Meri Hayat By Zarish Hussain Readelle50271 Meri Hayat (Episode 34)
Rate this Novel
Meri Hayat (Episode 34)
Meri Hayat By Zarish Hussain
ہاسپٹل کے پرائیویٹ روم میں کرسیوں پر براجمان دو وجود بالکل ساکن بیٹھے تھے۔گہری و جامد خاموشی میں وال کلاک کی ٹک ٹک کے علاوہ کوئی آواز نا تھی۔
ان سانس لیتے مجسموں میں کوئی حرکت کوئی جنبش نا تھی۔۔۔۔۔لیکن آنکھوں میں اضطراب و تفکرات کی بے چینی تھی۔بظاہر خاموش و مضطرب وہ دونوں وجود دل ہی دل میں اپنے رب حقیقی سے دعا گو تھے کہ ایک کے بعد جو دوسری مصیبت ان پر ٹوٹنے والی تھی اس مصیبت سے انہیں بچا لے یا بچنے کا کوئی راستہ دکھا دے۔۔۔۔۔
پتہ نہیں زندگی اتنی تلخ اتنی اذیت انگیز کیوں ہو گئی تھی۔کرسی پر بے جان انداز میں ٹکا ایک وجود حیات عبدالرحمان کا تھا۔جو آنکھیں بند کیے سامنے لیٹے باپ پر نظریں جمائے بیٹھی تھی۔۔۔۔۔ظفر کاظمی اپنی گھٹیا آفر کر کے جا چکا تھا۔جبکہ ابھی تک وہ شاک میں تھی۔کیسے کیسے دوہرے چہرے رکھتے ہیں لوگ۔موقعے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔ظفر کاظمی نے بھی اپنے چہرے پر چڑھایا ماسک اتار دیا تھا۔۔صورتحال تو رحمت بوا کیلئے بھی ناقابل یقین تھی۔انہیں بھی ظفر کاظمی سے ایسی نیچ حرکت کی توقع نہیں تھی۔۔گھر چھن جانے اور دربدر ہونے کا خوف انہیں سراسیمہ کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دونوں شدید پریشان تھیں لیکن اس پریشانی میں خوف زیادہ تھا ابھی تو عبدالرحمان کے حوالے سے پریشانی جوں کی توں تھی کہ نئی آفت آ ٹوٹی تھی سر پر۔۔اس آفت اس طوفان سے کیسے نکلنا ہے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔۔ساڑھے چار کروڑ کوئی معمولی رقم نہیں تھی۔۔۔۔۔اتنا تو حیات جانتی تھی کہ اسکے بابا کا بزنس اچھا نہیں چل رہا تھا۔۔۔مگر اتنی بڑی رقم کے وہ مقروض ہونگے یہ اسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔اس نے تو سوچا تھا وہ ڈاکٹرز سے اجازت لے کر بابا کو گھر شفٹ کروائے گی وہاں انکی دیکھ بھال کیلئے ایک نرس بھی رکھے گی۔یہاں ہاسپٹل میں وہ رکتی تو بوا گھر مون کے پاس چلی جاتیں اگر بوا یہاں رکتیں تو وہ چلی جاتی اسی لئیے اس نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ انہیں گھر لے جائے گی اسطرح مون کو اکیلا چھوڑنے کی پریشانی بھی نہیں ہو گی اور بابا کی طرف سے بھی اتنی تسلی تو ہوگی کہ وہ پاس ہیں۔مگر اب جو کچھ ظفر کاظمی نے کہا تھا اس کے بعد تو گھر کی طرف سے بھی انسیکیورٹی ہو گئی تھا۔۔پریشان ہو کر بیٹھنے سے پریشانی حل نہیں ہونے والی تھی۔کچھ نا کچھ تو کرنا تھا۔ بوا کے مشورے پر اس نے عبدالرحمان صاحب کی چوبیس کی گھنٹے کی دیکھ بھال کیلئے ایک نرس ہائر کی۔ہاسپٹل والوں کو ان کا خصوصی خیال رکھنے کا کہہ کر وہ دونوں گھر آ گئیں۔۔۔۔ایک بار یہ مسئلہ حل ہوجاتا تو وہ بابا کو گھر لے جاتی فلحال صرف یہی حل تھا۔انہیں اکیلے چھوڑ کر آنے کو اسکا دل راضی نہیں تھا۔مگر مجبوری تھی اسکے علاؤہ کوئی چارہ نہیں تھا۔سو دل پر پتھر رکھ کر وہ انہیں ہاسپٹل والوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر بوا کے ساتھ گھر آ گئی تھی۔
اسی ٹینشن میں بیٹھی وہ مسئلے کا کوئی حل سوچ رہی تھی کہ اس کے فون پر عادل نیازی کی کال آ گئی وہ اسکے لئیے کسی بڑے وکیل کو ہائر کر چکے تھے۔۔
ایک مسئلہ تو ابھی ختم ہوا نہیں تھا۔تو کیا دوسرا پنگا لینا ٹھیک تھا۔؟؟
“کافی دیر سوچنے کے بعد اس نے وکیل سے ملنے کا فیصلہ کر لیا۔۔۔بوا ابھی اس سب سے لاعلم تھیں۔ظفر کاظمی والی بات کے علاؤہ حیات نے انہیں کسی بات سے آگاہ نہیں کیا۔کیونکہ اگر انہیں پہلے پتہ چل جاتا تو وہ بھی عبدالرحمان کی طرح اس شخص کی پاور سے ڈر کر لازمی اسے روکنے کی کوشش کرتیں اور یہی وہ نہیں چاہتی تھی اس لئیے اس نے انہیں کچھ نا بتانا بہتر سمجھا تھا۔چوکیدار اور اسکی بیوی امینہ کو اس نے پہلے ہی سختی سے منع کر دیا تھا کہ وہ رحمت بوا سے کچھ نا کہیں۔وکیل کے پاس جانے کیلئے اس نے بوا سے کہا کہ وہ بینک جا رہی تھی بابا کے اکاؤنٹ کی تفصیلات معلوم کرنے شائد رقم کا کوئی بندوبست ہو جائے تو وہ ظفر کاظمی کے منہ پر مار سکے۔بوا جو اس مسئلے کی وجہ سے پہلے ہی آدھی ہو چکی تھیں کسی امید کا سن کر انکے جھریوں بھرے چہرے پر ذرا رونق آ گئی تھی۔۔۔۔
وکیل کے آفس کا ایڈریس عادل نیازی نے اسے سینڈ کر دیا تھا۔ٹیکسی کر کے وہ وکیل کے آفس پہنچی اور ان سے ملی۔وہ ایک جانے مانے چوٹی کے وکیل تھے۔فیس کے حوالے سے عادل نیازی نے کہا تھا کہ اسکی ٹینشن نا لے یہ زمہ داری ان کی ہے۔۔سو اس حوالے سے بے فکر ہو کر اس نے ماحر سکندر خان کے خلاف کیس فائل کر دیا
۔واپسی پر وہ بینک بھی گئی۔
۔اگرچہ وہ فون پر معلوم کر چکی تھی کہ ان کا اکاؤنٹ خالی ہے مگر پھر بھی آس لئیے چلی گئی۔بینک مینیجر عبدالرحمان صاحب کا جاننے والا تھا سو اچھے انداز میں پیش آیا۔۔۔۔اس نے عبدالرحمان صاحب کے اکاؤنٹ کی ساری تفصیلات اسے مہیا کر دی تھیں۔جنکے مطابق عبدالرحمان کا صرف ایک ہی اکاؤنٹ تھا۔۔۔۔چار مہینے پہلے جب وہ امریکہ جانے لگے تھے تب اپنے اکاؤنٹ میں موجود آخری پانچ لاکھ نکلوائے تھے انہوں نے”
آنسو پیتی وہ بینک سے گھر آ گئی تھی۔
پھر واپس آ کر بوا کو سب کچھ بتا دیا۔وہ ششدر رہ گئیں۔
حیا یہ تم نے کیا کیا۔اور مجھے اب بتا رہی ہو تم۔۔؟؟
انہیں شاک لگا تھا سب سن کر”
نہایت ہی افسوس بھرے لہجے میں وہ کہہ رہی تھیں۔حیات کے پاس خاموشی کے علاؤہ کوئی جواب نہیں تھا۔۔
اب کیا کریں گے۔۔۔۔۔۔؟؟پہلے ہی اس موئے کاظمی نے اتنی ٹینشن میں ڈال رکھا ہے۔اوپر سے تم نے اس فلموں والے پر کیس کر دیا۔۔۔وکیل کی فیسیں کہاں سے دو گی۔۔۔۔؟؟
وہ سخت گھبراہٹ کا شکار ہو گئی تھیں۔۔۔پہلے ہی کیا کم مصیبت تھی اوپر سے حیات کے اس اقدام نے انہیں تشویش میں مبتلا کر دیا تھا”
فیس کی ٹینشن مت لیں آپ وہ وکیل کو مل چکی ہے۔۔عادل نیازی نامی اس شخص نے دی ہے جس نے اسے ہائر کر دیا۔۔۔۔
وہ شاہینہ نامی نرس کا نمبر ملاتے ہوئے بولی جسے اس نے بابا کیلئے ہائر کیا تھا”
ہیلو۔۔۔ہاں سسٹر میرے بابا ٹھیک ہیں نا۔۔۔کال اٹھائے جانے پر وہ دوسری طرف نرس سے بات کرتی رہی۔پانچ منٹ بات کرنے کے بعد اس نے فون بند کر دیا۔۔۔۔
دیکھو حیات بیٹا۔۔آجکل کے دور میں بنا کسی مقصد کے کوئی کسی کی مدد نہیں کرتا۔۔۔۔۔تم نے کیوں اسکی مدد لی۔۔۔۔۔یہ دنیا بڑی مطلبی بڑی خود غرض ہے تم نے دیکھا نہیں اس موئے کاظمی نے کیسے گرگٹ کی طرح رنگ بدلا۔۔کسی پر اعتبار کرنا ٹھیک نہیں خاص طور پر کسی مرد پر”
۔بوا جو اسکی کال ختم ہونے کا انتظار کر رہی تھیں۔۔اسے سمجھانے لگیں
بوا اسکی اپنی دشمنی ہے اس ماحر خان سے اسی لئیے وہ ساتھ دے رہا میرا۔۔۔۔۔۔۔مجھ سے کوئی غرض کوئی مطلب نہیں اسے۔انکی نصیحتوں سے وہ جھنجھلا گئی تھی۔
بوا خاموشی سے چائے کا کپ اٹھا کر پینے لگی
یہ واضع ناراضگی کا اظہار تھا۔
اچھا اب آپ اس بات کو چھوڑیں۔اسکی ٹینشن نا لیں میں خود سنبھال لونگی۔۔۔۔۔۔۔آپ بس یہ سوچیں اس کاظمی والے مسئلے سے کیسے نمٹنا ہے۔۔۔کیونکہ اس کے مطابق بابا نے ان سے ساڑھے چار کروڑ کا قرض لیا تھا۔ساڑھے چار کروڑ تو کیا ہمارے پاس اسوقت چار لاکھ بھی نہیں۔۔۔۔اگر اس نے اپنی رقم کیلئے ہمارے گھر پر قبضہ کر لیا تو ہم کہاں جائیں گے بوا۔وہ دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔۔”
مشکلات زندگی میں آتی رہتی ہیں بیٹا۔ہمت سے کام لو ہو سکتا ہے اللّٰہ کی طرف سے ہم پر آزمائش ہو۔وہ اسکا سر اپنے سینے سے لگا کر خود بھی آبدیدہ ہو گئیں
آپی بابا کب آئیں گے ہاسپٹل سے۔۔۔۔؟بیٹ ہاتھ میں لئیے نو سالہ مون اسی وقت وہاں آیا تھا۔۔۔۔۔حیات نے فوراً چونک سر اٹھایا اور اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے زبردستی مسکرا کر کہا”
بہت جلد آئیں گے بس انکی طبیعت تھوڑی سی خراب ہے۔آپ جاؤ اپنا بیگ لے کر آؤ میں آپ کو ہوم ورک کروا دوں۔۔مون سر ہلاتے بیگ لینے چلا گیا۔۔۔۔جبکہ اسکی سوچیں پھر سے انہی مسئلوں پر گردش کرنے لگیں”
وائٹ پرنٹڈ ریشمی گاؤن میں ملبوس وہ سگریٹ کے دھوئیں میں گم اضطراب اور بے چینی کا شکار تھا۔
سکندر علی خان فرانس سے واپس آگئے۔اگرچہ ماحر کو انہوں نے کچھ نہیں کہا تھا لیکن اس سے بات بھی نہیں کی تھی۔۔جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ اس سے ناراض تھے۔
سکندر علی خان نے پریس کانفرنس کیلئے بڑے پیمانے پر ملکی غیر ملکی میڈیا کو بلایا اور انکے سامنے وہی کہا جو پچھلی بار والے واقعے پر کہہ چکے تھے کہ یہ سب میرے بیٹے کے دشمنوں کی چال ہے۔پروپیگنڈا ہے۔میرے بیٹے کا کیریئر ختم کرنے کی سازش ہے وغیرہ وغیرہ۔۔۔”
جبکہ ماحر نے علی کاظمی کے مشورے پر ابھی مکمل چپ سادھ رکھی تھی۔اس حوالے سے کوئی ٹوئٹ بھی نہیں کیا تھا۔۔پہلے وہ ان سب کا پتہ لگانا چاہتا تھا جو حیات عبدالرحمان کا ساتھ دے رہے تھا۔۔۔کیونکہ کچھ دیر پہلے اسے معلوم ہوا تھا کہ وہ اس پر قتل اور اقدام قتل کا کیس بھی کر چکی ہے۔اور حیرت کی بات تو یہ تھی جو وکیل اس نے ہائر کیا تھا۔۔وہ بہت ہی مشہور اور مہنگا وکیل تھا۔۔۔اس وکیل کو ہائر کرنا اس اکیلی لڑکی کے بس کی بات نہیں تھی یقیناً کوئی تو تھا جو اسکی مدد کر رہا تھا۔۔۔۔۔اب اسی بندے کا پتہ لگانا تھا
بڑھی ہوئی شیو مسلسل بیداری اور ڈرنک کرنے کی وجہ سے سرخ آنکھیں۔۔ منتشر بال۔۔۔۔چہرے پر تفکر غصے اور اشتعال نے وحشتیں سی پھیلا دی تھیں۔
اسے رہ رہ کے خود پر افسوس ہو رہا تھا کہ کیوں اس نے ایک معمولی لڑکی کے پیچھے ٹائم برباد کیا۔اسے اہمیت دی کہ سر پر سوار کر لیا۔۔
“۔۔منہ سے دھواں نکالتے ہوئے اس نے خود کو سرزنش کی۔۔لیکن اب وہ اپنے قدم پیچھے ہٹا کر اپنی ہار بھی نہیں مان سکتا تھا۔۔وہ جیسے جیسے سوچتا جاتا اسے نئے سرے سے غصہ چڑھتا جاتا۔۔۔۔۔۔۔فون بجا تو اسکی سوچوں کا تسلسل ٹوٹا۔۔۔۔موبائل اٹھا کر طرف دیکھا تو فرقان کی کال تھی۔۔۔
ہاں بولو۔۔۔۔۔۔۔۔وہ سرد اور خشک لہجے میں بولا
سر مجھے ابھی پتہ چلا ہے۔سچ ٹی وی کی اونر ثوبیہ انجم کے علاؤہ اسے عادل نیازی سپورٹ کر رہا ہے اور وکیل بھی اسی کا ہائر کردہ ہے۔۔۔فرقان نے مطلع کیا
اس الو کے پٹھے کی اتنی ہمت۔۔ عادل نیازی کا نام سن کر ماحر کے خوبصورت چہرے کے نقوش بری طرح بگڑ گئے۔۔وہ بری طرح بھڑک اٹھا”
“۔۔اس ٹی وی والی سالی کا تو وہی بندوبست کرو جو پہلے تمہیں کہا۔وکیل کو دیکھتا ہوں میں۔اور اس نیازی حرامزادے کے بارے میں بھی پتہ کرو کہ آج کل کن کن ڈائریکٹرز کے ساتھ کام کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کون کون سے پراجیکٹ سائن کیے ہوئے ہیں ساری ڈیٹیل لا دو۔۔اس کا فلمی کیرئیر ختم کر کے سڑک پر نا لے آیا تو میرا نام بھی ماحر سکندر خان نہیں۔۔۔وہ غرا کر بولا تھا”
حیا تم نے کیس کر دیا۔۔۔۔۔؟ماحر خان کے خلاف۔۔؟اس نے جیسے ہی حورین کی کال ریسیو کی۔ بنا کسی سلام دعا کے اس نے فوراً یہی کہا۔
اسکے لہجے میں بے یقینی سے کہیں زیادہ فکر مندی اور خوف تھا۔۔۔
تمہیں کس نے بتایا۔۔بوا نے۔۔؟حیات نے چونک کر پوچھا
جواب میں وہ یکدم خوموش ہو گئی۔۔کچھ توقف کے بعد بولی۔۔
حیا تم بہت بدل گئی ہو یار۔۔اپنی پریشانیوں سے آگاہ کرنا بھی ضروری نہیں سمجھتی۔اتنا سب کچھ تم نے کر لیا۔ماحر خان کے خلاف ٹی وی پر چلی گئی۔اس پر کیس کر دیا۔اور مجھے بتانا ضروری بھی نا سمجھا۔اگر بوا سے بات نا ہوتی تو مجھے تو کچھ پتہ بھی نا چلتا کسی بات کا۔ تم بہت اجنبیت برتتی ہو۔۔تم نے تو انکل کے ایکسیڈنٹ تک کی بھی اطلاع نہیں دی تھی وہ تو میں نے خود فون کیا تھا اور تمہاری ملازمہ سے معلوم ہوا ورنہ تم کبھی نا بتاتیں۔۔۔۔وہ خاصے ناراض لہجے میں شکوہ کر رہی تھی۔
“۔۔۔ایسی کوئی بات نہیں یار مجھے پریشانی میں بس تمہیں بتانے کا خیال نہیں آیا۔۔اس نے صفائی دینے کی کوشش کی۔
خیال۔۔۔۔”دوسری طرف اسے جیسے شاک لگا”
جھوٹ مت بولو یہ کونسا معمولی باتیں تھیں جن کا تمہیں خیال نہیں آیا۔پریشانی میں انسان کو سب سے پہلے اپنے قریبی دوستوں کا ہی خیال آتا ہے۔لیکن تم نے مجھے دل سے دوست سمجھا ہوتا تو خیال آتا نا۔ارتضیٰ سر کی ڈیتھ پر میں تمہارے پاس نہیں آ سکی تھی۔لیکن جتنا میں تمہارے لئیے فکر مند رہی۔۔۔۔۔روتی رہی میرا اللّٰہ جانتا ہے۔۔۔۔۔لیکن تمہیں میری محبت میری فکرمندی کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔۔بڑے افسوس کی بات ہے حیا میں تمہاری دوست ہوں۔۔۔۔۔۔تمہاری فکر میں میں اپنے بیٹے کی پیدائش کی خوشی بھی نہیں منا پائی اور تم نے مجھے اپنی پریشانیوں سے آگاہ کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا۔اتنے بڑے آدمی سے پنگا لے بیٹھی ہو۔۔۔۔” مجھے تو اپنی پریشانی شئیر کرنے اور مشورہ کرنے کے قابل نہیں سمجھا تم نے۔ مگر کم سے کم رحمت بوا کو تو بتا دیتی کہ تم کیا کرنے جا رہی ہو۔۔۔۔
حورین کے لہجے میں شدید افسوس تھا”
تمہیں اس لئیے نہیں بتایا کیونکہ تم اسکی دل و جان سے کریزی فین ہو۔۔۔۔۔۔یونیورسٹی میں سارا دن تم اس کے اور اسکی فلموں کے گن گاتی رہتی تھی۔۔۔۔۔۔اگر میں تمہیں بتاتی یا تم سے مشورہ لیتی تو تم لازمی مجھے روکتی منع کرتی کیونکہ یہ بات بھلا تم سے کیسے برداشت ہو سکتی تھی کہ میں تمہارے پیارے ہیرو کی اصلیحت پوری دنیا کے سامنے لاؤں۔۔۔وہ طنزیہ انداز میں بولی۔۔
حیا۔۔۔۔”حورین شاکڈ ہوئی
بڑے افسوس کی بات ہے تم مجھے اسکی فین ہونے کا طعنہ دے رہی ہو۔۔۔۔مانتی ہوں پہلے میں تھی فین اس کی۔لیکن جب سے وہ تمہارے پیچھے پڑا۔اس کا نیگٹیو امیج سامنے آیا۔میرے دل سے اتر گیا وہ۔۔۔۔اب میں اسکی فین نہیں ہوں”اگر تم مجھے بتاتی یا مجھ سے مشورہ لیتی خدا کی قسم تمہیں ہی سپورٹ کرتی میں۔۔حورین کے لہجے میں سچائی تھی”
اب تم کچھ بھی کہو کوئی فائدہ نہیں یہ سب کچھ تمہاری وجہ سے ہوا۔۔۔۔۔نا اس دن تم زبردستی مجھے کھینچ کر شوٹنگ دکھانے لے جاتی اور نا اس غلیظ
آدمی کی غلیظ نظر مجھ پر پڑتی۔۔نا اسطرح وہ میری زندگی اجیرن کرتا۔۔۔نا ارتضیٰ کی جان جاتی اور نا آج میں یوں مشکلات میں گھری ہوتی۔۔۔اس سب کی زمہ دار تم ہو۔جس طرح میں نے اور کسی لڑکی سے دوستی نہیں کی تھی۔۔۔کاش تم سے بھی نا کی ہوتی۔۔۔۔کیونکہ نا دوستی ہوتی۔۔۔اور نا تم مجھے اس دوستی کے حق سے زبردستی کھینچ کر لے جاتی اور نا آج میری زندگی مشکلات میں گھری ہوتی۔۔۔
صحیح کہتے ہیں آپ کی بربادی کے ذمہ دار اکثر آپ کے دوست ہی ہوتے ہیں۔میرا دل اب تم سے بات کرنے کو نہیں چاہتا میں تمہارا نمبر بلیک لسٹ میں ڈال رہی ہوں۔سو مجھ سے کنٹیکٹ کرنے کی کوشش مت کرنا۔۔گڈ بائے فار ایور۔۔۔۔۔۔تلخ لہجے میں کہتے ہوئے اس نے کال کاٹ دی یہ سوچے بغیر کہ اس کے ان تلخ جملوں کے وار سے حورین کے دل پر کیا گزری ہوگی۔ماحر خان کا غصہ حورین پر نکال کر وہ اب اس کا نمبر بلیک لسٹ میں ڈال رہی تھی۔۔اپنی جذباتی طبیعت کی وجہ سے اس نے آج خود کو اپنی اکلوتی مخلص دوست سے خود ہی خود سے محروم کر دیا تھا۔
ایک بات دونوں میں مشترک تھی۔وہ دونوں ہی جذباتی طبیعت کے حامل تھے۔۔
یعنی حیات عبدالرحمان۔۔۔۔۔۔۔اور ماحر خان
بہت سوچو و بچار کے بعد اس نے ثوبیہ انجم سے ہیلپ لینے کا سوچا۔وہ عورت تھی کم از کم اس سے دوسری طرح کا خطرہ نہیں تھا۔۔۔سو اس نے ثوبیہ کا نمبر ملایا مگر وہ بند ملا۔۔۔اس نے ہمت نہیں ہاری وقفے وقفے سے ٹرائی کرتی رہی۔واٹس ایپ پر میسجز کیے تو یہ دیکھ کر سخت رنجیدہ ہوئی کہ وہ سین کر کے حیات کو بلاک کر گئی تھی۔۔ابھی دل اس بات سے دکھی ہو رہا تھا کہ عادل نیازی کی کال نے بھی رہی سہی کسر پوری کر دی۔وہ معذرت کر رہا تھا کہ اس کیس میں وہ اسکی مدد نہیں کر سکتا اور اس وکیل کی طرف سے بھی معذرت کا میسیج دیا۔۔وہ دل مسوس کر رہ گئی۔اچھی طرح جان گئی تھی کہ انکے لوگوں کے اچانک بدلنے کے پیچھے ماحر خان کا ہاتھ ہی تھا۔۔۔اسکی پاور سے یہ سب بھی ڈر گئے تھے۔بوا کو بتایا تو حیات کے برعکس انکے چہرے پر اطمینان پھیل گیا۔۔اچھا ہوا وہ لوگ خود ہی انکار کر گئے۔۔۔میرا بیٹا اگر مجھے سگی ماں کی طرح سمجھتی ہو تو اس شخص سے لڑنے کا خیال دل سے نکال دو۔۔اتنے بڑے اثر ورسوخ والے آدمی سے لڑنے کیلئے پیسے اور طاقت کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ دونوں چیزیں اسوقت ہمارے پاس نہیں ہیں۔۔۔۔۔”
حیات خاموشی سے آنسو بہاتی رہی۔۔یہ سچ تھا اس میں ماحر خان جیسے شخص کا مقابلہ کرنے اور لڑنے کی ہمت تو تھی مگر خالی ہمت سے کچھ نہیں ہوتا۔پیسہ اور پاور بھی چاہیے ہوتا ہے جو کہ اس شخص کے پاس تو بے تحاشا تھا مگر حیات عبدالرحمان کے پاس نہیں تھا”
بوا کے سمجھانے پر اس نے اپنا معاملہ اللّٰہ پر چھوڑ دیا مگر ماحر خان کے خلاف دل میں موجود نفرت اور غصہ پہلے سے شدید بڑھ گیا تھا”
پہلا معاملہ تو اللّٰہ پر چھوڑ دیا تھا مگر دوسرا جوں کا توں موجود تھا۔۔بوا کے مشورے پر اس نے عبدالرحمان صاحب کی ڈائری سے انکے وکیل دوست بیگ صاحب کا نمبر لے کر انہیں فون کیا اور ان سے گھر آنے کی درخواست کی۔۔انہوں نے ہامی بھر لی اور صبح سویرے آ گئے۔ظفر کاظمی کی بات کی تصدیق انہوں نے بھی کر دی تھی۔اور وہ کاغذات بھی دکھائے جن پر واضع لکھا ہوا تھا کہ قرض واپس نا کرنے کی صورت میں ظفر کاظمی اس بنگلے کو لینے کا حقدار ہوگا۔۔۔۔۔”ان کاغذات پر عبدالرحمان کے ہی سائن تھے۔۔۔۔۔سو کورٹ کچہری میں جانے کا نا فائدہ تھا اور نا کورٹ کچہری کے خرچے برداشت کرنے کی استطاعت”
۔۔۔۔۔۔۔بوا کے رونے دھونے پر وکیل کو ترس آ گیا وہ ان دونوں کو لے کر ظفر کاظمی کی کوٹھی پر گیا مگر ظفر کاظمی نے ملنے سے انکار کر دیا۔انکے گارڈ نے گیٹ سے ہی واپس لوٹا دیا۔۔۔البتہ گیٹ سے باہر اس کا بیٹا علی کاظمی مل گیا جو کہیں سے گھر لوٹ رہا تھا۔۔۔اس نے رک کر انکی بات تو سنی مگر حیات سے کہا کہ وہ ایک صورت میں انکی مدد کر سکتا ہے۔اگر وہ میڈیا میں جا کر بولے کہ ماحر خان ایک شریف نیک اور اچھا انسان ہے میں نے اس پر جھوٹے الزامات لگائے تھے جو اب میں واپس لیتی ہوں تو ماحر اسکی جگہ قرض اسکے ڈیڈ کو ادا کرے گا۔۔۔
مگر اس کی بات سن کر حیات کی خوبصورت پیشانی پر بل پڑ گئے تھے۔انا فوراً جاگی۔۔۔۔پل میں مشتعل ہو گئی۔۔۔۔۔بوا اور وکیل کے منع کرنے کے باوجود وہ علی کاظمی کو بے نقط سنا کر گھر آ گئی تھی۔۔۔اب اس کا کسی کے پیروں میں گر کر بھیک مانگنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔وہ صرف اور صرف اپنے رب سے دعا گو تھی کہ انہیں اس مشکل سے نکال لے”
سردی پہلے کی نسبت کچھ بڑھ گئی تھی۔پوری کائنات محو استراحت تھی۔کوٹھی بھی نیم تاریک نائٹ بلب کی روشنی میں ڈوبی ہوئی تھی۔۔۔۔ایسے پرسکون اور تاریک ماحول میں وہ اپنے کمرے میں بے قرار روح کی مانند مضطرب اور پریشان چکرا رہی تھی۔۔۔۔۔نائٹ بلب کی نیلگوں روشنی کمرے کے پرسکون ماحول کو خوابناک اور طلسم زدہ بنا رہی تھی۔۔۔۔۔۔گلابی کلر کے ڈھیلے ڈھالے نائٹ ڈریس میں ملبوس ریشمی بال پشت پر بکھرائے حسین چہرے پر آنے والے کل کی پریشانی اور اندیشے سمیٹے کسی اور جہان کی مخلوق لگ رہی تھی۔نیلی سحر انگیز آنکھیں متورم اور سرخ لگ رہی تھیں۔چہرے کی سرخی میں خوف اور اضطراب کی سپیدی بھی شامل ہو چکی تھی۔باوجود کوشش کے وہ پیسوں کا انتظام نہیں کر پائی تھی۔۔بلکہ اسکے پاس تو اپنے ملازمین کو دینے کیلئے تنخواہیں بھی نہیں تھیں۔پھر انہیں کیا ضرورت پڑی تھی کہ وہ مفت میں کام کرتے۔۔۔۔۔۔سو آج شام کو چوکیدار سرور اور اسکی بیوی امینہ معذرت کر کے چلے گئے تھے”
کل کا سورج ناجانے کیا رنگ لانے والا تھا۔ظفر کاظمی کی طرف سے دی گئی وارننگ کا کل لاسٹ ڈے تھا۔کل وہ پولیس کو لے کر آتا اور اپنی رقم کا مطالبہ کرتا۔اور نا ملنے کی صورت میں یقیناً گھر سے بے گھر کر دیتا۔اس کا دل ابھی سے بیٹھا جا رہا تھا۔چھت چھن جانے کا خوف کیسا ہوتا ہے یہ اسے اب سمجھ آ رہا تھا۔بوا نے کھانا بنایا تھا مگر دونوں نے نہیں کھایا تھا۔مون کو تو کھلا دیا تھا مگر خوف کی وجہ سے دونوں کے حلق سے ایک نوالہ تک نہیں اترا۔کئی بار اس نے علی کاظمی کی پیشکش پر غور کیا مگر دل کسی صورت ہار ماننے پر راضی نا ہوا۔
یا اللّٰہ میں کیا کروں۔۔۔کہاں جاؤں۔۔۔مجھے ڈر لگ رہا ہے وہ ڈھیلے انداز میں بیڈ پر بیٹھ گئی اور بھیگا ہوا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا لیا۔
بابا آپ نے مجھے تنہا کر دیا۔۔۔میں کس کس محاذ پر اکیلی لڑوں۔۔۔۔وہ سسکنے لگی۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ اٹھی اور آہستگی سے دروازہ کھول کر لاوئج میں آ گئی۔وہاں نیم اندھیرا تھا۔۔۔مین دروازہ کھول کر کوریڈور عبور کرتی وہ باہر لان میں آ گئ۔بنگلے کے درو دیوار مکمل خاموشی اور تاریکی میں ڈوبے ہوئے تھے۔گیٹ پر چوکیدار بھی نہیں تھا اسے وحشت ہونے لگی اس نے مین بورڈ پر ہاتھ مار کر لان کی سب لائٹس آن کر دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خوشبوئیں بکھیرتا خوشنما پھولوں سے ہرا بھرا لان جنت کا کوئی ٹکڑا لگ
رہا تھا۔یہ سارے پھول مالی کے ساتھ اس نے خود اپنے ہاتھوں سے لگائے تھے۔لان کے وسط میں سنگ مرمر کا جدید فوارہ دلکش انداز میں پانی اچھالتا آنکھوں کو خیرہ کر رہا تھا۔کیا یہ چھوٹی سے جنت اس سے چھننے والی تھی۔یہ خیال آتے ہی اسکی سانس رکنے لگی وہ بے دم انداز میں وہاں رکھی پلاسٹک کی کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔۔رات کے اس وقت جب پورا گھر سنسان پڑا تھا کوئی مرد نہیں تھا تحفظ کیلئے۔۔صرف دو عورتیں اور ایک بچہ تھا پہلی بار اسے اکیلے ہونے کا ڈر نہیں لگ رہا تھا بلکہ خوف تھا تو صرف اور صرف بے گھر ہونے کا۔
حیات تم یہاں کیوں بیٹھی ہو۔۔اسی وقت اس نے اپنے پیچھے آواز سنی تو گردن موڑ کر دیکھا۔
وہ رحمت بوا تھیں۔اسوقت جتنا خوف اضطراب حیات کے چہرے پر تھا اس سے کہیں زیادہ انکے چہرے پر تھا۔
جی بھر کے دیکھ رہی ہو اس گھر کی درو دیوار کو بوا کیا پتہ کل کا سورج طلوع ہوتے ہی ان درو دیواروں سے باہر کر دیا جائے ہمیں۔۔وہ ڈبڈبائی آنکھوں سے دیکھتی آبدیدہ ہو کر بولی۔۔
“۔۔۔۔اللّٰہ سے اچھی امید رکھو حیات کیا پتہ وہ کوئی وسیلہ پیدا کر دے۔۔بوا بھی وہیں بیٹھ گئیں وہ ابھی بھی مکمل مایوس نہیں ہوئی تھیں۔رات کا باقی حصہ ان دونوں نے وہیں لان میں بیٹھے بیٹھے گزار دیا۔صبح کی پہلی آذان ہوئی تو رحمت بوا نے اسے اندر چلنے کو کہا۔اس کے بعد سورج نکلنے تک وہ دونوں جائے نماز پر بیٹھی دعائیں ہی مانگتی رہیں۔سات بجے بوا نے ہلکہ پھلکا ناشتہ تیار کیا۔۔۔حیات کا معدہ اگرچہ خالی تھا لیکن ٹینشن کی وجہ سے بھوک بالکل مر چکی تھی۔بوا کے اصرار پر اس نے چائے کا کپ اور بریڈ کے چند پیس زہر مار کیے۔۔۔۔۔۔آج مون کو بھی انہوں نے سکول نہیں بھیجا۔۔۔۔۔ساڑھے سات بجے جب وہ نرس کو فون کر کے بابا کی خیریت معلوم کر رہی تھی تو اس نے گیٹ کی بیل بجتے سنی اس کا دل ایک لمحے کو سکڑ کر پھیلا۔۔رحمت بوا کی آنکھوں میں بھی خوف نظر آیا۔پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ ظفر کاظمی وکیل اور کچھ پولیس والوں کو لے آیا تھا۔خدشہ ہونے کے باوجود بھی دونوں کی پیروں تلے زمین نکل گئی۔۔۔منتیں سماجتیں کچھ کام نا آئیں۔ظفر کاظمی فرعون کا روپ دھارے ہوا تھا۔اسکی ایک ہی رٹ تھی کہ اسکے پیسے ابھی کہ ابھی ادا کیے جائیں۔یا پھر گھر اسکے حوالے کیا جائے۔۔باقی حیات کو اس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کیا جس کا مطلب وہ اچھی طرح سمجھتی تھی۔اس وقت اس کا دل چاہ رہا تھا کاش ایک قتل کی اجازت ہوتی تو وہ اسی کمینے انسان کا کر دیتی۔جس کے چہرے پر چڑھا ہمدردی اچھائی اور شرافت کا نقاب اب اتر چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔پولیس والوں نے انکا سامان باہر پھینکنے کی دھمکی دی تو مجبوراً ان کو گھر چھوڑنا ہی پڑا۔صرف کپڑوں سے بھرے دو سوٹ کیس تھے۔جن میں چھوٹے سوٹ کیس میں رحمت بوا کے چند جوڑے تھے جبکہ بڑے والے میں حیات اور مون کے کپڑے تھے۔جبکہ قیمتی فرنیچر اور گاڑی سمیت باقی سارا سامان ظفر کاظمی کی کسٹڈی میں چلا گیا تھا”
وہ دونوں ستے ہوئے چہروں کے ساتھ سامان اٹھائے مرے مرے قدموں سے سڑک کنارے چل رہی تھی۔مون درمیان میں تھا۔اس کا چہرہ بھی اترا ہوا تھا۔نو سال کا سمجھدار بچہ تھا وہ۔۔۔کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کدھر جائیں۔کوئی آسرا کوئی جائے پناہ نظر نہیں آ رہی تھی۔رشتے دار یا جاننے والے کوئی تھے نہیں۔۔۔
اب ہم کہاں جائیں گے آپی۔۔۔۔۔۔؟چلتے چلتے تھک کر وہ رکا اور مڑ کر حیات سے سوال کیا۔حیات نے جواب دینے کیلئے رحمت بوا کی طرف دیکھا تو ٹھٹھک گئی۔رحمت بوا لمبے لمبے سانس لیتے دل پر ہاتھ رکھتے فٹ پاتھ پر بیٹھ رہی تھیں۔
کک کیا ہوا بوا۔۔۔۔حیات نے فوراً سوٹ کیس نیچے رکھا اور انکی طرف لپکی۔
انہیں دونوں ہاتھوں سے سہارا دینا چاہا مگر وہ بے جان ہو کر سڑک پر گر سی گئیں۔۔۔۔حیات کے ہاتھ پیر پھول گئے۔۔۔۔۔۔۔وہ زور زور سے انہیں آوازیں دیتے ہوئے اٹھانے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔۔۔یہ صورتحال دیکھ کر کچھ لوگ بھی رک گئے جن میں ایک گاڑی والے صاحب سب سے پہلے آگے بڑھے۔۔کیا ہوا انہیں بیٹا۔۔۔۔؟انہوں نے رحمت بوا کی طرف دیکھتے ہوئے استفسار کیا۔
پتہ نہیں اچانک بے ہوش ہو گئیں۔۔۔وہ روتے ہوئے بولی
انہیں ہاسپٹل لے جانا ہوگا۔آپ انہیں میری گاڑی میں لے آئیں۔کہہ کر انہوں نے فوراً اپنی گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا حیات نے انہی کی مدد سے رحمت بوا کو پچھلی سیٹ پر لٹایا۔اس آدمی نے سوٹ کیس خود ہی اٹھا کر ڈگی میں ڈالے اور انہیں کچھ فاصلے پر موجود ہاسپٹل لے آیا۔رحمت بوا کو ایمرجنسی وارڈ میں لے جایا گیا۔حیات مون کا ہاتھ پکڑے باہر کاریڈور میں بیٹھی رہی وہ انجان مہربان ادھیڑ عمر آدمی بھی ساتھ موجود رہا
آدھے گھنٹے بعد رحمت بوا کو کمرے میں شفٹ کر دیا گیا انہیں انجائنا کا ہلکا سا اٹیک ہوا تھا۔کچھ احتیاط اور میڈسن کے ساتھ ڈاکٹرز نے جانے کی اجازت دے دی۔۔اس شخص نے جب ایڈریس مانگا کہ وہ انہیں ان کے گھر ڈراپ کر دے گا تو وہ آنسوؤں پر قابو نا رکھ پائی۔اور اس انجان مہربان آدمی سے سب کچھ کہہ گئی کہ کس طرح اسکے باپ کے بزنس پارٹنر نے گھر ہتھیا لیا۔۔وہ شخص کچھ دیر افسوس کرتا رہا اور پھر انہیں اپنے گھر چلنے کی دعوت دی مگر حیات نے انکار کرتے ہوئے کہا آپ کا بہت بڑا احسان ہوگا اگر کوئی گھر کرائے پر ڈھونڈ دیں تو۔۔۔۔۔۔۔کوئی پراپرٹی ڈیلر اس کا دوست تھا جس نے ایک گھنٹے کے اندر اندر فلیٹ کا انتظام کر دیا تھا۔کچھ دیر بعد وہ ان تینوں کو فلیٹ پر لے آیا۔کیرایہ کچھ زیادہ تھا۔مگر حیات کے پاس صرف تیس ہزار روپے کی رقم تھی۔حیات نے جب پیسے دیے اور اسے یہ پتہ چلا کہ کل پیسے ہی اسکے پاس اتنے ہیں تو اس نے واپس کر دیے اور اپنی جیب سے چھے منتھ کا اکٹھا کرایہ ادا کر دیا۔اور حیات سے کہا جب وہ کوئی نوکری ڈھونڈ لے تو تھوڑے تھوڑے کر کے اسے ادا کر دے۔۔۔۔۔حیات کی خود داری کو یہ بات گوارا تو نہیں تھی مگر حالات نے اس حد تک مجبور کر دیا تھا کہ وہ ایک انجان شخص سے مدد لینے پر مجبور تھی”
احسن کمال نامی وہ شخص اسے اپنا کانٹیکٹ نمبر دے کر چلا گیا تھا کہ کسی بھی مسئلے کی صورت میں اس سے رابط کر سکے۔وہ مردوں کا ایک یہ روپ دیکھ چکی تھی۔کہ ان کی مہربانیوں کے پیچھے انکی غرض پوشیدہ ہوتی ہے جیسا کہ ظفر کاظمی نے دکھایا تھا۔اس اجنبی آدمی سے بھی اسے یہی خوف لاحق ہو رہا تھا کہ بنا کسی مطلب ہے کوئی بھی انسان خاص طور پر مرد کسی عورت کی مدد نہیں کرتا۔مگر اسکے علاؤہ اسکے پاس کوئی آپشن بھی تو نہیں تھا۔اب اسے جلد از جلد کوئی اچھی جاب ڈھونڈھنی تھی جس سے اس شخص کا ادھار بھی واپس کیا جا سکے گھر کا خرچ بھی چل سکے اور بابا کے علاج کیلئے ہاسپٹل کے اخراجات بھی برداشت کیے جا سکیں۔۔۔۔مگر سوال یہ تھا۔تعلیم اسکی ادھوری تھی ایم ایس سی کا صرف ایک سمسٹر پاس جس میں بھی ایک پیپر Absent
یعنی ڈگری اسکے پاس صرف بی ایس سی کی تھی۔اس ڈگری کی بیس پر زیادہ سے زیادہ کسی پرائیویٹ سکول میں سات آٹھ ہزار کی نوکری مل سکتی تھی۔۔
سات آٹھ ہزار سے اسکے اخراجات پورے ہونا ممکن نہیں تھا۔رحمت بوا کو ایک کمرے میں بستر پر لیٹا کر وہ فلیٹ کا جائزہ لینے لگی جو کہ کلفٹن کے علاقے میں واقع تھا اور سمندر سے کچھ دوری پر تھا۔مکمل فرنشڈ تھا۔وہاں رکھا فرنیچر خاصا قیمتی لگ رہا تھا۔احسن کمال نے اسے بتایا تھا جس شخص کا یہ فلیٹ ہے وہ ایمرجنسی میں پانچ سال کیلئے امریکہ شفٹ ہو گیا تھا۔اور جاتے وقت اس پراپرٹی ڈیلر کے ذمے لگا گیا تھا کہ وہ جلد سے جلد اسے رینٹ پر دے دے۔۔چونکہ وہ شخص خود وہاں رہتا تھا اسلیئے اس کا سارا سامان وہاں پڑا تھا۔دو بیڈ رومز ایک اوپن لاؤنج اور کچن پر مشتمل وہ فلیٹ اچھا خاصا کشادہ تھا۔وہاں تنگی کا احساس نہیں ہوتا تھا۔جس چیز نے اسے زیادہ حیران کیا تھا وہ تھا راشن سے بھرا ہوا کچن۔لگتا تھا مالک مکان نہایت ہی جلدی میں وہاں سے نکلا تھا تبھی راشن تک چھوڑ گیا تھا۔حیات نے جائزہ لیا وہ راشن کم از کم چھے مہینے کیلئے ان تین بندوں پر کافی تھا۔فریج کھولا تو اس میں کافی سارا گوشت پڑا تھا۔اس نے بوا کیلئے چولہے پر یخنی چڑھا دی اور خود اپنے لئیے منتخب کردہ بیڈ روم میں آ گئی۔مون لاؤنج میں صوفے پر بیٹھا اسکے موبائل پر ویڈیو گیم کھیل رہا تھا۔اپنے بیڈ روم میں آ کر اس نے سوٹ کیس کھول کر الماری میں اپنے اور مون کے کپڑے ترتیب سے رکھے اس کام سے فارغ ہو کر اس نے سامنے لگا پردہ کھینچ کر ہٹایا تو ایک بہت ہی کشادہ کھڑکی تھی جسے کھولتے ہی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے پورے کمرے میں چکرانے لگے۔یہ فلیٹ چونکہ سمندر کے قریب ساحل پر تھا۔اسلئیے کھڑکی میں سے سمندر کی ٹھنڈی ہوا آ رہی تھی جو صرف اس کمرے تک محدود نہیں تھی بلکہ تیز جھکڑ چلنے کی صورت میں لاؤنج تک آتی تھی۔بوا کو یخنی پلا کر اور دوائی دے کر سلا دیا اور خود بابا کو دیکھنے کیلئے ہاسپٹل آ گئی۔آنے سے پہلے وہ مون کو کافی ساری نصیحتیں کر کے آئی تھی کہ جب تک وہ نا آئے دروازہ نہیں کھولے۔۔ یہاں سے ہاسپٹل کچھ دور تھا خوشی قسمتی سے اسے فوراً ہی ٹیکسی مل گئی اور وہ آدھے گھنٹے بعد ہاسپٹل پہنچ گئی۔بابا کو دیکھ کر وہ ضبط کھو بیٹھی اور انکے سرہانے بیٹھی زاروقطار روتی رہی۔تب تک بیٹھی روتی رہی جب تک نرس نے آ کر یہ نہیں کہا کہ اسے ڈاکٹر بلا رہے ہیں۔۔
مس حیات مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے آپکے فادر کے کیس میں کوئی امپرومنٹ نہیں ہو رہی مجھے ڈر ہے کہ وہ شائد کومہ سے کبھی باہر ہی نا آسکیں۔کیونکہ ایکسیڈنٹ میں انکی باڈی کو انٹرنل طور پر بہت ہی نقصان پہنچا ہے لیکن نا امید نا ہوں ہو سکتا ہے وہ اچانک ہی کبھی کومہ سے باہر آ جائیں۔وہ جو پہلے ہی برے حالات کا شکار تھی ڈاکٹر کی بات سن کر مزید ڈھے گئی۔۔ڈاکٹر کی ایک اور بات نے تو رہی سہی کسر بھی پوری کر دی جب اس نے کہا مہربانی فرما کر ہاسپٹل کا تمام بل بھی پے کر دیجئیے گا۔چونکہ اسکی دانست میں ظفر کاظمی اس واقعے سے پہلے بل پے کر چکا تھا۔جب اس نے یہی بات ریسپنشٹ پر بیٹھی لڑکی سے پوچھی تو اس نے جو کہا اسے سن کر مزید شاک لگا۔۔
“۔۔۔میم بہت دن پہلے انہوں نے بل کی ادائیگی کیلئے ہاسپٹل انتظامیہ کو چیک دیا تھا۔شائد ہاسپٹل کے ایم ایس انکے جاننے والے ہیں۔ابھی چیک کیش بھی نہیں ہوا تھا کہ دوسرے دن انہوں نے منسوخ کروا دیا اور کہا کہ بل پیشنٹ کی بیٹی یعنی آپ ادا کریں گی۔
حیات کو ظفر کاظمی کی منافقت پر بڑا افسوس ہوا۔
بل نے تو اسکی کمر ہی توڑ کر رکھ دی۔۔۔۔پورے دو لاکھ
ڈبڈبائی آنکھوں کے ساتھ وہ صدمے سے ہاتھ میں پکڑے بل کو دیکھ رہی تھی۔
اتنا زیادہ بل۔۔۔”اسکے منہ سے نکلا
میم مہنگا ہاسپٹل ہے۔ٹریٹمنٹ۔۔۔آپریشن۔۔۔آپکے فادر کی دیکھ بھال کرنے والی نرس کی فیس سب کچھ ہے اس میں۔۔۔ریسیپشنٹ نے رسانیت سے کہا۔
اچھا ابھی میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کل آ کر پے کرونگی۔۔دھیمے لہجے میں کہہ کر وہ ہاسپٹل سے نکل آئی۔
چار دیواری سے اکیلی باہر نکلنے والی عورت آج بھی اتنی ہی غیر محفوظ ہے جتنی کچھ صدیوں پہلے تھی۔
گھر سے مجبوراً باہر قدم نکالنے والی عورت باہر کی دنیا پر چھائے ہوئے بھیڑیوں کی مانند مردوں کیلئے بغیر ٹکٹ کے دلچسپ سامان ہوتی ہے جو ماں بہن بیٹی کے مقدس رشتے سے نکل کر نکل کر صرف اور صرف دلکش مہکتا ہوا پھول بن جاتی ہے۔جسے توڑنے اور مسلنے کیلئے لوگ موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ایسے بے غیرت و گھٹیا ذہن کے مرد نا تو مسلمان کہلانے کے حقدار ہوتے ہیں اور نا ہی انسان۔اس کا اندازہ آج عبدالرحمان کو ہوا۔۔
آئیے مس ہم آپ کو ڈراپ کر دیں گے جہاں آپ کہیں گی۔
حیات نے ناگواری سے دیکھا۔دو لڑکے جو قریب سڑک کنارے واقع درخت کے نیچے کھڑے بہت دیر سے اس پر گھٹیا فکرے اچھال رہے تھے۔۔۔۔نا معلوم کہاں سے یلو کیب لے آئے تھے۔ان میں سے ایک اس کے قریب آ کر کار میں بیٹھنے کی فرمائش کر رہا تھا۔حیات نے گھبرا کر دیکھا اسٹاپ پر رش کم ہو چکا تھا۔۔۔کچھ مرد کھڑے شائد بس کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔۔ان میں سے کچھ تو آپس میں باتوں میں مگن تھے جبکہ کچھ اسکی طرف
یوں شوق سے دیکھ رہے تھے گویا کسی فلم کی شوٹنگ ہو رہی ہو۔صورتحال سب سمجھ رہے تھے مگر بے حسی اور لاتعلقی جیسے ان پر ختم ہو رہی تھی۔کوئی مدد کو تیار نا تھا۔
آپ لوگ جائیں میں نے بس پر جانا ہے۔باوجود کوشش کے وہ اپنی کپکپاتی آواز پر قابو نا پا سکی۔اسکو پہلی بار اسطرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ہمیشہ سے گاڑیوں میں سفر کرنے والی آج ٹیکسی کے انتظار میں کراچی کی سڑکوں پر خوار ہونے ہو رہی تھی۔بیشک کسی بڑے لینڈ لارڈ کی بیٹی نہیں تھی وہ لیکن
نوکر چاکر گاڑی بنگلہ سب کچھ تھا اسکے باپ کے پاس۔
ارے جب آپ کے خادم موجود ہیں گاڑی لئیے تو آپ بسوں میں دھکے کیوں کھائیں گی بھلا۔۔۔۔آئیں ضد نا کریں آپ کو آپ کے گھر ڈراپ کر آئیں گے اور کمپنی بھی بہت اچھی دیں گے۔۔۔۔۔یہ کہتے ہوئے اس لڑکے نے دوسرے لڑکے کو کمینگی بھری مسکراہٹ سمیت آنکھ سے اشارہ کیا تو دوسرا بھی ٹیکسی سے نکل آیا۔حیات نے گھبرا کر ٹیکسی ڈرائیور کی طرف دیکھا تو اسکے ہونٹوں پر بھی کمینی مسکراہٹ تھی۔اور آنکھوں سے ان دونوں سے زیادہ خباثت جھلک رہی تھی۔۔
اس سے پہلے وہ وہاں سے بھاگتی یا آتے جاتے لوگوں سے مدد مانگتی اچانک ایک گاڑی جھٹکے سے وہاں رکی اور ایک شخص تیر کی طرح اندر سے برآمد ہوا۔۔۔۔۔۔نہایت ہی رعب دار آواز میں بولا کیوں تنگ کر رہے ہو انہیں۔۔۔
وہ لڑکے جواب دینے کے بجائے تیزی سے ٹیکسی میں بیٹھے اور ٹیکسی ڈرائیور نے ٹیکسی بھگا دی۔۔۔
آئیے محترمہ آپ کو ڈراپ کر دیں گے ہم۔۔۔۔یہاں کھڑی رہیں تو اسطرح کے غنڈے آوارہ لوگ آپ کو پریشان کرتے رہیں گے۔۔۔۔۔۔
ان غنڈوں کو رفو چکر ہوتے دیکھ کر وہ ساکت کھڑی حیات عبدالرحمان سے مخاطب ہوا جس کے چہرے پر اب حیرانی کی جگہ غصیلے تاثرات نمودار ہو رہے تھے۔
آئیے نا کھڑی کیا سوچ رہی ہیں۔وہ نرمی سے بولا”
حیات نے غصے سے اسے دیکھا۔۔۔۔
وہ فرقان تھا۔۔۔۔
ماحر خان کا مینیجر۔۔۔
نو تھنکس۔۔۔اس نے ناگوار لہجے میں کہتے ہوئے رخ پھیر لیا۔
جس شخص کی وجہ سے وہ اس حال تک پہنچی تھی اسکے کسی آدمی کا احسان کیسے لے لیتی بھلا”
دیکھیے اکیلی لڑکی کیلئے اسطرح سڑک کنارے کھڑے رہنا ٹھیک نہیں۔۔ایک غنڈے گئے ہیں تو کچھ دیر میں دوسرے آ جائیں گے پھر کیا کریں گی آپ۔۔۔۔۔۔اس نے سمجھانے کی کوشش کی۔۔وہ اکیلا نہیں تھا۔ڈرائیور کے علاؤہ ماحر کا گن مین بھی تھا ساتھ”
تو آپ کو اس سے کیا۔۔آپ کون ہوتے ہیں میری فکر کرنے والا۔۔۔ایک غنڈہ آئے یا دس آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔کیونکہ آپ کے اس گھٹیا ذلیل باس سے بڑا غنڈہ ہمارے پورے ملک میں نہیں ہے۔۔۔وہ زہر خند لہجے میں غرائی۔۔۔۔
فرقان خاموش رہا۔۔۔۔سمجھانے کا فائدہ نہیں تھا وہ اس کے باس سے بری طرح بدگمان تھی”
سامنے سے آتی ٹیکسی کو اس نے ہاتھ کے اشارے سے روکا۔۔ٹیکسی اسکے قریب آ کر رک گئی۔۔۔۔۔۔تو اس نے حیات عبدالرحمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ٹیکسی ڈرائیور سے کہا ان میڈم کو جہاں جانا ہے بحفاظت چھوڑ آؤ۔۔۔۔۔۔۔ٹیکسی ڈرائیور نے سر ہلایا اور حیات کی طرف دیکھ کر کہا مہذبانہ انداز میں کہا آئیے میڈم آپ نے جہاں جانا ہے چھوڑ آؤں گا۔۔۔۔”
وہ تذبذب میں مبتلا ہو گئی۔۔۔آیا اس کا احسان لے یا نا لے۔۔۔۔کیونکہ دیکھ چکی تھی کہ ٹیکسی ماحر خان کے مینیجر کے اشارے پر ہی رکی تھی”
آئیے میڈم یہاں اس ٹائم ٹیکسی مشکل سے ہی ملتی ہے۔اسے ہنوز کھڑے دیکھ کر اب کی ٹیکسی ڈرائیور نے جھنجھلا کر کہا”مجبوراً انا کو مار کر اسے ٹیکسی میں بیٹھنا پڑا۔۔پھر دل کو تسلی بھی دی کہ صرف ٹیکسی ہی تو روکی ہے کیرایہ تو نہیں دیا۔۔۔۔۔یہ کوئی احسان نہیں۔میری انا کا مسئلہ تو تب ہوتا اگر وہ کیرایہ بھی ٹیکسی والے کو دیتا۔۔۔سو یہ تسلی کافی تھی کہ کیرایہ تو وہ خود دے گی”
