171.9K
78

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Hayat (Episode 02)

Meri Hayat By Zarish Hussain

بیٹا آپ لوگوں نے فوٹو بنوانا ہے تو جلدی آئیں،،،،،

سٹیج پر موجود انکے کیمسٹری کے پروفیسر نے ہی اونچی آواز میں مخاطب کر کے حورین اور فرحین کو یہ احساس دلانے کی کوشش کی کہ اب آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے ماحر سکندر کو دیکھنا بند کرو،جلدی سے اپنا کام کر کے سٹیج سے اترو اور باقیوں کو بھی موقع دو

تبھی وہ دونوں خجل سی ہو کے ہوش کی دنیا میں واپس آئیں،جلد ہی حورین نے خود پر قابو پا کے اعتماد سے کہنا شروع کیا،،،،،ہیلو سر ہم آپکی بہت بڑی فینز ہیں،،،،،ہماری بہت- بہت بڑی وش تھی آپکو رئیل میں دیکھنے آپ سے بات کرنے اور آپکے ساتھ سیلفی لینے کی،،اور وہ وش آج پوری ہوگئی ہے،،،،،so we are so excited،،،آپکی ساری موویز ہم نے دیکھی ہوئی ہیں پچھلے سال جو آپکی جلوہ مووی آئی تھی وہ تو ہم سب کی فیورٹ ہے،اسکو تو پچاس بار ہم نے دیکھا ہے،حورین نے اپنی طرف سے ایک جھوٹ کا بھی اضافہ کر دیا،،ورنہ کون اتنا ویلا نکما ہے جو ایک ہی مووی کو پچاس بار دیکھے،،کسی بھی ہیرو سے ہم اتنا امپریس نہیں ہوئیں جتنا آپ سے ہوئی ہیں،،،آپکی پرسنالٹی زبردست ہے،آپکی ایکٹنگ لاجواب ہے،،،سمائل تو آپکی غضب کی ہے،،رومینٹک ہی نہیں آپکے ایکشن سینز بھی زبردست ہوتے ہیں،،،،ٹکر مووی میں کیا زبردست فائٹ کی تھی آپ نے دیکھ کے ہی مزا آ گیا تھا،،پہلی بار ہم نے آپکی کھویا کھویا چاند مووی دیکھی تھی تبھی سے ہم آپکی کریزی فینز ہیں،،،صرف ہم ہی نہیں میری تو امی بھی آپکی بہت بڑی فین ہے،،انکی بھی خواہش ہے آپ سے ملنا،،لیکن،،وہ،،،،،،،،،،،،،بیٹا جلدی سے فوٹو بنوائیں اور دوسروں کو بھی موقع دیں،،،،، ابھی وہ کچھ اور بھی بولنے ہی والی تھی کہ قریب ہی موجود کیمسٹری کے پروفیسر ہاشم رضا نے ٹوک دیا، جو کب سے اسکی بنا بریک والی گفتگو سن کر کوفت کا شکار

ہو رہے تھے،،،،،،، ڈائریکٹر اور مثال شیرانی کے کم وبیش یہی تاثرات تھے،،،،خاص طور پر مثال کو تو ماحر کی فینز لڑکیاں بالکل پسند نہیں تھیں،،،وہ ماحر پرصرف اور صرف اپنا حق سمجھتی تھی،،،،،حالانکہ شوبز کی فیلڈ میں تھی،، جانتی بھی تھی کہ اس فیلڈ کے لوگ کسی ایک کے بن کر کبھی نہیں رہتے،،،لیکن پاگل دل کو کیسے سمجھاتی جو صرف اور صرف ماحر کا دیوانہ،،،،البتہ ماحر کے پل پل بدلتے رویوں کی وجہ سے وہ اندازہ نہیں کر پا رہی تھی کہ ماحر کے دل میں حقیقت میں اس کیلئے ہے کیا،،کبھی وہ انتہائی اپنایت کا مظاہرہ کرتا وہ بھی اس انداز سے کہ جیسے وہ صرف اور صرف اس کیلئے بنی ہوئی،،اور مثال اس کا وہ انداز دیکھ کے اور بھی نثار ہو جاتی،،،لیکن کبھی کبھی اس کا مزاج غصیلہ اور بالکل سرد ہو جاتا، تبھی موسموں کی طرح اسکے اس بدلتے مزاج کی وجہ سے وہ کچھ اخذ نا کر پاتی،،،،،،،،لڑکیوں کی طرف سے تپتی نگاہیں ہٹا کے اس نے ماحر سکندر کی طرف دیکھا،،چہرے پر ہلکی سی سمائل وہ اب بھی انہی لڑکیوں کی طرف متوجہ تھا،،اسے شدید کوفت ہوئی دل میں اونہہ بول کے وہ سامنے لوگوں کو دیکھنے لگی،،سب کی نگاہیں ماحر اور اس پر ہی تھیں،،،،،

ماحر سکندر کی نگاہوں کے اصل محور کو کوئی بھی نہیں جان سکا،،،،،حورین کے طویل ڈائیلاگ بھی اس نے خود پہ ضبط کر کے سنے تھے،،،اب تو عادت ہوچکی تھی اسے ایسے فینز سے ملنے اور انکی نان سٹاپ تعریفوں کے انبار برداشت کرنے کی،،،، بظاہر وہ تینوں کی طرف ہی متوجہ تھا لیکن اصل میں اسکی نظریں صرف اور صرف حیا پر جمی ہوئی تھیں،،،جس نے ایک بار بھی اسکی طرف دیکھنے کی زحمت نہیں کی تھی جو ماتھے پر بل لئے کڑی نظروں سے حورین کو گھور رہی تھی،،اسلئے کہ ماحر سکندر کے سامنے ہم ہم کا صیغہ استعمال کر کے حورین نے اسے بھی کے اسکے فینز کی لسٹ میں زبردستی شامل کر دیا تھا،،،،،،لیکن حورین کو اسکی گھوری کی پروا کب تھی وہ ابھی بھی کسی کی پروا کیے بغیر نثار ہونے والی نظروں سے ماحر سکندر کو دیکھ رہی تھی،،،،،جبکہ فرحین بی بی نے تو نظروں کی تاب نا لاتے ہوئے شرما کر اپنی پلکوں کی چلمن ایسے گرا رکھی تھی گویا جیسے ماحر سکندر بطورِ خاص اسے ہی دیکھنے یہاں پر آیا ہو،،،،،،،،،،،،،،،،

سر ہاشم کے ٹوکنے پر حورین نے جلدی سے اپنے پرس سے موبائل نکالا اور کیمرہ آن کر کے موبائل ماحر کی طرف ہی بڑھا دیا کہ سیلفی وہ لے،،ماحر سکندر نے موبائل تھاما تو فرحین اور حورین سیلفی کیلئے اسکے برابر میں کھڑی ہوئیں،حورین نے حیا کی گھوری کی پروا نا کرتے ہوئے اسکے ہاتھ پہ اپنی گرفت جماتے ہوئے اسے بھی ساتھ کھڑے ہونے پہ مجبور کیا،ماحر کے دوسری سائیڈ پر مثال شیرانی کھڑی تھی،،باقی کے جو لوگ سٹیج پر تھے،سوائے سر ہاشم کے وہ انکے پیچھے آکھڑے ہوئے تو ماحر نے ایک گروپ سیلفی لے کر موبائل حورین کو تھمایا،،جس نے موبائل لیتے ہوئے مسکراتے ہوئے شکریہ کہا،،دوسرے گروپس بے صبری سے انکے سٹیج سے ہٹنے کے منتظر تھے،،،سو انہیں سٹیج سے نیچے آنا پڑا، حیا سب سے آگے تھی،اسکا موڈ سخت خراب ہو رہا تھا،،،ماحر نے انہیں سٹیج سے جاتے دیکھ کر کچھ فاصلے پر کھڑے اپنے مینیجر فرقان کو اشارہ کیا جو کہ وہ سمجھتے ہوئے فوراً قریب آیا،،ماحر نے اسکے کان میں کچھ کہا جسے سن کر وہ فوراً سٹیج سے اتر گیا،،مثال کی الجھی نظروں نے فرقان کا دور تک پیچھا کیا،، جو کہ تیزی سے انہی لڑکیوں کے پیچھے جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

حیا حیا ارے یار پلیز رکو تو سہی بات تو سنو،،،،حیا بہت تیزی سے بھاگنے کے انداز میں چلتی جا رہی تھی حورین بھی اسے رکنے کی منت کرتی تیز تیز اسکے پیچھے جا رہی تھی،،مگر وہ کان لپیٹے آگے بڑھتی جا رہی تھی،، فرحین اس سے بھی پیچھے تھی،، ان دونوں کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ حیا کہ موڈ اچانک اتنا خراب کیوں ہو گیا تھا کہ وہ بات بھی نہیں سن رہی تھی،،ٹھیک ہے وہ زبردستی سٹیج پر لے گئیں تھی مگر اتنا غصہ کیوں،،،،،،،،،ہیلو،،،،ایکسکیوزمی،،،،بات سنیں،،،،،،،،اس سے پہلے وہ بھاگ کر حیا کو جا لیتیں پیچھے سے آتی آواز پر وہ اور فرحین دونوں رک گئیں

پیچھے مڑ کر دیکھا تو سامنے کھڑے آدمی کو دیکھ کر

حیران ہوئیں کیونکہ اس آدمی کو وہ سٹیج پر اور اس سے پہلے فلم کی ٹیم کے لوگوں میں دیکھ چکی تھیں،،یعنی یہ آدمی انہی کی ٹیم کا کوئی ممبر تھا،،،سو اسے دیکھ کر حیران اسلئے ہوئیں کہ وہ انکے پیچھے کیوں آیا بھلا،،،،،،،،،،جی،،،،،،آنکھوں میں حیرت لئے حورین نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا،،،،،،،،،،،،،

جی وہ ماحر سر کنٹیکٹ نمبر مانگ رہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایکچولی جو،،،،،،،،،کیا ہمارا نمبر مانگ رہے وہ،،،؟؟؟اسے مزید بولنے کا موقع دیئے بغیر حورین اور فرحین بیک وقت چلائیں،،،،،،انہیں کہاں امید تھی کہ اپنا نمبر دینا کجا وہ ان کا نمبر بھی مانگ سکتا ہے سو وہ حیرت اور خوشی کی ملی جلی کیفیت میں سامنے دیکھ رہی تھیں جو کہ ان کے بجائے ریڈ ڈریس میں ملبوس دور جاتی حیا کو دیکھ رہا تھا،،،،،جس نے ایک بار پیچھے پلٹ کر دیکھا ،،مگر اسکے اشارہ کرنے پر بھی نا رکی اور آگے بڑھ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جی،،،نئیں وہ،،،،،،،نفی میں سر ہلاتے اس نے دور دکھائی دیتی ڈریس والی سے نظریں ہٹائیں اور سامنے کھڑی لڑکیوں کو دیکھا اور بولتے بولتے یکدم رک گیا،،

کچھ پل کو سوچ میں پڑ گیا،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

کیا ہوا مسٹر،،،؟؟ہم کچھ پوچھ رہی ہیں آپ سے

جی جی،،،،،،،آپ لوگوں ہی کنٹیکٹ نمبر مانگ رہے سر اب کے کچھ سنبھل کے مسکرا کر جواب دیا،،،،،،،،،،،،انکے چہروں کے تاثرات سے ہی وہ انکی خوشی+حیرت کا اندازہ کر چکا تھا،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

پلیز جلدی سے اپنے کنٹیکٹ نمبرز اور نام نوٹ کروائیے مجھے دیر ہو رہی ہے،،،،،،،

اوکے،،،،،میرا نام حورین علی ہے اور یہ میرا نمبر،،،،کہہ کر اس نے جلدی سے اپنا نمبر نوٹ کروایا اور پھر فرحین کا نام اور نمبر بھی،،،،،،،،،،،،،،،،،اور آپکی اس تیسری فرینڈ کا کنٹیکٹ نمبر،،،،،؟؟جب وہ انکے نوٹ کر چکا تھا تو اس طرف اشارہ کیا جس طرف حیا گئی تھی،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،وہ حیا،،،،،،،،،اس کا نمبر،،،،،،،،ہاں،،،نئیں لیکن،، حورین بولتے بولتے رک گئی،،،،،،،،،،،،،،وہ ایکچولی اس کی پرمیشن کے بغیر ہم کیسے دے دیں،،،،آپ پانچ منٹ ویٹ کریں تو ہم پو چھ کر آتے ہیں،،،،،،،،،،،،،،،،،،

نہیں سوری پلیز میں ویٹ بالکل نہیں کر سکتا میری ٹیم میرا ویٹ کر رہی ہے،،،تاہم آپکو یقین دلاتا ہوں آپ میں سے کسی کا نمبر بھی آؤٹ نہیں ہوگا،،،،،اور پھر ماحر سر نے مانگا ہے،،،آپ تو جانتی ہیں اتنے بڑے سپرسٹار ہیں وہ، لوگ تو ترستے ہیں ان کا نمبر حاصل کرنے کیلئے اور آپ لوگ تو بہت لکی ہو کہ انہوں نے خود آپکا نمبر مانگا ہے،،،حالانکہ کسی کا نمبر لینا تو دور کی بات اپنا نمبر تک کسی کو نہیں دیتے،،اور آپ لوگ تو،،،،،،،،،اوکے،،،،،، اوکے آپ نوٹ کریں،،،اس کا نام حیات عبدالرحمان ہے،،اور یہ اس کا کنٹیکٹ نمبر،،،،حورین نے جلدی سے اس کی بات کاٹ کر حیا کا نام اور نمبر اسے نوٹ کروایا تو وہ ان کا شکریہ ادا کرکے واپس مڑ گیا،،،،،،،،،،،،جس کا نمبر اسے چاہیے تھا وہ اسے مل چکا تھا،،،،جان گیا تھا کہ اگر تینوں کا نا کہتا تو جس کا چاہیے تھا اس کا بھی نا ملتا شائد

سو واپس جاتے ہوئے اپنی حاضر دماغی پر مسکرایا،،

وہ یونیورسٹی سے سیدھی گھر آئی،،حورین کو بات کرنے کا موقع دیئے بغیر اس نے کال کر کے ڈرائیور کو بلوا لیا تھا،،،،جانتی تھی کہ حورین اسے پوری ہو یونی میں ڈھونڈھتی رہی ہوگی،،اسکی کالز بھی آتی رہیں مگر حیا نے تنگ آ کے موبائل ہی آف کر دیا،،،،،ہمیشہ ہی حورین اس کو ناراضگی دکھاتی تھی،،،،حیا نے بھی آج پورا پورا بدلا لینے کا سوچا،،،تبھی اسکی کوئی کال اٹینڈ نہیں کی ،جب اس نے ڈرائیور کو کال کی تو خوش قسمتی سے وہ مام کے کسی کام سے گاڑی لئے وہ یونیورسٹی کے قریب ہی کہیں آیا ہوا تھا سو وہ فوراً اسکے ساتھ گھر آگئی تھی،،،،آج شوٹنگ دیکھنے کے چکر میں سوائے صبح والے ایک پیریڈ کے کسی پروفیسر نے بھی کوئی پیریڈ نا لیا،،عجیب مصیبت ہے پوری یونیورسٹی ہی اسکے پیچھے پاگل ہوئی پڑی تھی جیسے وہ آسمان سے اترا ہو،،،،آج کا دن اسے ضائع ہی لگا،،،،،،،چہرے پر اکتاہٹ اور بیزاری لئے وہ دروازہ کھول کر لاونج میں داخل ہوئی تو نظر سامنے بیٹھے چائے پیتے بابا اور سائرہ ممی پر پڑی،،،، خلاف توقع آج دونوں گھر پر تھے،،،،،ورنہ اس ٹائم تو زیادہ تر دونوں باہر ہی ہوتے تھے،،،بابا اسے دیکھ کر مسکرائے اس نے بھی چہرے کے زاویے درست کر کے ہلکا سا مسکراتے سلام کیا اور ان کے اشارہ کرنے پر بیگ اور فائل وہیں ٹیبل پر رکھ کر بابا کے ساتھ صوفے پر جا بیٹھی،،ممی دوسرے صوفے پر بیٹھی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیسا گزرا میری پرنسز کا یونیورسٹی میں آج کا دن،،،؟انہوں نے محبت سے حیا کے سر پر ہاتھ رکھا،،،،،،،،،،،،،،،

بس بابا بورنگ،،،،بلکہ یوں سمجھیں آج کا دن میرا ویسٹ ہی ہوا،،،،،،،منہ بنا کر کہتے ہوئے اس نے جھک کر سٹرپس کھول کر نازک سے انتہائی سفید پیروں کو جوتوں کی قید سے آزاد کیا،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، کیوں کیا ہوا،،،،؟؟ پڑھائی نہیں ہوئی آج کیا،،،،؟؟ جی،،،،رحمت بوا سے چائے کا لیتے اس نے اثبات میں سر ہلایا،،،،

وہ کیوں بیٹا،،،،،،؟،،،،،،،،،،وہ ایکچولی بابا آج ہماری یونیورسٹی میں کسی فلم کی شوٹنگ تھی تو پوری یونیورسٹی وہیں پہ امڈی ہوئی تھی،،،،چائے کا کپ لبوں سےلگاتے اس نے جواب دیا،،،،،،،،،،،،،،،

ہائیں شوٹنگ،،،،،،،اب تک خاموشی بیٹھی سے چائے پیتی ممی بھی شوٹنگ کے نام پہ چونکیں،،،،،،،،،،،،

جی کسی مووی کی شوٹنگ تھی،، یونی کے گراؤنڈ میں ان لوگوں نے لگایا ہوا تھا،،،اور وہاں سب انہیں دیکھ کر ایسے پاگل ہو رہے تھے جیسے فلم والے کسی اور سیارے سے آئے ہوں،،،خاص طور پر ہیرو ہیروئن سے تو سب مکھیوں کی طرح چپکے ہوئے تھے،،،انکے ساتھ تصویریں بنوانے کیلئے ایک دوسرے کو ایسے دھکے دے رہے تھے،،،جیسے اگر اسکے ساتھ تصویریں نا لے سکے تو کوئی بہت بڑا عذاب نازل ہو جائے گا ان پہ،،،،،،میرا تو بالکل بھی جانے کا موڈ نہیں تھا،مگر حورین زبردستی کھینچ کے لے گئ،،،،، چائے کا گھونٹ ،گھونٹ پیتے وہ اب تفصیل سے بتا رہی تھی،،،،،،اچھا ہیرو ہیروئن کون تھے،،،،،،،،؟؟؟ ممی کے اشتیاق سے پوچھنے پر وہ ایک پل کو زرا سا حیران ہوئی مگر پھر خیال آنے پر ہلکا سا مسکرائی،،،انکو وہ کئی بار موویز دیکھتے ہوئے دیکھ چکی تھی،،،،ایک بار ممی کے کہنے پر وہ بھی انکے ساتھ مووی دیکھنے بیٹھ گئی تھی مگر وہ ایکشن مووی تھی تبھی خون خرابے اور مار دھاڑ والے سین دیکھ کر وہ گھبرا کر اٹھ گئی تھی،،،،،موویز وغیرہ میں اسے کبھی انٹرسٹ نہیں رہا تھا،،،،،،،،،،،،،

ہیروئن کے نام کا تو مجھے نہیں پتہ لیکن ہیرو کا نام،،،،،،،،،،اس نے ذہن پر زور دیا تو یاد آ گیا،،،،،،،،

ہاں ماحر،،ماحر سکندر نام تھا،،،،،،،،،،اس نے دوبارہ سے چائے کا مگ ہونٹوں سے لگانا چاہا،،،،،،،،،،مگر ممی کے ری ایکشن پر اس نے ٹیبل پر رکھ دیا،،،،،وہ کیا اسکے بابا بھی جو پہلے ماں بیٹی کو آپس میں باتیں کرتا دیکھ کر ٹی وی کی طرف متوجہ گئے تھے،،ٹی وی کی آواز بالکل کم کر کے اپنی شریک حیات کو دیکھنے لگے جو کہ خاصی حیرانی اور اشتیاق سے حیا سے استفسار کر رہی تھیں،،،،،کیا ماحر،،،ماحر سکندر خان آیا تھا تمہاری یونی،،،،،،؟؟؟؟جی وہی،،،،،،کہیں آپ بھی انکی فین تو نہیں،،،،؟؟حیا مسکرائی جس طرح وہ خاصے اشتیاق سے پوچھ رہی تھیں، حیا کو یہی لگا

ہاں میں نے اسکی کچھ موویز دیکھی ہوئی ہیں،،فیورٹ ہیرو وہی ہے میرا،،،،،،وہ بھی مسکرائی تھیں،،،،،،،،،،،،،ارے واہ،، ہمیں تو پتہ بھی نہیں تھا کہ ہماری بیگم ہمارے علاوہ بھی کسی کی فین ہیں،،،عبدالرحمان صاحب کے چھیڑنے پر حیا نے قہقہہ لگا جبکہ سائرہ جھینپ گئیں،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

ویسے حیا وہ رئیل میں کیسے دکھتا تھا،،،؟۔موویز میں تو بہت ہینڈسم دکھتا ہے،،،،،سائرہ بیگم نے پھر اشتیاق سے پوچھا،،،،تو حیا کی آنکھوں میں اسکی شبیہہ لہرائی، اسے اسکی گہری نگاہیں یاد آئیں،،،اگرچہ اسکے قریب جانے پر حیا نے سر سری سا اسکی طرف دیکھا تھا وہ بھی تب جب وہ انکی طرف متوجہ نہیں تھا،،مگر ناجانے کیوں اسے فیل ہوا تھا کہ حورین اور فرحین کی نسبت وہ اسکی طرف زیادہ غور سے دیکھتا رہا تھا،،،،،،دیکھا بابا ممی آپکے سامنے ہی کسی اور کو ہینڈسم بول رہی ہیں،،،،اب کے اس نے بھی ممی کو چھیڑا تو عبدالرحمان ہنسنے لگے جبکہ سائرہ بیگم نے مصنوعی ناراض سے حیا کو گھورا تو وہ بھی ڈھٹائی سے مسکرا کر بیگ اور فائل اٹھاتے ہوئے کھڑی ہوگئی،،

مون کہاں ہے،،،،؟؟ وہ اپنے کمرے میں بیٹھا کھیل رہا ہے اور وہ تو بتاؤ جو میں نے پوچھا،،انکی سوئی ابھی تک ماحر سکندر پہ ہی اٹکی ہوئی تھی،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

ممی اس بات کا جواب تو آپکو حورین زیادہ اچھے سے دے سکتی ہے کیونکہ آپ کی طرح وہ بھی اس کی فین ہے،جب وہ آئے گی تو آپ اس سے پوچھیے گا،،،انہیں جواب دیے کر وہ مسکراتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اپنے شاندار سے پروڈکشن ہاؤس میں داخل ہوا پیچھے اس کا سیکرٹری اور مینیجر فرقان تھے،،،گلاس ڈور کھول کے وہ سامنے والے کمرے میں داخل ہوا،،،،یہاں بیٹھ کر وہ فلم کے حوالے سے ڈسکشن کیا کرتا تھا،،،یہ چونکہ اس کا اپنا پروڈکشن ہاؤس تھا تو اس میں وہ اپنے ذاتی پیسوں سے ہی فلمیں بناتا تھا،،،ہیرو تو وہ خود ہوتا ہی تھا،،،باقی ڈائریکٹر پروڈیوسر کے فرائض بھی وہ تینوں بھائی ہی سنبھالتے تھے،،،،،سو تینوں بھائی مینیجر وغیرہ سے اسی روم میں ہی فلم کے بارے میں ڈسکشن کیا کرتے تھے،،،،،،،ابھی وہ ڈائریکٹر واجد علی کی فلم برکھا کی شوٹنگ کروا رہا تھا جو کہ آخری مراحل میں تھی ،ایک دو دن کی ہی شوٹنگ باقی رہتی تھی،،،کچھ سینز یونیورسٹی کے تھے جسے وہ کل شوٹ کر آئے تھے

اب جیسے ہی برکھا کی شوٹنگ کمپلیٹ ہوتی تو وہ اپنی ذاتی فلم جو کہ کچھ عرصے سے زیر غور تھی اسکی شوٹنگ سٹارٹ کرنے کا سوچ رہا تھا مگر ابھی تک فلم کیلئے ہیروئن سلیکٹ نہیں ہوئی تھی،،،،،،انڈسٹری کی کچھ ہیروئنز کے نام اسکی زیر غور لسٹ میں شامل تھے مگر اس نے ابھی تک کوئی نام سلیکٹ نہیں کیا تھا،،،،،،اسکی لسٹ میں جتنے بھی نام شامل تھے،، وہ سب انڈسٹری کے ہی چہرے تھے جو لوگوں نے پہلے سے ہی دیکھے ہوئے تھے،،،، وہ اس بار اپنی فلم کیلئے کوئی نیو فیس متعارف کروانا چاہتا تھا،،،،کوئی ایسا دلکش چہرہ جو لوگوں کو چونکا دے

کوئی ایسا چہرہ جسکی وجہ سے اسکی فلم باکس آفس پر تباہی مچا دے،،،،لوگ دیکھنے کیلئے ٹوٹ پڑیں

یہی وجہ تھی کہ اس نے ابھی تک کوئی ہیروئن سلیکٹ نہیں کی تھی،،،،مگر کل ایک چہرے کو دیکھنے کے بعد اسے لگا جیسے اسکی تلاش ختم ہوگئی ہو،،،

جیسا چہرہ وہ چاہتا تھا بالکل ویسا ہی تو تھا،سو کل سے کافی خوش تھا وہ،،،،اب بس اسے اس ساحرہ سے کنٹیکٹ کرنا تھا،،،،،،،،،،،،اندر داخل ہو کر وہ سیدھا ریوالنگ چیر پر آبیٹھا،،،،دونوں اطراف سے رکھے صوفے بھاری دبیز نرم قالین دیواروں پر لگی قیمتی پینٹنگز اور ماحر سکندر کی تصویریں،،کچھ تصویریں ہاتھ سے بنائی گئی تھیں،،،ہاتھ سے بنائے گئے یہ ماحر سکندر کے وہ پورٹریٹ تھے جو اسکے مختلف فینز نے بنا کے بھیجے تھے،،،،ڈارک کریم کلر کے بیش قیمت پردے،،، کمرے کا پینٹ اور صوفوں کے کلرز سب ایک جیسے تھے،،،،،دیکھنے میں جیسے یہ کسی شہزادے کا ڈشکشن روم لگتا ہی لگتا تھا،،،جہاں بیٹھ کر وہ شہزادہ اپنے دوستوں سے باتیں کرتا ہو،،،ماحر سکندر بھی کسی شہزادے سے کم نہیں تھا،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

سر واجد علی کی فلم کی شوٹنگ تو پرسوں تک ختم ہو جائے گی،،،اسکے بعد اپنی فلم کی شوٹنگ سٹارٹ کرنی تھی نا،،،،؟سو آپ اجازت دیں تو،،،،بجٹ اور ڈیٹس فائنل کروں،،،،،،؟؟مینیجر فرقان سامنے والی چیر پر بیٹھا پوچھ رہا تھا،،،،،،ہاں تم ایسا کرو فلحال بجٹ دیکھو اور فکس حساب کر کے مجھے بتاؤ اور سٹوری رائٹر سے بھی کنٹیکٹ کرو کہ اسے کل اور پرسوں کے علاوہ کسی اور دن کا ٹائم دو،،آ کے ملے مجھ سے،،،،،فلحال ڈیٹس فائنل نہیں کرنی کیونکہ ڈیڈ آؤٹ آف کنٹری ہیں،،وہ ایک دو دن تک آجائیں گے،،، ایک تو سٹوری بھی ان سے ڈسکس کرنی ہے،،دوسرا عبیر اور زین بھی آفس میں بزی ہیں،،،،سو ڈیڈ کے آنے تک ویٹ کرنا ہے،،،،ابھی مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے،،،اب شائد پرسوں ہی یہاں آؤں یہاں،،،،تب تک تم یہاں کے سارے کام ہینڈل کرنا،،،،،،،اوکے سر،،،،مگر ہیروئن،،،،،؟؟؟

وہ جو مینیجر کو ہدایات دے کر اٹھنے ہی لگا تھا اسکے ہیروئن کا پوچھنے پہ چھم سے آنکھوں کے سامنے کل والا چہرہ آیا ،،،،جو کل رات تک اسکے دماغ میں نقش رہا تھا،،،،کل یونی سے واپسی پر وہ اتنا بزی رہا تھا کہ چاہنے کے باوجود فرقان کو کال کر کے پوچھ نہیں آسکا

مگر آج صبح سے یہ بات نا جانے کیسے اسکے دماغ سے نکلی ہوئی تھی،،،،،اسلئے فرقان کے ہیروئن کا پوچھنے پر اسے وہ چہرہ پھر سے یاد آیا سو چیر سے اٹھتے اٹھتے بیٹھ گیا،،،،،،،،،،،،،،، او ہاں یاد آیا فرقان،،،کل یونیورسٹی میں جس لڑکی کا کنٹیکٹ نمبر لینے کا کہا تھا،،اس کا نمبر لیا تھا،،،،،،؟؟؟

جی سر لیا تھا،،،وہ تو چلی گئی تھی لیکن اسکی فرینڈز سے میں نے اس کا نمبر لے لیا تھا،،،،،ویری گڈ،،،،ماحر ہلکا سا مسکرایا،،،،،،،،،

وہ ہماری فلم کیلئے پرفیکٹ ہیروئن ثابت ہوگی فرقان تم دیکھنا،،،اگر اس نے ہماری فلم میں کام کیا تو فلم سپر ہٹ ہوگی،،،،کیا یونیک خوبصورتی تھی اسکی،،،ایسا ہی معصوم اور فرپش حسن تو چاہئیے تھا مجھے اپنی فلم کیلئے،،،،،، بہت بھاری بجٹ کی فلم بنائیں گے ہم کیونکہ مجھے یقین ہے جتنا ہم لگائیں گے اس کی وجہ سے فلم ڈبل بزنس کرے گی،،،،، ہمیں فائدہ ہی فائدہ ہوگا ،،،،وہ کسی دکاندار کی طرح اپنے فائدے کا حساب لگا رہا تھا،،،،

نام پوچھا تھا اس کا،،،،،؟؟یکلخت نام کا خیال آیا

جی سر اسکی فرینڈز نے بتایا تھا،،،حیات عبدالرحمان نام ہے اس لڑکی کا،،،،،،،،،،،،،فرقان کے بتانے پر اس نے ہونٹ سیٹی کے انداز میں سکیڑے

واؤ،،،،حیات،،،یعنی زندگی،،،،،،انٹرسٹنگ،،،،فرقان میرا خیال ہے فلم میں بھی اس کا یہی نام بیس گے،،،،

سر پہلے اس لڑکی سے پوچھ تو لیں کے وہ فلم میں کام کرنے کیلئے راضی ہو گی بھی یا نہیں،،،،مینیجر نے اسے احساس دلانے کی کوشش کی زیادہ خیالی پلاؤ نا پکائیں پہلے ہیروئن صاحبہ سے بھی کنٹیکٹ کرنے کی زحمت کرلیں کہ وہ راضی ہے بھی یا نہیں یہ اسکا نمبر،،،،ساتھ ہی اپنا فون ماحر کی طرف بڑھایا

اسکے موبائل سے نمبر اپنے موبائل میں سیو کرتے ہوئے بولا،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

آف کورس کیوں نہیں راضی ہوگی،،،،،لوگ ماحر سکندر خان کے ساتھ کام کرنے کیلئے ترستے ہیں،،،،اور وہ تو لکی ہے کہ بنا کسی کوشش کے سفارش کے فری میں گولڈن چانس مل رہا،، وہ پاگل ہے جو انکار کرے گی،،،اور میں تو سوچ رہا ہوں اس سے ایک ایٹم سانگ بھی کرواؤں گا،،،،،اس نے تو خواب میں بھی نہیں سوچا ہو گا کہ ماحر سکندر خان اسے ایسی آفر دے گا

اسکے لہجے میں غرور ہی غرور تھا جبکہ فرقان تو لفظ ایٹم سانگ پر کھویا ہوا تھا،،،،جس لڑکی نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ ماحر سکندر کی ٹیم کا ہی بندہ ہے اسکی بات سننا گوارا نا کی جسکے چہرے کے ناگوار تاثرات وہ سٹیج پر دیکھ چکا تھا،،،اس وہ ماحر سکندر کی فین کہیں سے بھی نہیں لگی،،،،باقی لڑکے لڑکیوں کو بھی اس نے دیکھا تھا جو کہ ماحر کو دیکھ کر خوشی سے پاگل ہوئے جا رہے تھے،،،،مگر اس لڑکی کے چہرے پر ایسا کچھ نہیں تھا،،صاف لگ رہا تھا کہ اسکی فرینڈز زبردستی سٹیج پر لائی تھیں،،،،،جو اتنے بڑے سپرسٹار سے بالکل امپریس نہیں لگی تھی وہ بھلا اسکی فلم میں کام کرنے میں کیوں دلچسپی لینے لگی،،،،مجھے نہیں لگتا وہ راضی ہو گی اور یہ ماحر سر اس سے آئٹم سونگ کروانے کے سپنے دیکھ رہے وہ دل ہی دل میں استہزایہ ہنس دیا،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،