171.9K
78

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Hayat (Episode 63) 2nd Last Episode (Part - 1)

Meri Hayat By Zarish Hussain

زرد دھوپ ڈھل رہی تھی۔گلابی شام دھیرے دھیرے اتر رہی تھی۔۔۔لان میں مصنوعی جھیل کے پاس بیٹھی وہ غائب دماغی سے سامنے گرتے شفاف پانی کو دیکھ رہی تھی۔۔نظریں بظاہر سامنے گرتے پانی پر تھیں مگر دماغ کہیں اور تھا۔وہ الجھ چکی تھی۔تشویش میں مبتلا ہو چکی تھی۔ماحر کا اچانک سے بدل جانے والا رویہ اسے ڈسٹرب کر رہا تھا بلکہ وحشت زدہ کر رہا تھا۔۔۔وہ اسے

نظر انداز کرنے لگا تھا۔اسکی طرف سے تجاہل برتنے لگا

تھا۔وہ حیران تھی۔۔۔ کچھ عرصہ پہلے تک تو اسکی بے نیازی لاتعلقی۔ بے اعتنائی اور اجنبیت کے باوجود بھی اسکی نگاہوں میں حیات کیلئے دیوانگی چھلکتی نظر آتی تھی۔ لیکن اب چند دنوں سے ناجانے کیا ہوا تھا کہ اسکی نگاہیں سپاٹ و بے تاثر نظر آنے لگی تھیں وہ جو اسکی ایک نظر کرم کیلئے پلکیں بچھائے منتظر رہتا تھا اب اس سے مکمل لاتعلق نظر آتا تھا۔ پہلے اسکے وجہیہ چہرے پر امیدوں کے خوبصورت رنگ ہوا کرتے تھے وہ رنگ بھی اب کہیں کھو گئے تھے۔اسکی خوشنما جذبوں سے سلگتی آنکھیں جو پہلے حیا کے خوبصورت سپاٹ چہرے پر ٹھہری رہتی تھیں اب وہ نگاہیں اسکی طرف بھولے سے بھی اٹھ جاتیں تو جذبوں سے بالکل خالی نظر آتیں۔اسی چیز نے تو اسے مضطرب و بے سکون کیا ہوا تھا۔۔ماحر کی یہ لاتعلقی اسکا حساس دل برداشت نہیں کر پا رہا تھا حالانکہ پچھلے چھے مہینوں سے وہ خود بھی تو یہی رویہ اپنائے ہوئے تھی جسکو ماحر نے بڑے حوصلے اور صبر سے برداشت کیا۔۔سوائے ایک دو بار کے جب اس نے اپنی تلخ ترین باتوں سے اسے ضبط کھونے پر مجبور کیا تھا۔۔۔اس تمام عرصے میں ماحر نے اپنے طریقے سے بھرپور کوشش کی تھی انکے درمیان موجود فاصلے کو پاٹ سکے مگر حیات کے تلخ و سرد مہر اور نخوت بھرے انداز کے سامنے اسکی ہر کوشش ناکام ٹھہری۔ وہ پھر بھی دل برداشتہ نا ہوا۔۔۔حیات کے

برے رویے کے باوجود اس نے اپنی زمہ داریوں سے منہ

نا موڑا۔۔۔۔ اسکے کھانے پینے سے لے کر چھوٹی چھوٹی چیزوں تک کا خیال رکھا اپنی زمہ داریاں احسن طریقے سے نبھائیں مگر حیات نے جواب میں صرف اور صرف تلخ رویہ اختیار کیے رکھا۔۔۔۔ اسکی توجہ سے چڑنے کے باوجود وہ اسکی توجہ کی عادی ہو گئی تھی اب جب اس نے اپنی توجہ ہٹا لی تھی تو یہ بات اسے بے چین

کرنے کے ساتھ ساتھ تشویش میں مبتلا کر گئی تھی۔۔۔

ماحر کے اس بدلاؤ کی اصل وجہ کیا ہوگی آخر۔۔؟؟ اس

وقت تو وہ نہیں بدلا جب وہ اس کیساتھ روڈلی بے ہیو کرتی تھی۔۔۔اسکی محبت کا جواب نفرت و حقارت سے دیتی تھی اسکی تذلیل کرتی تھی۔۔پھر اب اچانک ایسا

کیا ہو گیا تھا کہ اس نے اپنا رویہ بدل لیا۔اور اب جبکہ حیات کا رویہ بھی بہتر ہو چکا تھا۔۔ تو اب کیوں ایسے

کر رہا تھا وہ اور واقعی سچ میں بدل گیا تھا یا محض بدلا لے رہا تھا۔۔؟یا پھر اسکے پچھلے رویے سے مایوس ہو کر بد دل ہو گیا تھا۔۔۔۔؟؟ اس نے بہت بار سوچا مگر

کوئی سرا ہاتھ نا آیا۔سکندر علی خان انکی مسز تو اس

میں تبدیلی دیکھ کر خوش تھے۔مگر جس کیلئے چینج ہوئی تھی اسے تو کچھ فرق ہی نہیں پڑ رہا تھا۔۔۔وہ تو خود بدل چکا تھا بالکل اسی طرح۔جسطرح کچھ عرصہ قبل وہ خود تھی۔لاتعلق۔بے نیاز۔کٹھور پن اور کسی حد

سنگدلی کا مظاہرہ بھی وہ کر جاتی تھی مگر وہ صرف

بے نیاز ہوا تھا اسکی طرح کٹھور یا سنگدل نہیں۔کوئی

بات کرنا پڑتی تو اسکا لہجہ سرسری سا ضرور ہوتا مگر سرد مہر یا تلخ نہیں لیکن محبت سے لبریز میٹھا لہجہ سننے کی عادی اسکا یہ سرسری سا بے نیاز لہجہ بھی برداشت نہیں کر پا رہی تھی جبکہ اسکے وقت وہ بہت

سنگدلی و نفرت کا مظاہرہ کیا کرتی تھی مگر اب اپنے

لئیے دل بہت حساس ہو گیا تھا۔یہی حساس دل اسکے لئیے پتھر ہوا کرتا تھا۔۔اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کرے۔۔۔۔۔کس طرح اسکے ساتھ اپنا ریلیشن بہتر

بنائے۔۔۔وہ اسے کوئی موقع ہی نہیں دے رہا تھا حیات اس سے گلہ بھی نہیں کر سکتی تھی کیونکہ خود جو اسکے ساتھ اتنا عرصہ برا سلوک کر چکی تھی۔خاموش رہ کر سہا بھی نہیں جا رہا تھا۔۔دل اس کیلئے کشادہ ہو چکا تھا۔بہتر تعلقات استوار کرنے کا خواہاں تھا۔اپنے،اور

اسکے رشتے کو آگے بڑھانے۔۔۔۔خوبصورتی سے نبھانے کا آرزو مند۔۔یعنی جو پہلے اسکی خواہش تھی حیات بھی

اب وہی چاہنے لگی تھی۔مگر ماحر کا لاتعلق اور بے نیاز رویہ دیکھ کر اسکی ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی اس سے

بات کرنے کی۔وہ رات کو کس وقت کمرے میں آتا حیات

کو کچھ خبر نا ہوتی۔صبح جب نماز پڑھنے کیلئے اٹھتی تو اسے صوفے پر سویا ہوا پاتی۔۔۔ اکثر اوقات تو صوفہ بھی خالی ہوتا۔۔۔ وہ سمجھ جاتی کہ محترم رات سرے سے گھر ہی نہیں آئے۔جس رات گھر آتا تو دن چڑھے تک سویا رہتا ناشتہ کرنے اور تیار ہونے کے بعد گھر سے نکل جاتا اسکے بعد حیات کو اسکی کچھ خبر نا ہوتی کہ وہ کہاں گیا۔۔۔۔کب آئے گا۔۔۔نا ہی اس نے بتانا کبھی ضروری سمجھا۔۔۔ وہ تو اسکی ذات میں دلچسپی لینا ہی چھوڑ چکا تھا۔وہ میکے جاتی تو نا پہلے کی طرح اسے فون کر

کے آنے کا پوچھتا اور نا لینے جاتا۔۔۔۔ کبھی فارس بھائی اسے چھوڑ جاتے تو کبھی فائزہ سکندر ڈرائیور کو بھیج دیتیں۔جسکی وہ ذمہ داری تھی وہ اس سے لاغرض ہو گیا تھا۔وہ ناچاہتے ہوئے بھی پریشان رہنےلگی ماحر کے

بدلے اندازو اطوار نے اسے ڈسٹرب کر رکھا تھا۔۔۔

انہی دنوں اچانک میڈیا میں ایک فلم ایکٹریس رباب علوی کے ساتھ ماحر کے افئیر کا چرچا ہونے لگا۔۔۔ رباب علوی کافی حسین ایکٹریس تھی۔۔ حیات تو سن کر ہی گم صُم ہو گئی۔دل ودماغ کو خدشات نے گھیر لیا۔۔یہ بات تو وہ اچھی طرح سے جانتی تھی کہ ماحر حسن پرست ہے اسکے پیچھے بھی وہ اسکے حسن کی وجہ سے ہی پڑا تھا۔رباب علوی کے پاس بھی حسن تھا سو ماحر کا اس کی جانب مائل ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں تھی لیکن حیات کیلئے ناجانے کیوں تشویش کی بات ضرور بن گئی۔۔حالانکہ وہ کوئی اسکی محبت میں مبتلا بھی نہیں تھی۔۔ مگر پھر بھی اس فلم ایکٹریس کیساتھ اسکا معاشقہ اسے غصے اور دکھ میں مبتلا کر رہا تھا۔۔وہ بجھی بجھی سی رہنے لگی تھی۔۔اسکے اور ماحر کے بیچ ایک سرد مہری والے تعلق کی خلیج حائل ہو چکی تھی ۔۔جسے وہ کوشش کے باوجود گرا نہیں پا رہی تھی اسی لئیے الجھی الجھی اور پریشان سی رہنے لگی تھی۔۔۔ماحر کے معاشقے کی خبر تمام سوشل ویب سائٹ پر ٹاپ ٹرینڈنگ میں چل رہی تھی۔۔۔میڈیا والوں کی جانب سے مختلف سوالات اٹھ رہے تھے۔۔۔عوام بھی

آپس میں بحث کر رہی تھی۔۔کیا رباب علوی ماحر خان

کا بسا بسایا گھر توڑ کر خود اسکی بیوی کی جگہ لینا

چاہتی ہے۔۔؟؟یا ماحر خان اپنی وائف کو چھوڑ کر رباب

علوی سے شادی کرنے والے ہیں۔۔۔؟؟ اسطرح کی عجیب و خبریں سرخیوں میں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی

تھیں جنکو دیکھ دیکھ کر حیات کی پریشانی بڑھ رہی

تھی کیونکہ یہ خبریں فارس فضا حورین سب تک پہنچ

رہی تھیں۔فضا اور حورین تو فکرمندی میں مبتلا تھیں

مگر فارس مشتعل ہو رہا تھا۔۔۔حیات نے بڑی مشکل سے

انہیں قسمیں دے کر روکا کہ وہ اس معاملے میں فلحال خاموش رہیں وہ خود دیکھ لے گی۔باقی سب کو تو اس

نے تسلی دے دی تھی مگر خود یہ بات سوچ سوچ کر

سخت ٹینشن میں تھی کہ اگر کہیں اس نے رباب علوی

کی عشق میں مبتلا ہو کر اسے چھوڑ دیا تو۔۔؟کیونکہ یہ تو صرف وہ دونوں جانتے تھے کہ انکے بیچ اب تک

صرف کاغذی رشتہ ہے۔۔۔ جسے توڑنا کونسا مشکل تھا

اس شخص کیلئے بھلا۔ویسے بھی اب تک اس نے کونسا

کوئی بیوی ہونے کا حق دیا تھا۔۔۔۔کوئی سکھ یا خوشی دی تھی جو وہ اسکا خیال کرتا۔۔۔حسن تو اسے باہر سے بھی مل رہا تھا پھر وہ کیوں بیٹھ کر اسکے راضی ہونے کا انتظار کرتا رہتا۔اسطرح کے خیالات نے اسے پاگل کر رکھا تھا۔یہ سوچ اسے وحشت زدہ کر رہی تھی کہ اسکا

شوہر اور وقت دونوں اسکے ہاتھ سے نکل رہے تھے۔۔۔

سوشل میڈیا پر وہ آئے دن خبریں پڑھتی رہتی تھی کہ فلاں ایکٹریس نے فلاں شادی شدہ مرد کی پہلی بیوی

کو طلاق دلوا کر خود اس سے شادی کر لی۔۔وہ ٹینشن

میں مبتلا تھی اسے یہ خوف پاگل کر رہا تھا کہ کہیں کچھ دنوں بعد سوشل میڈیا پر یہ خبر نا چل رہی ہو

کہ معروف فلمسٹار ماحر خان نے اپنی بیوی کو طلاق دے کر رباب علوی سے شادی کر لی۔۔۔۔۔

یہ خیال بار بار اسکے دماغ میں آ رہا تھا اور ہر بار اس

کی وحشت کو بڑھا دیتا وہ چاہ کر بھی اس خیال کو

ذہن سے جھٹک نہیں پا رہی تھی۔۔۔ماحر سے محبت یا

انسیت نا ہونے کے باوجود بھی اسکو کھونے کا خیال اس کیلئے سوہان روح تھا۔۔۔محبت نا ہونے کے باوجود بھی وہ اس سے دستبردار ہونے کیلئے ہرگز تیار نہیں تھی۔۔۔۔شائد اس لئیے کہ وہ اسے اپنی قسمت مان کر

سمجھوتہ کرنے پر دل و دماغ کو راضی کر چکی تھی

وہ اسکی زندگی میں آنے والا آخری مرد تھا اور اسی

کو ہی اب وہ آخری دیکھنا چاہتی تھی۔ایسے میں اسکا

رباب علوی نامی ایکٹریس کے ساتھ نام لیا جانا اسے جلن میں مبتلا کر رہا تھا۔اگرچہ اسکے مام ڈیڈ اور بہن تینوں نے اسے یقین دلایا تھا کہ یہ صرف افواہیں ہیں۔۔۔ آجکل وہ جس فلم میں کام کر رہا ہے اس کی ہیروئن رباب علوی ہے۔چونکہ کام کی وجہ سے وہ دونوں ساتھ ساتھ نظر آ رہے ہیں جسکو میڈیا غلط رنگ دے رہا ہے۔۔مگر ان تسلیوں سے بھی اسکا دل نا بہل سکا۔کیونکہ جسکو تسلی دینی چاہیے تھی۔۔۔وضاحت دینی چاہیے تھی تردید کرنی چاہیے تھی وہ بالکل خاموش تھا۔اس

کی خاموشی اسے حیات کی نظروں میں مجرم ثابت کر رہی تھی۔حیات کو رہ رہ کر اس پر تاؤ آ رہا تھا۔وہ اچھی طرح دیکھ رہی تھی وہ اسے بالکل اگنور کر رہا تھا ایسے جیسے اسکے ہونے نا ہونے سے اسے کوئی فرق نا پڑتا ہو۔باقی گھر والوں نے تو اس معاملے کو لائٹ لیا

اور اسے بھی تسلی دے دی مگر اسکی دیورانیوں یعنی لیزا اور ماریہ کے ہاتھ تو گویا موقع لگ گیا تھا۔بات بے بات انہوں نے اسکے شوہر کے افئیر کو لے کر اسکا مذاق اڑانا شروع کر دیا۔۔۔

“لگتا ہے دیور جی کا دل بھر گیا تم سے۔۔۔۔ تبھی تو نئی حسینہ کی زلفوں کے اسیر ہوئے پڑے ہیں۔۔۔کیوں ماریہ

ٹھیک کہہ رہی ہوں نا میں۔۔۔؟وہ سر جھکائے اپنی پلیٹ میں بریانی ڈال ہی رہی تھی جب میز کے دوسری طرف کرسی پر بیٹھی لیزا نے چائنیز کھاتے ہوئے نہایت کٹیلے انداز میں کہتے ہوئے ساتھ بیٹھی ماریہ سے تائید چاہی

جسکی ماریہ نے خوب مسکرا کر تائید کی۔۔۔۔

“ڈونگے سے چمچ میں بریانی لے کر پلیٹ میں منتقل کرتا اسکا ہاتھ تھم گیا تھا۔۔۔نظریں اٹھا کر لیزا کیطرف دیکھا جسکے لبوں پر بڑی کاٹ دار مسکراہٹ تھی۔۔۔جو

حیات کو بری طرح دہکا گئی لب بھینچ کر اس نے اپنے

آپ کو کچھ کہنے سے باز رکھتے ہوئے اپنی توجہ مکمل طور پر پلیٹ کی جانب مبذول کر لی۔۔ملازمہ کے بلانے پر لنچ کیلئے جب وہ ڈائننگ ہال میں آئی تو ماریہ اور

لیزا کو ٹیبل پر دیکھ کر وہ تناؤ کی کیفیت میں مبتلا ہونے لگی کیونکہ ان دونوں کی زبانیں حیات کو دیکھ

کر زہر اگلنا شروع ہو جاتی تھیں۔۔۔۔ وہ دونوں حسد کا شکار تھیں اس بات کا اندازہ ہو گیا تھا اسے۔۔ساس کی

موجودگی میں تو عموماً زبان کو کنٹرول میں رکھتیں

مگر جہاں کہیں اکیلے میں موقع ملتا تو طنز و تنفر کے

تیر برساتیں۔لنچ پر عموماً صرف وہ اور فائزہ سکندر ہی ہوتی تھیں مگر آج فائزہ سکندر کسی سیاسی جماعت کے رہنما کے بیٹے کی دعوت ولیمہ پر گئی ہوئی تھیں۔

انہوں نے اسے بھی ساتھ چلنے کی آفر کی تھی مگر اس

نے شائستگی سے معذرت کر لی تھی۔مگر اب ان دونوں کو ٹیبل پر دیکھ کر اسے پچھتاوا ہو رہا تھا یا تو فائزہ سکندر کے ساتھ چلی جاتی یا پھر لنچ کیلئے ٹیبل پر نا

آتی۔اسے حیرت ہوئی وہ دونوں ناجانے آج کیوں گھر پر

تھیں۔۔۔ حالانکہ اس سے پہلے حیات نے انہیں شاذونادر ہی اس ٹائم گھر پر دیکھا۔۔۔ماریہ ایک ٹی وی چینل پر بطور اینکر کام کرتی تھی جبکہ لیزا فلموں کی شوٹس کے علاؤہ ایک کامیڈی شو میں جج کے فرائض بھی ادا کر رہی تھی۔۔یہ باتیں اسے فائزہ سکندر نے بتائی تھیں

وہ خود بھی دونوں کو ٹی وی پر دیکھ چکی تھی۔لیزا

کو تو پہلی بار دیکھ کر ہی اسکے اندر ناگوار احساس

پیدا ہوا تھا کیونکہ وہ بے حد بولڈ ڈریسنگ کرتی تھی

جسے دیکھ کر وہ شرم سے کٹ کر جاتی مگر کرنے والی کو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا تھا۔۔۔زین کی بیوی ماریہ کے بارے میں شروع شروع میں اسکی رائے زیادہ نیگٹیو نہیں تھی کیونکہ لیزا کی نسبت اسکی ڈریسنگ کسی حد تک صحیح ہوتی تھی۔۔ مگر وہ دیکھ رہی تھی کہ لیزا کی دیکھا دیکھی ماریہ کا پہناوا بھی بدلتا جا رہا تھا شائد اسکی کمپنی میں رہ کر وہ بھی اسکی طرح بولڈ ہوتی جا رہی تھی ابھی بھی وہ دیکھ رہی تھی

کہ لیزا کی طرح ماریہ نے بھی ٹائٹ قسم کی جینز اور

شرٹ پہن رکھی تھی۔۔۔۔جو اسکے جسمانی خطوط کو

واضع کر رہی تھی۔۔۔ایک جیسی بیہودہ ڈریسنگ کیے

ایک ساتھ بیٹھے کھانا کھانے کیساتھ ساتھ وہ دونوں

ماحر کے تازہ افئیر کو ڈسکس کرتے مسلسل حیات کو طنز کا نشانہ بنا رہی تھیں جو چپ چاپ انکی بکواس گوئی برداشت کرتے حلق سے نوالے اتارنے کی کوشش

میں ہلکان ہو رہی تھی۔۔۔۔

“بالکل بھئی۔۔۔دیور جی ایک پر قناعت کرنے والے انسان تھوڑی ہیں۔۔۔جوتوں کپڑوں کی طرح گرل فرینڈز بدلتے رہتے تھے۔۔۔اگر تمہیں ہماری بات پر یقین نا آئے تو گوگل پہ جا انکی بائیو گرافی دیکھ لو۔وہاں انکی گرل فرینڈز کی ایک لمبی لسٹ موجود ہے۔۔۔۔۔ ویسے حیا ایک بات کہوں ہمیں شدید حیرت ہوئی تھی جب انہوں نے تم سے شادی کی تھی کیونکہ لڑکی چاہے کتنی ہی حسین کیوں نا ہو وہ صرف دل بہلاتے ہیں ساری عمر کیلئے اسے گلے سے نہیں لٹکاتے خیر تم لکی ہو کم از کم چھے مہینے تو تمہارے ساتھ گزارا کیا انہوں نے ورنہ تو وہ تین مہینوں سے زیادہ کسی کے ساتھ ٹائم سپنڈ نہیں کرتے۔۔۔ماریہ کا انداز بھی لیزا کیطرح تنفر بھرا تھا۔۔۔

حیات خاموش بیٹھی انکی یہ بکواس سننے پر مجبور تھی۔دل کر رہا تھا کہ وہاں سے اٹھ جائے مگر غصہ دکھا کر اپنی کمزوری ان پر ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی سو خود پر قابو پائے بیٹھی رہی اور چہرے کے تاثرات بھی یوں نارمل رکھے جیسے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا اسکا شوہر جس سے چاہے افئیر چلائے مگر اندر زبردست توڑ

پھوڑ مچی ہوئی تھی۔۔اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ

انہیں کیا جواب دے۔۔۔اسکے دل میں اگرچہ ماحر کیلئے کوئی خاص جذبہ موجود نہیں تھا۔۔۔۔۔ اور نا ہی کوئی خوشگوار قسم کی یاد مگر انکی باتیں اور ماحر کا اس

فلم ایکٹریس کیساتھ ریلیشن سوچ سوچ کر اسکے دل

پر نامعلوم سی اداسی اور وحشت سوار ہو چکی تھی

ضمیر سے ایک صدا بھی اٹھ رہی تھی کہ ان حالات کی

ذمہ دار بھی وہ خود ہے۔۔۔

کیا میرا رویہ اسقدر برا تھا جو وہ مایوس ہو کر راستہ بدل گیا۔۔۔۔ ” اس نے دکھ سے سوچا

“ویسے ایک مشورہ دوں یار تم نا اپنی ڈریسنگ بدلو یہ

ہر وقت شلوار قمیض اور دوپٹہ اوڑھے رکھنا بالکل اولڈ

فیشن ہو گیا ہے۔۔۔مجھے لگتا ہے دیور جی کا دل تمہاری ڈریسنگ کی وجہ سے ہی تم سے بھرا ہے۔۔دیکھو نا سارا وقت وہ جینز سکرٹ پہننے والی حسیناؤں کے جھرمٹ میں گزارتے ہیں۔۔۔۔ پھر ایسے ماڈرن مرد کو ڈوپٹے میں لپٹی ملانی ٹائپ دکھنے والی بیوی کہاں اچھی لگے گی بھلا۔میری مانو تو اس ڈوپٹے اور شلوار قمیض کو دفعہ کرو۔۔۔میرے ساتھ شاپنگ پر چلو بہت اچھی فیشن ایبل ٹاپ سکرٹس دلواؤں گی۔دیکھنا جیسے ہی تم اپنا حلیہ بدلو گی دیور جی پھر سے تمہارے دیوانے ہو جائیں گے کیونکہ مردوں کو فیشن ایبل بیویاں ہی اٹریکٹ کرتی

ہیں۔۔اب میرا مشورہ مانو یا نا مانو تمہاری مرضی۔۔

لیزا نے اپنی بات مکمل کر کے نخوت بھرے انداز میں سر جھٹکا۔۔حیات کا چہرہ دھواں دھواں ہو گیا۔۔وہ تو

کچھ کہہ نہیں سکی۔۔مگر ماحر جو پچھلے پانچ منٹ سے ڈائننگ ہال کے دروازے پر کھڑا لیزا کی تقریر سن رہا تھا اندر آتے ہوئے طنزیہ انداز میں گویا ہوا۔۔۔

مشورے کا بہت بہت شکریہ بھابھی۔۔میری بیوی مجھے

شلوار قمیض اور دوپٹے میں ہی پسند ہے۔۔۔اسکا دیوانہ

بننے کیلئے مجھے اسکی ڈریسنگ چینج کروانے کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔ کیونکہ میں تو آلریڈی ہی اسکا دیوانہ ہوں۔کیوں سویٹ ہارٹ ٹھیک کہہ رہا ہوں نا۔۔۔؟؟

رنگ پھیکا پڑنے کی باری اب لیزا کی تھی۔۔۔

ماحر کا انداز شوخ و شنگ تھا۔۔۔۔۔بہت دنوں بعد اس نے پہلے والی لگاوٹ و بے تکلفی کا مظاہرہ کیا تھا۔۔۔ اسکے شانوں پر اپنے دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے عقب سے اسکی طرف جھکا ہوا تھا۔۔ عنابی ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ تھی۔حیات کا دل دھڑک اٹھا۔۔۔ جہاں اسکی بروقت آمد اور لیزا کو دیے گئے اسکے بھرپور جواب نے اسے سرشار کیا۔۔۔وہاں ان دونوں کے سامنے محبت کے اس مظاہرے پر وہ سٹپٹا کر رہ گئی۔وہ بدستور اسکے شانوں پر ہاتھ رکھے جھکا ہوا اسکے چہرے کو محبت و وارفتگی سے یوں دیکھ رہا تھا گویا دونوں میں بہت زیادہ پیار ہو۔۔۔ اور وہ اپنے بیڈروم میں بیٹھے ہوں۔اب یہ اور بات تھی کہ ایسی حرکت کا مرتکب تو وہ ابھی تک بیڈروم میں بھی نہیں ہو پایا تھا۔۔۔۔ حیات عبدالرحمان کا چہرہ حیا سے گلابی پڑنے لگا۔۔۔۔ دونوں جٹھانیوں کی نظروں سے اسکے لئیے جلن و تپش کی چنگاریاں پھوٹ رہی تھیں۔۔

وہ کنفیوژ ہونے لگی مگر ماحر کو کوئی پروا نا تھی وہ اسی پوزیشن میں کھڑا محبت سے لبریز لہجے میں اس

سے پوچھ رہا تھا کہ اس نے لنچ کر لیا یا نہیں۔۔۔؟؟

اسکے لمس اور نظروں کی طرح لہجہ بھی نرم اور لو دیتا ہوا تھا۔۔حیات کی پلکیں گلابی عارضوں پر جھک گئیں۔وہ جز بز ہونے لگی۔۔۔۔ لیزا اور ماریہ کی چبھتی ہوئی نگاہوں نے اسے بے تحاشا شرم و خفت میں مبتلا کر دیا تھا۔۔۔۔۔ انکے سامنے وہ اسکے ہاتھ نہیں جھٹک سکتی تھی بھرم بھی تو رکھنا تھا سو سرخ چہرے کے

ساتھ نظریں جھکائے بیٹھی رہی۔۔

اسکی خفت و شرمساری پر دھیان دیے بغیر اسے اپنے مضبوط بازوؤں کے گھیرے میں لئیے وہ بےحد کئیرنگ انداز میں کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔سویٹ ہارٹ تمہاری پلیٹ تو ویسے کی ویسے ہی رکھی ہوئی ہے اسکا مطلب تم نے کچھ نہیں کھایا۔۔چلو کوئی بات نہیں اپنے بیڈروم میں چلتے ہیں وہیں لنچ کرلیں گے۔۔۔۔ میں آیا بھی اسپیشلی تمہارے لئیے ہوں۔۔ بہت مس کر رہا تھا تمہیں۔۔ دل نہیں لگ رہا تھا کام میں تو ساری ٹیم کو ویٹنگ پر لگا کر آ گیا کہ لنچ تو اپنی ڈئیرسٹ وائف کیساتھ ہی کرونگا۔۔۔

وہ متبسم لہجے میں کہہ رہا تھا۔۔۔۔ویسے وہ میری فلم کی ہیروئن رباب علوی بھی لنچ کیلئے انسسٹ کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔ مگر جانم تمہارے آگے ان بولڈ فلمی ہیروئنز یا کسی اور لڑکی کی کیا اوقات ہے بھلا۔۔۔۔۔۔ تمہیں لوگوں

کی باتوں پر بالکل دھیان دینے کی بالکل ضرورت نہیں تمہارے لئیے تو میں کچھ بھی کر سکتا ہوں تم حکم کر کے تو دیکھو۔فدویانہ انداز میں کہتے ہوئےبات ختم کی اور ایک جتاتی ہوئی نگاہ لیزا اور ماریہ کے پھیکے ہوتے چہروں پر ڈالی بڑی محبت و نرمی سے بازو کے گھیرے میں لئیے بیڈروم میں چلا آیا۔۔حیات کا خیال تھا شائد ان دونوں کو دکھانے کیلئے وہ یوں لگاوٹ کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ مگربیڈروم میں بھی اسکا انداز وہی رہا تو وہ

نروس ہونے لگی۔۔۔۔۔۔ کھانے کے دوران وہ اس سے ہلکی پھلکی باتیں بھی کر رہا تھا اور گاہے بگاہے گہری نگاہ بھی اس پر ڈال رہا تھا۔۔حیات کو اسکی نگاہیں کنفیوژ تو کر رہی تھیں۔۔۔ مگر اندر کہیں طمانیت کا احساس بھی ہو رہا تھا۔۔۔۔۔بڑے دنوں بعد اس نے خود پر اٹھتی اسکی پہلے والی والہانہ نگاہوں کو محسوس کیا تھا۔۔۔حیرت انگیز بات یہ تھی اب اسے قریب بیٹھے ماحر پر نا تو غصہ آ رہا تھا۔نا نفرت محسوس ہو رہی تھی۔۔۔اور نا ہی اسکا قریب بیٹھنا اسے برا لگ رہا تھا۔وہ بدل رہی

تھی اسکا دل بدل رہا تھا۔۔۔سمجھوتہ کرنے کو تیار تھا

شادی کے بعد پہلی بار اسکے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانا اور باتیں کرنا اسے برا نہیں لگ رہا تھا۔۔وہ اسکی قربت

قبول کر رہی تھی۔۔۔ بس اسکے ہاتھ بڑھانے کی دیر تھی

اب وہ اسکا ہاتھ جھٹکنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی۔۔ماحر کی پہلے والی توجہ دیکھ کر اسکے خدشات دور ہونے لگے تھے اسکا نرم رویہ حیات کا حوصلہ بڑھا گیا تھا تبھی رات کو سونے کیلئے جب وہ بیڈ سے تکیہ اٹھا کر اپنی پرانی جگہ یعنی صوفے کیطرف جا رہا تھا تو

وہ بے ساختہ اسے روک بیٹھی۔۔۔

“آپ یہاں سو سکتے ہیں۔۔۔کچھ جھجکتے ہوئے اس نے

بیڈ کی طرف اشارہ کر کے کہا تھا۔۔۔۔ڈارک اورنج سوٹ

میں ہم رنگ ڈوپٹہ اوڑھے شعاعیں بکھیرتے دلکش رنگ و روپ کے ساتھ وہ اتنی من موہنی اتنی جاذب نظر لگ رہی تھی کہ اسکو تکتے ماحر کی آنکھوں میں ستائش ابھرنے لگی۔۔۔

خیریت یہ مہربانی اب کیوں۔؟ماحر نے اسکی جکڑ لینے والی خوبصورتی سے جلد ہی خود کو سنبھال لیا اور کسی قدر خشک و روکھے لہجے میں پوچھا۔۔۔

“وہ آئی تھنک صوفے پر آپ کمفرٹیبل فیل نہیں کرتے پھر یہ بیڈ بھی تو آپ ہی کا ہے اور اتنا بڑا بھی ہے۔۔۔۔آپ چاہیں تو سو سکتے ہیں مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔۔اینی وے آپکی مرضی ہے۔۔۔نگاہیں پھیرے وہ رسانیت سے کہہ رہی تھی ماحر کے لبوں پر جاندار مسکراہٹ آئی جسے اس نے ہونٹ بھینچ کر روکا اور سنجیدگی سے کہنے لگا۔۔۔

“محترمہ یہ بیڈ شروع سے ہی بڑا تھا۔۔۔ آج بڑا نہیں ہوا ہاں البتہ آپکا دل شائد آج ہی بڑا ہوا ہے اور کرم پر مائل بھی ہے۔لیکن سوری ایک بار جس چیز سے دل بھر جائے

میں دوبارہ وہ چیز یوز نہیں کرتا۔۔اس بیڈ سے بھی دل بھر گیا ہے میرا۔۔۔آپ ہی سوئیے مزے سے۔کہنے کے ساتھ

ہی وہ صوفے پر جا کر آرام سے لیٹ گیا تھا۔۔۔۔ حیات کا

رنگ پھیکا پڑ گیا۔۔۔جہاں تہاں کھڑی سوچتی رہ گئی کہ دل بھرنے والی بات اس نے واقعی بیڈ کیلئے کہی یا پھر اس کیلئے؟ اسوقت تو وہ سمجھ نا سکی مگر اگلے چند دنوں میں وہ اچھی طرح جان گئی تھی کہ یہ بات اس

نے درحقیقت کس کیلئے کہی تھی۔۔۔ ماحر کا وہ مہربان رویہ صرف ایک دن کیلئے تھا وہ پھر سے اپنے اوپر اس

سے لاتعلقی و بے نیازی کا خول چڑھا چکا تھا۔۔۔۔۔ رباب علوی کے ساتھ اسکے افئیر کا چرچا بھی ہنوز جاری تھا جسکی نا اس نے ابھی تک تردید کی تھی اور نا تصدیق

اسکی خاموشی اور بے گانگی نے اسے پھر سے تشویش

اور اضطراب میں مبتلا کر دیا تھا۔۔۔۔