171.9K
78

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Hayat (Episode 64) Last Episode (Part - 1)

Meri Hayat By Zarish Hussain

مجھے نہیں لگتا اس روئے زمین پر پر مجھ سے بڑھ کر خوش قسمت انسان کوئی ہوگا۔۔میں نے جو چاہا مجھے

ملا۔۔دولت۔۔۔شہرت۔۔۔۔عزت اور دنیا کی سب سے حسین ترین لڑکی کا ساتھ۔۔۔۔۔بس اب مجھے خدا سے اور کچھ نہیں چاہیے سوائے تاقیامت تک تمہارے ساتھ کے۔۔۔.

” اسکا نازک سا گلابی ہاتھ تھامے وہ محبت سے لبریز لہجے میں کہہ رہا تھا۔بلیو جینز وائٹ شرٹ میں اسکا دراز سراپا بھرپور وجہیہ اور شاندار لگ رہا تھا۔۔براؤن

بالوں کا خوبصورت اسٹائل بنائے آنکھوں میں طمانیت اور بھرپور آسودگی کے رنگ چمکائے وہ بے حد سرشار

لگ رہا تھا۔۔۔۔حیات عبدالرحمان کا دل جیت لینے اسے پا لینے کی خوشی اسکے دلکش چہرے سے ہی جھلک رہی

تھی۔۔ماحر سکندر خان کا مسکرانا اور حیا عبدالرحمان

کا بلش کرنا بتا رہا تھا کہ دونوں کے درمیان خوشگوار تعلقات استوار ہو چکے ہیں۔صبح کا سہانا سماں تھا۔۔وہ دونوں اسوقت وکائیوا ندی کے ساحل پر چہل قدمی کر رہے تھے۔۔ آج صبح سویرے ہی آرلینڈو سے قدرے طویل مسافت طے کر کے شاہراہ سے ہٹ کر ایک ایسے علاقے میں آئے ہوئے تھے۔۔۔جہاں یکدم ہی خاموشی سی اتری ہوئی تھی تاحد نگاہ سبزہ ہی سبزہ درختوں میں گھرے شاندار گھر۔انتہائی پرسکون جگہ تھی یہ حیات کو یہ دلکش و پرسکون جگہ بہت پسند آئی تھی جبکہ ماحر

تو عادی تھا ایسے حسین مقامات پر گھومنے کا کیونکہ شوٹنگز کے سلسلے میں دنیا بھر کے خوبصورت مقامات پر جا چکا تھا اور جاتا رہتا تھا۔۔۔ فلمی دنیا میں گزارے اکیس سالوں میں وہ تقریباً پوری دنیا گھوم چکا تھا۔اسلئیے اسکی توجہ جگہ کی خوبصورتی سے زیادہ اپنے خوبصورت ہمسفر پر تھی۔۔ڈارک ریڈ بلڈ شرٹ۔۔جس پر سفید موتیوں والی لیس لگی ہوئی تھی۔۔۔۔اسکے ساتھ وائٹ ٹراؤزر اور ریڈ ڈوپٹہ جسکے کناروں پر بھی وائٹ موتیوں والی لیس لگی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ سلیقے سے سر پر ٹکائے وہ کرسٹل کی مومی گڑیا لگ رہی تھی۔۔۔۔۔ صبیح چہرہ گلاب کی مانند کھلا ہوا تھا۔۔۔۔ جس پر اتنی چمک اتنا نور تھا کہ ماحر کی نظریں اسکے نورانی چہرے پر سے ہٹ ہی نہیں رہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔ وہ کبھی اسکے حسین چہرے کو دیکھتا۔۔۔تو کبھی اپنے ہاتھ میں تھامے اسکے

دلکش سفید ہاتھ کو۔۔خماری و سرشاری اسکے انگ انگ سے جھلک رہی تھی۔۔اسے پا کر وہ بے تحاشا خوش تھا۔بے حد مسرور تھا۔۔ جیسے ہفت اقلیم کی دولت مل گئی ہو۔۔۔۔اپنی خوشی و سرشاری کا اظہار وہ بار بار جوش سے اسکا ہاتھ دبا کر کر رہا تھا۔۔۔ نظریں تھیں کہ بار بار

اسکے دلکشی و رعنائی سے بے مثل چہرے کی جانب اٹھتیں۔۔۔۔

اسکی نظریں بے خود تھیں۔۔

وارفتگی لئیے ہوئے تھیں۔۔

جذبے لٹاتی محبت و جذبات کے احساس سے دہکتی ہوئی تھیں۔۔۔۔۔۔ وہ اسکی طرف دیکھے بنا بھی تپش محسوس کر رہی تھی۔تبھی حد سے زیادہ کنفیوژ ہو رہی تھی۔۔۔۔جسے محسوس کر کے ماحر کے عنابی لب مسکرا رہے تھے۔۔۔۔یہ مسکراہٹ دل کی گہرائیوں سے آسودگی کے بھرپور احساس کے ساتھ تھی۔۔۔۔

خوش صرف وہی نہیں تھا۔۔۔ حیات بھی مطمئن تھی۔۔

جب اس گھنے خطرناک جنگل میں زندہ نگل لینے والی دلدل سے خدا نے نا صرف نجات دلا کر نئی زندگی عطا

کی بلکہ دو وحشیوں سے اسکی عزت کو بھی محفوظ رکھا پھر وہ کیسے اسکی دی گئی نعمتوں کی ناشکری

کرتی اسکے کئیے گئے فیصلوں سے اختلاف کرتی اس

کے بندوں کے حقوق سے انکار کر کے کیوں اسے ناراض کرتی بھلا۔۔۔۔۔۔

اگر وہ دلدل ان وحشیوں کو اپنے اندر نا کھینچتی اور وہ اسے پامال کرنے میں کامیاب ہو جاتے تو کیا وہ زندہ

رہنے کے قابل رہتی۔اپنے شوہر سے نظریں ملا پاتی جس

نے جائز شرعی رشتہ ہوتے ہوئے بھی اپنے آپ کو کنڑول میں رکھا کمرے کی تنہائی اور اپنی بیوی کا حسن بھی

اسے نا بہکا سکا۔۔اسکی مرضی کے بغیر اسے انگلی لگانا

بھی اس نے گوارا نا کیا۔۔۔ پھر ایسا شخص نفس پرست

ہو سکتا ہے کیا۔۔۔۔؟ جیسا کہ وہ نفرت میں اسکے متعلق سوچا کرتی تھی۔۔۔ رات سے کتنی مرتبہ وہ اپنے آپ سے یہ سوال کر چکی تھی۔۔پہلے جب بھی اسکے بڑھے ہوئے ہاتھ کو اس نے جھٹکا تو پھر اسکے بعد اس نے کبھی نہیں بڑھایا۔۔ مگر رات پہلی بار اس نے اسکے بڑھے ہوئے

ہاتھ کو نہیں جھٹکا تھا۔۔وجہ شائد یہی تھی کہ اب وہ

ڈر گئی تھی اسے کھونے سے۔۔۔اسکا دل و دماغ ماحر کو

قبول کر چکا تھا۔۔اب وہ پوری دیانت داری اور سچائی سے اسکے ساتھ رشتہ نبھانا چاہتی تھی۔۔۔

اگر وہ اسے چھوڑ دیتا تو وہ کیا کرتی۔۔۔؟؟

اسی خوف نے اس سے یہ سمجھوتہ کروایا تھا۔۔

کیونکہ وہ مذہبی رجحان رکھنے والی ایک باحیا باکردار لڑکی تھی۔۔۔ ایسی لڑکیوں میں بار بار شوہر تبدیل کرنے کے پل صراط سے گزرنے کا حوصلہ نہیں ہوتا اور نا ہی انکی حیا انہیں ایسا کرنے کی اجازت دیتی ہے۔۔۔ارتضیٰ حسن کو کھویا۔۔وہ تقدیر کا فیصلہ تھا۔میجر نعمان اور

علی محمدی کے وقت قسمت نے ساتھ نہیں دیا۔۔۔ اسکا

جوڑ ماحر کیساتھ لکھا ہوا تھا جسکو وہ نفرت و غصے

میں قبول کرنے سے انکاری تھی۔۔اب ماحر کے وقت اس

کی قسمت کا فیصلہ اسکے اپنے ہاتھ میں تھا۔۔۔اس نے بالآخر خدا کے اس فیصلے کو قبول کر لیا تھا۔۔۔

“رات وہ اسکے گلے لگ کر بے تحاشا روئی تھی۔۔۔

اپنے باپ عبدالرحمان کی موت پر۔۔۔۔

اپنے معصوم بھائی مون کی موت پر۔۔۔

رحمت بوا کی موت پر۔۔۔۔

اسکی ایک ایک زیادتی پر۔۔۔

اپنے ایک ایک نقصان پر۔۔۔

ان میں ایک فرد ایسا بھی تھا جسکے لئیے اس نے آنسو

تو بہائے مگر اسکا نام نا لے پائی اور وہ تھا میجر نعمان

وہ روتی رہی۔۔۔۔۔۔۔وہ نم آنکھوں سمیت اسے سینے سے لگائے چومتا رہا چپ کرواتا رہا۔۔۔اسکی ایک غلطی بھی اسے یاد دلوائے بغیر اپنی ہر غلطی تسلیم کرتا رہا۔۔۔۔۔

حیات کی ہچکیاں اور سسکیاں نا تھم رہی تھیں۔۔

وہ اسکی دلجوئی کرتا رہا۔۔بہت سارے وعدوں کیساتھ اپنی محبت کا یقین دلاتا رہا۔۔۔۔۔ صبح تک اسکے دل کی ساری کثافت دھل چکی تھی۔۔۔ ماحر کی محبت پر اسے یقین آ چکا تھا۔۔رات اسکی غلطیاں گنوانے والی صبح کو اپنی غلطیاں یاد کر کے معافی مانگ رہی تھی۔۔۔

مجھے معاف کر دیں ماحر۔۔۔میں بہت بری ہوں۔۔آپکو ہرٹ کرتی رہی بہت بار آپ سے بدتمیزی کی۔۔۔۔

“وہ اسکے ہاتھوں پر سر رکھ کے رو پڑی۔۔۔۔ جنگل میں ہوئے واقعات سے اسکی مینٹلی کنڈیشن اپ سیٹ تھی

تبھی وہ بار بار اسی کا سہارا لے کر روتی۔۔۔۔۔ جبکہ وہ حیران پریشان ہوتا نہایت نرمی و محبت سے اسے چپ کرواتا رہا۔۔وہ ابھی تک اسکے رونے کی اصل وجہ نہیں جان سکا تھا۔۔۔اسکے خیال میں ماضی کے واقعات اسے رلا رہے تھے تبھی اسکے رونے پر وہ پیشمان سا ہو کر رہ جاتا تھا۔۔پھر اسکی اپنائیت محبت توجہ اور استحقاق نے اسکو سنبھال لیا تھا۔۔۔پچھلے واقعات دماغ سے ہٹے تو اسکے رومینٹک انداز و اطوار اسے بوکھلانے لگے۔۔۔

وہ اس پر بھرپور توجہ دے رہا تھا۔۔۔۔ بلکہ ایک لمحے کیلئے بھی اسکی توجہ حیات سے ہٹ نہیں رہی تھی۔

جبکہ حیات کے چہرے پر حجاب آلود مسکان کا سنہرا عکس بکھرنے لگا تھا۔ساتھ چلتے ہوئے کن انکھیوں سے اسکی طرف دیکھا کیونکہ اب براہ راست آنکھوں میں

آنکھیں ڈال کر دیکھنے کی تاب نہیں تھی اس میں۔۔۔

دوسری طرف وہ بے حد سنجیدگی سے کہہ رہا تھا

تم نے مجھے قبول کر کے میرا سکون مجھے لوٹا دیا یار

ورنہ تم نہیں جانتیں تمہارا مجھ سے نفرت کرنا مجھے اگنور کرنا کس قدر ہرٹ کرتا تھا مجھے۔۔حالانکہ تمہارا

وہ رویہ بے سبب نہیں تھا۔۔۔۔۔ میں مکمل قصور وار تھا تمہارا مگر پھر بھی میں بہت ہرٹ ہوتا تھا خود کو تنہا

محسوس کرتا تھا۔۔۔۔ مگر کچھ عرصہ پہلے جب میں نے تمہارے رویے میں دھیرے دھیرے تبدیلی محسوس کرنا

شروع کی تو میں خوشگوار حیرت میں گھر گیا۔اسکے

بعد میں صرف اسی انتظار میں رہنے لگا۔۔۔۔ کہ کب تم مجھے قبولیت کی نوید سناتی ہو۔۔ویسے یہ تبدیلی آئی کیسے۔۔۔۔؟؟اس نے اپنا بازو اسکے کاندھے پر پھیلایا اور

محبت لٹاتی نظروں سے دیکھنے لگا۔۔۔

“پتہ نہیں بس ایسے ہی۔۔۔ حیات کے چہرے کی مدھم سی مسکان سورج کی کرنوں کی مانند جھلملانے لگی۔۔

کہیں مجھ سے محبت تو نہیں ہو گئی۔۔۔؟؟ وہ شرارتی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔

“جی نہیں ایسی کوئی بات نہیں آپ زیادہ خوش فہمی کا شکار مت ہوں۔۔۔۔حیات نے منہ بنایا۔۔۔

چلو کوئی بات نہیں تم بے شک نا کرو۔۔میں ہوں نا۔۔میں کروں گا اپنے حصے کی بھی اور تمہارے حصے کی بھی

بس تم ایک احسان کرنا۔۔میری محبت کو آرام سے قبول

کر لیا کرنا۔۔مجھے تڑیاپا مت کرنا۔۔۔۔وہ معنی خیز لہجے میں بولا۔۔حیات پہلے جھینپی پھر خفت سے سرخ پڑتی

اپنا ہاتھ اسکی پرجوش نرم گرم گرفت سے نکالنے لگی۔۔

وہ کھل کر مسکرایا اور اسے تنگ کرنے کیلئے اسکے ہاتھ پر اپنی گرفت پہلے سے بھی مضبوط کر لی۔۔۔ جواباً وہ

تھک ہار کر اپنی کوشش ترک کر کے ناراض نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی مگر پھر اسکی شوخ نگاہوں کی تاب

نا لا کر نظریں جھکا گئی۔۔

“ایک بات پوچھوں آپ سے۔۔۔۔؟؟ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد حیات نے قدرے جھجھکتے ہوئے پوچھا۔۔۔

“ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک نہیں ہزاروں پوچھو سویٹ ہارٹ۔۔۔۔

وہ بڑی دلکشی سے مسکرایا۔لہجہ محبت سے چور تھا۔۔۔

“لفظ سویٹ ہارٹ پر وہ جھینپ گئی اور کچھ نا بولی تو وہ اسکا ہاتھ سہلاتے ہوئے بولا۔۔۔ پوچھو نا جان من خاموش کیوں ہو گئی ہو۔۔۔

وہ رباب علوی کیساتھ جو آپکے افیئر کی خبر چل رہی ہے سوشل میڈیا پر۔۔وہ سچ ہے کیا۔۔۔؟؟ کتنے عرصے سے دل میں کلبلاتا سوال اس نے بالآخر پوچھ ہی لیا۔۔۔

میں تم سے اسی سوال کے انتظار میں تھا۔وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔ویسے مجھے حیرت ہے تم نے اتنا لیٹ کیوں

پوچھا حالانکہ یہ سوال میں تم سے رات کو ایکسپیکٹ

کر رہا تھا۔۔کل رات جب میں تمہیں اپنی محبت کا یقین

دلا رہا تھا تو میرا خیال تھا کہ تم میرے ہاتھ جھٹک دو گی اور پہلے مجھ سے میرے افئیر کے بارے میں جواب طلب کروگی مگر تھینکس گاڈ تم نے فرماں بردار بیوی ہونے کا ثبوت دیا۔۔۔۔ وہ ہنستے ہوئے کہہ رہا تھا۔۔۔

اسکے ہنسنے نے حیات کو خاصا شرمندہ کر دیا تھا وہ سر جھکا گئی۔۔جسے محسوس کر کے وہ فوراً سنجیدہ ہو گیا۔دیکھو حیا رباب علوی کیساتھ میرا کوئی پرسنل ریلیشن نہیں ہے۔۔ہم جسٹ مووی میں ساتھ کام کر رہے ہیں وہ میرے لئیے میری کو سٹار سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے تم کوئی وہم دل میں نا لاؤ ڈئیر۔۔۔۔۔ مجھے اگر

رباب علوی جیسی کسی فلمی ایکٹریس کو اپنی زندگی میں لانا ہوتا تو بہت پہلے لا چکا ہوتا۔ان فلمی ایکٹریسز

کی جگہ میرے نزدیک صرف فلموں میں ہی ہو سکتی تم کوئی وہم اپنے دل میں نا لاؤ۔۔۔۔۔۔ تمہاری جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔۔نا میرے خیال میں کوئی اس قابل ہے کہ

تمہاری جگہ لے سکے۔۔ تم نے میری لائف کو مکمل کر دیا ہے۔تم سے زیادہ اس دنیا میں کوئی بھی میرے لئیے اہم

نہیں۔۔۔تمہیں وہ بری لگتی ہے تو آئندہ میں کبھی اسکے

ساتھ کام نہیں کروں گا۔تم بس میری محبت پر بھروسہ

رکھو میں جانتا ہوں کہ بہت افئیر رہے ہیں میرے۔۔ مگر

میں وعدہ کرتا ہوں تم سے۔۔ کہ میری لائف میں تمہارے علاؤہ کوئی لڑکی نہیں آئے گی۔۔۔پہلے ہمارا رشتہ صرف

کاغذی تھا لیکن اب اسمیں مان اور استحقاق بھی قائم

ہو چکا ہے۔۔۔میں دل کی گہرائیوں سے اعتراف کرتا ہوں

کہ مجھے تم سے بے پناہ محبت ہے۔تم جیسی باوقار اور

باحیا لڑکی کی ہمراہی میرے لئیے قابل فخر ہے۔۔اسلئیے

میں پہلی نظر میں ہی تم سے متاثر ہوا تھا اگرچہ اس

وقت تو میں جسٹ تمہاری بے تحاشا خوبصورتی سے

ہی امپریس ہوا تھا مگر بعد میں تمہاری شرم و حیا کا

بھی اسیر ہوتا چلا گیا۔۔ تبھی تو تمہارے لاکھ ٹھکرانے کے باوجود بھی میرا دل تم سے دستبردار نا ہو سکا۔۔۔۔

تم کسی بھی مرد کا خواب ہو سکتی تھیں۔۔۔۔ پھر میرا کیسے نا ہوتیں بھلا۔۔ جب تم مجھے چھوڑ کر چلی گئی

تھی تو میں دیوانگی کی حدوں کو چھونے لگا تھا۔۔اگر

مزید کچھ عرصہ تم مجھے نا ملتیں تو یقیناً میں پاگل

ہی ہو جاتا۔میں جانتا ہوں میں نے بہت سی غلطیاں کی

ہیں۔تمہارا بہت دل دکھایا ہے۔لیکن اب انشاءاللّٰہ میں تم سے اتنی محبت کروں گا کہ تم ماضی کی تمام تلخیاں بھول جاؤ گی۔۔۔۔بس تم مجھ پر میری محبت پر یقین رکھنا۔۔۔وہ سچائی سے بھرپور لہجے میں کہہ رہا تھا۔۔۔

تو پھر جب سوشل میڈیا پر اس خبر کا چرچا ہو رہا ہے تو آپ نے تردید کیوں نہیں کی میڈیا کے سامنے۔۔۔؟؟

“حیات کی سوئی وہیں اٹکی ہوئی تھی۔۔۔۔

“سچ بتاؤں۔۔؟؟ اسکے لبوں پر ایک شرارتی مسکان آئی

“جی۔۔۔حیات نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔۔

میں تمہارا ری ایکشن دیکھنا چاہتا تھا۔۔اسلئیے خاموش تھا اب تک اور تمہارا ری ایکشن دیکھ کر دل کو سکون ملا۔۔۔۔وہ ہنستے ہوئے بتانے لگا۔۔۔

کیا مطلب کیسا ری ایکشن دیا میں نے۔۔۔؟؟ وہ اچنبھے سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔

“جناب اب بننے کی ضرورت نہیں مجھے اچھی طرح اندازہ ہو گیا تھا تمہیں بہت جیلسی فیل ہو رہی تھی اس بیچاری رباب سے۔ اور میرا اگنور کرنا بھی تم سے برداشت نہیں ہو رہا تھا غصہ آتا تھا نا مجھ پہ وہ ذرا

سا اسکی طرف جھک کر چھیڑنے کے انداز میں پوچھ رہا تھا۔۔ویسے دیکھ لو ہم تمہارے جتنے پتھر دل نہیں

ہیں تمہاری بے رخی سہتے تو سال ہونے والا ہے ہمیں

مگر تم سے تو چند دن بھی میرا اگنور کرنا ہضم نہیں ہو رہا تھا۔۔وہ مسکرا رہا تھا۔۔۔

جی نہیں میں کوئی جیلس ویلس نہیں ہوئی تھی۔۔اور

نہ آپکے اگنور کرنے پر مجھے غصہ آتا تھا۔۔۔زیادہ خوش

فہمی کا شکار مت ہوں۔۔۔۔ ویسے آپ مجھ سے بدلا لینے کیلئے ایسا کر رہے تھے کیا۔۔۔۔؟؟برا ماننے والے انداز میں کہتے آخری بات سوالیہ انداز میں پوچھنے لگی۔۔۔۔

جواب میں وہ کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔نا بھئی اس بدلے نے بہت نقصان پہنچایا ہے مجھے اس لئیے اس

لفظ سے ہی توبہ کر لی ہے میں نے۔۔۔۔ایک تو ذرا بزی تھا میں۔۔۔اور دوسرا تمہارا ری ایکشن دیکھنا چاہتا تھا اس لئیے ایسا انداز اپنائے رکھا۔۔رہی بات جیلس ہونے کی تو تم مانو یا نا مانو میں جانتا ہوں تم جیلس ہو رہی تھی اس سے۔۔۔۔اس دن جنگل میں بھی میں نے نوٹ کیا تھا جب تم اس بیچاری کو گھور رہی تھی کتنے خلوص سے وہ تم سے ملنے آئی تھی اور تم نے سیدھے منہ بات ہی نہیں کی۔۔

وہ مصنوعی افسردگی سے بولا۔۔۔۔

“ہاں تو کوئی عورت آپکے شوہر پر ڈورے ڈال رہی ہو اسے اپنی طرف مائل کر رہی ہو تو آپکا دل چاہے گا اس سے اچھے طریقے سے بات کرنے کو۔۔وہ خفگی سے بولی

ہاں یہ تو صحیح کہہ رہی ہو تم۔۔۔ماحر نے مسکراہٹ روک کر سنجیدگی سے اسکی بات کی تائید کی۔۔۔

“اب آپ واپس جاتے ہی سب سے پہلے میڈیا کے سامنے بیان دیں گے کہ آپکا اس ایکٹریس سے کوئی تعلق نہیں

آپ لوگ جسٹ فلم میں ایک ساتھ کام کر رہے۔۔۔۔اس نے تحکم بھرے لہجے میں کہا یہ اسی کا بخشا گیا مان تھا

“اوکے میری جان اور کوئی حکم۔۔۔وہ خوشدلی سے بولا

“نہیں بس۔۔۔وہ جھینپ گئی پھر یاد آنے پر فوراً بولی۔۔

پچھلے دنوں جب ہم نیویارک میں تھے تب آپ امریکی فلمسٹار کیساتھ ڈیٹ پر گئیے تھے نا۔۔۔۔؟؟

ارے نہیں یار ڈیٹ پر نہیں گیا تھا میں۔۔۔۔۔ وہ دراصل

کیٹی میرے ساتھ فلم کرنا چاہتی ہے اسی سلسلے میں ڈسکشن کیلئے بلایا تھا اس نے۔ویسے مجھے بہت اچھا

لگ رہا ہے تمہارا اسطرح سے مجھ پر حق جتانا۔۔ہمیشہ

ایسے ہی رہنا۔۔کاش مجھے پہلے پتہ ہوتا کہ رباب علوی سے میرے افئیر کا چرچا تمہیں تحفظات کے خدشے سے دوچار کر کے میرے نزدیک لے آئے گا تو یہ کام میں بہت

پہلے کر چکا ہوتا۔ماحر نے مسکراتے ہوئے اسکے ہاتھ کی

پشت پر بوسہ دیا تو وہ جھینپ کر رہ گئی۔حجاب آلود

ناراضگی و کوفت کا عکس اسکے خدو خال کو انوکھی

دلکشی بخشتا گویا جگمگا کے رکھ گیا تھا۔۔۔