی تھی۔۔۔۔۔عبدل بھائی کو اور اماں کو میرے اس شوق کا پتہ تھا اس لئیے وہ مجھے کچھ نہیں کہتے تھے۔۔۔۔میں ٹھہری صدا کی حسن پرست۔۔قیامت سے قیامت تک میں پہلی دفعہ عامر خان کو دیکھ کر اس پر بری طرح دل ہار بیٹھی۔۔۔۔۔فلم میں وہ اتنا ینگ اتنا خوبصورت اتنا معصوم لگا تھا کہ میرے
دل و دماغ پر بری طرح چھا گیا۔۔۔۔مجھے جوہی چاولہ کی قسمت پر رشک آنے لگا حالانکہ رشک مجھے جوہی چاولہ کی نہیں بلکہ رینا دتہ کی قسمت پر کرنا چاہیے تھے جس وہ اس فلم سے پہلے ہی بھاگ کر شادی کر چکے تھا۔۔۔۔۔لیکن یہ بات مجھے کافی بعد میں پتہ چلی تھی اگر اسوقت پتہ چل جاتی تو ناجانے کتنا بڑا صدمہ پہنچتا یہ جان کر کہ میرا ہیرو سترہ اٹھارہ سال کی عمر میں ہی شادی شدہ ہے۔۔۔عامر سے میرے عشق کا یہ عالم تھا کہ اخباروں میں سے اسکی تصویریں کاٹ کاٹ کر جمع کرتی رہتی تھی۔۔۔۔۔ناجانے کیسی قسمت تھی میری ہمیشہ وہی لوگ پسند آتے تھے جو پہنچ سے دور ہوتے تھے۔۔انہی فلمی ہیروز کی وجہ سے میرا دماغ اتنا خراب ہو چکا تھا کہ عام لوگوں پر میری نظر ہی نہیں ٹھہرتی تھی۔۔۔۔”
خیر بات کر رہی تھی میں اس ہیرو کی جو یونیورسٹی میں مجھے ملا تھا۔۔خیر ملا تو نہیں تھا۔۔۔صرف ٹکرایا اور دکھا ہی تھا۔۔۔وہ مجھے بالکل عامر جیسا لگا تھا۔۔۔”
اسی لئیے تو بری طرح فریفتہ ہو گئی تھی اس پر اور جب مجھے اس کا نام معلوم ہوا تو میں حیران ہو گئی
اس کا نام بھی عامر تھا۔۔۔خوبصورت کا لفظ زیادہ تر لڑکیوں کے لئیے استعمال ہوتا ہے جبکہ لڑکوں کے لئیے ہینڈسم ڈیشنگ جیسے ورڈ استعمال ہوتے ہیں۔۔۔۔
لیکن میں عامر کیلئے خوبصورت کا لفظ ہی استعمال کرنا چاہوں گی۔۔ہمیشہ سے حسن کی دیوانی رہی ہوں نا اس لئیے عام پرسنالٹی اور معمولی شکل و صورت کے لڑکے مجھے پسند ہی نہیں آئے کبھی۔۔۔۔۔تبھی کسی لڑکے کو گھاس نہیں ڈالتی تھی۔حالانکہ کئی ہاتھ بڑھے میری طرف مگر میں نے کبھی کسی کو رسپونس نہیں دیا کیونکہ مجھے تو کسی ہیرو کی تلاش تھی جو بس بے تحاشا حسین ہو۔۔۔اس بات پر کالج میں سدرہ ثوبیہ رومانہ وغیرہ سے اکثر میری بحث ہوتی تھی۔۔ان تینوں کی رائے تھی کہ صورت کے بجائے سیرت اچھی ہونی چاہیے۔۔۔انسان کم شکل و صورت پر تو گزارا کر لیتا ہے مگر کم سیرت پر نہیں۔۔اگر انسان شکل سے خوبصورت ہو مگر عادتیں اچھی نا ہوں یعنی باطن کالا ظاہر پیارا
تو بندہ ایسی شکل و صورت کا اچار ڈالے کیا۔۔۔۔صورت
سے حسین ہو اور کرتوت کالے ہوں ہم تو لعنت بھیجیں گی ایسی شکل پر۔۔۔
مگر مجھے ان تینوں کی اس بات سے سخت اختلاف تھا۔۔۔۔میں بڑے دھڑلے سے کہتی تھی بھاڑ میں جائے سیرت اگر شکل ہی اچھی نا ہو۔۔ میرا دل تو عام شکل والے بندے کو کبھی بھی قبول نا کرے چاہے وہ جتنا ہی اچھا کیوں نا ہو۔۔مجھے تو بس کوئی ہینڈسم سا ہیرو چاہیے۔میں ایک جذب سے للچائے ہوئے انداز میں کہتی۔۔۔”
وہ تینوں مجھے افسوس بھری نظروں سے دیکھتیں۔مگر مجھے کسی کی پروا نہیں ہوتی تھی کوئی جو
بھی سوچتا رہے میرے بارے میں۔۔۔
اچھا اور اگر وہ عادتوں کا برا ہو تو۔۔؟؟یعنی شراب پیتا
ہوں۔۔نامحرم عورتوں کے ساتھ ریلیشن شپ میں ہو تم
سے جھگڑتا ہو مارتا پیٹتا ہو پھر۔۔۔۔؟؟
ان تینوں کا ایک ہی سوال ہوتا۔میں آگے سے فوراً کہتی اگر شکل خوبصورت ہو تو پھر اس میں جتنے بھی عیب خامیاں ہونگی میں سب برداشت کر لونگی۔۔
وہ تینوں کافی حیرت سے مجھے دیکھتیں اور کہیتں یار شہوار تم بہت عجیب ہو میں آگے سے ہنس کر فخر سے کہتی ہاں میں بہت یونیک لڑکی ہوں میرا مینٹل لیول کسی سے میچ نہیں کرتا۔۔۔۔پھر میں یونیورسٹی ا گئی سدرہ لاہور چلی گئی۔ثوبیہ اور رومانہ پیا دیس سدھار گئیں خیر میں بات کر رہی تھی اس ہینڈسم ہیرو کی جس کا ابھی تک نام بھی معلوم نہیں ہو سکا تھا مجھے۔میں یونی جاتی میری نظریں اسی کو تلاش کرتی رہتیں۔وہ نظر آ جاتا تو میرا دل عجیب سے انداز میں دھڑکنے لگتا۔۔مجھے جلن سی ہوتی تھی جب میں لڑکیوں کو پروانوں کی طرح اسکے گرد منڈلاتا دیکھتی۔بے حد غصہ آتا۔میں دل میں کہتی یہ صرف میرا ہیرو ہے۔۔۔دن رات سوچتی رہتی مگر ابھی تک اس سے بات کرنے کا کوئی طریقہ ہی ذہن میں نہیں آ رہا تھا۔۔۔۔۔
تاہم ایک بات جو میں نے نوٹ کی تھی وہ یہ کہ مجھے دیکھ کر وہ سمائل پاس کرتا تھا۔۔میرا دل خوشی سے دھڑک اٹھتا۔۔میں چاہتی تھی کہ وہ پہل کرے۔۔ مجھے دوستی کی آفر کرے۔میں نماز میں گڑگڑایا کرتی تھی پھر اللّٰہ نے میری سن لی۔۔۔
ایک دن میں لائبریری میں بیٹھی مطالعہ کر رہی تھی کہ اسکے گروپ کی ایک فرح نامی لڑکی اس کا پیغام لے کر آ گئی کہ وہ مجھ سے دوستی کرنا چاہتا ہے۔میں تو خوشی سے جھوم اٹھی ناصرف فوراً ہاں کی بلکہ اپنے گھر کا نمبر بھی لکھ کر بھجوا دیا۔۔بس اسکے بعد میرے اور عامر کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ چل پڑا زیادہ تر ہم یونیورسٹی سے باہر ملا کرتے تھے۔۔عامر کا کہنا تھا یونیورسٹی میں کسی کو بھی ہماری دوستی کے بارے میں پتہ نہیں چلنا چاہیے کیونکہ وہ میرے ساتھ مخلص ہے ایسا نا ہو کہ کوئی حسد کے مارے ہمارے درمیان پھوٹ ڈلوا کر ہمیں الگ کر دے۔۔۔۔جبکہ
وہ مجھے کسی صورت نہیں کھونا چاہتا۔میں خوش ہو
گئی کیونکہ میں خود بھی نہیں چاہتی تھی کہ ہماری دوستی کسی کے علم میں آئے۔۔۔۔
عامر کی محبت پا کر میں ہواؤں میں اڑ رہی تھی۔اپنے بارے میں تو بتانا ہی بھول گئی۔۔۔ بہت زیادہ حسین نا سہی لیکن خدا نے اچھی شکل و صورت سے نوازا تھا مجھے۔انہی دنوں یونیورسٹی کی چھٹیاں ہو گئیں تو میں بہت پریشان تھی کہ عامر سے اب کیسے ملونگی لیکن پھر اس معاملے میں عائشہ بھابھی نے میری ہیلپ کی وہ بہت اچھی تھیں۔۔۔۔۔بھائی تو ہوتے بھی زیادہ تر گھر سے باہر تھے۔اماں سے وہ کوئی نا کوئی بہانہ کر کے مجھے باہر لے جاتیں اور ہماری ملاقات کرواتیں۔۔۔۔کبھی عامر کے کسی دوست کے گھر تو کبھی کسی ریسٹورنٹ میں۔یہ سب ہوتے ہوتے مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب وہ عائشہ بھابھی میں دلچسپی لینے لگ گیا۔۔۔۔بھابھی مجھ سے زیادہ خوبصورت تھیں عامر کے انٹرسٹ لینے کی وجہ صاف ظاہر تھی مجھے اس بات کا دکھ تو تھا لیکن میرے لئیے عامر سے دستبردار ہونا بھی اب موت کے برابر تھا۔۔انہی دنوں عامر نے ملنے کے لئیے اپنے ایک دوست کے مکان میں بلایا وہ ملاقات میرے لئیے میری بربادی کی طرف پہلا قدم ثابت ہوئی۔۔۔
عامر کے بہکاوے میں آ کر مجھ سے گناہ ہو گیا۔۔۔۔میں اسے فوری شادی کے لئیے منتیں کرنے لگی لیکن اس کا کہنا تھا کہ اسکے گھر والے اسکی شادی اسکی کسی کزن سے کرنا چاہتے ہیں لہذا وہ اس کے گھر رشتہ لینے کبھی نہیں آئیں گے۔۔اگر میں اس سے شادی کرنا چاہتی ہوں تو مجھے اس سے کورٹ میرج کرنا ہوگا۔۔۔میں اس بات پر راضی ہو بھی جاتی لیکن عامر کی اگلی ڈیمانڈ نے میرے پیروں تلے زمین نکال دی تھی۔۔۔
