Meri Hayat By Zarish Hussain Readelle50271 Meri Hayat (Episode 28)
Rate this Novel
Meri Hayat (Episode 28)
Meri Hayat By Zarish Hussain
“۔۔ایسا کیا اس کاغذ میں جسے دیکھ کر ہماری بیٹی مسکرا رہی ہے۔۔۔دفعتاً عبدالرحمان کی نظر اس پر پڑی وہ اسکے قریب آ کر مسکراتے ہوئے گویا ہوئے۔۔
حیات کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔۔
خاموشی سے ہاتھ میں پکڑا کاغذ انکی طرف بڑھا دیا۔۔
چلو اچھا ہوا یہ مسئلہ حل ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔ کاغذ پڑھنے کے بعد انک چہرے پر بھی اطمینان بھرے رنگ ابھرے تھے”
ارے حیا بیٹی جلدی جاؤ فضا باہر گاڑی میں تمہارا انتظار کر رہی ہے۔۔۔۔۔اسی وقت بوا نے وہاں آ کر کہا۔
جاؤ بیٹا دیر ہو رہی ہے عبد الرحمن صاحب نے کاغذ واپس اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا”
جی بابا جاتی ہوں۔۔۔۔۔۔وہ ابھی جانے ہی لگی تھی کہ امینہ ہاتھ میں کارڈ لیس پکڑے آ گئی۔
بی بی جی وہ حورین بی بی آپ سے بات کرنا چاہتی ہے۔۔۔۔حیات نے ہاتھ میں پکڑے کاغذ کے تین چار ٹکرے کیے انہیں ڈسٹ بن میں پھینکنے کیلئے امینہ کے ہاتھ پر رکھے اور فون اس سے لے لیا۔۔
کہو اب کیا کہنا ہے۔۔۔۔اس نے نروٹھے پن سے کہا
حیا میری جان پلیز ناراض مت ہو میری کنڈیشن ایسی نہیں ہے کہ میں ٹریول کر سکوں۔۔۔۔میں تم سے ملنے ضرور آؤں گی انشاء اللّٰہ مگر کچھ عرصے بعد۔۔۔پلیز مجھ سے ناراض مت ہو۔۔۔
وہ منت بھرے انداز میں بولی”
حورین ان دنوں تخلیق کے مراحل سے گزر رہی تھی جس کی وجہ سے اسے ڈاکٹر کی طرف سے ٹریول کرنے سے منع کیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔”اسی لئیے وہ اسکی شادی میں شرکت کرنے سے قاصر تھی۔کل سے وہ حیات کو منانے کی کوشش کر رہی تھی مگر حیات اس سے ہنوز ناراض تھی۔۔۔”
تمہارے ہوتے ہوئے مجھے کبھی بہن کی کمی محسوس نہیں ہوئی تھی۔مگر اب اس موقعے پہ مجھے احساس ہو رہا ہے میرا دل شدت سے چاہ رہا ہے کہ میری کوئی سگی بہن ہوتی تو آج میں یوں کم از کم اکیلی تو نا ہوتی۔۔یاد ہے تمہاری شادی میں نے کیسے سگی بہن بن کر اٹینڈ کی تھی۔۔وہ خفگی بھرے انداز میں کہہ رہی تھی”
حورین کو بیک وقت شرمندگی اور بے بسی کی صورتحال سے دوچار ہونا پڑا۔۔۔۔
یار پلیز معاف کر دو ناراض مت ہو۔۔۔۔۔۔۔۔اگر ڈاکٹر کی طرف سے سختی سے سفر کرنے سے منع نا کیا گیا ہوتا تو میں ضرور آتی۔۔۔میری مجبوری سمجھو یار۔۔۔وہ بے بسی سے بولی تو حیات کو ترس آ گیا۔۔
اچھا ٹھیک ہے میں ناراض نہیں ہوں۔ویسے میری شادی کے عین موقع پہ تمہیں اس جھنجھٹ میں پڑنا تھا کیا۔۔۔پہلے خیال نہیں آیا اس جھنجھٹ میں پڑنے کا یا بعد میں نہیں پڑ سکتی تھی۔۔۔۔وہ جھنجھلا کر بولی”
تمہاری شادی کے بعد جب تم پر ایسا وقت آئے گا تو میں بھی تم سے پوچھوں گی یہ سوال۔۔۔وہ شوخی سے بولی۔۔۔
بکو مت۔۔۔۔۔۔۔۔حیات جھینپ گئی
حورین نے قہقہہ لگایا۔۔۔۔
اچھا سنو تم واقعی میرے نا آ سکنے پہ ناراض نہیں ہو نا۔۔۔۔۔۔؟؟حورین نے تصدیق چاہی۔
ہاں بابا نہیں ہوں ناراض۔۔۔۔۔۔حیات نے ہنستے ہوئے کہا”
کیا بات ہے بڑی خوش لگ رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خیر تو ہے نا ارتضیٰ سر نے کہیں اسائنمنٹ میں اچھے مارکس دینے کا وعدہ تو نہیں کر لیا۔۔۔۔۔بلکہ مجھے تو لگتا ہے اب تو تمہارے اسائنمنٹ بھی وہ خود بیٹھ کے بنائیں گے۔۔
حورین نے ہنستے ہوئے چھیڑا۔۔وہ بھی ہنس پڑی
ویسے یار میں ایک بات سوچ رہی ہوں۔۔۔۔حورین نے سنجیدگی سے کہا”
وہ کیا۔۔۔۔۔؟؟
یہی کہ سر تمہیں منہ دکھائی میں کیا دیں گے۔۔”
کوئی بورنگ سی بک۔۔۔
رومینٹک سا ناول۔۔۔۔۔
یا سائیکالوجی کے نوٹس۔۔۔
کیونکہ اتنا تو میں جانتی ہوں پروفیسر ہیں تو منہ دکھائی میں لازمی کاغذ قلم ٹائپ کی ہی کوئی چیز دیں گے۔اسی لئیے تم مینٹلی تیار رہنا ایسے کسی گفٹ کیلئے۔۔۔۔۔وہ ہنستے ہوئے کہہ رہی تھی۔۔حیات نے غصے سے دانت پیسے۔۔۔۔۔
مرو تم۔۔۔۔۔فون بند کر رہی ہوں میں
رکو رکو۔۔۔۔۔حورین نے جلدی سے کہا
جلدی بولو مجھے پارلر جانا ہے۔۔۔۔۔وہ جھجھلائی
مہندی کی تقریب کے وقت میں ویڈیو کال کروں گی تم نے لازمی مجھے پورا فنکشن لائیو دکھانا ہے۔۔۔وہ زور دے کر بولی”
پاگل ہو میں اپنی مہندی کی خود لائیو کوریج کیسے کروں گی۔۔
وہ حیران ہو کر بولی۔۔۔۔۔اور اگر کی بھی تو کیا کرتی اچھی لگوں گی”
مجھے نہیں پتہ مجھے پورا فنکشن لائیو دیکھنا ہے بس کسی اور کو دے دینا فون بلکہ ایسا کرنا مون کو پکڑا دینا۔حورین نے ضدی انداز میں کہتے ہوئے حل پیش کیا
دیکھوں گی۔۔۔۔حیا نے جان چھڑانے والے انداز میں کہا
دیکھوں گی نہیں۔۔تمہیں ایسا کرنا ہوگا۔۔۔حورین نے رعب بھرے انداز میں کہا۔۔
اچھا فضا بھابھی باہر گاڑی میں میرا ویٹ کر رہی ہیں واپسی پر بات ہو گی۔۔بائے اللّٰہ حافظ۔۔۔ملازمہ کو فون پکڑا کر وہ تیز قدموں سے باہر کی طرف بڑھ گئی۔
“۔۔۔۔۔۔روم کے سینٹر میں بنی گلاس وال سے باہر بنی مصنوعی آبشار اور جھیل کا دلکش منظر ہرے بھرے رنگ برنگے ملکی غیر ملکی پھولوں پودوں سے سجا ہوا لان بہت ہی خوبصورت لگ رہا تھا۔
ماحر گداز صوفے پر بیٹھا سگریٹ سلگائے بظاہر مصنوعی آبشار سے گرتے پانی کو دیکھ رہا تھا مگر اسکی سوچیں کہیں اور پہنچی ہوئی تھیں”
اسی وقت سکندر علی خان اسکے کمرے میں چلے آئے
آتے ہی انہوں نے بنا کسی تمہید کے کہا
ماحر مجھے صاف صاف بتاؤ اس معاملے میں تم انوالو تھے یا نہیں۔۔۔۔۔؟؟
کونسا معاملا ڈیڈ۔۔۔پہلے وہ چونکا اور پھر انجان بن کر سگریٹ کا کش لیتے ہوئے بولا
(یہ وہ بیٹا تھا جو باپ کے ساتھ بیٹھ کر بھی سگریٹ اور شراب پی لیا کرتا تھا۔سکندر علی خان بزنس مین ہونے کے ساتھ ساتھ صرف سکرین پلے اور ڈائیلاگ رائٹر ہی نہیں تھے بلکہ سابق اداکار بھی تھے۔انہوں نے بھی کئی فلموں میں اداکاری کی تھی مگر پھر جلد ہی اداکاری کو چھوڑ کر خود کو صرف رائٹنگ کی طرف ہی محدود کر لیا اور ساتھ ساتھ بزنس بھی کرتے رہے ۔شراب اور سیگریٹ پینے کی عادت انہیں بھی جوانی میں لگی تھی جب وہ اداکار تھے۔۔۔۔بعد ازاں انہوں نے سگریٹ پینا تو ترک کر دیا تھا”۔۔۔۔۔۔مگر ڈرنک وہ کبھی کبھی کر لیتے تھے سو ان معاملات میں باپ اور بیٹے کی آپس میں اچھی خاصی بے تکلفی تھی۔۔سکندر علی خان اردو سینما میں انقلابی تبدیلیوں کے حوالے سے بھی جانے جاتے تھے)
مانتا ہوں تم اچھے ایکٹر ہو مگر رئیل زندگی میں تو ایکٹنگ مت کرو۔جانتے ہو کتنا تماشا بنا ہے میڈیا میں ہمارا۔۔۔تمہارے حریفوں نے کیسے کیسے بیان دیے ہیں تمہارے خلاف۔۔وہ اظفر علوی جو خود ریپ کے کیس میں اندر ہوا تھا۔وہ بھی تمہارے کریکٹر کے بارے میں بات کر رہا تھا” تمہیں کونسا ہیروئنز کی کمی تھی جو تم اس لڑکی کو زبردستی اپنی فلم میں کام کرانا چاہتے تھے۔۔۔۔کتنی ٹینشن میں ڈالا تم نے ہم سب کو “پی ایم صاحب تک نے بھی فون پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔
پہلی بار وہ خاصی برہمی سے کہہ رہے تھے۔۔ماحر کان لپیٹے لاپرواہی سے سنتا رہا۔۔۔
“۔۔۔۔۔بہرحال جو بھی ہوا ہے آئندہ ایسا کچھ نہیں ہونا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔تمہاری پریس کانفرنس سے تمہاری پوزیشن لوگوں کی نظروں میں بہتر ہوئی ہے۔۔۔اپنی ریپوٹیشن کو دوبارہ خطرے میں مت ڈالنا۔۔۔۔۔۔۔۔وہ سمجھانے والے انداز میں کہہ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔ماحر نے سر ہلانے پر اکتفا کیا”وہ جانتے تھے کہ زیادہ نصیحتوں کا فائدہ نہیں تھا کرنی بہرحال اس نے اپنی من مانی ہی تھی۔
اور اب تم آرام سے کیوں بیٹھے ہوئے ہو۔۔گینگسڑ کی شوٹنگ کمپلیٹ ہو گئی ہے کیا۔۔۔۔۔؟؟
اس کا بے نیازانہ انداز دیکھ کروہ مزید سمجھانے کا ارادہ ترک کر کے دوسری بات کرنے لگے۔۔۔
نو ڈیڈ بس چند ایک سینز رہتے ہیں جو ناردرن ایریاز میں شوٹ ہونے ہیں۔وہ عبیر اور زین کر لیں گے۔۔۔میں شام کو چار بجے کی فلائٹ سے اٹلی جا رہا ہوں واجد صاحب کی فلم کی شوٹنگ کیلئے۔۔۔۔وہ سگریٹ کو ایش ٹرے میں رگڑ کر بجھاتے ہوئے بولا”
اور یہاں کی باقی تمام شوٹنگز کمپلیٹ ہو گئیں۔۔۔؟؟
“۔نہیں فرقان کو کہا ہے ڈیٹس آگے بڑھوا دی ہیں اس نے۔۔۔ایک دو ڈائریکٹرز ڈیٹ بڑھانے پر راضی نہیں ہوئے تو میں نے انکے ساتھ کنٹریکٹ ہی ختم کر دیا”اب بار
بار ان کے فونز آ رہے ہیں کہ ڈیٹ آگے بڑھانے پر راضی ہیں مگر میں نے فرقان کو جواب دینے سے منع کر دیا”
کیونکہ فلحال مزید گنجائش نہیں پہلے ہی ایک ساتھ اتنی ساری موویز اور شوز کے کنڑیکٹ سائن کر چکا تھا ہماری اپنی پروڈکشن میں بننے والی فلم تو تقریباً مکمل ہو چکی ہے بس جو سینز رہتے ہیں وہ زین اور عبیر کمپلیٹ کروا لیں گے۔۔۔باقی کے مراحل میں ایک ماہ بعد خود آ کر سنبھال لوں گا۔۔۔۔”
ہممم صحیح ہے۔۔
۔سکندر علی خان نے اثبات میں سر ہلایا”
اور تمہارے شو کا کیا ہوگا جو چل رہا ہے۔۔۔؟؟
۔۔۔۔
اسکی ہفتے میں ایک ایپیسوڈ آنی ہے۔۔۔۔۔۔ڈائریکٹر سے بات ہو گئی ہے میری غیر موجودگی میں عبیر ہوسٹ کرے گا”
اوکے ٹھیک ہے۔۔۔میں خود ان دونوں کے ساتھ جاؤں گا اپنی نگرانی میں شوٹ کرواؤں گا۔۔۔۔سکندر خان اٹھتے ہوئے بولے”
یہ تو زیادہ اچھی بات ہے ڈیڈ۔۔۔۔۔وہ ہلکا سا مسکرایا
اچھا وہ تمہاری مام بلا رہی تھیں تمہیں جا کر ان کی بات سن لو۔۔۔۔ماحر نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔سکندر علی خان باہر نکل گئے۔۔۔۔
فضا اسے پارلر چھوڑ کر واپس گھر چلی آئی۔مہمانوں کے آنے سے پہلے وہ مہندی کے فنکشن کیلئےڈیکوریشن وغیرہ کا سارا کام اپنی نگرانی میں کروا کر تسلی کر لینا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔۔رحمت بوا کیلئے اکیلے اسطرح کے معاملات دیکھنا مشکل تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔فضا کو دلہے اور دلہن دونوں طرف سے انتظامات دیکھنے پڑ رہے تھے۔۔۔۔۔۔
مہندی کی تقریب تو گھر میں ہونی تھی مگر ولیمہ اور رخصتی ہوٹل سے ہونا تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈیکوریٹ کرنے والے لڑکے فنکشن کیلئے لان کو پوری طرح سے پیلے پھولوں کی لڑیوں سے سجا رہے تھے۔۔۔گیندے اور موتیے کے پھولوں سے سٹیج کو سجایا گیا تھا۔۔۔۔فضا انکے سر پر کھڑے ہو کر ایک ایک کام کروا رہی تھی۔یہاں سے فارغ ہوکر اسے اپنے گھر جانا تھا۔جہاں سے تیار ہو کر اسے اپنے مہمانوں کے ہمراہ یہاں مہندی کی رسم کیلئے آنا تھا۔۔۔
بیوٹیشن نے اسکے ہاتھوں اور پیروں میں بھر بھر کے مہندی لگ دی۔۔رنگ بہت خوبصورت آیا تھا۔۔۔۔۔۔بہت سرخ۔۔۔۔بالکل خون رنگ۔۔۔۔۔۔اسے مہندی سے بھرے ہاتھ دیکھ کر بہت عجیب لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔مہندی اسے کبھی پسند نہیں رہی تھی۔۔۔۔زندگی میں پہلی بار اپنے ہاتھوں پر اتنی بھری ہوئی مہندی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔بیوٹیشن کو اس نے کہا بھی ہلکی پھلکی لگائے۔۔۔مگر فضا اسے کہہ گئی تھی کہ فل لگانی ہے سو اس نے حیات کی بات کو اہمیت نہیں دی۔۔
“پیلے اور سبز رنگ کے لہنگے جس پر گوٹا کناری اور ستاروں کا نفیس سا کام تھا ساتھ ہی بیوٹیشن کے مہارت سے کیے گئے میک اپ نے اسکے حسن کو دو آتشہ کر دیا تھا۔۔۔وہ حسین نہیں حسین ترین تھی۔
ارتضیٰ اسے پارلر سے پک کرنے آیا۔۔وہ جو فضا کا سوچ کر ریلیکس بیٹھی تھی کہ وہ اسے ڈرائیور کے ہمراہ پک کرنے آئے گی اسکی جگہ ارتضیٰ کو پا کر گھبرا گئی آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی باہر آئی اسے سامنے دیکھ کر نروس ہو کر رک گئی۔۔۔
دونوں آمنے سامنے تھے۔۔۔۔
“۔۔حیات کے چہرے پر گھبراہٹ اضطراب اور حیا کے دلکش رنگ تھے۔۔۔۔۔۔ارتضیٰ کی آنکھوں میں وارفتگی پسندیدگی و مسرتوں کی چمک تھی۔۔۔وہ دونوں ہاتھ سینے پر باندھے پر شوق انداز میں اسکی طرف دیکھ رہا تھا۔
اسکے وجہیہ چہرے پر آسودہ مسکراہٹ تھی۔۔۔۔
ایک ایسی طمانیت بھری مسکراہٹ جو دل کے چمن کی آرزوؤں کے تمام گلاب کھل جانے سے پیدا ہوتی ہے”
کئی خاموش لمحے اسی طرح گزر گئے۔۔۔۔
وہ جھینپی جھینپی شرمائی شرمائی سی نظریں جھکائے کھڑی تھی۔دل کی دھڑکنیں اتھل پتھل ہونے لگیں۔
ویری نائس بہت ہی خوبصورت لگ رہی ہو۔۔۔۔وہ قریب آ کر بوجھل لہجے میں گویا ہوا۔۔۔
“۔۔۔۔۔اسکی پرحدت نگاہوں کی تپش سے اسکے سرخ عارضوں پر مزید سرخی پھیل گئی۔۔۔ان ساعتوں میں اسے ارتضیٰ سے اتنی حیا آئی کہ وہ بول نا سکی اور آگے بڑھ کر خود ہی فرنٹ ڈور کھول کر بیٹھ گئی۔
ارتضیٰ بھی مسکراتا ہوا دوسری طرف ڈرائیونگ سیٹ پر آ کر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
تینوں خان برادرز اکھٹے اپنے پروڈکشن ہاؤس آئے۔۔جس کا نام خان پروڈکشن ہاؤس ہی رکھا گیا تھا۔۔۔ ماحر نے گینگسڑ کی باقی رہ جانے والی شوٹنگ کے سلسلے میں اپنے بھائیوں سمیت پوری ٹیم کو ہدایات دیں۔۔۔۔۔۔اسکی واپسی میں چونکہ ایک مہینہ لگ جانا تھا سو وہ نہیں چاہتا تھا کہ چند سینز کیلئے فلم کی شوٹنگ رکی رہے۔تاہم پرموشن سمیت دیگر کئی معاملات اس نے خود آ کر دیکھنے تھے۔۔۔۔۔کیونکہ فلم ریلیز بھی تب ہی ہونی تھی جب وہ آتا۔عبیر زین فرقان سمیت پوری ٹیم کو انکے کام سمجھا کر وہ فلائٹ سے آدھا گھنٹہ پہلے ائیر پورٹ کی طرف روانہ ہو گیا۔۔۔۔ملازم اس کا بیگ لے آیا تھا گھر سے۔۔
فائزہ سکندر سے وہ پہلے ہی مل کر آیا تھا۔۔سو وہ یہیں سے ڈائریکٹ ائیر پورٹ کی طرف نکلا تھا۔۔۔۔۔
اس کی امپورٹیڈ کار متوازن رفتار سے ائیر پورٹ کے خوبصورت و شفاف راستوں پر دوڑ رہی تھی۔۔۔ماحر
خان کے چہرے پر سنجیدگی پوری طرح سے طاری تھی۔۔لائٹ کلر کے ویسٹ سوٹ میں وہ ہمیشہ کی طرح وجہیہ خوبرو دکھائی دے رہا تھا۔۔۔۔۔۔چہرے پر چھائی سرخی اسکی وجاہت کو مزید اجاگر کر رہی تھی۔۔۔۔۔آنکھوں میں تیرتے سرخ ڈورے اسکے اندر کے خلفشار و ہیجان کے علاؤہ مے نوشی کا راز بھی فاش کر رہے تھے۔برابر میں بیٹھا فرقان اچٹتی نگاہوں سے اسکا جائزہ لے رہا تھا۔ماحر کا چہرہ بالکل سپاٹ تھا”
فضا بہت ہی خوبصورت خوابناک اور دلکش تھی۔۔۔۔۔ہر سمت پھول ہی پھول تھے۔۔جنکی بھینی بھینی خوشبو پورے ماحول میں پھیلی ہوئی تھی۔
افق سے گرتی ہلکی پھلکی پھوار من میں عجیب ترنگ و مستی پھیلا رہی تھی۔۔وہ خوش تھی۔۔۔۔۔۔۔بے تحاشا خوش۔۔۔سر سے پیر تک مکمل سرشاری میں ڈوبی ہوئی
سفید جوڑے میں ملبوس وہ تتلی کی مانند پنکھ پھیلائے ڈال ڈال پھول پھول منڈلا رہی تھی۔۔۔۔۔۔
کس قدر فرحت انگیز مسرور کیفیت تھی۔۔
ہواؤں کے دوش پر آوارہ بادل کے ٹکڑے کی مانند محو گردش تھی۔۔
معا” اسکے جسم کو زور دار جھٹکا لگا۔خوابناک فضا میں یکلخت آگ بھڑک اٹھی۔گل و گلزار یکدم ہی آتش فشاں بن گئے۔
خراماں خراماں چلتی ہوا میں آتش ٹپکنے لگی۔
رم جھم برستی ٹھنڈی پھوار میں انگاروں اور خون کی بارش ہونے لگی۔۔۔
لمحوں میں اس کا سفید جوڑا خون سے بھر گیا”
ہر طرف سے آتی حبس و گھٹن اور شعلے تن بدن کو جھلسانے لگے تھے۔۔
“آگ برس رہی رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔اس کا وجود شعلوں سے بھڑکتے الاؤ کی سمت بڑھ رہا تھا۔۔۔۔۔از حد سرعت سے کسی کٹی پتنگ کی مانند۔۔۔۔۔ وہ الاؤ کی جانب بڑھتی جا رہی تھی۔گرتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔خود کو سنبھالنے کی بچانے کی وہ ہر ممکن کوشش کر رہی تھی۔مگر بے سود لاحاصل جستجو” اچانک جسم کو زور دار جھٹکا لگا اور اسکی آنکھ کھل گئی۔۔۔۔۔وہ تیزی سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔
جسم پسینے سے شرابور تھا۔۔۔۔۔کچھ عرصہ پہلے اس نے ایک بھیانک خواب دیکھا تھا اور آج بڑے عرصے بعد اسی طرح کا خواب دوبارہ آیا تھا۔۔۔۔۔۔
“وہ بے حد پریشان ہو گئی تھی۔۔۔۔۔کل شام کو اسکی مہندی کی تقریب اچھے طریقے سے ہو گئی تھی آج اسکی بارات تھی۔۔۔۔۔۔۔”خوشی کے موقعے پر اسطرح کا بھیانک خواب اسے واہموں اور وسوسوں کی دنیا میں دھکیل گیا تھا۔۔وہ توہم پرست نہیں تھی نا ایسی باتوں پر یقین رکھتی تھی۔۔۔۔۔ مگر آج ناجانے کیوں اس کا دل خدشات میں گھرنے لگا تھا۔۔۔وہ انہی سوچوں میں گم تھی کہ رحمت بوا اندر داخل ہوئیں۔۔۔اسے جاگتے دیکھ کر مسکرائیں۔۔۔۔
اٹھ گئیں بیٹا میں تمہیں اٹھانے ہی آ رہی تھی۔منہ ہاتھ دھو لو میں نے تمہاری پسند کا ناشتہ بنایا ہے۔پھر تو تم دور چلی جاؤ گی۔۔جانے دوبارہ کب موقع ملے گا تمہیں اپنے ہاتھ سے پکا کر کھلانے تمہارے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنے تمہیں سینے سے لگانے کا۔۔۔وہ جذباتی ہو کر بولیں
آپ اداس نا ہوں بوا میں آپ سے ملنے جلدی آیا کروں گی۔۔۔حیات نے انہیں تسلی دی حالانکہ اس کا اپنا دل بھی اداس ہونے لگا تھا۔۔۔
“ہو سکتا ہے جب تم آؤ میں اس دنیا میں نا رہوں
وہ آبدیدہ ہو گئیں۔۔۔۔
ایسا مت کہیں بوا اللّٰہ آپ کو لمبی عمر دے۔آپ میرے لئیے میری ماں ہی ہیں سو اپنی ماں سے ملنے کو دیر کیوں لگاؤں گی بھلا۔۔۔۔پرامس ہر مہینے آیا کروں گی۔وہ زبردستی لہجے کو ہشاش بشاش بنا کر کہنے لگی
بس رہنے دو امریکہ سے آؤ گی ہر مہینے ملنے کیلئے بھلا۔ آخر عبدالرحمان بیٹے کو تمہیں اتنی دور بھجوانے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب تو وہ منحوس مارا مویا فلموں والا بھی دفعان ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔وہ ناراض لہجے گویا ہوئیں۔۔
آپ ناراض نا ہوں بوا آپ نہیں چاہیں گی تو میں کہیں نہیں جاؤں گی۔۔۔۔۔۔وہ انکی گود میں سر رکھتے ہوئے بولی”
رحمت بوا نے اسکے ماتھے پر محبت سے بوسہ دیا۔اللّٰہ میری بیٹی کو دنیا جہان کی خوشیاں دے۔۔۔۔۔میں بھی جذباتی ہو جاتی ہوں جہاں بھی رہو بس خوش رہو
وہ نم آنکھوں کے ساتھ اسکے بالوں کو سہلاتے ہوئے بولیں۔
بوا مجھے وہم ہو رہا ہے میں نے بہت برا خواب دیکھا ہے۔۔۔۔وہ سر اٹھا کر انہیں دیکھتے ہوئے پریشان لہجے میں بولی
برا خواب کسی کو نہیں بتاتے بیٹا میں ابھی کسی کو صدقہ بھجوا دیتی ہوں تم اٹھ کر منہ ہاتھ دھو لو۔۔میں ناشتہ لگاتی ہوں تمہارے لئیے۔۔
فضا کا فون آیا تھا کہ ارتضیٰ بیٹا تمہیں خود دکان پر چھوڑ بھی آئے گا اور لے بھی آئے گا۔۔۔وہ اٹھتے ہوئے بولیں
دکان۔۔۔۔۔۔۔؟؟پاؤں میں سلیپر ڈالتی حیات نے انہیں چونک کر دیکھا
ہاں وہی جہاں پہ دلہن کو میک اپ کرایا جاتا ہے۔نام یاد نہیں آ رہا مجھے۔۔۔۔وہ ذہن پر زور دیتے ہوئے بولیں
اسے دکان نہیں پارلر کہتے ہیں بوا۔۔۔۔وہ ہنس کر بولتے ہوئے واش روم میں چلی گئی۔۔۔۔
ہاں وہی پارلر۔۔۔۔رحمت بوا بھی سر پر ہاتھ مار کر باہر نکل گئیں۔۔۔”
فریش ہو کر وہ ناشتے سے بھی فارغ ہوئی تو ارتضیٰ اسے لینے آ گیا۔۔۔۔۔۔
ہوٹل میں سارے ارینج منٹس کروا کر آیا تھا وہ۔۔۔۔
“”وہ بہت سر شار بہت خوش لگ رہا تھا اور اپنی اس خوشی کا اظہار بھی برملا کر رہا تھا۔۔۔جب کہ وہ کچھ جھینپی جھینپی شرمائی شرمائی سی لگ رہی تھی۔۔۔
ارتضیٰ کو اس کا شرمانا لطف دے رہا تھا۔۔۔۔ڈرائیونگ کرتے ہوئے وہ بار بار مسکرا کر اسکی طرف دیکھتا”
تمہیں پتہ ہے یار آج میں خود کو ہواؤں میں اڑتے ہوئے محسوس کر رہا ہوں روز خواب میں تمہیں اپنے ساتھ اپنے قریب دیکھتا تھا۔۔۔۔آج وہ تعبیر ملنے والی ہے میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ مجھ جیسے سنجیدہ مزاج بندے کو بھی محبت ہو جائے گی۔۔۔۔۔۔وہ بھی اپنے سے کہیں چھوٹی اپنی سٹوڈنٹ سے۔۔۔۔وہ شرارتی انداز میں ہنسا
“۔تمہیں ایک بات بتاؤں کافی عرصہ پہلے ایک دن میں گوگل پر کچھ سرچ کر رہا تھا وہاں اچانک ایک خبر میرے سامنے آ گئی۔۔ لکھا ہوا تھا سال دو ہزار اٹھارہ کے سروے کے مطابق اتنے ہزار سٹوڈنٹس نے اپنے ہی اساتذہ سے شادیاں کیں۔اب تعداد تو مجھے Exactیاد نہیں لیکن یہ خبر مجھے بہت ناگوار گزری تھی۔میں ان ٹیچرز کو پسند نہیں کرتا تھا جو اپنے ہی سٹوڈنٹ پر نظر رکھتے ہوں کیونکہ میرا خیال تھا جامعہ تعلیم حاصل کرنے کی ایک مقدس جگہ ہوتی ہے۔۔ نا کہ اس قسم کے کاموں کیلئے۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن اب میں کبھی کبھی سوچتا ہوں تو عجیب لگتا ہے کہ میں نے بھی اپنی ہی سٹوڈنٹ پر نظر رکھی۔۔ویسے سچ کہوں تو میں نے تم پر نظر نہیں رکھی تھی بلکہ اچانک ہی پڑی تھی۔۔۔۔اور پھر ہٹنے سے انکاری ہو گئی”
وہ اپنی بات پر خود ہی ہنس دیا۔۔۔۔
اسکی آواز چاہت کے پھولوں سے مہک رہی تھی۔
آنکھوں میں وفاؤں کے چراغ پوری آب و تاب سے روشن تھے۔۔
حیات عبدالرحمان کے چہرے پر پر سکون روشنی پھیل گئی تھی۔
کھٹن زندگی کے بعد ایک خوبصورت زندگی کا آغاز ہونے جا رہا تھا۔
اسکی محبت کی شدتیں وہ دیکھ رہی تھی۔
اسکی چاہت میں دیوانہ تھا وہ۔
جبکہ وہ دھیمی شرمگیں مسکان لبوں پر لئیے گود میں رکھے اپنے ہاتھوں کو دیکھتی رہی”
پارلر کے باہر اتارتے ہوئے ارتضیٰ نے اسے کہا تھا جب وہ فارغ ہو جائے تو اسے میسیج کر دے وہ فوراً آجائے گا”
وہ سر ہلاتے ہوئے اندر چلی گئی تھی”
شہر کی سب سے اچھی بیوٹیشن نے اسے تیار کیا تھا”
اگرچہ فضا اس کیلئے ایک بہت ہی معروف اور مہنگے ترین میل میک آرٹسٹ سے اپائنٹمنٹ لینا چاہتی تھی جو کہ ٹی وی سلیبریٹیز کے میک اپ کرتا تھا”۔۔۔۔مگر حیات نے منع کر دیا تھا کہ وہ کسی میل میک اپ آرٹسٹ سے میک اپ نہیں کروائے گی۔۔۔اس کا کہنا تھا جب یہ کام ایک عورت کر سکتی ہے تو میں کیوں کسی میل میک اپ آرٹسٹ کو خود کو چھونے کی اجازت دے کر گناہ اپنے سر لوں جو کہ ایک نامحرم مرد ہوگا”
فضا نے اسکی بات پر اعتراض نہیں کیا تھا”وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہی تھی جب یہ کام ایک عورت کر سکتی ہے تو اس کام کیلئے ایک نامحرم مرد کی خدمات کیوں حاصل کی جائیں۔۔۔جو کہ میک اپ کے بہانے آپکے جسم کے مختلف حصوں کو چھوئے۔۔۔۔
بیوٹیشن نے جب اسے تیار کیا تو اس پر جس قدر ٹوٹ کر روپ آیا تھا تیار کرنے والی خود بھی حیران رہ گئی۔
ریڈ اورنج کنڑاسٹ کے لہنگے میں نفیس سی جیولری اور ڈراک میک اپ نے اسکے حسن کو وہ روپ بخشا کہ وہ خود بھی خود کو آئینے میں دیکھ کر حیران ہوئی۔ وہ اسوقت پارلر میں موجود تمام دلہنوں میں سب سے حسین ترین دلہن لگ رہی تھی۔۔۔۔سب کی نظریں اسی پر ٹکی تھیں جن میں ستائش رشک جیسے تاثرات تھے۔۔”بیوٹیشن نے میک اپ کا آخری ٹچ دیا تو اس نے ارتضیٰ کو میسج کر دیا”
پندرہ منٹ بعد وہ پہنچ گیا اسے کال کی وہ لہنگے کو دونوں ہاتھوں سے سنبھالتی باہر نکلی۔۔۔۔۔لہنگا چونکہ بہت لمبا اور بھاری تھا سو پارلر کی دو لڑکیاں بھی دونوں اطراف سے لہنگے کو پکڑے اسکے ساتھ باہر آئیں
بلیک شیروانی جس پر سنہری تلے کا کام تھا زیب تن کیے وہ سامنے ہی گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا اس کا انتظار کر رہا تھا”
اسے اس روپ میں دیکھ کر وہ ساکت ہوا۔۔۔۔”
نظروں میں بے تحاشا ستائش تھی۔۔۔۔
اس کو یک ٹک اپنی طرف دیکھتے پا کر وہ بری طرح جھینپ گئی۔۔۔۔یکدم نظریں جھکا لیں اور گھبرائی
شرماتی ہوئی دھیرے دھیرے سیڑھیاں اترنے لگی”
پارلر والی لڑکیاں بھی اسکی محویت پر مسکرانے لگیں”
ارتضیٰ کو ارد گرد کا کوئی ہوش نہیں تھا اسکی نظریں بس حیات عبدالرحمان پر ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔”سو دائیں طرف سے آتے دو موٹر سائیکل سواروں کو دیکھنے یا کچھ سمجھنے کی اسے مہلت ہی نہیں ملی۔ان ظالموں نے اس بے رحمانہ طریقے سے اس کا نشانہ لے کر فائرنگ کی کہ اسے نا تو اپنے بچاؤ کا موقع مل سکا اور نا چیخنے کا۔۔۔لویے کی گرم گرم سلاخیں اسکی گردن کے آر پار ہو گئیں۔۔۔۔۔دونوں ہاتھ گردن پر رکھے اس نے آنکھوں میں اترتی دھند کو جھٹکتے نیچے دیکھنے کی کوشش کی۔۔خون اسکی گردن کے عقب اور اطراف سے دھار کی صورت میں بہہ رہا تھا۔۔۔۔۔اس نے سانس لینے کی کوشش کی مگر کامیاب نہیں ہو پا رہا تھا۔وہ چیخ یا کراہ بھی نہیں سکتا تھا۔تاریکی اسکو اپنے حصار میں لینے لگی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ڈوبتے ذہن اور دھندلاہٹ بھری نظروں کے ساتھ نیچے گرنے سے پہلے جو آخری منظر اس نے دیکھا تھا وہ حیات عبدالرحمان کے چیخنے اور سیڑھیوں سے لڑھکنے کا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔پھر گہری تاریکی نے مکمل طور پر اسکو اپنے حصار میں لے لیا تھا۔۔۔۔۔
