171.9K
78

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Hayat (Episode 58)

Meri Hayat By Zarish Hussain

ڈائننگ روم کی وسیع و عریض ٹیبل مختلف کھانوں کی اشتہا انگیز خوشبوؤں سے مہک رہی تھی کانٹوں

چھری چمچوں کی کھنک سے فضا گونج رہی تھی یہ پر تکلف ڈنر فائزہ سکندر کے بھائی کی فیملی یعنی فاریہ کے سسرال والوں کیلئے دیا گیا تھا۔فانوسوں کی دودھیا

روشنیوں سے منور ڈائننگ ہال میں سب ڈائننگ ٹیبل کے گرد بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔ خوشگوار ماحول میں کھانا کھاتے ہوئے سب کے درمیان گپ شپ جاری تھی۔۔ماحر بھی آچکا تھا۔۔۔۔ بلو جینز اور ریڈ بلڈ شرٹ میں ملبوس وہ بہت ڈیشنگ و چارمنگ لگ رہا تھا۔۔

حیات عبدالرحمان کی طرح اس پر بھی ہر رنگ جچتا تھا۔۔۔شوخ ہو یا برائٹ دونوں کے و سپید رنگ ہر قسم کے رنگوں میں دمک اٹھتے تھے۔۔۔۔

اسوقت بھی ریڈ بلڈ شرٹ میں اسکا دلکش چہرہ چمک

رہا تھا۔۔سیٹ کیے گئے خوبصورت گھنے۔۔صاف و شفاف

پرکشش وجیہہ پرسنالٹی سمیت وہ پورے ماحول میں

سب سے الگ سب پر چھایا محسوس ہو رہا تھا۔۔ حیات کے دائیں طرف والی چئیر پر بیٹھا ہنستا مسکراتا وہ اصفہان اور احمر سے باتیں کر رہا تھا۔۔۔قریب ہونے کی وجہ سے اسکے لباس سے اٹھتی پرفیوم کی مسحور کن مہک اس کے نتھنوں میں گھسی جا رہی تھی۔۔۔۔

دولت وجاہت اور شہرت اسے فراغ دلی سے عطا کی گئی تھیں۔۔

حیات نے پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔

کئی دلوں کی دھڑکن۔۔۔کئی دلوں کا خواب۔۔۔۔اسکے پہلو

میں براجمان تھا۔۔۔۔۔۔کیا وہ دنیا کی خوش قسمت لڑکی ہے؟؟

اتنا بڑا سپر سٹار اسکا نصیب بن گیا۔۔۔

اس نے اپنے دل کو ٹٹولا۔۔۔۔

کوئی احساس

کوئی جذبہ

دل کی بنجر زمین میں سر نا اٹھا سکا۔مگر نا جانے ایسا

کیا ہوا ماحر کیطرف اٹھنے والی اسکی نگاہ فوری طور پر پلٹ نا سکی۔۔وہ چپکے سے اسے دیکھے جا رہی تھی

بالکل ساتھ بیٹھی فاریہ نے اسکی یہ چوری پکڑ لی۔۔۔۔

ہینڈسم لگ رہے ہیں نا بھائی۔۔؟؟

فاریہ نے اسکے کان میں شوخ و معنی خیز لہجے میں سرگوشی کی تو وہ شرمندہ سی ہو کر اپنی پلیٹ پر جھک گئی۔۔۔

ایسا حسین مرد تو ہر لڑکی کا آئیڈیل ہوتا ہے اگر اسکی

جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو اپنی خوش قسمتی پر ناز

کرتی حیات کو حیرانی ہوئی اسکے روڈلی بی ہیوئیر کا اس پر ذرا اثر نہیں ہوا تھا وہ اسے پا کر بے حد مطمئن و سرشار لگ رہا تھا۔۔اسے غصہ آنے لگا۔ وہ اسے بے چین اور ٹینشن میں مبتلا دیکھنا چاہتی تھی۔۔جس طرح وہ اتنا عرصہ تکلیف میں مبتلا ذہنی طور پر شدید ٹینشن کا شکار رہی تھی اسے بھی بالکل اسی طرح ٹینشن و اضطراب میں گھرا دیکھنا چاہتی تھی۔۔اسکے چہرے کا یہ اطمینان حیات عبدالرحمان کا خون جلا رہا تھا۔۔اس

کی توجہ نا کھانے پر تھی نا ٹیبل پر بیٹھے لوگوں کی باتوں کی طرف۔۔وہ سوچوں میں سر پٹ دوڑ رہی تھی

اسے اس شخص کو بے سکون کرنا تھا۔بے چین کرنا تھا

جس نے ایک لمبے عرصے تک اسکا جینا حرام کیے رکھا

جو اسے حاصل کرنے کے بعد بڑے کروفر سے گردن اکڑائے بیٹھا تھا یہ اسکی غصیلی نظروں کی تپش ہی تھی جو اصفہان کی کسی بات پر ہنسے ہوئے ماحر نے ذرا سی گردن گھما کر اس کی طرف دیکھا،، اور نظریں چار ہونے پر بڑے دلربا انداز میں آنکھ دبائی۔۔

اسکی اس چھچھوری حرکت پر وہ بری طرح سٹپٹا گئی تھی۔۔اگرچہ اسکی یہ حرکت حیات کے علاؤہ کسی نے دیکھی تو نہیں تھی مگر وہ بری طرح خفت کا شکار ہوئی تھی۔اصفہان احمر ابراہیم خان مسز ابراہیم زین عبیر اور لیزا بائیں طرف والی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے جبکہ دائیں طرف والی چئیرز پر حیات کے دائیں بائیں فاریہ اور ماحر تھے۔۔ فائزہ سکندر فاریہ کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھی ہوئی تھیں۔انکے ساتھ ماریہ بھی تھی جبکہ ٹیبل کے سرے پر موجود سربراہ کی کرسی پر سکندر علی خان براجمان تھے۔۔۔۔

’’نئی دلہن ہونیکی حیثیت سے سب کی توجہ کا مرکز حیات تھی جسے بہت خاص پروٹوکول دیا جا رہا تھا۔۔ حیات کو احمر کے رویے پر شدید حیرانی ہو رہی تھی جب سے وہ خان پیلس آئی تھی ایک بار بھی وہ اس کے سامنے نہیں آیا۔۔صرف ریسیپشن والے دن حیات نے اسے دیکھا تھا مگر تب بھی ذرا سی دیر کیلئے سٹیج پر آیا تھا مبارکباد دیتے ہی فوراً چلا گیا تھا۔اب بھی سلام کے علاؤہ اس نے حیات سے کوئی بات نہیں کی تھی۔۔ کھانا کھاتے ہوئے وہ باقی لوگوں سے باتیں کر رہا تھا مگر حیات کے ساتھ اس نے یوں بی ہیو کیا جیسے ذاتی طور پر تو اسے بالکل نہیں جانتا اگر جانتا بھی ہے تو صرف اور صرف کزن کی بیوی ہونے کی حیثیت سے۔۔ حیات جو اس سے اکیلے میں بات کرنے اسکی سٹوری جاننے کا تجسس لئیے بیٹھی تھی کہ آخر وہ ان لوگوں کا رشتہ دار کیسے نکل آیا اسکی اس لاتعلقی سے بددل ہو کر کبھی بھی اس سے مخاطب نا ہونے کا ارادہ کر لیا

تھا اس نے۔ عین اسکے سامنے والی چئیر پر بیٹھا ماحر کے ساتھ وہ خوش گپیوں میں مگن تھا اس نے ایک بار بھی اسکی طرف نہیں دیکھا تھا حیات کو اسکے رویے پر افسوس بھی ہوا اور غصہ بھی آیا۔۔۔۔۔۔

ہاں بھئی کس جگہ جا رہے ہو تم لوگ ہنی مون کیلئے؟؟

مٹن بریانی سے بھرپور انصاف کرتی مسز ابراہیم نے

اسکے اور حیات کی طرف دیکھتے ہوئے اچانک پوچھا تھا۔۔۔

’’۔۔لفظ ہنی مون پر شامی کباب کا پیس حیات کے حلق میں پھنستے پھںنستے رہ گیا تھا۔۔۔پانی کا گلاس اٹھا کر اس نے فوراً گھونٹ لیا تھا۔۔۔

جبکہ چکن فرائیڈ رائس سے چکن فورک میں پھنسائے منہ کی طرف جاتا ماحر کا ہاتھ بھی ممانی جان کی اس بات پر رک گیا تھا۔ نگاہ بے ساختہ پہلو میں بیٹھی حیات کی جانب اٹھی ۔۔۔۔۔۔۔ فیروزی و ریڈ امتزاج کے اسٹائلش سے سوٹ میں اسکی گلابی مائل سفید رنگت کھل رہی تھی۔۔۔۔۔ چمکتی نیلی آنکھیں ان پر سایہ فگن دراز پلکوں کی چلمن ستواں ناک لائٹ کلر لپ اسٹک سے رنگے گلابی یاقوتی لب۔۔ جنکو اضطراری کیفیت

میں وہ دانتوں سے کچل رہی تھی۔۔اسک پرکشش سادہ چہرے پر بلا کی معصومیت تھی۔۔۔۔۔۔ شوخی نازو ادا اسمیں بالکل نہیں تھی۔۔ جو عموماً اس عمر کی لڑکیوں میں پائی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی یہی معصومیت یہی دلکشی تو اسے اسیر بنا گئی تھی۔

ایک بھرپور گہری نگاہ اسکے حسین چہرے و سراپے پر ڈال کر وہ ممانی کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔۔۔

ابھی تو ڈیسائیڈ نہیں کیا ممانی جان۔۔۔ ایکچولی کچھ شوٹنگز رہتی ہیں وہ کمپلیٹ کروا لوں تو پھر دیکھیں گے کہ کہاں جانا ہے۔۔۔۔۔۔ لاپروا سے انداز میں کہہ کر وہ سامنے رکھی پلیٹ کی طرف متوجہ ہو گیا۔۔۔ساتھ ہی

کن انکھیوں سے اسکی طرف دیکھا جو کھا نہیں رہی تھی بریانی کی پلیٹ میں صرف چمچ چلا رہی تھی۔۔۔

بھئی جلدی جلدی ہنی مون ٹور پلین کرو۔۔۔۔۔۔شوٹنگز تو بعد میں کمپلیٹ ہوتی رہیں گی۔۔۔ یہی تو دن ہوتے ہیں

گھومنے پھرنے کے۔۔۔۔۔۔ ابراہیم خان نے بھی گفتگو میں حصہ لیا۔۔

جی ماموں۔۔۔۔۔وہ سر جھکا کر صرف اتنا ہی کہہ سکا۔۔۔ کیونکہ حقیقت میں اسکے اور حیات کے بیچ جسطرح کے حالات چل رہے تھے اسمیں ہنی مون جیسے حسین پیریڈ کے بارے میں سوچنا بھی حماقت تھی۔۔۔ اور یہ بات وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ ہنی مون کیلئے وہ کبھی بھی راضی نہیں ہونے والی تھی۔۔۔۔

یار تم لوگ جلدی سے کنٹری ڈیسائیڈ کرو ٹکٹس تو ہم دونوں کی طرف سے ہونگے نا۔۔۔۔۔ اصفہان نے اپنے اور فاریہ کی طرف اشارہ کر کے یاددہانی کروائی۔۔۔۔۔

ہنی مون کے ٹکٹس وہ دونوں انکو بطور شادی کا تحفہ دینا چاہ رہے تھے۔۔مگر جگہ کا انتخاب ان پر چھوڑا گیا تھا کہ وہ اور حیات جو بھی کنٹری سلیکٹ کریں گے ٹکٹس فاریہ اور اصفہان ہی گفٹ کریں گے۔۔۔

اوکے جلد ہی ڈیسائیڈ کرتے ہیں۔۔۔۔ مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر اس نے کہا تھا۔۔۔۔

ارے واہ اصفہان بھائی ہمارے ٹائم تو یہ آفر نہیں کی تھی آپ نے۔۔۔عبیر نے شکوہ کیا۔۔۔

تمہارے ٹائم ممی پاپا نے جو یورپ ٹرپ کے ٹکٹس دے

دئیے تھے پھر میری گنجائش رہتی تھی۔۔۔۔۔؟؟

اصفہان نے مصنوعی گھورتے ہوئے یاد دلایا۔۔۔

وہ تو ماموں ممانی کی طرف سے تھے۔۔۔۔ آپ بھی دے دیتے کسی اور کنٹری کے ہم دو بار منا لیتے ہنی مون کیوں لیزا۔۔۔؟؟

تنگ سی سلیو لیس شرٹ اور جینز پہنے۔۔۔۔۔۔ ٹنوں کے حساب سے چہرے پر میک اپ تھوپے بیٹھی لیزا کی طرف دیکھ کر اس نے ہلکا سا مسکراتے ہوئے تائید چاہی تھی جواب میں وہ نخوت بھرے انداز میں سر جھٹک کر رہ گئی۔۔۔

اسکے اس انداز پر عبیر کے چہرے پر خجالت سی بکھر گئی۔۔۔

اسکے اور لیزا کے درمیان کچھ عرصے سے سرد جنگ

چل رہی تھی۔مگر فیملی کو پتہ نا چلے اسلئیے وہ سب کے سامنے اس سے مسکرا کر نارمل لہجے میں بات کرتا تھا۔۔۔

فائزہ سکندر نے ان دونوں کو بغور دیکھا۔۔۔۔۔

دو بار کیا ان دو سالوں میں تم دونوں کوئی پچاس بار

تو منا چکے ہو ہنی مون۔۔۔۔۔ ہر منتھ کبھی پیرس کبھی سڈنی کبھی لندن کبھی سوئٹزر لینڈ پوری دنیا گھوم چکے ہو۔۔۔ابھی کیا کسر رہتی ہے جو شکوہ ہے تم لوگوں کو۔۔۔۔۔۔انہوں نے سنجیدگی سے عبیر کی طرف دیکھا

حقیقت میں جب سے عبیر کی شادی ہوئی تھی کمانے سے زیادہ وہ اور لیزا آئے دن کے ٹورز پر اڑانے میں لگے

ہوئے تھے۔۔۔ انہوں نے پہلے بھی ایک دو بار عبیر کو یہ

بات سمجھانے کی کوشش کی تھی مگر ماں کی بات ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتا تھا وہ’

یہی تو عمر ہوتی ہے گھومنے پھرنے کی آنٹی۔اور مجھے تو کریز ہے گھومنے پھرنے کا شادی سے پہلے بھی ایسے ہی گھومتی رہتی تھی۔۔۔میرے مام ڈیڈ نے مجھے کبھی نہیں روکا۔۔۔۔ جب اللّٰہ نے دولت دی ہو تو انسان کیوں نا اپنی خواہشات پوری کرے۔۔۔۔۔۔ لیزا نے بظاہر مسکرا کر مگر خاصا جتا کر نخوت بھرے لہجے میں کہا تھا۔۔۔

ایگزیکٹلی بھابھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر پیسہ ہو تو انسان کو اپنی خواہشات لازمی پوری کرنی چاہیں۔۔۔۔۔۔۔ مگر خواہشات

پورا کرنے کے چکر میں بالکل اڑا بھی نہیں دینا چاہیے سنبھل کر ہی استعمال کرنا چاہیے کیونکہ برا وقت آتے

بھی دیر نہیں لگتی۔یار عبیر تم تو سمجھدار ہو بھابھی

میں اگر اتنی میچورٹی نہیں ہے تو تم سمجھایا کرو۔۔۔۔

یہ بات اصفہان کی طرف سے کہی گئی تھی۔۔۔۔

بالکل صحیح کہہ رہے اصفی۔۔۔۔فاریہ نے بھی تائید کی

لیزا دانت کچکچا کر رہ گئی مگر کچھ کہا نہیں۔۔۔

کب سے خاموشی سے گفتگو سنتی زین کی بیوی ماریہ بھی بول پڑی۔۔۔

ہمارے ٹائم تو کسی نے کوئی خاص مہنگے گفٹس نہیں دیے تھے جبکہ ماحر بھائی کو تو جو کم سے کم مالیت

کا بھی گفٹ ملا اسکی قیمت بھی لاکھ سے کم نہیں۔۔

اسکا لہجہ رشک و حسد سے بھرپور تھا۔۔۔

’’حیات کو ان دونوں سے زیادہ وی آئی پی پروٹوکول ملا تھا سسرال میں اوپر سے ملنے والے مہنگے مہنگے گفٹس دیکھ کر ماریہ اور لیزا دونوں کو جلن سی ہو رہی تھی فاریہ کے سسر ابراہیم خان نے پچاس لاکھ کا چیک بطور سلامی اسکے ہاتھ میں پکڑایا تھا۔۔۔۔۔۔ جبکہ انکی مسز نے ڈائمنڈ کے ائیر رنگز گفٹ کیے تھے۔۔۔۔۔احمر نے پانچ لاکھ مالیت کا ایک پرفیوم سیٹ گفٹ کیا تھا۔ شادی میں انہیں جتنے بھی گفٹس ملے سب لاکھوں مالیت کے تھے۔۔ ایک فلم ڈائریکٹر جو کہ ماحر کا قریبی دوست بھی تھا اس نے ایک کروڑ مالیت کی فراری گفٹ کی تھی۔۔۔۔ اسکے علاؤہ ماحر کے کئی غیر ملکی دوست جو ولیمہ میں شرکت تو نہیں کر سکے لیکن ان سب کی طرف سے شادی کے قیمتی تحفے ضرور آئے تھے۔۔۔۔۔

اب ماریہ کی حاسدانہ لہجے میں کہی گئی اس بات کو کسی نے محسوس کیا یا نہیں لیکن فاریہ نے ضرور کیا

چمچ پلیٹ میں رکھتی وہ پوری کی پوری ماریہ کی طرف متوجہ ہوئی۔۔۔

وہ اس لئیے کہ ماحر بھائی سپر سٹار ہیں ہماری ساری

فیملی انہی کی وجہ سے ہی جانی جاتی ہے۔۔۔صبح آپ

نے دیکھا تھا نا کس طرح ہزاروں کی تعداد میں بھائی

کے فینز انکی شادی کی مبارکباد دینے گفٹس اور بکے

لئیے ہمارے گلیکسی ہاؤس کے باہر جمع تھے۔۔۔ایک سپر سٹار کی شادی پر ایسے ہی مہنگے گفٹس آتے ہیں۔۔۔آپ

کی اور زین بھائی کی شادی پر زیادہ تر ماحر بھائی کے جاننے والوں کی طرف سے ہی گفٹس ملے تھے۔۔۔۔

اسکا انداز جتاتا ہوا تھا۔۔۔ماریہ وہ منہ بنا کر اپنی پلیٹ پر جھک گئی۔۔

بھئی کسی کو کمپلیکس میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں جس کو جو پسند آئے وہ جا کر گفٹ روم سے لے سکتا ہے۔۔۔انکی بحث سنتے ماحر نے شاہانہ انداز میں آفر کی مگر فائزہ سکندر نے فوراً ہی اسے ٹوک دیا۔۔۔

ہرگز نہیں۔۔۔۔وہ تمام گفٹس حیا اور تمہارے ہیں۔۔۔کوئی

گفٹ روم میں جا کر کسی گفٹ کو ہاتھ نہیں لگائے گا۔

اور تم لوگ اپنے بھائی بھابھی سے حسد کیوں کر رہے تم لوگوں کی شادیوں پر تمہاری بیویوں کو کم مہنگے گفٹس نہیں ملے تھے ہم سب کی طرف سے۔۔ماحر نے تم دونوں کو دس دس کروڑ مالیت کی مرسڈیز اور تمہاری بیویوں کو پانچ پانچ کروڑ کے ڈائمنڈ کے سیٹ گفٹ کیے تھے۔۔۔

انہوں نے لیزا اور ماریہ کو سناتے ہوئے بظاہر عبیر اور زین سے قدرے سخت لہجے میں کہا۔۔۔

میں نے تو کچھ نہیں کہا مام۔۔۔۔ زین نے احتجاج کیا

میں تو مذاق کر رہا تھا سوری مام۔ عبیر شرمندہ ہو گیا

اٹس اوکے مام۔۔۔۔۔ یہ سب مذاق کر رہے ماحر نے مسکرا کر عبیر کی شرمندگی اور ماحول کی کشیدگی دور کرنا چاہی۔۔۔۔

سکندر علی خان کی طرح ابراہیم خان بھی کافی دیر سے خاموش بیٹھے سب کی گفتگو سن رہے۔اچانک اکتا کر بول اٹھے۔۔۔۔

ارے بھئی بچو اس بحث کو چھوڑو۔۔۔۔۔ ہم حمزہ(فاریہ اصفہان کا بیٹا) کا عقیقہ کرنے کا سوچ رہے۔۔آپ سب کو امریکہ آنا ہوگا۔۔۔۔۔۔ اور اسپشلی ہماری نئی بہو حیا کو

تو لازمی آنا ہوگا۔۔آؤ گی نا بیٹا۔؟؟ ان کے انداز میں بڑی

اپنائیت تھی ایسی ہی جیسے کسی باپ کے لہجے میں اپنے بچوں کیلئے ہوتی ہے۔۔۔۔ جیسے سکندر علی خان کا انداز اسکے ساتھ مشفقانہ ہوتا تھا ویسے ہی ان کا بھی تھا۔۔ابراہیم خان بطور خاص اس سے پوچھ رہے تھے۔۔۔

جی پتہ نہیں۔ایکچولی مجھے یونیورسٹی جوائن کرنی ہے تو شائد۔لہجے میں بھرپور اعتماد لاتے اس نے سلیقے سے انکار کرنا چاہا۔۔۔۔۔

یہ کیا بات ہوئی بیٹا آپ چند دنوں کیلئے یونیورسٹی سے چھٹی لے لیجئے گا۔۔مسز ابراہیم نے نرمی سے کہا

جی بھابھی آپکو بھائی کے ساتھ ہمارے گھر لازمی آنا

ہوگا۔۔۔ اور اگر آپ نا آئیں تو میں پکا آپ سے ناراض ہو جاؤں گی۔۔۔ فاریہ نے حکمیہ انداز میں کہا۔۔

’’کیوں نہیں بیٹا تمہاری بھابھی ضرور آئے گی بلکہ ہم

سب آئیں گے مگر فلحال ایک مہینے تک تو میں بہت بزی رہوں گا کیونکہ کچھ نئے پراجیکٹس شروع کیے ہیں تو اسی سلسلے میں۔۔ماحر کے پاس تو بزنس کیلئے ٹائم نہیں مگر عبیر اور زین میرے ساتھ بزی رہیں گے۔تب تک یہ نیو میرڈ کپل بھی گھوم پھر آئے تو انشاءاللّٰہ اسکے بعد ہم سب اکھٹے آئیں گے اپنے لٹل پرنس کے عقیقہ پر۔۔۔

سکندر علی خان علی نے مسکرا کر کہا تھا۔۔۔۔

ٹھیک ہے سکندر بھائی۔۔۔۔۔ جیسے ہی آپکی مصروفیات کچھ کم ہوں تو ہمیں بتا دیجئے گا پھر اسی مناسبت سے عقیقہ کی ڈیٹ ڈیسائیڈ کریں گے۔۔۔۔

ابراہیم خان نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔۔۔

’’وہ سب ابھی کھانا کھا رہے تھے۔ جب ملازمہ نے فاریہ کے بیٹے کے رونے کی اطلاع دی۔۔۔۔ فاریہ اٹھی تو حیات بھی سب سے ایکسکیوز کرتی اسکے ساتھ بیڈروم میں چلی آئی۔۔ جہاں بے بی کاٹ میں لیٹا ننھا حمزہ رو رہا تھا۔۔ وہ بہت کیوٹ تھا مگر ابھی کافی چھوٹا بھی تھا۔حیات کو ہمیشہ سے صرف کیوٹ بچے ہی اٹریکٹ کرتے تھے حمزہ کو پہلی نظر میں ہی دیکھ کر ہی اسکا پیار کرنے کو جی چاہا تھا۔۔کچھ دیر وہ وہیں حمزہ کو گود

میں لئیے فاریہ سے باتیں کرتی رہی پھر وہ دونوں باہر

آ گئیں۔۔۔۔۔کھانے کے بعد وہ سب لیونگ روم میں بیٹھے

گرین ٹی پی رہے تھے۔۔وہ دونوں وہیں آئیں۔۔۔حمزہ کو

حیات کی گود میں دیکھ کر اصفہان نے ساتھ بیٹھے

ماحر کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔۔

لگتا ہے تمہاری بیوی کو بچوں کا بہت شوق ہے۔۔ دیکھنا

جلد ہی تمہیں پاپا بننے کی خوشخبری ملے گی۔۔۔ جواب

میں وہ پھیکا سا ہنس دیا تھا۔۔ ساڑھے بارہ بجے ابراہیم خان کی فیملی ائیرپورٹ کیلئے روانہ ہوئی۔۔چار گاڑیاں انہیں چھوڑنے کیلئے آگے پیچھے روانہ ہوئیں ۔۔جن میں ماحر زین اور عبیر تھے۔ حیات ان سے ملنے کے بعد اپنے کمرے میں آ گئی تھی۔جاتے وقت اصفہان کی طرح جب احمر نے بھی خدا حافظ بھابھی کہا تو اسے احمر کے منہ سے لفظ بھابھی بہت عجیب لگا۔۔۔

جاتے وقت سب لوگ بہت محبت سے ملے تھے۔فاریہ کی کہی گئی تمام باتیں اسکے ذہن میں گھوم رہی تھیں۔۔۔۔

وہ بڑی محبت و اپنائیت سے اس سے گلے مل کر اسکے رخسار چوم کر گئی تھی۔۔۔تھکن اور بے خوابی کی وجہ سے وہ تمام سوچوں کو ذہن سے جھٹکتی سونے کیلئے لیٹ گئی۔کچھ ہی دیر میں وہ گہری نیند سو رہی تھی وہ کب ائیرپورٹ سے واپس آیا۔۔۔۔۔ کب سویا اسے کچھ خبر نہیں ہوئی۔۔۔ صبح جب وہ نماز کیلئے اٹھی تو اسے صوفے پر سوتا پایا۔۔ ناشتے کے بعد اس نے فائزہ سکندر سے فارس بھائی کے گھر جانے کی بات کی تو انہوں نے ماحر کو حکم دیا کہ وہ اسے اسکے میکے چھوڑ آئے۔۔۔۔پورا دن بھائی بھابھی کے ساتھ گزار کر وہ شام کو خان پیلس واپس آ گئی تھی۔۔۔۔ کیونکہ اسے لینے ماحر نہیں بلکہ اسکے پیرنٹس گئے تھے۔۔۔۔ اگر وہ اسے لینے جاتا تو حیات کا پکا ارادہ تھا کہ یہاں اپنے مزید رکنے کا کہہ کر اسے خالی ہاتھ واپس بھیجنے کا۔۔۔۔۔ شائد ان لوگوں کو بھی یہی خدشہ تھا تبھی اسکی جگہ اسکے پیرنٹس خود گئے تھے اسے لینے۔۔۔

سکندر علی خان اور انکی مسز سے وہ کبھی بداخلاقی سے پیش نہیں آ سکتی تھی کیونکہ ایک تو وہ اس کے بابا کی ایج کے تھے دوسرا اسکی تربیت بھی ایسی نہیں تھی کہ وہ بڑوں سے مس بی ہیو کرتی۔۔۔ اور پھر قصور وار تو ماحر تھا۔ انکا بیٹا۔۔۔ جسے وہ کبھی خاطر میں نا لانے کا ارادہ کر چکی تھی۔۔۔۔

’’ دن یونہی گزرنے لگے۔ ماحر کے ساتھ اسکا رویہ حاصا نخوت بھرا ہوتا تھا۔۔ ڈنر کے وقت تو وہ بادل ناخواستہ اسکے ساتھ کھانے کی میز پر بیٹھ جاتی تھی کیونکہ سب گھر والے موجود ہوتے تھے مگر اکیلے میں اس کے ساتھ بیٹھ کر وہ چائے کا ایک کپ پینے کی بھی روا دار نہیں تھی۔۔ ماحر نے کافی کوشش کی اس کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کرنے کی مگر حیات کے سخت رویے کے آگے اس کی کوئی بھی کوشش کامیاب نا ہو سکی۔۔پھر اسکی بھی انا آڑے آ گئی۔۔۔۔ اسکے اس اکھڑ خشک و سرد، تند و ترش رویے سے مایوس ہو کر اس نے اپنے آپ کو کام میں مصروف کر لیا تھا۔۔۔سارا دن وہ شوٹنگز ریکارڈنگز وغیرہ میں بزی رہتا۔۔۔۔۔ رات کو لیٹ واپس آتا تو وہ سکون سے بیڈ پر سو رہی ہوتی۔۔۔ ایک حسرت بھری نگاہ اس پر ڈال کر وہ چپ چاپ صوفے پر جا کر لیٹ جاتا۔۔وہ عموماً جب نماز کیلئے اٹھتی تب ہی اس پر اسکی نظر پڑتی۔۔ایک تنفر بھری نگاہ اس پر ڈال کر وہ نماز قرآن میں مصروف ہو جاتی۔۔۔۔ لیکن یہ بات کبھی اسکے دماغ میں نہیں آئی یا اس نے سوچنے کی

زحمت ہی نہیں کی کبھی کہ جب تک شوہر راضی نا ہو عورت کی عبادت قبول نہیں ہوتی۔۔۔۔۔

اسے کوئی پروا نہیں تھی۔۔ اسکی بلا سے چاہے دن رات گھر سے باہر رہے کمرے میں آئے یا نا آئے۔۔۔۔ اسکے ساتھ مخاطب ہو نا ہو۔۔۔۔ اسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ اسکے ذہن میں تو صرف ایک ہی بات چلتی رہتی تھی کہ اسے اس آدمی کو منہ نہیں لگانا۔۔۔۔۔

اگنور کر کے اسکا غرور توڑنا ہے۔۔۔

اسکی تمام زیادتیوں کا بدلہ لینا ہے۔۔۔

اگر اس سے مخاطب ہونے کی کوشش کرے تو سخت لفظوں کے تیر چلا کر مینٹلی ٹارچر کرنا ہے۔۔۔

’’اسکے گھر والوں کے ساتھ بھی وہ ابھی تک اجنبیت بھرا رویہ اپنائے ہوئے تھی۔۔۔۔بالکل مہمانوں کی طرح رہ رہی تھی۔۔۔۔البتہ فائزہ سکندر اسکے روکھے لاتعلق انداز کو خاطر میں لائے بنا اس پر ممتا نچھاور کر رہی تھیں ساس کی اس بہو کے ساتھ اسقدر محبت و الفت دیکھ کر عبیر اور زین کی بیویاں حسد کا شکار ہونے لگی تھیں۔۔۔۔۔ زین کی بیوی کی نسبت عبیر کی بیوی زیادہ حسد و رقابت میں مبتلا ہو گئی تھی۔ اسکی ایک وجہ تو حیات کا بے پناہ حسن اور دوسری وجہ ساس سسر کا اس بہو کی جانب زیادہ جھکاؤ اور اسے ملنے والی اہمیت تھی۔۔۔۔۔ تبھی وہ دبے دبے انداز میں حیات کی سادگی اسکے حلیے و مہذبانہ ڈریسنگ پر تنقید کرنے لگی تھی۔۔ حیات کو دو تین بار محسوس تو ہوئے اسکے چند کاٹ دار جملے مگر وہ اگنور کر گئی۔۔۔۔

شادی کو تین ہفتے گزر چکے تھے مگر دونوں کے درمیان اجنبیت ویسی کی ویس تھی۔۔۔۔ اس اجنبیت کو برقرار رکھنے میں سارا عمل دخل حیات کا تھا کیونکہ اس کا ترش و تند رویہ دیکھ کر وہ بہت کم اس سے مخاطب ہوتا تھا۔۔ مگر جب کبھی کھانے کی ٹیبل پر اسکے ساتھ بیٹھتا تو گھر والوں کے سامنے اسکے ساتھ بے تکلفی کا مظاہرہ کرتا ہنسے مسکراتے بات کرتا۔۔محبت بھرے انداز میں اصرار کر کے ڈشز پیش کرتا۔اسکی پلیٹ میں کھانا ڈالتا گویا دونوں میں بہت پیار ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ سب کے سامنے لگاوٹ کا مظاہرہ کرتا۔۔۔۔۔ جبکہ وہ بری طرح جز بز ہوتے ہوئے اسکے فدا ہونے والے ناز و انداز برداشت کرتی۔۔۔۔

’’اگرچہ دونوں کے بیچ کی سٹوری صرف سکندر علی خان فائزہ سکندر اور فاریہ کو ہی معلوم تھی۔۔۔ فائزہ سکندر نے اپنے دونوں چھوٹے بیٹوں سے بھی یہ سب باتیں چھپائی تھیں کہ کہیں انکے بیٹوں کے ذریعے یہ باتیں انکی بیویوں کو اور پھر بیویوں کے تھرو گھر سے باہر نا نکل جائیں۔۔سب کو یہی کہا گیا کہ ماحر اور حیا کی ملاقات کسی پارٹی میں ہوئی پھر دوستی اور اینڈ پر شادی رچا لی دونوں نے۔۔۔

جیسا کہ عموماً شوبز ستاروں میں ہوتا ہے۔۔

کسی پارٹی میں ملاقات ہوئی۔۔۔۔پہلے دوستی۔۔۔ پھر یہ دوستی محبت میں بدلتی ہے اور اینڈ پر شادی کر لیتے

ہیں۔۔۔۔سو فلمسٹار ماحر خان اور حیات عبدالرحمٰن کی

لو سٹوری بھی ایسی ہی تھی۔۔۔

سنو۔۔۔میرے ساتھ ایک ٹی وی شو میں چلو گی۔۔۔۔۔اس رات وہ جلدی گھر آ گیا تھا۔۔صوفے پر بیٹھتے ہوئے جب

وہ اپنے جوتے اتار رہا تھا تب اس نے یہ بات کہی تھی۔۔

میگزین پڑھتی حیات نے چونک کر اسکی طرف دیکھا

وہ نہایت سنجیدگی سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا۔۔

کیوں میں کیوں چلوں کسی ٹی وی شو میں۔۔۔؟؟پل میں ہی اسکی پیشانی پر شکنوں کا جال ابھرا تھا

خوبصورت تیکھے نقوش تن سے گئے تھے۔۔۔۔۔

’’ ماحر نے ٹیوب لائٹس کی تیز روشنی میں اسکا جگمگاتا غصیلہ چہرہ دیکھا تھا۔۔٬٬

کیونکہ میں ایک فلمسٹار ہوں ان ٹی وی شوز میں اکثر جاتا رہتا ہوں اور ہمیں جانا ہی پڑتا ہے۔۔ کیونکہ یہ شوز ہی ہماری فلموں کی پرموشن میں کام آتے ہیں۔۔۔ اب تم ایک فلمسٹار کی بیوی ہو۔میرے ساتھ ساتھ تمہارا بھی انویٹشن آیا ہے۔۔چلنا چاہو تو تمہاری مرضی ورنہ میری طرف سے کوئی زور زبردستی نہیں۔۔۔وہ عام سے لہجے میں بات ختم کر کے اپنی جگہ پر لیٹ گیا تھا۔۔۔

زبردستی تو اب آپ کسی بھی معاملے میں میرے ساتھ نہیں کر سکتے۔۔۔ایک شادی والی زبردستی کو ہی کافی سمجھئیے لیکن اب اگر کسی معاملے میں میری مرضی کے خلاف مجھے مجبور کیا تو آپکی زندگی جہنم بنا دونگی۔۔۔۔۔ وہ پھنکاری تھی۔۔۔۔ ماحر ہنس دیا

جہنم کا ڈر نہیں سویٹ ہارٹ کیونکہ جس دن تم میری زندگی میں داخل ہوئی تھی میری زندگی تو اسی دن ہی جنت بن گئی تھی۔۔۔ اب تو صرف کوشش کروں گا۔۔ قسمت آزماؤں گا۔۔ مجھے یقین ہے ایک دن ہر لڑکی کی

طرح تمہیں بھی مجھ سے محبت ہو جائے گی۔جس دن

تمہارے ان خوبصورت ہونٹوں سے میرے لئیے محبت کا

اقرار ہوگا۔۔وہ دن میری فتح کا ہوگا۔۔۔۔خیر فتح تو میں

تمہیں کر چکا ہوں۔۔۔دیکھ لو۔۔۔میری فلم کیلئے انکار کیا

میری گرل فرینڈ بننے کو بھی راضی نہیں ہوئی۔۔۔ میرا

شادی کا پرپوزل ریجیکٹ کیا۔۔۔۔۔ وہ بھی یہ کہہ کر کہ نیک مردوں کے لئیے نیک عورتیں اور برے مردوں کیلئے بری عورتیں ہوتی ہیں۔۔۔میں نے زندگی میں بہت ساری

غلطیاں کی ہونگی مگر اتنی گنہگار بھی نہیں ہوں کہ

میری زندگی میں تم جیسا مرد آئے۔۔۔۔۔ یہی کہا تھا نا

تم نے۔۔۔ ؟؟ آج دیکھ لو۔۔۔۔۔۔ تمہیں گرل فرینڈ بھی بنایا

اپنی فلم میں کام بھی کروایا۔۔۔۔ بیوی بھی بنا لیا۔۔۔۔۔

اسکے حسین چہرے کو محبت پاش نظروں سے دیکھتے

ہوئے اس نے چڑایا تھا۔۔۔۔۔۔ گہری مغرور آنکھوں میں بے تحاشا چمک تھی۔۔۔۔لبوں پر استہزائیہ مسکراہٹ تھی۔۔

وہ بل کھا کر رہ گئی۔۔۔۔

کب بنی میں آپکی گرل فرینڈ۔؟؟ غصیلے تیز لہجے میں پوچھا تھا۔۔۔۔

وہ شارٹ پیریڈ یاد کرو جب میرا پرپوزل ایکسیپٹ کیا تھا تم نے۔۔۔میری محبت میں مبتلا ہوئی تھیں تم۔۔۔ ہم

نکاح کرنے والے تھے۔۔۔ اکٹھے نکاح کی شاپنگ کرنے گئے تھے۔۔ جانتی ہو اس وقت ہمارے درمیان کیا رشتہ تھا؟

لبوں پر شرارتی مسکان لئیے ماحر نے اس کی طرف دیکھا جو اسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہی تھی۔۔۔۔

گرل فرینڈ بوائے فرینڈ والا رشتہ تھا ہمارے درمیان۔۔۔مائی ڈئیر وائف اینڈ مائی ایکس گرل فرینڈ۔۔۔۔

وہ تپانے چڑانے والے انداز میں بولا۔ حیات عبدالرحمان

کے غصیلے تاثرات اسے مزا دے رہے تھے۔۔اسے تپا کر وہ

حظ اٹھا رہا تھا۔

وہ غصے سے دیکھ رہی تھی۔۔۔ اسکی پرسنالٹی ہر سو چھائی ہوئی تھی بلا کا اعتماد اور آسودگی تھی اسکے چہرے پر۔۔

یہ خوش فہمی اپنے دماغ سے نکال دیں کہ میں کبھی

آپ سے محبت کروں گی۔۔۔۔۔۔۔ بڑا گھمنڈ ہے اپنی دولت شہرت اور پرسنالٹی پر۔۔۔۔۔۔ آپکو لگتا ہے ہر لڑکی آپ پر مرتی ہے میں یقین کے ساتھ کہتی ہوں میرے جیسی بہت سی لڑکیاں ہونگی جو آپ جیسے فلمسٹار کو ڈس

لائک کرتی ہونگی۔کیونکہ ضروری نہیں ہر چیز ہر کسی

کو پسند آئے۔۔جسطرح آپکے بہت سارے فینز ہیں بالکل

اسی طرح آپ کو ناپسند کرنے والوں کی بھی خاصی

تعداد ہوگی۔۔۔ ایک ایکٹر ہر لڑکی کا فیورٹ نہیں ہوتا

آپکی طرح کے انڈین سپر سٹارز بھی ہیں نا انکے بھی

لاکھوں کروڑوں فینز ہیں مگر لوگوں کی ایک بڑی تعداد

انہیں ناپسند بھی کرتی ہے۔۔

یعنی کہ تم یہ کہنا چاہتی ہو کہ تم مجھے ناپسند کرتی ہو۔۔۔۔؟؟اس نے ایسے مسکرا کر پوچھا جیسے اپنے نہیں کسی اور کے متعلق پوچھ رہا ہو۔۔۔

یہ بات آپ کو میرا رویہ دیکھ کر سمجھ نہیں آئی کیا۔۔

حیات نے طنزیہ انداز میں کہا۔۔۔۔۔

وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ لائٹ آن کر کے اسکی طرف دیکھنے لگا۔۔۔

تمہارے رویے سے تو لگتا ہے تمہیں مجھ پر صرف غصہ ہے۔۔۔۔ نفرت ناپسندیدگی کا غصے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا کیونکہ غصہ تو کبھی نا کبھی اتر جاتا ہے جبکہ ناپسندیدگی اور نفرت کبھی ختم نہیں ہوتیں۔سو اسکا مطلب ہے تم مجھ سے صرف ناراض ہو خیر دیکھنا جلد منا لوں گا تمہیں پھر یہ دوریاں یہ فاصلے بھی جلد ہی مٹ جائیں گی۔۔۔

تم میری بانہوں میں میری پناہوں میں ہوگی۔۔۔۔

گھمبیر بھاری لہجے میں پیار بھری اپنائیت تھی۔۔۔۔۔

حیات کے چہرے پر غصے کی سرخی چھا گئی۔۔

ہونہہ مائی فٹ۔۔۔ خود کو تسلیاں دیتے رہیں۔۔۔

کیا سمجھتے ہیں آپ۔۔۔۔ میں آپکی ان گھٹیا تھرڈ کلاس باتوں کو برداشت کرتی رہوں گی۔۔ ہرگز نہیں۔۔۔ کل میں

چلی جاؤں گی اپنے بھائی کے پاس اور پھر واپس نہیں آؤں گی۔۔۔ دنیا آپکو سپرسٹار ہونے کے ناطے چاہے جتنی بھی اہمیت دے۔۔۔۔۔ لیکن میرے نزدیک آپکی اہمیت رتی برابر بھی نہیں ہوگی۔۔۔باقی دنیا کیلئے ہونگے آپ ہیرو۔۔لیکن میرے نزدیک آپ جیسے ناچنے گانے والے ہیرو نہیں زیرو ہوتے ہیں۔ اصل ہیروز تو وہ ہوتے ہیں جنہوں نے کوئی تاریخی کارنامہ سر انجام دیا ہو۔۔جیسے محمد بن قاسم سلطان محمود غزنوی اور ان جیسے ناجانے کتنے ہی بہادر اسلام کے سپہ سالار تھے جنہوں نے دین

حق کیلئے جنگیں لڑیں۔۔۔۔ فاتح غازی قرار پائے وہ سب ہیں اصلی ہیروز۔۔ چہرے پر میک اپ تھوپ کر سکرین پر ناچنے گانے جھوٹ موٹ کی لڑائی میں فتح حاصل کرنے والے اداکاروں کو ناجانے کیوں یہ بیوقوف دنیا والے ہیروز قرار دے دیتے ہیں۔۔حالانکہ ایسے لوگوں کو ہیروز کے بجائے نوٹنکی یا مراثی کا نام دینا چاہیے۔۔۔

انداز میں تمسخر تھا۔۔۔ ایک ایک لفظ زہر میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔ کاٹ دار طنز آنکھوں میں حقارت کا عنصر نمایاں تھا۔۔

وہ جو اسکے اس تاریخی لیکچر پر آنکھیں پھاڑے اسے

دیکھ رہا تھا اسکی بات ختم ہونے پر اسکا فلک شگاف قہقہہ بلند ہوا تھا۔۔۔۔

مائی گاڈ۔۔۔ تمہیں تو کسی یونیورسٹی کی لیکچرر ہونا

چاہیے بڑا ہی خوبصورت لیکچر دیتی ہو۔۔۔۔ وہ مسلسل ہنستا رہا۔۔۔اسکی ہنسی حیات کا مذاق اڑا رہی تھی۔

حیات کے چہرے پر خجالت بھری سرخی چھا گئی۔۔۔

وہ انتہائی ناگواری سے اسے ہنستا دیکھ کر دل ہی دل میں کوسنے لگی۔۔۔۔۔ زہر لگ رہی تھی حیات کو اسکی ہنسی مگر وہ چاہ کر بھی اسے چپ نہیں کروا سکتی

تھی۔۔۔

کچھ دیر ہنسنے کے بعد پھر بولا۔۔۔

ویسے تمہاری بات بھی بالکل ٹھیک ہے یار مگر ہم فلمی ہیروز ہیں عوام کو پردے پر انٹرٹین کرتے ہیں جبکہ وہ تاریخی ہیروز تھے ہم انکا مقابلہ تھوڑی کر رہے۔تم اپنے ننھے سے دماغ پر اتنا بوجھ مت ڈالا کرو۔۔۔

۔اپنا سارا بوجھ مجھے دے دو میری جان۔۔۔۔۔۔ بوجھ سمیت تمہیں بھی بہت اچھے سے سنبھالوں گا۔۔۔۔وہ اسے چھیڑنے سے باز نہیں آیا تھا۔۔

جبکہ وہ انتہائی غصے سے چہرے کا رخ دوسری طرف پھیر گئی تھی اور ساتھ ہی لب بھی سختی سے بھینچ گئی مبادا منہ سے کوئی سخت سست نا نکل جائے۔۔۔۔

ویسے یہ جو تم کہہ رہی ہو کہ کل بھائی کے گھر چلی جاؤ گی تو ٹھیک ہے ضرور جاؤ میں تمہیں کبھی جانے

سے نہیں روکوں گا۔۔۔۔ مگر یہ بات اپنے دل و دماغ سے نکال دو کہ تم کبھی اپنی مرضی سے میری زندگی سے

نکل سکتی ہو۔۔۔تمہاری زندگی کا دائرہ میرے اور میرے گھر کے ارد گرد ہی گھومے گا تم چاہ کر بھی کبھی اس

دائرے سے نہیں نکل سکو گی۔۔۔اسکے چہرے پر نظریں

جمائے سنجیدگی سے بولا تھا۔۔۔

حیات کو کوئی جواب نا سوجھا۔۔۔ وہ کچھ دیر تیکھی نظروں سے اسکے وجہیہ چہرے کو گھورتی رہی جس پر اسے جلانے کیلئے دلکش مسکراہٹ سجی تھی۔۔۔

خیر اٹس اوکے۔۔۔۔ میں سمجھ سکتا ہوں ڈئیر ابھی تم مینٹلی اپ سیٹ ہو ۔مجھ پہ غصہ ہو۔۔تمہیں خود بھی احساس نہیں اپنے ایٹی ٹیوڈ کا اپنے الفاظ کا۔۔۔میں نے

مائنڈ نہیں کیا اور کر بھی نہیں سکتا کیوں تم وہ پہلی لڑکی ہو جسکو میں دل کی گہرائیوں سے چاہتا ہوں۔۔۔

لڑکیاں مجھ پر مرتی ہیں میری ایک جھلک دیکھنے میرے ساتھ سیلفی لینے کو ترستی ہیں لیکن تم مجھ

سے سیدھے منہ بات نہیں کرتی۔۔۔ مجھے اہمیت نہیں دیتی اسکے باوجود مجھے تم پر غصہ نہیں آتا میں تم

پر ناراض نہیں ہوتا۔۔۔جانتی ہو کیوں۔۔۔۔؟؟

وہ ایک پل کو رکا۔۔۔وہ خاموش رہی۔۔۔

کیوں کہ میرے لئیے یہ تسلی ہی کافی ہوتی ہے کہ تم

میری ہو چکی ہو میری دسترس میں ہو۔۔جب میں باہر

جاتا ہوں تو یہ احساس ہی مجھے مطمئن رکھتا ہے کہ

تم میرے گھر میں میرے کمرے میں میری بیوی کی حیثیت سے موجود ہو۔۔۔۔

اپنے دو نمبر جذبے مجھ پر لٹا کر مجھے امپریس کرنے

کی کوشش مت کریں۔۔۔۔۔وہ ترش لہجے میں بولی

جذبے تو کیا تم پر جان لٹانے کو بھی تیار ہوں سویٹ ہارٹ بس تم مان جاؤ۔ لہجہ وارفتگی بھرا تھا۔حسین

آنکھوں میں ناچتی شرارت لمحے بھر کو اسے کنفیوژ

کر گئی تھی۔۔یکدم اس نے نگاہ چرا کر لب بھینچ لئیے

اسے کنفیوژ پا کر وہ مسکرا اٹھا۔۔۔۔بولو اگر میں منانا

چاہوں تو مانو گی۔۔۔؟؟ وہ شوخی سے پوچھا رہا تھا

اتنی دیر میں وہ خود کو کمپوز کر چکی تھی۔

آپکی ان فضول باتوں کا مجھ پر قطعی اثر نہیں ہونے والا۔۔۔ میرے اندر کے سارے خواب سارے جذبے ختم ہو

چکے تھے میرے سینے میں لگی ہوئی آگ میں جل چکے

ہیں۔۔راکھ ہو چکا ہے سب۔۔۔۔ مجھ سے توقعات وابستہ مت کریں۔۔۔۔آپکو مایوسی ہی ہوگی کیونکہ آپکی کسی

بات کا بھی مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔۔

اسکی آواز سرد و سپاٹ تھی۔لہجہ حتمی تھا

دنیا امید کے سہارے ہی قائم ہے امیدوں کو کبھی مرنے

نہیں دینا چاہیے ورنہ جینے کا مقصد ختم ہو جاتا ہے۔تم

چاہے جتنی نفرت بے زاری کا اظہار کر لو مجھ پر بھی تمہاری کسی بات کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔۔۔ کیونکہ میری

محبت تمہاری نفرت ناپسندیدگی اور بیزاری دیکھ کر گھٹے گی نہیں بلکہ مزید بڑھے گی تم دن بدن میرے

لئیے اہم سے اہم تر ہوتی جا رہی ہو۔۔۔

صوفے اور بیڈ کے درمیان زیادہ فاصلہ نہیں تھا۔جذبوں

سے چور لہجے میں کہتا وہ بہت گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔

وہ حیرانگی اور ناگواری کی ملی جلی کیفیت میں مبتلا اسے دیکھنے لگی۔۔

’’کتنی بار کہوں فلمی ڈائیلاگز میرے سامنے مت مارا

کریں۔یہ ساری امیدیں جو مجھ سے لگائے بیٹھے ہیں

نا انشاءاللّٰہ خاک میں مل جائیں گی۔۔۔ایک تیز نظر اس

پر ڈال کر گود میں رکھی میگزین دیکھنے لگی۔۔۔

میں اپنی امیدوں کو کبھی خاک میں نہیں ملنے دونگا

وہ مسکرایا۔۔اس کا لہجہ پر امید تھا۔۔متبسم تھا۔اسکے جذبے اس کے اندر تلاطم برپا کر رہے تھے ۔۔ جذبوں کی زبان نہیں ہوتی یہ صرف محسوس کیے جا سکتے ہیں مگر سامنے بیٹھی کٹھور لڑکی کے چہرے پر ایسے کسی جذبے کا اثر نظر نہیں آتا تھا۔۔

’’حیات نے یونہی اسکی طرف نظر اٹھائی تو دل دھک سے رہ گیا وہ نہایت سکون کے عالم میں یک ٹک اسکی

طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔اسکی نگاہوں کے جمود نے اسے جز

بز سا کر دیا تھا۔۔۔۔وہ عجیب سی کیفیت کا شکار ہوتی

نظر پھیر گئی تھی۔۔

ماحر خان کی آنکھوں میں سچائی تھی۔۔۔۔۔۔ زندگی کی سب سے بڑی سچائی۔۔۔۔۔ یعنی محبت۔۔۔۔ مگر وہ لفظوں

کے اس جال میں پھنسنے کو ہرگز راضی نا تھی۔۔۔اسکی

نظر میں یہ شخص ایکٹر تھا۔۔بہت بڑا ڈرامے باز۔۔۔۔اپنی

وجاہت اور خوبصورت لفظوں کے سحر میں جکڑنے والا

انسان۔۔۔۔۔۔ جس کیلئے عورت صرف چھونے کی حد تک کشش رکھتی تھی۔۔۔۔۔۔ پھر وہ کیسے اس ڈرامہ باز کی باتوں میں آجاتی۔۔۔۔۔ جسکا پرفیشن ہی ایسے رومینٹک ڈائیلاگز بول کر پیسے کمانا تھا۔۔۔پھر اسکے ان ڈائیلاگز کو وہ سچ کیسے مان لیتی۔۔۔اگر مان بھی لیتی تو بھی

کوئی فائدہ نہیں تھا کیونکہ یہ شخص اسکے دل سے

اتر چکا تھا اپنا اعتبار کھو چکا تھا۔۔

’’جذبات کی سر کشی سے بے قابو ہوتے دل کو اس نے بمشکل سنبھالا تھا۔۔۔۔۔ پھر برق رفتاری سے اٹھ کھڑا ہوا چلتا ہوا ڈریسنگ ٹیبل تک گیا اور برش اٹھا کر بالوں میں برش کرنے لگا بالوں سے فارغ ہو کر اس نے پرفیوم خود پر فراغ دلی سے سپرے کی اور گلاس وال سے بھاری ریشمی پردہ ہٹا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔۔

ہونہہ۔۔۔۔۔ وہ میگزین سائیڈ ٹیبل پر پٹخ کر سونے کیلئے لیٹ گئی۔۔بکواس کر رہا ہے میں لعنت بھیجتی ہوں اس

گرل فرینڈ بوائے فرینڈ والے ناپاک حرام رشتے پر۔۔آیا بڑا

مجھے شو میں لے جانے والا۔ آگ نا لگاؤں اسکے شو کو۔

وہ دل ہی دل میں بری طرح کھول رہی تھی۔۔۔۔ اس نے خود سے پکا عہد کر لیا تھا اگر کرنا پڑا تو سمجھوتہ کر لے گی مگر محبت کر کے اسے خوش فہمی میں مبتلا ہرگز نہیں ہونے دے گی۔۔۔

اچھا فلم دیکھو گی میرے ساتھ۔۔۔؟؟ اسکی مسکراتی آواز حیات کی سماعتوں میں پہنچی تھی۔۔۔حیات نے

کوئی جواب نہیں دیا وہ کچھ دیر شائد اسکے بولنے کا منتظر رہا پھر کہنے لگا۔۔

صرف میری فلم نہیں ہے تمہاری بھی ہے۔بلکہ ہم دونوں

کے کچھ رومینٹک کلپس ہیں۔۔فلم تو ساری ضائع کر دی

تھی میں نے مگر کچھ رومینٹک کلپس سیو کر لئیے تھے۔دیکھنا ہے تو بتاؤ۔۔۔۔؟؟ وہ پھر بھی چپ رہی

ذلیل کمینہ۔۔۔۔کتنی بڑی غلطی ہوئی تھی مجھ سے فلم

میں کام کر کے۔۔۔۔وہ دل ہی دل میں پچھتانے لگی۔۔۔

یقیناً تم دل ہی دل میں مجھے گالیاں دے رہی ہوگی۔۔

خیر ان کلپس کو دیکھ کر ہی میں خوش ہوتا رہتا ہوں

اپنا دل بہلاتا رہتا ہوں کہ حقیقت میں نا سہی فلم کے

بہانے تو تھوڑا رومینس کیا۔۔۔وہ ہنسا تھا۔۔۔

اسکے گالیوں والے درست اندازے پر ذرا حیرانی ہوئی تھی اسے۔۔۔۔۔ وہ اسکی طرف پیٹھ کیے لیٹی تھی۔ مگر اسکی مدھم ہنسی کی آواز سنائی دی تھی۔۔گلاس وال پر پردہ برابر کرتے وہ اپنی جگہ یعنی صوفے پر آ چکا تھا اور اپنا موبائل ہاتھ میں لئیے اسے مووی کی آفر

کر رہا تھا۔۔۔

وہ مسلسل کھولتے ہوئے اسے بے سکون کرنے کے طریقے سوچ رہی تھی۔۔۔۔۔ اسطرح کے تانوں بانوں میں الجھتے کافی دیر گزر گئی۔وہ لائٹ آف اور نائٹ بلب آن کر چکا تھا۔۔۔مزید اس نے کوئی بات نہیں کی تھی۔اسکی طرف پیٹھ کیے وہ زیر لب اسی طرح اسے برا بھلا کہنے میں بزی تھی جب ایک خیال اسکے دماغ میں کوندے کی طرح لپکا تھا اور وہ اسے پکار بیٹھی تھی۔۔ جو اب خاموشی کے ساتھ اپنے موبائل میں مصروف تھا۔۔۔۔

سنیں کس قسم کا شو ہوگا۔۔۔۔۔؟؟میرا مطلب ہے کوئی انٹرویو کیا جائے گا ہمارا۔۔۔۔؟؟ جھجھکتے ہوئے پوچھا

موبائل یوز کرتے ماحر کو جھٹکا لگا۔۔۔۔ اسکا سوال اور سب سے بڑھ کر اسکی بدلی ہوئی ٹون اسے حیران کر گئی۔۔۔

ہاں ایسا ہی سمجھو۔۔۔۔ کچھ مزاحیہ سوالات ہوتے ہیں

کچھ سیریس ہوتے ہیں۔۔ہنسی مذاق بھی چلتا ہے۔۔کچھ سیگمنٹس بھی ہوتے ہیں ڈفرنٹ قسم کے۔فارمیٹ وہیں

سمجھا دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اور جو سوالات کرتا ہے ہوسٹ وہ بھی زیادہ تر پہلے ہی بتا دیے جاتے ہیں تاکہ ہم جواب

پہلے ہی ذہن میں سوچ لیں۔۔۔ بس کچھ اسطرح کے ہی فارمیٹ ہوتے تقریباً آل شوز کے۔۔۔

ایک پل کیلئے جو حیرانی آئی تھی چہرے پر وہ معدوم

ہو گئی وضاحت سے جواب دیا۔۔۔۔

ٹھیک ہے میں چلوں گی۔۔۔۔ اسکے اچانک ہامی بھرنے پر

وہ حیران رہ گیا تھا۔۔۔حیات نے مزید کوئی بات کیے بنا سر تک کمبل تان لیا تھا۔۔۔۔

دیکھنا ایسا انٹرویو دوں گی کہ دوبارہ کبھی کسی شو میں مجھے چلنے کا نہیں کہو گے مسٹر ہیرو۔۔دل ہی دل میں منصوبے بناتی وہ استہزائیہ ہنس رہی تھی۔۔۔جبکہ دوسری طرف وہ اسکی سوچوں سے بے خبر اسکے مان جانے پر خوشی و حیرانی کی کیفیت سے دوچار ہو رہا تھا۔۔۔