Meri Hayat By Zarish Hussain Readelle50271 Meri Hayat (Episode 45)
Rate this Novel
Meri Hayat (Episode 45)
Meri Hayat By Zarish Hussain
دو گارڈز کے نرغے میں کالین پر پڑا وہ بری طرح پٹ رہا تھا۔۔۔۔۔جبکہ کچھ فاصلے پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھا
ماحر خان اسے خون آشام سلگتی نگاہوں سے گھور رہا
تھا۔چہرے کے ہر نقش سے غصہ اور جنون عیاں تھا۔
مینیجر فرقان بھی ساتھ ہی کھڑا تھا۔۔۔
اسکے موبائل فون میں سیو تمام کال ریکاڈنگز وہ سن چکا تھا جو شائد اس نے کبھی مثال شیرانی کو بلیک کرنے کے مقصد سے یا پھر اس لئیے سیو کی ہونگی کہ پکڑے جانے پر وہ اکیلا نا پھنسے۔۔۔
ریکارڈنگز سننے کے بعد اب وہ یہ سب کچھ فراز کے منہ سے سننا چاہتا تھا۔
پلیز سر معاف کر دیں پلیز۔۔۔خدا کے واسطے معاف کر دیں سر مجھ سے غلطی ہو گئی۔مم میں سب بتاتا ہوں
پلیز روکیں انہیں گارڈذ کے ہاتھوں پٹتے وہ مسلسل معافیاں بھی مانگ رہا تھا۔۔۔
ٹھیک ہے پھر بکنا شروع کرو۔۔۔۔۔۔مگر بالکل سچ سچ
ماحر نے ہاتھ کے اشارے سے گارڈز کو باہر جانے کا کہا
فراز نے شرمندہ لہجے میں اپنا اقبال جرم کرنا شروع کیا۔۔۔شروع سے لے کر آخر تک ایک ایک بات کا اقرار کرتا گیا۔۔جیسے اس نے بات ختم کی ماحر نے اٹھ کر ایک زور دار تمانچہ اسکے منہ پر دے مارا۔۔۔۔
گارڈز سے کہو یہ ان کا مہمان ہے اسکی اچھی طرح خاطر تواضع کرتے رہیں۔۔اشتعال انگریز انداز میں وہ
فرقان کو اسکے بارے میں حکم دیتے باہر نکل گیا۔۔
وہ بالکل گم صُم سی بیٹھی خلاؤں میں تک رہی تھی۔سامنے رکھا کھانا جوں کا توں موجود تھا۔۔۔نقاہت کے باوجود دل کسی طرح کھانے کی طرف راغب ہی نہیں ہوتا تھا۔۔۔حلق سے اترتا بھی کیسے اس کریہہ ماحول میں۔تفکرات و اضطراب ذہنی الجھنوں ٹینشنوں خوف و حراس مون کے گم ہو جانے کے صدمے نے اس کے چہرے کی شادابی اور شگفتگی کو نچوڑ کر رکھ دیا تھا۔سرخ و سفید رنگت میں زردیاں سی گھلنے لگی تھیں۔شگفتہ شاداب چہرے پر یکدم خزاں سی چھا گئی تھی۔۔۔۔وہ ذہنی اور جسمانی طور پر بہت تھک
چکی تھی۔۔ان تمام حالات و واقعات نے اسکو نڈھال
کر کے رکھ دیا تھا۔۔
مون کہاں ہوگا۔۔۔۔؟؟کس حال میں ہوگا۔۔۔؟؟خدانخواستہ اسے کچھ ہو تو نہیں گیا ہوگا۔۔۔۔؟؟
سوچ سوچ کر اسکے دماغ کی رگیں پھولنے لگتی تھیں
مگر کوئی جواب نا ملتا۔۔۔۔بے بسی کے مارے وہ پھوٹ
پھوٹ کر رونے لگتی اور اللّٰہ سے شکوہ کرنے لگتی کہ
وہ اسکے حال پر رحم کیوں نہیں کر رہا۔؟ایسی کونسی خطا ہو گئی اس سے جسکی اسے اتنی بڑی سزا مل رہی۔۔
مگر دعاؤں اور اللّٰہ سے شکوہ کرنے پر مجبور تھی وہ
کبھی کبھی اس پر بالکل مایوسی ناامیدی چھا جاتی
لیکن کبھی کبھی اسے لگتا تھا اللّٰہ تعالیٰ اسکی دعاؤں کو رد نہیں کرے گا۔۔دیر سے ہی سہی مگر وہ ان مشکل حالات سے اسے ضرور نکالے گا۔یہی امید کی کرن اسکے جینے کی وجہ بنی ہوئی تھی۔۔
بوبی گرو ایک خواجہ سرا تھا جو اسے نرگس بائی کے کوٹھے سے یہاں لایا تھا۔پہلے دن جب وہ یہاں آئی تھی تو چکرا کر رہ گئی تھی۔چمکتے دمکتے بھڑکیلے لباسوں میک اپ سے لتھڑے چہروں والی یہ تیسری مخلوق۔ اوپر سے انکی لینگوئج بولنے کا انداز عجیب و غریب آوازیں،کسی کہ منہ میں پان تو کسی کے منہ میں سگریٹ۔۔۔اسکی نفاست پسند طبیعت کو ایسا ماحول کہاں سوٹ کر سکتا تھا بھلا اس لئیے بار بار ابکائیاں آتی تھیں۔۔
ایسے میں روزی نامی خواجہ سرا کو اس سے ہمدردی ہو گئی وہ اس کا خیال رکھتی تھی۔وہاں کا پکا کھانا نا کھاتی تو وہ اس کیلئے باہر سے منگواتی اور اصرار کر کر کے کھلاتی ایسے میں حیات کو بھی زندہ رہنے کیلئے چند لقمے زہر مار کرنا پڑتے۔روزی نامی وہ خواجہ سرا
اسے باقی سب سے کچھ ٹھیک لگتا کیونکہ ایک تو وہ گھر میں سادہ حلیے میں رہتا یا رہتی اور اسکے منہ پر ٹنوں کے حساب سے میک اپ بھی نہیں ہوتا تھا۔دوسرا وہ شکل سے بالکل لڑکی لگتی تھی بس آواز سے پتہ چلتا کی خواجہ سرا ہے۔۔۔۔۔۔۔اسی لئیے وہ اس سے بات وغیرہ کر لیتی تھی۔۔۔شروع شروع میں جب بوبی گرو اسے یہاں لایا تھا تو سب نے گرو سے پوچھا تھا کہ ان کے دھندے میں ایک لڑکی کا کیا کام لہذا وہ اسے کیوں لایا ہے۔۔؟؟جواب میں گرو نے کہا اسے اس لڑکی پر رحم آ گیا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ عزت سے ہاتھ دھو بیٹھے۔لیکن اب وہ یہاں سے بھی نہیں جا سکتی یہیں رہے گی اور ناچ گانے میں ساتھ دے گی۔حیات کیلئے یہ آسمان سے گرا کجھور میں اٹکا والی سچویشن ہو گئی تھی۔۔
وہ کسی بھی صورت ان کے ساتھ ناچ گانے پر راضی نا ہوئی تو پھر گرو نے اسے واپس کوٹھے پر بھیجنے کی دھمکی دی تو مجبوراً اسے ماننا پڑا مگر اس شرط پر کہ انکے ساتھ فنکشنز وغیرہ میں تو جائے گی مگر ناچے گائے گی نہیں صرف ڈھولک اور تالیاں وغیرہ بجائے گی بوبی گرو اس بات پر راضی ہو گیا تھا۔۔۔۔۔
کسی شادی وغیرہ میں اسے ساتھ لے جاتے وقت اسکے چہرے کو اوور میک اپ سے کور کروا کر وگ وغیرہ لگوا کر ایک خواجہ سرا کا لک دے دیا جاتا تھا۔بولنے سے گرو نے اسے سختی سے منع کر رکھا تھا کہ کہیں کسی کو آواز سے پتہ نا چل جائے کہ وہ ایک لڑکی ہے” یہ بات اسکی اپنی سیفٹی کیلئے بھی فائدہ مند تھی کہ لوگ اسے خواجہ سرا ہی سمجھیں۔۔۔۔۔۔اس لئیے باہر جاتے وقت وہ بالکل خاموش رہتی تھی صرف تالیاں یا ڈھولک بجانے میں ہی ساتھ دیتی تھی۔
اگرچہ اسے ان خواجہ سراؤں سے ہمدردی تھی مگر انکا رہن سہن اسکے لئیے ناقابل برداشت تھا ہر وقت ناچ گانے کی پریکٹس چلتی رہی۔۔۔۔سوائے روزی نے اس نے کسی کو بھی نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا کبھی۔۔
وہ سوچتی تھی اگر اللّٰہ نے انہیں مکمل نہیں بنایا تو کم از کم مسلمان تو بنایا ہے نا تو پھر اس طریقے سے کمانے کے بجائے محنت مزدوری کر کے حلال طریقے سے بھی تو کمایا جا سکتا ہے۔۔یا پھر یہ وجہ بھی ہو سکتی
ہے حلال طریقے سے رزق کمانے کا حق بھی معاشرے نے
ان سے چھین لیا ہو۔۔۔
صبح جب روزی الماس اور ندا کسی شادی کے فنکشن میں جانے کیلئے اسکے سامنے کمرے میں کھڑی تیار ہو رہی تھیں تو وہ دیکھ رہی تھی ۔۔۔ان تینوں نے خوب بھڑکیلے اور فٹنگ والے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔۔۔۔یقیناً
اسطرح کے کپڑے پہننے کا مقصد لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا تھا۔تاکہ لوگ خوش ہو کر کچھ نواز دیں۔۔اس مقصد کیلئے وہ بھر پور انتظام کرتیں یا کرتے تھے۔اسے سمجھ نہیں آتا تھا کہ وہ ان کے لیے کونسا صیغہ استعمال کرے مذکر یا مونث کا۔۔۔؟
وہ معاشرے کے اس طبقے سے تعلق رکھتے تھے جنہیں اللّٰہ نے مرد عورت کی پہچان عطا کرنے کے بجائے ایک درمیانی حالت میں پیدا کیا تھا اس تیسرے طبقے سے تعلق رکھنے والے یہ سب لوگ اپنی تخلیق کے مقصد پر پریشان زندگی کی گاڑی گھسیٹنے کے لیے اپنی ذات کو تماشا بنائے پھرتے تھے۔اچھے خاصے صحت مند ہاتھوں پیروں سے سلامت صرف جنس کا تعین نا ہو سکنے
کی وجہ سے معاشرے کے لوگوں سے الگ تھلگ اچھوتوں کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔نا تو انہیں اپنوں کے ساتھ رہنے کا حق حاصل تھا نا تعلیم حاصل کرنے اور نا حلال طریقوں سے روزی کمانے کا۔
وہ سارے حقوق جو ہر انسان کو حاصل ہونے چاہیں معاشرے نے صرف اس وجہ سے ان سے چھین لئیے تھے کہ قدرت نے انہیں نامکمل بنایا تھا۔ایک واضع شناخت کے بجائے آزمائش بنا کر اتارا تھا دنیا میں۔زیادہ تر لوگ انکی بھونڈی آوازوں بے لوچ جسموں کی حرکت اور ڈھول کی تھاپ پر ہونے والے بے ہودہ تماشے سے ہی لطف اندوز ہوتے تھے۔اس تیسرے طبقے کے لوگوں کو ناجانے پیٹ پالنے کے لیے کیا کچھ نہیں کرنا پڑتا تھا”
وہ اکثر سوچتی کہ کاش اسکے بس میں ہوتا تو وہ ان
کے لئیے حلال طریقے سے روزی مہیا کرنے کیلئے ضرور کچھ کرتی مگر پھر ٹھنڈی سانس بھر کر رہ جاتی اپنے لئیے کچھ نہیں کر سکی تو ان کیلئے کیا کرتی۔۔۔
وہ سب اکثر آپس میں لڑتے بھی تھے اسپیشلی اسوقت جب گرو باہر کہیں گیا ہوتا۔۔۔۔
وہ سخت تنگ آئی ہوئی تھی اس سب بدتر ماحول اور ان خواجہ سراؤں سے کئی بار اس نے بھاگنے کا سوچا مگر کوئی موقع ہاتھ نہیں آ رہا تھا۔۔۔پانچوں وقت کی نماز اور تہجد میں وہ اللّٰہ سے مون کی سلامتی اور یہاں سے اپنے نکلنے کیلئے اللّٰہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر دعا مانگا کرتی تھی۔اسے یقین تھا ایک دن اللّٰہ اسکی ضرور سن لے لگا بالآخر پورے ایک ماہ اور گیارہ دن بعد اللّٰہ
نے اسے وہاں سے نکلنے کا موقع دے دیا تھا۔۔۔۔
خان ہاؤس میں پچھلے پانچ دنوں سے جاری زین خان کی شادی کی تقریبات کل ختم ہو گئی تھیں۔ملکی غیر ملکی کچھ مہمان کل رات روانہ ہوئے تھے۔۔۔کچھ آج صبح جبکہ کچھ لیٹ جانے والے تھے۔۔
وہ بوجھل دل کے ساتھ انیکسی کے سامنے والے گارڈن میں بیٹھا تھا۔بلیک پینٹ اور سی گرین شرٹ میں اسکے وجہیہ چہرے کی سرخیاں نمایاں تھیں۔۔۔
موسم بھی اسکے دل کی طرح خنکی سے بوجھل تھا۔انسان پر کیسے کیسے حالات کے تغیرات اترتے ہیں وہ انجان سا انکی لپیٹ میں الجھتا چلا جاتا ہے۔
اسے سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملتا۔دل نام کا چھوٹا سا ٹکڑا جذبات و احساسات پر مکمل حاوی ہو جاتا ہے۔اسکے مرہون منت انسانی زندگی جنت بھی بن جاتی ہے اور جہنم بھی۔۔دل کی خواہشیں کبھی بھی ایک سی نہیں رہتیں موسموں کی طرح بدلتی رہتی ہیں۔کل تک دل اس سے انتقام لینے کیلئے بے قرار تھا اور آج یہی دل اسے ڈھونڈ کر معافی طلب کرنے کے لئیے بے چین تھا۔
کیا ہو رہا ہے ینگ مین۔۔۔اکیلے اکیلے بیٹھے ہو۔۔۔۔معا”
اصفہان نے وہاں آ کر کہا۔۔۔
ینگ مین۔۔۔اور تم تو جیسے بوڑھے ہو نا۔۔۔۔وہ پھیکے انداز میں ہنسا تھا۔۔۔
بوڑھے ہوں میرے دشمن۔۔۔۔وہ دھپ سے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا۔۔
کافی یا چائے منگواوں۔۔۔۔؟؟اسی وقت ملازم نظریں جھکائے کچھ فاصلے پر آ کھڑا ہوا۔۔۔
ہاں کافی منگوا لو۔۔۔۔ایزی انداز میں بیٹھتے ہوئے بولا
ماحر نے ملازم کو کافی لانے کا اشارا کیا۔۔
یار جب سے میں یہاں آیا ہوں اور تمہیں ٹھیک سے نوٹ کیا تب سے میرے اندر ہلچل مچی ہوئی ہے مگر شادی کے ہنگاموں اور اپنی شوٹنگز میں تم اتنے بزی تھے کہ مجھے پوچھنے کا موقع ہی نہیں مل سکا۔۔
کیوں کیا ہوا۔۔۔۔؟؟ماحر نے اسکی طرف بغور دیکھتے ہوئے پوچھا۔
بولا تو ہے میرے اندر ہلچل مچی ہوئی ہے۔۔۔
اوہو۔۔۔۔رئیلی۔۔”
یار میں مذاق کے موڈ میں نہیں ہوں۔۔۔”
مذاق کہاں کر رہا ہوں۔۔۔اچھی بات ہے کہ تم جیسے
بندے کے اندر بھی ہلچل مچی ورنہ تو روبوٹ کی طرح
کے بزنس مین ہو۔۔۔۔
ماحر بنو مت۔۔۔تم اچھی طرح سمجھ رہے ہو کہ میں کیا پوچھنا چاہ رہا ہوں۔۔۔وہ زچ ہو کر اسے گھورنے لگا
کیوں میں کوئی علم نجوم جانتا ہوں۔۔کوئی ساحرانہ
طاقتیں یا شکتیاں ہیں میرے پاس جو مجھے پتہ ہوگا کہ تم کیا پوچھنا چاہ رہے ہو۔۔۔
تم کسی پریشانی میں مبتلا لگتے ہو۔۔۔مکرنا مت میرا اندازہ غلط نہیں ہو سکتا۔تم نے شادی میں ایسے شرکت کی جیسے کوئی باہر کا بندہ شریک ہو۔۔۔چپ چپ سے
کھوئے کھوئے سے۔۔۔۔۔۔ایک روبوٹ کی طرح اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے۔۔کوئی نا کوئی بات تو ضرور ہے۔۔
تم سے کب کچھ چھپایا میں نے یار۔۔میں خود بھی تم
سے سب کچھ شئیر کرنا چاہتا تھا۔۔۔بہت بوجھ ہے دل پر یار۔۔۔وہ ٹھنڈی آہ بھر کر کہا۔۔۔
کیا ہوا ہے بتاؤ مجھے۔۔۔۔؟؟اصفہان چونک کر سیدھا ہو بیٹھا۔۔
وہ آہستہ آہستہ اسے سارے حالات سے آگاہ کرتا گیا۔۔
او گاڈ یار یہ تم نے کیا کیا۔۔۔۔؟اتنا کچھ کیا اس بیچاری لڑکی اور اسکی فیملی کے ساتھ۔۔۔۔۔؟اصفہان کے چہرے
پر سخت افسوس والے تاثرات تھے۔۔ماحر نے شرمندگی
سے سر جھکا لیا۔۔۔
ہمیشہ کہتے ہیں جلدی کا کام شیطان کا کام ہوتا ہے پہلے اچھی طرح جانچ پڑتال تو کر لیتے کہ ریکارڈنگز واقعی اس نے وائرل کی تھیں یا نہیں۔۔۔بس بنا تفتیش کیے اسے اغواہ کر لیا اور پھر اسکے بعد اس بیچاری کی زندگی کا مشکل دور شروع ہو گیا جو یقیناً ابھی تک ختم نہیں ہوا ہوگا۔۔۔۔
اصفہان کے لہجہ تاسف سے بھرپور تھا
یار اس نے مجھے کئی بار رکیارڈنگز وائرل کرنے میڈیا میں جانے کی دھمکی دی تھی۔پھر جب ایسا ہوا تو ظاہری بات ہے میرا شک تو اسی پر جانا تھا نا۔۔۔۔
اب مجھے کیا پتہ تھا کہ یہ کام اس کا نہیں بلکہ اس گھٹیا لڑکی مثال کا ہے۔۔۔وہ جھنجلا کر بولا
دھمکی اس نے غصے میں دی ہوگی جب تم اسے تنگ کرتے تھے۔۔۔اچھا اب یہ بتاؤ سات ماہ سے اوپر ہو گیا
ہے تم نے ڈھونڈا کیوں نہیں اسے۔۔۔۔؟؟
کہاں ڈھونڈوں۔۔؟؟ کراچی کراچی کا چپہ چپہ تو چھان مارا ہے۔۔۔نہیں ملتی کہیں وہ۔۔۔۔اس نے بے بسی سے ہاتھ کا مکہ بنا کر کرسی پر مارا۔۔۔
کراچی میں ڈھونڈھتے رہے ہو نا کراچی سے باہر ڈھونڈا تم نے۔۔۔۔۔؟کیا پتہ کسی اور شہر چلی گئی ہو۔۔۔۔؟؟اصفہان نے خیال ظاہر کیا۔۔
نہیں یار کراچی سے باہر وہ کہیں نہیں جا سکتی۔۔باقی
سب شہر اسکے لئیے انجان ہیں۔۔۔اس نے مجھے بتایا تھا
لاہور اس نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔۔اسلام آباد سے بھی بس گھومنے پھرنے کی حد تک دیکھا۔۔باقی کوئی رشتہ دار جاننے والا کسی شہر میں نہیں اس کا۔۔۔۔۔باقی رہا ترکی جانے کا سوال تو ناممکن ہے نا تو اسکے ٹکٹ کے پیسے ہونگے نا اسکا پاسپورٹ اسکے پاس۔۔۔۔۔۔اب بتاؤ کہاں گئی ہوگی وہ۔۔۔۔۔؟؟
تم نے یہاں کے سارے دارلامان میں پتہ کیا۔۔۔۔؟؟
نہیں یار وہاں چیک کروانے کا تو دھیان نہیں گیا میرا۔۔۔
وہ چونک کر بولا
پھر پہلی فرصت میں یہاں کے تمام دارلامان میں خفیہ طریقے سے پتہ کرواؤ اور ایک بار پھر بھی کہوں گا۔۔۔کراچی سے باہر بھی اسے ڈھونڈنے کی کوشش کرو۔۔۔
اصفہان نے مشورہ دیا۔۔۔۔
ٹھیک ہے تمہارے مشورے پر عمل کرتا ہوں۔۔مگر مسئلہ
یہ ہے کہ یہاں کے دارلامانز وغیرہ سے پتہ کروانے کا کام کس کے سپرد کروں۔۔۔۔۔؟؟
کیونکہ اس معاملے سے صرف فرقان واقف ہے اور وہ تو کل میرے ساتھ لاہور جا رہا ہے جبیب صاحب کی فلم کے کچھ سین ریکارڈ کروانے ہیں۔۔۔۔
کتنے دن لگیں گے وہاں۔۔۔۔؟؟
یہی کوئی تین سے چار دن۔۔
تو پھر لاہور سے واپس آ کر یہ کام شروع کروا دینا۔۔جہاں اتنے مہینے صبر کیا وہاں مزید صحیح۔۔۔۔
ہممم ٹھیک کہہ رہے ہو۔۔یہ فلحال لاسٹ فلم کی شوٹنگ ہے۔۔۔مزید کوئی فلم سائن نہیں کر رہا ابھی۔کچھ عرصے
کیلئے شوبز سے بریک لینے کا ارادہ ہے اس بریک کے دوران اسے خود ڈھونڈوں گا۔۔۔۔
ٹھیک ہے میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں۔۔۔اچھا یہ بتاؤ
اس مس ایگزیمپل یعنی مثال کے ساتھ کیا کیا۔۔۔؟؟
جن فلموں کے لئیے کنڑیکٹ سائن کر چکی تھی وہ تمام فلمیں چھین لیں اس الو کی پٹھی سے۔۔۔۔یعنی ان تمام ڈائریکٹرز سے بول کر باہر کروا دیا۔۔۔۔اسکے علاؤہ جس شو کو ہوسٹ کر رہی تھی اس شو سے بھی آؤٹ کروا دیا۔۔
ویلڈن بہت اچھا کیا۔۔یعنی سڑک پر لے آئے ہو۔اب کوئی کنڑیکٹ نہیں اسکے پاس۔۔گھر بیٹھ کر کھانا پکائے گی بیچاری۔۔۔۔اصفہان ہنس پڑا تھا۔۔۔
ویسے ایک بات پوچھوں۔۔۔۔؟
پوچھو۔۔۔۔اصفہان کے پوچھنے پر کافی کا سپ لیتے ہوئے اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
تم مس حیات کو کیوں ڈھوھنا چاہتے ہو۔۔۔مطلب کے صرف معافی مانگنے کیلئے یا کوئی اور بات ہے۔۔۔؟؟
ماحر نے پل بھر کیلئے اسکی طرف دیکھا وہ بڑی گہری جانچتی ہوئی نگاہوں سے جائزہ لینے والے انداز میں دیکھ رہا تھا۔
کیا کہنے چاہتے ہو کھل کر کہو۔۔۔۔ماحر نے کافی کا کپ سامنے پڑی ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا۔۔۔
مطلب یہ کہ تمہیں اس سے محبت ہو گئی ہے نا۔۔۔؟؟
اصفہان نے تصدیق چاہی۔۔
ناممکن یہ کام میں صرف فلموں میں کر سکتا ہوں۔
اس نے ہلکا سا ہنستے ہوئے اسکی بات کو رد کیا”
تم مانو یا نا مانو مائی ڈئیر جب محبت کی کونپل دل میں پھوٹتی ہے نا تو ناممکن بھی ممکن بن جاتا ہے۔یہاں اس دنیا میں سب ایک بار محبت ضرور کرتے ہیں تم بھی کرو گے یا پھر کر رہے ہو گے مگر فلحال مان نہیں رہے۔۔
میں نہیں کرتا محبت یار۔۔۔صرف اپنے کیے پر ایکسکیوز کرنا چاہتا ہوں۔۔۔وہ جز بز ہو کر بولا۔۔۔۔۔جواباً اصفہان ہنسنے لگا۔۔۔
اوکے مان لیا کہ تم نہیں کرتے اس سے محبت۔۔۔۔مگر دیکھنا انشاء اللہ تم کروگے ضرور مجھے پکا یقین ہے۔۔۔۔
مائی گاڈ تم مجھے دعا دے رہے ہو یا بددعا۔۔۔ماحر نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
مائی ڈئیر کزن یہ احساس بعد میں ہوگا کہ یہ دعا ہے یا بد دعا۔۔کیونکہ یہ وہ آگ ہے جو لگائے نا لگے بجھائے نا بجھے۔۔۔۔وہ ترنگ میں بولا۔۔۔
اسٹاپ اٹ یار۔۔۔تم یہ بتاؤ واپسی کب ہے تم لوگوں کی۔۔۔؟؟
کیوں بھائی آپ کو ہمیں بھیجنے کی جلدی ہے کیا۔۔؟؟
اس نے سوال تو اصفہان سے کیا تھا مگر جواب فاریہ نے دیا جو ابھی ابھی وہاں آئی تھی۔اسکے چہرے پر ناراضگی کے تاثرات تھے۔ماحر ہنس پڑا اور اٹھ کر اسے ساتھ لگایا۔۔
نہیں میں تو اس لئیے پوچھ رہا تھا کیونکہ مجھے کل شوٹنگ کے لیے لاہور جانا ہے اور میں نہیں چاہتا میں واپس آؤں تو تم لوگ مجھ سے ملے بغیر چلے جاؤ۔۔۔
ہم ابھی ایک ہفتہ ہیں یہاں پر بھائی۔۔۔آپ کل لاہور جا رہے ہیں تو ہم آپ کے ساتھ چلیں۔۔۔؟؟بہت عرصہ ہو گیا لاہور کا چکر لگائے ہوئے۔۔۔آپ شوٹ کرنا۔۔۔ہم گھوم پھر لیں گے کیوں اصفی۔۔۔؟؟
فاریہ نے آئیڈیا دیتے ہوئے اصفہان کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔۔۔۔۔جواباً اس نے کندھے آچکا کر نو برابلم کہا۔۔۔۔
وائے ناٹ ضرور چلو تم دونوں۔۔۔۔اکھٹے گھومیں پھریں
گے۔۔۔ماحر نے خوشدلی سے کہا۔۔۔۔
واؤ مزا آئیگا۔۔۔۔فاری مسکرائی اور وہیں بیٹھ گئی تینوں گپ شپ کرنے لگے۔
آج پھر دل بے حد پژمردگی کے حصار میں تھا۔جب سے
ان حالوں کو پہنچی تھی نیند اس سے روٹھ ہی گئی تھی۔
اجنبی شہر۔۔۔اجنبی عجیب و غریب حلیوں والے خواجہ سرا۔۔۔کسی نارمل بندے کے لئیے ان کے درمیان رہنے کا تصور ہی ہولناک ہوتا ہے بشرطیکہ وہ بھی ناچ گانے ڈھول ڈھمکے پان چبانے اور سیگریٹ پینے والے خواجہ سراؤں کے بیچ۔۔۔
بچپن میں جب بابا کے ساتھ وہ گاڑی پر کہیں جا رہی ہوتی اور سگنل پر گاڑی کے رکتے ہی اس طرح کے حلیوں والے لوگ شیشے کے ساتھ چپک کر ہاتھ پھیلاتے
تو تب اسے ان لوگوں سے صرف ڈر لگا کرتا تھا۔۔
بڑے ہونے پر جب انکے بارے میں آگاہی حاصل ہوئی تو ڈر کی جگہ ہمدردی نے لے لی تھی۔۔۔
پھر اب جب وہ ان کے درمیان قیدی کی حیثیت سے
رہ رہی تھی تو ان سے کراہیت آمیز وحشت ہونے لگی تھی۔اس کا ضبط جواب دینے لگا تھا وہ جلد از جلد ان لوگوں کے چنگل سے نکلنا چاہتی تھی۔۔۔۔مگر یہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ ہی نظر نہیں آ رہا تھا۔خود یہاں سے نکلتی تو مون کو ڈھونڈ پاتی نا۔۔۔۔اس نے سوچ لیا تھا وہ روزی سے ہیلپ مانگے گی یہاں سے نکلنے کیلئے مگر ساتھ میں یہ ڈر بھی تھا کہیں یہ بات کہہ کر وہ اس کی ہمدردی سے بھی ہاتھ نا دھو بیٹھے۔
گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹے دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی وہ۔۔۔آج بہت دنوں بعد اس دھوکے باز ہرجائی کی یاد نے اسے ستایا تھا۔۔ارتضیٰ حسن نے اس سے محبت کی تھی جبکہ اسے جس سے محبت ہوئی وہ تو محبت کے لائق بھی نہیں تھا۔ان تمام حالات و واقعات میں وہ اپنے دل ٹوٹنے کا دکھ تو منا ہی نہیں سکی تھی صرف اعتبار اور بھروسہ ٹوٹنے کی کرچیاں ہی سمیٹتی رہی تھی۔۔
مگر آج ناجانے کیسے اس بے وفا کی یاد نے تنگ کر کے رکھ دیا تھا۔اگرچہ اب وہ صرف اور صرف یہاں سے نکلنے کی ترکیب ہی سوچنا چاہ رہی تھی۔۔
پچھلی تمام یادوں کو ذہن سے جھٹک کر ان پر آنسو نا
بہانے کا خود سے وعدہ کر چکی تھی۔مگر یادیں تھیں کہ آندھیوں کی طرح پرشور انداز میں دل کے کواڑوں کو دھکیلتی ایک کے بعد ایک چلی آ رہی تھیں۔وہ بے
طرح مضطرب ہوئی تھی۔بے تحاشا روئی تھی۔پھر اپنے آپ سے ایک وعد لیا۔۔۔
کبھی کسی پر اعتبار نا کرنے کا۔۔
کبھی کسی سے محبت نا کرنے کا۔۔۔
ارے حور ایسے کیوں بیٹھی ہو۔۔۔۔؟؟جلدی کرو گرو نے حکم دیا ہے سب کو جلدی تیار ہونے کا۔۔۔۔اسی وقت روزی نے وہاں آکر اسے ٹوکا۔۔۔۔۔۔۔ان لوگوں نے اسکی خوبصورتی کی وجہ سے اس کا نام حور رکھ دیا تھا۔۔یہ نام گرو نے ہی اسے دیا تھا۔۔۔نا اس سے نام پوچھا گیا اور نا اس نے بتایا۔۔۔بس گرو کے کہنے پر سب اسے حور کہہ کر ہی بلاتے تھے۔۔
حیات نے سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا۔۔۔لال رنگ کی ساڑھی بالکل انڈین طرز میں پہنے نقلی بال لگائے فل میک اپ کے ساتھ وہ بہت ہی عجیب لگ رہی تھی۔
چلو جلدی اٹھو میں تمہارے کپڑے نکال رہی ہوں
جلدی سے چینج کرو پھر مجھے تمہارا میک اپ بھی کرنا ہے۔۔۔۔روزی نامی وہ خواجہ سرا اسکی روئی روئی
آنکھوں سے نظریں چرائے الماری کی طرف بڑھ گیا۔۔
پھر آدھے گھنٹے بعد وہ میک اپ کی دکان چہرے پر تھوپے سیاہ گھنگرالے نقلی بالوں کی وگ لگائے انکے ساتھ جا رہی تھی۔کوئی لہنگا چولی پہنے ہوئے تھا تو کوئی ساڑھی۔اس نے جو کپڑے پہنے ہوئے تھے وہ نیلے اور زرد رنگ کے کمبینیشن کا خوکب بھڑکتا ہوا لہنگا چولی تھا۔۔
سب کے سب خواجہ سرا اسوقت ایک بڑی سے وین پر سوار تھے جو لاہور کی سڑکوں پر رواں دواں تھی۔حیات کو لگ رہا
تھا شائد کوئی بہت بڑا اسپشل ایونٹ یا شادی کا فنکشن ہے کیونکہ بوبی گرو ساتھ تھا۔۔اور وہ عموماً اس وقت ساتھ جاتا تھا جب کسی بڑے فنکشن پر جانا ہوتا تھا ورنہ زیادہ تر وہ گھر پر ہی رہتا تھا۔۔۔
روزی ہم کہاں جا رہے ہیں۔۔۔۔؟؟ اس نے ساتھ بیٹھی روزی سے سرگوشی میں پوچھا۔۔۔۔۔۔۔
ہم گلبرگ ٹاؤن جا رہے ہیں۔۔۔۔وہاں ایک کوٹھی پر جانا ہے۔۔روزی نے بھی سرگوشی میں بتایا ورنہ گرو کے حکم کے مطابق خواجہ سراؤں کو اسے کوئی بھی انفارمیشن دینے کی اجازت نہیں تھی شائد اس لئیے کہ گرو کو اس پر ٹرسٹ نہیں تھا اسے خطرہ تھا کہ موقع ملتے ہی وہ بھاگنے کی کوشش کرے گی اس لئیے اسکی خاص نگرانی کی جاتی تھی۔۔۔۔
وہاں کیوں کوئی فنکشن ہے۔۔؟؟
اس نے دوبارہ سرگوشی کی جواباً روزی نے کہنی مار کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا کیونکہ مدھو نامی ایک خواجہ سرا انکی طرف دیکھ رہا تھا یہ بوبی گرو کا خاص قسم کا بندہ تھا بلکہ ایک طرح سے ان کا خاص جاسوس تھا جو سب پر نظر رکھتا تھا اور پھر بوبی گرو کو رپورٹ دیتا تھا۔ایک گھنٹہ چلتے رہنے کے بعد وین گلبرگ میں واقع ایک بہت بڑے بنگلے کے سامنے رکی۔تمام خواجہ سراؤں کے ساتھ وہ بھی باہر نکل آئی۔۔۔کوٹھی کے اندر داخل ہوئے تو کافی سارے لوگ موجود تھے۔۔بڑے بڑے قدآدم سٹینڈ والے کمرے رکھے ہوئے تھے۔۔۔
یہ کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔اس نے موقعہ ملتے ہی روزی سے پوچھا”
فلم کی شوٹنگ ہو رہی ہے۔۔۔ایک سین کیلئے خواجہ سراؤں کی ضرورت تھی اس لئیے ہمیں بلایا گیا ہے
اور پتہ ہے اس فلم کا ہیرو کون ہے۔۔؟؟روزی کے لہجے
میں دبا دبا جوش تھا۔۔۔
حیات کا چہرہ تو فلم کی شوٹنگ والے لفظوں پر ہی اتر گیا تھا۔۔ہیرو کا سوچ کر اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا
وہ سوالیہ نگاہوں سے روزی کی طرف دیکھنے لگی جو کہ بڑی خوش لگ رہی تھی۔۔۔
ماحر خان فلم انڈسڑی کا سب سے کامیاب اور سب سے ہینڈسم سپرسٹار۔۔۔۔۔
حیات کے ارد گرد دھماکے سے ہونے لگے تھے۔۔۔۔جس شخص سے بچنے کیلئے وہ کہاں سے کہاں پہنچ گئی تھی اس سے سامنا ہونے والا تھا کیا۔۔؟؟یہ اذیت ناک احساس روح کو کاٹتا ہوا گہرائی میں اتر رہا تھا۔اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کے دماغ کی رگیں دھاگے کی طرح کھینچتی ہوئی تن گئی ہوں۔وجود میں سناٹے اتر رہے ہوں۔
ظلم ظلم والے کمنٹس پڑھ کر دل بری طرح سے اچاٹ ہو گیا تھا ناول لکھنے سے۔اسلئیے پچھلے تین چار دنوں سے میں نے ایک لفظ بھی ٹائپ نہیں کیا۔۔۔مگر پھر ویٹنگ لسٹ پر لگے ریڈرز کے میسجز اور کمنٹس پڑھ کر سوچا ان معصوموں کو کیوں سزا دوں
سو پیجز اٹھائے اور شام کو ٹائپ کرنے بیٹھی اور اتنی ہی ٹائپنگ ہو پائی۔۔۔جو لوگ بار بار کہتے ہیں ہیروئن پہ بہت بڑا انیائے ہو رہا۔۔۔میں بھی انکو بول بول کے تھک گئی کہ باقی ناولز میں ہیرو ظلم کر رہے جبکہ اس ناول میں صرف مشکل حالات درپیش ہیں ہیروئن کو۔۔۔بھئی میرا دل دماغ اور گلہ دونوں پک گئے ہیں یہ بات بول بول کر۔۔۔لہذا اب میں کچھ نہیں بولوں گی۔۔۔
ویٹنگ لسٹ والے تمام ریڈرز سے دلی معذرت
