Meri Hayat By Zarish Hussain Readelle50271 Meri Hayat (Episode 62) Part - 2
Rate this Novel
Meri Hayat (Episode 62) Part - 2
Meri Hayat By Zarish Hussain
وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا بالوں میں برش کر رہا تھا۔ نظریں بار بار شیشے میں نظر آتے حیات کے عکس پر اٹھ رہی تھیں۔۔۔ جہازی سائز مخملیں بیڈ پر ٹانگ پہ ٹانگ رکھے گاؤ تکیے سے ٹیک لگائے وہ بیٹھنے کے انداز میں لیٹی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ سفید مومی مخروطی انگلیوں والے خوبصورت ہاتھوں میں سنہری جلد والی کوئی اسلامی کتاب تھی جسمیں وہ مکمل انہماک سے مگن تھی۔قیمتی فانوسوں کی دودھیا جھلملاہٹوں سے کمرہ جگمگا رہا تھا۔۔۔۔ آرگنزا کے شوخ ملٹی کلر کی شرٹ اور ٹراؤزر میں ملبوس آتشی گلابی ڈوپٹے کے ہالے میں اس کا صاف و شفاف پرنور چہرہ ماورائی حسن لئیے ہوئے تھا۔۔۔کمرے میں پھیلی فانوسوں کی تیز روشنی اسکے چہرے کو دمکا کر ایک جاذبیت عطا کر رہی تھی۔کسی قسم کی آرائش کی ضرورت اسے کبھی نہیں پڑی تھی قدرت نے بڑی ہی فیاضی سے حسن کی دولت سے مالا مال کیا تھا۔یہ سارا حسن و دلکشی اپنی ماں سے ہی تو چرایا تھا اس نے۔پھر جس ملک سے اسکی ممی کا تعلق تھا وہاں ایسے ہی حسن بکھرا ہوا تھا۔اوپر سے دور بھی نوجوانی کا تھا تو نوخیزیت و رعنائی تو ٹوٹ کر برسی تھی اس پر۔۔۔۔ بلا کی معصومیت و سادگی تھی اس کے پرکشش چہرے پر شوخی یا نازو ادا تو بالکل نہیں تھی اسمیں جو عموماً اسکی ایج کی لڑکیوں میں ہوتی ہے”
’’کبھی کبھی تو اسے یہ سوچ کر بہت حیرت ہوتی تھی کہ آجکل تو سوشل میڈیا کا زمانہ ہے بہت سی نت نئی ویب سائٹس آ گئی ہیں جنکو یوز کرنے بیٹھو تو وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلتا تو ایسے میں یہ لڑکی کیسے اتنی موٹی موٹی کتابیں پڑھ لیتی ہے جو کبھی کوئی اسلامی بک ہوتی تو کبھی کوئی تاریخی ناول۔۔۔۔
وہ جب بھی کمرے میں آتا تو اسے کوئی نا کوئی کتاب پڑھتے ہوئے ہی پاتا۔کتاب کا نام اس کے کور پر ہی لکھا ہوتا جس سے وہ جان جاتا تھا کہ وہ کونسی کتاب پڑھ رہی ہے۔۔ویسے بھی یہ ساری کتابیں حیات کی بیماری کے دنوں میں اسی نے ہی تو منگوا کر دی تھیں۔اگر جو
پتہ ہوتا کہ وہ اسے نظر انداز کر کے کتابوں میں گم رہے
گی تو شائد نا ہی منگواتا۔ابھی بھی جب وہ جاگنگ سے لوٹ کر کمرے میں آیا تو حسب معمول اسے کتاب میں ہی مگن پایا۔۔۔ ٹائٹل کور دیکھ کر ہی پتہ چل گیا تھا۔۔ کہ اسلامی کتاب کا مطالعہ ہی کیا جا رہا ہے۔۔۔
ماحر کی کمرے میں آمد۔۔یا اسکی موجودگی کا اس نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔۔۔وہ مکمل طور پر اسکی ذات اس کی موجودگی سے بے نیاز کتاب میں گم تھی۔۔ایسا آج سے نہیں بلکہ پچھلے چھے ماہ سے ہوتا چلا آ رہا تھا۔۔وہ روم میں آتا ہے یا نہیں۔۔۔۔موجود ہوتا ہے یا نہیں۔۔۔۔حیات عبدالرحمان کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔یہی چیز دیکھ کر ماحر کو تکلیف ہوتی تھی۔۔اسکی یہ بے حسی اسے تاؤ دلاتی تھی مگر اپنی عادت و مزاج کے برعکس وہ اسکا یہ رویہ ہمت و حوصلے سے برداشت کر رہا تھا لیکن جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا اسکا صبر ضبط حوصلہ ختم ہوتا جا رہا تھا۔۔اسکی بے حسی نظراندزی
اسکے اعصاب کو چٹخانے لگی تھی۔۔شادی کے پہلے روز سے لے کر اب تک حیات عبدالرحمان کے رویے میں کوئی لچک آتی نظر نہیں آ رہی تھی۔۔وہ ہنوز اپنی ہٹ دھرمی پر ثابت قدمی سے ڈٹی اسے نظر اندزی و کٹھور پن کی مار مار رہی تھی۔۔۔۔ اول تو وہ اس کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتی تھی کبھی اتفاق سے نظریں ٹکرا بھی جاتیں تو سرد مہری و بے اعتنائی کا بھرپور تاثر لئیے ہوتیں۔۔۔۔
دوسری طرف ماحر تو یہ سوچ سوچ کر ہی حیران ہوتا وہ بھلا ایسا بندہ ہے کہ اسے نظر انداز کیا جائے۔۔؟؟ حسین سے حسین ترین لڑکی کو بھی اپنی جانب مائل کرنے کیلئے اسے ذرا بھی محنت نا کرنی پڑتی تھی پھر یہ معمولی لڑکی جس کے پاس سوائے اچھی شکل کے تھا ہی کیا۔۔۔جو حیثیت کے اعتبار سے تو اسکے پاسنگ بھی نہیں تھی پھر اپنے آپ کو سمجھتی کیا تھی۔۔۔؟؟
کمرے میں اسکی موجودگی سے یوں بے نیاز اور لاتعلق رہتی گویا وہ بالکل اکیلی ہو یا پھر اس نظر اندازی کا
مقصد اس پر یہ جتانا تھا کہ اسکے نزدیک ماحر خان کی رتی برابر بھی اہمیت نہیں۔۔۔۔
یہ سرا سر اسکی توہین و تذلیل تھی۔۔۔
اسکی آنکھوں میں اپنے لئیے محبت کے رنگ وارفتگی و والہانہ پن محسوس کر لینے کے باوجود بھی وہ نہیں پگھل رہی تھی تو یہ اسکی بے جا خودسری تھی اسکی لاتعلقی سرد پن اور بے اعتنائی دن بدن بڑھتی جا رہی تھی۔اسکے رویے پر وہ کڑھنے اور تلملانے لگا تھا۔۔حیات
حیات عبدالرحمان کے یہ اطوار اب اسے سرتاپا،سلگانے لگے تھے۔اسکے اعصاب اب چٹخنے لگے تھے۔یہ توڑ پھوڑ کبھی کبھی اتنی شدید نوعیت کی ہوتی تھی کہ اس پر سے دھیان ہٹانے کیلئے وہ اپنے آپ کو کام میں غرق کر لیتا کئی کئی دن گھر نا آتا۔۔۔ حیات کو تو کوئی فرق نا پڑتا تھا البتہ فائزہ سکندر دونوں کے اس سرد تعلقات کی وجہ سے فکرمند رہا کرتی تھیں۔۔۔۔کبھی کبھی ماحر کو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اس لڑکی نے خود پر بے حسی و سنگدلی کا خول چڑھایا ہوا ہو۔۔۔۔۔”
کبھی نا ٹوٹنے والا سخت پتھریلا خول۔۔۔۔
۔وہ ہر معاملے میں ہمیشہ سے ہی شدت پسند رہا۔حیات کے معاملے میں بھی اب وہ شدت پسند ہوتا جا رہا تھا اسلیئے اب اسکا یہ رویہ اس کیلئے ناقابل برداشت ہوتا جا رہا تھا۔۔وہ اب اسکا کوئی سد باب چاہتا ہے۔۔
بال برش کرنے کے بعد اس نے پرفیوم کی بوٹل اٹھائی
اور خود پر سپرے کرنے لگا۔۔بے چین نظریں وقفے وقفے سے اسی پر ہی اٹھ رہی تھیں مگر وہ بے نیاز ہی نہیں بے مہر اور کٹھور بھی لگ رہی تھی۔۔۔ شیشے میں اسے تکتے وہ شدت سے ہزار بار کی سوچی ہوئی بات دوبارہ سوچ رہا تھا کہ یہ لڑکی اس جیسے اتنے شاندار بندے کو اگنور کیسے کر سکتی ہے بھلا۔ دماغ میں بگولے سے اٹھنے لگے۔موڈ یکدم ہی خراب ہو گیا اسکا دل چاہا آگے بڑھ کر اسکے ہاتھ سے کتاب چھین لے جو بڑے شاہانہ انداز میں کسی ملکہ کی طرح شاہی بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی۔اسے جنجھوڑ کر استفسار کرے وہ اسے نظر انداز
کیوں کرتی ہے۔۔ایسا وہ صرف سوچ ہی سکا۔۔۔خیال کو
عملی جامہ پہنانے کا حوصلہ پیدا نا ہوا تو جھنجھلاہٹ بھرے انداز میں ڈریسنگ ٹیبل پر پڑے سامان کو زور زور سے ادھر ادھر کرنےلگا۔حیات کی توجہ میں کوئی فرق نہیں آیا۔صرف ایک ناگوار نگاہ اس پر ڈال کر اس کی جھنجھلاہٹ و خیالات سے بے خبر پھر سے کتاب میں مگن ہو چکی تھی۔۔جبکہ اسکی توجہ کے طلب گار ماحر کی مردانہ انا پر پڑنے والی گریز و نظر اندازی کی
یہ چوٹ بہت کاری تھی۔۔۔۔ حالانکہ شروع سے ہی ایسا ہوتا آ رہا تھا۔۔۔مگر آج ناجانے کیوں وہ خود کا اگنور کیا
جانا برداشت نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔ اسکے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا۔۔۔۔ تنے ہوئے نقوش کیساتھ کچھ دیر وہ شیشے میں اسے گھورتا رہا پھر انہی تلخ تاثرات سمیت پلٹا۔۔۔
‘اتنی اسلامی کتابیں پڑھتی ہو کبھی زوجین کے حقوق والی کتاب تمہاری نظر سے نہیں گزری کیا۔؟؟ سرد انداز
میں اسے دیکھتے ہوئے تلملا کر پوچھا تھا۔۔
بکھرے موتی نامی اسلامی کتاب پڑھتی حیات نے اس
کی آواز پر بے ساختہ چونک کر سر اٹھایا۔۔۔۔ وہ سامنے کھڑا براہ راست اسے چبھتی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔چہرے پر پتھریلا جمود سا طاری تھی۔۔اسکے سوال کو سمجھنے کی کوشش کرتی حیات بے اختیاری میں اسے دیکھے گئی۔۔
نک سک سے تیار۔۔۔وجاہت و مردانگی کا شاہکار۔۔۔اس پر دولت شہرت جیسی امارات کا تڑکا۔۔۔۔اپنی خوبیوں سے واقفیت کے احساس نے اسے احساس تفاخر میں مبتلا کر دیا تھا۔حیات کو سوال سے زیادہ اسکے لہجے کی تلملاہٹ نے حیران کیا تھا۔۔
“کیا کہنا چاہتے ہیں آپ۔؟؟ اس نے سیدھا ہو کر بیٹھتے
ہوئے ناگوار لہجے میں کہا۔ پیشانی پر بل پڑنے لگے تھے۔
“یہی کہ عورت کی عبادت اسوقت تک قبول نہیں ہوتی جب تک اسکا شوہر اس سے راضی نا ہو۔سارا دن اسلام کا مطالعہ کرتی رہتی ہو کیا یہ بات نہیں معلوم تمہیں کہ جب تک اللّٰہ کے بندوں کے حقوق پورے نا کیے،جائیں تب تک اللّٰہ بھی راضی نہیں ہوتا نا ہی اس انسان کی عبادت کو قبول کرتا ہے۔۔۔پھر تمہاری اس عبادت کا کیا فائدہ محترمہ جب شوہر ہی راضی نہیں تم سے۔۔۔۔۔”
‘اس ساری تقریر کا مقصد۔۔۔؟؟ ماتھے پر بل ڈالے تیکھے
لہجے میں دریافت کیا گیا۔۔۔
کوئی خاص مقصد نہیں۔بس یہ باور کرانا چاہتا ہوں کہ
بہت بڑا درجہ ہے شوہر کا۔۔۔ ہمارے نبی کریم صلیٰ اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا ہے اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اگر میرے بعد کسی کو سجدے کا حکم ہوتا تو وہ بیوی کو ہوتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔۔تو محترمہ میرے کہنے کا سیدھا سیدھا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے فرائض سے پہلو تہی کی مرتکب ہو رہی ہیں۔پھر یہ پانچ کی وقت نمازیں۔۔ تہجد۔۔۔تسبیح قرآن آپکا کیا خیال ہے یہ سب کرنے سے آپکو جنت مل جائے گی؟؟
ماحر نے اس نے مذاق اڑانے والے انداز میں کہا۔
وہ کچھ دیر اسے حیرانی سے اسے دیکھتی رہی جیسے اس بات کی توقع نا تھی کہ اس جیسا شخص اسلام کے حوالے سے کوئی بات کرے گا۔۔۔
“پھر حیرانی کی جگہ یکدم اشتعال نے لے لی۔
“آپ کون ہوتے ہیں یہ فیصلہ کرنے والے کہ میری عبادت قبول ہوگی یا نہیں۔میں جنت میں جاؤں گی یا نہیں؟؟
اس نے مشتعل انداز میں پوچھا۔۔۔
“جواب میں ماحر نے اسکی طرف دلچسپ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“جیسے تم فیصلہ کرتی ہو میرے بارے میں کہ گناہگار
ہوں میں۔۔۔حرام کما اور کھا رہا۔۔ جہنم میں جاؤں گا یہ
وہ۔۔۔ویسے میں فیصلہ تو نہیں کر رہا صرف آگاہ کر رہا ہوں کہ جب تک کسی عورت کا شوہر اس سے راضی نا تو اس عورت کی عبادت قبول نہیں ہوتی۔۔ویسے تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ڈئیر قیامت والے روز اللّٰہ سے کہہ دونگا کہ میں اپنی بیوی سے راضی ہوں۔۔
مسکراتے لہجے میں کہتے ہوئے گلاس ونڈو سے بھاری ریشمی پردہ ہٹا کر کھڑا ہو گیا اور ساتھ ہی لائٹر سے سگریٹ سلگانے لگا۔۔۔مقصد صرف حیات کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانا تھا جس میں وہ کامیاب بھی ہو گیا تھا۔۔کیونکہ وہ اب بک کو سائیڈ پر رکھے غصے سے ہی سہی لیکن مکمل طور پر اسکی طرف متوجہ تھی۔یہی تو وہ چاہتا تھا۔تبھی ہونٹوں پر دھیمی سی خوبصورت مسکان آ چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔ حیات کا ری ایکشن اسے غصہ دلانے کے بجائے محظوظ کر رہا تھا۔۔
“جبکہ حیات عبدالرحمان کو تو گویا آگ لگ گئی تھی۔۔۔
“تمسخرانہ نگاہوں سے اسکو گھورتے ہوئے گویا ہوئی۔۔
واہ کیا بات ہے۔۔ایک فلمی ایکٹر جس نے شائد ہی کبھی
زندگی میں سجدہ کیا ہو وہ مجھے اسلام کے بارے میں لیکچر دےگا۔۔اس نے طنزیہ انداز میں کہا۔۔لہجہ حقارت
و تنفر سے بھرپور تھا۔۔جو انسان خود ہر وہ برا کام کرتا ہو جس کی اسلام میں سختی سے ممانعت کی گئی ہے وہ مجھے بتائے گا کہ میری عبادت قبول ہوگی یا نہیں؟
“ماحر نے سیگریٹ ایش ٹرے میں بجھا دی اور پلٹ کر
اسے صرف گھورنے پر اکتفا کیا۔۔۔
“ویسے وہ آپ ہی تھے نا جس نے منتیں کر کر کے میرے ساتھ کی بھیک مانگی تھی وہ بھی اس شرط پر کہ آپ
کی طرف سے مزید کوئی مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔۔میں
صرف آپکے ساتھ رہوں۔۔۔۔تو اب کیا ہوا اپنی کہی ہوئی بات بھول گئے یا ایمان کمزور پڑ گیا۔۔۔؟؟
“سراسر استہزائیہ مذاق اڑاتا لہجہ تھا۔۔
ماحر کے تیور بھی بگڑنے لگے مگر وہ اسکے تیوروں کو خاطر میں لائے بنا اسے تنفر بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔
جو بھی ہے لیکن میری بات کان کھول کر سن لیں مسٹر مجھ سے کسی حقوق و فرائض کی ادائیگی کی توقع ہرگز مت رکھئیے گا۔۔۔۔۔ آپ کیساتھ جڑے رشتے کو نا تو میرا دل قبول کر پایا ہے اور نا ہی دماغ۔۔۔۔ مجھے صرف اتنا یاد ہے آپکی وجہ سے میں سب کھویا۔۔ارتضیٰ۔۔۔ بابا
بوا۔۔مون۔۔میرا گھر۔سب ایک ایک کر کے مجھ سے چھن
گیا۔اسکا ذمہ دار کون تھا۔۔۔؟صرف اور صرف آپ۔۔تباہی کے دھانے پر لا کھڑا کر دیا تھا آپ نے۔۔آپکے اس اسلامک
لیکچر کا مطلب میں بہت اچھے سے سمجھتی ہوں۔۔۔۔ میری عبادت قبول ہوتی ہے یا نہیں۔یہ میرا ذاتی معاملہ
ہے آپ کو اس بارے میں فکرمند ہونے کی ہرگز ضرورت
نہیں۔۔آپ اپنی فکر کریں اپنے آپ کو سنبھالیں۔اگر نفس پر قابو نہیں رکھ سکتے تو بےشک باہر جاکر دل بہلائیں آپ تو ویسے بھی ہماری طرح کوئی معمولی انسان تو ہیں نہیں ایک بڑے سپر سٹار ہیں۔۔۔جسکے پیچھے دنیا
پاگل ہے۔حسینائیں تو پکے ہوئے پھل کی طرح آپ کی جھولی میں گرنے کو بے تاب رہتی ہیں پھر کیوں خود کو ذلیل کروانے آجاتے ہیں باہر سے ہوس پوری کریں نا۔۔
الفاظ کی سنگینی پر دھیان دیے بنا وہ کسی آتش فشاں لاوے کی مانند پھٹ پڑی تھی انداز و لہجے میں زہریلا پن۔۔۔بلا کی نفرت اور تحقیر آمیز انداز کے ساتھ جو جو منہ میں آیا وہ کہتی گئی جبکہ ماحر تو تلملا اٹھا۔۔۔آپے سے باہر ہو گیا۔چہرہ شدید توہین کے احساس سے سرخ ہو گیا دماغ میں فشار خون ٹھوکریں مارنے لگا وہ آگے بڑھا اور بے دردی سے اسے کلائی سے کھینچ کر بیڈ سے نیچے اتارا۔۔۔
“بہت ناپسند ہوں میں تمہیں۔۔نفرت بھی کرتی ہو مجھ
سے۔مگر ہماری شادی تو ہو چکی ہے اور یہ ایک حقیقت ہے۔۔۔پھر اس حقیقت کو تسلیم کیوں نہیں کرتی تم۔۔؟؟
وہ چیخ اٹھا تھا۔۔ کیوں مجھ سے گریزاں رہتی ہو۔۔بولو
جواب دو۔۔۔۔اس پل اسکی آنکھوں میں جیسے خون اتر آیا تھا۔۔اسطرح مجھے اگنور کر کے کیا ثابت کرنا چاہتی ہو تم کہ تمہارے نزدیک میری کوئی اہمیت نہیں۔۔۔؟؟
وہ یقیناً حواسوں میں نہیں تھا۔کیا خیال ہے یوں اگنور کروگی مجھے تو میں تنگ آ کر تمہیں چھوڑ دوں گا۔۔؟؟بھول ہے تمہاری میں اپنی پرسنل چیزیں توڑ تو دیا کرتا ہوں مگر کسی کو دیتا نہیں۔۔۔۔ اگر میری بن کے نہیں رہ سکی تو میں تمہیں بھی توڑ دوں گا۔جلا ڈالوں گا مگر کسی اور کیلئے نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔سن رہی ہو نا تم۔؟؟
وہ اسکی صدمے سے پھیلی ہوئی آنکھوں میں دیکھ کر غرایا اور نہایت مشتعل انداز میں اسکے نازک سے بازو کو زور سے جھٹکا دیا۔۔۔عجیب مجنونانہ سا کھولتا ہوا طیش بھرا انداز تھا۔۔وہ جو اس افتاد پر ہق دق کھڑی تھی بازو کو جھٹکا لگنے پر زور سے چیخی۔۔۔”
جنگلی انسان دماغ تو ٹھیک ہے ۔۔۔۔یہ کیا بیہودہ طریقہ ہے۔۔۔۔۔بہت بڑی غلطی ہوئی مجھ سے جو تمہارے ساتھ رہنے پر راضی ہو گئی تھی۔ورنہ تم جیسا بدکردار ناچنے گانے والا حرامی۔۔”
ماحر کی دھاڑ نے اسکی بات مکمل نہیں ہونے دی۔۔۔
شٹ اپ۔جسٹ شٹ۔۔دوبارہ تمہارے منہ سے کوئی گالی
نکلی تو منہ توڑ دوں گا میں تمہارا سمجھی۔۔اسکا ہاتھ
اٹھتے اٹھتے رہ گیا تھا۔۔اسکے غصے سے خوفزدہ ہوتی
وہ یکدم چپ ہو گئی تھی۔۔۔۔جبکہ وہ ہنوز چیخ رہا تھا ناشکری لڑکی عرش پر بٹھا رکھا ہے تمہیں۔ سوائےاچھی شکل کے تمہارے پاس ہے کیا۔جسکی بنیاد پر اتنا اکڑتی ہو۔نا تو تم اس دنیا کی واحد حسینہ ہو اور نا ہی ماحر خان کو حسیناؤں کی کمی ہے۔۔۔۔۔ ساری دنیا جانتی ہے میرے بارے میں۔۔بہت حسین لڑکیاں آئیں میری زندگی میں۔۔سب کے ساتھ دل بہلایا۔۔۔کسی کے ساتھ سیریس نہیں ہوا۔پھر تم مل گئیں شروع میں تمہارے بارے میں بھی ایسا ہی سوچا تھا کہ ٹائم پاس کروں گا۔۔مگر پھر دل بدل گیا تھا میرا اور خلوص نیت سے تمہیں ہمیشہ کیلئے اپنی زندگی میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا میں نے حالانکہ شادی کا پلان میری زندگی میں دور دور تک نہیں تھا۔ تم نفرت دکھاتی رہیں میں نے ہمت نہیں ہاری اور آخر کار تمہیں پا لیا۔۔اب اگر میں تمہاری طرف ہاتھ بڑھاتا ہوں تو صرف اس لئیے کہ میں ہمارے اس رشتے کو مضبوط کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔ ورنہ کمی نہیں ہے مجھے خوبصورت لڑکیوں کی اور ہاں میں کوئی بے وقعت یا معمولی انسان نہیں ہوں جو تم پر اپنی محبت و چاہت لٹاؤں اور تم آگے سے مجھے اٹیٹوڈ دکھاؤ نفرت، نخوت بھرے انداز میں میری انسلٹ کرو۔۔۔۔ تمہارا کیا خیال ہے میں ساری عمر تمہاری قربت کیلئے ترستا رہوں گا۔۔آہیں بھرتا رہوں گا۔۔۔غلط فہمی ہے تمہاری۔۔۔۔لعنت بھی نہیں بھیجتا میں تم پر۔۔۔سنا تم نے۔۔۔آخر میں وہ غضب ناک ہو گیا تھا۔لہجہ اہانت آمیز تھا۔دھکے کے نتیجے میں وہ لڑکھڑا کر بیڈ پہ گری تھی۔۔۔۔ وہ اسکے سامنے رونا نہیں
چاہتی تھی کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی۔۔ مگر آنسوؤں پر اختیار کسے ہوتا ہے۔۔۔ ناچاہتے ہوئے بھی اسکی نیلی آنکھوں سے شفاف موتیوں کے قطرے گرنے لگے۔۔۔ماحر کی نظر اسکے بہتے آنسوؤں پر پڑی تو یکدم اس کا تنا ہوا دماغ اور اعصاب ڈھیلے پڑ گئے۔۔اپنے بدصورت رویے کا احساس ہوا تو ندامت نے گھیر لیا۔۔آج سے پہلے کبھی بھی ایسا جاہلانہ طرز عمل اس سے سر زد نہیں ہوا تھا شادی کے ان چھے مہینوں میں پہلی بار یوں اپنا ضبط کھویا تھا۔۔پیشمانی میں مبتلا وہ فوراً آگے بڑھا اور اس کے شانے پر ہاتھ رکھ دیا جو سر جھکائے اپنے آنسوؤں کو روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔
“حیا۔۔۔آئی ایم سوری یار۔۔۔اسکے لہجے میں ندامت تھی بے بسی تھی ملال تھا۔اسکا غصہ حیات کے آنسو دیکھ
کر جھاگ کی طرح بیٹھ گیا تھا۔اب وہ شرمندگی بھرے
انداز میں اس سے معافی مانگ رہا تھا۔۔۔
” ڈونٹ ٹچ می۔۔۔۔حیات نے نفرت سے اسکا ہاتھ جھٹکا۔میں آپکے ساتھ اب مزید نہیں رہونگی۔۔۔ اپنے بھائی کے پاس چلی جاؤں گی۔۔ ایسا جاہلانہ طرز عمل میں نہیں کر سکتی برداشت۔۔۔”
“آواز بھرائی ہوئی تھی۔انداز میں غصہ تھا۔۔جبکہ لہجہ حتمی تھا۔۔۔
“تم کہیں نہیں جاؤ گی۔۔میں تمہیں خود سے دور نہیں جانے دوں گا۔اور میں معذرت کر رہا ہوں نا۔۔کبھی کبھی
غصہ آ جاتا ہے تو کنٹرول نہیں رہتا۔۔۔بٹ آئی ایم رئیلی
سوری۔۔آئی پرامس اگین ایسا نہیں ہوگا۔۔۔اسکا رونا اور
غصہ دیکھ کر وہ بری طرح پریشان ہو گیا تھا۔۔۔
اپنی معذرت اپنے پاس رکھیں۔۔۔میں نہیں رہوں گی اب
آپکے ساتھ۔۔۔۔ وہ رخ موڑ کر بھیگے لہجے میں کہہ رہی تھی۔۔یہ بات سن کر ماحر کی جان پر بننے لگی۔۔وہ اس
کے نزدیک بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔اور زبردستی اسکا ہاتھ پکڑ
کر کہنے لگا۔۔
“میں قسم کھا کر کہتا ہوں آج کے بعد تمہیں ہرٹ نہیں کروں گا۔اگر کیا تو بیشک پھر تم مجھے کوئی بھی سزا
دے دینا میں اف تک نہیں کروں گا۔۔مگر پلیز فرسٹ اور
لاسٹ ٹائم میری یہ غلطی معاف کر دو۔مجھے چھوڑنے
کی بات کر کے سزا مت دو۔۔۔ ویسے بھی میرے لئیے اس سے بڑی سزا اور کیا ہوگی کہ تم ساتھ رہ کر بھی مجھ سے نفرت کرتی ہو۔۔میری طرف دیکھتی تک نہیں۔ٹھیک
ہے تمہاری بے رخی برداشت کر لوں گا بٹ پلیز چھوڑ کر
جانے کی بات مت کرنا۔۔وہ باقاعدہ منتوں سماجتوں پر اتر آیا تھا ساتھ ہی بڑی محبت و نرمی سے اسکے آنسو اپنی پوروں پر چننے لگا۔۔انداز فدویانہ تھا۔۔نثار ہونیوالا
دیوانگی کی حدوں کو چھونے والا۔۔محبت و چاہت سے
لبریز۔۔۔ مگر حیات بدک کر فاصلے پر ہوئی اور درشتگی سے بولی آئندہ میں ایسی کوئی گھٹیا حرکت برداشت نہیں کروں گی۔۔۔۔وہ آپکی گرل فرینڈز ہوتی ہیں جنہیں آپ سر عام پیٹ دیا کرتے ہیں جبکہ میں بیوی ہوں گرل فرینڈ نہیں سو نیکسٹ ٹائم ایسی غلطی مت کیجئے گا ورنہ ہنگامہ مچا دونگی میں۔۔۔وہ اسے وارن کرتی اپنی بھڑاس نکالتی اٹھ کر واش روم میں چلی گئی تھی۔۔۔۔جبکہ ماحر کے دل پر ٹھنڈی میٹھی پھوار گرنے لگی۔لب
خود بخود مسکرانے لگے۔غصے میں ہی سہی مگر حیات نے اسکے ساتھ اپنا رشتے کا اعتراف تو کیا تھا۔۔۔۔۔
یہ اعتراف اب اسکی آئندہ زندگی کیلئے امید کی کرن تھا۔دوسری طرف وہ واش روم میں چہرے پر پانی ڈال کر اندر کی کھولن کو کم کرنے کی کوشش کر رہی تھی اس احساس سے بے خبر کہ وہ ایک ایسی خوش قسمت ترین لڑکی ہے جسے ایک ایسے بے مثال و شاندار مرد کا ساتھ اور اسکی محبت حاصل ہے جس کو پانے کی چاہ میں لاکھوں دل دھڑکتے تھے۔۔۔۔
مرجھایا ہوا زرد چہرہ۔۔آنکھوں کے گرد گہرے سیاہ ہلکے
چہرے پر ابھری ہوئی ہڈیاں۔کمزور سی جسامت۔۔ساکت
کھڑا وہ اسے دیکھ رہا تھا۔یہ فرحین عارف تھی۔فلموں
میں کام کرنے کی شوقین۔۔۔ایک سال گیارہ مہینے پہلے وہ اسکے پاس آڈیشن دینے کیلئے آئی تھی۔۔۔۔ بلکہ اسکا کزن ارسلان بھٹی اسے ماحر سکندر خان کی فلم میں کام دلانے کا لالچ دے کر اسکے پاس لایا تھا۔۔پھر آڈیشن
لینے کے بہانے وہ اسے ایک فلیٹ میں لے کر گئے اور پھر
اسکے ساتھ وہی ہوا جو زیادہ تر اس فیلڈ میں کام کی
خواہشمند ان لڑکیوں کیساتھ ہوتا ہے جنکے پاس کوئی مضبوط سورس،سپورٹ یا سفارش نہیں ہوتی جو فراز بھٹی جیسے کسی ایکٹر کے سیکرٹری یا چھوٹے موٹے
ڈائریکٹر یا پروڈیوسر کے جھانسے میں آجاتی ہیں اور اپنی عزت گنوا بیٹھتی ہیں۔۔۔۔فلم انڈسٹری ایک ایسی فیلڈ ہے جس میں محفوظ طریقے سے داخل ہونے کیلئے یا تو luck چلتی ہے یعنی اگر نامور ڈائریکٹر کی نظر کسی حسین چہرے پر پڑ جائے اور وہ اسے اپنی فلم آفر
کر دے اور خوش قسمتی سے وہ فلم ہٹ بھی ہو جائے تو اس نئے چہرے کیلئےانڈسٹری میں راہیں خود بخود کھلنے لگتی ہیں۔ورنہ تو اس فیلڈ میں جو سیف طریقے سے آتے ہیں زیادہ تر وہی لوگ ہوتے ہیں جنکی فیملی کا کوئی نا کوئی فرد پہلے سے ہی اس فیلڈ سے وابستہ ہوتا ہے۔۔۔”
فرحین جیسی کئی لڑکیاں جو اپنی مدد آپ کے تحت اس فیلڈ میں داخل ہونے کی کوشش کرتی ہیں زیادہ تر ان گھٹیا ڈائریکٹرز، پرڈیوسرز کے ہتھے چڑھ جاتی ہیں جو انہیں کام دینے کا لالچ دے کر انکا استحصال کرتے ہیں۔۔ فراز جب تک اس فیلڈ سے وابستہ رہا اس نے یہی کام کیا۔۔۔۔اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر نمبر اس نے اپنا دے رکھا تھا۔۔۔فلموں میں کام کی خواہشمند لڑکیاں اس سے کنٹیکٹ کرتیں وہ انہیں ماحر خان کی فلموں میں کام دلانے کی یقین دہانی کراتا اور آڈیشن کے بہانے اپنے فلیٹ پر بلاتا اور اپنی ہوس پوری کرتا۔۔
جو لڑکی اپنی بربادی پر سمجھوتہ کر لیتی تو انڈسٹری میں کہیں نا کہیں ایکسٹرا ایکٹریس کے طور پر چھوٹا موٹا کام دلا دیتا۔۔ورنہ کئی عورتی دھوتی گالیاں دیتی
چلی گئی تھیں۔یوں تو اس نے کئی لڑکیوں کی زندگیاں تباہ کی تھیں مگر فرحین عارف وہ آخری لڑکی تھی۔۔۔ جس نے ان پر حملہ کرنے کیساتھ دونوں کو بے تحاشا بد دعاؤں سے بھی نوازا تھا۔بالکل پاگل ہو گئی تھی وہ
فلیٹ میں پڑی چھری اسکے ہاتھ لگ گئی تھی۔۔جنونی حالت میں مبتلا اس چھری سے اس نے فراز اور ارسلان
دونوں پر وار کیے تھے۔۔۔۔ بڑی مشکل سے ان دونوں نے اسے قابو کیا تھا۔چیخ چیخ کر روتے ہوئے وہ دونوں کو
بد دعائیں دیتی رہی تھی۔اسکی آخری بددعا وہ کبھی نہیں بھول سکا تھا۔۔جو اس نے پاگلوں کی طرح زمین پر اپنی کلائیوں کو زور زور سے مارتے زاروقطار روتے
ہوئے دی تھی۔۔۔
“تم دونوں تباہ و برباد ہوگے انشاءاللّٰہ یہ ایک یتیم کی بددعا ہے جو گولی کی طرح آسمان پر جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔
فرحین کی دی گئیں بددعائیں اکثر اوقات اسکے دماغ میں گونج کر اسے ڈسٹرب کیا کرتی تھیں۔۔۔۔ یہی وجہ تھی کہ فرحین کے بعد کسی اور لڑکی کی زندگی برباد کرنے کی ہمت نہیں کر سکا تھا۔۔۔۔نمبر بھی اس نے اپنا چینج کر لیا تھا۔پھر جب اپنی یونیورسٹی کے پروفیسر
کے قتل کے جرم میں اسکے کزن ارسلان کو پھانسی کی سزا ملی تو تب وہ کانپ کر رہ گیا تھا۔ یہ اسے فرحین کی بددعا کا نتیجہ ہی لگا۔۔۔ مگر دیر ہو چکی تھی جب تک اسے احساس ہوا تب تک ایک اور گناہ بھی سرزد ہو چکا تھا اس سے۔فلم سٹار مثال شیرانی کا ساتھ دے کر
ماحر خان کے ہاتھوں ایک معصوم لڑکی پر اسکی لائف تنگ کروانے کا گناہ۔۔۔۔ یہ احساس بھی اسے اس دن ہوا
تھا۔جس دن سب کچھ پتہ چلنے کے بعد ماحر خان نے اسے جاب سے نکالا تھا اور اسی دن ہی اسے اپنے کزن ارسلان کی پھانسی کی خبر ملی تھی۔اس دن اسے بہت
شدت اسے اس لڑکی کی بددعائیں یاد آئی تھیں جیسے ارسلان اسکے پاس لے کر آیا تھا۔۔۔
احساس گناہ چین نہیں لینے دے رہا تھا سو وہ فرحین
نامی اس لڑکی کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔۔بالآخر کئی مہینوں کی تگ و دو کے بعد وہ اسکا پتہ ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔اب وہ اجڑی ہوئی حالت میں اسکے سامنے تھی۔۔برستی ہوئی آنکھوں میں نفرت اور غیض و غضب کی چنگاریاں بھی تھیں۔۔فراز کا سر شرمندگی
و ندامت کے مارے جھکتا گیا۔۔۔
“اب کیا لینے آئے ہو یہاں۔۔۔؟؟ دنیا جہان کی نفرت تھی فرحین کے لہجے میں۔۔
“معافی مانگنے آیا ہوں تم سے فرحین۔پلیز مجھے معاف
کر دو۔احساس جرم مجھے سکون نہیں لینے دیتا۔۔۔بہت بڑا بوجھ ہے میرے ضمیر پر پلیز تم مجھے معاف کر کے
یہ بوجھ کچھ ہلکا کر دو۔۔۔۔وہ گڑگڑاتے ہوئے کہہ رہا تھا
معافی۔۔کیا معافی مانگنے سے تمہارے کیے کی بھرپائی ہو پائے گی۔۔۔جو گناہ تم نے اور تمہارے اس کمینے کزن
نے کیا تھا۔وہ تمہارے معافی مانگنے سے دھل جائے گا۔۔
اسکی آنکھوں سے آنسو گر رہے تھے۔۔۔
ہاں میں بھرپائی ہی کرنے آیا ہوں۔۔۔۔ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں فرحین۔اس بار اس نے براہ راست اسکی
آنکھوں میں دیکھا۔۔۔ تمہارا ایک مجرم اپنی سزا پا چکا
ہے جبکہ میں بے سکون ہو کر در در بھٹک رہا ہوں پلیز مجھے معاف کر کے میرا ہاتھ تھام لو۔۔۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں تمہارے سارے دکھ درد مٹا دونگا۔۔۔۔ مجھے ایک بار
تلافی کا موقع دے دو۔۔۔۔وہ ہاتھ جوڑے سراپا التجاء بنا بیٹھا تھا۔۔۔وہ اسے خالی خالی نظروں سے دیکھتی رہی
وہ اپنے گناہ کا کفارہ ادا کرنا چاہتا تھا۔۔۔
معصوم تو وہ بھی نہیں تھی۔۔۔
کسی کی قصور وار تو وہ بھی تھی۔۔
گناہ تو اس سے بھی سرزذ ہوا تھا۔۔۔
ارسلان بھٹی کیساتھ مل کر حیات عبدالرحمٰن کو ٹریپ
کرنے کیلئے اس نے کیا کیا نہیں کیا۔اسے اغوا تک کروایا
بدلے میں ارسلان بھٹی نے اسے ماحر خان کی مووی میں کام دلوانے کا لالچ دیا تھا۔پھر ایک دن جب وہ اسے اسے مووی میں کام دلوانے کا لالچ دے کر ماحر خان کے
اسسٹنٹ فراز سے ملوانے لے گیا تھا۔۔۔جس سے وہ پہلے
بھی ایک بار مل چکی تھی کیونکہ حیات عبدالرحمان کی غلط فہمی میں ان لوگوں نے اسے بلا لیا تھا۔۔
“بلا خوف و خطر وہ ارسلان بھٹی کے ساتھ چلی گئی۔
یہ اسکی اپنی غلطی تھی ایک نامحرم مرد پر بھروسہ کر کے اسکے ساتھ چلے جانا۔۔۔۔ فراز پہلے سے فلیٹ میں موجود انکا انتظار کر رہا تھا۔۔جہاں ان دونوں نے مل کر اسے برباد کیا۔۔اس دن جو ویران حالت میں گھر آئی تو اس کے بعد پھر ایک قدم بھی اس نے گھر سے باہر نہیں نکالا۔نفساتی مریض بن گئی تھی۔۔۔۔ سارا دن کمرے میں پڑی رہتی نا کھانے کا ہوش نا نہانے کا تایا تائی لاچاروں کی طرح اسکی طرف دیکھتے رہتے دکانوں سے کیرایہ مل جاتا تھا۔گھر کا نظام جیسے تیسے چل رہا تھا۔۔
اب اتنے عرصے بعد اسکا ایک مجرم اسکے سامنے کھڑا معافی مانگ رہا تھا ساتھ ہی اپنانے کی خواہش بھی کر رہا تھا۔وہ دل میں تو کئی بار اعتراف کر چکی تھی کہ سارا قصور انکا بھی نہیں تھا۔ اسے اپنے لالچ اور حیات عبدالرحمٰن کا برا چاہنے کی سزا ملی تھی کیونکہ جب انسان کسی کا برا چاہتا ہے تو بعض دفعہ وہ برا اسکے اپنے ساتھ برا ہو جاتا ہے۔۔فرحین کے ساتھ بھی یہی ہوا
تھا۔جس لڑکی کا اس نے برا چاہا۔۔۔وہ بنگلے سے نکل کر
محل کی شہزادی بن چکی تھی جبکہ اسکے حصے میں
دھول آئی تھی۔اپنی بربادی کا غم تو تھا لیکن ساتھ ہی وہ گلٹ میں بھی مبتلا تھی۔۔۔۔فراز کو کسی صورت وہ معاف نا کرتی اگر خود بالکل بے قصور ہوتی۔۔۔۔ اسمیں فراز بھٹی اور ارسلان بھٹی میں زیادہ فرق نہیں تھا۔۔
اس نے کسی کا برا چاہا جبکہ ان دونوں نے برا کیا۔۔سو
خطا کار تو وہ بھی تھی لہذا۔اس نے فراز کو خالی نہیں لٹایا وہ خود بھی ذہنی اذیت میں تھی بھلے ہی اس نے اسے دل سے معاف کیا ہو یا نہیں۔۔مگر اسکا ہاتھ ضرور تھام لیا تھا۔فراز کے دل پر بوجھ تھا۔۔فرحین کے سامنے اس نے اپنے ہر جرم کا اعتراف کیا کہ کیسے اس نے فلم اداکارہ مثال شیرانی کیساتھ مل کر حیات عبدالرحمان کو پھنسوایا نتیجتاً وہ ماحر خان کے عتاب کا شکار ہو گئی۔۔۔فرحین خود بھی تو قصوروار تھی حیات کی۔۔۔۔ وہ دونوں اس سے معافی مانگ کر اپنے ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتے تھے اسلئیے وہ اسکے ڈیفنس والے گھر پہنچے کیونکہ انہیں معلوم تھا ماحر خان جیسے سپر سٹار کے گھر جا کر تو حیات سے ملنا ممکن نہیں تھا۔ایک موہوم سی امید کے سہارے وہاں گئے کہ شائد وہ اپنے فادر والے گھر پہ چکر لگاتی ہو۔۔۔۔۔ حیات تو وہاں
نہیں ملی لیکن اسکا بھائی فارس انہیں ضرور مل گیا
جو وہاں سے گزر رہا تھا۔۔۔دو اجنبیوں کے منہ سے اپنی
بہن کا نام سن کر رک گیا تھا۔۔پوچھنے پر لڑکے کیساتھ کھڑی لڑکی نے بتایا کہہ وہ حیات کی یونیورسٹی کی فرینڈ ہے اور اس سے ملنا چاہتی ہے اتفاق سے حیات آج صبح سے ہی وہاں آئی ہوئی تھی لہذا فارس ان دونوں کو اپنے گھر لے آیا۔حیات فرحین کو دیکھ کر حیران رہ گئی پھر ان کے انکشافات نے مزید شاکڈ کیا۔۔۔۔۔
“وہ گم صُم سی دونوں میاں بیوی کی باتیں سنتی رہی فراز نے ریکارڈنگ والی ہر بات سے آگاہ کر دیا تھا۔۔ اسے چپ لگ گئی۔۔۔۔۔ وہ دونوں معافی مانگ کر جا چکے تھے فضا بھابھی نے اسکی گم صُم انداز کیفیت کو نوٹ کیا
تو اسے سمجھانے لگی کہ وہ ماحر سے اپنا رویہ ٹھیک کر لے سارا قصور اسکا نہیں ہے۔۔۔۔
انکے تین ماہ کے بیٹے شاہزل کو گود میں لئیے خاموشی
سے انکی باتیں سنتی اور اثبات میں سر ہلاتی رہی۔۔۔۔۔
اب ناجانے یہ فضا بھابھی کے سمجھانے کا اثر تھا۔۔اسے خود احساس ہو گیا تھا۔۔۔۔۔ یا اس نے سمجھوتہ کرنے کا
سوچ لیا۔وہ بدل گئی تھی ماحر کیساتھ اپنا رویہ بہتر کر لیا تھا۔۔۔۔ مگر اسکے رویے نے حیات کو حیران کرنے کیساتھ ساتھ تشویش میں بھی مبتلا کر دیا تھا۔۔
وہ پہلے کی نسبت اب بہت کم روم میں آتا۔زیادہ تر آتا
بھی اسوقت تھا جب وہ سو رہی ہوتی یا روم میں ہی نہیں ہوتی باہر لان میں۔۔ یا فائزہ سکندر کیساتھ باتیں کر رہی ہوتی۔لنچ پر تو وہ پہلے بھی نہیں ہوتا تھا مگر اب تو وہ ڈنر پر بھی غائب ہوتا۔حیات لاشعوری طور پر اسکی منتظر رہنے لگی تھی۔۔۔۔۔ وہ اسکے ساتھ بات کرنا
چاہتی تھی۔سچی نیت سے اپنا رشتہ نبھانا چاہتی تھی
مگر وہ تو جیسے بالکل ہی بدل گیا تھا۔۔۔ پہلے تو حیات سے بات کرنے کے بہانے ڈھونڈھتا رہتا تھا۔۔ جبکہ اب تو اسکے مخاطب کرنے پر بھی ہوں ہاں میں جواب دیتا یا ایسے اگنور کرتا حیات کی دوبارہ ہمت ہی نا ہوتی اسے مخاطب کرنیکی۔۔
خود سے مخاطب کرنا۔۔۔۔اسکا نام لینا۔۔۔۔ بات کرنا تو وہ بالکل چھوڑ چکا تھا۔۔۔۔حیات اسکے اس بدلے ہوئے رویے
پر ششدر تھی۔وہ اسکا بدلا ہوا رویہ محسوس کر چکی
تھی تو کیا ماحر نے اسکا بدلا ہوا رویہ محسوس نہیں کیا ہوگا؟ روہانسی ہو کر کئی بار اس نے یہ بات سوچی’
