171.9K
78

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Hayat (Episode 23)

Meri Hayat By Zarish Hussain

“وہ ایک ایک قدم اٹھاتا اسکے قریب آ رہا ہے۔حیات کی سانس اسکے سینے میں اٹک گئی۔۔۔ماحر خان پر نظر پڑتے ہی اس کا گویا دل ہی بند ہو گیا تھا”

آپ یہاں۔۔۔۔۔۔۔

“خوفزدہ نظروں سے اسکی طرف دیکھتے ہوئے اٹک اٹک کر بولی۔

“وہ اسکے قریب آ کر رک گیا۔۔۔

۔۔۔۔حیات پیچھے کو کھسکی نتیجتاً اسکی کمر بیسن کے ساتھ زور سے جا لگی تو منہ سے تکلیف بھری کرہ نکل گئی۔۔۔

وہ فوراً آگے بڑھا اور بے تکلفی سے اسکی کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا زیادہ لگی ہے کیا۔۔۔۔؟

“اپنی کمر پر اسکی انگلیوں کا لمس پا کر وہ حیرت خوف اور غصے سے ساکت ہو گئی۔۔

“۔۔۔۔۔دور رہو مجھ سے اگلے ہی لمحے اس کا جھٹک کر غرائی۔۔۔۔

۔۔۔۔کیوں دور رہوں تمہارا وہ عاشق تمہارے قریب رہے اور مجھے دور رہنے کا بولتی ہو۔۔۔۔

“وہ بھی اسی کے انداز میں غرایا۔۔۔۔۔۔اور اپنے دونوں ہاتھ اسکی کمر پر سختی سے جما کر اسے مزید قریب کر لیا۔۔۔۔”

۔۔۔میں کہتی ہوں چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔۔۔

وہ چیختے ہوئے اپنی کمر سے اسکے ہاتھ ہٹانے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔

“مگر اسکے نازک ہاتھوں کے آگے ماحر کے مضبوط ہاتھوں کی گرفت سخت تھی۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔ذلیل انسان چھوڑو ورنہ باہر جا کر سب کو تمہاری اصلیت بتا دونگی۔۔۔۔اپنی کوشش سے ناکام ہو کر وہ اسے دھمکانے لگی۔۔۔

“۔۔۔۔۔جواباً ماحر نے سخت نگاہوں سے اسے گھورا۔۔ذلیل

انسان بھی کہہ رہی ہو اور یہ بھی ایکسپیکٹ کر رہی ہو کہ تمہیں چھوڑ دوں گا۔بہت ناز ہے تمہیں اپنے حسن پر۔۔۔۔۔اسکی آنکھوں کا رنگ یکدم بدلنے لگا۔

“۔۔۔چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔۔وہ اسکے جنونی انداز پر بے حد خوفزدہ ہو گئی۔۔۔۔۔

اسکی کمر کے گرد اسکے آہنی بازؤں کی گرفت تنگ ہوتی جا رہی تھی۔۔گرم سانسیں اسکے متوحش چہرے پر تپش کی طرح لگ رہی تھی۔۔۔

“کوٹ اوپن تھا اور شرٹ کے اوپری بٹن کھلے ہونے کی وجہ سے گریبان نظر آ رہا تھا۔۔۔پوائزن کی دلفریب مہک سےاسے اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہوا۔۔”اسکی حالت یہ سوچ کر ہی غیر ہوئے جا رہی تھی کہ اپنے محرم کے ہوتے وہ ایک نامحرم شخص کے اس قدر قریب کھڑی ہے۔

“میں نے تمہیں کہا تھا نا طلاق لو اس شخص سے۔مگر تمہیں میری آرام سے کہی گئی بات سمجھ نہیں آرہی۔ تین دن ہیں تمہارے پاس۔۔۔۔۔صرف تین دن۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔اس پروفیسر سے ڈیوورس لو اور مجھ سے نکاح کرو۔۔وہ سرد لہجے میں بولا

اس بات کی بھی گارنٹی دیتا ہوں اگر تم نہیں چاہو گی تو طلاق نہیں دوں گا تمہیں۔۔۔۔

۔۔۔۔۔یہ سب میں لاسٹ بار کہہ رہا ہوں۔۔اگر ان تین دنوں میں بھی تم نے اس سے اپنی جان نہیں چھڑائی اور مجھے انکار کیا تو اللّٰہ کی قسم تمہارا وہ حال کروں گا کہ اپنا یہ حسین چہرہ کسی کو دکھانے کے قابل نہیں رہو گی۔۔۔۔۔ایک جھٹکے سے اس کا چہرہ اوپر کرتے ہوئے پھنکارا۔۔۔۔۔۔۔۔۔زندہ رہو گی موت کے انتظار میں۔۔۔۔مگر موت نہیں آئے گی۔۔۔روز جیو گی روز مرو گی اور ساتھ میں تمہارا باپ بھی۔۔۔۔۔۔اس کے وجود میں گویا کوئی

درندہ حلول کر گیا تھا۔۔۔۔۔وجہیہ چہرے پر وحشی پن تھا۔

حیات کی رنگت خوف سے زرد پڑتی جا رہی تھی۔۔۔۔”

اسکے زرد پڑتے چہرے کو دیکھ کر اسے اپنے لفظوں کی سفاکیت کا احساس ہوا تو گہری سانس لے کر خود کو ریلیکس کیا۔۔۔”

ڈرو مت۔۔۔۔میرا مقصد تمہیں خوفزدہ کرنا نہیں بلکہ متوقع حقیقت کے بارے میں آگاہ کرنا تھا۔۔

۔۔۔۔میں فلمسٹار ضرور ہوں مگر لٹیرا نہیں۔۔۔۔۔۔تمہیں تمہاری رضامندی سے حاصل کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جنہیں میری قربت نصیب ہوتی ہے اور تم تو بڑے ہی نصیب والی ہو ماحر خان کی قربت اور ساتھ دونوں مل رہا ہے تمہیں۔۔۔۔۔”

لہجے میں غرور ہی غرور تھا۔۔۔

“۔۔۔عجیب آدمی تھا خوفزدہ کر کے بھی کہہ رہا تھا میرا مقصد خوفزدہ کرنا نہیں۔۔۔۔

مجھے نہیں چاہیے آپ کا ساتھ۔۔۔۔جان چھوڑیں میری

۔۔۔اس نے زچ ہو کر ہاتھ جوڑے۔۔۔۔ماحر نے فوراً اسکے نازک ہاتھوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں لے لیا۔۔۔

“۔۔۔۔۔۔کتنی خواہش ہے میری ان خوبصورت ہاتھوں کی لکیروں میں صرف میرا نام ہو۔۔۔۔۔۔ان ہاتھوں پر صرف میری محبتوں کا رنگ چڑھے۔۔جب تک میں چاہوں یہ ہاتھ صرف میری ملکیت میری ہی دسترس میں رہیں۔

اس نے اپنے دہکتے ہونٹ اسکے ہاتھ کی گلابی ہتھیلی

پر رکھے۔۔۔

“حیات عبدالرحمان کے جسم میں گویا ہزاروں ولٹیج کرنٹ یک لخت دوڑا۔بے بسی اور بے عزتی کے احساس سے وہ لرز اٹھی۔۔۔

۔ایک جھٹکے سے اس نے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا مگر وہ پہلے ہی اس سے اس حرکت کی توقع رکھتا تھا۔ہاتھ چھوڑنے کے بجائے اس نے ایک جھٹکے سے اسے اپنے مزید قریب کر لیا۔۔۔۔۔۔”

۔۔۔۔۔۔اسکی کی خوبصورت آنکھوں میں پھر سے غصے کی سرخی چھانے لگی۔۔

اگر نا چھوڑوں جان تمہاری تو کیا کرو گی۔۔۔۔۔؟؟وہ دھیمے سے اسکے کان میں پھنکارا

۔۔۔میڈیا کو بتاؤں گی۔پولیس کے پاس جاؤنگی کہ ایک نامی گرامی شہرت یافتہ اداکار کس طرح کسی شریف لڑکی کو حراس کر رہا ہے۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔آپ کی تھرڈ کلاس دھمکیوں سے نہیں ڈرنے والی میں ۔خواتین کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی کسی این جی او کی خدمات حاصل کر لیں نا میں نے تو اس ملک میں آپ کا رہنا مشکل ہو جائے گا۔۔۔۔میرا پیچھا چھوڑ دو مجھے مجبور مت کرو ماحر خان کہ دنیا کو تمہارا گھناؤنا چہرہ دکھا دوں۔تمہارے تمام کالے کرتوتوں والی کال ریکارڈنگز میڈیا میں دے دوں۔۔

مسلسل خود کو چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے وہ بنا ڈرے بولی۔پہلے والا خوف کہیں جا سویا تھا۔۔۔۔”کسی سرکش لہر کی مانند لگ رہی تھی وہ۔۔۔۔ماحر نے بغور اس کا انداز دیکھا پھر مسکرایا

۔۔۔۔۔بے وقوف لڑکی تمہیں پہلے بھی کہا تھا میں ایک سپر سٹار ہوں۔۔اور تم جیسی کئی لڑکیاں آتی ہیں اور ہم جیسے مشہور فلمسٹارز کے خلاف میڈیا میں اس قسم کے پروپیگنڈے کرتی ہیں۔۔۔

۔۔نتیجہ کیا نکلتا ہے۔۔۔۔بس چند دن خبروں میں رہتی ہیں اور لوگوں کی تنقید کا نشانہ بنتی ہیں۔۔۔۔اگر وہ سچی ہوں بھی تو بھی کوئی یقین نہیں کرتا۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔بس یہی سمجھا اور یہی کہا جاتا ہے کہ سستی شہرت حاصل کرنے کے چکر میں لڑکی نے فلاں ہیرو پر الزامات لگائے اور سارا ٹوپی ڈرامہ رچایا گیا۔۔۔رہی بات خواتین کے تحفظ والی این جی اوز کی تو یہ صرف نام کی ہوتی ہیں”مجھ جیسے کسی بڑے شخص کے خلاف آواز اٹھانے کیلئے یہ بھی ہزار بار سوچتی ہیں۔۔۔۔۔”

“۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویسے بھی ان نام نہاد این جی اوز اور پولیس کو خریدنا میرے لئیے ذرا بھی مشکل نہیں۔۔۔۔تم بس اپنی فکر کرو کیونکہ اگر رزلٹ مجھے میری مرضی کے مطابق نا ملا تو تمہارا جینا کس قدر مشکل کر دوں گا اس کا اندازہ نہیں ہے تمہیں۔۔وہ استہزائیہ انداز میں کہتے ہوئے ہنسا۔۔۔

۔اسے اپنی گرفت سے آزاد کیا تو وہ پیچھے ہٹتے ہوئے دیوار کے ساتھ جا لگی۔۔۔۔”

وہ بھی اپنے ہاتھ دیوار پر اسکے دائیں بائیں رکھ کر اس کا راستہ مکمل طور پر روک گیا۔۔۔۔”

۔۔۔اسی وقت واش روم کے دروازے پر دستک ہوئی اور ساتھ میں ملازمہ کی آواز آئی۔۔بی بی آپ اتنی دیر کیوں لگا رہی ہیں میں چلی جاؤں کیا۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔حیات جو سراسیمگی کی کیفیت میں کھڑی تھی۔ملازمہ کی آواز سے اسکی کچھ حد تک جان میں جان آئی ماحر بھی چونکا۔۔۔۔

“اس سے پہلے وہ ملازمہ کو مدد کیلئے پکارتی ماحر نے اسکے منہ پر اپنا بھاری ہاتھ رکھ دیا اور آہستہ سے اسکے کان میں بولا۔۔۔۔خبردار جو تم نے چیخنے چلانے اور اسے مدد کیلئے بلانے کی کوشش کی۔۔۔۔

تمہیں نقصان پہنچانے کا میرا کوئی ارادہ نہیں۔۔۔اسے کہو وہ جائے تم تھوڑی دیر تک آ رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔

اسکی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے اور وہ سر کو نفی میں ہلانے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔

میں نے کہا ہے نا تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔۔رونا بند کرو اپنا اور اسے یہاں سے جانے کا بولو۔۔۔۔اسکے آنسو دیکھ کر وہ نرم لہجے میں بولا۔

“حیات کے پاس اسکی بات ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔اس وقت ملازمہ کی پھر آواز آئی۔۔۔اس نے اشارے سے اسے اپنے منہ سے ہاتھ ہٹانے کو کہا۔۔۔”

ماحر نے اپنا ہاتھ اسکے منہ سے ہٹا دیا اور ذرا فاصلے پر ہو گیا۔۔

“۔۔میں تھوڑی دیر تک آ رہی ہوں تم جاؤ۔۔۔۔۔۔

اسکا ہاتھ منہ سے ہٹتے ہی اس نے دل کڑا کر کے کہا آواز میں کپکپاہٹ تھی۔۔۔۔۔۔

ملازمہ چلی گئی۔۔۔۔۔حیات خوف میں ڈوبی بھیگی نگاہوں سے اسکی طرف دیکھنے لگی”

۔۔۔۔۔اسکی گہری روشن آنکھیں بلاتکلف ہی حیات کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔نامعلوم کیسی تپش تھی۔اسکے جسم میں سرد سی لہر دوڑ گئی۔اسکی روشن شفاف آنکھوں میں جذبوں کی ضد اور اسے پا لینے کی ہٹ دھرمی کی زور آور مشعلیں حیات عبدالرحمان کو نگاہیں جھکانے پر مجبور کر گئیں۔۔۔۔۔۔

آخر آپ میرے ہی پیچھے کیوں پڑے ہیں۔۔۔دنیا میں مجھ سے زیادہ حسین اور پرکشش لڑکیاں بھی ہیں۔۔۔اور آپ تو اتنے بڑے سپرسٹار ہیں۔سو آپ کو تو کوئی بھی منع نہیں کرے گی۔۔۔وہ نفرت خوف اور غصے کو دباتے کر جھکی نگاہوں کے ساتھ تحمل سے گویا ہوئی۔

۔۔۔حسین۔۔۔۔اس نے حیات کے چہرے کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے دہرایا۔۔ڈراک اورنج کلر کے ریشمی ڈریس میں اس کا چہرہ ماورائی حسن لئیے ہوئے تھے۔۔۔اورنج ریشمی ڈوپٹہ بار بار پھسل رہا تھا۔جسکو وہ سر پر جمانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔

۔”ہیرے کی کنیوں کی طرح جگمگاتی نیلی آنکھیں۔۔ لمبی کالی پلکیں۔۔۔خوبصورت سی ستواں ناک۔۔۔ڈراک پنک نیچرل کلر ہونٹ۔۔۔سرد موسم سےاسکے رخسار سرخ ہو کر اسے اتنا حسین بنا گئے تھے۔۔کہ وہ اپنے دل میں اعتراف کیے بنا نا رہ سکا۔۔۔۔۔وہ لڑکی انڈسٹری کی کسی بھی میک اپ کر کے حسین دکھنے والی ہیروئن کو بنا میک اپ کے نا صرف مات دے سکتی ہے۔۔۔۔۔بلکہ اگر مقابلہ حسن میں شرکت کرے تو مس یونیورس کا اعزاز بھی حاصل کر سکتی ہے”

اچھا یعنی تمہیں لگتا ہے میں تمہارے حسن پر مر مٹا ہوں۔۔۔۔۔ حسن کی دولت سے تو اللّٰہ نے مجھے اور میری فیملی کو بھی خاصا فیاضی سے نوازا ہے۔۔۔۔۔۔حسین چہروں کی کمی نہیں ہے مجھے بچپن سے دیکھتا آ رہا ہوں اپنے ارد گرد حسین چہرے۔۔۔وہ کاٹ دار لہجے میں بولا۔۔۔۔”

” ویسے مانتا ہوں تم بھی کافی حسین ہو۔۔۔۔

۔۔۔۔۔اگلے ہی پل مسکرایا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حسن کو خراج تحسین پیش کرنا عادت ہے میری۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ میرے نظریے کے مطابق وہ حسن بے کار ہے جسکو کوئی سرہانے والا کوئی خراج تحسین پیش کرنے والا نا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔ایک حسین عورت مرد سے اپنے حسن کا خراج پا کے ہی مزید نکھرتی ہے۔ستاروں کی طرح چمکنے دمکنے لگتی ہے۔۔۔۔۔۔۔میں بھی تمہارے حسن کو مزید نکھارنا چاہتا ہوں”

اسکی زومعنی بات اور مسکراہٹ حیات عبدالرحمان کاچہرہ سرخ کر گئی۔۔۔۔غصہ ضبط کرنے کی کوشش میں تیز ہو گیا۔

شٹ اپ۔۔۔۔بے اختیار اسکی طرف سے رخ پھیرا۔اسکی بے باک نگاہوں کی گرمی نے اسے تلملا کر رکھ دیا تھا”

اوکے تین دن بعد تم سے ملاقات ہوگی۔۔امید ہے اب کی بار کوئی غلطی نہیں کروگی۔۔۔۔۔اس کا موبائل بج اٹھا تو وہ ایک نظر اسکی طرف دیکھ کر وارننگ دینے والے انداز میں کہتے ہوئے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“حیات نے بے چکراتے سر کو سنبھالنے کیلئے دیوار کا سہارا لیا۔۔۔”

ماحر خان اسے بہت بڑے امتحان میں ڈال گیا تھا

۔۔۔۔۔نا ارتضیٰ کو چھوڑنا اس کیلئے ممکن تھا اور نا اس شخص کو قبول کرنا۔۔۔وہ بے اختیار روتے ہوئے گیلے فرش پر بیٹھتی چلی گئی۔۔

۔۔۔۔وہ اسوقت گہری نیند میں تھا جب اس نے کسی کو اپنے کمرے کے دروازے کو زور زور سے بجاتے سنا”وہ ایک دم اٹھ کر بیٹھ گیا۔اس نے مندی ہوئی آنکھوں سے وال کلاک کی جانب دیکھا جو صبح کے چھے بجا رہا تھا۔۔۔۔۔۔”رات بھر پارٹی میں شراب و شباب سے لطف اندوز ہونے کے بعد وہ صبح چار بجے گھر آیا تھا۔۔۔۔۔

۔علی کاظمی کی ہارٹی کے بعد وہ دوسری خاص قسم کی پارٹی پر گیا تھا”۔گھر پر اسوقت ملازمین کے سوا کوئی نہیں تھا۔سکندر علی خان اور فائزہ سکندر فاریہ کے پاس ورجینیا گئے ہوئے تھے۔۔۔۔۔جب کہ عبیر لیزا کے ہمراہ اپنے سسرالیوں کی پارٹی پر اور زین کا کچھ پتہ نہیں تھا۔وہ شائد نتاشا کے ہمراہ کہیں ٹائم رنگیںن کر رہا تھا۔۔۔۔۔

آنکھوں کو رگڑتے ہوئے وہ اٹھ کھڑا ہوا اسے دروازہ بجانے والے پر شدید غصہ آ رہا تھا۔اسی غصے کے عالم میں بڑبڑاتے ہوئے اس نے ایک جھٹکے سے دروازہ کھول دیا۔۔

ایڈیٹ انسان کیا تکلیف ہے تمہیں۔کیوں اسطرح زور سے دروازہ بجا رہے ہو۔۔۔۔دروازہ کھولتے ہی وہ باہر کھڑے ملازم پر برس پڑا”

سر وہ فرقان صاحب آئے ہیں آپ سے فوری طور پر ملنا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔ملازم اسکے غصے سے ڈر کر گھبرا گیا”

اس ایڈیٹ کو کیا مصیبت پڑ گئی اسوقت جو میری نیند خراب کرنے آ گیا۔۔۔۔۔غصے سے کھولتے ہوئے وہ ڈرائنگ روم میں چلا آیا۔۔

۔۔فرقان پریشانی سے ٹہل رہا تھا۔۔۔اسے دیکھ کر معذرت خواہ انداز میں بولا آپ کو نیند سے ڈسٹرب کرنے کیلئے معذرت چاہتا ہوں سر۔مگر بات ہی کچھ ایسی ہے کہ اگر لیٹ بتاتا تو شائد صحیح نا ہوتا۔۔۔آپ مجھ پر غصہ کرتے کہ”

جلدی بتاؤ بات کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ماحر نے اکتا کر اسکی بات کاٹی اور سرد لہجے میں پوچھا

“۔۔۔۔سر ایک بہت بڑا مسئلہ ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔مس حیات عبدالرحمان نے آپ کی تمام کال ریکارڈنگز میڈیا میں دے دی ہیں جو کہ ہر سوشل پلیٹ فارم پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔۔۔۔وہ پریشانی بھرے لہجے میں بولا

وہاٹ۔۔۔۔۔ماحر کو جھٹکا لگا۔۔۔۔۔

۔۔۔اسے حیات عبدالرحمان کی دھمکی یاد آئی۔۔۔۔۔۔میرا پیچھا چھوڑ دو ماحر خان مجھے مجبور مت کرو کہ دنیا کو تمہارا یہ گھناؤنا روپ دکھا دوں۔۔۔۔۔تمہارے تمام کالے کرتوتوں والی کال ریکارڈنگز میڈیا میں دے دوں۔۔

بالآخر اس نے اپنی بات کو سچ کر دکھایا تھا۔۔۔

۔وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ اپنی بات پر عمل کر دکھائے گی۔۔۔۔۔اسکے خلاف اتنا بڑا سٹیپ اٹھائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔اتنے بڑے فلمسٹار اور سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے شخص سے دشمنی مول لے کر وہ اپنے ساتھ بہت غلط کر گئی تھی۔۔اس شخص کے عتاب سے اب تو کوئی معجزہ ہی اسے بچا سکتا تھا”

پریس کانفرنس کی ہے۔۔۔۔۔۔یا کسی چینل والوں کو دی ہیں۔۔۔؟؟اسے اپنی آواز کسی کھائی سے آتی محسوس ہوئی”

سر کسی چینل والوں کو بھیجی ہیں۔۔۔۔۔۔۔اس بات کا فلحال مجھے پتہ نہیں چل سکا کہ ریکارڈنگز بھیجی کس ٹی وی چینل کو گئیں۔کس نے پہلے اپنے چینل پر چلائیں۔۔۔تاہم فراز کوشش کر رہا ہے۔۔۔”

ماحر نے سنسناتے دماغ کے ساتھ ٹی وی آن کیا۔۔۔ہر دوسرے چینل پر یہی بریکنگ نیوز چل رہی تھی۔۔۔

معروف فلمسٹار،ڈائریکڑ پروڈیوسر ماحر سکندر خان کی حیات عبدالرحمان نامی ایک لڑکی کو کالز۔۔۔۔غیر مناسب آفرز اور نازیبا باتوں کے جواب میں لڑکی کا انکار اور ماحر سکندر خان کی دھمکیاں۔۔۔۔”

خبر سنتے ہی اسکی چہرہ غصے کی زیادتی سے سرخ ہو گیا۔آگ کی مانند آنکھوں سے شعلے نکلنے لگے”

نیوز کاسٹر بہت ہی زور و شور سے بتا رہا تھا۔۔۔ناظرین آپکو آج کی بڑی خبر سے آگاہ کریں گے۔۔۔معروف سپر سٹار ماحر خان کی کچھ کال ریکارڈنگز منظر عام پر آئی ہیں۔۔۔۔۔کہا جا رہا ہے کہ یہ اس لڑکی نے وائرل کی ہیں جس کو فلمسٹار ماحر سکندر خان پچھلے کئی ماہ سے فون پر حراس کر رہا تھا۔کہا جارہا ہے کہ”

نیوز کاسٹر اور بھی کچھ کہہ رہا تھا۔۔۔۔مگر ماحر کا دماغ کال ریکارڈنگز پر ہی اٹکا ہوا تھا”

سر آپ بتائیے اب کیا کرنا ہے۔۔۔؟؟فرقان نے اسکی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔

جس جس چینل پر یہ خبر چل رہی ہے ان کے اونرز سے کنٹیکٹ کرو۔۔۔۔اگلے بیس منٹ میں یہ ریکارڈنگز ودھ نیوز تمام چینلز سے ہٹ جانی چاہیے۔۔۔۔۔۔وہ سرد لہجے میں کہہ رہا تھا۔اس وقت شدید اشتعال کے مارے اسکے ماتھے کی رگیں تن گئی تھی۔۔