171.9K
78

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Hayat (Episode 63) 2nd Last Episode (Part - 3)

Meri Hayat By Zarish Hussain

ریاست فلوریڈا کی پہچان آرلینڈو کے فائیو سٹار ہوٹل کے ویل فرنشڈ روم کی گلاس وال کے سامنے کھڑی وہ وہاں کی روشن صبح کا نظارہ کر رہی تھی۔دھوپ نکلی

ہوئی تھی اور ہوٹل کے آس پاس موجود ہریالی پر براہ راست پڑ رہی تھی۔۔ سامنے کچھ فاصلے پر ایک چھوٹی سی جھیل بھی نظر آ رہی تھی جو صبح کی چکا چوند روشنی میں آئینے کی مانند چمک رہی تھی۔۔ کناروں پر اگا سبزہ اور بیلوں کا عکس پانی میں دور سے ہی دکھ رہا تھا۔اس نے لمبی گردنوں والے کئی پرندوں کو جھیل

کے اوپر منڈلاتے دیکھا۔۔۔۔ بلند گھاس اور سروٹوں میں

گھری صبح کی سنہری روشنی میں سنہری لگتی جھیل

کا منظر اتنا دلکش لگ رہا تھا کہ وہ مسحور ہو کر اسے

دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔

نیویارک سے سوا دو گھنٹے کی فلائٹ کے بعد رات دس بجے وہ سب آرلینڈو ائیرپورٹ پر اترے تھے۔۔۔۔ڈائریکٹر

واجد علی اور فلم کی پوری ٹیم کے علاؤہ ماحر کا اپنا ذاتی عملہ بھی ساتھ تھا۔۔۔جنمیں کچھ لوگ تو ایک دن پہلے ہی آرلینڈو پہنچ گئے تھے اور پھر انکے،استقبال کے لئیے دنیا کے سب سے خوشنما و دلکش ائیرپورٹ یعنی آرلینڈو ائیرپورٹ پر موجود تھے۔۔۔ہوٹل میں انہیں جو کمرہ الاٹ کیا گیا تھا وہ گیارہویں منزل پر واقع تھا۔۔۔

کافی کشادہ اور خوبصورت کمرہ تھا۔دیواریں پوری کی پوری شیشے کی بنی ہوئی تھیں۔جن پر ریشمی پردے لٹک رہے تھے۔جدید دروازہ بھی شیشے کا تھا۔واجد علی

نے اسکے شایان شان کافی مہنگے اور خوبصورت ہوٹل کا انتخاب کیا تھا جبکہ فلم کی باقی ٹیم کے لوگوں کو

اس نے اپنے ایک عزیز دوست کے فارم ہاؤس پر ٹھہرایا تھا جو یہاں سے بیس منٹ کی مسافت پر تھا۔ان کا وہ

دوست پچھلے اٹھارہ سالوں سے آرلینڈو میں مقیم تھا۔۔

اور اسکا شمار یہاں کے لینڈلارڈ میں ہوتا تھا۔بڑے کھلے

دل کا انسان تھا واجد علی کی اپنی ٹیم سمیت آمد کا

سن پر اپنے عملے کو لے کر ائیرپورٹ پہنچ گیا تھا۔۔باقی لوگوں کو اس نے اپنے دوست کے ہمراہ روانہ کر دیا تھا مگر ماحر کے مزاج کے پیش نظر اسکے لئیے معذرت کر

لی تھی کیونکہ اسے اچھی طرح معلوم تھا وہ مفت کی

مہمان نوازی کے بجائے ہوٹل میں رہنا زیادہ پسند کرتا ہے۔۔۔ بہرحال انکے لئیے تسلی بخش بات یہ تھی کہ فلم کی ٹیم کی رہائش کے اخراجات سے انکی جان چھوٹ

گئی تھی اب انہیں جتنے دن یہاں رہنا تھا انکے دوست

عثمان فاروقی نے ہی اسکی ساری ٹیم کی مہمان نوازی کرنی تھی سوائے ماحر کے۔۔۔

رات جب وہ اسکے ہمراہ ہوٹل میں پہنچی تھی تو اتنی

تھکی ہوئی تھی کہ روم میں پہنچتے ہی نرم گرم بستر پر ڈھے گئی تھی اور پھر،فوراً نیند کی آغوش میں چلی گئی تھی۔ماحر نے اسے ڈنر کیلئے جگانا چاہا تھا مگر وہ نہیں اٹھی تھی۔۔بے سدھ۔۔۔ بے خبر۔۔۔ نیند کے خمار میں گم ہو گئی تھی۔۔ پھر صبح سویرے ہی اسکی آنکھ کھل گئی تھی۔اسے سحر خیزی کی عادت تھی چاہے آذان کی آواز سنائی دیتی یا نہیں چاہے رات کو جلدی سوتی یا نہیں صبح اسکی آنکھ اپنے مقررہ وقت پر ہی کھلتی۔

آنکھ کھلنے کے بعد پہلا خیال اسکا آیا۔۔ جس کے طفیل وہ یہاں موجود تھی۔سامنے ہی سنگل صوفے پر بمشکل

خود کو ایڈجسٹ کیے وہ بغیر کمبل کے سو رہا تھا۔روم

میں شائد ایک ہی کمبل تھا جو وہ لے کر سو گئی تھی۔

ہلکی سی ٹھنڈ کا احساس پھیلا ہوا تھا۔۔وہ اتنی سخت دل بھی نہیں تھی جو اسکی بے آرام ہونے کا احساس نا کرتی۔۔آہستگی سے بستر سے اتری اور اپنا کمبل اٹھا کر اس پر ڈالا پھر کچھ سوچ کر اسے پکار بیٹھی تھی۔وہ نیند میں کیا پکار سنتا بھلا تبھی حیات کو جھجھکتے ہوئے اسے شانے سے ہلا کے جگانا پڑا تھا۔وہ جاگا تو نیند سے بھری آنکھوں میں حیرت لئیے اسے دیکھنے لگا تھا۔۔حیات نے اسے بیڈ پر جا کر سونے کو کہا اور خود واش روم میں وضو کرنے چلی گئی تھی۔۔پانچ منٹ بعد وضو کر کے جب وہ روم میں آئی تھی تو دیکھا بیڈ پر کمبل اوڑھے وہ پرسکون سو رہا تھا۔مطمئن ہوتے ہوئے نماز کے لئیے نیت باندھی تو کنفیوژ ہو گئی تھی قبلے کا تو پتہ

ہی نہیں تھا۔۔۔تذبذب میں مبتلا کچھ دیر سوچتی رہی

تھی کہ آیا اسے جگا کر پوچھے یا نہیں۔آخر کار اندازے سے ایک سمت منتخب کر کے اس نے نماز ادا کی تھی۔۔۔نماز کے بعد اسی صوفے پر جا کر لیٹ گئی تھی جس پر پہلے وہ سویا ہوا تھا۔۔پھر ساڑھے نو بجے ماحر نے اسے ناشتے کیلئے جگایا تھا۔۔۔ناشتہ اس نے روم میں ہی آرڈر کیا تھا۔اسکا انداز لیا دیا سا تھا۔۔۔۔ نا پہلے والی محبت و توجہ بھرا تھا اور نا کچھ عرصہ پہلے والی بے نیازی یا لاتعلقی لئیے ہوئے۔۔ناشتے کے بعد وہ سامنے والی وال

سے پردہ کھسکا کر نظارہ کرنے کھڑی ہو گئی۔۔۔ سامنے نظر آتے قدرتی نظاروں کو دیکھنے میں وہ مگن تھی جب اپنے عقب میں ماحر کی آواز سن کر پلٹی۔۔۔اپنے اونچے لمبے قد اور شہزادوں جیسی وجاہت و خوبروئی کے باعث بلیک پینٹ کوٹ میں وہ بہت ڈیشنگ۔۔۔ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔۔۔ جو ستائشی تاثر اسکے چہرے پر ابھرنے لگا تھا اسے فوراً چھپا لیا اور سنجیدہ سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔

“میں شوٹنگ پر جا رہا ہوں تین چار گھنٹے لگیں گے تب تک تم یہاں اکیلی رہ لو گی نا۔۔۔؟؟بازو پر بندھی رسٹ

واچ میں ٹائم دیکھتا وہ اس سے پوچھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔

“کیا مطلب میں اتنی دیر یہاں ہوٹل میں اکیلی رہوں گی۔۔۔؟؟ وہ گھبرا گئی۔۔۔کسی بھی انجان جگہ پر اکیلے

رہنے کا تصور بھی اسکے لئیے اب سوہان روح تھا۔۔۔

ایکچولی شوٹنگ جنگل میں ہے وہ یہاں سے زیادہ دور نہیں لیکن جنگل ہے نا تمہاری سیفٹی کے خیال سے کہہ رہا ہوں۔میرے آنے تک تم آرام سے رہ سکتی ہو یہاں۔بٹ

اگر اکیلے نہیں رہنا چاہتی تو کوئی بات نہیں پھر میرے ساتھ چلو۔۔۔اس نے رسانیت سے کہا۔۔۔۔وہ سر ہلاتے ہوئے

چینج کرنے کی غرض سے سوٹ کیس کی طرف بڑھی

اور اپنا ڈریس لے کر واش روم میں چلی گئی جبکہ وہ اپنے فون پر آنے والی ڈائریکٹر واجد علی کی کال کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔

کچھ دیر بعد وہ ریڈ اسٹالش فراک پاجامے میں ملبوس واش روم سے باہر آئی۔۔۔ فراک کے گھیرے پر رنگ برنگے دھاگوں اور شیشوں کا نفیس کام کیا گیا تھا۔ریڈ کلر کا چوڑی دار پاجامہ اور ملٹی کلرز میں ڈوپٹہ تھا۔۔کندھے پر ایک سائیڈ سے ڈوپٹہ لئیے۔۔۔ کھلے ریشمی بالوں کے ساتھ سرخ لباس میں وہ اسقدر حسین لگ رہی تھی کہ ماحر جو اسی زاویے پر کھڑا ہنوز سیل فون پر متوجہ تھا۔چونک گیا بلکہ ٹھٹکا اور مسمرائز ہو گیا۔۔۔۔۔