Meri Hayat By Zarish Hussain Readelle50271 Meri Hayat (Episode 48)
Rate this Novel
Meri Hayat (Episode 48)
Meri Hayat By Zarish Hussain
ایک ہفتہ اسے ایکٹنگ کی ٹریننگ دینے کے بعد فلم کی شوٹنگ شروع کر دی گئی۔۔۔۔اسی سلسلے میں اسوقت
حیات عبدالرحمان سمیت فلم کی پوری ٹیم سمیت وہ
وادی ہنزہ میں موجود تھا۔۔ قدرت کی حسین کاریگری قرمزی رنگ کی عطا آباد جھیل کے کنارے فلم کا سیٹ
لگا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔”پہاڑوں کی گود میں کروٹیں لیٹی یہ خوبصورت جھیل کافی طویل تھی۔خوشگوار ہوا کے جھونکوں اور جھیل کی خوبصورتی سے فلم کی پوری ٹیم مسرور ہو رہی تھی سوائے اس کے جو فلم کی ہیروئن تھی۔جب انسان کا دل خوش ،پرسکون نا ہو تو حسین نظارے خوشگوار موسم کچھ بھی اثر نہیں کرتا۔موسموں کی خوبصورتی کا تعلق دل سے مشروط ہوتا ہے۔
آج صبح ہی وہ لوگ یہاں پہنچے تھے۔یہاں جھیل سے کچھ فاصلے پر ہی واقع ایک فائیو سٹار ہوٹل میں پورا یونٹ ٹھہرا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔فلم کی شروعات اپنے ملک کے حسین مقامات سے ہونی تھی اسکے بعد اگلا پڑاؤ ان کا ملائشیا سنگاپور اور ترکی کا تھا۔۔۔
یہ فلم ماحر کی اپنی ہوم پروڈکشن تھی۔۔۔۔فلم کا بجٹ بھی کافی بھاری تھا۔فلم کی کہانی سیاحت کی شوقین ایک فلزا۔۔۔۔۔۔۔۔۔(حیات عبدالرحمان) نامی لڑکی کے گرد گھومتی تھی جو کہ پاکستان کے شہر کراچی سے تعلق رکھتی ہے۔۔وادی ہنزہ کی اس جھیل کے کنارے اس کی ملاقات فلم کے ہیرو ساحر(ماحر خان) سے ہوتی ہے۔۔اسکے بعد وہ سیاحت کیلئے،سنگا پور ملائیشیا جاتی ہے وہاں بھی وہ ہیرو اس سے ٹکڑا جاتا ہے۔۔۔پھر بعد میں اور بھی کئی مقامات پر وہ اس سے ملتا تھا۔۔فلم میں ٹریجک موڑ بھی آنے تھے اور ہیپی مومنٹس بھی۔۔۔۔چونکہ اسکی زیادہ تر شوٹنگ بیرون ملک کی جانے والی تھی اس لئیے کافی خرچہ کیا جا رہا تھا اس فلم پر۔۔”
وہ سیٹ پر سکرپٹ رائٹر کے ساتھ محو گفتگو تھا جب میک اپ آرٹسٹ کے اسسٹنٹ نے آ کر اطلاع دی۔۔۔
سر مس حیا میک اپ نہیں کروا رہیں۔۔۔
کیوں۔۔۔۔؟؟اس نے چونک کر پوچھا
سر ان کا کہنا ہے کہ وہ کسی میل سے میک اپ نہیں کروائیں گی۔۔فی میل میک اپ آرٹسٹ کو ہی بلائیے۔۔
وہاٹ۔۔۔وہ پریشان ہو گیا۔۔اس میل میک اپ آرٹسٹ کو وہ اپنے ساتھ کراچی سے لائے تھے۔یہ نامی گرامی میک اپ آرٹسٹ تھا جو بڑی بڑی سلیبریٹیز کے میک اپ کرتا تھا۔اب اگر اسکی جگہ کسی فیمیل میک اپ آرٹسٹ کو بلایا بھی جاتا تو بھی کم از کم ایک دن لگ جانا تھا۔اب
جب سیٹ لگ چکا تھا سب کچھ ریڈی تھا۔۔۔ایسے میں
صرف میک اپ آرٹسٹ کے مسئلے کی وجہ سے شوٹنگ کینسل کرنا اسے بے وقوفی اور وقت کا ضیاں لگا۔۔۔۔”
یہ محترمہ بھی نا۔ میل کیلئے اعتراض کرنا تھا تو آتے وقت ہی کرتیں تاکہ ہم اس کی جگہ کسی فیمیل میک اپ آرٹسٹ کو تو لے آتے۔۔۔
” اب عین موقعے پر ان کو اعتراض کرنا یاد آتا۔۔
وہ بری طرح جھنجھلانے لگا۔۔۔
کنوینس کرنے کی کوشش کرتا ہوں شائد مان جائے وہ سوچتے ہوئے اس خیمے میں آیا جسے ڈریسنگ روم بنایا گیا تھا۔۔۔سامنے ہی کرسی پر بیٹھی تھی چہرے پر برہمی کے تاثرات سجے ہوئے تھے۔۔
ساتھ میں بھائی صاحب بھی بیٹھے ہوئے تھے
اسے آتا دیکھ کر کاٹ دار انداز میں بولی۔۔
ہمارے ملک میں فیملز میک اپ آرٹسٹ مر گئی ہیں کیا جو اب مردوں سے یہ کام لیا جا رہا ہے۔۔
جھنجھلائے ہونے کے باوجود اسکے انداز اور اسکی بات دونوں پر اسے بے اختیار ہنسی آ گئی جسے وہ کمال مہارت سے چھپا گیا۔۔
میڈم زمانہ بدل گیا ہے۔۔۔۔یہ کام اب صرف خواتین ہی نہیں کرتیں بلکہ مرد حضرات بھی اس میدان میں کب کے قدم رکھ چکے ہیں۔۔اس وقت پوری دنیا میں کئی بڑے بڑے نامور میل میک آرٹسٹ ہیں جو سلیبریٹیز کا میک اپ کرتے ہیں بلکہ اب صرف سلیبریٹیز ہی نہیں بلکہ دوسری خواتین بھی شادی بیاہ پارٹیز وغیرہ میں زیادہ تر Males Makeup Artist کی خدمات لیتی ہیں۔۔آپ کس زمانے میں جی رہی ہیں یہ تو بہت عام سی بات ہے۔۔۔
واقعی یہ اس کیلئے بہت عام سی ہی بات تھی تبھی تو وہ عام سے لہجے میں اتنے آرام سے بولا تھا۔۔مگر حیات جیسی لڑکی کیلئے یہ عام بات ہرگز نہیں تھی۔۔جس نے آج تک کسی غیر مرد سے شیک ہینڈ تک نہیں کیا تھا” کجا کہ میک اپ کروا لیتی۔۔۔۔ماحر خان کی بات نے تو اسے پتنگے لگا دیے تھے فوراً بھڑک کر گویا ہوئی مسٹر آپ کے اور آپکی گھر کی خواتین کے لئیے ہوگی یہ عام سی بات۔۔۔لیکن میرے لئیے نہیں سمجھے۔۔
میں کیوں کسی غیر مرد سے میک اپ کرواؤں جو اس بہانے مجھے چھوئے اگر آپ فیمیل آرٹسٹ کو ہائر نہیں کر سکتے تو ٹھیک ہے جو میک اپ کرنا ہوگا میں خود کر لونگی اپنا۔۔۔اس کا لہجہ بھرپور طیش لیے ہوئے تھا۔
ماحر نے بغور اس کے طیش بھرے گستاخانہ انداز کو جانچا۔۔۔
آپ کو آتا ہے کسی پرفیشنل میک اپ آرٹسٹ کی طرح میک اپ کرنا۔۔۔؟؟اس نے طنزیہ پوچھا۔ سو فیصد مذاق اڑانے والا انداز تھا۔۔حیات نے ایک سخت نگاہ ڈالنے کے بعد نظریں پھیر لیں۔۔۔
ویری نائس۔۔۔۔بہت ہی انٹیلیجنٹ ہیں آپ۔۔۔۔۔آئی رئیلی ایمپریسڈ۔۔۔۔۔۔۔مرد میک اپ آرٹسٹ سے میک اپ نہیں کروا رہیں کہ اس بہانے وہ آپ کو چھوئے گا۔۔۔۔لیکن فلم میں کام بھی تو آپ کو ایک مرد کے ساتھ ہی کرنا ہوگا
وہ بھی غیر ہوگا نامحرم ہوگا آپ کے لئیے۔۔۔ رومینٹک سینز بھی شوٹ کروانے ہونگے آپ کو ہیرو کے ساتھ جس میں ہلکا پھلکا ٹچ تو لازمی چلے گا۔۔۔
پھر وہ سب کیسے کروائیں گی۔۔۔۔؟؟
لبوں پر استہزائیہ مسکراہٹ لئیے پوچھ رہا تھا۔۔
انداز مسلسل طنزیہ تھا اور لہجہ جتاتا ہوا۔۔۔
حیات عبدالرحمان سن کھڑی رہ گئی اس پوائنٹ پر تو اس کا دھیان گیا ہی نہیں تھا اسے تو بس ایک ہی فکر لگی ہوئی تھی کہ بے حجاب ہو کر سج دھج کے سکرین پر آنا پڑے گا۔اب اس نے توجہ دلائی تو دھچکہ سا لگا دل کو گویا کسی نے مٹھی میں لے کر مسل دیا درد کی ٹیسیں سارے وجود میں پھیل گئیں دکھ اور اذیت نے پھر سے اپنی لپیٹ میں لے لیا اسے لگ رہا تھا جیسے انتہائی بے دردی کے ساتھ اسکے صاف و شفاف کردار اسکی پہچان کو برباد کیا جا رہا تھا۔فلم میں کام کرتے ہی وہ ایک فلمی ایکٹریس کہلائی جانے لگے گی۔لوگوں کی نظروں میں آئے گی طرح طرح کے بے ہودہ قسم کے کمنٹس جو ہر فلمی ایکٹریس کی شکل و صورت اور جسم پر کیے جاتے ہیں۔۔اب اس پر بھی کیے جائیں گے
عجیب عجیب خدشات اسے ستائے جا رہے ہیں۔۔
اگر آپ کو میل پر اعتراض تھا تو یہ بات آپ کو پہلے بتانا چاہیے تھی تاکہ ہم کسی فیمیل کو ہی لاتے۔۔۔.اب اتنی جلدی کہاں سے آئے گی فیمیل میک اپ آرٹسٹ۔؟؟
وہ الٹا اسی سے پوچھنے لگا۔۔۔۔
مجھے کیا پتہ کہاں سے آئے گی۔آپ کا مسئلہ ہے یہ میرا نہیں۔۔۔حیات نے رکھائی سے جواب دیا۔۔۔۔
ہاں مسئلہ میرا ہے۔۔۔لیکن کریٹ ایٹ تو آپ نے کیا نا۔۔ وہ چاہ کر بھی اپنا غصہ کنٹرول نہیں کر پایا۔۔۔
کیا مطلب ہے آپ کا۔۔۔مجھ سے پوچھ کر لائے اسے کیا
جو مجھے الزام دے رہے۔۔میں نے آپ سے پہلے بھی کہا تھا اگر میں یہ کام کروں گی تو اپنے مزاج کے حساب
سے کروں گی۔۔آپ کی فلم میں کام کر رہی ہوں یہی کافی سمجھئیے مجھ پر اپنی مرضی تھوپنے کی کوشش مت کیجئے ورنہ نتائج کی پروا کیے بغیر فلم چھوڑ کر چلی جاؤں گی سمجھے۔۔اس نے دھمکی دی
ماحر نے اسکے تیور ملاحظہ کیے۔۔انداز حتمی تھا۔۔۔لہجہ گستاخانہ اور طیش دلانے والا تھا۔۔
اوکے ٹھیک ہے جیسا آپ بولیں گی ویسا ہی ہوگا۔۔۔اس نے فوراً ہتھیار ڈالتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
ہونہہ..حیات بڑبڑاتے ہوئے چہرے کا رخ پھیر کر مون کو دیکھنے لگی جو غور سے انکی بحث سن رہا تھا۔۔۔
لیکن فیمیل آرٹسٹ کو بلانے کیلئے ایک دن لگے لگا۔۔آج ہمارا سیٹ اپ بالکل ریڈی ہے۔۔میں شوٹنگ کینسل نہیں کرنا چاہتا۔اسی لئیے پلیز صرف آج کیلئے تعاون کر دیں ہمارے ساتھ۔۔وہ آرٹسٹ اکیلا آپ کا میک اپ نہیں کرے گا۔۔مس سیما بھی ساتھ ہیلپ کریں گی۔۔اسکے بعد آپ
جو کہیں گی مانا جائے گا۔۔۔صرف آج کے لئیے کوآپریٹ کر دیں پلیز۔۔اتنے بڑا سپر سٹار ایک New_Commer
ہیروئن سے لجاجت بھرے انداز میں ریکوئسٹ کر رہا تھا۔شکر تھا ڈریسنگ روم میں اور کوئی نہیں تھا۔ورنہ ٹیم کا کوئی ممبر دیکھ لیتا تو حیرت زدہ رہ جاتا۔۔۔
دماغ تو ٹھیک ہے آپ کا۔۔جب میں نے زندگی میں کبھی کسی مرد سے ہاتھ تک نہیں ملایا اور آپ چاہتے ہیں کہ
میک اپ کروا لوں۔۔میں یہ کام نہایت مجبوری میں کر رہی ہوں ورنہ آپ جانتے ہی ہیں کہ ایسے کاموں سے سخت نفرت ہے مجھے۔۔۔
میری بہت بڑی بدقسمتی تھی کہ اس گناہ کے کام کے لئیے آپ کی نظر مجھ پر پڑی تھی۔پہلی بار میں ہی آپ کی اس آفر کو ٹھکرا دیا تھا۔۔۔۔مگر ناجانے کیسے انسان تھے آپ پوری دنیا کی لڑکیوں کو چھوڑ کر میرے پیچھے کسی آسیب کی طرح لگ گئے۔۔۔
نتیجتہ یہ نکلا کہ تمام تر ناپسندیدگی کے باوجود آج مجھے یہ کام کرنا پڑ رہا اور آپ جانتے بوجھتے بھی مزید فرمائشیں کر رہے مجھ سے۔۔۔
غصے سے کہتے ہوئے اسکی آواز آخر میں بھرا گئی۔۔۔
ماحر کا دل احساس ندامت سے بھر گیا۔۔اس کا دل کیا کہ وہ اس لڑکی کو اسکے مزاج کے برعکس والے اس ناپسندیدہ تجربے سے نا گزارے۔۔۔فلم کی شوٹنگ سرے
سے ہی کینسل کر دے۔۔۔فلم بنانے کا ارادہ ترک کر دے
یہ بات اس نے علی کاظمی سے شئیر کی جس کا اسی وقت فون آیا تھا۔۔جواباً اس نے خوب لتاڑ دیا۔۔۔تم پاگل ہو گئے ہو یار۔۔۔اتنا پیسہ لگا چکے ہو۔۔۔ملائشیا، سنگاپور ٹرکی،سوئزرلینڈ کے لئیے فلم کی پوری ٹیم کا ویزا بھر چکے اور سب سے بڑی بات یہ کہ اپنی خواہش اپنی
ضد سے پیچھے ہٹ رہے۔۔اسی ایک ضد کے پیچھے اتنا
خوار ہوئے اور اب جب اللّٰہ اللّٰہ کر کے وہ اس کام پر راضی ہوئی تو تمہارا ارادہ بدل رہا۔۔۔
علی کاظمی نے خوب لمبا لیکچر دے کر اس کا فلم کینسل کرنے کا ارادہ ہی کینسل کروا دیا۔۔۔
دوسری طرف حیات نے صاف صاف انکار کر دیا کہ وہ کسی مرد سے میک اپ ہرگز نہیں کروائے گی تو مجبوراً ماحر خان کو آج کی شوٹنگ کینسل کرنا پڑی۔۔۔۔
شوٹنگ کینسل ہو جانے کے باعث حیات عبدالرحمان کو اس کا مایوس اور جھنجھلایا ہوا چہرہ دیکھ کر دل سکون حاصل ہوا تھا۔۔
اس نے دل میں پکا ارادہ کر لیا تھا کہ پوری شوٹنگ کے دوران وہ اسے ایسے ہی جی بھر کے تپائے گی,,
دوسرے دن ایک فیمیل میک آرٹسٹ وہاں پہنچی تو یہ مسئلہ حل ہوا تھا۔۔۔۔دوبارہ سے سارا سیٹ اپ لگایا گیا۔شکر تھا صرف ڈائیلاگز ہی بولنے تھے کوئی ٹچی سین نہیں کرنا پڑا تھا۔۔۔۔۔بڑا جی کڑا کر کے اس نے وہ سینز ریکارڈ کروائے۔۔۔پہلے سین میں کوئی بیس بار ری ٹیک دیا۔۔۔نیکسٹ میں پندرہ سولہ دفعہ۔۔لاسٹ سین میں اسکی ایکٹنگ میں مزید بہتری آ چکی تھی
صرف تین بار ری ٹیک کے بعد شاٹ اوکے ہو گیا تھا۔۔
ماحر خوش تھا جبکہ وہ شدید اضطراب میں مبتلا تھی۔۔۔”
اس نے کھڑکی سے باہر جھانکا تاحد نگاہ برف ہی برف پھیلی ہوئی تھی۔۔۔خاصے فاصلوں پر بنے گھر بھی برف سے ڈھکے ہوئے تھے۔۔ درختوں کے پتوں پر بھی نرم نرم
برف گری ہوئی تھی۔”جنکی وجہ سے وہ سبز کے بجائے سفید لگ رہے تھے۔۔۔۔۔۔ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ہزاروں ٹیوب لائٹس ان پر روشن ہوں۔۔۔رات بھر وقفے وقفے سے برف گرتی رہی تھی۔۔۔روم کے اندر ہیٹر آن تھا جس کی وجہ سے اندر کا ماحول گرم تھا۔۔۔۔کھڑکی کے شیشے سے چہرہ ٹکائے وہ اس پری چہرہ کے بارے میں سوچ رہا تھا جو اسی ہوٹل کے نچلے فلور پر اپنے بھائی کے ساتھ ٹھہری ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔اس کے ذہن میں آج کی شوٹنگ کا منظر تازہ ہونے لگا جب وہ شاٹ دینے کیلئے تیار ہو کر ڈریسنگ روم سےباہر آئی تو ہر نگاہ جیسے اس پر جم کر رہ گئی تھی۔ارد گرد کا خوبصورت منظر اس کے آگے پس منظر میں چلا گیا تھا۔۔یوں لگ رہا تھا جیسے کائنات کا سارا حسن سمٹ کر اسی ایک لڑکی میں سما گیا ہو۔۔۔
وہ منظر یاد آتے ہی اسکے ہونٹ خود بخود مسکراہٹ کے انداز میں پھیلے۔۔
تم بہت ہی خوبصورت ہو لڑکی۔۔۔۔اچھا ہوا میرے کہے بغیر فلم کیلئے خود ہی مان گئی۔ یقیناً فلمی شائقین کو تمہارا چہرہ بہت پسند آئے گا اور میری فلم ہزار کروڑ تک بزنس کر جائے گی۔۔۔۔۔ساتھ میں یہ بھی جانتا ہوں ابھی تمہیں یہ سب اچھا نہیں لگ رہا تم مجبوری میں کر رہی ہو۔۔۔۔لیکن دولت شہرت کسے بری لگتی ہے بھلا۔۔آئی ایم شیور۔۔۔جب اس فلم سے تمہیں ایک پہچان ملے گی تو اس وقت تمہیں یہ سب بالکل برا نہیں لگے گا۔۔بلکہ تم فخر کرو گی اپنے آپ پر۔۔۔یہ بھی جانتا ہوں تم مجھ سے سخت ناراض سخت بدظن ہو لیکن شوٹنگ ختم ہوتے ہی میں تم سے سوری کر لوں گا آدھی ترکش آدھی پاکستانی حسینہ۔۔۔
اپنے دئیے گئے خطاب پر وہ خود ہی ہنس پڑا تھا۔۔
صبح کاذب کا وقت تھا جب اس پر چھائی نیند کی ہلکی سی خماری بھی ٹوٹ گئی تو وہ کھڑکی کے پار لگی۔وہاں ایک خوشگوار اور محسور کن منظر بصارت کو جکڑنے کیلئے موجود تھا۔جہاز بدلیوں کے ٹکڑوں کے درمیان محو پرواز تھا۔سورج کی رو پہلی روشنی میں سونے کی طرح چمک رہی تھی۔
واؤ بیوٹیفل منظر۔۔
وہ دم بخود سی اس منظر کے سحر میں گرفتار اسے دیکھ رہی تھی جب ساتھ بیٹھی میک اپ آرٹسٹ عینا کی ستائشی آواز کانوں سے ٹکرائی۔
حیات نے ہلکی کی گردن موڑ کر اسکی طرف دیکھا وہ کیمرہ نکالے اس منظر کو قید کر رہی تھی۔وہ دوبارہ کھڑکی سے پار دیکھنے لگی تھوڑی دیر بعد جہاز کی بلندی میں کمی آنا شروع ہو گئی نیچے چار سو نیلگوں سمندر پھیلا ہوا تھا جسمیں ان گنت کشتیاں لانچیں اور مال بردار جہاز محو پرواز تھے۔سپیڈ
بوٹس اور لانچیں اپنے پیچھے پانی میں بل کھاتی لکیریں چھوڑتی جا رہی تھیں جو اس منظر کی خوابناکی میں اضافہ کر رہی تھیں۔ساڑھے چار گھنٹے ہواؤں میں سفر کرنے کے بعد وہ بنکاک ائیر پورٹ پر تھے مقامی وقت کے مطابق چھے بج چکے تھے ساڑھے آٹھ بجے انہیں ملائیشیا کیلئے روانہ ہونا تھا۔
سب کے سب اپنے ہینڈ کیری بیگ لٹکائے بنکاک کے سوورن بھومی انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے اندر داخل ہوئے۔امیگریشن کے مرحلے سے گزرنے کے بعد جیسے ہی وہ باہر آئے ماحر خان کے کئی مداحوں نے انہیں گھیر لیا۔
وہ اپنے فینز کا پیار سمٹتے مسکراتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کر رہا تھا۔عینا،مایا سمیت پوری ٹیم ایک ساتھ ہنسی مذاق کرتے ہوئے چل رہی تھی واحد وہ تھی جو مون کا ہاتھ پکڑے ان سے فاصلے پر بے نیازی سے چل رہی تھی۔۔
یار تم تو یوں دور دور ہو جیسے ہماری ٹیم میں شامل ہی نہیں۔۔عینا نے اس سے ہنس کر کہا تھا
جواباً وہ خاموش رہی تھی سب سے آگے چلتے ماحر نے عینا کی بات سنی اور گردن موڑ کر ایک پل کے لئیے حیات کی طرف دیکھا پھر کندھے اچکاتے آگے بڑھ گیا۔۔
اگلی فلائٹ تھائی ائیر لائن کی تھی۔سوا دو گھنٹے بعد وہ سب ملائیشیا پہنچ چکے تھے۔کوالالمپور کے جدید اور شاندار ائیر پورٹ سے باہر آتے ہی ایک بہت بڑی مرسڈیز انکی منتظر تھی۔
فرقان سمیت ٹیم کے باقی لوگ انکے استقبال کو موجود تھے
گاڑی ان سب کو لئیے ون ورلڈ ہوٹل آ پہنچی کافی بڑا ویل ڈیکوریٹڈ اور شاندار ہوٹل تھا
کمرے پہلے ہی بک تھے۔صرف فلم کی لیڈ کاسٹ یعنی ہیرو ہیروئن کیلئے فرسٹ کلاس الگ الگ روم بکڈ تھے باقی سب ٹیم ممبرز کو رومز شئیر کرنے پڑے۔
مون کو لئیے وہ اپنے کمرے میں آئی تو فریش ہونے کے بعد سفر میں قضا ہونے والی نمازیں ادا کرنے بیٹھ گئی۔فارغ ہونے کے بعد اس نے یونہی کھڑکی کھولی تو سامنے سوئمنگ پول تھا جس میں گوریاں اور گورے نہا رہے تھے۔بندر اتامہ کا رہائشی علاقہ سامنے تھے۔
وہ کھڑکی سے چہرہ ٹکائے دیکھنے لگی۔اگلے پندرہ دن
وہ لوگ وہاں رہے تھے اس دوران انہوں نے ملائشیا اور سنگا پور کے مختلف مقامات پر شوٹنگ کی اسکے بعد
کچھ سینز ترکی اور سوئزر لینڈ میں شوٹ کیے گئے
اس پوری شوٹنگ کے دوران اس کا رویہ ماحر سمیت
اسکی پوری ٹیم کے ساتھ سرد اور خشک رہا۔سین اوکے
کروانے کے بعد وہ مون کو لے کر سب سے الگ تھلگ جا بیٹھتی تھی تمام وقت اس سے جتنا ہو سکا اس شخص کو تنگ کیا۔کبھی کپڑوں کا ایشو بنا کر تو کبھی
سینز اور ڈائیلاگز پر اعتراض کر کر کے نتیجہ یہ ہوا کہ ساری فلم اس کی مرضی پر شوٹ کی گئی کپڑے وہ خود سلیکٹ کرتی فلم چونکہ برفانی مقامات پر شوٹ
کی گئی تھی اس لئیے اس نے فل قسم کے اونی ڈریسز ہی اپنے لئیے سلیکٹ کیے تھے۔کچھ ٹیم کے لوگوں نے ماحر کو مشورہ بھی دیا کہ پہاڑوں پر کوئی رومینٹک گانا اور سین شوٹ کروانا چاہیے جس میں ہیروئن باریک ساڑھی میں ملبوس ناچتی گاتی ہوئی دکھائی دے تاکہ شائقین زیادہ راغب ہوں ایسے رومینٹک سینز کی وجہ سے فلم کی طرف۔۔مگر حیات نے اس طرح کے سین کرنے کی خواہش پر پوری ٹیم سمیت اسے وہ کھری کھری سنائیں کہ وہ اپنا سا منہ لےکر رہ گیا۔ تھوڑے بہت رومینٹک ڈائیلاگز تو اس نے بول دے تھے مگر سوائے چند مرتبہ ہاتھ پکڑوانے کے اس نے کوئی ٹچی رومینٹک سین نہیں کرنے دیا تھا۔مجبوراً اسے فلم میں رومینس کا تڑکا لگانے کے لئیے دو ایٹم سانگز ڈالنے پڑے تھے جن کیلئے اس نے انتہائی بولڈ
ایکٹریسز کو لیا تھا۔مختلف ممالک میں شوٹنگز کمپلیٹ کر کے پوری ٹیم ڈھائی ماہ بعد وطن واپس لوٹی۔حیات
اب جلد از جلد اسکے اپارٹمنٹ کو چھوڑ کر کوئی اور رہائش ڈھونڈھنا چاہ رہی تھی مگر سمجھ نہیں آ رہی تھی کس سے کہہ کر رینٹ پر گھر لے۔اگرچہ اسکے پاس اب اپنا اپارٹمنٹ تو تھا جو میجر نعمان اسکے نعمان اس کے نام کر گیا تھا مگر وہ لاہور میں تھا دوبارہ اس
اجنبی شہر جانے کو اس کا دل نہیں مان رہا تھا۔اکیلی تو تھی مگر کراچی کم از کم شہر تو اپنا تھا۔۔۔کیا کرے
کیا نا کرے۔۔۔اسی ادھیڑ بن میں مصروف تھی کہ ملازمہ نے ماحر کے آنے کی اطلاع دی۔۔ہمیشہ کی طرح اسکے اعصاب تن گئے اسکی آمد کا سن کر۔۔
مجھے جلد از جلد یہاں سے جانا ہوگا۔۔۔۔ورنہ جب تک اسکے فلیٹ میں رہی یہ شخص آتا رہے گا اور میرا خون جلاتا رہے گا۔۔مجھے جلد ہی کوئی اپنا بندوبست کرنا ہوگا۔۔۔۔اسی بات پر غور کرتے ہوئے وہ لاؤنج میں آئی سامنے ہی صوفے پر اسکے انتظار میں براجمان تھا
بلیو جینز پر ریڈ شرٹ پہنے کافی ہمیشہ کی طرح سحر انگیز سا لگ رہا تھا جو کسی کو بھی اپنے جال میں جکڑ سکتا تھا۔اسے دیکھ کر دوستانہ انداز میں مسکرایا۔
حیات عبدالرحمان بنا کسی سلام دعا کہ خاموشی سے اسکے سامنے والے صوفے پر ٹک گئی چہرے بالکل سپاٹ تھے۔۔کاٹن کا بڑا سا ڈوپٹہ اس نے اپنے مخصوص انداز میں اس طرح اوڑھا ہوا تھا کہ سر کا ایک بال بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔
م
ہائے کیسی ہو۔۔۔؟ مسکرا کر کہا گیا۔۔۔سلام کرنے کی عادت شائد اسے بھی نہیں تھی۔۔پتہ بھی تھا کہ جواب نہیں آئے گا مگر پھر بھی پوچھ رہا تھا۔۔
یہ لیجئے آپ کا فون۔۔اس نے اچانک پاکٹ میں ہاتھ ڈالا اور ایک سمارٹ فون نکال کر اسکی طرف بڑھایا۔۔
حیات کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔۔۔۔
میں نے آپ سے کہا ہے مجھے فون دلائیں۔۔۔؟؟
میں اپنی طرف سے نہیں دے رہا۔۔۔آپ کا اپنا فون ہے۔۔اس کے سنجیدگی سے کہنے پر حیات نے اس کے ہاتھ
میں موجود فون کو غور سے دیکھا تو پہچان گئی یہ ارتضیٰ کا فون تھا جس فارس بھائی جاتے وقت اسے دے گئے تھے یہاں سے بھاگتے وقت یہ فون یہیں رہ گیا تھا جو اب اسکے ہاتھ میں تھا۔۔۔بنا کچھ کہے اس نے خاموشی سے موبائل لے لیا۔۔
کچھ دیر کیلئے دونوں کے درمیان خاموشی قائم ہو گئی تھی۔۔گہری خاموشی۔۔
کچھ دیر خاموش رہا۔۔پھر جیب سے ایک چیک نکال کر اسکی طرف بڑھایا۔۔۔
یہ کیا ہے۔۔۔؟؟حیات نے سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھا۔۔
آپ کا معاوضہ۔۔۔فلحال یہ ایک کروڑ کا چیک ہے۔۔باقی فلم ریلیز ہونے کے بعد جتنا بزنس کرے گی اسی حساب
سے مزید پیمنٹ کروں گا آپ کو۔۔وہ خوش مزاجی سے بولا۔
بہت بڑی رقم تھی ایک کروڑ۔۔
کچھ دیر وہ حیرت سے اسکے ہاتھ میں موجود چیک کو دیکھتی رہی پھر اس کے حسین چہرے کی فراغ پیشانی پر شکنوں کے جال بن گئے آنکھوں سے ناگواری عیاں تھی۔۔میں نے آپکی فلم میں کام اپنی غرض سے نہیں کیا۔۔لہذا مجھے نہیں چاہیں یہ حرام کے پیسے اپنے پاس ہی رکھیں۔۔
حرام کیسا۔۔۔آپ کی اپنی محنت کی کمائی ہے۔۔وہ اپنے غصے کو دبا کو تحمل سے بولا۔۔
مجھے نہیں چاہیے ایسی محنت کی کمائی۔۔
تو میں کیا کروں پھر اس کا۔۔۔؟؟
ٹکڑے ٹکڑے کر کے پھینک دیں یا جا کر غریبوں میں بانٹ دیں۔۔جو آپ کا دل کرے وہی کیجئیے مگر مجھے معاف رکھیے اور ہاں میں بس چند دن ہی ہوں آپکے اس فلیٹ میں۔۔۔ڈھونڈھ رہی ہوں جیسے ہی مجھے کوئی فلیٹ ملاآپ کے فلیٹ سے چلی جاؤں گی۔۔
حیات نے جتانا ضروری سمجھا تا کہ یہ نا سوچے کہ میرے پیسوں کو حرام کا پیسہ کہہ رہی اور رہ بھی میرے فلیٹ میں رہی۔۔
تم جب تک چاہو یہاں رہ سکتی ہو حیا۔ یہ اپارٹمنٹ میں تمہارے نام کر دوں گا اگر تم مجھ پر اعتبار نہیں کر پا رہی ہو تو میں یہاں نہیں آؤں گا۔ مگر تمہاری ضروریات سے غافل نہیں رہوں گا۔۔ تمہارے اکاؤنٹ میں خطیر رقم جمع کروا دوں گا جس کو تم اپنی مرضی سے استعمال کر سکتی ہو ۔۔
کیوں۔۔۔۔۔؟؟آپ مجھ پر اتنے مہربان کیوں ہو رہے آخر
پھر سے ارادہ ہے جال میں پھنسا کر بدلا لینا کا۔۔۔؟؟
اتنا یاد رکھنا ماحر خان اب حیات عبدالرحمان مر کر بھی تم پر اعتبار نہیں کرے گی۔۔
ماحر نے اسکی شک آمیز گفتگو انہماک سے سنی۔اس دوران وہ اسکے چہرے کے زاویے و لہجے کے اتار چڑھاؤ کا جائزہ لیتا رہا وہ بری طرح بدگمان متنفر اور ناراض دکھائی دے رہی تھی۔۔مگر یہ اسکی خام خیالی تھی وہ صرف بدگمان و متنفر یا ناراض نہیں تھی بلکہ وہ اس سے نفرت کرتی تھی جسے وہ اسکا غصہ اور ناراضگی سمجھتا آ رہا تھا وہ درحقیقت اسکی نفرت تھی۔
اچھا تمہارے نزدیک میری ان مہربانیوں کے پیچھے کیا غرض پوشیدہ ہے کیا چاہتا ہوں میں تم سے۔۔۔؟؟
کیا چاہتے ہو تم مجھ سے کیا تمہاری نیت کا یہ کھوٹ مجھے اپنی زبان سے بتانے کی ضرورت ہے۔۔؟؟وہ سخت بدظن و تنفر بھرے لہجے میں گویا ہوئی۔۔
غلط سوچ رہی تم میرے بارے میں حیا۔۔۔۔وہ اسکی طرف گھائل نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولا
وہ میری خواہش نہیں بلکہ غصہ تھا میرا۔۔اگر مجھے تم سے ناجائز تعلقات کی چاہ ہوتی تو کتنی بار کتنا عرصہ تم میری دسترس میں رہیں۔کون روک سکتا تھا مجھے۔پلیز میری نیت پر شک مت کرو۔۔اپنے ذہن میں شک و وہم کے بیٹھے ہوئے ناگ کو مار ڈالو۔۔۔یہ فلیٹ چھوڑ کر مت جاؤ پلیز اس سے باہر تم محفوظ نہیں
ہو۔۔پلیز میری بات پر سوچو غور کرو۔۔تم جو کہو گی میں کروں گا۔۔۔تمہیں مجھ سے کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہیے۔۔۔وہ بہت متانت سے کہہ رہا تھا۔۔اس کا لہجہ سچا تھا۔۔۔مضبوط تھا مگر حیات پر قطعی اثر نہیں ہوا
وہ اسے سنانے کو کوئی سخت الفاظ سوچ ہی رہی تھی جب اسے اپنے فون کی طرف متوجہ ہوتے دیکھا۔۔
اسلام علیکم ڈیڈ۔۔۔۔
جی خیریت۔۔۔۔؟؟وہ چونک کر پوچھ رہا تھا۔۔۔
جی جی ڈیڈ میں بس ابھی پہنچتا ہوں۔۔۔بولنے کے ساتھ ہی وہ تیزی سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
جی اوکے بس دس منٹ میں پہنچتا ہوں۔۔جلدی جلدی بول کر اس نے رابطہ منقطع کر کے حیات عبدالرحمان کی طرف دیکھا جو بنا کسی تاثر کے لاپروا انداز میں بیٹھی تھی۔۔۔
ابھی مجھے ایمرجنسی میں جانا پڑ رہا ہے حیا۔۔میرے ڈیڈ بلا رہے ہیں۔۔بمیں پھر آؤں گا۔۔بہت سی باتیں رہ گئی ہیں جو مجھے تم سے کرنی ہیں۔اپنی غلطیوں کی معافی مانگنی ہے کچھ باتیں کلئیر کر کے تمہاری غلط فہمیاں دور کرنی ہیں۔۔۔اوکے فلحال چلتا ہوں میں اللّٰہ حافظ۔۔۔اس نے ایک بھرپور نگاہ حیات پر ڈالی مگر وہ وہ متوجہ نا ہوئی سرد و سپاٹ چہرے کے ساتھ لاتعلق انداز میں بیٹھی رہی۔۔گہری سانس لیتے وہ باہر نکل گیا تو وہ اسکی باتوں پر سر جھٹکتے زیر لب دو تین گالیاں دے کر اپنے موبائل کی طرف متوجہ ہوئی۔۔
موبائل آف تھا۔۔۔اس نے آن کیا۔۔۔
اکاؤنٹ چیک کیا۔۔۔فل بیلنس تھا۔۔۔پیکج لگا کر ڈیٹا آن کیا اور اپنی ایف بی آئی ڈی کھول لی۔۔۔سکرولنگ کرتے یونہی ایک میچوئل فرینڈ آئی ڈی پر نظر پڑی تو ٹھٹھک گئی۔۔۔جانی پہچانی شکل تھی۔۔
علی محمدی۔۔۔۔
فوراً پروفائل اوپن کی تو اس کا نمبر بھی شو ہو رہا تھا۔۔اسکے چہرے پر رونق آ گئی۔۔بھری دنیا میں ساتھ نبھانے والا مل گیا۔۔
حیا میں تمہارا آخری سانس تک انتظار کروں گا۔۔
اگلے ہی پل وہ واٹس ایپ پر اس کا نمبر ایڈ کر کے اسے کال ملا رہی تھی۔۔
