171.9K
78

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Hayat (Episode 38)

Meri Hayat By Zarish Hussain

“اچھی طرح سوچ لینے اور رحمت بوا کے مشورے کے بعد اس نے ماحر خان کو این جی او جوائن کرنے کی رضامندی دے دی۔وہ شوٹ کے سلسلے میں انگلینڈ گیا ہوا تھا۔حیات کو گائیڈ کرنے کی ذمہ داری اس نے اپنی این جی او کی ڈائریکٹر فرح کو سونپی تھی۔۔۔۔۔بینئگ ہیومن فاؤنڈیشن کا آفس ایک وسیع و عریض بلڈنگ پر مشتمل تھا جو ماحر خان کی ذاتی ملکیت تھی۔۔این جی او کی شاخیں پورے ملک میں پھیلی ہوئی تھیں اس میں کام کرنے والے تقریباً دس ہزار کے قریب ورکر تھے جو ملک کے تقریباً ہر چھوٹے بڑے شہروں میں کام کر رہے تھے۔حیات کے ذمے ان ورکرز کی کارکردگی کو چیک کرنا تھا۔۔کہ وہ اپنا کام صحیح طریقے سے سر انجام دے رہے ہیں یا نہیں۔اسکے علاؤہ ڈائریکٹر فرح کے ساتھ کبھی کبھار وہ کسی ہسپتال کا وزٹ بھی کر لیتی تھی جہاں وہ مریض زیر علاج ہوتے جنکے علاج کا خرچ این جی او اٹھا رہی ہوتی تھی۔ماحر سے اسکی ملاقات تنظیم جوائن کرنے کے پندرہ دن بعد ہوئی جب وہ شوٹ کمپلیٹ کر کے واپس پاکستان آیا۔رسمی سی حال چال ہوچھ کر وہ آفس سے چلا گیا تھا۔حالات بھی اب معمول پر آنے لگے تھے۔اسکے پک اینڈ ڈراپ کی ذمہ داری بھی فاؤنڈیشن نے لی ہوئی تھی۔اگرچہ حیات نے یہ سروس لینے سے انکار کرنا چاہا تھا مگر ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنےایمپلائز کو یہ سہولت بھی دیتے ہیں اب یہ اور بات تھی اپنے علاؤہ اس نے کسی اور ایمپلائی کو اس سہولت سے مستفید ہوتے نہیں دیکھا تھا۔۔

صبح نو بجے ڈرائیور اسے گھر سے لینے آتا۔واپسی دو بجے ہوتی لیکن واپسی پر وہ گھر کے بجائے ہاسپٹل کے گیٹ پر اترتی اور دو تین گھنٹے عبدالرحمان کے پاس گزار کر واپس آ جاتی۔۔ماحر نے عبدالرحمان صاحب کے علاج اور کئیر کیلئے ہاسپٹل والوں کو خصوصی حکم دیا ہوا تھا۔یہ بات حیات کو بعد میں نرسز سے پتہ چلی جب اس نے ڈاکٹرز سمیت ہاسپٹل کے پورے سٹاف کو عبدالرحمان صاحب پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے دیکھا

زندگی اگرچہ پہلے والی تو نہیں رہی تھی لیکن قدرے سکون آ گیا تھا۔۔پریشانی تھی تو صرف بابا کی جن کی حالت میں کوئی سدھار نہیں آ رہا تھا۔دو مہینے ہو گئے تھے اسے وہاں کام کرتے ہوئے۔سب کچھ نارمل رہا۔۔لیکن اچانک اسے محسوس ہونے لگا ماحر خان بدلنے لگا تھا۔ آفس میں اس کے چکر پہلے کی نسبت زیادہ لگنے لگے تھے۔یہاں تک کہ اس نے ایک ورکر کو بھی یہ کہتے سنا ماحر سر کچھ زیادہ نہیں چکر لگا رہے آج کل آفس میں ورنہ پہلے تو مہینوں بعد آتے تھے۔۔۔۔اگرچہ وہ اس سے بھی باقی ایمپلائز کی طرح رسمی سی ہیلو ہائے کرتا اور کام سے متعلق ہی پوچھتا۔۔۔۔مگر ایسے میں اس کا لہجہ اور نظریں کچھ اور ہی کہہ رہی ہوتی تھیں۔پھر وہ کوئی نا سمجھ یا کم عقل لڑکی نہیں تھی جو اسکے شیریں لہجے اور نگاہوں کے پیغام کو سمجھ نا پاتی۔اسکی آنکھوں میں اپنا عکس دیکھ کر بدلتی ہوئی پٹڑی بھی دیکھ چکی تھی۔مگر عجیب بات یہ تھی کہ پہلے اسے غصہ آتا تھا تھا مگر اب وہ گھبرانے لگی تھی نروس ہونے لگی تھی۔۔دل کی دھڑکنوں میں ارتعاش پیدا ہونے لگا تھا۔ماحر کی طرف سے کوئی واضع پیش رفت نہیں ہوئی تھی نا اس نے زبان سے کچھ کہا تھا مگر بار بار اسکے آفس میں چکر لگنے اور نگاہوں کے پیغام کو وہ بخوبی سمجھ رہی تھی۔۔۔

اسکی نگاہوں کے پیغام کھلی کتاب کی طرح عیاں ہونے لگے تھے۔۔اگرچہ اس نے خود پر مکمل قابو رکھا ہوا تھا اپنے جذبوں کا اظہار نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔مگر خوشبو کبھی چھپ نہیں سکتی۔چاہتوں کی چاندنی جب پھیلتی ہے تو انسان سرتاپا منور ہو جاتا ہے۔پھولوں کی طرح کھل اٹھتا ہے۔۔۔۔۔اس کے جذبوں کی مہک حیات عبدالرحمان جیسی حساس اور ذہین لڑکی نے محسوس کر لی تھی۔ تاہم اسکی نگاہوں میں اسے کوئی گندگی نظر نہیں آئی تھی۔انکے درمیان پہلے کچھ ہوا تھا جو غلط فہمیاں پیدا ہوئی تھیں وہ سب حیات نے بھلا دی تھیں۔۔۔

“۔۔۔بلکہ اس کا ظرف دیکھ کر تو کبھی کبھی حیات کو شرمندگی سی ہونے لگتی تھی جب ماضی میں کی گئی اپنی جذباتی حرکتیں یاد آتی تو۔۔۔۔۔مگر سلام تھا اس بندے کے ظرف کو جس نے اس کے معاملے میں دل کو اتنا وسیع کر لیا تھا کہ اسکی اتنی بڑی غلطیاں اگنور کر گیا تھا۔ورنہ کسی کے ساتھ وہ اتنے اچھے ظرف کا مظاہرہ نہیں کرتا تھا۔نا کسی کی چھوٹی سی چھوٹی غلطی معاف کرتا تھا۔تبھی تو انڈسٹری میں جتنے لوگ اس کے دوست تھے اس سے کہیں زیادہ مخالف بھی تھے۔۔اپنے سٹاف کے لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ اور غریبوں کیلئے ہمدردانہ فطرت رکھنے کی وجہ سےاسکے دل میں اب ماحر کیلئے عزت بھی پیدا ہونے لگی تھی۔پھر جس طرح سے اس نے مون کے اغواہ والے معاملے میں ہیلپ کی تھی اور عبدالرحمان صاحب کے علاج کیلئے جس طرح مدد کر رہا تھا ان ساری باتوں نے اس کا دل ماحر کی طرف سے صاف کر دیا تھا۔۔مگر اب جو وہ چاہ رہا تھا اس سے وہ گھبرا رہی تھی۔بیشک ارتضیٰ حسن سے اسے کوئی دھواں دھار قسم کا عشق نہیں تھا مگر وہ اس سے متاثر ضرور ہوئی تھی پھر اس کے ساتھ ذہنی اٹیچمنٹ بھی کافی ہو گئی تھی دل میں عزت بھی اس کیلئے بے حد و حساب تھی۔۔ایسے میں اتنی جلدی ماحر کی حوصلہ آفزائی کرنے کو دل آمادہ نہیں ہو رہا تھا۔سو وہ اسکے احساسات اسکے جذبوں سے نگاہیں چرائے صرف اور صرف اپنے کام پر دھیان دے رہی تھی۔⁩

ایک صابن کی کمپنی کے اشتہار کی شوٹنگ کیلئے ماحر کو مری جانا تھا۔۔۔۔تو اس نے اپنی این جی کی ٹیم کو بھی ساتھ چلنے کو کہا کیونکہ وہاں انہیں کچھ ہاسپٹلز میں وزٹ کرنا تھا جہاں ایڈمٹ غریب مریضوں کے علاج کا خرچ اسکی تنظیم اٹھا رہی تھی۔مری جانے کیلئےگیارہ افراد پر مشتمل لوگ سلیکٹ کیے گئے جو این جی او میں اہم عہدوں پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔۔۔۔ان میں حیات عبدالرحمان کا نام بھی شامل کیا گیا۔لیکن یہ بات جب اسے جب پتہ چلی تو وہ پریشان ہو گئی کیونکہ پیچھے بوا اور مون اکیلے ہو جاتے اور عبدالرحمان صاحب کو بھی روز دیکھنے جانا ہوتا تھا۔ سو وہ نہیں جانا چاہتی تھی ڈائریکٹر فرح کو جب اس کے مسئلے کا پتہ چلا تو اس نے ماحر کو انفارم کر دیا۔

ماحر اسکی غیر موجودگی میں اس کے گھر گیا اور رحمت بوا سے بات کی کہ انکے لئیے وہ ایک ملازمہ کا بندوست کر دے گا جو حیات کے واپس آنے تک چوبیس گھنٹے انکے ساتھ رہے گی اور عبدالرحمان صاحب کیلئے وہ ہاسپٹل والوں کو اسپشل تاکید کرے گا اور انکی کئیر کیلئے میل اور فیمیل پر مشتمل ایک نرسنگ سٹاف کو تعینات کر جائے گا۔۔۔سو وہ حیات کو مری جانے کیلئے راضی کریں۔۔۔۔۔وہ تو جھٹ سے مان گئیں کیونکہ ماحر نے ان پر اتنا بڑا احسان کیا تھا سو نا کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ سارا انتظام کرنے کے بعد حیات کو انفارم کیا گیا تو وہ حیران رہ گئی۔۔پھر بھی انکار کرنا چاہا لیکن رحمت بوا کے اصرار پر مان گئی

پوری ٹیم بائی ائیر روانہ ہوئی۔ٹیم میں حیات اور فرح کے علاؤہ مزید چار عورتیں اور پانچ مرد تھے۔۔۔۔۔۔

پہلی فلائٹ سے وہ سب مری پہنچے نیکسٹ فلائٹ سے ماحر نے آنا تھا۔۔ان سب کی رہائش کا انتظام مری میں ایک کاٹیج میں کیا گیا تھا جو ماحر نے ریزرو کروایا تھا۔۔۔

مری کی فلک بوس پہاڑیاں دھوپ سے چمک رہی تھیں

ان چوٹیوں پر جمی برف سورج کی شعاعوں سے ہیروں کی طرح جگمگا رہی تھی۔پہاڑوں کے سینوں سے بہتے جھرنوں اور گرتے آبشاروں نے وہاں کی شادابی اور خوبصورتی کو اجاگر کر دیا تھا۔چاروں طرف قدرت کا حسن بڑی فراخدلی سے بکھرا ہوا تھا۔۔۔شام سے پہلے پہلے وہ سب وہاں پہنچ گئے تھے۔۔۔۔سرخ ماربل سے بنا آسٹریلین طرز کا کاٹیج تھا جو کہ اچھا خاصا کشادہ تھا۔۔

کاٹیج کے اندر اور باہر پھولوں اور پودوں سے آرائش کی گئی تھی۔ہر رنگ کے پھول تھے۔۔۔۔دور سے کاٹیج گلدستے کی طرح لگ رہا تھا۔۔۔سب کی نگاہوں میں

میں ستائش تھی۔ان سب کا استقبال چار ملازمین نے کیا۔کافی سارے کمرے تھے اندر۔۔جسے دو دو لوگ مل کر شئیر کر رہے تھے۔حیات اور فرح نے ایک کمرہ لیا جبکہ انکے ساتھ والی دوسری خواتین نے بھی آپس میں مل کر کمرے شئیر کر لیے۔

“کمرے بھی بہت ذوق سے ڈیکوریٹ کیے گئے تھے۔ملازمین نے ہال میں دستر خوان لگا دیا۔حیات کچھ جھجھک رہی تھی اتنے مردوں کی موجودگی میں کھانا کھانے کو سو اس نے بھوک نا ہونے کا بہانہ کیا مگر فرح اسکی پرابلم سمجھ گئی تھی۔۔سو اس نے ملازم سے کہہ کر ٹرے میں کھانا رکھوایا اور اندر لے جانے ہی لگی تھی کہ ماحر وہاں آتا دکھائی دیا۔۔وہ اکیلا نہیں تھا مینیجر اور باڈی گارڈ بھی ساتھ تھا

۔فرح فوراً رک گئی۔۔۔

اسلام علیکم سر۔۔۔۔اس نے سلام کیا

وعلیکم اسلام۔۔۔۔۔وہ قریب آ کر رک گیا۔۔سفر ٹھیک رہا آپ سب کا کوئی پرابلم تو نہیں ہوئی۔اور رہائش گاہ پسند آئی یا نہیں۔۔۔؟؟اس نے استفسار کیا۔

جی سر سفر اچھا رہا اور یہ کاٹیج تو بہت زیادہ خوبصورت ہے سب کو بہت بہت پسند آیا ہے۔۔

فرخ نے مسکراتے ہوئے کہا”

اوکے اور سب لوگ کہاں ہیں۔۔۔؟؟

سر وہ ہال میں کھانا کھا رہے ہیں۔۔

اچھا تو آپ نے انکے ساتھ نہیں کھایا۔۔۔یہ کھانا کس کیلئے لے جا رہی ہیں۔۔اسکے ہاتھ میں پکڑی ٹرے کی طرف اشارہ کیا”

نہیں سر میں تو سب کے ساتھ کھاؤں گی یہ مس حیات کیلئے لے جا رہی ہوں روم۔۔وہ شائد جھجک رہی تھیں سب کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے سے تبھی بھوک نا ہونے کا بہانہ کیا۔۔۔

اوہو۔۔ماحر نے ہونٹ سکوڑے۔۔۔اچھا جائیں کھلائیں انہیں اور خیال رکھیں ان کا۔۔۔میرا مطلب ہے ٹیم کے کسی ممبر کو کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔۔۔سمجھ گئیں نا۔۔۔۔

جی سر سمجھ گئی۔۔۔فرح مسکرائی”

ماحر آگے بڑھ گیا تو وہ ٹرے لئیے اپنے اور حیات کے مشترکہ کمرے میں آ گئی۔۔حیات کھڑکی کھولے باہر کے نظاروں میں کھوئی ہوئی تھی۔۔۔۔

آؤ ڈئیر کھانا کھا لو۔۔۔اس نے ٹرے بیڈ پر رکھی

کھانا۔۔۔۔حیات نے حیرانی سے دیکھا”

ہاں جی۔۔۔آپ کیا سمجھیں مجھے پتہ نہیں چلے گا

آپ کے چہرے سے صاف لگ رہا تھا کہ آپ کو بھوک لگی ہے ۔۔۔اس نے مسکرا کر کہا۔

حیات شرمندہ سی مسکرا دی

تھینکس آپ کا۔۔۔۔حیات بیڈ پر بیٹھ کر ٹرے اپنی کھسکاتے ہوئے ہلکا سا مسکرائی۔

صبح بڑی نکھری ہوئی اور بہت خوبصورت تھی۔سورج

ابھی نکلا نہیں تھا۔۔۔۔۔ٹھنڈی فضا پر خوابناک سا نیم اندھیرا چھایا ہوا تھا۔سیب آلوچے خوبانی درختوں سے ٹوٹ کر گھاس پر بکھرے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔۔سامنے اونچی اونچی پہاڑیوں کی چوٹیوں پر بادل دھویں کی صورت

بکھرے ہوئے تھے۔حیات ٹیرس کی ریلنگ پر جھکی نیم اندھیرے میں باہر کے نظاروں کو دیکھ رہی تھی۔اسکی نگاہیں بظاہر سامنے بہتے آبشار پر تھیں مگر ذہن بابا مون اور رحمت بوا کی طرف تھا۔اگرچہ ماحر نے انکی کئیر کا پورا پورا بندوبست کیا تھا۔مگر اسے پھر بھی بے چینی ہو رہی تھی دل کر رہا تھا ابھی اڑ کر جائے اور بابا کو دیکھ آئے۔صبح فجر کے وقت اسکی آنکھ کھلی تھی۔نماز پڑھنے کے بعد وہ کمرے سے باہر نکل آئی تھی۔اوپری منزل پر واقع سب کمروں کے دروازے بند تھے۔جس مطلب تھا سب سکون سے سو رہے تھے۔۔

مرد حضرات سب نیچے والے رومز میں ٹھہرئے ہوئے۔فرح سے اسے پتہ چلا تھا کہ ماحر بھی یہیں ٹھہرا ہوا ہے مگر کونسے کمرے میں یہ نہیں پتہ تھا۔شائد نیچے کے ہی کسی روم میں تھا وہ۔۔۔دو چار سیڑھیاں عبور کر کے اس نے نیچے جھانکا تھا۔دائیں جانب بنے کچن سے ملازموں کے بولنے اور برتنوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔

وہ پلٹ کر ٹیرس پر آ گئی تھی۔۔اور پھر ارد گرد کا جائزہ لینے لگی۔

وہ ہوٹل میں ٹھہرنے کے بجائے اسی کاٹیج کے ایک روم میں رکا۔۔۔صبح سویرے جوگنگ سے واپسی پر اسکی نظر ٹیرس پر کھڑی حیات عبدالرحمان پر پڑی۔۔۔۔

پھر نا چاہتے ہوئے بھی وہ اوپر کی طرف اپنے بڑھتے قدم روک نہیں پایا۔۔۔اوپر ریلنگ پر جھکی حیات اپنی سوچوں میں اتنی کھوئی ہوئی تھی کہ اسکی آمد بھی

محسوس نا کر پائی۔ماحر کو وہ اسوقت یہاں پھیلے ہوئے نظاروں سے بھی کہیں زیادہ حسین لگی۔اس نے بے اختیار ہی اسے اپنی طرف متوجہ کرنے کیلئے ذرا سا جھک کر اسکے چہرے پر پھونک ماری تھی۔

وہ میکانکی انداز میں چونک کر مڑی

کچھ کہنے کیلئے منہ کھولنے ہی لگی تھی کہ اسکی نگاہوں میں اپنی شبیہ دیکھ کر اس نے فوراً گڑبڑا کر اپنی نگاہیں جھائیں اور رخ بھی موڑ لیا۔۔۔

کیسا لگ رہا ہے۔۔۔۔۔؟لفظ بہت عام سا مگر لہجہ بہت گہرا معنی خیز تھا۔۔۔

کیا۔۔۔۔؟وہ نروس ہونے لگی

ارے بھئی اس منظر کی بات کر رہا ہوں اور کیا۔۔۔۔۔وہ مسکرایا اور اسکے کافی قریب آ کھڑا ہوا تو وہ گھبرا کر نامحسوس انداز میں فاصلے پر ہو گئی۔ماحر اسکی حرکت پر زیر لب مسکرا دیا۔

اسی دوران ملازم چائے لے آیا اور اسکے اشارے پر سنگی میز پر رکھ کر چلا گیا۔

سورج دور سرمئی پہاڑوں کے پیچھے سے اپنا اجالا بکھیرتا نکل رہا تھا۔پھولوں اور سبزے پر گرے شبنم کے قطرے ہیروں کی طرح چمک رہے تھے۔آسمان پر پنچھی بھی اپنےدانے پانی کی تلاش میں محو پرواز تھے۔۔۔وہ دونوں خاموشی سے چائے پی رہے تھے۔ماحر نے دو تین بار چور نظروں سے حیات کے چہرے کا جائزہ لیا۔اسکے چہرے سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ اس کی موجودگی سے نروس ہو رہی ہے شائد اسکی ایمپلائی اور مہمان ہونے کے خیال سے زبردستی اسکے سامنے ٹھہری ہوئی ہے۔پھر چائے پیتے ہی وہ کپ میز پر رکھ کر بغیر کچھ کہے تیزی سے نیچے چلی گئی۔ماحر خاموشی سے اسکی پشت کو دیکھتا رہا۔۔⁩

۔۔”مری سے واپسی پر ماحر نے اپنی ٹیم کیلئے پارٹی رکھی جس میں شوبز سے یا کسی اور فیلڈ وابستہ کسی بندے کو نہیں بلایا گیا تھا۔۔۔۔۔۔صرف اور صرف اسکی ٹیم کے لوگ ہی شامل تھے۔پارٹی کا ٹائم رات نو بجے تھا۔۔۔حیات رات کی وجہ سے ہچکچا رہی تھی

۔مگر فرح نے بے حد اصرار کیا کہ ہر حال میں آنا ہے۔تو اسے ماننا ہی پڑا کیونکہ اس نے یہ بھی کہا کہ پک اینڈ ڈراپ بھی وہ خود کرے گی۔ آٹھ بجے وہ اسے پک کرنے آ گئی۔۔اسکی بلڈنگ کے سامنے والے روڈ پر پہنچ کر فرح نے اسے کال کی۔وہ پانچ منٹ میں نیچے پہنچی۔۔۔۔۔وہ گاڑی کا دروازہ کھولے اس کا انتظار کر رہی تھی۔حیات کو دیکھ کر اسکی آنکھوں میں ستائش ابھری۔۔۔

پنک اور وائٹ کمبینیشن کے فراک میں اس کی شفاف رنگت دمک رہی تھی۔فراک ہر وائٹ لیس سے ڈیزائننگ کی گئی تھی جس میں ہیروں کی مانند موتی لٹک رہے تھے۔ساتھ میں وائٹ ڈوپٹہ تھا جس پر پنک موتیوں کی لیس لگی ہوئی تھی۔۔۔۔کانوں میں میچنگ جیولری تھی۔۔۔۔۔بائیں ہاتھ میں رسٹ واچ اور دائیں ہاتھ میں بریسلٹ تھا۔۔۔چہرہ سادہ تھا صرف ہونٹوں پر پنک کلر کی ہلکی سی لپ اسٹک تھی۔۔۔براؤن گولڈن بال ڈوپٹے سے نظر آ رہے تھے۔

آج اتنی پیاری لگ رہی ہو کہ لگتا ہے تمہارے سامنے چراغوں میں روشنی بھی نہیں رہے گی۔کاش میں لڑکی نا ہوتی تو تمہیں اٹھا کر کسی ایسی جگہ روپوش ہو جاتی جہاں لوگ ہمیں قیامت تک ڈھونڈ نا پاتے۔۔فرح بڑے عاشقانہ لہجے میں بولی تو وہ بے اختیار مسکرا دی۔۔۔۔

ایک تم تم صرف مسکرانے پر اکتفا کرتی ہو لڑکی۔کبھی منہ پھاڑ کر ہنس بھی لیا کرو۔۔بہت ہی کوئی کنجوس ہو۔۔۔وہ منہ بناتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کرنے لگی۔۔۔۔۔

اگرچہ وہ عمر میں حیات سے بڑی تھی مگر ان تین مہینوں میں دونوں کے درمیان خاصی بے تکلفی ہوگئی تھی۔اس میں زیادہ ہاتھ فرح کا تھا ورنہ حیات تو شروع میں اسے میم بولتی تھی۔نو بجنے سے پہلے پہلے وہ پارٹی میں پہنچ گئی تھیں”

آپ کیا ان کو زبردستی لائی ہیں۔۔؟؟

فرح سے ہیلو ہائے کرتے ماحر نے اسکے ساتھ کھڑی حیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزاحیہ انداز میں کہا۔۔۔وائٹ اور پنک کمبینیشن کے دوپٹے سے جھانکتا اس کا گلابی چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح روشن تھا۔اسکی آنکھوں میں اداسی کا موسم ٹھہر گیا تھا۔

آف کورس سر یہ بالکل راضی نہیں تھیں۔۔۔زبردستی لائی ہوں۔۔فرح نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔جبکہ وہ خامخواہ میں شرمندہ ہو کر نظریں چرانے لگی۔پھر پارٹی میں سارا وقت وہ ماحر کی نظروں کے حصار میں رہی۔ٹائم زیادہ گزرا تو اسے بے چینی ہونے لگی اس نے فرح کی تلاش میں ادھر ادھر نظریں دوڑائیں مگر وہ کہیں نظر نہیں آئی تو اسے گھبراہٹ ہونے لگی۔اس سے پہلے وہ پریشان ہو کر اسکی تلاش میں اٹھتی اسے فرح وہاں آتی دکھائی دی۔۔۔۔

آپ کہاں چلی گئی تھیں مجھے اکیلا بٹھا کر۔۔۔فرح کو قریب آتے دیکھ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔

فرح اسے کچھ پریشان لگی۔۔۔

کیا ہوا۔۔۔۔۔؟؟

حیات میرے ہزبینڈ کا ابھی فون آیا ہے میرے بیٹی کو سیڑھیوں سے گر کر چوٹ لگی ہے اسے ہوسپٹل لے کر گئے ہیں مجھے بھی ابھی نکلنا ہے۔تمہارے گھر کا راستہ مخالفت سمت پڑتا ہے تو ایم سوری میں تمہیں ڈراپ نہیں کر سکوں گی بٹ ڈونٹ وری میں نے ماحر سر سے کہہ دیا ہے وہ تمہیں ڈرائیور کے ساتھ بھجوا دیں گے۔۔

“جلدی جلدی بولتے ہوئے وہ اس سے گلے مل کر فوراً وہاں سے چلی گئی جبکہ حیات پیچھے صدمے سے دیکھتی رہ گئی۔رات کو اکیلے کسی مرد کے ساتھ جانے کے خیال نے اسے سراسیمہ کر دیا تھا۔بے تحاشا پریشان ہوتی وہیں کرسی پر ٹک گئی۔۔پارٹی میں موجود لوگ آہستہ آہستہ کر کے واپسی کیلئے جانے لگے تھے۔ ڈوپٹے کو خود کے گرد مضبوطی سے لپیٹے وہ پریشان نظروں سے ادھر ادھر آتے جاتے لوگوں کو دیکھ رہی تھی کہ اسی وقت ایک ملازم نے اس سے آ کر کہا۔

آئیے میم۔۔۔آپ کا باہر گاڑی میں ویٹ کیا جا رہا ہے۔۔۔

وہ پرس سنبھالتے ہوئے اسکی رہنمائی میں باہر نکل آئی۔دل دھڑک رہا تھا بارہ بجنے والے تھے۔رات کے اس پہر کسی انجان شخص کے ساتھ جانے کے خیال سے وہ خوفزدہ ہو رہی تھی مگر مجبوری تھی کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔۔

اسے رہ رہ کے خود پر افسوس ہو رہا تھا کہ اس نے فرح کی بات کیوں مانی۔۔۔۔ملازم کی تقلید میں وہ پارکنگ میں کھڑی گاڑی کی طرف آئی۔۔۔۔وہ پچھلے دروازے کی طرف بڑھنے ہی لگی تھی جب ملازم کی آواز پر پلٹ کر دیکھا۔۔۔۔۔۔۔وہ اسکے لئیے فرنٹ ڈور کھول کر کھڑا تھا۔حیات نے حیرانی سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے شخص کی طرف دیکھا تو دل اچھل کر حلق میں آ گیا تھا۔۔۔

“ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ماحر بھی اسکی طرف ہی دیکھ رہا تھا۔ملازم بھی دروازہ کھولے منتظر کھڑا تھا۔۔وہ بے تحاشا دھڑکتے دل کے ساتھ بیٹھ گئی۔۔ایک تو اتنا ٹائم ہو گیا تھا اوپر سے ماحر کے ساتھ سفر کرنے کے خیال سے وہ ہراساں ہو رہی تھی۔

آپ میرے ساتھ آنے سے خوفزدہ ہیں۔۔وہ اسکی طرف دیکھتا ہوا بولا۔۔

ایسی تو کوئی بات نہیں وہ ایکچولی میں سوچ رہی تھی بوا پریشان ہو رہی ہونگی۔وہ سنسان روڈ پر پھیلے اندھیروں کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔

مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے۔۔ماحر اس کی نیلی بڑی بڑی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔

مم۔۔۔۔مگر آپ نے گاڑی کیوں روک دی ہے۔۔۔؟؟

حیات خوفزدہ ہو کر بولی۔۔

“۔ماحر نے اسکی طرف دیکھا وہ کافی حراساں اور پریشان تھی۔اس کا خوفزدہ ہونا بجا تھا۔بارہ بجے کے بعد وہ پارٹی سے نکلے تھے۔سفر کرتے ہوئے انہیں ایک گھنٹہ ہو گیا تھا۔۔یہ ہاکس بے کا سینٹرل علاقہ تھا۔جہاں آبادی نہیں تھی رائٹ سائیڈ پر میدانی علاقہ تھا جبکہ لیفٹ سائیڈ پر سمندر تھا۔جہاں سے آتی پانی کی پرشور آواز تھی۔ہر طرف اندھیرے کا راج تھا۔ستاروں کے جھرمٹ میں چاند کی مدھم روشنی تھی جو اندھیرے کو کم کرنے کیلئے ناکافی تھی۔ ماحر بالوں میں انگلیاں پھنسائے کچھ کہنے کیلئے سوچ رہا تھا۔۔۔

گاڑی میں کوئی خرابی ہو گئی ہے کیا۔۔حیات نے دو منٹ اسکی خاموشی کو نوٹ کر کے کہا۔۔

ماحر نظریں کی نظریں اسی پر ٹکی ہوئی تھیں جو چہرے سے ہوتے ہوئے اسکے سر پر جمے ڈوپٹے پر ٹھہر جاتی تھیں۔

شائد ڈوپٹے والی کوئی لڑکی اسکی زندگی میں آنے والی پہلی لڑکی تھی ورنہ تو جتنی بھی لڑکیاں اسکی زندگی میں آئی زیادہ تر فلمی ایکٹریس ہی ہوتی تھیں۔اگر کوئی فلمی ایکٹریس نا بھی ہوتی تو بھی سکرٹ بکنی پہننے والی ماڈرن لڑکی ہی ہوتی تھی۔۔

پلیز جلدی کریں میں گھر جانا چاہتی ہوں۔۔وہ اسکی نگاہوں سے گھبرا کر بولی۔ماتھے پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں نمودار ہوئیں۔

میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ آپ میرے گھر چلی آئیں۔۔وہ معنی خیز لہجے میں بولا

کیا مطلب۔۔حیات اسکے زومعنی انداز پر چونک کر بولی

مطلب یہ کہ ہمارے معاشرے میں لڑکی کا اصل گھر اسکے شوہر کا گھر ہوتا ہے۔اور میں آپ کو یہ گھر فراہم کرنا چاہتا ہوں مطلب کے آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں

اس نے بہت آرام سے اپنا مدعا کہہ دیا تھا۔۔

وہ سن سی ہو کر رہ گئی تھی۔

“جو بات میں آپ سے کہنے جا رہا ہوں یہ بات فلموں میں تو میں نے ہزاروں مرتبہ کہی ہوگی مگر رئیل لائف میں کہنا اتنا آسان نہیں ہوتا یہ احساس مجھے اب ہو رہا ہے۔ایکچولی میں بہت ریزرو اور پریکٹیکل سا بندہ ہوں فلمی دنیا سے ہٹ کر میں محبت وحبت پر یقین

نہیں کرتا تھا۔۔۔۔۔مگر آج مجھے اعتراف ہے یہ ایک بے ساختہ جذبہ ہے ہر غرض اور مفاد سے بالاتر۔۔۔۔

میں یہ نہیں کہتا کہ بالکل صاف کردار کا انسان ہوں میری زندگی میں بہت سی لڑکیاں آئیں جن سے میں نے دل بہلایا مگر دل کے اندر کوئی داخل نا ہو سکی سوائے آپ کے۔۔۔

نامعلوم کس طرح آپ کی سادگی آپ کا مضبوط کردار آپ کا صاف و شفاف حسن مجھے گھائل کر گیا اور میں بہت آسانی سے لٹ گیا۔۔۔۔عام عاشقوں کی طرح مجھے لمبی لمبی ڈینگیں نہیں آتیں اور نا میں اشعار کے ذریعے حال دل بیان کر سکتا ہوں۔سو میں نے بات واضع کر دی ہے۔۔۔میں آپ کے بارے میں چاہ کے بھی خود کو سوچنے سے نہیں روک سکتا۔۔۔۔۔میں نے پہلے بھی آپ کو اپنا پرپوزل دیا تھا۔۔۔۔۔۔مگر تب چونکہ آپ مجھ سے نفرت کرتی تھیں کیونکہ میں آپ کی نظر میں ایک برا انسان تھا اسلیئے میرا پرپوزل بھی آپ نے ریجیکٹ کر دیا تھا۔لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔۔

میں جانتا ہوں کہ آپ کی سوچ میرے بارے میں پوزیٹو ہو گئی ہے کیونکہ اگر نیگٹیو ہوتی تو یقیناً آپ رات کے اس پہر میرے ساتھ نا ہوتیں۔

اس نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں اپنی بات مکمل کر دی

جن باتوں کو کہنے کیلئے وہ پچھلے تین ماہ سے پلان بنا رہا تھا وہ اس نے آخرکار آج کہہ دی تھیں۔

حیات اس تمام وقت گود میں رکھے اپنے ہاتھوں پر نظریں جمائے بیٹھی رہی۔۔اسکی آنکھوں میں مچلتے جذبوں کو دیکھنے کی اس میں ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی۔اسکی نگاہیں اسے بری طرح پزل کر رہی تھیں”

اسوقت اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا جواب دے

اسکی فیلنگز سمجھتے ہوئے ماحر نے مشکل آسان کر دی۔۔۔

گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے وہ مسکراتے لہجے میں بولا

آئی نو آپ شائد مجھ سے گھبرا رہی ہیں۔۔۔۔۔۔اوکے آپ اچھی طرح سوچ کر جواب دے دیجئے گا مجھے کوئی جلدی نہیں۔بٹ یہ ضرور یاد رکھیے گا کہ میرے لئیے آپ اتنی امپارٹینٹ ہیں جتنا کہ سانس لینا۔۔آپ کیلئے میں کچھ بھی کر سکتا ہوں۔۔۔مطلب کہ اگر آپ کوئی بھی شرط رکھیں گی وہ مجھے منظور ہو گی۔

۔وہ یقین دلانے والے انداز میں بولا۔۔۔

حیات بے اختیار اسے دیکھنے پر مجبور ہوئی۔مگر اسکی نگاہوں کی تاب نا لا کر فوراً نظریں جھکا گئی۔

باقی سفر خاموشی سے گزرا۔۔۔

تاہم اسکے گھر کے باہر ڈراپ کرتے ہوئے ماحر نے پھر سے یاد دلایا تھا کہ وہ اسکے فیصلے کا منتظر رہے گا۔۔

وہ عجیب سے احساسات میں گھری گھر آ گئی۔رحمت بوا اسکے انتظار میں جاگ رہی تھیں جبکہ مون سو چکا تھا۔۔اسے دیکھ کر وہ بھی پر سکون ہو کر سونے چلی گئیں۔۔

جبکہ حیات عبدالرحمان کی نیند اڑ چکی تھی۔۔

اس کا دل اگر ماحر کے حق میں فوری ہاں کا فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا تو انکاری بھی نہیں تھا۔۔

اگرچہ ارتضیٰ حسن سے اسے کوئی دھواں دھار قسم کا عشق نہیں تھا مگر وہ اس سے متاثر ضرور ہوئی تھی

پھر اسکے ساتھ ذہنی اٹیچمنٹ بھی اتنی ہو گئی تھی کہ اس وقت اس کے بغیر زندگی گزارنے کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔۔۔۔۔۔مگر پھر وہ جیسے آیا تھا ویسے ہی ہوا کے جھونکے کی مانند نکل بھی گیا۔۔لیکن اسکے دل میں ارتضیٰ کی یادوں کا بسیرا ابھی بھی تھا

سو اب ماحر کو قبول کرنا یعنی اتنی جلدی ارتضیٰ کی جگہ کسی اور کو دے دینا آسان نہیں لگ رہا تھا۔

وہ ہچکچا رہی تھی۔۔بیشک ماحر خان لاکھوں دلوں کی دھڑکن تھا۔بے پناہ ہینڈسم ہونے کے ساتھ ساتھ بے وہ تحاشا دولت اور شہرت کا مالک بھی تھا مگر یہ بھی خوف تھا پتہ نہیں وہ اسے ارتضیٰ حسن کے جیسی عزت اور محبت دے پاتا یا نہیں یہی سوچ اسے تذبذب میں مبتلا کر رہی تھی۔دل و دماغ دونوں الجھے ہوئے تھے کسی فیصلے پر یکجا نہیں ہو پا رہے تھے۔۔۔ٹائم دیکھنے کیلئے موبائل اٹھایا تو ڈیڑھ بج رہا تھا۔۔۔نیند ابھی بھی آنکھوں سے کوسوں دور تھی وقت گزاری کیلئے اس نے نیٹ آن کیا۔یوٹیوب پر یونہی ویڈیوز کو سر سری نظر سے دیکھتے ہوئے اسکی نظر ایک فلم کے ٹائٹل پر رکی۔اگرچہ وہ فلمیں نہیں دیکھتی تھی مگر اس فلم کی طرف متوجہ ہونے کی وجہ ٹائٹل پر ماحر خان کی تصویر تھی۔ساتھ میں اسکی باہوں میں ایک خوبصورت سی ہیروئن بھی تھی۔۔

“۔اس نے پلے پر کلک کیا اور دیکھنے لگی پھر ڈھائی گھنٹے کس طرح گزرے اسے پتہ بھی نہیں چلا۔۔اذان کی آواز پر وہ چونکی موبائل بند کیا اور گہری سانس لے کر اٹھ بیٹھی مسلسل ڈھائی گھنٹے موبائل دیکھنے کی وجہ سے سر درد کر رہا تھا۔لیکن اس کا دھیان سر درد کے بجائے فلم پر اٹکا ہوا تھا۔خاصی رومینٹک سی فلم تھی اس میں ماحر بہت زیادہ ینگ لگ رہا تھا شائد انیس بیس سال کا۔۔۔

اس میں حیرت انگیز تبدیلی رونما ہو رہی تھی وہ پہلی بار ماحر سکندر خان سے امپریس ہو رہی تھی۔

پھر زندگی میں کبھی فلم نا دیکھنے والی لڑکی نے اگلے تین دن اسی کام میں گزارے۔۔۔۔

ان تین دنوں میں وہ آفس نہیں گئی طبیعت کی خرابی کا بہانہ کر کے گھر پر رہی۔۔۔۔۔ عبدالرحمان صاحب کو دیکھنے کیلئے جاتی اور باقی کا وقت ماحر کی فلمیں سرچ کر کے ڈاؤن لوڈ کرنا اور پھر آرام سے بیٹھ کر دیکھنا بس اسی میں ٹائم گزرتا۔۔۔۔۔۔ان تین دنوں میں وہ اسکی انیس بیس فلمیں دیکھ چکی تھی۔ایک دن میں چار پانچ فلمیں ایک ساتھ دیکھیں۔۔۔کبھی کسی سے متاثر نا ہونے والی زندگی میں پہلی بار ارتضیٰ حسن سے متاثر ہوئی تھی۔۔اور اب نتیجہ یہ نکلا ماحر خان کی فلمیں دیکھتے دیکھتے وہ اس سے بھی امپریس ہو بیٹھی تھی۔۔ناصرف امپریس ہوئی بلکہ پہلی بار خود پر رشک بھی آیا کہ اتنا بڑا سپر سٹار اس پر مر مٹا ہے۔۔اسکے ذہن میں بار بار ماحر کی کہی بات گونجتی۔۔آپ میرے لئیے اتنی امپارٹینٹ ہیں جتنا کہ سانس لینا۔۔۔لب خود بخود ہی مسکرانے لگتے

اسے افسوس سا ہونے لگا کہ اس نے اسکی فلمیں پہلے کیوں نہیں دیکھیں۔اگر پہلے دیکھ لیتی تو پہلے ہی امپریس ہو جاتی۔اب اسے ماحر کے رابطے کا انتظار تھا کہ کیونکہ اسکا دل و دماغ دونوں اسے قبول کر چکے تھے۔۔چوتھے دن وہ خود آ گیا اسے پک کرنے۔۔۔۔

حیات کے چہرے پر پھیلے خوشنما رنگوں سے ہی اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ جواب مثبت ہے تاہم وہ اسکی زبان سے سننا چاہتا تھا۔۔۔

پھر کیا سوچا آپ نے سویٹ ہارٹ۔۔۔وہ مسکراہٹ دبا کر سنجیدگی اختیار کرتے ہوئے بولا

کک کس بارے میں۔۔۔حیات تو اسکے طرز تخاطب پر ہی غش کھاتے کھاتے رہ گئی

میرے پرپوزل کے بارے میں۔۔۔

وہ میں نے ابھی سوچا نہیں۔۔۔۔۔۔۔وہ نروس سی ہو کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔۔

سوچ تو آپ چکی ہیں اور آپ کا دل بھی میرے حق میں فیصلہ کر چکا ہے بس آپ زبان سے اقرار نہیں کر رہیں۔۔

حیات نے حیرت سے اسکی طرف دیکھا۔۔وہ شخص ہینڈسم ہونے کے ساتھ خاصا ذہین بھی تھا چہرے پڑھنے کا ہنر جانتا تھا۔۔

حیران مت ہوں آپ کا چہرہ بہت شفاف ہے ایک کھلی کتاب کی طرح ہے۔۔۔۔وہ ہنستے ہوئے بولا

حیات عبدالرحمان نے جھینپ کر سر جھکا لیا”

میں آج شام کو آپ کے گھر آؤں گا آپ کی بوا سے ہمارے رشتے کی بات کرنے۔۔۔

نہیں بوا سے نہیں۔۔آپ کو میرے بابا کے کومہ سے باہر آنے کا ویٹ کرنا ہو گا۔انکی اجازت اور رضامندی کے بغیر میں آپ سے شادی نہیں کر سکتی۔۔

وہاٹ یہ کیا بات ہوئی آپکے بابا ساری زندگی کومہ سے باہر نا آئے تو کیا میں ساری زندگی انتظار کرتا رہوں گا

یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ۔۔حیات صدمے سے اسے دیکھنے لگی۔۔

اسکے چہرے کے ناراض تاثرات سے ماحر کو اپنی جلد بازی کا احساس ہوا۔۔۔

آئی ایم سو سوری میرا یہ مطلب نہیں تھا۔۔اوکے کوئی بات نہیں میں ویٹ کر لوں گا انشاءاللّٰہ آپ کے فادر جلد ہی کومہ سے باہر آئیں گے۔۔۔ماحر نے بات کو سنبھالتے ہوئے کہا۔۔۔۔

حیات نے کوئی جواب نہیں دیا خاموشی سے کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی۔اسے حقیقتاً ماحر خان کی بات بہت بری لگی تھی۔۔کل شام کو ہی تو ڈاکٹر وارثی نے اسے امید دلائی تھی کہ عبدالرحمان صاحب کے کومہ سے باہر آنے کا چانس ہے۔ہو سکتا ہے کہ وہ کسی دن اچانک کومہ سے باہر آ جائیں ڈاکٹر وارثی کی اس بات نے اسکے اندر خوشی بھری امنگ پیدا کر دی تھی۔⁩

بے شمار جلے ہوئے سگریٹ کے ٹکڑوں سے ایش ٹرے بھر چکی تھی۔کمرے میں ہر سو سگریٹ کا دھواں چکرا رہا تھا۔نائٹ سوٹ میں ملبوس الجھے بال سرخ آنکھیں لئیے وہ بے چین و مضطرب کمرے میں ٹہل رہا تھا۔۔

حیات عبدالرحمان کی طرف سے رضامندی پا کر اسکے دل میں ٹھنڈک سی اتر گئی تھی۔مگر اسکی اگلی بات نے اس کا موڈ سخت خراب کر دیا تھا۔

وہ بڈھا کومہ سے باہر نا آیا تو میں کیا ساری زندگی اسے پانے کی حسرت لئیے بیٹھا انتظار کرتا رہوں گا

سگریٹ کا کش لگا کر وہ غصے سے بڑ بڑایا۔۔۔

اور اس بات کی بھی کیا گارنٹی ہے کہ اگر وہ ٹھیک ہو بھی جائے تو اسے بطور داماد قبول کر لے گا۔۔۔۔

۔اس نئے خیال نے اسکی بے چینی کو مزید بڑھا دیا۔۔۔

نہیں کچھ نا کچھ تو کرنا پڑے گا۔۔۔۔سگریٹ ٹرے میں مسلتے ہوئے وہ سوچ رہا تھا۔۔۔پھر ایک خیال اسکے ذہن میں آیا تو لبوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔۔

میں تمہارے اور اپنے بیچ رکاوٹ بنتی ہر چیز کو ختم کر دوں گا۔ اسکے بعد تمہارے پاس کوئی جواز ہی نہیں بچے گا نا کرنے کا پھر جلد ہی تم میری دسترس میں ہوگی۔۔۔وہ مسکرایا

ایک ایک بات کا حساب نا لیا تم سے تو میرا نام بھی ماحر سکندر خان نہیں۔۔مسکراہٹ کی جگہ اب غصے نے لے لی تھی۔رگوں میں پکتا لاوا باہر نکلنے کیلئے بے تاب تھا۔۔۔

تمہاری بلا جواز نفرت میرے اندر کے انا پرست آدمی کو بری طرح سے جھنجوڑ گئی ہے۔۔میں بہت چاہنے کے باوجود اپنے اندر سے انتقامی جذبے کو ختم نہیں کر پایا ہوں۔۔۔۔۔سنا تھا عورت کی نفرت عورت کا انتقام دونوں ہی بہت بری چیزیں ہوتی ہیں۔۔مگر اب تم مرد کی نفرت مرد کا انتقام دیکھو گی۔میں نے جتنی شدت سے تمہاری خواہش کی تھی اب اتنی ہی شدت سے تمہیں تمہاری اوقات یاد دلاؤں گا۔۔۔

میں کوئی عام آدمی نہیں تھا جس کو تم نے ٹھکرایا رد کیا۔۔ایک نامور سپرسٹار ہوں جسکے دنیا بھر میں لاکھوں کروڑوں چاہنے والے ہیں۔چونکہ عام آدمی نہیں ہوں اسلیئے میرے انتقام لینے کا انداز بھی سطحی نہیں ہو گا۔۔میں تم سے اپنا آپ منواؤں گا تمہیں بتاؤں گا کہ کسی کے ٹھکرانے سے کتنی تکلیف پہنچتی ہے۔۔۔وہ دل ہی دل میں حیات عبدالرحمان سے مخاطب تھا۔۔⁩

رات کے بارہ بجے جب ڈیوٹی پر مامور ایک نرس کھانا کھانے کیلئے باہر گئی تو دوسری نرس وہاں بیٹھ کر اپنی ڈیوٹی سر انجام دینے لگی۔اسی وقت اس نرس کا فون بجا۔۔۔۔

کیسے ہو عمران۔۔۔۔کال ریسیو کرتے ہی وہ خوشی سے سرشار لہجے میں بولی۔

ٹھیک ہوں سویٹ ہارٹ۔۔تمہیں دیکھنے کو دل بہت مچل رہا تھا۔میں تمہارے ہاسپٹل کے باہر کھڑا ہوں جلدی سے دو منٹ کیلئے باہر آؤ۔۔۔

کیا اسوقت۔۔۔۔وہ حیرانگی سے بولی

تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے عمران اسوقت کیوں آئے ہو۔۔میں ڈیوٹی پر ہوں باہر نہیں آ سکتی۔۔اس نے فوراً انکار کیا”

پلیز یار تھوڑی دیر کیلئے اپنا دیدار کروا دو میں پھر چلا جاؤں گا۔۔اور ہاں سنو اگر تم باہر نہیں آئی تو میں پھر کبھی تم سے بات نہیں کروں گا۔۔۔۔منت کرتے ہوئے وہ آخر میں دھونس بھرے لہجے میں بولا

مگر عمران میں ڈیوٹی پر۔۔۔وہ سامنے لیٹے مریض کی طرف دیکھتے ہوئے ہچکچا کر بولی

“اگر مگر کچھ نہیں میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں دو منٹ کے اندر اندر باہر آؤ ورنہ ساری زندگی شکل نہیں دکھاؤں گا۔۔رعب سے کہتے ہوئے اس نے فون بند کر دیا

وہ فون ہاتھ میں لئیے تذبذب میں مبتلا ہو گئی کہ آیا مریض کو اکیلا چھوڑ کر جائے یا نہیں۔۔

پانچ منٹ کی تو بات ہے ایسا کرتی ہوں چلی جاتی ہوں اور پھر فوراً واپس آجاؤں گی۔۔۔۔۔وہ سوچتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی اور ایک نظر پیشنٹ کی طرف دیکھ کر باہر نکل گئی۔اسکے جانے کے فوراً بعد دروازہ کھلا اور ایک شخص اندر آیا جس نے صفائی والا برش اور بالٹی اٹھا رکھی تھی جسم پر صفائی کرنے والوں کا مخصوص یونیفارم تھا چہرے پر ماسک تھا جس سے اسکی صرف آنکھیں ہی نظر آ رہی تھیں۔۔۔۔۔اندر داخل ہو کر اس نے فوراً دروازہ بند کیا البتہ لاک نہیں لگایا۔بالٹی اور برش وہیں دروازے کے قریب رکھا اور تیزی سے پیشنٹ کے نزدیک آیا ایک نظر دیکھ کر پھرتی سے جیب سے سرنج اور ایک چھوٹی سی بوتل نکالی اور اس میں موجود محلول کو سرنج میں منتقل کر کے اس نے مریض کی کلائی میں گھونپ دی۔اسی پل کھڑکی کی طرف سے آہٹ ہوئی وہ اچھل پڑا اور پھر کمرے میں چھپنے کیلئے ادھر ادھر نظر دوڑانے لگا۔۔۔۔”

اسی وقت دروازہ کھلا نرس اندر آئی اور ایک غیر متعلقہ شخص کو وہاں دیکھ کر چلا اٹھی۔۔۔۔۔وہ بری طرح گھبرا گیا۔بجلی کی تیزی سے نرس کو ایک طرف دھکا دیا اور وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔ڈاکٹر وارثی جو چھٹی کر کے وہاں سے گزر رہے تھے نرس کے شور کی آواز سن کر اس روم کی طرف دوڑے جس میں کومہ کا پیشنٹ تھا۔۔

کیا ہوا سسٹر۔۔۔۔؟؟انہوں نے اندر داخل ہو کر پوچھا”

سر دیکھیں ذرا۔۔۔۔مجھے لگ رہا ہے پیشنٹ سانس نہیں لے رہا۔۔۔۔وہ گھبرا کر بولی

ڈاکٹر وارثی نے فوراً آگے بڑھ کر چیک کیا۔۔۔۔۔۔۔واقعی پیشنٹ کی سانس رک چکی تھی۔سانس کی آمد و رفت بتانے والی مشین کی سکرین بھی تاریک ہو چکی تھی۔

ہی از نو مور۔۔۔۔ڈاکٹر وارثی نے مایوسی سے سر ہلاتے ہوئے کہا۔۔۔

سر انہیں کسی نے مارا ہے۔۔۔وہ بھرائی آواز میں بولی

کیا۔۔۔۔ڈاکٹر وارثی نے چونک کر دیکھا۔۔۔

یس سر۔۔۔میں ڈیوٹی پر تھی کھانا کھانے کیلئے باہر گئی تو سسٹر نائلہ کو یہاں بٹھا گئی۔۔۔اور جب میں واپس آئی تو یہاں کوئی آدمی ان کے قریب کھڑا تھا اور سسٹر نائلہ بھی نہیں تھی۔۔۔۔مجھے لگتا ہے اس آدمی نے انکے ساتھ کچھ کیا ہے۔۔وہ مریض کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔۔۔

سو سیڈ۔۔لیکن آپ اس بات کا کسی سے ذکر نہیں کریں گی کیونکہ اس میں ہمارے ہاسپٹل کی بدنامی ہے۔اگر اس پیشنٹ کے ورثا کو پتہ چلا تو وہ ہم سب پر کیس کر دیں گے۔تم پر مجھ پر سارے سٹاف پر۔

تم جانتی ہو نا فلمسٹار ماحر خان کی طرف سے اس پیشنٹ کی خیال رکھنے کی سخت تاکید کی گئی تھی ہمیں۔اگر انہیں پتہ چل گیا کہ ہماری لاپرواہی کی وجہ سے انکے پیشنٹ کی جان گئی ہے تو وہ ہمارے اس ہاسپٹل کو بند کروا دیں گے اور ہم سب کو اندر کروا دیں گے۔۔۔۔لہذا اس راز کو اپنے دل میں دفن کر دو۔۔ڈاکٹر وارثی تشویش بھرے لہجے میں کہتے ہوئے اسےسمجھا رہے تھے۔۔۔۔

زیر نظر تصویر میں ہیروئن موبائل فون پر ہیرو کی موویز دیکھتے ہوئے😊