Meri Hayat By Zarish Hussain Readelle50271 Meri Hayat (Episode 60)
Rate this Novel
Meri Hayat (Episode 60)
Meri Hayat By Zarish Hussain
کہاں ہے وہ۔۔۔۔؟؟
ماحر نے سرسراتی ہوئی آواز میں پوچھا
سر ویٹنگ روم میں بیٹھایا ہے آپ کہیں تو یہیں آپکے
پرسنل روم میں لے آؤں۔۔۔۔؟؟ فرقان نے دھیمی آواز میں بتاتے ہوئے اجازت چاہی۔۔۔
ہوں لے آؤ۔۔اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔فرقان کمرے سے باہر نکل گیا جبکہ وہ شدید اضطراب میں مبتلا کمرے میں ٹہلنے لگا۔ذہن کے پردے پر گزشتہ واقعات چلنے لگے
کبیر اسکا بہت ہی قابل اعتماد پرانا باڈی گارڈ تھا جسے اس نے کچھ سال پہلے بینک میں سرکاری جاب دلوائی تھی۔۔پھر جب حیات عبدالرحمٰن سے اپنے ٹھکرائے جانے اور انسلٹ کا بدلا لینے کیلئے غصے سے پاگل ہو کر اس کے باپ کو ٹھکانے لگانے کا سوچنے لگا تھا تو اس کے ذہن میں کبیر کا نام ہی آیا تھا۔کام ہو جانے کے بعد کبیر
فرقان سے اپنی رقم لے کر چلا گیا تھا اور دوبارہ کبھی
نہیں آیا۔۔اب اسکا اچانک دوبارہ آنا۔۔۔کیا بات ہو سکتی
ہے ۔۔۔؟؟ اسکے وجہیہ چہرے پر تفکرات کے سائے لہرا رہے تھے۔۔۔وہ بڑی بے چینی سے کبیر کا منتظر تھا۔۔۔
پھر کچھ دیر بعد وہ اسکے سامنے تھا۔۔۔
کیوں ملنا چاہتے تھے مجھ سے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ اس نے اپنے پریشان تاثرات چھپاتے ہوئے سرد لہجے میں پوچھا۔۔
اپنے ایک گناہ کا اعتراف کرنے سر۔۔۔۔کبیر نے نظریں چرا کر پست آواز میں کہا۔۔۔
کیسا گناہ۔۔۔۔۔؟؟ وہ چونکا تھا۔۔ اسکی آنکھوں میں اضطراب اتر آیا۔۔
جھکے ہوا سر۔۔۔۔شرمندہ نظریں۔۔۔۔۔شرمندہ لہجہ نم
آنکھیں۔۔۔ماحر بغور اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔
ایک سال پہلے جس آدمی کے مرڈد کیلئے آپ نے مجھے ہائر کیا تھا اس کا مرڈر میں نے نہیں کسی اور نے کیا تھا۔۔اس نے دھیمے شرمندہ مگر سنسنی خیز لہجے میں
انکشاف کیا۔۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔۔۔؟؟؟ ماحر کے پورے وجود میں سنسنی دوڑ گئی۔۔۔۔
مطلب یہ کہ سر۔۔۔۔۔۔۔۔جس وقت میں انکے کمرے میں کھڑکی کے راستے داخل ہونے کا سوچ رہا تھا مجھ سے پہلے ہی کوئی وہاں موجود تھا۔میں نے کھڑکی کے ہول سے دیکھا تھا۔۔ صفائی کرنے والوں کے یونیفارم میں ملبوس ایک شخص اندر آیا تھا اور پھر اس نے بستر پر لیٹے اس شخص کو کوئی سرنج نکال کر لگائی کھڑکی کی جھری سے میں نے چونکہ آنکھ لگائی ہوئی تھی اس لئیے ذرا سا سر ٹکرانے پر جب کھڑکی میں کھٹکا ہوا تو وہ شخص چونک کر کھڑکی کیطرف دیکھنے لگا تھا۔میں گھبرا کر وہاں سے ہٹ گیا تھا۔چند لمحوں بعد میں نے کمرے سے نسوانی شور کی آواز سنی۔۔۔۔۔ شائد کسی نرس نے اسے دیکھ لیا تھا اور شور مچا دیا تھا۔میں بھاگتا ہوا ہاسپٹل کی بلڈنگ سے نکل گیا۔۔۔
جو کام میں کرنے گیا تھا وہ کسی اور نے کر کے میرا کام آسان کر دیا تھا ۔۔۔
اس نے مجرمانہ لہجے میں اعتراف کیا۔۔۔۔
پھر تم نے یہ بات اسوقت کیوں نہیں بتائی تھی مجھے۔۔۔۔؟؟
ماحر جو اسکی بات سن کر حیرت و خوشی کے ہیجان میں مبتلا ہو رہا تھا یکدم غصے سے استفسار کیا۔۔
آئی ایم سوری سر میں پیسوں کے لالچ میں پڑ گیا تھا
مجھے اسوقت روپوں کی اشد ضرورت تھی۔مجھے لگا
اگر میں حقیقت آپکو بتا دوں گا تو یہ پیسے میرے ہاتھ سے چلے جائیں گے۔کیونکہ آپ کا کام تو کسی اور نے کر دیا تھا۔۔۔ پیسے ہاتھ سے نا نکل جائیں اسی ڈر سے میں خاموش رہا۔مگر وہ پیسے بھی میرے پاس نا رہے میرے گھر میں چوری ہوئی سب کچھ لٹ گیا۔۔ آج میں آپکے پاس نا صرف اپنے دھوکے اپنے جھوٹ کا اعتراف کرنے آیا ہوں بلکہ مدد بھی مانگنے آیا ہوں۔۔
اس شخص نے بھیگے لہجے میں کہا۔۔۔۔۔
ماحر لب بھینچے طیش بھری نگاہوں سے اسے گھورتا رہا۔۔۔ اسکا بس نہیں چل رہا تھا اس شخص کا گلہ دبا دے۔۔۔اگر یہ بات اسے پہلے بتا دیتا تو وہ اپنے ضمیر کی عدالت میں شرمندہ اور پچھتاوے کی آگ میں تو نا جلتا رہتا۔۔۔
میں بینک کا لاکھوں کا مقروض ہو چکا ہوں سر میری واحد پراپرٹی میرا گھر گروی رکھا ہوا ہے اکلوتی بیٹی کو برین ٹیومر ہے اسکا واحد علاج اب آپریشن ہے۔۔۔اور
آپریشن کیلئے لاکھوں روپے کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔میں کیا
کروں اپنی اکلوتی بیٹی کو مرتا ہوا نہیں دیکھ سکتا میں۔۔۔۔۔ اتنا بول کر وہ رونے لگا۔۔۔
اسکی بیٹی کی بیماری کا سن کر وہ نرم پڑ گیا اور اپنے
اپنے غصے کو کنٹرول کر کے کہنے لگا۔۔
ٹھیک ہے تمہارے جتنے بھی مسائل ہیں فرقان کو بتا دو
سالو ہو جائیں گے۔۔تمہاری بیٹی کا آپریشن ہو جائے گا۔۔میری اپنی فاؤنڈیشن سارا خرچ اٹھائے گی۔۔۔ڈونٹ وری
اور یہ جو باتیں تم نے مجھے بتائی ہیں دوبارہ تمہاری زبان پر کبھی نہیں آنی چاہیں۔۔۔ان باتوں کو اپنے سینے میں دفن کر دو ورنہ اگر کبھی یہ باہر آئیں تو۔۔۔۔۔”
ماحر نے دانستہ بات ادھوری چھوڑ دی۔۔۔۔کبیر اسکے لہجے میں چھپی تنبیہہ اور دھمکی سمجھ گیا۔۔۔
نو نو سر بے فکر رہیں یہ باتیں ہمیشہ میرے دل میں دفن رہیں گی اگر کبھی میری زبان پر آئیں تو بے شک آپ میری زبان کاٹ دیجئیے گا۔۔۔۔اسکا انداز سو فیصد یقین دلانے والا تھا۔۔۔۔
زبان نہیں گردن کاٹوں گا۔۔۔اب جاؤ تم اور باہر فرقان کو
اپنے سب مسئلے نوٹ کرواؤ حل ہو جائیں گے۔۔۔
اس نے خشک لہجے میں کہتے اسے جانے کا حکم دیا۔۔
جی جی سر میں جاتا ہوں۔۔۔آپ کا بہت بہت شکریہ کہ میرے جھوٹ کے باوجود آپ نے میری مدد کی حامی بھری۔۔۔وہ شکر گزار انداز میں ہاتھ جوڑتا وہاں سے چلا گیا تو وہ کرسی پر سے اٹھ کر صوفے پر گرنے کے انداز میں جا بیٹھا۔۔۔
او تھینکس گاڈ۔ تم نہیں جانتے کبیر تم نے مجھے کتنے بڑے بوجھ کتنے بڑے گلٹ سے نکالا ہے۔کاش تم پہلے ہی بتا دیتے تو اتنا عرصہ میں مینٹلی ڈسٹرب تو نا رہتا۔۔
اس نے گہری سانس لی۔۔پچھتاوے گلٹ سے آزاد ہونے کے بعد وہ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا۔اسکا ذہن اب اس احساس سے مطمئن تھا کہ عبدالرحمٰن کی موت میں اسکا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔لیکن انکا قاتل تھا کون۔۔؟؟ یہ بات سوچنے کی اسے ضرورت ہی نہیں پڑی کیونکہ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ ایسی حرکت کون کر سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ اب اسے عبدالرحمان علی کے قاتل کو پھانسی کے تختے تک پہنچانا تھا۔۔۔۔ اسکی بیٹی تو یہ
بھی نہیں جانتی تھی کہ اسکے باپ کی طبعی موت
نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔۔ عبدالرحمان علی کے قاتل کو سزا دلوانے کا اسکا ارادہ ضرور تھا لیکن حیات عبدالرحمٰن کو بتانے کا ارادہ کبھی نہیں تھا کیونکہ اگر اسے پتہ
چلتا تو یہ قصور بھی وہ لازماً اسی کے کھاتے میں ڈال
دیتی جسکا کہیں نا کہیں ذمے دار وہ تھا بھی۔۔۔
عبدالرحمن علی کے قاتل کو سزا دلوانا۔اپنی غلطیوں کے ازالے کا صحیح طریقہ تھا۔۔۔۔ان سب باتوں پر غور کرتے اس نے رات والا واقعہ بھی ذہن سے جھٹک دیا۔۔۔۔ کافی
دیر انہی سوچوں کے بھنور میں ڈوبا رہا۔حیات کا خیال
آیا تو ٹیبل پر رکھا اپنا موبائل اٹھا کر اسے کال ملانے لگا مگر کچھ سوچ کر رک گیا اور اسکے بجائے فائزہ سکندر کا نمبر ملایا۔۔۔
گڈ مارننگ مام۔۔۔۔؟؟ فائزہ سکندر نے جیسے ہی کال ریسیو کی وہ فوراً بولا
گڈ مارننگ کے بچے سلام نہیں کر سکتے کیا۔۔۔اور یہ
مارننگ نہیں دوپہر ہے۔۔۔۔
سوری مام۔۔۔ اسلام علیکم۔۔۔وہ ہنسا تھا
وعلیکم السلام۔۔کہاں ہو کل رات آخری بار ٹی وی پر ہی دکھائی دیے تھے۔۔حیا سے پوچھا تو وہ کہہ رہی تھی تم کل رات سے گھر ہی نہیں آئے۔۔۔۔تمہارا موبائل ٹرائی کیا تو نمبر ہی نہیں مل رہا تھا۔۔۔تمہارے مینیجر کو کال کی تو وہ بولا تم کہیں شوٹ پر بزی ہو۔۔سب خیریت تو ہے نا کہیں اس شو کو ذہن پر سوار تو نہیں کر لیا۔۔۔؟؟
ماں کے لہجے میں چھپی تشویش محسوس کر کے
وہ اپنی آواز کو ہشاش بشاش ظاہر کرتا ہوا بولا۔۔۔۔
نو مام۔۔ایسے چھوٹی چھوٹی باتوں کو میں اپنے ذہن پر سوار نہیں کرتا۔۔۔ اسکی باتوں کا میں برا نہیں مانا بلکہ
انجوائے کیا اور وہ تو مذاق کر رہی تھی۔۔خیر رات سے شوٹ پر ہوں تھوڑی دیر میں گھر آؤں گا۔۔۔
اس نے ماں کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔۔
اچھا ٹھیک ہے۔۔۔جلدی گھر آؤ تمہارے لئیے تمہاری پسند کا ناشتہ بنوا رہی ہوں۔۔۔۔
اوکے مام آتا ہوں۔۔۔اور حیا اس نے بریک فاسٹ کیا۔۔۔؟؟
ہاں اس نے کر لیا تھا۔۔بلکہ میں نے ہی زبردستی کروایا۔۔
اس کے لہجےب میں اپنی بیوی کیلئے کئیر محسوس
کر کے وہ مسکرائیں۔ اور ہاں حیا ڈرائیور کے ساتھ اپنے
میکے گئی ہے کہہ رہی تھی ادھر سے اپنی کتابیں لینی
ہیں اس نے شام کو آجائے گی۔تمہاری بات ہوئی اس سے
فائزہ سکندر نے عام سے لہجے میں پوچھا۔۔۔
نہیں مام میں بزی تھا بات نہیں کر سکا۔اسکی کال آئی تھی۔۔اس نے دانستہ جھوٹ بولا۔۔۔۔پھر کچھ توقف کے
بعد بولا۔۔۔
بکس لینی تھیں تو اس کو جانے کی کیا ضرورت تھی۔آپ ڈرائیور کو بھیج دیتیں وہ لے آتا یا میں نئی منگوا دیتا۔۔۔۔۔
اچھا خیر اب تو وہ چلی گئی۔۔تم شام کو جا کر اسے لے آنا اوکے اور ہاں جلدی گھر پہنچو ناشتہ بنوا رہی۔شوٹ
ووٹ بعد میں کر لینا پہلے گھر آؤ۔۔۔
انہوں نے تحکم بھرے لہجے میں کہا۔۔
اوکے مام بس بیس منٹ میں پہنچتا ہوں۔اس نے ہنستے ہوئے کال ڈراپ کر دی۔۔۔پھر ٹیبل پر رکھی گاڑی کی کیز
اٹھاتا وہ باہر نکل گیا تھا۔۔۔
وہ صبح سے فارس بھائی کی طرف آئی ہوئی تھی۔فضا
تو گھر پر ہی تھی فارس کو اسکے آنے کا پتہ چلا تو وہ
بھی لنچ ٹائم آفس سے گھر آ گیا۔۔۔۔۔۔ اپنے گھر آ کر ایک خوشی سی محسوس ہو رہی تھی اسے۔۔۔ وہ محل اسے
قید لگتا تھا جہاں وہ زیادہ تر سب سے کٹ کر اکیلی
بیٹھی رہتی جب تک فائزہ سکندر خود آ کر زبردستی
نا لے جاتیں اسے۔۔انکا محبت و شفقت بھرا رویہ دیکھ
کر کبھی کبھی اسے شرمندگی ہوتی تو اسکے ازالے کے
لئیے وہ انکے ساتھ بیٹھ کر باتیں وغیرہ کر لیتی۔۔لیکن
ماحر کو دیکھتے ہی اسکا دماغ خراب ہونے لگتا اور وہ
پھر سے اپنی ضدی و خود سری پر اتر آتی۔۔۔اسے تپانے
کیلئے ہر ممکن حربہ استعمال کرتی مگر وہ ابھی تک
بنا کوئی شکن ماتھے پر لائے اسکا ہر برا رویہ جھیل
رہا تھا۔آج جب وہ یہاں آئی تو یہیں رکنے کا موڈ بن گیا
گوکہ فائزہ سکندر کے پوچھنے پر انہیں کہہ آئی تھی۔۔” کہ شام تک آ جائے گی مگر یہاں آ کر نیت بدل گئی تھی
شام کے سوا چار بج رہے تھے۔۔ فارس کی کوئی ضروری میٹنگ تھی وہ دوبارہ آفس چلا گیا تھا۔۔۔۔۔ فضا پڑوس میں کسی برتھڈے پارٹی پر گئی ہوئی تھی۔اس نے اسے بھی ساتھ چلنے کی آ فر کی مگر اس نے سہولت سے انکار کر دیا تھا کہ اسکا موڈ نہیں۔۔۔۔۔ فضا کے جانے کے بعد وہ اپنے کمرے میں چلی آئی تھی۔ کبرڈ کھولی کئی خوبصورت و قیمتی ڈریسز جنہیں وہ شادی سے پہلے استعمال کرتی رہی تھی ہینگ کئیے ہوئے تھے۔۔ جیولری
خوبصورت سینڈلز اور پرفیومز سمیت بہت سی قیمتی چیزوں سے اسکی الماری اور ریک بھرے ہوئے تھے۔۔۔۔۔ رخصتی سے پہلے جتنا عرصہ وہ یہاں رہی تھی فارس اور فضا نے اس کیلئے بے دریغ شاپنگ کی تھی۔۔۔۔ کچھ
کپڑے اور دوسری چیزیں ساتھ لے جانے اور کچھ میڈ کو دینے کی غرض سے وہ کبرڈ کا تفصیلی معائنہ کرنے
لگی۔سب چیزیں نکال نکال کر بیڈ پر ڈھیر کرتی جارہی تھی اور ساتھ ہی ہاتھ میں پکڑے ڈسٹر سے کبرڈ کی صفائی بھی۔۔۔گلے میں ڈالا ڈوپٹہ کام میں رکاوٹ پیدا کر رہا تھا تو اس نے اسے گلے سے نکال کر مصروف سے انداز میں دیکھے بنا پیچھے کی جانب اچھال دیا تھا جو دروازے کے قریب رکھے صوفے سے ہوتا ہوا عین دروازے کے وسط میں جا گرا۔۔۔۔
وہ اپنے کام میں بری طرح مگن تھی۔۔۔ معا” کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تو فوراً پلٹی اور حیران رہ گئی۔۔۔۔۔
اپنے لمبے چوڑے شاندار سراپے اور دلکش چہرے کے ساتھ وہ دروازے سے ٹیک لگائے کھڑا اسکا جائزہ لے رہا تھا۔۔۔خوبصورت بھرپور چہرے کی سرخی بہت نمایاں تھی۔۔۔ لائٹ براؤن سلکی بال پیشانی پر بے ترتیبی سے بکھرے ہوئے تھے۔۔۔۔گہری مقناطیسی آنکھیں اپنے اندر عجیب مقناطیسیت لئیے ہوئے تھیں۔۔ حیات عبدالرحمٰن کو اپنا دل کنپٹیوں میں دھڑکتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔رات شو کے بعد اسے گھر ڈراپ کر کے جو وہ غائب ہوا اسکے بعد اب دیکھ رہی تھی اسے اچانک اس پر ڈر گھبراہٹ طاری ہونے لگی۔۔۔ اسکے چہرے کی سرخی سنجیدہ اور
گھمبیر تاثرات اسے ڈرانے لگے تھے۔رات تو وہ بہادری کا
مظاہرہ کر گئی تھی مگر اب اسے خوف سا محسوس ہو رہا تھا اس سے۔۔۔شو کے بعد اس نے کچھ نہیں کہا تھا مگر اب اگر وہ بدلہ لینے پر اتر آیا تو وہ کیا کرے گی۔۔
اسکی دھڑکنیں منتشر اور ہتھیلیاں پسینے سے بھیگنے لگیں۔۔۔۔ خوف گھبراہٹ اور پیشمانی سے اس کے ہاتھ پاؤں لرزنے لگے۔جبکہ وہ اسکے اندرونی احساسات سے بے خبر گہری نگاہوں سے اسکا معائنہ کر رہا تھا۔۔۔ اگرچہ رات شو میں کہی گئی اسکی باتوں سے وہ بہت ہرٹ ہوا تھا۔۔۔ پھر شو کے بعد دل و دماغ مسلسل ایک جنگ میں مصروف رہا تھا۔۔بقیہ تمام رات وہ غم و غصے سے
سلگتا رہا تھا۔۔۔۔ اسکی باتیں یاد آتے ہی کنپٹیوں میں خون کی روانی تیز ہو جاتی تھی۔۔لب بھینچ بھینچ کر گہرے سانس لے لے کر وہ اپنی اذیت اور غصے پر قابو پانے کی کوشش کرتا رہا تھا۔۔۔ پھر جب کبیر سے ملا تو
وقتی طور پر ان باتوں کو ذہن سے جھٹکتے توجہ نئے معاملے کی طرف مبذول ہو گئی تھی۔مگر اب اسے لینے کیلئے آتے وقت سب باتیں نئے سرے سے یاد آنے لگیں اسے لگ رہا تھا کہ حیات کو سامنے دیکھ کر اسے غصہ ضرور آئے گا مگر حیرت انگریز طور پر ایسا کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔اسے سامنے پا کر ہمیشہ کی طرح خوشگوار سے احساسات اس کے اندر جاگنے لگے تھے ۔من میں کن من سی پھوار ہونے لگی تھی۔۔۔ اپنی بدلتی کیفیت نے اسے خود بھی حیران کیا تھا۔۔۔۔
“اپنے ہوشربا سراپے و چہرے کے ساتھ وہ اسکے سامنے تھی کمر تک جاتے گولڈن براؤن ریشمی گھنے بالوں میں وہ اپسرا لگ رہی تھی۔چہرے پر ہلکے ہلکے میک اپ کی سحر انگیزی تھی نے خوبصورت نقوش کو مزید نمایاں کیا ہوا تھا۔۔۔ویلوٹ شنیل کی شارٹ گلابی کرتی اسکی خوبصورت نازک سی جسامت پر خوب جچ رہی تھی وہ بڑی بے تکلفی اور استحقاق سے اسے نہار رہا تھا۔۔ رات والی ساری ناراضگی رنجیدگی اس حسن کے شعلے کو سامنے دیکھ کر بھسم ہو گئی تھی۔۔۔۔
سرخ نگاہوں کی بے باک تپش حیات عبدالرحمٰن کا دل دھڑکانے لگی تھی ۔۔۔۔
بری طرح سراسیمگی و خجالت کا شکار ہوتی ڈوپٹے کی تلاش میں نظریں دوڑانے لگی۔۔۔۔ اسکی گھبراہٹ نے ماحر کے عنابی لبوں پر ایک شوخ سی مسکراہٹ بکھیر دی تھی ۔۔۔۔ اس نے جھک کر اپنے پیروں کے قریب پڑا گلابی رنگ کا ڈوپٹہ اٹھایا اور اسکے قریب چلا آیا ۔۔۔
حیات کی نظر اسکے ہاتھوں میں موجود اپنے ڈوپٹے پر پڑی تو جھپٹنے کے انداز میں لیا تھا۔۔۔
اسے مسکراتا دیکھ کر اسکے چہرے پر کچھ دیر پہلے نمودار ہونے والے شرمندگی گھبراہٹ و ڈر کے تاثرات اب زائل ہو گئے۔۔۔۔ ڈوپٹے کو شانوں پر پھیلاتے وہ ناگواری سے کہنے لگی۔۔۔
کیا بدتمیزی ہے کسی کے روم میں آنے سے پہلے ناک تو کرتے ہیں اتنے بھی مینزز نہیں آپ میں۔۔چہرے کے ایک ایک نقش سے ناگواری و تلخی عیاں تھی۔۔۔۔۔
میں تمہارا ہزبینڈ ہوں۔۔۔۔ تمہارے کمرے میں آنے کیلئے
ناک کرنے کی کیا ضرورت بھلا۔۔۔۔۔۔ اسکی خوبصورت
آنکھوں میں تحیر پھیلا تھا۔۔
ہاں تو ہزبینڈ ہیں تو کیا ہوا۔۔میرے اور آپکے بیچ کوئی
بے تکلفی تو نہیں نا۔۔۔اپنی لمٹ میں رہیں۔۔۔تند و ترش لہجہ تھا اسکا۔اسے مطمئن و پر سکون دیکھ کر وہ جل اٹھی تھی۔۔ اسی لئیے اپنے سابقہ لب و لہجے میں لوٹ آئی۔ورنہ صبح ماریہ اور لیزا کی باتیں سن کر اس نے دل میں مصمم ارادہ کیا تھا کہ اگر اچھا نہیں تو آئندہ اس سے برے لہجے میں بھی بات نہیں کرے گی مگر اب اسے پہلے کیطرح سرشار و نہال دیکھ کر وہی ان
دیکھی آگ وجود میں بھڑک اٹھی تھی۔۔۔۔
اسے لگا تھا رات والی بے عزتی کے بعد وہ بے چین ہوگا۔
ٹینشن غصہ دکھ ان تمام کیفیات میں مبتلا ہوگا۔۔۔۔ نم
شکایتی نگاہوں سے دیکھ کر اس سے سوال کرے گا تم نے ایسا کیوں کیا حیا۔۔۔؟؟
مگر ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔۔۔
اسے پریشانی و تفکر میں مبتلا دیکھنے کی اسکی یہ خواہش پوری نا ہو سکی۔تبھی وہ سلگ اٹھی تھی
اسکی بات و انداز پر ماحر کے وجہیہ چہرے پر تاریک سایہ لہرا کر معدوم ہوا تھا۔۔کچھ پل کی خاموشی کے بعد بولا۔تمہیں لینے آیا ہوں۔۔جلدی سے اپنی پیکنگ کرو لے مجھے اپنے شو پر بھی جانا ہے۔۔۔
بازو پر بندھی گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے وہ سپاٹ
لہجے میں بولا تھا۔۔
تو آپ خود جائیں نا اپنے شو پر مجھے کیوں ساتھ لے جانا چاہتے ہیں۔۔؟؟ اسکی زبان پھسل گئی
تمہیں لگتا ہے۔۔اب دوبارہ کسی شو میں تمہیں لے جانے کی غلطی کروں گا میں۔۔؟؟ اپنی سوالیہ نگاہیں اسکے خوبصورت نقوش والے مغرور چہرے پر جمائے اس نے
پوچھا تھا۔۔حیات خفت کے مارے کچھ بول ہی نا سکی
ایسی غلطی اب میں کبھی مر کر بھی نا کروں۔۔ہاں اگر
تمہیں لگتا ہے کہ میری بے عزتی میں کوئی کسر رہ گئی تھی تو میرے ساتھ میرے شو میں چل سکتی ہو۔۔لیکن
وہاں تمہاری یہ خواہش شائد صحیح سے پوری نا ہو سکے کیونکہ وہاں تو ہوسٹ بھی میں خود ظاہری بات
ہے پبلک کے سامنے ایسے سوال تو کبھی نہیں پوچھوں گا جن میں تم میری انسلٹ کر سکو۔۔۔
وہ سبھاؤ اور ٹھنڈے ٹھار لہجے میں طنز کر رہا تھا۔۔۔۔
حیات نے ہونٹ دبا کر نظریں جھکا لیں۔۔تو گویا دل پر
لگی تھیں باتیں۔۔ صرف چہرے سے ظاہر نہیں ہونے دیا
تھا۔۔۔۔ وہ کچھ دیر اسکے بولنے کا منتظر رہا جو ہونٹ
کاٹتے رخ موڑے خاموش کھڑی تھی پھر کہنے لگا۔۔
جب تم نے میرے سمجھائے گئے جوابات پر تابعداری اور
اطاعت کا مظاہرہ کیا تھا تو میرے ذہن میں بالکل بھی کسی خطرے کا گمان تک نہیں تھا۔تم بہت سمجھدار ہو
یار مجھے بے عزت کرنے کا پورا پلان بنا کر گئیں۔۔۔۔ وہ ایسے ہنسا جیسے خود بھی اس سب کو بہت انجوائے کیا ہو۔۔جانتی ہو تمہاری جگہ اگر کوئی اور یہ سب کرتا تو مکمل سلامت تو کبھی نا رہتا۔۔۔ لیکن یہ تم تھی جو پہلے میری ضد میری انا اور میرا چیلنج تھی لیکن اب میری محبت میری چاہت میری عزت ہو۔۔۔۔۔ تم جو بھی زیادتی کرو گی میں اف تک نہیں کروں گا۔۔۔ تمہیں اگر اپنے کیے پر تھوڑا بہت افسوس ہے بھی تو پلیز مت کرو کیونکہ میں نے برا نہیں منایا تمہاری کسی بھی بات کا۔وہ مسکراتے ہوئے ہشاش بشاش لہجے میں کہہ رہا تھا۔۔
آئی ایم سوری۔۔میں اپنے کیے پر شرمندہ ہوں۔۔جو کچھ
بھی کہا تھا میں نے۔۔۔۔۔ وہ میری کوئی باقاعدہ پلاننگ نہیں تھی۔بس غیر ارادی اور لاشعوری طور پر ہوا۔جس
کا احساس یا ادراک مجھے اسوقت نہیں ہوا تھا۔۔اسکا لہجہ بے تاثر تھا۔۔۔
وہ بغور جانچتی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔اسکے
الفاظ اسکے لہجے کا ساتھ بالکل نہیں دے رہے تھے۔۔۔
لیکن ابھی جو تم کہہ رہی ہو ارادہ شعور تو تمہارا اس میں بھی پختہ نہیں لگتا۔۔۔وہ مسکرایا اناڑی نہیں تھا
جو یقین کر لیتا اسکی شرمندگی کا۔۔۔
وہ خاموش رہی تو بات بدل کر کہنے لگا تمہارے بھائی کو میں نے کال کر کے بتا دیا ہے کہ تمہیں لے کے جا رہا ہوں سو اب تم اپنی چیزیں سمیٹو اور چلو۔۔۔۔۔۔ بیڈ اور کارپٹ پر پڑے پھیلاوے کو اس نے سر سری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا اور آرام سے صوفے پر براجمان ہو گیا۔
لیکن میرا ارادہ تو آج یہیں رکنے” اس نے احتجاج کرنا چاہا
اور میرا ارادہ تمہیں آج گھر لے جانے کا ہے۔۔۔۔وہ اسکی بات قطع کر کے بولا
اب بتاؤ خود سے چلو گی یا زبردستی لے جاؤں گھر تو تمہیں آج لازمی لے کر جانا ہے۔۔۔۔۔۔۔ ویسے بھی روز روز
میکے آنے سے عزت کم ہوتی ہے اور میں نہیں چاہتا
میری بیوی کی عزت کم ہو۔۔۔۔۔۔ اس نے اٹھ کر اطمینان سے اسکے مرمریں نازک سے ہاتھوں کو اپنے مضبوط
ہاتھوں میں لے لیا۔۔حیات عبدالرحمان کے رگ وپے میں سنسنی دوڑ گئی۔اس نے متوحش ہو کر اپنے ہاتھ چھڑا
لینے چاہے جب اس نے جھک کر سرگوشی میں پوچھا
چل رہی ہو نا۔۔۔۔۔؟؟
ہوں۔اسکی گہری جائزہ لیتی آنکھوں سے گھبرا کر وہ
اثبات میں سر ہلا گئی اور ہاتھ چھڑا کر تیزی سے اپنی بکھری چیزیں سمیٹنے لگی جبکہ وہ وہیں صوفے پر ایزی ہو کے بیٹھتا اسکو کام کرتا دیکھنے لگا ۔۔۔
رات کا ایک بج رہا تھا جب وہ دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوا۔۔۔ حیات بستر کے کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی ارد گرد بکس بکھری ہوئی تھیں۔۔۔ دروازہ
کھلنے پر وہ فوراً سیدھی ہوئی تھی ماحر کو دیکھ کر بکھری کتابیں سمیٹنے لگی۔ یہ بکس آج شام کو ہی وہ گھر سے لائی تھی۔۔ وہ اسے اگنور کرتا ڈریسنگ ٹیبل پر رسٹ واچ اور موبائل رکھنے لگا۔۔۔۔ پھر الماری سے اپنا سلیپنگ ڈریس نکال کر ڈریسنگ روم میں چلا گیا۔اس
جاتے ہی حیات نے جھٹ سے کتابیں سائیڈ پر رکھیں
اور بلینکٹ میں گھس گئی۔۔وہ کپڑے چینج کر کے آیا تو ڈریسنگ مرر کے سامنے کھڑا ہو کر بال بنانے لگا۔۔۔شیشے میں ایک نگاہ بیڈ کی طرف ڈالی جہاں اب وہ مکمل کمبل میں پیک ہو کر سو رہی تھی یا سوتی بن رہی تھی۔اس نے خود پر پرفیوم سپرے کیا۔۔۔ پھر چلتا ہوا بیڈ کی طرف آیا۔۔۔۔
حیا ۔۔۔؟؟ قریب کھڑے ہو کر اس نے ہولے سے پکارا لیکن
وہ بے حس و حرکت رہی۔۔۔
حیا۔۔۔۔۔۔ ہاتھ بڑھا کر اسکے چہرے سے کمبل ہٹایا تو وہ
کرنٹ کھا کر اٹھی۔اپنے قریب بیڈ پر بیٹھا دیکھ کر وہ ہڑبڑا کر رہ گئی تھی۔۔ ماتھے پر بل پڑے تھے۔۔۔
میرے بیڈ پر کیا کر رہے ہیں آپ۔۔۔؟؟
وہ دور کھسکتے ہوئے ناگواری سے بولی۔۔۔۔
ڈونٹ وری کسی غلط ارادے سے نہیں آیا۔۔۔۔۔ ایکچولی کچھ بات کرنی ہے تم سے۔۔تم جانتی ہو نا اصفہان اور
فاریہ کی طرف سے ہمیں ہنی مون ٹور کے ٹکٹس ملے
ہیں اسی سلسلے میں تم سے بات کرنا تھی کہ۔۔۔۔”
میں کہیں نہیں جاؤں گی۔۔پہلے بھی آپ سے کہہ چکی
ہوں کہ آپکی زندگی میں آ گئی ہوں اتنا کافی سمجھیں مزید کوئی توقعات وابستہ مت کیجئے مجھ سے۔۔۔
اس نے کٹیلے لہجے میں کہا۔۔۔۔۔
میں نے کب کہا یہ کوئی رومینٹک و خوشگوار قسم کا ہنی مون ہوگا۔ سب گھر والوں کو پتہ ہے ٹکٹس کا میں کیا بہانہ کروں اب ان سے بھلا۔۔اور تمہیں کیا مسئلہ ہے جانے میں۔۔۔ میں تم سے کوئی توقعات وابستہ نہیں کر رہا تم وہاں بھی ایسے ہی رہنا جیسے یہاں رہ رہی ہو
اسکا اشارہ صوفے اور بیڈ کی طرف تھا۔۔۔
میں نے کہا نا میں کہیں نہیں جاؤں گی۔۔ مجھے فورس
کرنے کی کوشش مت کیجئے۔۔۔اس نے جھنجھلا کر تیز لہجے میں کہا۔۔۔
تو پھر ان ٹکٹس کا کیا کروں میں۔۔۔؟؟؟اس نے خاصے ضبط سے پوچھا تھا ورنہ دل تو چاہ رہا تھا ایک تھپڑ
لگا کر دماغ درست کر دے۔وہ تو صرف اپنی فیملی کو
مطمئن کرنے کی غرض سے ایک خوش باش کپل کی طرح ہنی مون پر جانا چاہ رہا تھا۔۔۔ مگر اتنی اہمیت
پا کر حیات عبدالرحمٰن کا دماغ شائد ساتویں پر پہنچ
چکا تھا۔۔۔۔۔اس کے اعصاب چٹخنے لگے تھے۔۔وہ بار بار
محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنی عزت و نفس انا
اور خود داری کا قتل کر کے اسکی طرف بڑھتا تھا۔
میری طرف سے پھاڑ کر ڈسٹ بن میں ڈال دیجئے یا
کسی گرل فرینڈ کو ساتھ لے کر چلے جائیں۔۔آپکی فیلڈ
میں تو ویسے بھی عام سی بات ہے یہ۔۔۔گھر سجانے کے
لئیے ایک بیوی اور دل بہلانے کیلئے گرل فرینڈ۔۔اس نے
خوب چبا چبا کر کہا۔۔گرل فرینڈ سے یاد آیا۔آپکی ایکس گرل فرینڈ کی موت کا بہت دکھ ہوا تھا۔۔۔
اسکے لہجے میں افسوس کے بجائے طنز کی آمیزش شامل تھی۔۔۔۔۔
کچھ سخت بولتے بولتے وہ اپنے لب بھینچ گیا۔۔۔گہری
سانس لے کر کچھ دیر خاموش رہا جیسے اندر اٹھتے
اشتعال کو دبا رہا ہو۔۔۔مثال شیرانی کے حوالے سے طنز
کو اگنور کیے وہ تحمل بھرے انداز میں گویا ہوا۔۔۔۔
دیکھو حیا میں مانتا ہوں میرا ساتھ قبول کر کے میری
ذات پر بہت بڑا احسان کیا ہے تم نے۔اب اس احسان کو
کچھ حد تک تو نبھاؤ۔۔بیڈروم میں تم جیسا رویہ رکھو
مجھے اعتراض نہیں ہوگا۔۔۔۔ لیکن اس بیڈروم سے باہر اپنی اور میری فیملی کی خوشی کی خاطر ایک ہیپی کپل نظر آنے میں میرا ساتھ دو آئی ریکوئسٹ یو۔۔۔۔
ماحر کا انداز بہت سادہ اور مصالحت آمیز تھا اس نے اسکا ہاتھ تھامنا چاہا مگر حیات نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا۔۔۔۔
میں نے کہا نا مجھ سے مزید کوئی توقعات مت رکھیے میری فیملی میرا مسئلہ ہے اور آپکی فیملی سے مجھے کوئی سروکار نہیں اور نا میری ایسی کوئی مجبوری ہے کہ آپکے گھر والوں کے سامنے خود کو جھوٹ موٹ کا خوش ظاہر کروں۔۔۔۔ اس نے تلخ لہجے میں کہا
توہین کے احساس سے اسکا چہرہ سرخ ہو گیا۔۔۔
دیکھو حیا تم۔۔۔۔ماحر نے کچھ کہنا چاہا مگر حیات نے نہایت برہمی سے اسکی بات کاٹ دی۔۔۔
مجھے مزید اس ٹاپک پر کوئی بات نہیں کرنی۔۔اس کا انداز بے لچک تھا۔۔ماحر نے اپنی مٹھیاں بھینچ لیں۔۔تم
صرف ضد میں آ کر اپنے اور میرے لئیے مسائل پیدا کر رہی ہو میں تم سے دنیا دکھاوے کو تمہارا ساتھ مانگ رہا اپنے حقوق کا مطالبہ نہیں کر رہا تم سے جو تم اس
قدر بے لچک انداز دکھا رہی ہو۔۔۔ چاہ کر بھی وہ اپنے
غصے کو کنٹرول نہیں کر پایا تھا۔۔۔
حقوق فرائض کی بات مجھ سے بھول کر بھی مت کرنا
کیونکہ جس دن بھی آپ نے حقوق و فرائض کی بات کی میں اسی دن ہی طلاق لے لونگی۔۔۔۔ آپ جیسے بیڈ کریکٹر انسان کیساتھ فزیکل ریلیشن کا تصور کرتے ہی گھن آتی ہے مجھے۔۔۔۔ ناجانے کہاں کہاں منہ مارتے رہے
اسکا انداز کراہیت و حقارت بھرا تھا۔۔۔
وہ ساکت سا اسے دیکھنے لگا۔۔۔
پتہ نہیں ایسی کیا خطا ہو گئی تھی مجھ سے کہ اللّٰہ نے آپ جیسے انسان کے ساتھ میرا جوڑ بنایا۔۔۔۔ میرے جیسا صاف ستھرے کردار والے انسان کا ساتھ کیوں نہیں لکھا میری قسمت میں۔۔۔۔۔ کبھی کبھی دل کرتا ہے جان سے مار دوں تمہیں۔۔۔نا مجھے اس دن لے کر جاتے نا میرا معصوم بھائی تمہارے ان وحشی ملازموں کی سفاکیت کا شکار ہوتا۔۔میری کیوں زندگی برباد کی اپنے جیسے کردار والی کسی لڑکی سے شادی کرتے۔۔۔۔۔کبھی
خوش نہیں رہو گے میرے ساتھ بہت غلط انتخاب کیا
ہے تم سے۔۔وہ اسے آپ کے بجائے تم کہہ کر مخاطب کرتی ہذیانی انداز میں چیخنے چلانے لگی۔۔۔ اگر روم ساؤنڈ پروف نا ہوتا تو اسکے چیخنے کی آواز لازماً باہر جاتی۔۔۔
شٹ اپ۔۔۔۔۔وہ اسکے الفاظ پر ایک دم آپے سے باہر ہوا
تھا۔۔۔اپنے اٹھتے ہاتھ کو اس نے روکا تھا۔۔۔ حیات رونا
چیخنا چھوڑ کر ساکت سی اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔
اگر آئندہ مجھے بدکردار کہا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔تم ایک انتہائی زبان دراز لڑکی ہو۔۔دماغ خراب تھا
میرا جو تم سے بات کرنے چلا آیا۔۔۔۔ اتنا یاد رکھنا جیسا بھی ہوں اب تمہیں ساری زندگی رہنا تو میرے ساتھ ہی
پڑے گا مجھ سے جان تم کبھی نہیں چھڑوا پاؤ گی تم
اگر تم یہ دعا کرتی ہو کہ میں مر جاؤں اور تمہاری جان
چھوٹ جائے مجھ سے تو بالکل بے سود ہے یہ۔۔۔ کیونکہ
اگر مروں گا تو تمہیں ساتھ لے کر ہی مروں گا۔میں بہت
فئیر ہو کر تمہاری طرف بڑھا ہوں دوبارہ مجھے بدکردار
ہونے کا طعنہ مت دینا۔۔۔۔ نا گھن والا لفظ اگین یوز کرنا کہیں ایسا نا ہو میں طیش میں آ کر تمہاری مرضی کے
خلاف تم سے تعلق جوڑ لوں پھر اسکے بعد تم مجھ سے
گھن کھانے کے قابل ہی نہیں رہوگی۔۔۔تمہیں وارننگ دے
رہا ہوں اگر اچھا بی ہیو نہیں کر سکتی تو اتنا برا بھی مت کرو ورنہ مجھے چینج ہونے میں ٹائم نہیں لگے گا۔۔
ساری دنیا جانتی ہے میرا غصہ بہت خراب ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔
تمہاری ہر زیادتی کو میں تحمل سے برداشت کر رہا ہوں
اسکا یہ مطلب نہیں تم مجھے بالکل بے بس سمجھو۔۔
اور ایک مشورہ دوں گا۔ خود کو نیک پاک برتر سمجھنا اپنے کردار پر غرور کرنا چھوڑ دو۔۔۔کیونکہ غرور انسان
کو لے ڈوبتا ہے شیطان نے بھی اپنی عبادت پر غرور کر
کے خود کو برتر سمجھا تھا نتیجہ کیا ہوا۔۔۔۔۔۔ رسوا ہو کرجنت سے نکالا گیا۔۔۔۔۔۔ کہیں ایسا نا ہو کردار کا غرور
تمہیں بھی لے ڈوبے ۔۔۔ ماحر کے اندر کا آتش فشاں ایک دم پھٹ پڑا تھا۔۔۔۔ انتہائی غصے و تلخی سے کہہ کر وہ اٹھا اور ٹیرس کی طرف کھلنے والا دروازہ کھول کر باہر آ گیا۔حیات عبدالرحمٰن کے منہ سے اپنے متعلق اتنے تضحیک بھرے الفاظ اسکا فشار خون بڑھا گئے تھے۔۔۔نکاح کے بعد پہلی دفعہ اس نے اس سے اتنے تلخ لہجے میں بات کی تھی۔۔۔ اسکے اندر رہ رہ کر اس کیلئے غم و غصے کے ابال اٹھ رہے تھے۔۔ وہ مزاجاً غصے کا تیز تھا
مگر حیات کے لئیے وہ اپنے غصےکو کنٹرول کر جایا کرتا تھا۔۔۔لیکن آج نہیں کر پایا تھا کیونکہ ایک وجہ یہ تھی کہ اب اسکا ضمیر مطمئن تھا کہ عبدالرحمان علی کا
خون اسکی گردن پر نہیں تھا۔۔ ورنہ پہلے وہ ضمیر کی عدالت میں شرمندہ رہتا تھا تبھی اسکی ہر کڑوی نفرت انگیز بات کو اسکا حق سمجھ کر صبر سے پی جاتا تھا۔
رات کی رانی دھیرے دھیرے اپنی منازل طے کر رہی تھی۔۔۔اوپر آسمان پر چاند بھی اتنا ہی مغرور اور سحر انگیز نظر آ رہا تھا جتنی حیات کے اندر اکڑ و خودسری تھی۔۔پہلے دل سے حاصل کرنے کی خوشی میں خوش تھا۔لیکن اب اسکی تلخ باتیں سرد رویہ اور کھٹور انداز محبت سے لبریز دل پر چرکے لگا رہا تھا۔۔ دوسری طرف دل یہ بھی تسلی دے رہا تھا۔۔۔ اگر وہ مجھ سے محبت نہیں کرتی تو نا کرے۔۔۔۔۔ میری چاہت کا دم نہیں بھرتی تو نا بھرے۔۔۔۔۔ میرے لئیے یہی اطمینان کافی ہے کہ وہ میری ہے میرے گھر میرے بیڈروم میں ہے۔مجھے اس کا ساتھ چاہیے بس۔ابھی ٹائم ہی کتنا ہوا ہے ساتھ رہے گی تو عادت بھی پڑ جائے گی میری۔۔۔۔۔۔پھر کبھی نا کبھی
تو محبت کرے گی مجھ سے۔وہ گویا خود کو تسلی دے
رہا تھا۔۔۔۔انسان جب ہر قسم کی صورتحال سے نپٹنے کا
سوچ لیتا ہے تو پھر تمام تفکرات سے نجات حاصل کر کے خود کو وقت کے دھارے پر چھوڑ دیتا ہے۔۔۔۔ اس نے بھی خود کو وقت کے دھارے پر چھوڑ دیا تھا۔۔۔حالات
کے سپرد کر دیا تھا۔اب وہ پرسکون سے انداز میں کھڑا
چاندنی میں نہانی رات کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
تم پھپھو بننے والی ہو۔۔۔۔۔ چائے میں شوگر مکس کرتی
فضا شرمائے لہجے میں پیزا کھاتی حیات سے مخاطب ہوئی۔۔۔۔
رئیلی۔۔۔؟؟ اسکی بلیو آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔۔
اسے از حد مسرت ہوئی تھی سن کر۔۔۔۔ چہرہ یکدم ہی فریش اور دلکش ہو گیا تھا۔۔وہ آج صبح ہی ڈرائیور کے
ہی فارس بھائی اور فضا سے ملنے آئی تھی۔ماحر غائب تھا اس نے فائزہ سکندر کو انفارم کیا تھا۔۔اس رات والے
جھگڑے کے بعد وہ اس سے مخاطب نہیں ہوا تھا۔۔۔
ہاں کل ہی ڈاکٹر نرما سے تصدیق کروائی۔۔۔
اس نے شرمگیں مسکراہٹ سے جواب دیا۔۔۔
بہت بہت مبارک ہو بھابھی۔۔۔۔وہ بے پناہ خوش ہوئی
تھینک یو ڈئیر نند صاحبہ۔۔۔۔وہ شرارت سے بولی
فارس بھائی کو پتہ ہے۔۔۔۔؟؟
ہوں۔۔۔۔۔فضا نے مسکرا کر سر ہلایا
واؤ کتنا مزا آئے گا جب میرا بھتیجا یا بھتیجی ہوگی
میں اس سے پیار کروں گی اسکے ساتھ کھیلوں گی وہ
توتلی زبان میں مجھ سے میٹھی میٹھی باتیں کرے گا
وہ تصور کرتے ہوئے سرشاری سے مسکرائی۔۔۔
ہاں بس دوسروں کے بچوں سے کھیلتی رہنا۔۔اپنے بچوں کو اس دنیا میں لانے کا مت سوچنا۔۔۔۔ اسی وقت لاؤنج کے کھلے دروازے سے حورین اپنی ڈیڑھ سالہ بیٹی زمل کو لئیے اندر داخل ہوئی۔۔۔
آ گئی تم میں کب سے ویٹ کر رہی تھی اپنی کیوٹ سی بھانجی کا۔اس نے آگے بڑھ کر مسکراتے ہوئے اسکی بیٹی کو اس سے لے لیا۔۔۔۔
تمہیں پتہ ہے حوری میں پھپھو بننے والی ہوں۔۔زمل
کے پھولے گال چومتے وہ خوشی سے بھرپور کھنکتے ہوئے لہجے میں حورین سے مخاطب ہوئی۔۔۔۔
ارے واہ سچی۔۔بہت بہت مبارک ہو بھابھی۔حورین نے پہلے بے یقینی سے اسکی طرف دیکھا پھر فضا بھابھی کو مسکرا کر مبارک دی۔۔
خیر مبارک۔۔ فضا مسکرائی۔تم لوگ باتیں کرو میں چائے
بنا لاتی ہوں یہ چائے تو ٹھنڈی ہو گئی ہے۔۔۔
وہ اٹھتے ہوئےبولی۔۔
تم آج رات یہیں رکو گی میرے پاس۔۔۔کیونکہ اگلے ہفتے
تم نے واپس امریکہ چلے جانا ہے شایان بھائی سے میں خود بات کر لوں گی اوکے۔۔۔۔ حیات نے زمل کو اوپر کی طرف اچھالتے ہوئے حکم دینے والے انداز میں حورین سے کہا۔۔
ہاں بابا رکوں گی شایان سے میں اجازت لے آئی ہوں”
وہ ہنس کر بولی۔۔۔
ویسے یہ تم لوگ لندن سے امریکہ کب شفٹ ہوئے۔؟؟ اچانک یاد آنے حیات نے پوچھا۔۔۔
ایک سال پہلے۔۔۔۔۔ شایان نے وہاں کی ایک کنسٹرکشن کمپنی میں اپلائی کیا تھا جاب مل گئی تھی تو ہم چلے گئے۔۔باتوں کے دوران حورین کی بیٹی سو گئی تو اسے
سلا کر دو دونوں کچن میں آ گئیں۔۔۔پھر رات کا ڈنر ان
دونوں نے فضا کے بہت منع کرنے کے باوجود تیار کیا۔۔
ڈنر کے ٹائم فارس بھائی بھی آ گئے۔۔اس نے اور حورین نے مبارکباد دی۔۔۔۔۔رات ایک بجے تک وہ گپ شپ کرتی رہی تھیں۔۔۔حورین اسکی ساتھ اسکے کمرے میں تھی
کیا بات ہے حیا تم سو کیوں نہیں رہی ماحر بھائی کے بنا نیند نہیں آ رہی کیا۔۔؟؟ رات کے ڈھائی بجے جب وہ زمل کے رونے پر اسے فیڈر دینے کیلئے اٹھی تو قریب سوئی حیات کو بے چینی سے کروٹیں بدلتا دیکھ کر
کچھ تشویش اور کچھ شرارت سے پوچھا۔۔۔
بکو مت مجھے ویسے ہی نیند نہیں آ رہی۔۔۔اس نے ناراضگی سے کہا تھا لہجہ بھی بھیگا ہوا تھا۔۔
تم رو رہی ہو۔۔۔؟؟ زمل کے منہ میں فیڈر دیتی حورین نے چونکی۔۔اسکا چہرہ دوسری طرف تھا اوپر سے نائٹ بلب کی وجہ سے وہ ٹھیک سے دیکھ نہیں پائی پائی
تھی اسکا چہرہ۔۔۔
حیات نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔
حورین نے ایک ہاتھ سے فیڈر پکڑا ہوا تھا دوسرا ہاتھ
وہ حیات کے کندھے پر رکھتی ذرا سا اسکی طرف جھکی اور اسکا چہرہ دیکھنے کی کوشش کی۔حیات
نے کوئی رسپونس نہیں دیا۔۔۔۔۔ زمل فیڈر ختم کر کے دوبارہ سو چکی تھی۔ تشویش میں مبتلا حورین نے اٹھ کر لائٹ آن کی اور اسکے پاس بیٹھتے ہوئے اسے بھی اٹھا کر بیٹھا دیا۔۔۔
حیا کیا ہوا۔۔۔بتاؤ پلیز مجھے بہت ٹینشن ہو رہی ہے۔۔
حورین کا اندازہ درست تھا وہ واقعی رو رہی تھی۔۔
مجھے اس شخص کو قبول نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔بھائی
کہتے بھی رہے کہ وہ اس سے ڈیورس دلوا دیں گے مگر
میں نے غلطی کر دی۔۔۔وہ آنسو بہاتے ہوئے بولی
تم ایسا کیوں کہہ رہی ہو۔۔خدانخواستہ ماحر بھائی کا
رویہ تم سے برا تو نہیں۔۔۔۔؟؟
نہیں برا نہیں۔۔عجیب انسان ہے مجھے زچ کر دیتا ہے
رومینٹک ڈائیلاگز مار کر غصہ دلاتا ہے مجھے۔۔۔۔۔ اور”
وہ اس رات کے جھگڑے کا بتاتے وہ دانستہ چپ ہو گئی
حورین کھل کھلا کر ہنس پڑی۔۔۔
یعنی کہ اپنا ہیرو۔۔۔۔ سوری تمہارا ہیرو رئیل لائف میں
بھی رومینٹک ہے۔۔۔۔ وہ مسکرائی جبکہ حیات جھینپ گئی۔۔۔۔بکو مت۔۔اس نے تکیہ اٹھا کر اسکی طرف اچھالا
اور منہ بناتے ہوئے لیٹ گئی۔۔۔
اچھا یہ بتاؤ کہتے کیا ہیں ہیرو صاحب۔۔۔حورین اسکے
قریب کھسک آئی اور اشتیاق و تجسس بھرے لہجے میں استفسار کرنے لگی۔۔
ہنی مون پر چلنے کا کہتا ہے۔۔۔اس نے یوں رندھے ہوئے لہجے میں کہا گویا کسی غلط جگہ پر چلنے کا مطالبہ کرتا ہو
واؤ سچی۔۔۔۔اسکا واؤ بھی چیخ سے مشابہ تھا۔۔۔
آہستہ۔۔۔۔حیات نے اسے ٹوکا تو وہ مزید پرجوش ہوئی
واؤ امیزنگ یار تم کتنی لکی ہو۔۔۔۔۔۔ویسے کونسی جگہ
پر جاؤ گے۔۔۔۔؟؟اسکے لہجے میں رشک و اشتیاق تھا۔۔۔
حیات نے ناراضگی سے اسکی طرف دیکھا۔۔۔
وہ اسکے ساتھ جب بھی اپنی ٹینشن شئیر کرنے کی کوشش کرتی آگے سے وہ اسکی قسمت پر رشک کرنے بیٹھ جاتی۔۔۔۔
جہنم میں۔۔۔۔۔ خفگی سے کہہ کر وہ اسکی طرف سے کروٹ بدل گئی۔۔
ویسے یہ بھی اچھی جگہ ہے۔۔۔۔۔حورین ہنسی تھی
مرو تم۔۔۔۔۔وہ بڑبڑاتے ہوئے آنکھیں بند کر گئی۔۔۔![]()
حیات کے انکار کو خاطر میں نا لاتے ہوئے وہ اسے اپنے ساتھ ہنی مون پر لے جانے کا پکا ارادہ کر چکا تھا۔سو
اسکا اور اپنا بیگ بھی تیار کر لیا جبکہ وہ ہنی مون پر جانے سے انکار کر کے پچھلے دو دن سے اپنے بھائی کے گھر تھی۔۔۔ماحر نے سب کو یہی کہا کہ وہ روانگی سے پہلے اپنی فیملی سے ملنے گئی ہے۔۔تیسرے دن وہ اسے
لینے چلا گیا تھا۔۔حیات کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ اسے زبردستی ہنی مون پر لے جائے گا۔۔۔اس
کے خیال میں تو اسکے انکار کے ساتھ یہ معاملہ ختم
ہو گیا تھا مگر یہ اسکی غلط فہمی تھی ماحر نے اسے
اپنے بھائی کے گھر جانے سے اس لئیے نہیں روکا تھا تاکہ اسکے پیچھے وہ اسکا بیگ تیار کر سکے اور پھر
وہاں سے اسے لے کر ائیر پورٹ جائے اور وہیں انفارم کرے۔لہذا طے شدہ پلان کے تحت اسکے بھائی کے گھر سے اسے لے کر وہ سیدھا اپنے کلفٹن والے فلیٹ پر لے آیا تھا۔وہاں رکھے پہلے سے تیار شدہ بیگز دیکھ کر اسے اندازہ ہوا کہ وہ اسے کہیں لے جانے والا تھا۔ پھر اس نے
خود ہی بتا دیا کہ وہ دونوں ہنی مون کیلئے پیرس جا رہے ہیں اور یہ اسکی مام کا حکم ہے یہ جسے وہ کسی صورت رد نہیں کر سکتا۔۔۔ چھے بجے انکی فلائٹ تھی چار بج چکے تھے۔۔۔ پچھلے ایک گھنٹے سے وہ اسے قائل کرنے کی کوششوں میں مصروف تھا۔۔۔مگر حیات اپنی ضد سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھی۔۔اسکا کہنا تھا وہ کسی صورت اسکے ساتھ ہنی مون کیلئے نہیں جائے گی۔ نرم و ملائم صوفے پر گھٹنوں پر بازوؤں کا حصار بنائے بیٹھی وہ مسلسل آنسو بہا رہی تھی۔۔۔۔
دیکھو حیا بس بہت ہو گیا۔۔۔ میں تھک گیا ہوں تمہیں سمجھا سمجھا کر۔۔۔اٹھو جلدی سے فریش ہو جاؤ کچھ
دیر میں ہمیں ائیر پورٹ کیلئے نکلنا ہے۔۔۔۔وہ اسکی اس بےجا ضد پر چڑ گیا تھا سو قدرے رعب والے انداز میں بولا۔۔۔۔۔۔
تو کس نے کہا ہے کہ مجھے سمجھائیں۔۔۔ میں نے جب ایک بار کہہ دیا ہے کہ نہیں جاؤں گی ہنی مون پر۔۔۔۔تو مطلب نہیں جاؤں گی۔۔۔آپکو سمجھ کیوں نہیں آتا میرا انکار۔۔۔لہجہ ہنوز ضدی تھا۔۔ماحر کو تپ چڑھ گئی تھی اس کی اس ہٹ دھرمی پر۔۔۔دھپ سے وہ اسکے قریب آ کر بیٹھ گیا۔۔دیکھو اگر تم اپنی مرضی سے نہیں چلو گی تو لے کر تو میں نے تمہیں لازمی جانا ہے۔۔۔میرا اپنا پرائیویٹ جیٹ ہے۔۔۔مجھے کوئی مسئلہ نہیں یہاں سے اٹھا کر تمہیں گاڑی میں ڈالنا ہے اور پھر گاڑی سے اٹھا کر جہاز میں ڈالنا۔میری زبردستی پر اگر تم شور مچانا چاہو گی تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ میرا جہاز میرے اپنے ذاتی ائیرپورٹ پر کھڑا ہے۔۔۔۔وہاں پر میرے اپنے عملے کے سوا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔
سوچ لو تم۔۔۔وہ مطمئن انداز میں کہتا صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔جو ہکا بکا سی اسے
دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
پلین تک تو بات بالکل صحیح تھی کیونکہ ایک چھوٹا سا جہاز واقعی اسکے پاس تھا مگر اسے وہ کبھی کبھار
اور صرف اندرون ملک پرواز کیلئے استعمال کرتا تھا۔۔۔۔حیات پر پریشر ڈالنے کیلئے اس نے جہاز کے ساتھ ساتھ ائیرپورٹ کا بھی شوشہ چھوڑا۔۔۔نتیجتاً وہ ذرا دھیمی پڑ گئی۔۔۔
اب بتاؤ سویٹ ہارٹ۔۔۔ اپنی مرضی سے چلو گی یا اٹھا کر جہاز تک لے جاؤں۔۔۔۔؟؟
دھیمے مدھم لہجے میں اس نے جھک کر سرگوشی کی تھی۔۔حیات سٹپٹا کر رہ گئی بوکھلاہٹ میں خود سے دور کرنے کی کوشش کرتے اسکے بے حد نزدیک آ گئی تھی۔۔۔۔۔۔ اس قربت پر اسکی ریڑھ کی ہڈی بھی سنسنا اٹھی تھی۔۔ ماحر نے بڑی محبت سے اسکا ماتھا چوم لیا تھا۔۔وہ ہل بھی نا سکی اسکی جرات پر حیران تکتی رہ گئی۔۔۔۔۔
چلیں سویٹ ہارٹ۔۔۔وہ اسکی جھیل جیسی گہری نیلی
آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔۔۔۔۔ حیات نے
گڑبڑا کر نگاہیں جھکا لی تھیں۔۔۔۔ پھر ایک جھٹکے سے اٹھ کر واش روم میں غائب ہو گئی۔۔۔وہ لبوں پر مدھم
مسکان لئیے واش روم کے بند دروازے کو دیکھ رہا تھا۔۔
