171.9K
78

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Hayat (Episode 47)

Meri Hayat By Zarish Hussain

حیات عبدالرحمان کے قدم گویا زمین سے چپک کے رہ گئے تھے۔سکتے کی حالت میں کھڑی وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسکی جانب دیکھ رہی تھی جسکے چہرے پر شائد اسے ڈھونڈھ لینے کی چمک تھی۔۔

بنا پلکیں جھپکائے وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔ایک کے چہرے پر اطمینان تھا۔۔۔۔دوسرے کا چہرہ

دھواں دھواں ہو رہا تھا۔۔

” پورے نو مہینے پندرہ دنوں بعد وہ اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔وائٹ پر شکن لباس۔۔۔۔الجھے بکھرے بال۔۔سوجی ہوئی آنکھیں۔۔سرخ متوحش چہرہ۔۔۔۔۔ رنج و والم کی تصویر بنا سراپا چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا ان گزرے نو مہینوں میں وہ کیسے کیسے قیامت خیز حالات سے گزری ہے۔خوف و دہشت سے اسکی آنکھیں پھیلی ہوئی تھیں۔۔۔۔۔بدن پر چنبیلی کی نازک ڈال کی طرح دھیرے دھیرے لرزہ طاری تھا۔۔۔۔۔اسکی حالت غیر ہوئے جا رہی تھی آہستہ آہستہ قدم اٹھائے جیسے ہی وہ اسکی طرف آنے لگا تو وہ جو پے در پے لگنے والے اعصابی و ذہنی جھٹکوں کو بڑی ہمت اور حوصلے سے سہتی آ رہی تھی۔سخت سے سخت ترین حالات میں بھی اپنے ہوش و حواس قائم رکھے ہوئے تھی۔ماحر خان کی شکل میں ملنے والے اس جھٹکے کو نا سہہ پائی۔سوچنے سمجھنے کی تمام حسیات سلب ہو کر رہ گئی تھی۔۔۔اس نے الٹے قدموں پیچھے ہٹنے کی کوشش کی مگر ایک تو اچانک سے لگنے والا شاک اور اوپر سے بخار کی وجہ سے ہونے والی کمزوری۔چکرا کر نیچے گرنے ہی لگی تھی جب اس نے آگے بڑھ کر سنبھالا تھا۔۔وہ اسکے ہاتھوں میں کسی بے جان چیز کی طرح جھول گئی۔۔۔ماحر نے اسے قریبی صوفے پر لیٹا دیا۔۔

آپی۔۔۔۔مون بھاگ کر اسکے قریب آیا اور روتے ہوئے اسے جھنجھوڑ کر اٹھانے کی کوشش کرنے لگا۔۔ماحر نے اسے الگ کر کے اپنے حصار میں لینے کی کوشش کی تو وہ بری طرح چلا اٹھا۔۔

چھوڑو مجھے۔۔۔۔تم گندے ہو۔۔۔میری آپی کو مارا تم نے چیختے ہوئے دونوں ہاتھوں سے اسے پیچھے دھکیلنے لگا۔۔

ماحر کے دل پر ایک گھونسہ پڑا۔۔۔وہ اپنا امیج بچے کی نظروں میں بھی بری طرح خراب کر چکا تھا۔۔۔۔

میری بات سنو بیٹا میں نے تمہاری آپی کو کچھ نہیں کہا۔۔انفیکٹ میں تو تم سے اور تمہاری آپی سے سوری کرنے آیا ہوں۔۔۔اس نے روتے چلاتے مون کو زبردستی باہوں میں بھر کر نرمی سے کہا۔۔

نہیں آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔اس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے انکار کیا۔۔

میں سچ کہہ رہا ہوں مون۔۔۔آئی ایم سوری۔۔اچھے بچے تو غلطی پر معاف کر دیتے ہیں۔۔۔۔تم تو اچھے بچے ہو پھر مجھے معاف نہیں کرو گے کیا۔۔۔؟؟

وہ رونا چھوڑ کر بے یقینی سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔

میں آپ کو معاف کروں گا پھر آپ میری آپی کو ماریں گے بھی نہیں اور انہیں تنگ بھی نہیں کریں گے نا۔۔۔؟؟

کچھ دیر شش و پنج مبتلا رہنے کے بعد مون نے ہامی بھری لیکن اپنا مطالبہ بھی سامنے رکھا۔۔ماحر نے شکر پڑھتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا

پرامس۔۔۔تمہاری آپی کو بالکل تنگ نہیں کروں گا۔۔۔اب آپ ایسا کرو۔۔۔ جلدی سے ایک گلاس پانی لے آؤ۔۔ان کے چہرے پر تھوڑا سا چھڑکنا ہے۔تب ہوش میں آ جائیں گی یہ۔۔۔۔

اس نے صوفے پر ہوش و حواس سے بیگانہ لیٹی حیات کی طرف اشارہ کر کے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا اور بھاگ کر کچن سے پانی کا گلاس بھر کر لے آیا۔ پانی لے کر اس نے حیات کے چہرے پر ذرا سا چھڑکا تو وہ چند سیکنڈز بعد کسمسا کر ہوش میں آ گئی۔۔

آنکھیں کھولتے ہی نظر اس شخص پر پڑی۔کچھ دیر تو بے خیالی میں اسے دیکھتی رہی۔شعور بیدار ہوتے ہی وہ بری طرح دہل کر اٹھی۔۔

آپی۔۔مون فوراً اس سے آ لپٹا تو اسے اپنی آغوش میں لیتے خوفزدہ نظروں سے اسکی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔

میرے بھائی کو کچھ مت کہنا پلیز اور نا ہمیں پولیس کے حوالے کرنا۔۔آپ جو بھی بولیں گے میں کرنے کو تیار ہوں۔۔۔بس ہمارے ساتھ کچھ غلط مت کرنا پلیز۔۔۔آنسوؤں کے بیچ خوفزدہ لہجے میں وہ گڑگڑائی تھی۔۔

ریلیکس پلیز۔۔۔۔۔مجھ سے خوفزدہ مت ہوں میں کچھ نہیں کہوں گا آپ دونوں کو۔۔۔

اسے خود سے اتنی بری طرح ڈرتے دیکھ کر اسکی شرمندگی اور افسوس میں اضافہ ہوا۔۔

نہیں آپ بدلا لیں گے۔۔۔ہم نے آپ پر اٹیک کر کے آپ کو زخمی کیا تھا۔۔پلیز میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑ کر کہتی ہوں مزید بدلا مت لیجئیے گا میں نہیں سہہ سکوں گی

آپ جو کہیں گے مانوں گی۔۔۔۔۔آپ جو چاہتے تھے میں کروں گی۔۔۔۔۔بس پولیس کے حوالے مت کرنا۔۔۔وہ ہاتھ جوڑے سسکتے ہوئے کہہ رہی تھی۔۔

کیا چاہتا تھا میں اور کیا کریں گی آپ۔۔؟؟وہ کنفیوژ سا ہو کر اسے دیکھنے لگا۔۔۔

آپ چاہتے تھے نا میں آپ کی فلم میں کام کروں۔ٹھیک ہے مم میں کروں گی آپ کی فلم میں کام۔۔۔۔۔۔بس پلیز

مجھ سے دشمنی ختم کر دیں۔۔۔۔۔مجھ میں ہمت نہیں اب اور کچھ سہنے کی۔۔۔۔وہ شکست خوردہ انداز میں بولی۔ایک پل بھی نہیں لگا تھا اسے فیصلہ کرنے میں

وہ تھی ہی ایسی پل میں ہاں اور پل میں ناں کرنے والی۔۔

وہاٹ۔۔۔۔؟؟اس غیر متوقع بات پر وہ حیران رہ گیا

وہ اسے کہنا چاہتا تھا کہ وہ اپنے کیے پر شرمندہ ہے اس کا سارا نقصان بھرنے کو تیار ہے بس وہ اسے معاف کر دے لیکن اب اسے فلم کیلئے حامی بھرتا دیکھ کر وہ تذبذب میں مبتلا کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔یہ خیال تو وہ اپنے دماغ سے کب کا نکال چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔اسی ایک بات کی بات کی وجہ سے تو حالات کتنے خراب ہوئے تھے کہاں سے کہاں پہنچ گئے تھے لیکن اب اگر وہ اپنے منہ سے خود یہ بات کہہ رہی تھی تو وہ کیوں انکار کرتا بھلا۔۔

اسکی تو کتنی خواہش تھی اسے اپنی فلم میں دیکھنے کی۔۔اگر وہ پہلے ہی مان جاتی تو دونوں کو اتنے مسائل کا سامنا بھی نا کرنا پڑتا۔۔

آپ واقعی میری فلم میں کام کریں گی۔۔۔۔؟؟وہ بے حد حیرانی سے پوچھ رہا تھا۔۔

ہاں کروں گی لیکن پھر اسکے بعد آپ ہمیں کچھ نہیں کہیں گے نا کوئی بدلا لیں گے،بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ہمارا پیچھا چھوڑ دیں گے۔۔۔۔؟؟اس نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے اس نے اپنی شرط بتائی۔۔

وہ ابھی بھی حیرانی سے اسے ایسے دیکھ رہا تھا جیسے اسکی بات پر یقین نا آیا ہو۔۔

آپ سچ کہہ رہی ہیں نا۔۔آپ اپنی بات سے مکریں گی تو نہیں۔۔۔؟؟اس کا خدشہ بے جا نہیں تھا پہلے بھی وہ ایک بار ہاں کر کے مکر گئی تھی۔

ہاں اسی مسئلے کی وجہ سے تو میں اپنا سب کچھ لٹا

بیٹھی ۔۔اب میں اسے ختم کرنا چاہتی ہوں لیکن آپ کو مجھے لکھ کر دینا ہوگا اس کے بعد آپ کا مجھ سے کوئی لینا دینا نہیں ہوگا۔آپ اپنے راستے اور میں اپنے۔خود پر ضبط کیے وہ بڑے تحمل سے کہہ رہی تھی۔

بڑے کڑے دل سے یہ فیصلہ کیا تھا اس نے۔۔

جو وجہ اسکی بربادی کا باعث بنی تھی اس وجہ کو وہ اب پورا کرنے جا رہی تھی۔۔

وہ بھی بخوبی سمجھ رہا تھا کہ کس وجہ سے اس نے

ایک دم سے یہ فیصلہ کر لیا تھا۔۔ایک لمحے کو اسکا دل کیا کہ وہ اسے تسلی دے۔۔۔۔۔کہے کہ اب ایسا کچھ نہیں چاہتا وہ اس سے۔۔۔۔۔مگر پھر کچھ سوچ کر خاموش ہو گیا۔۔

ٹھیک ہے مجھے منظور ہے۔میں آپ کو لکھ کر دے دونگا میں یہیں بیٹھا ہوں پھر آپ اپنی پیکنگ کر لیں کچھ

دیر تک ہمیں کراچی کیلئے نکلنا ہے۔۔۔پہلے بھی آپ کو ڈھونڈنے لاہور کی بہت خاک چھانی ہے میں نے۔۔۔

وہ سامنے پڑے صوفے پر بیٹھتا ہوا بولا

کراچی کیوں۔۔۔؟؟وہم۔۔۔۔۔ڈر۔۔۔خدشات۔۔۔خوف۔۔۔بیک وقت لاحق ہوئے تھے

کیونکہ آپ نے فلم میں کام کرنے کیلئے ہامی بھری ہے نا

تو ظاہری بات ہے شوٹنگ کیلئے تو کراچی چلنا ہوگا۔اب اس فلیٹ میں تو شوٹنگ ہونے سے رہی۔ہاں شوٹنگ کے بعد آپ یہاں واپس آئیں یا کہیں اور جائیں آپ کی مرضی ہمیں غرض نہیں۔۔۔

وہ سر سری لہجے میں بولا۔۔

“۔۔۔وہ کچھ دیر تک خاموش بیٹھی رہی پھر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اٹھی اور اپنے بھائی کو ساتھ لئیے کمرے میں چلی گئی جیسے خدشہ ہو کہ وہ اندر جائے اور وہ کہیں پیچھے سے اسکے بھائی کو غائب نا کر دے ۔۔۔

وہ وہیں بیٹھ کر فرقان کو فون ملانے لگا کہ وہ ارجنٹ

تین سیٹیں بک کروائے۔۔۔

پرسوں رات دو بجے کے قریب فرقان نے اسے اطلاع دی کہ مون کی گمشدگی کی رپورٹ اخبار میں چھپی ہے جو کہ دس دن پہلے کی ہے۔۔ماحر نے فوراً اس بندے کا پتہ لگانے کو کہا جس نے اخبار میں اشتہار دیا تھا۔۔اور

پھر جس بندے کا نام سامنے آیا تھا وہ سن کر بے تحاشا حیران رہ گیا تھا۔۔

میجر نعمان احمد۔۔۔

اس بندے سے ایک سال پہلے اسوقت ملاقات ہوئی تھی جب وہ اپنی ایک فلم کے کچھ سینز آرمی ٹریننگ سینٹر میں شوٹ کرنا چاہ رہا تھا۔۔۔

اس سلسلے میں پرمیشن لینے کیلئے وہ میجر نعمان احمد سے لاہور آ کر ملا تھا۔۔میجر نعمان کے اچھے رویے

نے اسے امپریس کیا تھا۔۔۔میجر نعمان نے ناصرف آرمی سنٹر میں شوٹنگ کی اجازت دی تھی بلکہ خود شوٹنگ دیکھنے بھی آئے تھے۔۔۔۔اسکے بعد ایک مرتبہ پھر کسی سیاسی وزیر کی پارٹی میں اسکی میجر نعمان سے ملاقات ہوئی تھی۔چند دن پہلے اسے ان کی شہادت کی خبر ٹی وی سے پتہ چلی تھی جسے سن کر وہ کافی غمگین ہوا تھا۔لیکن اس بات نے تو شدید حیران کر دیا تھا کہ مون کی گمشدگی کا اخبار میں اشتہار دینے والا کوئی اور نہیں بلکہ میجر نعمان تھا۔۔۔اس رات کی بقیہ چند ساعتیں اس نے بڑی مشکل سے گزاری تھیں اور پھر صبح سویرے چار بجے کی فلائٹ سے ہی وہ لاہور پہنچ گیا تھا۔۔میجر نعمان کا بنگلہ تو اب خالی ہو چکا تھا تاہم خوش قسمتی سے اسکے ذاتی ڈرائیور سے فرقان کی ملاقات ہو گئی تھی۔پیسوں کے بدلے میں وہ ساری انفارمیشن دینے پر رضامند ہو گیا تھا۔۔۔۔

پھر جو کچھ اس نے بتایا تھا فرقان نے حرف بہ حرف ماحر کو جا کر سنایا۔۔

ڈرائیور کے مطابق آج سے دو مہینے پہلے میجر نعمان نے حیا نام کی ایک گورنس اپنی بیٹی کے لئیے ہائر کی تھی جسکا شائد بھائی گم ہو گیا تھا جس کو پھر میجر نعمان نے ہی کوشش کر کے بازیاب کروایا تھا۔۔

اپنی شہادت سے تین دن پہلے وہ اس گورنس سے نکاح کر رہا تھا کہ اچانک آرمی کیمپ سے بلاوا آجانے کی وجہ سے اس نے نکاح کی تقریب کینسل کر دی اور شمالی وزیرستان چلے گئے جہاں تیسرے روز ہی انکی شہادت کی اطلاع ملی تھی۔ یہ تمام تفصیلات جان کر وہ گم صُم سا رہ گیا تھا۔اسے سمجھ نہیں آیا کہ وہ میجر نعمان کی شہادت پر دکھ کا اظہار کرے یا پھر اس بات پر شکر کا کلمہ پڑھے کے اس کا نکاح حیات

عبدالرحمان سے نہیں ہو پایا۔۔

پھر اسی ڈرائیور کی ہیلپ سے ہی انہوں نے حیات کا پتہ ڈھونڈ لیا تھا۔ڈرائیور میجر نعمان کے اس اپارٹمنٹ سے واقف تھا سو زیادہ مشکل نہیں ہوئی ڈھونڈھنے میں اور آج صبح سویرے ایڈریس ملتے ہی وہ یہاں پہنچ گیا تھا۔۔مون اسے اپارٹمنٹ کے باہر ہی مل گیا تھا۔

حیات عبدالرحمان نے اپنی پیکنگ کر لی تھی وہ اسکے ساتھ جانے کیلئے تیار تھی۔۔بلیک فلیٹ سادہ سے جوتے

میں جگمگاتے پاؤں بلیک چھوٹے چھوٹے پھولوں والی

چادر میں خود کو اور ماتھے تک اپنے چہرے کو چھپائے

ہاتھ میں ہینڈ کیری پکڑے وہ اسکے سامنے مگر کافی فاصلے پر آ کھڑی ہوئی۔۔وہ بے مقصد ہی اسے دیکھتا رہا

چلو مون اپنے شہر۔۔۔اس نے مسکرا کر مون سے کہا جو

اپنی بہن کی طرح سپاٹ چہرے کے ساتھ کھڑا تھا۔وہ

کچھ نا بولا جبکہ حیات کی نگاہوں میں تو اس کیلئے نفرت کے سوا کوئی تاثر نا تھا۔۔اس نے گہری سانس بھر

کر لب بھینچ لئیے تھے اور سیٹیں ملتے ہی پہلی فلائٹ سے وہ انہیں لے کر کراچی کیلئے روانہ ہو گیا تھا۔۔

سارا راستہ وہ بے تاثر انداز میں بیٹھی رہی تھی۔ماحر

نے کن انکھیوں سے کئی بار اسکی طرف دیکھا مگر وہ

بالکل متوجہ نا ہوئی۔۔۔جہاز سے باہر آنے پر بھی اس کا

رویہ برقرار رہا۔ماحر خان کے چہرے پر اطمینان تھا۔۔۔” جبکہ حیات عبدالرحمان کا چہرہ جامد تھا لیکن اپنی شکست پر اندر ایک آگ سی دہک رہی تھی۔۔۔

رات کی پلکیں بھیگنے لگی تھیں۔۔۔۔۔نومبر کی یہ رات حیات عبدالرحمان کی آنکھوں سے آنسو چرا کر بھیگی

بھیگی سی تھی۔۔شام سے شروع ہونے والی برسات کا

یہ عالم تھا کہ کسی صورت رکنے کو تیار نہیں تھی۔اب

بھی کن من کن من سی پھوار کا سلسلہ جاری تھا۔خود

حیات عبدالرحمان کا بھی یہی حال تھا۔آنکھیں مسلسل برس رہی تھیں۔۔۔۔آج شام کو ہی اس شخص کی ہمراہی میں کراچی پہنچی تھی وہ۔۔۔

یہ اسکی زندگی کا سب سےاذیت ناک سفر تھا جو اس نے اس شخص کی سنگت میں کیا تھا جس نے اسکی اچھی بھلی پرسکون زندگی کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا تھا۔۔۔جس سے بچنے کیلئے وہ نو مہینوں سے ادھر ادھر بھٹکتی رہی تھی۔۔جو اسکے اپنوں کے بچھڑنے کا ذمہ دار تھا۔سب سے بڑھ کر اسکی پیاری بوا اور احمر کا قاتل۔۔یہ سفر کس قدر تکلیف اور اذیت میں مبتلا ہو کر اس نے طے کیا تھا یہ وہی جانتی تھی۔۔۔۔

وہ تکلیفیں سہہ کر بھی تکلیف میں لگی۔۔۔۔۔

جبکہ وہ تکلیفیں پہنچا کر بھی پرسکون لگ رہا تھا۔

اس شخص کے چہرے پر اسے افسوس یا شرمندگی کی ہلکی سی رمق بھی نظر نہیں آئی تھی۔۔۔

کتنے بے حس اور مردہ ضمیر ہوتے ہیں ایسے لوگ جو دوسروں کا چین چھین کر ان کو تکلیف پہنچا کر خود بالکل آرام سے جی رہے ہوتے ہیں۔۔۔۔اس نے بے حد دکھ سے سوچا۔۔آنکھیں تھیں بار بار چھلک رہی تھیں

میم یہ ٹیبلٹ کھا لیں پلیز۔۔۔۔۔۔آپ کو نیند آ جائے گی تو پرسکون ہو جائیں گی۔۔۔۔۔اسی وقت میڈ پانی کا گلاس اور ٹیبلٹ لیے اسکے سر پر آ کھڑی ہوئی۔۔۔

“۔۔۔اس نے چپ چاپ ٹیبلٹ لے کر پانی کے ساتھ نگل لی

اور سونے کیلئے لیٹ گئی یہ وہی فلیٹ تھا جہاں وہ اور بوا پہلے رہی تھیں۔۔۔۔۔لیکن فرق یہ تھا تب اسے اس فلیٹ کے مالک کا پتہ نہیں تھا لیکن اب وہ اس فلیٹ کے مالک کو اسکی اصلیحت سمیت جانتی تھی۔۔۔”

سفر کرنے کی وجہ سے بخار مزید بگڑ گیا تھا نتیجتاً تین دن تک وہ بری طرح بخار میں مبتلا بستر پر بے

سدھ لیٹی رہی۔۔۔۔۔اسکی کئیر کیلئے ماحر نے دو نرسز

بھی تعینات کر دیں جو چوبیس گھنٹے کمرے میں اسکی دیکھ بھال کیلئے موجود ہوتیں۔۔۔۔مون کا خیال

رکھنے کیلئے بھی ایک میڈ تھی۔۔حیات کی خود داری پر بہت گہری چوٹ لگ رہی تھی لیکن وہ اسکی یہ سب عنایات لینے پر مجبور تھی ان تین دنوں میں وہ دوبار اسے دیکھنے آیا۔

چند منٹ اسکے کمرے میں بیٹھا بھی رہا مگر وہ لبوں پر تالا لگائے سر سے پیر تک کمفرٹر تانے لیٹی رہی۔نرسز اور ڈاکٹر سے ہی اسکی کنڈیشن کے بارے میں معلوم کرتا رہتا تھا۔۔۔

حیات کی آنکھوں میں تو ویسے بھی اسے دیکھتے ہی خون اتر آتا تھا۔۔اعتماد۔۔۔بھروسہ۔۔۔محبت کچھ بھی تو

نہیں بچا تھا۔۔ہر حد تو اس نے پار کی تھی عزت تک

برباد کرنے پر تل گیا تھا۔۔۔۔۔۔پھر وہ پروا کیوں کرتی

آج چوتھے دن اس کا بخار اتر گیا تھا۔لیکن سر درد سے مکمل طور پر چھٹکارا حاصل نہیں ہوا تھا۔تاہم طبیعت میں پہلے سے خاصی بہتری محسوس کی تھی اس نے۔ اٹھ کر پہلے باتھ لیا۔۔۔۔۔ملازمہ ناشتہ لے کر آئی تو چپ چاپ کر لیا۔بخار کی وجہ سے انرجی لیول کافی ڈاؤن ہو چکا تھا۔ناشتے کے بعد ذرا توانائی فیل ہوئی تو نرسز کو جانے کا کہا جو تین دن سے اسکے سر پر مسلط مسلسل اس کا ضبط آزما رہی تھیں۔۔

حسب توقع ماحر خان کے آرڈر کے بغیر انہوں نے جانے سے انکار کر دیا تو حیات عبدالرحمان کو دل پر پتھر رکھ کر اس شخص کو خود فون کر کے کہنا پڑا کہ وہ ان نرسز کو بھیجے یہاں سے تو ہی انہوں نے جان چھوڑی اسکی اور چلی گئیں۔۔

وہ فلم کے لئیے حامی بھر تو چکی تھی مگر اندر سے شدید بے چینی پھیلی ہوئی تھی۔۔۔دل و دماغ میں ایک حشر سا برپا تھا۔۔۔۔اسے لگ رہا تھا جیسے وہ جان بوجھ کر بہت بڑا گناہ کرنے جا رہی ہے۔

اس کا ضمیر اس ملامت کر رہا تھا کہ وہ ٹھیک نہیں کرنے جا رہی۔۔یہ کوئی اچھا یا نیک کام نہیں۔سکرین پر سج دھج کے غیر مردوں کے سامنے آنا ان کو لبھانا۔۔۔ نامحرم مردوں کے سامنے اپنی زینت عیاں کرنا کتنا بڑا گناہ ہے۔۔۔۔عورت کے سر کا ایک بال بھی نامحرم مرد نا دیکھے بلکہ اسلام میں حکم ہے اگر کسی نا محرم مرد کے ساتھ بات کرنی پڑے تو اپنے لہجے میں نرمی اور لچک نا لاؤ تاکہ وہ کسی قسم کی غلط فہمی میں مبتلا نا ہو۔اللّٰہ تعالیٰ نے تو ننگے سر گھومنے والی عورتوں پر بھی لعنت فرمائی ہے انکے لئیے تو جہنم میں ایک الگ سے خانہ تیار کیا گیا ہے اور یہ میں کیا کرنے جا رہی ہوں۔۔اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو جکڑ لیا۔۔

جس کام سے انکار پر اسے اتنا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔۔آج وہی کام تمام تر دلی و ذہنی ناپسندیدگی کے باوجود وہ کرنے جا رہی تھی۔۔۔

یااللّٰہ مجھے معاف کر دینا میرے پاس اور کوئی راستہ

نہیں پہلی اور آخری بار یہ گناہ کا کام کرنے جا رہی ہوں اسکے بعد کوئی ایسا کام نہیں کروں گی۔وہ بہتے آنسوؤں کے ساتھ دل ہی دل میں کئی مرتبہ اللّٰہ کو مخاطب کر کے یہ بات دہراچکی تھی۔ہمیشہ سے شوبز کی فیلڈ کو بری اور گناہ کی فیلڈ سمجھنے والی کو خود اسی فیلڈ میں ایک دن کام کرنا پڑے گا کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔اس شخص نے کوئی راستہ بھی نہیں چھوڑا تھا اس کے لئیے۔۔بالآخر وہ جیت گیا تھا۔اسکے من کی مراد پوری ہونے جا رہی تھی۔۔۔

حیات عبدالرحمان کا حسن بڑی سکرین پر بے حجاب ہونے جا رہا تھا۔۔اسکے اندر حشر برپا ہونے لگا۔۔۔اٹھ کر سلائیڈنگ ڈور کھولا۔۔اور باہر دیکھنے لگی۔۔۔۔۔ہوا کے ٹھنڈے جھونکے نے اس کا استقبال کیا۔بے ساختہ اسکی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھ گئیں۔۔گہرے سیاہ بادلوں سے آسمان ڈھکا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔خوابناک سا اندھیرا ہر سو پھیلا رات کا سماں پیدا کر رہا تھا۔حالانکہ ابھی دن کا آغاز ہوئے چند ہی گھنٹے ہوئے تھے گہرے ابر نے سورج کو ڈھانپ رکھا تھا۔اسکے اندر ماحول کی تمام گھٹن و حبس سرایت کرنے لگی۔بےکل تو وہ پہلے ہی تھی اب مضطرب بھی ہونے لگی تھی۔۔۔۔۔اس نے دھواں دھواں ہوتی نیلی آنکھیں نیچے سڑک پر بھاگتے دوڑتے ٹریفک پر لگا دیں۔۔وہ خاموش کھڑی تھی۔۔۔۔

“۔۔دل و دماغ میں عجیب سی جنگ چھڑی ہوئی تھی۔

وہ ہاں تو مجبوراً کر چکی تھی مگر شدید ٹینشن میں

مبتلا تھی۔ ماحر خان کے متوقع جارحانہ اقدام سے ڈر کر اس نے ایک سیکنڈ میں فیصلہ کیا تھا۔۔مگر اب وہ پہلے سے بھی کئی گنا زیادہ متنفر و کبیدہ ہو گئی تھی۔وہ ایک ایسی چڑیا بن چکی تھی جس نے اپنے پر خود ہی کاٹ ڈالے تھے۔۔

اسی وقت ملازمہ نے دستک دی تو وہ خیالوں سے باہر آئی۔۔۔

بولو۔۔پیشانی پر شکنیں ڈالے ناگواری سے اس نے پوچھا تھا۔۔۔۔۔جب مالک سے نفرت تھی تو اسکے نوکروں کے ساتھ کیوں اچھا رویہ رکھتی بھلا۔۔۔

وہ جی سر آئے ہیں باہر۔۔اور آپ کو بلا رہے ہیں۔۔۔

ملازمہ نے قدرے جھجھک کر کہا

اس شخص کے آنے کا سن کر شدید غصے اور ناگواری کا احساس ہوا تھا۔۔۔بنا کوئی جواب دئیے وہ بگڑے موڈ کے

ساتھ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔۔

ملازمہ کچھ دیر اسکے جواب کی منتظر کھڑی رہی۔۔کوئی جواب نا ملا تو خاموشی سے پلٹ گئی۔۔

اسی کے فلیٹ میں رہ کر اس سے ملنے سے انکار نہیں کیا جا سکتا تھا وہ بھی اسی خاص طور پر اس صورت میں جب وہ اسکی فلم میں کام کرنے جا رہی تھی۔

گہرے گہرے سانس لے کر اپنے مشتعل اعصاب پر قابو پانے اور اس کے سامنے جانے کیلئے وہ خود کو مینٹلی طور پر تیار کرنے لگی۔۔۔

کتنا مشکل ہوتا ہے اس بندے کے سامنے جانا اس سے بات کرنا جس کیلئے دل میں شدید غصہ اور نفرت ہو

حیات عبدالرحمان بھی ایسی ہی صورتحال سے دو چار تھی۔۔بہر حال جانا تو تھا۔۔خود پر جبر کرتی وہ کمرے

سے باہر آئی تو سامنے ہی گرین لائنوں والی شرٹ اور بلیک پینٹ میں ملبوس وہ مون سے محو گفتگو تھا”

اسے حیرت ہوئی مون اس سے پہلے کی طرح ہی فرینک ہو چکا تھا۔۔شائد جن دنوں وہ بخار میں مبتلا رہی ان

دنوں وہ مون کا دل اپنی طرف سے صاف کرنے میں کامیاب رہا ہوگا۔۔۔۔ویسے بھی بچوں کے دل بہت صاف اور معصوم ہوتے ہیں بڑوں کی زیادتیوں کو جلدی بھول جاتے ہیں بہ نسبت بڑوں کے۔۔

آہٹ پر اس نے مڑ کر دیکھا۔۔۔۔خوبصورت چہرے پر بے اختیار ہلکی سی مسکراہٹ اور آنکھیں میں اشتیاق کی لہر ابھری۔۔

وائٹ اینڈ بلو کاٹن کے سوٹ میں اس کا ملکوتی حسن اپنی رعنائیاں بکھیر رہا تھا۔۔۔گزرے برے وقت نے اسکی صحت پر تو اثر تو کیا تھا مگر اس کے حسن پر کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔۔۔۔۔بلکہ اس بلیو ڈریس میں نکھری نکھری سوٹ سے ہم رنگ آنکھوں کے ساتھ وہ پہلے سے بھی کئی گنا حسین لگ رہی تھی۔۔۔۔یہ اس کا حسن ہی تو تھا جس نے پہلی بار اسے اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔

اسکے اشارہ کرنے پر مون اندر کمرے میں چلا گیا۔۔

کیسی ہو۔۔۔؟؟

سرسری نگاہوں سے اس کا جائزہ لینے کے بعد وہ بڑی اپنائیت اور بے تکلفی سے یوں پوچھنے لگا۔جیسے ان کے بیچ بڑے خوشگوار تعلقات ہوں۔۔

“حیات نے ایک سلگتی ہوئی نظر ڈالی تھی اس پر

کس لئیے آئے ہیں آپ۔۔۔۔۔۔۔؟؟

اس کا سوال نظر انداز کرتی خاصے فاصلے پر رکھے صوفے پر بیٹھتے ہوئے وہ سپاٹ، خشک و روکھے لہجے میں بولی۔۔۔

میں نے پوچھا ہے کیسی ہیں آپ۔۔.۔؟؟اس کا انداز اور لہجہ نظرانداز کر کے وہ اسی اپنائیت و نرمی سے لبریز لہجے میں پھر بولا

حیات عبدالرحمان کے ماتھے پر پڑے بل گہرے ہو گئے۔چہرے کی ناگواری میں کئی گنا اضافہ ہو گیا۔۔

اسکے شہد جیسے میٹھے لہجے اور مسکرانے پر حیات کے اندر ایک آگ سی بھڑک اٹھی۔۔سخت درشت لہجے میں وہ کہتی چلی گئی۔۔

مسٹر آپ کو اپنے کام سے مطلب ہونا چاہیے نا کہ میرے حال چال سے۔۔میں یہاں مجبوری میں رہ رہی ہوں اپنی

عنایات کو مجھ سے دور رکھیں۔۔۔میرے دل اور نظروں سے گرے ہوئے لوگ کبھی بھی پہلے والا مقام و مرتبہ حاصل نہیں کر پاتے لہذا بہتر یہی ہے میرے حال چال میری ذاتی زندگی میں جھانکنے کی کوشش نا کریں

صرف اپنے کام تک محدود رہیں اور صرف اسی حوالے سے ہی مجھ سے بات کریں میں نے آپ کو فلم کیلئے ہاں کی ہے میں کام کرنے کیلئے تیار ہوں۔۔۔اب جلد سے جلد یہ فضول کام نپٹائیں اور میری جان چھوڑیں۔اس کے بعد ایک پل نہیں رکوں گی آپکے اس فلیٹ میں جہاں نکاح کی آڑ میں میرے بھروسے مان میرے اعتماد کا خون کیا گیا تھا”

“اس نے ماتھے پر بنا کوئی شکن ڈالے بڑے تحمل سے اسکی تمام باتیں سنیں اور پھر برا مانے بغیر اسی طرح مسکراتے ہوئے بولا۔۔

آپ کے حال چال سے مجھے غرض کیوں نہیں ہونی چاہیے بھلا آپ ٹھیک ٹھاک ہونگی تو ہی میں شوٹنگ شروع کروا سکوں گا اور آپ کام کر سکیں گی۔۔آپ کو غلط فہمی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں آپ کا خیال میں صرف اپنی فلم کی وجہ سے ہی رکھ رہا۔۔جیسے ہی شوٹنگ کمپلیٹ ہوگی آپ اپنے راستے اور میں اپنے راستے۔۔۔مطمئن انداز میں بولتے ہوئے اس نے کچن میں کام کرتی ملازمہ کو آواز دی۔۔

شاہدہ ایک کپ بلیک کپ کافی لے آؤ۔۔۔۔

میم آپ کیلئے بھی کافی لاؤں۔۔۔۔؟؟ملازمہ نے حیات کو مخاطب کیا مگر وہ چہرے کا رخ دوسری طرف پھیرے خاموش رہی۔۔

انکے لئیے ایپل جوس لے آؤ۔۔۔اس نے تحکمانہ انداز میں ملازمہ کو حکم دیا۔۔۔

حیات لب بھینچے خاموش رہی۔۔

ملازمہ سر ہلاتے کچن کی طرف چلی گئی۔اس نے بغور

اسکی طرف دیکھا اور پھر اس کے چہرے کے تاثرات کا جائزہ لینے لگا۔۔

ناجانے ضد تھی کہ کیا تھا۔۔۔طلب اسی چہرے پر ہی آ کر مٹتی محسوس ہوتی تھی۔حسین خدوخال سے سجا

بھرپور حسن لئیے دلکش و دلفریب سرخ و سفید چہرہ

جو غالباً اسوقت غصے کے باعث مزید سرخ ہو چکا تھا

بے انتہا کشش تھی اس چہرے میں۔۔

“ناجانے ماحر خان کی نظر کی وسعت محدود ہو گئی تھی یا پھر اس چہرے کا تاثر ہی اتنا بھرپور تھا کہ

ساری دنیا کا حسن اسی ایک چہرے پر ہی ختم ہوتا محسوس ہوتا تھا۔۔۔۔

اسکی نظروں کی تپش سے یہ ساحرانہ نقش و نگار سے سجا وجود ناقابل برداشت لہر کی لپیٹ میں آ گیا تھا

حیات عبدالرحمان کا دل چاہا اسکی آنکھیں پھوڑ دے

اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی کوئی شرمندگی کوئی ملال نا تھا اسے۔۔اس شخص کی نظروں میں اب سوائے بے حیائی کے اسے کچھ نظر نہیں آتا تھا۔۔کچھ غصے اور کچھ اسکی نظروں کی گرفت سے وہ مزید سرخ ہو گئی تھی۔ماحر بھر پور توجہ سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔چہرے سے صاف لگ رہا تھا کہ وہ خود پر کتنا جبر کر کے بیٹھی ہے۔۔۔۔آنکھیں الگ مسلسل گریہ وزاری کی کہانی سنا رہی تھیں۔۔ماحر خان نے بھرپور انداز میں اس کا یہ روپ نظروں میں بسایا۔۔حیات بمشکل برداشت کر پا رہی تھی ورنہ دل تو چاہ رہا تھا خود پر اس قدر بے باکی اور بے غیرتی سے اٹھنے والی آنکھوں کو نوچ ڈالے

وہ ایسا کر بھی دیتی اگر سامنے والا ماحر خان نا ہوتا تو۔۔

وہ والہانہ نگاہوں سے اسے نہارنے میں مصروف تھا۔ جبکہ وہ غصے کے مارے پہلو بدل رہی تھی۔برداشت کی حد ختم ہوئی تو بول پڑی۔۔

کوئی بات کرنی ہے آپ کو۔۔۔؟؟

اس کے صبر کا بہت بڑا امتحان تھا یہ”

ہوں۔۔بات کرنے ہی تو آیا ہوں۔۔ملازمہ کے ہاتھ سے کافی لیتے ہوئے بولا۔۔۔حیات نے ملازمہ کے ہاتھ سے جوس نہیں لیا تو اس نے اسکے سامنے ٹیبل پر رکھ دیا”

کافی کے گھونٹ لیتے ہوئے اس نے بات سٹارٹ کی

اگلے ہفتے شوٹنگ سٹارٹ ہو رہی ہے۔۔۔کل آپ کا سکرین ٹیسٹ ہوگا۔۔۔کچھ ایکٹنگ کی ٹریننگ بھی آپ کو دینی

ہے۔فزیکلی آپ فٹ لگ رہی ہیں اسی لئیے شوٹنگ میں مزید تاخیر کرنا ٹھیک نہیں۔۔۔ابتدائی کچھ سینز یہیں کراچی میں فلمائے جائیں گے جبکہ باقی کی تمام شوٹنگ ہم ملائشیا سنگاپور پور اور ترکی جا کر کریں گے۔اس سب میں کم از کم دو مہینے لگ جائیں گے۔آپ

مینٹلی ریڈی رہیے گا۔۔اگر مون کو ساتھ لے جانا چاہیں تو آپکی مرضی ورنہ یہاں میرے ملازمین اس کا اچھا خیال رکھیں گے۔۔

نہیں جہاں میں جاؤں گی وہ میرے ساتھ جائے گا۔۔وہ

اضطراری انداز میں فوراً بول اٹھی۔۔

اوکے ٹھیک ہے۔۔۔اس نے سر ہلایا۔۔۔۔پھر وہ کافی دیر تک

فلم اور ایکٹنگ کے حوالے سے بولتا رہا ٹیپس بتاتا رہا۔۔

وہ بڑے حوصلے اور صبر کے ساتھ سنتی اور برداشت کرتی رہی۔۔۔۔۔کسی ضروری کال کے آنے پر وہ چلا گیا تو حیات نے خدا کا شکر ادا کیا۔۔۔

کتنا پرسکون دکھائی دیتا تھا وہ جیسے کچھ کیا ہی نا ہو کیوں۔۔۔؟؟

“وہ جھنجھلا اٹھی۔۔

“اسے اپنی بے بسی پر شدید رونا آنے لگا۔۔۔

مارے اشتعال کے دماغ میں ابال اٹھنے لگے تو خود کو ریلیکس کرنے کیلئے اس نے سامنے پڑا جوس کا گلاس اٹھایا اور چھوٹے چھوٹے سپ لینے لگی۔ پھر ایک دم سے اسے پتا نہیں کیا ہوا ہاتھ میں پکڑا جوس کا گلاس اس نے پوری قوت سے سامنے دیوار میں دے مارا۔۔۔چھناکے کی آواز سے گلاس ٹوٹا۔۔جوس دیوار پر نقش و نگار بناتا نیچے بہہ گیا اور وہ ٹیبل پر سر رکھے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔بلند آواز میں سسکتے بلکتے روتے کرلاتے اسکے لبوں پر ایک ہی نام

تھا۔۔۔

بابا۔۔۔۔بابا۔۔۔۔ !! کچن سے جھانکتی ملازمہ نے رحم کھاتی نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔

ناجانے کتنی دیر وہ یونہی ٹیبل پر سر رکھے سسکتی رہی

جب ملازمہ نے آہستہ آواز میں اسے پکارا۔۔۔۔

بی بی۔۔۔آپ کا فون بج رہا۔۔۔حیات نے سر اٹھا کر دیکھا

شدت گریہ وزاری کی وجہ سے چہرہ بالکل سرخ ہو گیا تھا۔۔۔چپ چاپ اس نے ملازمہ کے ہاتھ سے فون لیا۔۔۔

جانتی تھی کہ کس کا ہو سکتا ہے۔۔۔ریسیو کر کے کان سے لگایا۔۔۔

کل صبح ڈرائیور آپ کو لینے آئے گا۔۔تیار رہیے گا۔۔

حیات نے کچھ کہے بغیر فون کاٹ دیا اور اپنے کمرے

میں چلی گئی۔۔۔