Meri Hayat By Zarish Hussain Readelle50271 Meri Hayat (Episode 43)
Rate this Novel
Meri Hayat (Episode 43)
Meri Hayat By Zarish Hussain
دن ڈھل رہا تھا۔سرمئی و گلابی شام کا آنچل دھیرے دھیرے پھسل کر ہلکی ہلکی تاریکی کی چادر اوڑھنے لگا تھا۔۔برآمدے میں لکڑی کے تخت پر بیٹھی دال صاف کرتی اماں نے کوئی تیسری مرتبہ کمرے کی طرف منہ کر کے آواز لگائی۔۔۔۔
ثمرہ۔۔او ثمرہ۔۔کب تک کمرے میں گھسی رہو گی۔رات ہونے والی ہے تمہارے ابا بھی دفتر سے آنے والے ہیں۔کھانا پکانا ہے۔ ذرا باورچی خانے کی بھی خبر لے لو۔۔
مگر پچھلے تین گھنٹوں سے کمرے میں گھسی لیب ٹاپ پر فلمیں دیکھتی ثمرہ کے کان پر جوں تک نا رینگی۔وہ بری طرح فلم میں کھوئی ہوئی تھی جب اماں اپنی بات کا کوئی اثر نا ہوتا دیکھ کر کڑے تیور لئیے کمرے میں داخل ہوئی۔۔
کانوں میں کپا(روئی)ٹھونسے بیٹھی ہو کیا۔۔کب سے آوازیں دے رہی ہوں۔۔آتے ہی اس موئے کو گود میں لے کے بیٹھ جاتی ہو۔۔سارا دن بوڑھی ماں اکیلی لگی رہتی ہے کچھ تو حیا کر لیا کر۔۔۔سکول میں بھی استانی بن کر سارا دن کرسی پر بیٹھی رہتی ہے۔گھر میں آ کر بھی پلنگ توڑتی رہتی ہے۔۔نا یہ بتا۔۔۔۔ کیا مل جاتا ہے تجھے
یہ منحوس مارے ڈرامے دیکھ کر۔ان کو تو پیسے ملتے ہیں جو اس میں کام کرتے ہیں۔۔۔تجھے کیا ملتا ہے جو تو اپنا وقت برباد کرتی ہے۔اماں کا لیکچر شروع ہو چکا تھا۔ثمرہ نے شدید بدمزہ ہو کر لیب ٹاپ بند کیا۔۔کیا ہے اماں اتنا اچھا رومینٹک سین آ رہا تھا ماحر کا وہ تو سکون سے دیکھنے دیتی۔۔وہ منہ کے برے برے زاویے بناتے ہوئے بولی۔۔۔
ٹھہر جا میں دکھاتی ہوں تجھے روماٹک سین۔۔۔انہوں نے چپل کی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔ثمرہ اچھل کر کھڑی ہو گئی۔۔
کیا کر رہی ہو اماں میں نے کیا کیا ہے۔۔۔۔۔۔؟اس نے منہ بسور کر کہا۔اماں نے گھور کر اسے دیکھا اور ہاتھ میں پکڑا چپل نیچے رکھا۔۔
اور یہ تیرا باپ مہار کون ہے۔۔۔؟؟انہیں اچانک یاد آیا کہ کچھ سیکنڈ پہلے ثمرہ نے کسی لڑکے کا نام لیا تھا۔۔۔
مہار نہیں اماں ماحر۔۔۔۔ماحر خان۔۔۔۔۔میرا باپ نہیں۔۔
آپ کا داماد۔۔۔آپکی بیٹی کے سپنوں کا ہیرو جو روز رات کو آپکی بیٹی کے خوابوں میں آتا ہے۔۔۔۔اف اتنا ہینڈسم ہے اماں کہ کیا بتاؤں۔۔
مجھے تو اس سے شدید قسم کا عشق ہو گیا ہے۔۔اماں کے متوقع اٹیک کے ڈر سے وہ تیز تیز بولتی ان کے قریب سے گزر کر چھپاک سے باہر نکل گئی۔۔۔
ٹھہر جا کمبخت نکالتی ہوں میں تیری عشق معشوقی
انہوں نے فوراً چپل اٹھا کر باہر نکلتی ثمرہ کی طرف
پھینکا۔۔جو اسے تو نہیں لگا البتہ اندر داخل ہوتے فہد کے سیدھا منہ پر لگا۔۔۔۔
آہہہہہہ۔۔۔۔وہ بیچارہ بلبلا کر رہ گیا تھا۔۔باٹے کا بھاری چپل تھا اوپر سے بہت زور سے ہونٹوں اور ناک پر لگا تھا۔۔
کیا کرتی ہیں چچی۔۔اٹیک ثمرہ پر ہوتا ہے لیکن زد میں کبھی چچا تو کبھی میں آ جاتا ہوں۔۔۔۔۔وہ بے چارگی سے کہہ رہا تھا۔۔۔
اماں کھیسا کر اسے دیکھنے لگیں۔۔صرف دیورانی کا بیٹا نہیں تھا بلکہ ہونے والا داماد بھی تھا۔۔۔
ارے بیٹا زیادہ تو نہیں لگا۔۔۔۔۔۔۔ پھینکا تو میں نے اس کمبخت کی طرف تھا۔۔۔وہ آگے بڑھ کر اسکے ماتھے اور ناک کو چھوتے ہوئے شرمندگی سے بولیں
ارے نہیں چچی کوئی بات نہیں۔۔۔زیادہ نہیں لگا۔۔اس نے ذرا سا مسکرا کر تسلی دی۔۔
ویسے آپ نے ثمرہ پر حملہ کیا کیوں تھا۔۔۔؟؟
ارے بیٹا کیا بتاؤں سکول سے آتے ہی اس منحوس مارے چھوٹے ٹی وی کو گود میں لے کے بیٹھ جاتی ہے
مجال ہے جو ذرا گھر کے کام کاج میں ماں اور چچی کا ہاتھ بٹا لے اوپر سے بول کے گئی کہ کسی ٹی وی والے سے عشق معشوقی لڑا رہی ہے۔۔وہ غصے سے بتانے لگیں۔۔۔
صرف فین ہے اس ٹی وی والے کی۔ کوشش کے باوجود وہ خود کو لفظ عشق معشوقی پر کھلکھلانے سے نا روک سکا۔۔۔۔
تو بھی ہنس رہا ہے اس کے کارناموں پر۔۔۔ہاں ہاں ہنس اس کے بگاڑنے میں سارا ہاتھ تیرا اور تیرے چچا کا ہی تو ہے۔۔کیا ضرورت تھی اس کو وہ مویا کمپیوٹر لے کر دینے کی۔۔۔سارا دن اس پر بیٹھ کر بس بے حیائی والے ڈرامے دیکھتی رہتی ہے۔۔۔۔۔تم دونوں چچا بھتیجے نے بگاڑ کر رکھ دیا ہے اس لڑکی کو۔۔۔۔اگلے گھر جا کر ناک کٹوائے گی میرا۔۔داماد والا رشتہ دماغ سے نکل گیا اور اب ان کی توپوں کا رخ بیچارے فہد کی طرف ہو گیا تھا۔۔۔۔وہ کھسیا کر سر کھجانے لگا۔۔
ستون کی پیچھے چھپ کر سنتی ثمرہ اماں کے فہد کی کلاس لینے پر ہنستی ہوئی کچن کی جانب بڑھ گئی۔۔
اسی وقت فرحت چچی اندر داخل ہوئیں کیا ہو گیا ہے بھابھی۔۔۔ثمرہ کو کہاں جانا ہے بھلا۔۔میرے گھر کا چاند ہے۔میرے ہی گھر میں روشن ہوگا۔۔۔وہ محبت سے بولیں تو اماں کے چہرے کے تنے ہوئے نقوش بھی ذرا ڈھیلے پڑے۔۔۔
وہ تو ٹھیک ہے فرحت مگر گھر داری تو آنی چاہیے نا۔۔
فکر نا کریں بھابھی بچی ہے سیکھ جائے گی۔۔۔انہوں نے مسکرا کر کہا تو اماں خاموش ہو گئیں۔۔۔
_________________________________________
لاہور کے ایک چھوٹے سے محلے میں رہنے والے شفقت حسین ایک دفتر میں کلرک کی نوکری کرتے تھے انکی ایک ہی بیٹی تھی ثمرہ۔۔۔۔۔شفقت کے بھائی لیاقت کا بہت سال پہلے انتقال ہو گیا تھا۔۔۔۔انکی بیوی فرحت اور بیٹا فہد بھی ان کے ساتھ رہتے تھے۔۔۔۔۔۔۔
چار کمروں برآمدے اور بیٹھک پر مشتمل یہ چھوٹا سا گھر دونوں بھائیوں کا مشترکہ تھا۔۔۔ایک کمرہ ابا اماں۔۔ایک چچی اور باقی دو ثمرہ اور فہد کے زیر استعمال تھے۔۔۔۔۔فہد اور ثمرہ کی منگنی بچپن سے ہی ہو چکی تھی وہ ثمرہ سے صرف ایک سال بڑا تھا۔۔۔۔دونوں میں بہت بنتی تھی۔فہد تعلیم مکمل کرنے کے بعد نوکری کی تلاش میں ادھر ادھر ہاتھ پاؤں مار رہا تھا۔۔
ثمرہ بی اے کرنے کے بعد ایک پرائیویٹ سکول میں پڑھا رہی تھی۔۔۔۔۔۔فلمیں ڈرامے دیکھنا اس کا فیورٹ مشغلہ تھا۔سکول سے واپس آنے کے بعد اس کا یہ کام شروع ہو جاتا تھا۔۔۔ایسے میں اماں کبھی ہاتھ سے تو کبھی زبان سے خاطر تواضع کر کے اسے گھر کے کام پر لگایا کرتی تھیں۔مگر ایک کام کرنے کے بعد وہ دوسرے کام کو ہرگز ہاتھ نا لگاتی اور لیب ٹاپ لے کر بیٹھ جاتی۔یہ سیکنڈ ہینڈ لیب ٹاپ ایک سال پہلے فہد نے اپنی پاکٹ منی سے پیسے بچا کر دلایا تھا۔۔۔نوکری نا ہونے کے باوجود بھی وہ اپنی پاکٹ منی سے اس کو نیٹ پیکج کروا دیتا تھا۔۔جس پر وہ مزے سے فلمیں اور ڈرامے دیکھا کرتی تھی۔فلمیں دیکھ دیکھ کر اپنی لائف اسے شوبز کی رنگین دکھنے والی دنیا کے مقابلے میں بہت پھیکی بے رونق اور بے رنگ لگتی تھی۔۔اسی وجہ سے اسے شوبز میں کام کرنے کا شوق تھا۔اس کی خواہش تھی کہ وہ سکول ٹیچر کے بجائے ایک فلمی ہیروئن ہوتی۔۔۔مہنگے ملبوسات۔۔۔مہنگی کاسمیٹکس شوٹنگز اور گھومنے پھرنے کیلئے کبھی ایک ملک تو کبھی دوسرے ملک جاتی۔۔ماحر خان جیسے سپرسٹار کے ساتھ دوستی ہوتی مگر یہ سب وہ خیالوں میں سوچا کرتی تھی۔۔حقیقت میں ایسا کوئی خواب پورا ہونے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں تھا۔۔سانولے رنگ اور عام سے نقوش کی مالک ہونے کی وجہ سے وہ اپنی ان خواہشوں پر آہ بھر کر رہ جاتی۔۔پوری فلم انڈسٹری میں صرف ماحر کی وہ کریزی فین تھی۔۔
فہد بھی اسکی ماحر خان کیلئے دیوانگی سے واقف تھا مگر اس نے کبھی ان لڑکوں کی طرح غصہ نہیں کیا تھا جو اپنی منگیتروں کے منہ سے کسی فلم سٹار کا نام تک برداشت نہیں کر پاتے۔۔۔۔۔۔ثمرہ اسے اس حوالے سے چھیڑا کرتی تھی۔۔۔
فہد تم کیسے لڑکے ہو تمہیں برا نہیں لگتا کہ تمہاری منگیتر کسی اور کے عشق میں پاگل ہے۔۔۔۔تمہارے سامنے اسکی تعریفیں کرتی رہتی ہے۔۔۔
جواب میں وہ ہنس کر کہتا۔۔۔
بھئی میں کوئی ایموشنل قسم کا منگیتر نہیں ہوں۔۔حقیقت پسند بندہ ہوں۔۔۔مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ بندہ تمہاری پہنچ سے بہت دور ہے۔۔۔تم اس کے عشق میں جتنی بھی پاگل ہوجاؤ اس کا ملنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔۔ماحر خان تمہارا خواب ہے۔جبکہ میں تمہاری حقیقت ہوں۔۔۔۔جتنا مرضی خواب دیکھو اس کے۔۔۔۔ نصیب تمہارے میرے ساتھ ہی پھوٹنے ہیں
پھر میں کیوں خوامخواہ میں اس بیچارے کو اپنا رقیب سمجھ کر غصہ کر کے اپنا خون جلاؤں۔۔
وہ مزے سے تپانے والے انداز میں کہتا۔۔۔۔
جواب میں وہ سر ہلاتے ہوئے آہیں بھرتی تو وہ کہتا
آہیں کیوں بھرتی ہو پاگل۔اسے تو پتہ بھی نہیں ہوگا کہ ایک بیوقوف سی ثمرہ نام کی لڑکی اس سے عشق کرتی ہے۔ ویسے اگر پتہ چل بھی جائے تو اسے کیا فرق پڑے گا بھلا۔۔اسکی تو ناجانے تم جیسی کتنی کریزی فینز ہونگی پھر وہ اتنا بڑا سپر سٹار تمہیں کیوں گھاس ڈالنے لگا۔۔
وہ مذاق اڑانے والے انداز میں کہتا تو وہ ناراض ہو جاتی۔۔۔۔۔ اڑا لو مذاق جتنا مرضی چاہے۔مگر دیکھنا تم ایک دن میں اس سے ضرور ملوں گی۔۔۔اسکے ساتھ بیٹھ کر کافی پیوں گی، سیلفی لوں گی۔۔۔۔۔پھر بس دیکھتے رہنا۔۔اور جلتے رہنا۔۔۔
وہ گردن اکڑا کر کہتی تو جواباً اسکا جاندار قہقہ گونجتا جو کہ سرا سر مذاق اڑانے والا ہی ہوتا تھا۔۔۔
کافی کیوں۔۔۔۔وہ پینے پلانے والا بندہ ہے۔۔۔اسکے ساتھ بیٹھ کر ڈرنک ہی کرنا۔۔۔۔وہ اسے زچ کرنے میں کوئی کسر نا چھوڑتا۔۔۔
جواباً ثمرہ کا موڈ بری طرح آف ہو جاتا اور وہ اس سے بول چال بند کر دیتی۔۔۔پھر فہد کو اسے گول کپے چاٹ وغیرہ کھلا کر منانا پڑتا۔۔۔۔۔۔۔جب موڈ ٹھیک ہوجاتا تو پھر سے اس کا سر کھانے لگتی فہد تم مجھے کراچی لے جاؤ نا پلیز۔۔۔۔۔۔ مجھے اتنا اشتیاق ہے اسے رئیل میں دیکھنے کا کہ بتا نہیں سکتی۔۔۔۔۔۔پلیز لے چلو نا کراچی یہاں تو وہ آتا نہیں۔۔اچھا نا۔۔۔وہ لاڈ بھرے انداز میں کہتی۔۔۔
تو اس کا دل رکھنے کو کہتا ہاں ڈئیر لے جاؤں گا۔۔۔تھوڑا ویٹ کر لو۔۔۔
ایسے میں اسکی حوصلہ آفزائی سے ثمرہ کی رٹ بھی مزید شدت اختیار کر جاتی۔۔۔۔
تو پھر فہد کو اسے سنجیدگی سے سمجھانا پڑتا۔۔۔دیکھو ثمرہ امی اور چچی تمہیں اتنی دور نہیں جانے دیں گی لیکن تم دل چھوٹا نا کرو۔۔۔میں نیٹ سے چیک کرتا رہوں گا۔۔جیسے ہی وہ اپنی کسی فلم کی شوٹنگ کیلئے لاہور آیا میں لازمی تمہیں ملوانے لے چلوں گا۔اس کے سمجھانے پر چپ ہو جاتی تھی کیونکہ اسے خود بھی اچھی طرح اندازہ تھا اماں اسے کبھی بھی اتنی دور نہیں جانے دیں گی وہ بھی فہد کے ساتھ۔۔
بیشک وہ قابل اعتبار تھا مگر تھا تو نامحرم۔۔۔ہاں شادی کے بعد وہ اسے لے جاتا تو پھر اماں اعتراض نا کر پاتیں لیکن شادی میں ابھی کافی ٹائم تھا۔۔سو وہ دل مسوس کر رہ جاتی۔۔۔مگر فہد اسے تسلی دیتا کہ وہ دل چھوٹا
نا کرے جیسے ہی وہ لاہور آیا۔۔وہ اسے لازمی اس کے درشن کرانے لے جائے گا۔۔ماحر کے بارے میں ہر نئی اور تازہ اپ ڈیٹ کیلئے اس نے انسٹا ،ٹوئٹر، ایف بی ہر جگہ فالو کر رکھا تھا اسے۔۔۔۔دن میں کئی کئی بار چیک کرتی رہتی تھی کہ اسکی کوئی شوٹنگ لاہور میں تو نہیں ہو رہی یا ہونے والی۔مگر زیادہ تر شوٹنگز وہ ملک سے باہر ہی کرتا تھا جو یہیں ہوتیں وہ بھی زیادہ تر نادرن ایریاز میں ہی ہوتی تھیں۔لاہور تو شاذو نادر ہی آتا ہوگا
کچن میں آٹا گوندھتے ہوئے وہ مسلسل اسی کے سپنوں میں ہی کھوئی ہوئی تھی جب ابا کی بارعب آواز کے ساتھ ایک دھیمی سی سلام کرتی آواز بھی اس کے کانوں میں پڑی۔۔آٹا گوندھتے اس کے ہاتھ رک گئے تھے
وعلیکم۔۔یہ کون ہے۔۔۔؟اماں نے سلام کا ادھورا جواب
دیتے ہوئے سوال کیا تو اسے یقین ہو گیا کہ اس کے کانوں کو وہم نہیں ہوا ہے۔ابا کے ساتھ کوئی اور بھی آیا ہے۔۔۔
مگر ہوگا کون۔۔۔۔؟؟
وہ متجس ہوتے ہوئے کچن کی کھڑکی کی طرف آئی جو صحن میں کھلتی تھی۔۔اس سے جھانکنے لگی۔۔۔
بلیک رنگ کی بڑی سی چادر اوڑھے جس میں سے اس کا گلابی رنگ کا سوٹ بھی نظر آ رہا تھا۔۔یقیناً وہ کوئی لڑکی تھی۔اس کا دبلا پتلا سراپا اور دراز قد اسے لڑکی ہی بتا رہا تھا۔۔ساتھ میں ایک بچہ بھی کھڑا تھا۔جس نے اس لڑکی کی چادر کے پلو کو مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا۔ثمرہ کو لڑکی کا چہرہ تو نظر نہیں آیا کیونکہ اس کی کچن کی کھڑکی کی طرف پشت تھی۔۔البتہ بچے کا
چہرہ اسے نظر آ رہا تھا۔۔سرخ و سفید رنگت گول مٹول پھولے پھولے گالوں والا وہ آٹھ نو سال کا بچہ ثمرہ کو بہت کیوٹ لگا۔اسے محسوس ہوا جیسے وہ کچھ سہما ہوا لگ رہا تھا۔۔اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے حراساں انداز میں اسکی اماں اور چچی کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
یہ حیا ہے۔۔حیا عبدالرحمان۔۔۔ابا نے اس کا یوں تعارف کروایا جیسے وہ کوئی مشہور و معروف ہستی ہو۔۔
کون حیا۔۔۔۔؟اماں نے تیز لہجے میں پوچھا۔ماتھے کے بل مزید گہرے ہوئے۔۔چچی بھی ناک پر انگلی رکھے پوسٹ مارٹم کرتی نگاہوں سے ان دونوں کو خوب جانچ رہی تھیں۔۔۔
ثمرہ کو ہنسی آتے آتے رہ گئی۔۔۔
بھائی صاحب کون ہیں یہ۔۔۔۔؟؟
فرحت چچی اپنی ناچتی تھرکتی آنکھ کی پتلیوں کو بمشکل ساکت کرتے ہوئے بولیں۔۔۔۔
ثمرہ۔۔۔ثمرہ بیٹا باہر آؤ۔۔۔۔۔انہوں نے اماں اور چچی کے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے بیٹی کو آواز دی۔۔۔ثمرہ نے آٹے سے لتھڑے ہاتھوں کو جلدی جلدی دھویا اور ڈوپٹے سے پونچھتے ہوئے باہر آئی۔۔
اسلام علیکم۔۔۔۔۔وہ جلدی سے ان کے پہلو میں جا کھڑی ہوئی۔۔۔۔۔۔اور سلام کرتے ہوئے اس لڑکی کو دیکھنے لگی جسے اسکی اماں اور چچی ابھی تک گھورے جا رہی تھیں سرخ و سفید دہکتے گال گلاب کی پنکھڑیوں سے مشابہ ہونٹ۔۔۔بڑی بڑی گہری نیلی آنکھیں۔۔نرم و نازک خوبصورت ہاتھ جن کو ایک دوسرے میں پیوست کیے وہ خاصی کنفیوژ سی کھڑی تھی۔۔۔چادر مضبوطی سے
پورے وجود کے گرد لپٹی ہوئی تھی۔۔وہ ستائش،رشک امیز نگاہوں سے اس لڑکی کو دیکھنے لگی۔کم از کم اس نے تو اتنی خوبصورت لڑکی اپنی زندگی میں یوں فیس ٹو فیس پہلی بار ہی دیکھی تھی۔۔۔۔۔شہزادیوں کے جیسی حسین و طرح دار حسن کی مالک۔۔۔۔مشرق و مغرب کے سنگم کا بہترین شاہکار۔۔۔بلاشبہ خدا نے حاصی فرصت سے بنایا تھا اسے۔۔ثمرہ کو لگ رہا تھا اللّٰہ نے سارا حسن جیسے صرف اس لڑکی کو ہی دے دیا تھا۔۔۔ یک ٹک وہ اسے دیکھے جا رہی تھی۔۔۔۔۔
لڑکی ہو کر میرا یہ حال ہو رہا ہے ناجانے اسے دیکھ کر لڑکوں کا کیا حال ہوتا ہوگا۔۔۔۔اس نے دل میں بے اختیار سوچا۔۔
ابا یہ کون ہیں۔۔۔؟؟اس نے خاصے اشتیاق سے سوال کیا
یہ حیا ہے۔۔۔اور آج سے تمہاری بہن ہے۔۔۔تمہیں ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے نا کہ تمہارا کوئی بھائی، بہن ہوتا۔۔تو لو دیکھو تمہارے لئیے ایک بہن اور ایک چھوٹا سا بھائی لے آیا ہوں۔۔۔انہوں نے مسکراتے ہوئے شگفتہ لہجے میں کہا۔۔
سچی ابا۔۔۔اماں کی گھوریوں سے بے نیاز وہ ایکسائیٹڈ سی ہو کر بولی تھی۔۔
ارے واہ چچا آپ تو چھپے رستم نکلے۔۔چچی سے چھپا کر شادی بھی کر لی اور دو بچے بھی ہو گئے۔۔کمال ہے۔۔فہد بھی انکی آواز سن کر باہر آ گیا اور آگے ہو کر ان کو دیکھنے لگا۔۔
واؤ امیزنگ۔۔۔۔اس نے زیر لب کہا ہونٹ تحسین کے انداز میں سکڑے تھے۔۔۔۔۔ثمرہ س اسکے چہرے کے تاثرات چھپے نا رہ سکے۔۔۔۔۔۔۔فوراً ہی اس نے فہد کو تنبہیی نگاہوں سے دیکھا۔۔
ٹھرکی کہیں کا۔۔وہ آہستہ سے بڑبڑائی مگر فہد کے تیز کانوں نے سن لیا۔۔۔۔
ارے بھئی تمہارے اڈاپٹڈ بہن بھائی کو دیکھ رہا ہوں کہ تمہاری طرح پیارے ہیں یا نہیں۔۔۔۔۔۔وہ شرارت سے مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔
ہاں ہاں پیارے ہیں۔۔بس تم نظر مت لگاؤ۔۔۔۔
حیات نے اپنی ناگواری چھپانے کیلئے فوراً سر جھکا
لیا اسے اس لڑکے کی نظریں اور بات دونوں بری لگی تھی۔۔۔
ویسے چچا جان بچے آپ کمال کے لائے ہیں۔۔۔لگتا ہے
جیسے کائنات کا سارا حسن ہی ان پر ختم ہو گیا۔میرا
مطلب ہے کتنا کیوٹ بچہ ہے نا۔۔۔۔۔۔۔ماں کی گھورتی نگاہوں کو محسوس کر کے فوراً بات کو بدلا تھا
ہیلو بیٹا کیسے ہو۔۔۔۔۔؟؟میں آپ کا بڑا بھائی ہوں۔۔۔شرارتی لہجے میں کہتے ہوئے اس نے مون کی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔حیات اس کا مفہوم اچھے سے سمجھ رہی تھی۔اسے پہلی نظر میں ہی وہ پسند نہیں آیا تھا۔۔
مگر کیا کرتی سخت مجبور تھی۔۔پناہ کیلیے ملے اس ٹھکانے کو ٹھکرا نہیں سکتی تھی۔۔
ہاں واقعی بڑا پیارا بچہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابا نے بھی مسکرا کر تائید کی۔۔۔۔
فہد اور ثمرہ آگے ہو کر مسکراتے ہوئے بچے سے ہاتھ ملانے لگے۔۔
آخر یہ دونوں ہیں کون۔۔۔۔؟؟کہاں سے لے آئے انہیں۔۔؟کب سے خاموش کھڑی اماں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو وہ چٹخ کر بولیں۔۔۔
شفقت صاحب نے کوئی جواب نا دیا۔۔وہ انہی بہن بھائیوں کی طرف ہی متوجہ رہے۔۔
بھائی صاحب۔۔۔بانو بھابھی کچھ پوچھ رہی ہیں آپ سے۔۔فرحت چچی کے انداز میں بھی ہلکی سے تلخی
آ گئی تھی۔۔۔
ثمرہ بیٹا انہیں اندر کمرے میں لے جاؤ۔۔ لمبے سفر سے آئے ہیں بہت تھکے ہوئے ہیں۔۔۔انہوں نے اماں اور فرحت چچی دونوں کی بات کو اہمیت دئیے بنا ثمرہ کو اشارہ کیا تو وہ فوراً آگے بڑھی۔۔
آئیے اندر چلیےمائی ڈئیر سسٹر اینڈ برادر۔۔۔۔۔ثمرہ نے خوش اخلاقی سے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کمرے
میں چلنے کیلئے اشارہ کیا۔۔۔۔
وہ ان دونوں بہن بھائیوں کو لے کر اندر کمرے کی طرف بڑھی تو فہد بھی چچا کے اشارے پر اسکا بیگ اٹھائے پیچھے چلا گیا۔۔۔
ارے میں کیا پوچھ رہی ہوں آپ سے۔۔جواب کیوں نہیں دے رہے۔۔۔کمرے کی طرف جاتے ابا کے پیچھے اماں بھی کڑے تیوروں سے بڑھیں۔۔۔فرحت چچی بھی ساتھ ہو لیں۔
بتاتا ہوں صبر کرو۔۔۔۔۔۔وہ ناگواری سے کہتے ہوئے واش روم میں چلے گئے۔۔۔پیچھے اماں غصے سے کھولتے ہوئے بڑبڑانے لگیں۔۔ناجانے کس کی اولاد کو اٹھا لائے ہیں۔فہد بھی بیگ رکھ کر تجسس کے ہاتھوں مجبور وہیں چلا آیا۔۔اسے بھی اس چادر والی حسینہ کے بارے میں جاننے کا اشتیاق تھا۔۔۔
کون ہونگے یہ لڑکی اور بچہ۔۔۔۔؟انہوں نے فرحت چچی کی طرف دیکھتے ہوئے پر سوچ انداز میں کہا۔۔۔
اللّٰہ جانے۔شائد بھائی صاحب کے کسی دوست یا جاننے والے کی رشتہ دار ہو۔ کمرے میں رکھے سنگل صوفے پر بیٹھتے ہوئے انہوں نے خیال ظاہر کیا۔۔۔بانو بیگم اٹھ کر بے قراری سے ٹہلنے لگیں۔۔۔اب جب تک شفقت صاحب واش روم سے آ کر انہیں بتا نا دیتے۔دونوں کی نا بے چینی ختم ہونی تھی اور نا انہوں نے یہاں سے کہیں ہلنا تھا۔۔
ویسے میں سوچ رہا ہوں یہ دونوں بہن بھائی چچا جان کی دوسری بیوی کے بچے بھی تو ہو سکتے ہیں۔صوفے کی ہتھی پر ٹکے فہد نے بانو بیگم کو جان بوجھ کر
ڈرانا چاہا۔۔۔
ہائے میرے اللّٰہ۔۔۔۔تم سچ کہہ رہے ہو بیٹا۔۔۔؟؟بانو بیگم
کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔۔۔
فضول مت بولو فہد۔۔۔فرحت چچی نے بیٹے کو گھورا
مذاق کر رہا تھا چچی۔۔۔آپ لوگ ٹینشن نا لیں۔۔۔۔چچا جان کو واش سے باہر تو آنے دیں پتہ چل جائے گا کہ وہ اپسرا۔۔۔ میرا مطلب ہے وہ لڑکی لڑکا کون ہیں۔۔۔پھسلتی ہوئی زبان کو اس نے فوراً قابو کیا۔۔۔۔
پھر جیسے ہی شفقت صاحب واش روم سے برآمد ہوئے۔اندیشوں وسوسوں میں گھری بانو نے بے قراری سے سوال کیا
اب بتا بھی دیں شفقت صاحب کہ کون ہیں وہ دونوں۔۔۔؟؟
یہ عورتیں بڑی بے صبری ہوتی ہیں۔۔۔۔بانو بیگم اور فرحت کے اضطراب بھرے سوالیہ چہروں کی طرف دیکھ کر وہ بڑبڑائے پھر گلہ پلنگ پر بیٹھتے ہوئے گلہ کھنکھار کر گویا ہوئے۔۔۔۔
یتیم بچی ہے بیچاری۔۔کراچی سے آئی ہے۔۔۔کچھ عرصہ پہلے باپ کا انتقال ہوا ہے۔۔کوئی کاروبار تھا باپ کا جو ان کے کاروباری دوست نے دھوکے سے ہتھیا لیا۔گھر سے
بھی بے گھر کر دیا۔۔۔اوپر سے بچی پر نیت بھی خراب ہو گئی تھی اس کی۔۔رشتہ دار کوئی تھا نہیں جو مدد کرتا۔۔تحفظ فراہم کرتا۔۔۔اس شیطان نے جینا حرام کیا ہوا تھا تو بھائی کو لے کے ٹرین پر بیٹھ گئی۔پنڈی اتری تو وہاں اسٹیشن پر کچھ غنڈے تنگ کرنے لگے ڈر کر بس میں بیٹھ گئی جو لاہور آ رہی تھی۔۔۔یہاں اڈے پر اتری۔۔میں کوچ میں سوار ہو رہا تھا۔۔۔دیکھا تو کچھ لفنگے تنگ کر رہے تھے۔۔میں نے انہیں ڈانٹ کر بھگایا
بیچارے دونوں بہن بھائی سہمے ہوئے تھے مجھے
ترس آ گیا اور گھر لے آیا۔۔۔
وہ ساری بات بتا کر خاموش ہو گئے۔ان کے چہرے پر حزن و دکھ کے گہرے بادل چھا گئے تھے۔۔
اس نے کہانی سنائی اور آپ نے یقین کر لیا۔۔بانو نے تیز لہجے میں کہا۔۔وہ اس ساری کہانی سے قطعی امپریس نہیں ہوئیں۔۔۔
تمہارا مطلب ہے وہ مظلوم بچی جھوٹی ہے۔۔۔وہ ہلکے سے غصے سے بولے۔۔۔
ہاں بھائی صاحب بغیر ثبوتوں کے اسطرح کی کہانیوں پر یقین نہیں رکھنا چاہیے۔۔۔۔آج کل کسی پر بھروسہ کرنا ٹھیک نہیں۔۔۔آج کل عورتیں اسطرح کی کہانیاں سنا کر گھروں میں داخل ہو جاتی ہیں اور پھر سب روپیہ پیسہ لوٹ کر فرار ہو جاتی ہیں۔۔۔بانو کے بجائے فرحت چچی نے جواب دیا
ہمارے اس چار کمروں والے شاہی محل میں کونسے خزانے دبے ہیں جو وہ چرا کر لے جائے گی۔۔۔انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا۔۔۔
وہ دونوں جز بز ہو کر رہ گئیں۔۔
کسی معمولی گھر کی نہیں ہے وہ۔۔۔۔۔۔۔اچھے اور امیر گھرانے کی لگتی ہے بس برے حالات کا شکار ہے بیچاری
انہوں نے افسوس بھرے لہجے میں کہا۔۔۔
ٹھیک ہے مان لیا چورنی نہیں ہے۔مگر یہ جو کہانی سنائی ہے نا آپ نے اس پر بھی مجھے رتی بھر یقین نہیں۔۔۔بلکہ مجھے تو شک ہو رہا ہے یہ گھر سے بھاگی ہوگی کسی کے ساتھ اور پھر اس نے اپنا مطلب نکالنے کے بعد دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال پھینکا ہوگا۔۔منہ کالا کرنے کے بعد گھر کیسے جاتی اسی لئیے ادھر ادھر بھٹک رہی ہوگی اور آپکو اپنی کہانی سنا کر ہمارے گھر گھس آئی۔
بانو بیگم کا لہجہ حقارت اور تنفر سے بھرا ہوا تھا۔۔
کچھ خدا کا خوف کرو بانو۔۔۔۔کسی پر بہتان لگانا گناہ ہوتا ہے۔۔تم خود بھی ایک بیٹی کی ماں ہو۔۔۔پھر کیسے
کسی کی بیٹی پر بہتان لگا سکتی ہوں۔۔انہوں نے غم و غصے بھرے لہجے میں کہا۔۔بانو بیگم کی بات سے انہیں
حقیقتاً رنج پہنچا تھا۔۔۔
چچا جان ٹھیک کہہ رہے ہیں بغیر تصدیق کے یوں کسی کے کردار پر بہتان لگانا،لزام تاشی کرنا ٹھیک نہیں ہوتا۔۔کب سے خاموش بیٹھا انکی بحث سنتا فہد اس بات ہر خود کو روک نہیں پایا تھا بولنے سے
تم چپ رہو۔۔۔۔فرحت چچی نے بیٹے کو گھرکا تو وہ غصے سے لب بھینچ کر رہ گیا۔۔۔
بھائی صاحب شائد آپ بھول رہے ہیں ہمارے گھر میں جوان لڑکا ہے اسطرح ہم کیسے کسی کی جوان بیٹی کو اپنے گھر میں ٹھہرا سکتے ہیں۔رشتہ دار محلے والے سب سوال کریں گے۔۔۔فرحت چچی بھی مکمل طور پر دیورانی کی ہمنوا تھیں اسی لئیے انہی کا دفاع کرتے ہوئے کہا۔۔۔
ٹھیک کہہ رہی ہے فرحت جوان پرائی لڑکی کی ذمہ داری سر پر لینا کہاں کی عقلمندی ہے بھلا اور لڑکی بھی ایسی حسین کہ نظر ہی نا ٹہر پائے۔آگ اور پانی
ساتھ مل کر رہ سکتے ہیں بھلا۔۔۔
بانو بیگم نے اصلی خطرے کی طرف اشارہ کیا۔۔
فہد اپنی جگہ بیٹھے بیٹھے چور سا بن گیا۔۔
بھابھی مجھے اپنے گھر کے بچے پر خود سے بھی زیادہ بھروسہ ہے۔رہی بات رشتہ داروں اور محلے والوں کی تو انکی آپ فکر مت کریں میں خود جواب دے لوں گا
بس اب اس بارے میں اور کوئی بحث نہیں ہوگی۔وہ
دونوں بہن یہیں رہیں گے۔انہوں نے حتمی انداز میں کہتے ہوئے بات ختم کی اور اپنی ٹوپی پہنتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔
میں عشا کی نماز کیلئے مسجد جا رہا ہوں۔فہد تم ثمرہ سے جا کر بولو اگر ابھی تک کھانا نہیں بنا تو چائے وائے ہی پلا دے ان بہن بھائیوں کو ناجانے کب سے خالی پیٹ ہونگے بیچارے۔۔۔۔
جی۔۔۔۔فہد فوراً تابعداری سے کہتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا
اور انکے ساتھ ہی کمرے سے باہر نکل گیا۔پیچھے دونوں دیورانی جٹھانی ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگیں۔۔۔
گویا اب کیا ہوگا۔۔۔ ؟؟
ارے تم دونوں ابھی تک ایسے بیٹھے ہوئے ہو۔۔۔۔فریش
نہیں ہوئے میں تو کھانا بھی لے آئی ہوں۔۔۔ثمرہ کھانے
کی ٹرے لئیے اندر داخل ہوئی تو ان دونوں بہن بھائیوں
کو چپ چاپ پلنگ کے ایک کونے پر بیٹھا دیکھ کر حیرت سے کہتی ہوئی ٹرے میز پر رکھنے لگی۔۔۔۔۔
کچھ دیر پہلے وہ حیات سے کہہ گئی تھی کہ اتنے لمبے
سفر سے آئے ہو نہا دھو کر دونوں فریش ہو جاؤ تب تک وہ کھانا تیار کر کے لاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔مگر اب کھانا لئیے اندر
آئی تو وہ اسی پوزیشن میں بیٹھے ہوئے تھے جس میں وہ انہیں چھوڑ کر گئی تھی۔۔دونوں بہن بھائیوں کا اترا ہوا پریشان چہرہ دیکھ کر وہ انکے ساتھ پلنگ پر ہی بیٹھ گئی۔۔۔اور محبت سے اسکے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے گویا ہوئی۔۔۔
پریشان مت ہو حیا اس گھر کو اپنا ہی گھر سمجھو
میرے ابا بہت اچھے ہیں۔وہ تمہیں بیٹی بنا کر لائے ہیں
تو یقین کرو تمہیں بالکل ویسے پروٹیکٹ کریں گے جیسے اپنی سگی بیٹی یعنی مجھے کرتے ہیں۔۔۔۔۔
وہ کچھ نا بولی بس اسکی نیلی آنکھوں کے آئینے جھلملانے لگے۔۔۔۔
میری ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ میری ایک بہن ہوتی۔جسکے ساتھ میں اپنی چھوٹی بڑی تمام باتیں شئیر کرتی شاپنگ کرنے جاتیں۔دونوں اکٹھے گھومتیں اکھٹے سکول کالج جاتیں۔۔ایک ساتھ بیٹھ کر ڈرامے اور موویز دیکھتیں۔۔کوکنگ کرتیں مل کر خاندان اور محلے کے سب پھاپا کٹنوں اور کٹنیوں کی برائیاں کرتیں سڑک پر آوازے کسنے والے لڑکوں کی پٹائی کرتیں۔۔۔
وہ اتنے ایکسائیٹڈ انداز میں کہہ رہی تھی کہ ناچاہتے
ہوئے بھی اسکی آخری دو باتوں پر وہ مسکرا اٹھی۔۔
تمہاری مسکراہٹ بہت خوبصورت ہے حیا۔۔۔بالکل ایسے
جیسے بدلیوں بھرے سیاہ آسمان پر پہلی کا چاند ایک
لمحے کو چھب دکھا کر غائب ہو گیا ہو۔۔۔اس نے رشک بھرے انداز میں کہتے ہوئے اسے سراہا تھا۔۔
حیات عبدالرحمان کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔ذہن میں کسی اور کے کہے گئے الفاظ گونجنے لگے تھے۔۔۔
تمہاری مسکراہٹ بہت خوبصورت ہے حیا۔۔۔۔جب تم مسکراتی ہو تو ایسا لگتا ہے جیسے کوئی گلاب اپنی شاخ پر کھڑا ہوا کے زور سے جھوم رہا ہو۔۔جیسے کوئی چاند بادلوں میں سے تانکا جھانکی کر رہا ہو۔۔۔
جیسے “وہ مزید بھی کچھ کہتا جب حیات نے اسے روک دیا تھا۔۔
بس کریں۔۔۔آپ ایکٹر ہیں یا شاعر۔۔۔۔۔وہ ہنستے ہوئے کہہ رہی تھی۔۔۔
ہوں تو ایکٹر۔۔۔۔۔لیکن تمہارے لئیے شاعر بن جاؤں گا
کیونکہ تمہیں تو ایکٹر پسند نہیں ہیں نا۔۔۔کریکٹرلیس ہوتے ہیں۔۔۔حرام کماتے ہیں حرام کھاتے ہیں۔۔۔۔کہا تو
اس نے بظاہر مسکرا کر تھا۔۔۔مگر انداز یاد دلاتا ہوا تھا گویا جتا رہا ہو کہ دیکھو کیا کیا کہہ چکی تھی تم مجھے۔۔مگر پھر بھی محبت سے اپنا رہا ہوں
حیات کے چہرے کا رنگ پھیکا پڑ گیا تھا۔۔ہنسی مذاق
میں وہ اسے پرانی باتیں جتائے گا اس بات کی امید
نہیں تھی اسے۔۔۔
ارے کیا ہوا تم پریشان کیوں ہو گئی۔۔۔۔میں تو مذاق
کر رہا تھا۔۔۔اس کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر اگلے ہی پل
وہ ہلکے پھلکے لہجے میں کہہ رہا تھا۔۔
وہ انہی سب تلخ یادوں میں کھوئی ہوئی تھی جب
کہ ثمرہ اسکی تمام سوچوں سے بے خبر خوشی سے بھرپور لہجے میں کہہ رہی تھی۔۔۔
میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اللّٰہ تعالیٰ واقعی میری
یہ خواہش پوری کر دے گا۔۔بہن دے دے گا اور وہ بھی
اتنی پیاری۔۔۔اور ساتھ میں اتنا کیوٹ بھائی۔۔خاموشی سے اپنی جانب دیکھتے مون کے پھولے ہوئے گالوں کو اس نے دلچسپی سے چھوا تھا۔۔۔۔
اچھا پلیز اب جلدی سے اٹھ کر فریش ہو جاؤ کھانا
ٹھنڈا ہو رہا ہے۔۔ابا بتا رہے تھے بہت لمبے سفر سے آئے ہو تم دونوں۔بہتر ہے نہا لو۔۔تاذہ دم ہو جاؤ گی۔۔تھکن اتر جائے گی۔۔۔
کہنے کے ساتھ ہی ثمرہ نے بے تکلفی سے ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھانے کی کوشش کی تو وہ خاموشی سے اٹھ کر واش روم چلی گئی تو ثمرہ مون کی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔
ہیلو مائی لٹل برو۔۔۔میں تو تم سے نام پوچھنا ہی بھول
گئی۔۔۔کیا نام ہے تمہارا۔۔۔۔؟؟اس نے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔۔۔
رائم عبدالرحمان۔۔۔۔۔اس نے اعتماد سے جواب دیا
واؤ بڑا پیارا نام ہے تمہارا۔۔۔۔ویسے جتنے تم خود کیوٹ
ہو تو تمہارا نام اسی حساب سے کوئی یونیک سا ہونا چاہیے تھا۔۔جیسے چاند۔۔۔پرنس۔۔۔۔اسی طرح کا کوئی
وہ سوچتے ہوئے بولی۔۔۔۔
چاند کو انگلش میں کیا کہتے ہیں پتہ ہے آپ کو۔۔۔؟؟
اب کے وہ تھوڑا فرینک ہو کر بولا
آف کورس۔۔۔مون کہتے ہیں
وہی تو میرا نام ہے۔۔۔۔وہ مسکرایا
ہائیں سچی۔۔۔ثمرہ نے حیران ہو کر کہا
ذرا سی دیر میں ہی وہ اس سے گھل مل گیا تھا ۔جب حیات فریش ہو کر واش روم سے باہر آئی وہ ثمرہ کے ساتھ فرینکلی انداز میں باتیں کر رہا تھا۔
گیلے بالوں کو تولیے میں لیپٹے ہوا تھا۔۔۔۔۔آنکھوں کے پپوٹے متورم ہو رہے تھے۔جیسے اندر جا کر خوب روئی ہو۔۔۔
واؤ یار تمہارے بال تو بہت ہی خوبصورت ہیں ریشمی کسی سنہری آبشار کی مانند۔۔۔ثمرہ نے ستائشی نظروں سے دیکھتے ہوئے تعریف کی۔۔
حیا نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔۔
ثمرہ نے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا برش اٹھا کر اسکی طرف بڑھایا۔۔اس نے قدرے جھجکتے ہوئے اپنے بالوں کو تولیے سے آزاد کیا اور رخ پھیر کر سلجھانے لگی۔اسکی آنکھیں ایک بار پھر برس رہی تھی۔ثمرہ ڈریسنگ مرر
میں اسے روتا ہوا دیکھ چکی تھی۔ناجانے کیا دکھ تھے
بیچاری کے وہ افسوس سے سوچنے لگی۔ ابھی تک ابا سے بھی پوچھنے کا موقع ہی نہیں ملا تھا۔۔
میں کھانا دوبارہ گرم کر کے لاتی ہوں تب تک تم کنگھی کر لو۔۔۔۔۔ثمرہ آگے بڑھ کر ٹرے اٹھاتے ہوئے بولی۔۔
ثمرہ۔۔۔۔حیات نے آنسو صاف کر کے رخ اسکی طرف پھیرا ہی تھا جب فہد اسے آواز دیتا کمرے میں داخل ہوا۔۔
اس کا آنسوؤں سے دھلا سرخ و سفید گلاب کی مانند کھلتا ہوا چہرہ۔۔۔شانوں پر چہرے پر جھولتے براؤن سلکی بال۔۔۔ وہ اپنی بات بھول کر مبہوت کھڑا اسے
دیکھنے لگا۔حیات نے سخت جز بز ہو کر اپنا رخ موڑا
تو اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔۔۔
وہ چچی تمہیں بلا رہی ہے۔۔۔۔وہ حواسوں میں لوٹتے ہوئے بولا۔۔۔۔مگر انداز کھویا کھویا سا تھا۔۔
آ رہی ہوں۔۔۔۔۔ثمرہ دروازے کی طرف بڑھی۔۔فہد نے ایک چور نظر رخ پھیرے کھڑی حیات پر ڈالی اور خائف سا ہو کر ثمرہ سے پہلے باہر نکل گیا۔۔۔۔
رات کے گیارہ بج رہے تھے جب وہ شو کی میزبانی کے بعد سیدھا گھر آیا۔ورنہ اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ وہ اتنی جلدی گھر آیا ہو۔۔۔۔۔۔ اسکی واپسی ہمیشہ صبح ڈھائی بجے۔۔ تین بجے۔۔ یا چار بجے ہی ہوا کرتی تھی۔۔۔۔۔۔صرف اسکی کیا تینوں بھائیوں کی یہی روٹین تھی۔رات گئے پارٹیز،کلبز شوٹنگز یہی سب چلتا
رہتا تھا۔البتہ عبیر کی شادی کے بعد ایسی ایکٹیوٹیز
تھوڑی سی کم ہو گئی تھیں۔۔۔مگر اسکی بیوی جسے
شوبز انڈسٹری میں ایٹم گرل کے نام سے جانا جاتا تھا
اسکی ایکٹیوٹیز میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔اسی وجہ سے ان دونوں کے درمیان تھوڑا بہت جھگڑا بھی رہنے لگا تھا۔ماحر کو تو وہ اپنی بے باکی کی وجہ سے شروع سے ہی ناپسند تھی۔صرف عبیر کی خاطر برداشت کرتا تھا اسے۔ابھی بھی وہ جب گھر میں داخل ہوا تو وہ ٹاپ سکرٹ میں ملبوس کہیں پارٹی کیلئے نکل رہی تھی ماحر کے ماتھے پر بل پڑے تھے تاہم کچھ کہے بنا وہ اپنے کمرے میں آ گیا تھا۔ آنکھوں پر بازو رکھے وہ
جوتوں سمیت بیڈ پر لیٹ گیا تھا۔۔۔۔
اس نے بازو ہٹا کر کیلنڈر کی طرف دیکھا۔۔۔۔
آج چھے مہینے ہو گئے تھے۔۔۔۔پورے چھے مہینے
مگر حیات عبدالرحمان کی ابھی کوئی خبر نہیں ملی تھی ناجانے اسے زمین کھا گئی تھی یا آسمان نگل گیا تھا۔کراچی کا چپہ چپہ چھان مارا تھا اس نے مگر کوئی سراغ نا ملا تھا۔وہ مایوس اور مضطرب سا رہنے لگا تھا۔احساس جرم اور پچھتاوں کے ناگ اسے ڈسنے لگے تھے۔حیات عبدالرحمان کا خیال اس کے دماغ پر قبضہ جما کر بیٹھ گیا تھا۔۔اپنی کیفیت سے گھبرا کر وہ خود
کو جام میں مصروف کر لیتا تھا۔۔۔ اسکی روٹین بھی کافی حد تک چینج ہو گئی تھی۔پارٹیز کلبز میں اس کا دل نہیں لگتا تھا نا ہی اب کسی حسینہ کی قربت اسے مدہوش کرتی تھی۔۔
بس اپنے شو کی میزبانی اور مختلف ڈائریکٹرز کی فلموں کی ادھوری شوٹنگز کسی روبوٹ کی مانند کمپلیٹ کروا رہا تھا۔اسوقت بھی وہ بیڈ پر مضطرب سا لیٹا اسی کے خیالوں میں ہی الجھا ہوا تھا۔۔
وجہیہ چہرے پر دکھ،والم نارسائی اور ہجر کی گہری سنجیدگی چھائی ہوئی تھی جس کو پانے کیلئے دل مچلتا تھا اسے اپنے ہاتھوں سے گنوا بیٹھا تھا۔۔۔
وہ بے چین سا ہو کر اٹھ بیٹھا۔گہری سرخ ڈوروں والی طلسماتی آنکھوں میں اضطراب ہلکورے لیتا تھا۔۔کوئی
جان نہیں سکتا تھا کہ ان آنکھوں میں شراب کا نشہ نہیں بلکہ کوئی درد چھلکتا تھا۔۔۔وہ ایک بار اس سے
ملنا چاہتا تھا۔۔۔سچے دل سے معافی مانگنا چاہتا تھا
مگر وہ ناجانے کہاں چلی گئی تھی۔۔کہیں کسی غلط ہاتھوں میں نا چلی گئی ہو۔۔۔۔یہ خیال آتے ہی ناجانے
کیوں اس کا دل ڈوبنے لگتا تھا۔وہ دل میں چپکے چپکے سے اللّٰہ سے اسکی سلامتی حفاظت اور ملن کی دعا مانگتا تھا۔۔۔پہلے وہ جمعے کے جمعے اور باقی دنوں میں کبھی کبھار نماز پڑھ لیتا تھا مگر اب اپنی دعاؤں کی قبولیت کے لیے اللّٰہ کو راضی کرنا تھا۔جس کے لئیے اس نے باقاعدگی سے نماز شروع کر دی تھی۔اور ڈرنک کرنا بھی کافی حد تک کم کر دیا تھا۔۔۔
گہری سانس بھرتا وہ بیڈ سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔اے سی
کی خوشگوار کولنگ،کمرے کی اداسی اسکے اندر کی بے چینی اور بے سکونی کو مزید بڑھانے لگی تو وہ کمرے سے نکل کر ٹیرس پر آ گیا۔۔۔۔۔باہر موسم بے حد خوشگوار ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔سبک رفتاری سے چلتی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا اسکے چہرے اور وجود سے ٹکرانے لگی۔باہر کے موسم سے تمام حبس و گھٹن رخصت ہو کر تمانیت پھیلا گئی تھی۔مگر وہ اپنے اندر کی حبس و گھٹن کا کیا کرتا جو گھٹنے کے بجائےبڑھتی ہی چلی جا رہی تھی۔۔۔۔
بلیو جینز اور ریڈ شرٹ میں وہ بے چین ہو کر ٹہلنے لگا تھا۔۔۔شائد اسطرح اپنے اندر کی بے چینی پر قابو پانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔آنکھوں میں سرخی حد سے زیادہ تھی۔چھے ماہ سے وہ ایک پل کیلئے بھی سکون سے نہیں سو پایا تھا۔۔۔
نیند آتی بھی کیونکر۔۔۔اپنی خواہشوں و آرزؤں کو اپنے ہاتھوں سے خاک کر کے کس طرح چین میسر آ سکتا تھا
وہ دہری آگ میں جل رہا تھا۔۔
ایک پچھتاوے۔۔۔۔اور دوسرا پامال عزت کی
چاہت پر حمیت غالب آ گئی تھی۔۔انتقام کی آگ نے اسے وہ کام کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔۔جس کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔۔
۔ڈھیلے ڈھالے انداز میں وہ وہیں کرسی پر ٹک گیا تھا
۔سحر انگیز آنکھوں میں گہری سوچ کے عکس تھے۔۔۔۔
کہاں گئی ہو گی وہ آخر۔۔۔؟کہیں اپنے رشتہ داروں کے پاس ترکی تو نہیں۔۔؟؟ایک خیال کوندے کی طرح لپکا
نہیں ترکی نہیں جا سکتی۔۔اس کا پاسپورٹ تو میرے پاس ہے۔۔۔اچانک یاد آنے پر گہری سانس لی۔جس وقت
وہ رحمت بوا کے ساتھ ہاسپٹل میں تھی اسکے کہنے پر
فرقان نے اسکے سامان کی تلاشی لے کر پاسپورٹ نکال لیا تھا اس کا۔۔
