171.9K
78

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Hayat (Episode 27)

Meri Hayat By Zarish Hussain

اس تمام واقعے نے جس کو از حد خوشی سے دو چار کیا تھا جسکے سینے پر پہلے سانپ لوٹ رہے تھے اور اب ٹھنڈ پڑ گئی تھی۔۔۔وہ تھی مثال شیرانی۔۔۔

“۔۔اسوقت وہ ریموٹ ہاتھ میں لئیے چینل بدل بدل کر ماحر کے خلاف ہونے والے تمام بحث و مباحثے گالم گلوچ مزے لے لے کر سن رہی تھی۔۔۔۔”سچویشن اسکی توقع سے بڑھ کر بگڑی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔اور مزے دار ہو گئی تھی۔۔۔۔۔تاہم ایک بات کی اسے حیرانی ضرور تھی کہ ماحر چھپ کیوں گیا تھا آخر۔۔وہ چھپنے والوں میں سے تھا تو نہیں۔۔بہرحال ہر طرف ماحر سکندر خان کی بدنامی ہو رہی تھی۔۔۔جنگ ہنسائی ہو رہی تھی۔۔

“وہ خوش تھی۔۔۔۔بے تحاشا خوش۔۔۔

اس نے آخر کار اپنا بدلہ لے لیا تھا”اس سب میں لالچی فراز نے اس کا پورا پورا ساتھ دیا تھا۔۔وہ مسرور سی گنگناتے ہوئے موبائل پر اپنے نئے بوائے فرینڈ کا نمبر ملا رہی تھی جو کہ ایک درمیانے درجے کا فٹ بالر تھا”

ہیلو جونی آج ملنے کا پروگرام ہے کیا۔۔۔۔؟کال اٹینڈ ہوتے ہی اس نے مسکرا کر پوچھا

آف کورس ڈارلنگ۔۔۔جہاں بلاؤ آ جاتا ہوں دوسری طرف بینگن کی شکل والے جونی نے چہک کر کہا”

آج میں بہت خوش ہوں پارٹی کا موڈ ہو رہا ہے۔۔۔

واؤ پھر کرتے ہیں پارٹی۔۔۔لیکن پینے پلانے والا سسٹم زبردست ہونا چاہیے۔۔۔۔وہ فوراً بولا

اسکی فکر مت کرو۔۔۔۔دوبئی سے منگوائی ہے امپورٹیڈ شیمپین ہے۔۔۔۔پورا ٹن پیک ہے

ویری گڈ پھر کہاں اور کتنے بجے۔۔۔۔۔؟شیمپین کے نام پر اسکی باچھیں مزید پھیلیں”

نو بجے۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے نئے بنگلے پہ ٹائم سے پہنچ جانا

اوکے مجھے باقی لوگوں کو بھی انوائٹ کرنا ہے۔۔بائے۔۔

۔اس نے کال بند کر دی۔اسوقت ماحر کے سیکرٹری فراز کی کال آنے لگی۔۔

یہ کیوں مجھے کال کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسکے ماتھے پر بل پڑنے لگے۔

کیوں کال کی ہے۔۔۔۔۔؟اس نے اکھڑے لہجے میں پوچھا

صرف یہ کہنے کیلئے مس مثال شیرانی کہ میرا اب آپ سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہوگا۔۔۔آپ کا کام ہو گیا۔۔۔سو آپ مجھے بھول جایئں اور میں آپ کو۔۔۔

مثال شیرانی نے دانت پیسے۔۔۔۔

بیوقوف یہ بکواس کرنے کیلئے فون کیا ہے۔میں نے خود یہ بات پہلے تم سے کہہ دی تھی کہ کام ہوجانے اور تمہیں تمہاری رقم ملنے کے بعد ہمارے درمیان کوئی کنٹیکٹ نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔پھر تم نے مجھے یہ فضول بات کہنے کیلئے فون کیا۔۔اس نے دانت کچکچا کر کہا۔

کال کاٹ کر اس کا نمبر ڈیلیٹ کیا اور بڑبڑائی۔۔

ایڈیٹ موڈ خراب کر دیا۔۔۔”

“رات کا نا جانے کونسا پہر تھا۔۔۔۔جب جنگل میں ہونے والی مسلسل تڑ تڑ کی آوازوں سے اسکی آنکھ کھل گئی۔۔۔قرآنی آیات کا ورد کرتے وہ بیٹھے بیٹھے کب سو گئی اسے پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔۔ایکدم ہڑبڑا کر اس نے سر اوپر اٹھایا۔۔۔۔نیند سے بوجھل آنکھیں کھول کر دیکھا۔۔

“۔۔۔۔۔خیمے میں پھیلی ایمرجنسی لائٹ کی مدھم سی روشنی میں وہ اسے کہیں دکھائی نہیں دیا تو اسکے پیروں تلے زمین نکل گئی۔کچھ دیر پہلے ہی تو حیات نے دیکھا تھا وہ اپنی جگہ پر سو رہا تھا”پھر کب اسکی آنکھ لگی۔۔۔۔۔کب وہ وہاں سے غائب ہوا۔۔۔کتنی دیر وہ سوئی کچھ پتہ نہیں تھا اسے۔۔۔

۔۔اندھیرا۔۔۔جنگل۔۔۔وہ اکیلی اس ویرانے میں۔۔اس کا وجود خوف سے لرزنے لگا۔

فائرنگ کی آواز مسلسل آ رہی تھی۔۔۔ہمت کر کے اس نے ذرا سا خیمے کا پردہ اٹھایا باہر ویسے ہی گھپ اندھیرا تھا۔۔۔ڈر کے مارے فوراً پردا گرا دیا۔۔۔کونے میں دبک کر بیٹھ گئی۔شائد وہ واش روم کیلئے گیا ہو اس نے اپنے آپ کو تسلی دینے کی کوشش کی۔۔۔۔۔مگر جب خاصی دیر گزر گئی اور وہ نہیں آیا تو اسکی حالت پتلی ہونے لگی۔کہیں وہ مجھے اس ویرانے میں چھوڑ کر چلا تو نہیں گیا۔یہ خیال آتے ہی وہ اونچی اونچی آواز میں رونا شروع ہو گئی۔ناجانے کتنی دیر تک وہ اسی طرح بیٹھی روتی رہی جب اچانک وہ خیمے کا پردہ ہٹا کر اندر آیا۔۔سر پر ہیٹ۔۔۔جیکٹ۔۔لانگ بوٹ۔۔۔۔۔ہاتھ میں رائفل۔۔۔۔۔۔وہ اسے اسطرح اونچی آواز میں روتے دیکھ کر حیران ہوا جبکہ اسے دیکھ کر حیات کی جان میں جان آئی۔۔۔۔”

کیا ہوا آپ اتنا رو کیوں رہی ہیں۔۔۔۔؟؟وہ رائفل گدے پر پھینکتے ہوئے وہ اس سے مخاطب ہوا۔۔

وہ میں سمجھی آپ مجھے اس ویرانے میں چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔۔وہ اپنے آنسو پونچھ کر کھڑی ہوتے ہوئے بولی۔

اچھا۔۔۔وہ ہنس پڑا تھا اور بیٹھ کر اپنے جوتے اتارنے لگا

حیات عبدالرحمان کو دوسری بار اسکی ہنسی سخت بری لگی۔لیکن مجبوری تھی۔اس جنگل میں اسی کا ہی آسرا تھا۔وہ اس پر غصہ نہیں کر سکتی تھی کوئی اور وقت ہوتا تو وہ اسے کھری کھری سنا چکی ہوتی۔۔۔

آپ نے میری مدد کی مجھے ان لوگوں سے بچایا آپ کا بہت بڑا احسان ہے مجھ پر۔۔۔۔۔پلیز ایک اور احسان کر دیں مجھے شہر جانے والی کسی بس یا کوچ تک پہنچا دیں۔بہت ٹائم گزر چکا ہے میرے گھر والے سخت ٹینشن میں ہوں گے۔۔۔۔۔آپ کا یہ احسان میں زندگی بھر نہیں بھولوں گی۔۔وہ منت بھرے انداز میں اس سے مخاطب ہوئی۔۔۔

آپ پریشان مت ہوں میرا خود بھی مزید یہاں ٹھہرنے کا ارادہ نہیں۔۔۔۔تھوڑی دیر میں صبح ہونے والی ہے پھر نکلتے ہیں شہر کیلئے۔۔۔وہ اسے تسلی دیتے ہوئے بولا

۔حیات کے چہرے پر رونق آ گئی۔۔۔

۔جوتے وہ اتار چکا تھا اب جیکٹ اتارنے کے بعد اس نے شرٹ کے بٹن کھولے وہ اسے بھی اتارنے کا ارادہ رکھتا تھا شائد۔۔۔۔پھر اسکی طرف دیکھ کر رک گیا۔۔

میرا خیال ہے ایک ایک کپ کافی بنا کر پی لی جائے۔ وہ واپس شرٹ کے بٹن بند کرتا ہوا بولا۔۔

وہ کیا کہتی خاموش کھڑی رہی۔۔

کافی بنانی تو آتی ہوگی آپ کو۔۔۔اسے خاموش دیکھ کر وہ پھر سے بولا۔۔۔۔۔۔حیات نے اثبات میں سر ہلایا اور چولہے کی طرف بڑھی۔۔ہر چیز سامنے رکھی ہوئی تھی۔وہ کافی بنانے لگی۔۔

” جبکہ وہ گدے پر لیٹا اسکی طرف سے لاتعلق کسی ادھیڑ بن میں مصروف تھا۔کافی بن گئی تو حیات نے کپ میں ڈال کر اسکی طرف بڑھائی جب کہ وہ ہنوز اسکی طرف سے لاتعلق سوچنے میں مصروف تھا۔۔حیات کو اسے متوجہ کرنے کیلئے مخاطب کرنا پڑا”

اس کے ہاتھ سےکافی لے کر وہ خاموشی سے پینے لگا۔

۔۔اپنا کپ لے کر وہ کارپٹ پر بیٹھ گئی اور کافی پیتے ہوئے کن انکھیوں سے اس کا جائزہ لینے لگی جو اسے کسی گہری سوچ میں گم نظر آیا۔جب تک اس نے آہستہ آہستہ کافی ختم کی تب تک رات بھی دھیرے دھیرے اپنا سیاہ آنچل سمیٹ چکی تھی۔

۔نیلے افق کے کناروں سے صبح صادق کی پہلی سرخیاں نمایاں ہو رہی تھیں۔۔۔۔۔۔پرندوں کی چہکاروں سے جام شورو کا جنگل گونج اٹھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔رات بھر جلنے والی ایمرجنسی لائٹ کی روشنی بھی اپنی آخری سانسوں

پر تھی۔۔۔کپ رکھ کر حیات نے اسکی طرف دیکھا جو کب کا اپنی کافی ختم کر کے لیٹا ہوا تھا۔اس کی بند آنکھوں سے پتہ نہیں چل رہا تھا کہ وہ سو رہا ہے یا جاگ رہا ہے۔۔۔

۔وہ سوچنے لگی کتنی عجیب بات تھی اسے جنگل سے تو شدید خوف آتا رہا تھا۔۔مگر ساتھ موجود اس انجان آدمی سے ذرا ڈر نہیں لگا تھا۔۔۔۔۔۔شائد اس لئیے کہ وہ اسکی عصمت کا محافظ تھا۔ان درندوں سے بچایا تھا اس نے اسے۔۔۔۔اور اس کا خود کا رویہ بھی تو مہذبانہ شریفانہ تھا۔۔۔”

پتہ نہیں کب اٹھے گا یہ۔خیمے کے پردے سے نظر آتی صبح کی کرنوں کو دیکھ کر اس نے سوچا”

وہ یونہی بیٹھی رہی۔فلور کشن کے پاس اسکی رسٹ واچ پڑی تھی حیات نے ٹائم دیکھا تو صبحِ کے ساڑھے پانچ بج چکے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اسکی طرف دیکھنے لگی

جو آنکھوں پر بازو رکھے سیدھا لیٹا ہوا تھا۔۔۔

کیسے اٹھاؤں اسے۔۔۔وہ سوچنے لگی۔۔۔۔ابھی وہ اسی سوچ میں تھی کہ وہ خود ہی اٹھ گیا۔۔۔۔

ہو گئی صبح۔۔اس نے خیمے کا پردہ اٹھا کر باہر دیکھتے ہوئے کہا پھر مڑ کر اپنے جوتے اور جیکٹ پہننے لگا۔۔خود تیار ہونے کے بعد وہ تیزی سے اپنی چیزیں سمیٹنے لگا۔حیات خاموشی سے اسے کام کرتا دیکھ رہی تھی۔سارے کا سارا سامان اس نے دو بیگز میں ڈالا۔گدے کو بھی فولڈ کر کے بیگ میں ٹھونسا۔۔۔۔۔۔جب خیمہ خالی ہوگیا تو اسے اشارا کرتے وہ دونوں بیگ اٹھائے باہر نکل آیا۔۔ایک بیگ اس نے ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا۔دوسرا بائیں کندھے پر تھا۔دائیں کندھے سے رائفل لٹک رہی تھی۔وہ اس بوجھ کے ساتھ بھی تیز تیز چل رہا تھا۔۔حیات کو چلنے میں مشکل ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔کیونکہ جوتے بہت بڑے تھے۔اپنے جوتے تو اسکے گر گئے تھے۔یہ جوتے اسی نے دیے تھے اسکے بیگ میں ایکسڑا جوتوں کا جوڑا موجود تھا۔۔کافی دیر تک چلنے کے بعد وہ خشک گھاس پھوس کے بہت بڑے اور اونچے ڈھیر کے پاس پہنچ کر رک گیا۔۔بیگز زمین پر رکھنے کے بعد اس نے دونوں ہاتھوں سے خشک گھاس ہٹانا شروع کر دیا۔۔جب گھاس ہٹ چکا تھا تو حیات نے دیکھا ایک چھوٹی سی جیپ کھڑی ہوئی تھی۔۔وہ اس جیپ کے چھپانے کا مقصد نہیں سمجھ سکی۔۔۔”

آؤ۔۔۔۔دونوں بیگز جیپ میں رکھنے کے بعد اس نے اس کیلئے فرنٹ ڈور کھول دیا۔اور خود گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ پر آ گیا۔۔کچھ دیر بعد گاڑی جنگل کی حدود سے نکل کر سڑک پر رواں دواں تھی۔

آپ جنگل میں کس چیز کا شکار کرنے گئے تھے۔۔۔؟جب کافی دیر گزر گئی اس شخص نے اس سے ایک لفظ تک نہیں کہا چپ چاپ تیز رفتاری سے ڈرائیونگ کرتا رہا تو حیات نے اسے خود مخاطب کیا۔۔

جنگل میں کس چیز کا شکار کرتے ہیں۔۔ظاہر ہے جنگلی جانوروں کا نا۔۔۔۔۔۔وہ ہنس پڑا۔۔۔۔۔۔۔نظریں سامنے سڑک پر مرکوز تھیں”

حیات کو اپنے بے تکے سوال پر شرمندگی ہوئی۔۔

میرا مطلب ہے کونسے جانوروں کا۔۔۔کیونکہ وہ جنگل مجھے اتنا زیادہ بڑا نہیں لگا تو میرا نہیں خیال اس میں شیر چیتے جیسے بڑے جانور پائے جاتے ہونگے۔

اس جنگل میں شیر چیتوں سے بھی بڑے جانور پائے جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔وہ پر اسرار انداز میں مسکرایا”

مطلب۔۔۔۔۔حیات نے الجھ کر اسکی طرف دیکھا۔

نتھنگ۔۔۔۔۔وہ لاپرواہی سے کہہ کر ڈرائیونگ کرتا رہا۔

حیات کچھ دیر الجھی ہوئی نظروں سے اسے دیکھتی رہی پھر گہری سانس لے کر بولی۔۔شائد آپ بتانا نہیں چاہتے۔

گڈ۔۔۔حسین ہونے کے ساتھ ساتھ خاصی ذہین بھی ہیں آپ۔۔۔مزاق تھا یا سچ میں تعریف۔۔وہ سمجھ نہیں پائی

البتہ چونک کر اسکی طرف دیکھا ضرور۔۔۔۔۔ارتضیٰ کے علاؤہ اب اسے ہر مرد ماحر خان جیسا لگنے لگا تھا۔۔۔مگر اس شخص کا لہجہ بہت سادہ تھا”سو وہ اندازہ نہیں لگا پائی کہ وہ اسے کس زاویے سے دیکھ رہا ہے”

تاہم اسکے بعد وہ دوبارہ اس سے مخاطب نہیں ہوئی وہ بھی خاموشی سے ڈرائیونگ کرتا رہا۔

کہاں پہ چھوڑنا ہے آپکو۔۔۔۔؟؟گاڑی شہر کی حدود میں داخل ہو چکی تھی۔۔۔وہ اب اسکی طرف دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا”

آپ مجھے ڈیفینس ایریا میں اتار دینا۔۔۔۔آگے میں چلی جاؤں گی۔۔

اوکے۔۔۔۔۔سر سری انداز میں کہہ کر اس کی توجہ پھر سے ڈرائیونگ کی طرف مبذول ہو گئی۔۔

آدھے گھنٹے بعد گاڑی اس نے ڈیفنس ایریا کے سامنے روڈ پر روک دی۔۔۔حیات نیچے اتر آئی۔۔۔۔آپ نے میری ہیلپ کی۔۔آپ کا بہت بہت شکریہ۔۔۔پھر کبھی ملاقات ہوئی تو آپ کے جوتے آپ کو واپس کر دونگی۔۔ایک بار پھر سے آپ کا شکریہ۔۔۔وہ ممنونیت بھرے لہجے میں بولی۔

نو نیڈ۔۔۔اپنا خیال رکھنا پیاری لڑکی آئندہ کبھی اکیلی کہیں مت جانا۔دنیا بہت ظالم ہے۔ضروری نہیں کہ اگلی بار بھی آپ کو احمر وقار جیسا ہی انسان ملے۔۔۔۔۔

وہ ایک الوداعی نظر اس پر ڈال کر گاڑی آگے بڑھا لے گیا۔حیات کچھ پل کھڑی اسے دیکھتی رہی۔

ناجانے کون تھا وہ شخص۔۔بہرحال اس کا محسن اس کا محافظ تھا۔۔۔اگر ماحر خان جیسے برے لوگ موجود تھے۔۔۔ تو دنیا میں ارتضیٰ حسن اور احمر وقار جیسے اچھے لوگوں کی بھی کمی نہیں تھی”وہ تیز تیز قدم اٹھاتی ڈیفنس ایریا میں داخل ہو گئی۔۔پندرہ منٹ بعد وہ اپنے گھر کے گیٹ پر پہنچ چکی تھی

۔گیٹ پر چوکیدار موجود نہیں تھا۔ البتہ گیٹ کھلا ہوا تھا۔وہ جیسے ہی اندر داخل ہوئی۔سامنے ہی لان میں رحمت بوا فضا بھابھی فارس اسکے بابا مون سب موجود تھے۔۔۔رحمت بوا بے تحاشا رو رہی تھیں۔فضا بھابھی روتے ہوئے انہیں چپ کروا رہی تھی۔۔۔۔

آپی آ گئی۔۔۔۔سب سے پہلے مون کی نظر اس پر پڑی وہ خوشی سے چیخ مار کر اس کی طرف لپکا اور اسکی ٹانگوں سے لپٹ کر رونے لگا۔کچھ دیر میں سب اس سے مل کر آنسو بہا رہے تھے۔حیات نے اپنے اوپر بیتی ساری کہانی بتا دی تھی۔۔۔۔۔۔۔اس کی جان اور عزت اللّٰہ نے محفوظ رکھی تھی اس سے بڑی خوشی کی اور کیا بات ہو سکتی تھی۔۔

میڈیا کو بھی کسی طرح اسکے واپس آنے کی بھنک پڑ گئی تھی۔۔۔۔۔کچھ ریورٹرز انکے گھر کے باہر پہنچ گئے۔انہیں تجسس تھا آیا واقعی اسے فلمسٹار ماحر خان نے اغوا کیا تھا یا نہیں۔۔۔۔اگر اسی نے کیا تھا تو پھر وہ اسکی قید سے رہا کیسے ہوئی۔اگرچہ چوکیدار نے اور فارس نے مل کر انہیں گیٹ سےدور ہی رکھا تھا تاہم وہ پھر بھی گئے نہیں وہیں دھرنا مار کے بیٹھے رہے ان کا کہنا تھا وہ متاثرہ مظلوم لڑکی سے مل کر ہی جائیں گے۔۔۔۔۔۔”

سہہ پہر تک ارتضیٰ بھی پہنچ گیا پھر اسی نے اپنے کسی ایس پی دوست کی مدد سے انہیں بھگایا۔ساری بات جاننے کے بعد وہ حیات کو لے کر ماحر خان کے خلاف کورٹ میں جانا چاہتا تھا۔۔مگر عبدالرحمن نے روک دیا۔وہ معاملے کو مزید بڑھانا نہیں چاہتے تھے۔ان سب نے متفقہ طور پر اسکی اور ارتضیٰ کی شادی کر دینے کا فیصلہ کیا۔۔کل اسکی مایوں پرسوں رخصتی اور اس سے اگلے دن ولیمہ طے کیا گیا۔۔۔۔۔فضا رات کو ہی فارس کے ہمراہ اسکی مایوں کیلئے شاپنگ کر آئی۔البتہ برائیڈل ڈریس اور ولیمے کے ڈریس کیلئے اس نے ارجنٹ آرڈر دے دیا تھا۔۔مایوں اور رخصتی کا فنکشن گھر میں ہی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔۔۔تاہم ولیمے کیلئے فائیو سٹار ہوٹل کی بکنگ کروائی گئی۔۔حیات بہت سے خدشات میں گھری ہوئی تھی۔وہ ایک پوری رات گھر سے باہر رہی تھی ناجانے ارتضیٰ کی نظروں میں اس کا پہلے جیسا مقام ہوگا بھی یا نہیں۔

وہ اسے پہلے جیسی عزت دے گا۔۔۔۔؟

پہلے کی طرح محبت کرے گا۔۔۔۔؟

وہ ذہنی انتشار کے بد ترین لمحے سے گزر رہا تھا۔اس کے اندر زبردست آندھیاں چل رہی تھیں۔۔۔۔ایک قیامت مچی ہوئی تھی۔سامنے دیوار پر نصب بڑی سی سکرین پر وہ اپنے متعلق تمام خبریں جن میں عبد الرحمن علی کے اسکے متعلق الزامات ۔۔۔میڈیا کے الزامات۔۔۔حریف ایکٹرز کے زہر خند بیانات۔۔۔لوگوں کی تنقید۔۔۔ماحر کی فیور اور مخالفت میں ایک دوسرے کے ساتھ گالم گلوچ

وہ یہ سب لب بھینچے سن رہا تھا”

سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ آنکھوں میں غضبناک شعلوں کا عکس تھا۔

(تاہم عبدالرحمن نے اسکے متعلق جو کچھ کہا تھا وہ الزام نہیں حقیقت تھی)

“علی کاظمی اسکے ساتھ بیٹھا خاموشی سے اسکے چہرے کے اتار چڑھاؤ کو غور سے دیکھ رہا تھا۔۔۔اس وقت ہاسپٹل کے اس پرائیویٹ روم میں صرف وہی اسکے ساتھ موجود تھا۔سکندر علی خان اور زین کچھ دیر پہلے وہاں سے گئے تھے۔۔سکندر خان نے اسے کہا تو کچھ نہیں تھا تاہم انکے انداز سے لگ رہا تھا وہ اس سے تفتیش کا ارادہ رکھتے ہیں۔فائزہ سکندر کو اس نے خود اصرار کر کے گھر بھیج دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔البتہ عبیر اور اسکی ٹیم کے کچھ لوگ اور اسکے پرائیویٹ گارڈز وہاں موجود تھے۔۔میڈیا سے فلحال اسکی یہاں موجودگی کو مخفی رکھا گیا تھا۔کیونکہ اگر انہیں پتہ لگ جاتا تو ہاسپٹل کے باہر رش لگ جانا تھا میڈیا کا۔۔

جب علی آیا تو عبیر کو اس نے باہر بھیج دیا تھا۔اس کے سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور چہرے کے نقوش حطرناک حد تک تنے ہوئے تھے۔صاف نظر آ رہا تھا کہ وہ خود پر کتنا ضبط کر رہا تھا۔۔۔چار گھنٹے پہلے جب وہ ہوش میں آیا تھا تو خود کو ہاسپٹل کے اس کمرے میں پایا تھا۔۔۔۔ہوش میں آنے کے بعد پہلا احساس سر کے پچھلے حصے میں ہونے والی شدید تکلیف کا تھا۔۔ایک کراہ کے بعد اس نے دوبارہ آنکھیں بند کر لیں تھیں۔بازو میں سوئی چبھنے کا احساس ہوا تو تھوڑی دیر میں درد بھی غائب ہو گیا تھا۔کتنے ہی لمحے وہ ہاسپٹل کے اس کمرے کو بیگانگی سے دیکھتا رہا پھر اٹھ کر بیٹھنا چاہا تو درد کی شدت نے اسے سب یاد دلا دیا تھا کہ وہ کیا کرنے جا رہا تھا اور کیا ہو گیا تھا۔۔۔۔اسے اپنی کہی گئی وحشت ناک باتیں، دھمکیاں سب یاد آتا گیا۔۔۔۔جو کچھ غصے کے مارے اسکے دماغ میں آتا گیا وہ بولتا گیا تھا حالانکہ کہ وہ خود بھی ڈیسائیڈ نہیں کر پایا تھا کہ وہ اسے اسکے کیے کی کس طرح سزا دے گا

اسے تو بس شدید غصہ تھا اس پر۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اسکی ریکارڈنگز وائرل کرنے والی حرکت پر سخت مشتعل تھا۔۔اسے سبق سکھانا چاہتا تھا۔اسے اسکے کیے کی سزا دینا چاہتا تھا۔مارنے والی بات تو اس نے محض غصے میں اسے ڈرانے کیلئے کہی تھی مگر وہ بیوقوف لڑکی اسکی بات کو سچ سمجھ کر نتائج کی پروا کیے بغیر اپنی اور اسکی جان خطرے میں ڈال گئی تھی۔۔ہوش میں آنے کے بعد اس نے فرقان کو بلا کر سب سے پہلے حیات کے بارے میں پوچھا تھا۔۔۔

اسے یہ جان کر شدید حیرت ہوئی جب فرقان نے یہ بتایا کہ وہ لوگ جب وہاں پہنچے تھے تو وہ گاڑی میں موجود نہیں تھی۔۔اس ویرانے میں وہ اکیلی کہاں جا سکتی تھی بھلا۔۔۔اگر وہ بھی انجرڈ تھی تو اسے وہیں ہونا چاہیے تھا۔پھر غائب کہاں ہو گئی آخر۔۔۔۔

اس نے فرقان کے ذمے لگایا تھا کہ اسکے گھر جا کر کسی طرح معلوم کرے وہ وہاں پہنچی یا نہیں۔۔

اب کیا ارادہ ہے۔۔۔۔؟؟علی کاظمی کے سنجیدگی سے کیے گئے سوال پر اس نے ریموٹ سے ٹی وی آف کیا پھر اسکی طرف متوجہ ہوا۔

۔میرے دشمنوں کو بھی مجھ پر بھونکنے کا موقع مل گیا۔۔بہت غلط کیا اسکے باپ نے میرے خلاف میڈیا میں اتنا ہنگامہ مچا کر۔۔بہت پچھتائے گا وہ۔ جس جس نے میرے خلاف میڈیا میں بکواس کی اس تماشے میں حصہ لیا ان سب ک چھوڑوں گا تو ہرگز نہیں۔۔۔۔۔۔لیکن پہلے مجھے پریس کانفرنس کر کے اپنا امیج کلئیر کرنا ہے۔اسکے بعد سبق سکھاؤں اپنے خلاف سب بکنے والوں کو۔۔۔ جتنی سختی و تندی اسکے لہجے میں تھی اس سے کہیں زیادہ کڑواہٹ اور تنفر اسکے لفظوں میں تھا۔۔۔۔ وہ بری طرح مشتعل تھا ” مزاج کسی بپھری ہوئی موج کی مانند متلاطم تھا۔

سر وہ لڑکی صحیح سلامت ہے اور اپنے گھر پہنچ گئی ہے۔۔اسی وقت فرقان نے وہاں آ کر اطلاع دی۔۔۔۔۔”

کیسے پہنچی اور کب۔۔۔۔؟؟اس نے بےتابی سے سوال کیا

سر آئی تھنک ایک آدھ گھنٹہ پہلے پہنچی۔۔۔۔کیسے یا کس کے ساتھ یہ معلوم نہیں ہو سکا۔۔۔۔۔کچھ رپورٹرز اس کے گھر کے باہر موجود تھے مگر گھر کے کسی فرد نے ان سے بات نہیں کی۔شائد اس کا باپ بیٹی کے ملنے کے بعد معاملے کو ختم کرنا چاہتا ہوگا۔فرقان نے تفصیل بتاتے ہوئے اپنا خیال ظاہر کیا۔۔۔

معاملہ اسکے باپ نے شروع کیا مگر ختم میں کروں گا۔ سرد لہجے میں کہتے ہوئے وہ کوئی آتش فشاں پہاڑ لگ رہا تھا جو لاوا اگلنے یا پھٹنے کیلئے بے قرار ہو۔۔۔۔

تم ایسا کرو میڈیا کو بلاؤ میں تھوڑی دیر میں پریس کانفرنس کروں گا۔۔۔۔اور میرے اکاؤنٹ سے ٹوئٹ بھی کر دو کہ میں پریس کانفرنس کرنے والا ہوں۔۔

اوکے سر “۔۔۔۔۔۔ فرقان نے تابعداری سے کہا”

ویسے یار ایک مشورہ دوں۔۔۔۔علی کاظمی نے فرقان کے جانے کے بعد کہا سنجیدگی سے کہا۔۔۔

ہاں دو۔۔۔ماحر پوری طرح اسکی طرف متوجہ ہو گیا۔

دیکھو یار غصہ معاملہ خراب کرتا ہے۔۔۔۔تمہیں اس سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔وہ نا تو کبھی تمہاری فلم کیلئے راضی ہوگی اور نا تمہیں قبول کرنے پر۔۔۔۔یہ کڈنیپنگ بلیک میلنگ دھمکیاں۔۔۔میرا مشورہ مانو یہ سب چھوڑ دو اس سے الٹا تمہیں ہی نقصان ہو رہا ہے ۔کیونکہ وہ تو ایک عام لڑکی ہے۔میڈیا میں اس کا نام لیا بھی جائے تو بھی زیادہ فرق نہیں پڑتا جبکہ تم ملک کے مشہور ترین سپرسٹار ہو پوری دنیا میں تمہارے فینز ہیں لوگ تمہیں جانتے ہیں پہچانتے ہیں تمہاری فلمیں دیکھتے ہیں۔اور اگر اس طرح کے واقعات ہونگے تو تمہارے فینز میں تمہارا غلط تاثر پیدا ہوگا۔اس سے تمہارے فلمی کیریئر پر اچھا اثر نہیں پڑے گا۔تمہارے حریف اس بات سے فائدہ اٹھائیں گے۔اس لئیے میرے مشورے پر غور کرو”۔۔۔۔۔۔۔علی کاظمی اسے آہستہ آہستہ سمجھا رہا تھا۔

ماحر پوری توجہ سے اسکی بات سن رہا تھا۔۔۔۔

ماتھے پر سوچ کی گہری پرچھائیاں تھیں۔۔وہ اسکے مشورے پر خوب غور وفکر کر رہا تھا۔۔اس کا دماغ بھی بھی یہی کہہ رہا تھا۔ علی کاظمی کی بات غلط نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔غصے اور جذبات میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد سے نقصان ہی ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے غصے اور جذبات میں آ کر اپنے معاملات خود بگاڑے تھے۔۔۔۔اپنا نقصان خود کیا تھا۔۔اب اسے اپنے تمام بگڑے معاملات کو صبر و تحمل بردباری اور حکمت عملی سے سنوارنا تھے۔۔۔۔۔

یہ جو کچھ بھی میرے خلاف میڈیا میں ہوا یہ سب میرے دشمنوں کی سازش تھی انہوں نے پیسے دے کر یہ سب کروایا تاکہ مجھے بدنام کر سکیں۔میرے فلمی کیریئر کو ختم کرنے کی کوشش تھی جو کہ میرے حریفوں نے کی۔یہ ریکارڈنگز وغیرہ سب فیک تھیں آپ سب جانتے ہیں کہ سائنس کتنا ترقی کر چکا ہے کچھ بھی فیک بنانا مشکل نہیں۔۔۔میں کہیں غائب نہیں ہوا تھا میری گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔۔جسکی وجہ سے میں بے ہوش رہا تھا۔مجھے اس بات پر یقین ہے کہ میرے فینز نے میرے خلاف پھیلائی گئی ان تمام فیک باتوں پر یقین نہیں کیا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔جنہوں نے یہ سارا پروپیگنڈا کیا میں بہت جلد ان سب کو ایکسپوز کروں گا۔میں شکر گزار ہوں اپنے ان فینز کا جنہوں نے مجھے سپورٹ کیا۔میرا ساتھ دیا مجھ پر کیچڑ اچھالنے والوں کو منہ توڑ جواب دیا۔۔۔ہوٹل کے اس ہال میں چار پانچ سو کے قریب میڈیا والے تھے جنکے سامنے کھڑا وہ مائیک پر تحمل سے بول رہا تھا۔۔۔۔ورنہ دل تو اس کا چاہ رہا تھا کہ اپنے تمام حریفوں کے ساتھ ساتھ ان میڈیا والوں کا بھی منہ توڑ دے۔جنہوں نے نمک مرچ لگا کر معاملے کو اتنا اچھالا تھا۔۔۔

وہ تمام سچی باتوں کو جھٹلا کر خود کو سچا ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا تھا۔لائیو کوریج ہو رہی تھی لاکھوں لوگ ٹی وی پر بیٹھ کر دیکھ رہے تھے”

گھٹیا انسان کیسے دھڑلے سے جھوٹ بول رہا ہے۔ٹی وی دیکھتی حیات نے نفرت سے سوچا۔۔۔۔۔فضا اور رحمت بھی ساتھ بیٹھی تھیں۔۔۔۔۔مگر وہ ٹی وی کی طرف متوجہ نہیں تھیں۔۔۔اسکی شادی کے حوالے سے کچھ ڈسکس کر رہی تھیں۔۔۔۔حیات نے ٹی وی بند کر دیا۔۔

رحمت بوا صحیح معنوں میں ماں ثابت ہوئی تھیں۔

حیا تم کافی تھکی تھکی اور مضمحل سی لگ رہی ہو جاؤ جا کر ریسٹ کر لو تاکہ اپنی شادی پر بالکل فریش دکھو۔۔۔فضا نے اسکی تھکی تھکی سی شکل دیکھ کر مشورہ دیا تو وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔

سر مس حیات کی شادی ہو رہی ہے۔۔پریس کانفرنس کے بعد جب وہ اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا تو ساتھ چلتے فرقان نے آہستہ آواز میں بتایا۔۔۔۔ماحر کے چہرے پر ایک پل کیلئے تاریک سایہ لہرایا۔۔اگلے ہی پل وہ بے نیازی سے بولا۔۔۔۔مجھے اب اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا فرقان وہ لڑکی میرے دل سے اتر چکی ہے۔تم دوبارہ اس کا نام میرے سامنے مت لینا۔۔۔۔۔وہ اکھڑے ہوئے لہجے میں بولا۔۔۔۔۔۔نا معلوم اب یہ علی کاظمی کے سمجھانے کا اثر تھا یا اس کا ضمیر جاگ اٹھا تھا۔۔۔اس نے حیات عبد الرحمن کا پیچھا چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

سوری سر۔۔۔وہ شرمندہ سا بولا ماحر نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔

سر فلم کی شوٹنگ کب سٹارٹ کرنی ہے۔۔۔۔؟فرقان نے پچھلی سیٹ پر اسکے ساتھ بیٹھتے ہوئے پوچھا”

اپنی فلم کی شوٹنگ میں نے فلحال کینسل کر دی ہے پہلے واجد صاحب کی فلم کی شوٹنگ کمپلیٹ کراؤں گا۔کل شام کی میری اٹلی کی سیٹ کنفرم کرواؤ واجد صاحب کو میں نے ہاں کر دی ہے وہ پوری ٹیم کو لے کر آج رات کو اٹلی روانہ ہونگے اور میرا انتظار کریں گے وہاں۔۔یہاں کے سارے معاملات تم دیکھ لینا کوئی مسئلہ ہو تو عبیر اور زین کو بتانا وہ دیکھ لیں گے۔اسی اکھڑے لہجے میں کہہ کر وہ اپنے سیل کی طرف متوجہ ہو گیا۔

لیکن سر ان ڈیٹس میں تو آپکی اور بھی کئی شوٹنگز ہیں جن میں ایڈز،کمرشل اور موویز وغیرہ شامل ہیں۔اور وہ سب ہونی بھی یہیں ہیں۔۔جبکہ واجد سر کی فلم کی ساری شوٹنگ غیر ملکی مقامات پر ہونی ہے۔واجد صاحب کو آگے کی ڈیٹ دے دیتے۔۔پہلے یہاں کی ساری شوٹنگز کمپلیٹ ہو جاتیں۔۔پھر آپ۔۔۔وہ اس کا اکھٹا انداز دیکھ کر بھی عادت سے مجبور ہو کر مشورہ دے گیا تھا۔

تم سے جتنا کہا ہے اتنا کرو۔۔۔۔ماحر نے ناگواری سے اسکی طرف دیکھا اور تلخ لہجے میں بولا۔۔۔

یہاں کی جتنی بھی شوٹنگز ہیں انکی ڈیٹس بڑھوا دو۔جو ڈیٹ بڑھانے پر راضی نا ہو اس کا ایڈوانس اسکے منہ پر مارو۔۔۔۔وہ سرد لہجے میں بولا

جی سر۔۔۔۔فرقان فوراً مؤدب ہو کر بولا

ماحر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔اس کا چہرہ سپاٹ اور ہونٹ سختی سے بھینچے ہوئے تھے۔۔۔۔”

۔۔رنج۔۔غصہ۔۔ملال۔۔۔انتقام کوئی احساس بھی اس کے چہرے سے ظاہر نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔۔موسم میں سردی کا راج بتدریج بڑھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔ٹھنڈی ہوا گنگناتی پھر رہی تھی۔۔۔۔ان ہواؤں سے درودیوار سے برفیلی ٹھنڈک پھیل رہی تھی۔موسم سے زیادہ سرد مہری اسکے مزاج میں تھی۔⁩

صبح فضا جب حیات کیلئے مایوں کا سامان دینے آ رہی تھی تو ارتضیٰ بھی اسکے ساتھ چلا آیا۔۔۔۔۔عبدالرحمان صاحب کچھ انتظامات کے سلسلے میں گھر سے باہر گئے ہوئے تھے۔۔۔۔۔ تاہم گیٹ پر چوکیدار کے علاؤہ ایک ایکسڑا گارڈ بھی تعینات تھا جو کہ ارتضیٰ کے حکم پر ہی یہاں موجود تھا۔

فضا اسکے ساتھ آنے کا مقصد سمجھتی تھی سو وہ لاؤنج میں بوا کے پاس بیٹھ کر ان کو سامان دکھانے لگی جبکہ ارتضیٰ اسکے کمرے میں چلا آیا۔۔

وہ بیڈ پر لیٹی سو رہی تھی۔۔۔۔گلابی کمبل شانوں تک لئیے ہوئے۔بلیک ڈوپٹہ نیند میں بھی سر پر موجود تھا۔کالے بادلوں سے جھانکتا اس کا چاند سا چہرہ رویا رویا سا لگ رہا تھا۔۔۔سرخ عارضوں پر جھکی کالی لمبی لمبی پلکیں بڑی دلکش لگ رہی تھیں۔اپنے ساتھ ہوئے حادثے نے اسے بیمار کر دیا تھا۔کل رات سے وہ بخار میں مبتلا تھی۔۔۔اس کا بیمار، حسن اب بھی جاذبیت لئیے ہوئے تھا۔۔۔وہ یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔اور سوچ رہا تھا حقدار تو بن گیا مگر حق نبھا نہیں سکا۔۔

“۔۔۔۔۔اگر اس حادثے میں اسے کچھ ہو جاتا تو وہ ساری زندگی خود سے بھی نظریں ملانے کے قابل نا رہتا”کچھ ہی عرصے میں وہ اسکی ملکیت بن کر ایک طوفان سے تنہا لڑتی رہی تھی۔وہ اسکے سامنے مسکراتی تھی مگر وہ جان ہی نہیں پایا کہ اسکی مسکراہٹ کے پیچھے ایک ڈر اور خوف پوشیدہ تھا۔اگر وہ نکاح کے فوراً بعد امریکہ نا جاتا یا پھر اسے بھی ساتھ لے جاتا تو یہ سب نا ہوتا۔اسکے اندر دھواں سا بھرنے لگا اپنی بے نیازی بےپرواہی پر غصہ آ رہا تھا۔اپنے آپ کو سزا دینے کو دل چاہ رہا تھا۔

وہ دو زانو بیٹھ گیا اور کمبل سے باہر نکلے اسکے ہاتھ کو بے حد نرمی سے تھام کر اس پر اپنے لب رکھ دیے۔پھر نا معلوم کیا ہوا وہ بے آواز رونے لگا آنسو تواتر سے اسکی آنکھوں سے گر رہے تھے۔یہ حیات سے ہونے والی بے لوث بے پناہ محبت تھی جو اسے بے اختیار کر گئی۔۔۔۔۔۔ورنہ وہ مضبوط اعصاب کا مالک تھا۔۔۔۔۔کل سے اسے دیکھ کر آنسو اسکے اندر ہی اندر گر رہے تھے۔جو اب موقع پا کر بہہ نکلے تھے اور ضبط کا بندھن توڑ گئے تھے۔۔

حیات کی آنکھ کھل گئی پہلے تو اسکو سمجھ ہی نہیں آیا کہ کیا ہو رہا ہے۔وہ دھیمی دھیمی سی مدھم آوازیں کیسی ہیں۔۔۔۔۔۔غنودگی کی کیفیت میں وہ بے حس و حرکت لیٹی محسوس کرنے کی کوشش کرتی رہی۔چند لمحوں بعد ہی اسکی تمام حسیات بیدار ہو گئی تھیں۔اسے محسوس ہوا وہ اسکے قریب بیٹھا اسکے ہاتھ کو اپنی آنکھوں سے لگائے رو رہا ہے۔۔۔۔وہ اسکی دبی دبی سسکیوں کی آوازیں تھیں جن پر اسکی آنکھ کھلی تھی۔وہ آہستگی سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔

ارتضیٰ کیا ہوا۔۔۔۔؟؟وہ اسی پوزیشن میں بیٹھا رہا

پلیز کچھ تو بتائیں میرا دل گھبرا رہا ہے۔۔۔اسکی آواز لرز رہی تھی۔

ریلیکس ڈئیر کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔وہ اسکے قریب آ بیٹھا

پھر آپ رو کیوں رہے تھے۔۔۔۔؟وہ پریشان نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔آخر کو پہلی بار اسے روتا دیکھا تھا

بس یہ سوچ کر دل بھر آیا کہ اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو میں خود کو کبھی معاف نا کر پاتا۔۔۔میرے نام سے جڑتے ہی تم اس شخص کے عتاب کا شکار ہو گئیں۔ تم کتنی اذیت کتنی پریشانی میں تھی اور میری نالائقی دیکھو میں فیل بھی نہیں کر سکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمہیں نالائق سٹوڈنٹ بولا تھا لیکن مجھ سے بڑا نالائق ٹیچر کہیں نہیں ہوگا۔۔وہ دلگرفتہ سا کہہ رہا تھا۔۔

حیات نے میز پر رکھے ٹشو بکس سے ٹشو نکال کر اسکی طرف بڑھایا۔۔۔

آپ اتنا نیگیٹو کیوں سوچ رہے ہیں۔آپ کے نام کے ساتھ جڑتے ہی وہ میرے پیچھے نہیں پڑا بلکہ بہت پہلے سے پڑا ہوا تھا۔غلطی میری تھی میں آپ کا بھروسہ ٹوٹنے کے ڈر سے آپ کو بتا نہیں سکی۔۔۔۔۔۔۔”اگر یہ سب ہمارے نکاح سے پہلے ہوا ہوتا تو کیا آپ خود کو الزام دے سکتے تھے۔۔ میں بہت خوش ہوں کہ میری قسمت بہت اچھی ہے اللّٰہ نے مجھے اس شخص سے بچایا۔قدم قدم پر میری حفاظت کی آپ جیسا اچھا انسان میرے مقدر میں لکھا۔اپنا نام دے کر مجھ ذرے کو آفتاب بنایا ہے آپ نے۔۔۔۔۔۔یہ سب جو ہوا اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں۔بلکہ آپ کا تو مجھ پر احسان ہے کہ اس سب کے بعد بھی مجھے قبول کر رہے ہیں ورنہ ایک اغواء شدہ لڑکی کو کون اپناتا ہے۔۔۔۔جو خدشہ کل سے اسے لاحق ہو گیا تھا۔آخرکار وہ جھجھکتے ہوئے اسے زبان پر لے آئی تھی۔

لیکن ارتضیٰ کے جواب نے اسے متعبر کر دیا تھا۔اسکے دل میں ارتضیٰ حسن کیلئے موجود عزت میں ڈھیروں اضافہ ہو گیا تھا۔۔۔

۔تم ایک تو کیا دس راتیں بھی باہر گزار کر آتی میرے لئیے ہمیشہ تم اول روز کی طرح ہی مقدس رہو گی،میری چاہت تمہارے لئیے دن بدن بڑھتی جائے گی اس میں کبھی کمی نہیں آئے گی۔یہ میرا وعدہ ہے تم سے۔مجھے اپنی زندگی کا نہیں پتہ کہ کتنی ہے لیکن اتنا یقین دلا دیتا ہوں آخری سانس بھی تمہارے ساتھ ہی لوں گا۔وہ عقیدت بھرے انداز میں اسکے ہاتھوں کو اپنی آنکھوں سے لگا رہا تھا۔۔۔جبکہ وہ اسکے اس قدر والہانہ انداز محبت پر بھیگی آنکھوں سے مسکرا دی تھی۔خدا نے اسکے مقدر میں نیک ہمسفر لکھا تھا۔۔وہ اس پر جتنا بھی اپنے رب کا شکر ادا کرتی کم تھا۔۔۔

شام کو وہ مایوں کی رسم کیلئے تیار ہونے کو پارلر جا رہی تھی جب ملازمہ نے اسے ایک خط لا کر دیا۔حیات نے دھڑکتے دل کے ساتھ کھولا۔۔۔۔

صاف ستھری ہینڈ رائٹنگ میں تحریر سامنے تھے۔

میں جانتا ہوں میرا نام پڑھ کر آپ کو بہت غصہ آئے گا۔لیکن پلیز پڑھے بغیر میرا خط مت پھاڑنا۔۔۔۔کیا کہوں میں آپ سے۔۔کس کس غلطی کی معافی مانگوں۔۔بس اتنا کہوں گا اپنی تمام غلطیوں پر شرمسار ہوں اور آپ سے معافی کا طلبگار ہوں۔ جانتا ہوں میری غلطیاں بڑی ہیں اور ان کے آگے یہ لفظ سوری بہت ہے۔لیکن اسکے علاؤہ کوئی اور الفاظ نہیں ہیں میرے پاس کیونکہ یہ لفظ میں نے بولا ہی نہیں کبھی کسی سے۔۔۔زیادہ لمبی بات نہیں کروں گا۔۔جو جو کیا میں نے اس سب کیلئے مجھے دل سے معاف کر دینا۔۔۔ماحر خان اب کبھی آپ کی راہ میں نہیں آئے گا۔۔۔شادی مبارک ہو

فقط معافی کا خواستگار

ماحر سکندر خان

وہ کتنی دیر بے یقینی سے خط ہاتھ میں لئیے کھڑی رہی۔ایک طمانیت سی محسوس ہوئی ایک سکون سا اتر گیا رگ و پے میں۔۔۔۔۔اسے اسکی معافی تلافی سے کوئی غرض نہیں تھیں۔۔حیات عبدالرحمن کی زندگی میں تو اس شخص کی سرے سے کوئی اہمیت ہی نہیں تھی اسے تو بس اس بات کی خوشی تھی کہ ماحر خان نامی کانٹا اسکی زندگی سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے نکل گیا تھا۔۔۔۔اب وہ ارتضیٰ کے سنگ خوشیوں بھری لائف جی سکتی تھی۔۔۔ایک خوبصورت مسکان اسکے گلابی لبوں پر آ گئی تھی۔۔