Meri Hayat By Zarish Hussain Readelle50271 Meri Hayat (Episode 15)
Rate this Novel
Meri Hayat (Episode 15)
Meri Hayat By Zarish Hussain
آج کی صبح خاصی خوبصورت محسوس ہوئی تھی اسے۔ کیونکہ کل شام ہی ارتضیٰ حسن کے ساتھ اس کا رشتہ طے پا گیا تھا۔۔۔۔۔سو کل سے چہرے پر انوکھی چمک اور الوہی مسکان تھی۔عبدالرحمان صاحب نے اسکی رضامندی جانتے ہی ہاں کر دی تھی۔۔۔۔کل رات حورین کو بھی وہ فون پر یہ خوشخبری سنا چکی تھی۔۔۔۔۔حورین پہلے حیران ہوئی،پھر لیٹ بتانے پر لڑی۔اور پھر خوشی کا اظہار کیا اور ساتھ ہی وعدہ کیا کہ اسکی شادی پہ ضرور آئے گی۔۔۔۔۔”
فضا نے اسکے ہاتھ پہ شگن کے طور پر پچاس ہزار رکھے تھے۔وہ حیات کو بھابھی کےروپ میں پا کر بے تحاشا خوش تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم مجھے بھابھی بولتی ہو۔اب میں بھی تمہیں بھابھی کہوں گی۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی بات پر حیات کے بھابھی کہنے پر انہوں نے ہنستے ہوۓ چھیڑا تھا۔۔۔۔۔ تو جواباً وہ جھینب گئی۔۔۔تین دن بعد نکاح ہونا طے پایا تھا۔۔رات کو ارتضیٰ کے ساتھ فون پر کافی دیر بات ہوئی۔۔۔۔۔اسکے منہ سے
پیار محبت کی باتیں سن کر اسے لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ وہی سخت گیر پروفیسر ہے۔جس کی دہشت سے سٹوڈنٹس خوف کھاتے تھے۔۔۔۔۔۔ “
یونیورسٹی سے ابھی چھٹیاں تھیں۔سو صبح نماز کے بعد وہ آرام سے سو جاتی اور نو دس بجے ہی اٹھتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج تو پہلے سے بھی زیادہ لیٹ آنکھ کھلی تھی۔فریش ہو کر نیچے ڈائننگ ہال میں آئی تو بوا ناشتے کے خالی برتن اٹھا رہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
اٹھ گئیں بیٹا۔۔۔۔۔ناشتہ بنا دوں۔۔۔۔؟انہوں نے مسکرا کر محبت سے پوچھا۔۔۔”
جی بنا دیں۔۔۔۔وہ بھی ہلکا سا مسکرائی اور کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔۔۔۔”
بابا اور مون چلے گئے۔۔۔۔؟؟
جی وہ تو سات بجے ہی ناشتہ کر کے چلے گئے تھے کیونکہ مون بیٹے کا سکول سوا سات بجے لگتا ہے۔اور آپکے بابا کو وقت پر آفس جانا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا آپ دس منٹ انتظار کرو میں آپ کیلئے ناشتہ بنا کے لاتی۔۔۔۔وہ برتن لے کر کچن میں چلی گئیں۔۔”
وہ ایزی ہو کے بیٹھ گئی۔سامنے آج کا اخبار رکھا تھا۔۔”عبدالرحمان صاحب کو اخبار پڑھنے کی عادت تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
اخبار کی خبروں پر نظریں دوڑاتے ہوئے اس نے صفحہ پلٹا تو نظر شوبز کے صفحے پر موجود ایک خبر پر ٹھہر گئی۔۔۔۔۔”
فلم سٹار ماحر سکندر خان کے گھر گونجنے والی ہیں شہنائیاں۔۔۔۔۔۔”
شوبز میڈیا رپورٹ کے مطابق۔۔۔۔
پچھلے بیس سالوں سے فلمی دنیا پر راج کرنے والے معروف سپر سٹار ماحر سکندر خان کے گھر ان دونوں دو شادیوں کی تیاریاں چل رہی ہیں۔۔۔۔مگر ان میں سے کوئی بھی شادی انکی نہیں بلکہ انکے چھوٹے بھائی عبیر سکندر اور بہن فاریہ سکندر کی ہو رہی ہے۔۔ یاد رہے کہ عبیر سکندر کی شادی ایکٹریس لیزا ایوب سے ہو رہی ہے۔جس کے ساتھ پچھلے ایک سال سے وہ ریلیشن شپ میں تھا۔۔۔۔۔۔لیزا ایوب اپنی بے باکی کی وجہ سے کافی مشہور ہیں۔۔فلموں میں زیادہ تر وہ ایٹم سانگ کرتی نظر آتی ہیں جسکی بنا پر فلمی حلقوں میں انہیں ایٹم گرل کے نام سے جانا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ ماحر سکندر کی مدر اس رشتے پر راضی نہیں تھیں۔۔۔۔ مگر عبیر سکندر کی ضد کو دیکھ کر انہیں ہتھیار ڈالنے پڑے۔۔۔۔۔۔جبکہ بہن فاریہ سکندر کی شادی فیملی میں ہی انکے کزن سے ہو رہی ہے جو کہ بزنس مین ہیں اور اپنی فیملی کے ساتھ ورجینیا میں مقیم ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
ہیڈ لائن پڑھی تو غیرارادی طور پر تفصیل بھی پڑھ ڈالی۔۔ماحر سکندر خان کی فیملی کے بارے میں آج
پہلی بار انفارمیشن ملی تھی۔۔۔اچانک سے اس کے اندر ماحر سکندر کے متعلق مزید جاننے کیلئے تجسس پیدا ہونے لگا۔۔۔۔ ساتھ رکھا اپنا موبائل اٹھایا اور گوگل پہ جا کے اسکی بائیو گرافی سرچ کرنے لگی۔۔۔جو کہ اگلے ہی پل اسکے سامنے تھی۔۔۔۔۔۔۔”
ماحر سکندر خان بائیو گرافی۔۔۔۔۔
سب سے پہلے اسکی ایک خوبصورت سی تصویر لگی ہوئی تھی۔ جس میں وہ بے حد ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔۔۔نیچے اسکے متعلق تمام ڈیٹیلز لکھی ہوئی تھی۔۔۔”
Full name…….Mahir sikander khan
Nick name………”
Profession…Actor,Producer, intreprenue
# physical state & More
Hight(Approx)……”
Weight (Approx)……”
Body Measurement….”
Eye Colour……(Black)
Hair colour…….(Black)
# Personal life…
Date off birth……”
Age in(2020)…….37
Birth place……….”
School……………….”
College……………..”
Nationality……….”
Home town…….. Karachi (Pakistan)
Hobbies… swimming, cycling.writing
Controversies…. Different caces
# Career….
Debut……….film Actor (phla piyar)1999
TV host …(Dama dam mast)2008
# Awards,Honours
Filmfare awards(Best male debut for phla piyar)1999…
# Relationships & more
Martial status… unmarried
Affairs(Girl friends)
Romi Chaudhary (Actress)(1999…2000)
Maya jaswal(Actress)
Neelam(Actress)
Mahi baloach(Actress)
Rani(Actress)
Shabnam Khan(Actress)
Karastie pfendler(American actress)
Jennifer Ross(American actress)
Stefanie Paola ( Baritish Musician)
Loyla parkar(Astrellian news anchor)
Neeha sharma(Indian actress)
# Cars collection…..”
# Money factor…
Salary(Approx)..$8.61 million(INR 60 karore/film)[41]
Income as in(2019)…$33.95(INR 253.26 carore)[42]
# Some lesser known facts about Mahir sikander khan
Does Mahir sikander khan Smoke…?#yes
Does Mahir Khan drink alcohol….?#yes
ساتھ میں تصویریں تھیں جن میں سے ایک میں وہ سگریٹ اور دوسری میں شراب پیتا نظر آ رہا تھا۔۔۔۔”
اف کس قدر گھٹیا ہے یہ شخص۔۔شراب پیتا ہے۔۔۔اتنی عورتوں کے ساتھ تعلقات۔۔۔۔۔ صرف نام کا مسلمان۔۔۔
استغفر اللّٰہ۔۔۔۔۔۔”وہ حیران نہیں ہوئی کیونکہ یہ سب اسکے نالج میں پہلے سے تھا۔۔ فلموں میں کام کرنے والے اکثر لوگ اس طرح کے کام کرتے ہیں۔۔۔۔۔”
یہ فلموں والے کیسے عجیب لوگ ہوتے ہیں۔نا حرام حلال کی پروا کرتے ہیں۔۔۔نا موت کا ڈر۔۔۔۔نا قبر کے عذاب اور نا آخرت کا خوف۔۔۔۔۔۔”
(اسی لئے تو اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے ہم نے انکے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی ہے۔انکی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے۔یہ لوگ سخت سزا کے مستحق ہونگے)شائد اسی لئیے یہ لوگ سزا کے خوف سے بے نیاز گناہوں میں مگن رہتے ہیں۔ان جیسے لوگوں کے دلوں پر بے حسی طاری ہو جاتی ہوگی۔تبھی یہ لوگ گناہ ثواب،حرام حلال کے فرق سے بے نیاز اپنی حدیں پار کرتے چلے جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”
آج بے حد خوشیوں بھرا دن تھا۔تھوڑی دیر پہلے اسکا ارتضیٰ حسن سے نکاح ہوا تھا۔۔۔نکاح کی یہ تقریب گھر
کے لان میں ہی ہوئی تھی۔جس میں دونوں طرف سے صرف قریبی لوگوں کو مدعو کیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔”
نکاخ کے بعد فوٹو سیشن اور پھر کھانے کا دور چل پڑا۔
کھانے کا انتظام بھی لان میں ہی کیا گیا تھا۔ مہمان کھانا کھانے میں بزی تھے تو وہ فضا کے ساتھ اپنے کمرے میں آ گئی۔گولڈن کلر کی میکسی۔۔۔ ڈریس سے ہم رنگ جیولری۔۔۔۔اور نفاست سے کیے گئے میک اپ میں وہ بے انتہا حسین لگ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔چینج کرنا چاہتی تھی مگر فضا نے روک دیا۔اور کھانے کا انتظام دیکھنے کے بہانے باہر نکل گئی۔۔۔۔ ارتضیٰ نکاح کے بعد اس سے اکیلے میں ملنا چاہتا تھا۔مگر یہ موقع اسکے کہے بنا فضا نے دے دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔”
تبھی حیات کمرے میں چھوڑ کر بہانا کر کے باہر نکل گئی۔۔اسکے نکلتے ہی ارتضیٰ کمرے میں داخل۔وہ جو پاؤں اوپر کیے بیڈ پر ریلیکس سے انداز میں بیٹھی حورین سے ویڈیو کال پہ بات کر رہی تھی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ارتضیٰ حسن کو اپنے کمرے میں دیکھ کر ایسے بوکھلائی کہ موبائل بھی ہاتھ سے چھوٹ کر کارپٹ پر جا گرا۔۔۔۔۔”
سس سر۔۔۔آپ یہاں۔۔۔۔۔۔۔؟؟ گھبرا کر فورا اٹھی تھی۔۔۔۔
جی میں یہاں۔۔۔۔آپ مجھے یہاں دیکھ کے اتنا گھبرا کیوں رہی ہیں۔۔۔۔۔۔آئی تھنک اس روم میں بغیر اجازت آنے کا اختیار ہے مجھے۔۔۔۔۔آفٹر آل میری وائف کا روم ہے۔۔۔وہ دلکش انداز میں مسکرایا۔۔۔۔۔۔۔
لائٹ کلر کے ویسٹ کوٹ سوٹ میں پہلے سے بھی زیادہ وجہیہ اور خوبرو لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یو آر لکنگ سو بیوٹیفل مس حیات عبدالرحمان۔اوپر سے نیچے تک پھسلتی ایک نظرمیں وہ چاہت سے مخمور لہجے میں کہہ رہا تھا۔وہ جو اب خود کو قدرے ریلیکس کر چکی تھی۔پہلی بار اسکی طرف دیکھ کے اعتماد سے مسکرائی تو وہ بے خود سا آگے بڑھا اور اس کے شانوں پر ہاتھ رکھ کر بے تکلفی سے بولا۔۔۔۔
یار اتنا حسن کہاں سے لیا ہے تم نے۔۔میرا دل کر رہا ہے وقت یہیں تھم جائے۔تم ایسے ہی میرے سامنے کھڑی رہو اور میں تمہیں ایسے ہی تکتا رہوں۔۔۔۔”
اسکے لباس سے پھوٹتی مدھوش کن مہک اسکو اپنے حصار میں لینے لگی تھی۔اسکی چاہت کی حدت سے لو دیتی آنکھوں نے اس کو نگاہیں جھکانے پر مجبور کر دیا۔اس کا دل عجیب انداز سے دھڑکنے لگا تھا۔۔۔”
تمہاری یہ آسمان کے رنگ جیسی آنکھیں مجھے بہت ڈسٹرب کرتی ہیں۔نرمی سے اسکی پلکوں کو چھوتے ہوئے کہہ رہا تھا۔اسکے گرم ہاتھ کا لمس حیات عبدالرحمان کے اندر برق دوڑانے لگا تو وہ گھبرا کے پیچھے ہو گئی۔۔۔”
سس سر وہ فضا بھابھی آ جائیں گی۔۔۔۔۔۔۔”
گھبراؤ مت جب تک میں باہر نہیں جاؤں گا۔۔وہ نہیں آئیں گی۔۔ایک بات بالکل سچ سچ بتاؤ گی۔۔۔؟؟وہ اسکے ہاتھ تھام کر اسکی خوبصورت ڈارک بلیو آنکھوں میں جھانکتا ہوا بولا۔۔وہ چپ رہی۔۔۔”
مجھ سے محبت کرتی ہو۔۔۔؟؟اس نے بھاری لہجے میں سرگوشی کی جواباً اس کا گلابی چہرا اور بھی گلال ہوگیا۔۔اس کی ساری خود اعتمادی ایک لمحے میں ہوا ہو گئی۔۔۔وہ اس کے ہاتھ تھامے سرگوشیاں کرتا رہا۔۔۔
جواب دو نا۔۔۔۔محبت کرتی ہو یا نہیں۔۔۔؟؟چپ رہنے سے کام نہیں چلے گا۔۔۔۔۔۔۔۔”اسکے تو انداز ہی بدل گئے تھے۔۔
کیا کہوں۔۔۔مجھے سمجھ نہیں آ رہا۔۔۔وہ نروس ہو گئی
ارے یار۔۔۔۔ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے۔میں مذاق کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو تمہارے دل میں ہے۔۔۔۔۔وہ تمہاری ان خوبصورت آنکھوں سے عیاں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں سچ میں تمہارے منہ سے نہیں سننا چاہ رہا۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے بے باکی اور بولڈنیس پسند نہیں ہے۔۔۔۔۔۔تم میرا آئیڈیل بن گئی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شرم و حیا کا پیکر،حساس و پرخلوص وجود والی دلربا لڑکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی آواز چاہت کے پھولوں سے مہک رہی تھی۔۔۔۔۔۔آنکھوں میں وفاؤں کے چراغ پوری آب و تاب سے روشن تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حیات عبدالرحمان کے چہرے پر پر سکون روشنی پھیل گئی تھی۔ارتضی حسن کے سنگ ایک خوبصورت زندگی کا آغاز ہونے جا رہا تھا۔وہ بخوبی دیکھ سکتی تھی کہ وہ بہت خوش لگ رہا تھا۔اسکی محبت کی شدتیں اسکے لہجے سے ہی چھلک رہی تھیں۔وہ نہیں جانتی تھی کہ اسے اس شخص سے کس حد تک محبت ہو گی۔لیکن وہ بھی اسے پا کے خوش تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
بیٹھو تم۔۔۔۔۔ مجھے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں تم سے۔۔۔آج پہلی بار وہ اسے آپ کے بجائے تم اور مس حیات کے بنا مخاطب کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
وہ بیڈ پر سائیڈ کی طرف بیٹھی تو وہ بھی قدرے فاصلے پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
میں بہت ریزرو اور پریکٹیکل سا بندہ ہوں۔آج سے کچھ عرصہ پہلے میں محبت پر بلیو نہیں کرتا تھا۔میں اسکو ٹائم ویسٹنگ چیز سمجھتا تھا۔میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ یہ مجھے بھی ہو جائے گی۔۔آج میں اعتراف کرتا ہوں یہ سب سے خوبصورت اور بے ساختہ
جذبہ ہے۔۔۔۔۔۔وہ وقت دور نہیں جب میں تم سے عشق کرنے لگوں گا۔۔۔۔۔۔۔ آج میں بہت خوش ہوں اور اپنے آپ کو دنیا کا سب سے خوش قسمت ترین انسان سمجھ رہا ہوں جو تم جیسی حسین اور محبت کرنے والی لڑکی میری قسمت میں آئی ہے۔۔۔۔خوشی اور سر شاری اسکے لہجے سے عیاں تھی۔۔۔
خواہش تو میری بہت تھی کہ رخصتی بھی نکاح کے
ساتھ ہی ہو جاتی۔۔۔۔۔۔۔مگر کل شام کی فلائٹ سے میں چھے ماہ کی ایک ورکشاپ کیلئے امریکہ جا رہا ہوں۔۔۔وہ جو لبوں پر دھیمی مسکان لیے سر جھکائے اسے سن رہی تھی اسکی اگلی بات پر جھٹکے سے سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا۔۔۔”
آپ امریکہ جا رہے ہیں۔۔۔۔وہ حیران ہوئی یا پریشان۔۔۔
ارتضیٰ سمجھ نہیں پایا۔۔۔”
ہاں مگر صرف مگر صرف چھے ماہ کیلئے۔۔اسکے بعد واپس آتے ہی رخصتی کرواؤں گا۔۔۔تب تک تم اچھے سے
سٹڈی کرتی رہنا۔۔۔۔۔۔فون پر میں تمہیں اس حوالے سے گائیڈ کرتا رہوں گا۔۔وہ اٹھ کھڑا ہوا تو حیات بھی کھڑی ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
کوئی بھی مسئلہ ہو بلاجھجک مجھ سے شئیر کرنا۔۔اور اپنا بہت سارا خیال رکھنا۔۔میں تمہیں تمہارے پاس اپنی امانت سمجھ کے جا رہا ہوں۔۔۔آگے بڑھ کر اسے ساتھ لگایا۔۔۔”
ایک بار پھر سے کہہ رہا ہوں اپنا بہت زیادہ خیال رکھنا۔۔۔۔۔۔۔۔بولو رکھو گی نا۔۔۔تھوڑی سے پکڑ اسکا چہرہ اوپر کیا تو وہ نم آنکھوں کے ساتھ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے ہلکا سا مسکرائی۔۔۔اسکی نم آنکھیں دیکھ کر وہ خود پر قابو نا رکھ سکا اور اسکے ماتھے اور سر کو چوم لیا۔۔۔۔پھر کوٹ کی جیب سے نیکلس نکال کر بڑی محبت سے اس کے گلے میں پہنا دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
چمکتا دمکتا خوبصورت سا نیکلس اسکی شفاف گردن پر خوب بہار دکھا رہا تھا۔وہ تو مبہوت سا تکتا رہ گیا
یہ تو بہت قیمتی لگ رہا ہے۔اور بہت خوبصورت بھی۔۔۔وہ بے ساختہ بولی۔۔۔۔”
تم سے زیادہ نہیں۔۔۔۔قیمتی اور خوبصورت تو یہ یہاں آ کر ہوا ہے۔۔۔۔وہ اسکی گردن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
باہر چلیں۔۔۔۔وہ اسکی آنکھوں سے کنفیوژ ہونے لگی۔۔۔
اس سے پہلے ارتضیٰ کچھ کہتا مون بھاگتا ہوا اندر آیا۔۔۔۔۔۔اور اس سے لپٹ گیا۔۔۔۔۔۔”
آپی آپی۔۔۔۔باہر چلیں۔۔۔مجھے آپکے ساتھ کھانا کھانا ہے
وہ مسکرائی پھر ارتضیٰ کی طرف دیکھا۔۔۔۔”
اوہو۔۔۔۔۔۔۔صرف اپنی آپی کے ساتھ کھانا ہے ہمیں نہیں کھلانا کیا۔۔۔۔اس نے آگے بڑھ کر اسکے پھولے گالوں کو کھینچا تو وہ کھکھلایا۔۔۔وہ دونوں بھی ہنس پڑے۔۔پھر پہلے ارتضیٰ باہر گیا۔۔۔اس کے کچھ دیر بعد وہ اور مون
خان فیملی میں پچھلے کئی دنوں سے جاری دونوں شادیوں کی تقریبات کا آج آخری دن تھا۔۔۔۔چاروں کا آج کراچی کے مہنگے ترین ہوٹل میں ولیمہ تھا۔۔۔۔۔ ملک کے سب سے بیسٹ اور مہنگے ترین ڈیکوریٹر کی خدمات لی گئیں تھیں۔۔۔۔۔فائیو سٹار کا وسیع وعریض مرکری لائٹس سے جگمگاتا ہال ملک کی بڑی بڑی ہستیوں سے رونق افروز تھا۔۔۔۔۔۔۔ رنگ و رعنائیوں کا بیکراں سمندر ہر سمت رواں دواں تھا۔۔شوبز، سیاست بیوروکریٹس اور بزنس سے وابستہ بڑی بڑی ملکی و غیر ملکی ہستیاں انوائیٹڈ تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
سیکیورٹی کے انتظامات اتنے سخت تھے کہ بیچارے عام لوگوں کو تو ہال کے قریب بھی پھٹکنے کی اجازت نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہال کے باہر میڈیا کے نمائندوں اور فوٹوگرافرز کی بھیڑ تھی۔۔۔۔۔تصویریں کھنچی جا رہی تھیں۔۔لائیو کوریج ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔ہال کے اندر کوریج کیلئے کچھ چینلز سے کروڑوں روپے وصول کر کے ہی انہیں اجازت دی گئی تھی۔۔۔۔۔جیسے ہی کوئی گیسٹ گاڑی سے اترتا فوٹو گرافرز کی فوٹو لینے کیلئے چیخ و پکار شروع ہو جاتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ چیخ و پکار اسوقت تک جاری رہتی جب تک وہ شخصیت فوٹوگرافرز کیلئے دو تین پوز نا دے دیتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مہمانوں کو ویلکم کہنے کیلئے راستے کے دونوں طرف پھولوں کے ٹوکرے ہاتھ میں لئیے کم عمر لڑکے اور لڑکیاں کھڑی تھیں۔۔۔۔۔”
نیم عریاں ملبوسات پہنے۔۔۔۔۔۔ کئی اداکارائوں،ماڈلز،کے کھنکتے قہقہوں،شوخ اداؤں پر جان نثار ہوتی مردوں کی بےباک نگاہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دیسی و بدیسی پرفیومز کی ہوش ربا خوشبوئیں پورے ماحول میں چکرا رہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سرخ پھولوں اور برقی قمقموں سے جگمگاتے سٹیج پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عبیر سکندر خان،اسکے پہلو میں براجمان لیزا ایوب۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اصفہان ابراہیم اور اسکے پہلو میں براجمان فاریہ سکندر خان ۔۔۔۔۔۔۔۔مہمان ایک ایک کر کے سٹیج پر جاتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لفافے اور گفٹس پکڑاتے ۔۔۔۔۔فوٹو کھینچواتے اور سٹیج سے نیچے اتر آتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ولیمہ کپلز سے زیادہ سب کی توجہ کا مرکز ماحر سکندر خان تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بلیک چمکیلا ویسٹ کوٹ پہنے وہ بے حد ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔۔سٹیج کے قریب کھڑے کسی غیر ملکی مہمان سے محو گفتگو تھا تھا۔مثال شیرانی بھی اسکے قریب آن کھڑی ہوئی۔۔۔بلیک سلک کی ساڑھی میں وہ قیامت لگ رہی تھی۔ڈراک گلا۔۔دودھیا بازوؤں میں ڈائمنڈ کی چوڑیاں۔۔گلے میں بلیک ڈائمنڈ کا جگمگاتا نیکلس اوپر سے مہارت سے کیا گیا میک اپ۔۔۔وہاں موجود مردوں کی نگاہوں کے ساتھ کیمرے بھی اس کو فوکس کر رہے تھے۔۔۔۔۔کتنی بے قرار نگاہیں اسکے چہرے اور سراپا میں الجھی ہوئی تھیں۔مگر وہ سب سے نیاز پورا ٹائم ماحر سکندر کے آگے پیچھے ہی پھرتی رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
آج موسم کافی خراب تھا۔عبدالرحمان صاحب آفس میں تھے۔۔۔حیات بیڈ پر بیٹھی کسی کتاب کا مطالعہ کر رہی تھی۔ساتھ میں مون لیٹا ہوا تھا۔جب سکول سے آیا تھا تب سے ماتھا خاصا تپ رہا تھا۔حیات نے اسے دوائی دے کر سلا دیا تھا۔۔۔ اسی وقت ارتضیٰ حسن کی کال آ گئی آج ایک ہفتہ ہونے والا تھا انہیں امریکہ گئے ہوئے۔اس دوران وہ حیات کو متعدد بار فون کر چکے تھے۔جیسے ہی فون اٹھایا تو پتہ چلا بیٹری آخری سانسیں لے رہی ہے۔بمشکل دو منٹ ہی بات ہو پائی تھی کہ موبائل آف ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اب اسے پتہ تھا لینڈ لائن پر کال آئے گی سو وہ سیڑھیاں اتر کر نیچے آگئی۔۔۔۔۔”
ارتضیٰ کے فون کے انتظار میں لابی کی دیوار کے ساتھ لگی کھڑی کا پردہ ہٹا کر شیشے سے باہر دیکھنے لگی۔۔ملازمہ نے کچھ دیر قبل کہا تھا کہ باہر تیز ہوا چل رہی ہے۔۔اس کا کہا سچ تھا طوفانی ہوا کے شدید جھکڑ چل رہے تھے۔ دن کے دو بج رہے تھے مگر باہر رات کی مانند تاریکی چھا رہی تھی۔بجلی قہر بھرے انداز میں چمک کر دل دھڑکا رہی تھی۔تیز بارش خوفناک انداز میں برس رہی تھی۔۔ وہ دہل کر کھڑکی سے ہٹ گئی۔۔۔اسی وقت لائٹ چلی گئی۔ملازمہ امینہ موم بتی لے کر آگئی وہاں۔۔”یہاں ٹیبل پر رکھ دو۔۔۔۔۔۔۔۔
آپی۔۔۔۔۔۔اسی وقت مون وہاں بھاگتا ہوا آیا اور اس سے لپٹ گیا۔۔۔۔”
کیا ہوا مون۔۔۔؟؟آپ اٹھ کیوں گئے۔۔۔۔۔
آپی ڈر لگ رہا ہے۔۔۔وہ سسکیاں بھرتے اسکی گود میں منہ چھپاتے ہوئے بولا۔۔”
کیسا ڈر۔۔آپکی آپی آپ کے پاس ہے نا۔۔حیات نے اسکے گال چومتے ہوئے کہا۔۔۔۔پھر اسکو روم لے آئی اور دوبارہ سے لیٹا دیا۔۔آپی آپ بھی سوئیں نا۔۔۔سرخ و سفید پھولے ہوئے گالوں والے مون نے اس کا ہاتھ پکڑا۔۔حیات کو اس پر بے تحاشا پیار آیا۔۔۔۔”
حیا بی بی آپ کا فون ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسی وقت ملازمہ نے دروازے پر آ کر اطلاع دی۔۔۔وہ جو مون کو تھپک تھپک کر سلانے کی کوشش کر رہی تھی۔ملازمہ کو اشارے سے مون کے پاس رہنے کو کہا۔۔اور خود باہر آگئی۔۔۔”
ہیلو۔۔۔۔۔”
ہیلو۔۔۔۔کون ہے۔۔۔دوسری طرف خاموشی تھی۔۔۔”
وہی ہوں جان من جسکی آپ بہت بڑی فین ہیں۔وہ جو
کال پر ارتضیٰ حسن کی آواز سننے توقع کر رہی تھی۔۔اسکی جگہ وہی بھاری خون منجمد کر دینے والی آواز،دلکش گھمبیر لہجہ سن کر اس کا دھڑک اٹھا۔۔۔۔
کیوں فون کیا ہے۔۔۔۔۔؟وہ سرد آواز میں بولی
” بہت ہی ضروری بات کرنی ہے۔۔۔ اگر فون پر میری بات سن لو گی تو ٹھیک۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ورنہ مجبوراً مجھے تمہارے گھر آنا پڑے گا۔۔۔۔اور ایسا تم کبھی نہیں چاہو گی۔۔۔۔۔ وہ جو سمجھ بیٹھی تھی کہ شائد پیچھا چھوڑ گیا ہے۔دوبارہ سے اسکی آواز سن کر اس کا دل کانپ اٹھا۔۔۔۔۔ماتھے پر پسینے کی ننھی منی بوندیں نمودار ہوئیں۔۔۔۔
آپ کیوں میرے پیچھے پڑ گئے ہیں۔۔میں آپکو صاف انکار کر چکی ہوں پھر بھی آپ باز نہیں آ رہے۔۔لگتا ہے سیلف ریسپیکٹ تو آپ میں ہے ہی نہیں۔۔۔۔اسکی غیرت جگانی چاہی شائد اسطرح پیچھا چھوڑ دے۔۔۔۔۔ “
اگر تم سوچ رہی ہو کہ سیلف ریسپیکٹ کا طعنہ دوگی اور میری غیرت جاگ جائے گی اور میں تمہارا پیچھا چھوڑ دوں گا تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔۔ماحر سکندر خان سے اب تہمارا پیچھا اسوقت تک نہیں چھوٹ سکتا جب تک میں خود نا چاہوں۔۔۔۔۔۔۔۔”
کس قدر گھٹیا ہیں آپ۔.۔کیا چاہتے ہیں آخر آپ۔۔۔وہ زچ ہو کر بولی۔۔۔۔
تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔وہ اطمینان سے بولا
کیا۔۔۔۔اسکی آواز چیخ سے مشابہ تھی۔۔۔۔
کیا ہوا شاک لگا نا۔۔۔۔کوئی بات نہیں میں تمہاری فیلنگز سمجھ سکتا ہوں۔ایک ایسا سپر سٹار جسکے پیچھے دنیا بھر کی لڑکیاں پاگل ہوں۔وہ اچانک سے کسی عام لڑکی کو پرپوز کر دے تو اس کا شاکڈ ہونا تو بنتا ہے نا۔۔۔۔ غرور بھرا لہجہ تھا۔۔خیر شادی میں جلد از جلد کرنا چاہوں گا۔اور فکر مت کرنا اپنی بیوی سے میں موویز میں کام نہیں کرواؤں گا۔۔۔۔حیات کے تو تن بدن میں آگ لگ گئی۔۔۔۔۔۔”
آپ نے کیسے سوچ لیا کہ میں آپ کا پروپوزل ایکسیپٹ کر لوں گی۔۔۔؟؟
کیوں کیا خرابی ہے مجھ میں۔۔۔نام ہے۔پیسہ ہے۔عزت اس نے بظاہر آرام سے کہا مگر اندر شدید توڑ پھوڑ مچ گئی۔۔۔وہ تو خود کو آسمان پر چمکتے ہوئے ستارے کی مانند سمجھتا آیا تھا۔جس کی لوگ خواہش تو کر سکتے تھے۔۔۔۔۔۔مگر اس تک رسائی ممکن نہیں تھی۔وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کوئی لڑکی اسے مسترد کر سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔”
