171.9K
78

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Hayat (Episode 64) Last Episode (Part - 2)

Meri Hayat By Zarish Hussain

“ویسے تم میرے لئیے اتنی حساس کب سے بنی ہو یار

مجھے تو یقین ہی نہیں آ رہا کہ مجھے رتی بھر اہمیت نا دینے والی میری اتنی حسین بیوی کے نزدیک اچانک

سے میں اہم ہو گیا ہوں۔۔۔بتاؤ حسین لڑکی مجھ ناچیز

کا خیال کیسے آ گیا۔۔میرے معاملے میں اتنی پوزیسیو

کب اور کیسے ہو گئی تم۔۔۔؟؟

“وہ سیمنٹ کی بینچ پر اسکے برابر میں بیٹھا خوشی سے بھرپور لہجے میں بول رہا تھا۔۔۔۔ اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئیے وہ بڑی والہانہ نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔ نظروں کی طرح لہجہ بھی نرم اور لو دیتا ہوا تھا۔۔چہرے پر رنگ تھے۔۔روشنیاں تھیں۔۔اس نے

نے جو چاہا تھا وہ پا لیا تھا۔۔۔ماحر خان جیسے بہت ہی کم لوگ ہوتے ہیں دنیا میں۔۔۔۔۔۔ خواہشیں جنکی جھولی میں آن گرتی ہیں۔۔۔وہ بھی ایک ایسا خوش نصیب تھا

جسکی مٹھی میں سب کچھ تھا۔۔۔

سنو حسین لڑکی۔۔۔۔۔ اب مجھ سے کبھی بدظن مت ہونا

نا اب مجھ سے کبھی نفرت کرنا اور نا بے رخی برتنا۔۔۔۔

اب ہمیشہ ایسی ہی رہنا۔۔۔۔۔ اگر میں کہوں کہ آئی لو یو سو مچ تو یہ لفظ بہت چھوٹا اور عام سا لگتا ہے میری اس محبت کے اظہار کیلئے جو میں تم سے کرتا ہوں۔۔۔۔

میں محبت بھرے ڈائیلاگز بھی نہیں بولوں گا کیونکہ

پھر تم سوچو گی کہ فلمی ایکٹر ہے نا اسلیئے ڈائیلاگ بولنے میں ماہر ہے۔۔۔۔ بس میں سادہ لفظوں میں صرف اتنا کہوں گا کہ لاکھوں دل میرے لئیے دھڑکتے ہونگے

لیکن میرے سینے میں جو دل دھڑکتا ہے وہ صرف اور

صرف تمہارے لئیے ہی دھڑکتا ہے۔۔۔۔ اسکا لہجہ اسکی محبت کی شدت اور سچائی کا آئینہ تھا۔۔۔۔

“حیات کے گلابی چہرے پر بے اختیار دھنک رنگ بکھر گئے۔۔۔ سرخ عارضوں پر دراز گھنی خمدار پلکیں جھک گئیں۔وہ یکدم نروس ہو کر اسکی گرفت سے اپنے ہاتھ نکالنے لگی تو وہ اسی شرارت بھری مسکراہٹ کیساتھ نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔۔۔۔

یہ ہاتھ تھامنے کی اجازت تم کل رات ہی دے چکی ہو

جان من۔۔۔۔ لہذا اب چھوڑنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔اسکی نگاہیں وفور شوق سے لو دے رہی تھیں۔۔۔

“اچھا سنو۔۔۔میرے ساتھ دنیا گھومو گی۔۔۔؟؟

کیوں نہیں مجھے تو گھومنے پھرنے کا ہمیشہ سے شوق رہا ہے۔ہاں یہ اور بات ہے کہ پھر تھک جلدی جاتی ہوں۔۔

“لیکن اب میں تمہارے ساتھ ہونگا نا۔جہاں تم تھکو گی میں تمہیں اپنی بانہوں میں سمیٹ لوں گا۔۔۔۔ میرا پیار تمہیں تھکنے نہیں دے گا کبھی۔اسکے لہجے میں محبت

ہی محبت تھی۔۔۔

“یہ جگہ بہت حسین ہے نا۔۔۔حیات نے بات بدل دی۔۔۔۔

بالکل بہت حسین ہے۔۔۔۔۔اپنے ہاتھوں لئیے اسکے ہاتھ کو ماحر نے ہونٹوں سے چھوا تو وہ بری طرح جھینپ گئی

پلیز پبلک پلیس پر ایسا نا کریں۔۔وہ منمنائی۔۔ سرخیاں جھلکاتے اسکے گلابی چہرے پر بلا کی معصومیت اور محسور کر دینے والی جاذبیت تھی۔۔

کونسی پبلک پلیس۔۔۔۔۔۔یہاں دور دور تک ہمارے علاؤہ کوئی نہیں ہے۔۔۔۔ ماحر نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔

چلو کوئی بات نہیں تمہیں شرم آتی ہے تو اسطرح کی

حرکتیں باہر نہیں کروں گا لیکن اپنے بیڈروم۔۔”

وہ شرارتی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے مسکرایا۔۔

آرلینڈو بہت خوبصورت سٹیٹ ہے۔۔ہم ہر سال یہاں آیا کریں گے۔۔۔حیات نے دانستہ اسکی بات کاٹی۔۔

سویٹ ہارٹ۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہارے مل جانے کے بعد اب دنیا کی خوبصورتی میرے لئیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔۔۔۔۔تم جس جگہ کا دنیا کے جس کونے کا بولو گی میں تمہیں وہاں لے چلوں گا۔۔۔۔تم جگہ کی خوبصورتی دیکھنا اور

میں تمہاری خوبصورتی دیکھتا رہوں گا۔۔۔۔

کیا ہو گیا ہے بس کریں۔۔۔۔دنیا میں اور بھی بہت حسین لڑکیاں ہیں میں کوئی آخری حسینہ نہیں ہوں۔۔۔ماحر کا بار بار اسکی تعریف کرنا اسے خفت میں مبتلا کر رہا تھا تبھی وہ جھنجھلا گئی۔۔۔۔

اسکے جھنجھلانے پر وہ ہنس پڑا۔۔۔۔

“میں پوری دنیا گھوما ہوں یار۔۔۔ہر ملک کا حسن دیکھا ہے مگر تمہارے جیسا امپریس تو مجھے کسی نے نہیں کیا۔ایکچولی تمہارا حسن نا خالص مشرقی ہے اور نا ہی خالص مغربی۔۔۔۔۔تم مشرق و مغرب کے سنگم کا بہترین شاہکار ہو۔۔میں بہت کم ہی امپریس ہوتا ہوں کسی سے

تم نے مجھے ایسے ہی پاگل نہیں کیا۔تمہارے حسن میں

وہ کشش ہے جو اب تک کسی اور حسین لڑکی میں تو نہیں دیکھی تھی میں نے۔۔۔۔۔۔۔۔ شائد یہ تمہاری حیا کی کشش ہے۔۔پہلی بار حسن اور حیا کو میں نے ایک ساتھ

دیکھا ورنہ اب تک تو میں بولڈ حسینائیں ہی دیکھتا آ

رہا تھا جنکے حسن میں صرف وقتی اٹریکشن ہوتی ہے

انہیں پانے کے بعد ختم ہو جاتی ہے۔۔۔جبکہ تمہیں پا کر

میں تمہارے لئیے مزید بے قرار ہوتا جا رہا ہوں۔۔۔

اور تم کہہ رہی ہو نا کہ تم دنیا کی کوئی آخری حسین لڑکی نہیں ہو تو آج آرلینڈو کی وکائیوا ندی کے ساحل پر میں یعنی ماحر سکندر خان تمہیں اپنے پورے ہوش و حواس میں۔۔( The last beautiful girl of the world) کا ٹائٹل دیتا ہوں۔۔۔

اسکے آخری الفاظ پر وہ بے ساختہ ہنس پڑی۔۔۔۔

اسکی ہنسی بھی بہت روشن بہت شفاف تھی۔۔۔

یہ ٹائٹل کتنے عرصے کیلئے ملا ہے مجھے۔۔کب تک قائم رہیں گے اپنے اس دعوے پر۔۔۔چہرے پر آئی لٹوں کو کان

کے پیچھے اڑستی وہ دلچسپی سے پوچھ رہی تھی۔۔۔

“ہمیشہ۔۔۔ساری زندگی۔۔وہ جو اسکی ہنسی کو غور سے دیکھ رہا تھا برجستہ بولا۔۔۔

اوکے دیکھیں گے کہ آپ اپنی اس بات پر کتنا عرصہ قائم رہتے ہیں۔۔۔۔حیات نے کندھے اچکا کر کہا۔۔۔

ویسے تم کیوں خود کو حسین نہیں سمجھتیں۔۔۔؟؟

حسین وسین کا مجھے نہیں پتہ۔۔۔۔۔بس اتنا جانتی ہوں

کہ اللّٰہ نے ہر عیب سے پاک اور مکمل بنایا ہے اسکا جتنا شکر ادا کروں کم ہے۔۔۔۔۔۔وہ سادگی سے بولی۔۔۔

وہ تاسف بھرے لہجے میں بولا۔۔۔یار تم کسر نفسی سے کام لے رہی ہو۔۔تمہیں اندازہ ہی نہیں اپنی خوبصورتی کا خیر کوئی بات نہیں بہت جلد ہو جائے گا اندازہ جب

مجھ جیسا قدر دان دن رات سرہائے گا تمہارے حسن کو۔۔وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر اٹھاتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔ وہ دونوں گیلی ریت پر چلتے ہوئے کچھ آگے گئے تھے جب حیات کی نظر سامنے ریت پر لیٹے کچھوؤں پر پڑی تو وہ رک گئی اور گھبرا کر اسکا بازو تھام لیا۔۔۔

“کیا ہوا۔۔؟؟وہ اسکے اسطرح رکنے اور گھبرا کر اپنا بازو تھام لینے پر حیران ہوا۔۔۔۔۔پھر اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو مسکرایا اور تسلی دیتے ہوئے بولا۔۔۔۔

ڈونٹ وری۔ یہ اٹیک نہیں کرتے اور کر بھی کیسے سکتے ہیں خود تو رینگ رینگ کر چلتے ہیں۔۔۔۔ آؤ تمہیں جھیل کی سیر کراتا ہوں۔۔وہ اسکا ہاتھ تھام کر اسطرف لے گیا جہاں بہت سارے نیلے پیلے کینئو ریت پر اوندھے پڑے ہوئے تھے۔انکے پاس ایک آدمی کھڑا تھا جو ادائیگی کے بعد کینئو سیاحوں کے حوالے کرتا تھا۔۔۔۔۔ تاکہ وہ جھیل میں اتر کر اصل مزہ لے سکیں۔۔۔ ماحر نے کینئو لینے کے ساتھ ڈرائیور کا بھی مطالبہ کیا تاکہ اسے نا چلانا پڑے اور وہ آرام سے حیات کیساتھ پانی کے سفر کو انجوائے کر سکے۔اس شخص کے اشارے پر ایک آدمی آگے آیا اور ایک سفید رنگ کا کینئو ریت سے گھسیٹ کر پانی میں اتارا اور خود بیٹھ کر چپو تھام لئیے۔۔۔ وہ دونوں کینئو کی پچھلی سیٹوں پر بیٹھے تھے،حیات کچھ گھبرا رہی تھی گو کہ ندی کوئی بہت بڑی یا بہت خطرناک نہیں تھی مگر وہ پھر بھی ڈر رہی تھی کیونکہ اسے پانی کا فوبیا تھا۔۔۔ماحر نے اسکا گھبرانا محسوس کیا تو مکمل

طور پر اپنے بازو کے حلقے میں اسے لے لیا۔۔۔۔

کنارے سے الگ ہوئی تو بہاؤ میں بھی روانی آنے لگی۔وکائیوا ندی درختوں کے سبزے تلے نیلگوں پانی کا ایک وسیع ذخیرہ تھا جسمیں مگرمچھوں کی بھی دنیا آباد

تھی جب وہ پانی میں اتر چکے تھے تو یہ مگرمچھوں والی بات اسے تب پتہ چلی اگر پہلے پتہ چلتی تو شائد

وہ کنئیو میں بیٹھتی ہی نہیں۔۔۔۔۔۔ اب اسے یہی خوف لاحق تھا کہ اگر انکا کینئو پانی میں الٹ گیا تو پھر کیا

ہوگا پانی میں تو مگرمچھ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ سوچ سوچ کر خوفزدہ ہوئے جا رہی تھی۔۔۔۔۔

“تم گھبراؤ نہیں میں ہوں نا تمہارے ساتھ۔۔۔۔ سوئمنگ بہت اچھی آتی ہے مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ تم مجھے سوئمنگ چیمپئن کہہ سکتی ہو۔۔۔ ایک فلم کیلئے ماسکو کے ایک سوئمنگ کلب میں ایک سال کیلئے باقاعدہ ایڈمشن لیا تھا میں نے۔۔۔۔۔ پھر بھلا اپنی پیاری بیوی کو ڈوبنے دے سکتا ہوں میں۔۔۔ تم بس جھیل کے سفر کو انجوائے کرو وہ اس کو قریب کئیے نرمی سے کہہ رہا تھا۔۔۔۔

اسکی مسلسل تسلیوں کے بعد حیات کا خوف قدرے کم

ہو گیا تو وہ دلچسپی سے جنگلات میں گھری ندی کے سفر کو انجوائے کرنے لگی۔ندی کے کناروں پر لمبی لمبی

کائی اور خورد رو پودوں کے انبار تھے۔۔۔۔ دونوں جانب

گھنے جنگلات کی پرسکون خاموشی تھی۔ماحر نے اسے

بتایا یہاں ندی کے آس پاس جتنے بھی جنگل ہیں وہاں کوئی قدم نہیں رکھ سکتا۔۔یہاں حکومت کی طرف سے سختی سے منع ہے۔بلکہ ان جنگلات سے ایک ٹہنی توڑنا

بھی قانوناً جرم ہے۔۔۔۔۔۔ ہم نے ایک بار اپنی ایک فلم کی شوٹنگ انہی جنگلوں میں کرنا چاہی تھی۔۔۔۔ مگر ہمیں پرمیشن نہیں ملی تھی کیونکہ ان وکائیوا جنگلوں میں بہت سے خطرناک جانور ہیں جنمیں سرفہرست ریچھ اور شیر ہیں۔۔۔۔۔ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے وہ اسے ندی اور اسکے ارد گرد کے جنگلوں کی انفارمیشن دے رہا تھا۔۔

جس کو سنتی حیات عبدالرحمان کے چہرے پر کبھی دلچسپی تو کبھی خوف لہرانے لگتا۔۔۔ تقریباً آدھا گھنٹہ پانی میں رہنے کے بعد وہ لوگ وکائیوا ندی سے باہر آئے اور مزید ایک گھنٹہ وہاں گزار کر گھوم پھر کر آرلینڈو واپس آ گئے تھے۔۔۔۔

❤️

“اپنے فون پر گفتگو ختم کر کے اس نے مڑ کر حیات کی

طرف دیکھا جو آلتی پالتی مارے بیڈ پر بیٹھی بے بی پنک کلر کے دیدہ زیب سوٹ میں ہم رنگ ڈوپٹے کو نماز کے سٹائل میں اوڑھے ہاتھ میں تھامے چھوٹے سے قرآن مجید کو چوم کر وہ آنکھوں سے لگا رہی تھی۔۔۔۔ سادہ معصوم روشن چہرہ۔پاکیزگی کا احساس جسکی ڈھکی

پیشانی سے جھلکتا تھا۔اتنا باپردہ مکمل صاف و شفاف حسن اس نے اب تک بھلا کہاں دیکھا تھا۔شوبز انڈسڑی

کی حسیناؤں کے ننگ دھڑنگ حسن کو ہی وہ اب تک

داد دیتا آیا تھا مگر حیات عبدالرحمان کے اسکی زندگی

میں آنے کے بعد اسے معلوم ہوا کہ پاکیزہ حسن کیسا ہوتا ہے اسکی ابتداء اور انتہا کہاں سے ہوتی ہے۔اسکی

آنکھوں کی حدت وہ محسوس کر رہی تھی قرآن مجید کو اپنے ہینڈ بیگ میں رکھنے کے بعد اسکی طرف پلٹ کر دیکھا۔۔۔سامنے صوفے پر بیٹھا اسے نظروں کے حصار

میں لئیے ہوئے تھا۔۔حیات کے دیکھنے پر مسکرایا۔اسکی طرف پیش قدمی کی۔۔ صوفے سے اٹھ کر اسکے مقابل آ بیٹھا۔حیات کی جھکی پلکیں اس توجہ پر لرزنے لگیں۔اسکی اتنی فرینکس کے باوجود وہ ابھی تک خود اس سے زیادہ فرینک نہیں ہو پائی تھی۔۔۔ ایک پل میں اگر فرینک ہوتی تو دوسرے پل ہی اسکی شوخ باتیں اسے نروس کر دیتیں۔۔۔۔ وہ اسکے بالکل پاس بیٹھا مخمور نگاہوں سے اسکے چہرے پر بکھرے رنگوں کو دیکھ رہا تھا۔۔زندگی کا یہ رنگ حسین تھا۔۔۔آسودہ تھا۔۔۔۔فرحت بخش تھا۔۔وہ اسے دیکھتا رہا پھر مسکرا دیا۔۔۔۔

“دو گھنٹے بعد نیویارک کیلئے فلائٹ ہے نا ہماری۔۔پھر وہاں کتنی دیر رکیں گے ہم۔۔۔۔۔؟؟ وہ اسکی نظروں کی سے کنفیوژ ہو رہی تھی تبھی خود پر سے اسکی توجہ ہٹانے کیلئے سوال کیا۔۔۔

“ایک گھنٹہ پہلے ہی تو بتایا تھا یار کہ صرف ایک دن۔۔۔

ماحر کی مسکراہٹ گہری ہوئی وہ اسکی نروسنس سے

آگاہ تھا۔اسلئیے انجوائے کر رہا تھا۔۔

اچھا ایک بات کہنی ہے تم سے۔۔ویسے تو میں نے تمہیں دو بار منہ دکھائی دی تھی۔۔۔ اور بدقسمتی سے دونوں دفعہ ہی تم نے مجھ بیچارے کے منہ پر دے ماری۔۔۔۔۔

وہ ہنس پڑا۔۔۔۔ حیات شرمندہ ہو کر نظریں جھکا گئی۔۔

لیکن اب کی بار جو رونمائی گفٹ میں تمہیں دینے والا ہوں آئی ایم ہنڈرڈ پرسنٹ شیور۔۔وہ تمہیں ضرور پسند آئیگا۔۔اسکے لہجے میں یقین تھا۔۔۔حیات چونک کر اسے دیکھنے لگی۔۔۔

“ایسا کیا گفٹ ہے۔۔۔؟؟ اسے تجسسس ہوا

“رکو ویٹ کرو ابھی دکھاتا ہوں۔۔وہ اٹھ کر روم سے باہر چلا گیا۔پانچ منٹ بعد جب واپس آیا تو اسکے ہاتھ میں جو گفٹ اس نے دیکھا۔۔پہلے ازحد حیران ہوئی۔۔پھر وہ

حیرانی خوشگواریت میں بدلنے لگی۔۔۔۔۔ بالکل ویسا ہی خوبصورت طوطا۔۔۔۔ جیسا اس نے جنگل میں دیکھا تھا جسکے پیچھے وہ جنگل میں کہیں سے کہیں جا پہنچی تھی۔۔۔

“کیسا لگا اپنی منہ دکھائی کا گفٹ۔۔۔۔۔؟؟ پنجرہ اسکی طرف بڑھاتے ہوئے ماحر نے متبسم لہجے میں پوچھا

حیات نے شکرگزارنہ نگاہوں سے اسے دیکھا اور اسکے ہاتھ سے پنجرہ لے لیا۔۔وہ جتنی حیران تھی اسی قدر

خوشگوار تاثر اسکے صبیح چہرے پر پھیلا ہوا تھا۔۔۔

بہت اچھا بہت خوبصورت۔۔۔وہ اشتیاق بھری نگاہوں سے طوطے کی طرف دیکھتے دلکشی سے مسکرائی۔۔

وہ بھرپور مسکرایا۔۔۔

مگر تم سے زیادہ نہیں۔۔۔اس نے قریب ہو کر پھر دھیرے

کہا۔۔وہ جھینپ سی گئی۔۔۔

مگر آپ کو کیسے پتہ چلا کہ مجھے پیرٹ پسند ہیں۔۔؟

اس دن تم جنگل میں اسی طوطے کے پیچھے گئی تھی نا۔۔ماحر نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔میری ٹیم کے ایک فرد نے تمہیں اس طوطے کے پیچھے جنگل میں جاتے دیکھا تھا۔۔۔۔۔یہ بات اگر وہ ایڈیٹ مجھے فوراً بتا دیتا تو جو

غلطی تم سے ہوئی جنگل میں جانے والی وہ نا ہوتی۔۔۔

اگر مجھے پہلے پتہ ہوتا کہ parrots اتنے پسند ہیں تو

میں پہلے ہی لا دیتا تمہیں۔۔تم جانتی ہو۔۔۔کیا حال ہوا تھا میرا جب تمہیں گاڑی میں نہیں پایا اور مجھے پتہ

چلا کہ تم جنگل کی طرف گئی ہو۔وہ اسکے اتنے نزدیک

کھڑا تھا کہ اسکے لباس سے اٹھتی پرفیوم کی ہوش ربا مہک اسکے گرد چکرانے لگی تھی۔۔۔

جانتی ہو کیا حال ہوا تھا میرا۔۔۔دونوں شانوں سے تھام کر وہ اسکی طرف جھکا۔۔۔۔۔چہرے پر بے پناہ سنجیدگی اور آنکھوں میں وحشت سی بھری ہوئی تھی۔۔۔۔حیات

کا دل بے پناہ زوروں سے دھڑکنے لگا۔۔۔

جان نکل گئی تھی میری۔۔۔۔اسکے وجہہ چہرے پر کرب سا چھا گیا تھا۔۔۔کیوں کیا تم نے ایسا۔۔۔؟؟ تمہیں پیرٹ

چاہیے تھا تو مجھے نہیں کہہ سکتی تھیں تم۔۔۔۔۔۔ بولو کیوں کیا ایسا تم نے بولو۔۔۔۔۔۔ ایک بار بھی اپنی جان کا نہیں سوچا۔کیا تمہارے نزدیک اسقدر غیر اہم ہے تمہاری جان۔جو تم نے اتنی لاپرواہی کا مظاہرہ کیا اور طوطے کے پیچھے جنگل میں گھس گئیں۔۔۔۔۔ جانتی ہو دنیا کا خطرناک ترین جنگل ہے وہ۔۔۔عام لوگوں کی تو ہمت ہی

نہیں ہوتی وہاں جانے کی۔۔۔صرف تربیت یافتہ شکاری

وہاں جاتے ہیں اور تم ایک نازک سی لڑکی اکیلی چلی گئیں وہاں۔۔۔تمہیں ذرا بھی میرا خیال نہیں آیا۔۔۔۔۔اللّٰہ

نا کرے اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو۔۔۔بھرائے ہوئے لہجے میں بولتے بولتے اسکی دیوانگی بڑھی تو اسے خود میں بھینچ کر سسکنے اور دیوانہ وار اسکے چہرے کے

نقوش کو چومنے لگا۔۔حیات گنگ کھڑی تھی۔۔اسکا بے

تحاشا دھڑکتا دل جیسے دھڑکنا بھول چکا تھا۔۔ماحر

کی طلسمی قربت اسے جکڑنے لگی تھی۔۔۔۔ اسکے ارد

گرد روشن ستارے چمکنے اور بکھرنے لگے تھے۔۔۔۔

اسکی زندگی جیسے ایک دم مکمل ہو گئی تھی۔۔

اسمیں سکون سا آ گیا تھا۔۔۔۔۔ بے قراری قرار میں تبدیل ہو چکی تھی۔۔اسکی محبت کی شدت دیوانگی اور تڑپ

نے حیات عبدالرحمان کا دل بالکل موم کی طرح نرم کر دیا تھا۔۔وہ خود اس سے محبت کرتی تھی یا نہیں لیکن

اسکی محبت کو قبول ضرور کر چکی تھی۔۔۔۔

یہ طوطا کھائے گا کیا۔۔۔۔۔۔؟؟ کافی دیر بعد جب ماحر نے اسے اپنی دیوانگی بھری گرفت سے آزاد کیا تو وہ

ٹیبل پر رکھے پنجرے میں بیٹھے ٹکر ٹکر دیکھتے پیرٹ

کیطرف اشارہ کر کے بولی۔۔۔

یہ اسکی خوراک کی لسٹ ہے۔۔۔۔۔ اس نے پاکٹ سے ایک

کاغذ نکال کر اسکی طرف بڑھایا۔۔۔ اسمیں اسکی کھانے پینے کی چیزوں کے علاؤہ اسکی تمام روٹین کی ٹائمنگ بھی لکھی ہوئی ہے۔۔یعنی کتنے بجے یہ چکن سوپ پیے گا۔۔کتنے بجے۔۔مسٹڈ رائس کھائے گا۔۔کتنے بجے نہائے گا

وہ آرام سے کہتے ہوئے بیڈ پر لیٹ گیا۔۔۔

“لگتا ہے اسکو سنبھالنے کیلئے کسی گورنس کا انتظام

کرنا پڑے گا۔۔کیونکہ تم نے تو اپنی سٹڈی کرنی ہے اتنی

کئیر نہیں کر پاؤ گی۔۔ماحر نے اظہار خیال کیا۔۔۔

مائی گاڈ۔۔یہ طوطا ہے یا کہیں کا پرنس۔۔۔ مجھے تو نام پڑھنا ہی نہیں آ رہے۔۔۔۔۔اتنی مہنگی مہنگی چیزیں کھاتا ہے یہ۔۔۔اوپر سے سارے انسانوں والے نخرے۔۔۔۔واک بھی کرتا ہے۔۔۔اور تو اور لکھا ہے رات کو آٹھ بجے یہ ٹام اینڈ

جیری کارٹون بھی دیکھتا ہے۔۔۔

مارے حیرت کے اسکی آنکھیں پھیل گئی۔۔۔

ماحر نے زور دار قہقہہ لگایا۔۔۔

“ہاں جی بالکل۔۔۔۔۔ اسکا لائف اسٹائل انسانوں بلکہ امیر انسانوں والا ہے۔۔یہ کوئی عام طوطا نہیں ہے۔۔۔۔بہت ہی

خاص بہت ہی نایاب طوطا ہے۔۔۔۔ یہاں کہ سب سے بڑے زو سے منگوایا ہے میں نے۔۔۔۔ٹرینڈ طوطا ہے۔۔۔۔انتظامیہ بیچنے پر راضی نہیں تھی۔۔ میرا ایک دوست یہاں فارن

منسٹری میں ہے اسکے تعلقات کام آئے۔۔۔۔۔۔۔ میں نے کہا مجھے ہر حال میں اپنی بیوی کیلئے یہی طوطا چاہیے

اوہو۔۔اچھا۔۔۔تھینکس۔۔۔۔وہ مسکرائی۔۔۔۔اور پنجرے کی تاروں میں سے طوطے کو چھونے کی کوشش کرنے لگی جواب میں طوطے نے جس طرح خوفناک آوازیں نکالی

اس نے گھبرا کر اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا۔۔۔

“آں ہاں۔۔۔ابھی اسکو ٹچ مت کرنا یہ کاٹ لے گا۔۔کیونکہ ابھی تمہارا عادی نہیں ہوا۔۔۔۔ماحر نے اسے فوراً منع کیا

اچھا تو اب اسکی یہ خوراک کب منگوائیں گے آپ۔۔۔ ؟؟

ایک مرتبہ پھر طوطے کے فوڈ چارٹ پر نظریں دوڑاتے ہوئے اس سے پوچھنے لگی۔۔۔