171.9K
78

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Hayat (Episode 35)

Meri Hayat By Zarish Hussain

اس نے گہری سانس لے کر کروٹ بدلی۔۔۔شام کا سنہری روپ بکھر رہا تھا۔افق کے اس پار ڈوبتے سورج کا منظر کھلی کھڑکی سے اسکے سامنے تھا۔۔سمندر سے آنے والی ٹھنڈی فرحت بخش ہوا کے جھونکے کمرے کے ماحول کو خوشگوار کیے ہوئے تھے۔۔سردیوں کی خشک شامیں کسی قریب المرگ ضعیف کی ویران اور اداس آنکھوں

کی طرح ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔کبھی اس اداسی میں سکون و اطمینان ہوتا ہے تو کبھی ویرانی۔بوجھل خاموشی اس حد تک مضطرب و بے قرار کر دیتی ہے کہ انسان کا دل کرتا ہے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کسی ایسی سنہری سندر خوابوں والی دنیا میں پہنچ جائے۔جہاں ہر طرف پیار سے گنگناتے جھرنے ہوں خوشی سے سر شار لہلاتے سبزے ہوں۔۔۔۔۔پرشوخیاں کرتے کھلکھلاتے پھولوں کی مہکار ہو عطر بیز ہوائیں ہوں۔۔۔۔۔۔صاف و شفاف بہتی ندیوں میں چاندی کا عکس نظر آتا ہوں۔۔۔۔کوئی دکھ کوئی پریشانی نا ہو صرف اور صرف سکون ہو۔۔۔۔۔مگر ایسا صرف سوچا جا سکتا ہے ایسے خوابوں کی تعبیر بہت مشکل سے ملتی ہے۔خیالات اور خوابوں کی دنیا بڑی رنگین اور دلکش ہوتی ہے۔طلسم ہوشربا کی طرح۔جہاں خود کو بہلانے کیلئے وقتی طور پر حقیقت سے فرار حاصل کر کے انسان کچھ لمحے اپنی پسند کے گزار لیتا ہے۔مگر آنکھ کھلنے کے بعد حقیقت آدم خور مگر مچھ کی طرح منہ کھولے منتظر ہوتی ہے جس سے کسی طور فرار ممکن نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔اس سردیوں کی شامیں اسکے لئیے اداس ہی نہیں پریشانی بھری تھیں۔

بلیک جارجٹ کے سوٹ میں ملبوس وہ بے ترتیب سی بیڈ کے درمیان پڑی تھی۔

براؤن گولڈن سلکی گھنے بال تکیے اور پشت پر بکھرے ہوئے تھے۔خوبصورت نیلی آنکھیں حسب معمول بھیگی ہوئی تھیں۔۔

گلابی دلکش مکھڑے پر پریشانی اور اضطراب جیسے ثبت ہو کر رہ گیا تھا۔شگفتہ شاداب چہرے پر خزاں چھائی ہوئی تھی۔

ایک خیال ذہن میں آیا تو اٹھ کر تیزی سے الماری سے اپنا بیگ نکالا۔۔بیگ میں سے اپنا پرس برآمد کیا اور اسے کھنگالنے لگی۔۔۔کچھ دیر بعد مطلوبہ چیز ہاتھ لگی تو آنکھوں میں امید کی ہلکی سی کرن پیدا ہوئی۔

وہ ڈائمنڈ کی رنگ تھی۔۔۔۔۔جو سائرہ عبدالرحمان نے امریکہ جانے سے پہلے اسے دی تھی کہ اگر زندہ واپس آئی تو لے گی ورنہ وہ اپنے پاس رکھ لے۔۔۔۔۔ڈائمنڈ کی رنگ تھی تو یقیناً مہنگی ہوگی اسکو بیچ کر ہاسپٹل کا بل چکایا جا سکتا تھا۔اس امید نے اس کے اندر توانائی بھر دی تھی۔الماری سے اپنی چادر نکالی رنگ کو پرس میں ڈالا اور کمرے سے باہر آ گئی۔بوا لاوئج میں صوفے پر بیٹھی سبزی کاٹ رہی تھیں۔انکی طبیعت اب بہتر ہو چکی تھی سو حیات کے منع کرنے کے باوجود وہ کام کر رہی تھیں۔۔۔۔

بوا میں جیولر کے پاس جا رہی ہوں۔میرے پاس ڈائمنڈ کی رنگ ہے جو سائرہ ممی نے مجھے دی تھی۔۔اس کو بیچ کر ہاسپٹل کا بل پے کروں گی۔۔۔وہ انکے پاس آ کر بتانے لگی”

آپ اپنا اور مون کا خیال رکھیے گا”

رنگ سے اتنے پیسے مل جائیں گے۔۔۔؟بوا نے چونک کر استفسار کیا۔

مجھے قیمت کا تو نہیں پتہ لیکن ڈائمنڈ کی ہے تو یقیناً مہنگی ہی ہوگی شائد دو تین لاکھ میں بک جائے۔۔۔۔

وہ پرسوچ انداز میں بولی

رحمت بوا نے سر ہلایا۔۔ٹھیک ہے لیکن احتیاط سے جانا اور احتیاط سے واپس آنا۔یہاں سڑکوں پر لوگ لوٹ لیتے ہیں۔۔وہ فکرمندی سے بولیں

“اوکے بوا آپ دروازہ بند کر لیجئے گا۔اور مون آپ کے کمرے میں بیٹھ کر پڑھ رہا ہے اس کو باہر مت جانے دیجئے گا۔وہ چادر کو اپنے گرد اچھی طرح لپیٹتے ہوئے بولی۔چادر اوڑھنے کے بعد کچھ سوچ کر اس نے گرین کلر کا ماسک بھی منہ پر لگا لیا۔کل والا تجربہ کافی تھا سو وہ نہیں چاہتی تھی کہ اب اس کا چہرہ اسکے لئیے مزید مصیبت کا باعث بنے۔کل تو ماحر کے مینیجر نے آ کر ان لفنگوں کو بھگا دیا تھا۔مگر دوسری بار بھی کوئی ہیلپ کیلئے آئے یہ ضروری تو نہیں تھا سو اسے خود ہی احتیاط کرنی تھی۔خود کو چہرے سمیت اچھی طرح ڈھک کر وہ باہر نکلی تو رحمت بوا نے دروازہ بند کر دیا اور لاؤنج میں بیٹھ کر سبزی کاٹنے لگیں”

بوا مجھے باہر کرکٹ کھیلنے کیلئے جانا ہے۔۔۔اسی وقت مون اپنا بیٹ اٹھائے چلا آیا۔۔۔سب کی دیکھا دیکھی وہ بھی انہیں بوا ہی بولتا تھا”

نہیں بیٹا تم نے باہر نہیں جانا تمہاری آپی منع کر گئی ہے۔بوا کے صاف انکار پر اس نے منہ بسور کر کہا پلیز بوا جانے دیں مجھے جلدی آ جاؤں گا آپی کو پتہ نہیں چلے گا۔آخر کار مون کی ضد پر وہ مجبور ہو گئیں۔

ٹھیک ہے جاؤ لیکن صرف تھوڑی دیر کیلئے۔۔اور کہیں دور مت جانا۔نیچے جو ساتھ میں گراؤنڈ وہیں کھیلنا۔انہوں نے تنبیہہ کے ساتھ جانے کی اجازت دی”

اوکے۔۔۔وہ خوش ہو کر باہر نکل گیا۔۔۔

مون کے جانے کے دس منٹ بعد اطلاعی گھنٹی بجی تو وہ حیران ہوئیں۔۔

ارے اتنی جلدی واپس بھی آ گیا یہ لڑکا۔خود سے بولتے ہوئے انہوں نے دروازہ کھولا تو دروازے پر موجود شخصیت کو دیکھ کر ششدر رہ گئیں۔۔۔

اسلام علیکم۔۔۔ان کے دروازہ کھولتے ہی اس نے ادب سے سلام کیا’

مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے کیا میں اندر آ سکتا ہوں۔۔۔۔؟اسکی نگاہوں سے انکے چہرے کے بدلتے رنگ مخفی نا رہ سکے۔سو قدرے جھجھک کر بولا

آؤ۔۔۔۔ناچاہتے ہوئے بھی انہیں کہنا پڑا۔لہجے میں از خود ہی کھردرا پن در آیا تھا۔وہ اندر آ گیا۔۔

جب وہ لاؤنج میں پڑے صوفے پر بیٹھا تو رحمت بوا نے سوالیہ انداز میں اسے دیکھا۔۔۔۔۔”

اس نے تمہید باندھی۔۔۔۔۔آپ یقیناً سوچ رہی ہونگی کہ مجھے آپ کے فلیٹ کا کیسے پتہ چلا۔۔۔۔۔ایکچولی مس حیات کو کل روڈ پہ کچھ غنڈے تنگ کر رہے تھے۔خوش قسمتی سے میرا مینیجر وہاں سے گزر رہا تھا۔اس نے ان غنڈوں کو بھگایا اور مس حیات کو ایک ٹیکسی میں بٹھایا اور خود اپنی گاڑی میں ٹیکسی کو فالو کرتا رہا تاکہ وہ ٹیکسی ڈرائیور مس حیات کو بحفاظت پہنچائے۔اسی نے مجھے ایڈریس بتایا اور میں یہاں آیا ہوں۔۔۔

غنڈوں والی بات حیات نے تو مجھے نہیں بتائی”

وہ متعجب ہو کر بولیں۔

وہ شائد آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتی ہونگی۔اینی وے آپ یقیناً جانتی ہونگی کہ مس حیات نے میرے خلاف کیا کیا ہے۔صرف لڑکی سمجھ کر میں نے اسے معاف کر دیا ورنہ میں اپنے دشمنوں کو بخشتا کبھی نہیں۔ایک پل کو رک کر اس نے انکے تاثرات دیکھے

شائد وہ کچھ کہنے لگی تھیں جب ماحر نے ہاتھ اٹھا کر انہیں روک دیا۔پلیز آنٹی مجھے میری بات مکمل کرنے دیں۔۔

اس سب کی ابتداء اسطرح سے ہوئی کہ میں غلطی سے اسے فلم کی آفر کر بیٹھا۔اور مزید غلطی یہ کی کہ اسکے انکار کے باوجود اصرار کرتا رہا۔آپ کو معلوم ہو گا یقیناً جو جو مس حیات نے کیا ہے۔آہستہ آہستہ وہ شروع سے لے کر آخر تک انہیں ساری باتیں بتاتا گیا۔صرف ٹائم گزارنے والی۔اور ترکی میں اسے کڈنیپ والی بات چھپا گیا۔

رحمت بوا حیران ہو کے سنتی رہیں۔

میں یہ نہیں کہتا کہ میری کوئی غلطی نہیں۔۔۔میری غلطی ہے۔اور بہت بڑی غلطی ہے ابتداء مجھ سے ہوئی لیکن انتہا مس حیات نے کر دی۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے مجھ پر ارتضیٰ حسن کے قتل کا الزام لگایا یہاں تک کے اپنے فادر کے ایکسیڈنٹ کا الزام بھی مجھ پر لگا دیا۔

میں اس دنیا میں سب سے زیادہ پیار اپنی ماں سے کرتا ہوں انہی کی قسم کھا کر کہتا ہوں یہ سب میں نے نہیں کروایا۔۔لیکن اسکی نظروں میں میں مجرم ہوں وہ سمجھتی ہے یہ سب میں نے کروایا ہے میری ایک فلم کی آفر نے اسے مجھ سے بدظن کر دیا۔۔۔۔بہت برا انسان سمجھتی ہے وہ مجھے”۔۔۔۔ مانتا ہوں بہت سی خامیاں ہیں مجھ میں۔لیکن کسی کی جان لینے جیسا گھناؤنا جرم نہیں کر سکتا۔۔میری کچھ غلطیوں نے اسکی نظروں میں مجھے برا بنا دیا۔۔۔میں نے غصے میں آ کر اسے اغوا کرنا چاہا یہ دوسری غلطی سر زد ہوئی مجھ سے جس پر مجھے بے حد پچھتاوا ہے۔۔۔

وہ دھیمے لہجے میں اعتراف جرم کر رہا تھا”

رحمت بوا خاموشی سے سنتی رییں۔

ماحر نے گہری سانس لے کر انکی طرف دیکھا اور پھر کچھ توقف کے بعد بات کا دوبارہ آغاز کیا۔

کچھ دن پہلے اس نے میڈیا میں جا کر میرے بارے میں جو کچھ کہا۔جو جو سنگین الزامات لگائے سچ کہوں تو شدید غصہ آیا تھا مجھے۔۔۔بلکہ غصے سے پاگل ہو گیا تھا میں۔۔دل کر رہا تھا اسے سبق سکھاؤں۔مگر نا معلوم کیا شے تھی کونسا احساس تھا جس نے مجھے اخلاقی طور پر پست نہیں ہونے دیا۔۔شائد میری باحیا ماں کے دودھ کی تاثیر تھی یا میرے شریف و عزت دار باپ کے لہو کا اثر جو میری رگوں میں زندگی بن کر دوڑ رہا ہے۔جو مجھے کبھی بھی پستی میں گرنے کی اجازت نہیں دیتا۔میں اپنی غلطیوں پر شرمندہ ہوں اس لئیے آپ سے معافی مانگنے آیا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں مس حیات کی آنکھوں پر فلحال بدگمانی کا پردا پڑا ہوا ہے۔جب تک انکی بدگمانی زائل نہیں ہو جاتی وہ مجھے معاف نہیں کریں گی۔لیکن آپ تو کر سکتی ہیں۔۔۔وہ ندامت سے نظریں جھکائے ہوئے بے حد سنجیدہ لہجے میں کہہ رہا تھا”

رحمت بوا نے باریک بینی سے اس کا جائزہ لیا”

آنکھوں کی بے خوابی اضطراب،ذات کا انتشار وہ بہت ٹینس لگ رہا تھا”نیلی پینٹ اور سفید شرٹ میں اسکے وجہیہ چہرے پر سرخیاں نمایاں تھیں”

اسکے لہجہ اتنا مضبوط اتنا سچا تھا کہ رحمت بوا یقین کرنے پر مجبور ہو گئیں”

“۔۔۔۔۔۔بیٹا وہ بہت جذباتی لڑکی ہے میں نے اسے بہت سمجھایا تھا لیکن مانی نہیں۔اسکی ساری غلطیوں کی میں تم سے معافی مانگتی ہوں”بوا نے اچانک ہاتھ جوڑ کر کہا”

ارے ارے یہ آپ کیا کر رہی ہیں۔۔۔۔ماحر نے آگے بڑھ کر تیزی سے انکے ہاتھ تھامے۔۔۔۔آپ میری ماں جیسی ہیں آنٹی پلیز اسطرح نا کریں۔آپ نے اسکو پالا ہے۔ایک طرح سے آپ اسکی مدر ہے۔میری بس اتنی سی ریکوئسٹ ہے کہ کم از کم آپ تو میری طرف سے دل صاف کر لیں۔وہ انکے قریب بیٹھا ان کے ہاتھوں کو تھامے التجائی انداز میں کہہ رہا تھا۔

کیسی باتیں کرتے ہو بیٹا میرا دل تمہاری طرف سے صاف نا ہو گیا ہوتا تو میں اسکی غلطیوں کی معافی مانگتی تم سے۔اور تم فکر مت کرو میں اسے بھی سمجھاؤں گی۔۔۔۔۔وہ نرم لہجے میں بولیں۔

ماحر کے چہرے پر رونق آ گئی۔

ایک اور بات آنٹی پولیس نے ارتضیٰ حسن کیس کی فائل بند کر دی تھی کیونکہ اسکے بہنوئی جنہوں نے اسکے قتل کی رپورٹ درج کروائی تھی۔وہ سب کچھ چھوڑ کر چلے گئے تو پولیس نے بھی کیس میں دلچسپی لینا بند کر دی تھی۔لیکن میں نے اس کا کیس نئو سرے سے ری اوپن کروایا ہے۔آپ دیکھنا انشاءاللّٰہ

کچھ ہی عرصے میں اس کا قاتل قانون کی گرفت میں ہوگا۔۔

یہ تو بہت اچھی بات ہے بیٹا اس کا اصلی قاتل پکڑا جائے تو حیات کا دل بھی صاف ہو جائے تمہارے طرف سے۔۔اچھا کیا لوگے چائے یا شربت۔۔۔؟اچانک انہیں آداب میزبانی نبھانے کا خیال آیا تو فوراً صوفے سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔۔

نہیں شکریہ آنٹی میں چلتا ہوں اس سے پہلے کے مس حیات آ جائیں مجھے دیکھ کر انہیں غصہ آئے گا۔۔۔اتنے ٹائم میں وہ پہلی بار مسکرایا تھا”

اسے چھوڑو میں سنبھال لونگی۔۔۔تم ایسے کیسے چلے جاؤ گے۔

اتنے بڑے آدمی ہو۔وہ کیا کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ہاں سپر سٹار۔۔۔سپرسٹار ہو تو ایسے کیسے بنا مہمان نوازی کیے تمہیں جانے دوں گی۔۔انہوں نے اصرار کیا

کوئی بات نہیں آنٹی آپ کا دل صاف ہو گیا میرے لئیے یہی بہت ہے۔آپ کے ہاتھ کی چائے تو میں اس دن پیوں گا جس دن آپ کی بیٹی کا دل بھی صاف ہو جائے گا۔

وہ سہولت سے مسکراتے ہوئے بولا۔۔

جاتے ہوئے رحمت بوا کے ہاتھ میں اپنا کارڈ تھما گیا کہ کسی بھی پریشانی کی صورت میں ان سے لازمی کنٹیکٹ کرے۔۔۔رحمت بوا نے وہ کارڈ سنبھال کر اپنے پاس رکھ لیا۔فلحال حیات کو بتانے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔کیونکہ اگر اسے پتہ چلتا کہ ماحر خان آیا تھا تو وہ لازمی بھڑک جاتی”⁩

ڈیڑھ لاکھ کی رنگ بکی تھی۔۔۔۔۔اب نامعلوم جیولر نے اناڑی سمجھ کر موقعے سے فائدہ اٹھایا تھا” یا اسکی قیمت واقعی اتنی تھی وہ جان نہیں پائی۔۔۔تاہم پچاس ہزار ابھی بھی کم پڑ رہا تھا۔۔۔۔تیس ہزار تو اسکے پاس نقد تھے بقیہ بیس ہزار کیلئے اس نے اپنی سونے کی چین بیچ دی۔رقم لے کر جب وہ ہاسپٹل پہنچی تو نئی حیران کن خبر منتظر تھی۔بل کوئی ادا کر چکا تھا۔اس نے کوشش کی پتہ کرنے کی مگر ریسپنشٹ پر بیٹھی لڑکی نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی نہیں جانتی اس بندے کا نام۔باقی انتظامیہ کو پتہ ہوگا لیکن اس شخص کی طرف سے اس کا نام نا بتانے کی تاکید کی گئی ہے۔وہ بابا کو دیکھ کر اور کچھ وقت انکے پاس گزار کر واپس آ گئی۔دو لاکھ ہاتھ میں تھے۔اب اس کا ارادہ اس احسن کمال نامی بندے کو اسکے پیسے لٹانے کا تھا۔۔۔۔اس کا کنٹیکٹ نمبر نکال کر کال ملائی تو بند ملا۔کچھ دیر ٹرائی کرتے رہنے کے بعد اس نے کال کا سلسلہ موقوف کیا کہ بعد میں کوشش کرے گی۔بل والا مسئلہ تو خود بخود ہی حل ہو گیا تھا مگر باقی مسائل وہی تھے۔۔پتہ نہیں کس نے پے کیا ہوگا۔۔۔۔؟وہ بہت سوچتی رہی”لیکن کوئی سرا ہاتھ نا آیا۔تاہم اس نے تہیہ کر لیا تھا کہ وہ پتہ لگا کر رہے گی۔۔۔۔

پھر کئی دن تک وہ ڈاکومنٹس لئیے نوکری کی تلاش میں ماری ماری پھرتی رہی۔۔کوئی ایکسپرینس مانگتا تو کوئی اسکی کم تعلیم پر اعتراض کرتا۔۔بلکہ کچھ نے تو حلیے پر بھی اعتراض کیا کیونکہ اس نے نقاب کرنا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔تاکہ اسکی خوبصورتی اسکے لئیے مزید مصیبت کا باعث نا بنے ورنہ جن جن لوگوں نے اسکی کم تعلیم اور ایکسپرینس نا ہونے کی بنا پر اسے ریجیکٹ کیا تھا وہ اگر اس کا چہرہ دیکھ لیتے تو یقیناً یہ دونوں اعتراض بھول جاتے۔۔۔۔۔مگر پھر اس طرح صورتحال میں مشکلات کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتیں۔۔۔۔کیونکہ وہ دیکھ چکی تھی کہ کس طرح لوگ اچھی شکل دیکھ کر رال ٹپکانے لگتے ہیں اور حاصل کرنے کو پاگل ہو جاتے ہیں۔ماحر خان کی صورت میں سب سے بڑی مثال اسکے سامنے تھی۔۔

ایک بات نے اسے حیران و پریشان کیا تھا اور وہ یہ کہ ایک ہفتے سے زیادہ ہو گیا تھا فلیٹ لے کر دینے والا آدمی احسن کمال گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب تھا۔نا اس کا نمبر آن مل رہا تھا اور نا دوبارہ وہ آیا تھا۔۔۔۔پتہ نہیں اپنے پیسے لینے آتا بھی یا نہیں۔بہرحال حیات نے اسکے پیسے الگ کر کے رکھ دیے تھے کہ جب وہ آئے گا تو اسے دے دے گی۔۔۔

حالات میں کوئی بہتری نہیں آئی تھی۔ہزار کوشش کے باوجود نوکری تو نہیں ملی تھی لیکن ہمت اس نے پھر بھی نہیں ہاری تھی۔۔۔۔۔۔۔خرچے کی ٹینشن نہیں تھی کیونکہ راشن موجود تھا گھر میں۔لیکن پھر بھی سب سے بڑی ضرورت نوکری ہی تھی۔مون کی تعلیم کا حرج ہو رہا تھا۔اب پہلے کی طرح مہنگا سکول تو افورڈ نہیں کر سکتی تھی وہ۔۔۔۔۔۔۔سو اس نے ایک نسبتاً کم مہنگے سکول جو کہ نیم سرکاری تھا وہاں اس کا ایڈمشن کروا دیا۔۔جو کے ان کے فلیٹ سے بیس منٹ کی دوری پر تھا۔۔۔۔پہلے دو دن تو وہ خود چھوڑنے اور لینے جاتی رہی لیکن پھر رحمت بوا نے یہ ڈیوٹی اپنے سر لے لی ان کا کہنا تھا اس طرح انکی واک ہو جائے گی جو کہ انکی صحت کیلئے ضروری تھی۔زندگی کچھ حد تک معمول پر آ گئی تھی۔لیکن جاب کا مسئلہ جوں کا توں تھا۔ اب دفتروں کو چھوڑ کر اس نے چھوٹے چھوٹے پرائیویٹ سکولز میں قسمت آزمائی شروع کر دی تھی۔۔۔۔۔بیشک وہاں سیلری بہت کم ملتی لیکن کچھ نا ہونے سے تھوڑا بہت ہونا تو بہتر تھا۔مون کے سکول جانے کے پانچویں روز کی بات ہے جب وہ پہلے کی طرح ایک سکول میں انٹرویو دے کر گھر آئی تو رحمت بوا کو روتے دیکھا۔۔

کیا ہوا بوا۔۔۔۔؟؟مون کہاں ہے۔۔آپ رو کیوں رہی ہیں۔۔؟وہ بری طرح گھبرا گئی تھی”

بیٹا آج کھانا بناتے ہوئے مجھے ذرا دیر ہو گئی تھی۔ٹائم کا پتہ نہیں چلا جب میں مون کو لینے سکول گئی تو وہ سکول میں نہیں تھا۔ چپڑاسی نے بتایا کہ وہ اکیلا چلا گیا۔میں نے بہت ڈھونڈا مگر نہیں ملا”وہ روتے ہوئے بتانے لگی”

” حیات عبدالرحمان کو محسوس ہو رہا تھا برف کے طوفان میں گم وہ دھنستی ہی چلی جا رہی تھی۔اندر ہی اندر برف جیسے سرد احساس نے اسکے جسم کو اس قدر بے حس اور مفلوج کر دیا تھا کہ وہ کچھ بول ہی نہیں پائی تھی۔یہ احساس اتنا شدید تھا کہ آنکھوں میں اچانک دل سے نکلنے والا لہو سفید موتیوں کی طرح جم گیا تھا۔جو نا چھلک رہا تھا نا ضبط ہو رہا تھا۔اس خبر نے اس پر عجیب سکتا طاری کر دیا تھا۔۔

لاؤنج کسی دائرے کی صورت میں گھومنے لگا تھا۔

آپ نے مجھے فون کر کے پہلے کیوں نہیں بتایا۔۔۔؟وہ بمشکل بول پائی

میں نے تمہیں اتنی کالز کیں مگر تم نے نہیں اٹھائیں۔وہ آنسو بہاتے ہوئے بولیں”

حیات نے فوراً فون نکال کر دیکھا تو یاد آیا میوٹ کا بٹن غلطی سے آن رہ گیا تھا۔۔بوا کی پنتالیس کے قریب کالز تھیں۔۔۔اسے اپنی غلطی پر بے حد افسوس ہوا۔۔۔وہ اپنے چکراتے سر کو پکڑ کر وہیں بیٹھ گئی۔اپنے چاروں طرف اسے ویرانیاں رقص کرتی محسوس ہو رہی تھیں۔