Meri Hayat By Zarish Hussain Readelle50271 Meri Hayat (Episode 54)
Rate this Novel
Meri Hayat (Episode 54)
Meri Hayat By Zarish Hussain
گاڑی اس تین منزلہ پر شکوہ بلڈنگ کے گیٹ کے بالکل سامنے آ رکی۔بلڈنگ کا آرکیٹیکچر جدیدیت کا حامل تھا
پوری بلڈنگ میں قیمتی شیشے کا استعمال کیا گیا تھا۔
دور سے دیکھنے پر پوری بلڈنگ شیشے کی بنی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔۔یہ بلڈنگ ماحر خان کی ذاتی ملکیت تھی۔۔اس بلڈنگ کے علاؤہ اسکے کئی ریسٹورنٹس اور
گارمنٹس بوتیک بھی تھے۔۔۔۔۔مین ڈور کے اوپر آویزاں تختی کو اس نے جلتی ہوئی نگاہوں سے پڑھا۔۔
جلی حروف میں لکھا تھا۔۔
ماحر خان پروڈکشن ہاؤس۔۔۔۔۔
اسکے جسم کا رواں رواں جیسے سلگ اٹھا تھا۔تنے ہوئے نقوش کے ساتھ وہ آگے بڑھا۔گیٹ پرچاق و چوبند گارڈز موجود تھے۔اسے آتا دیکھ کر ایک گارڈ اسکی طرف بڑھا
مہنگی گاڑی اور پرسنالٹی سے مرعوب ہو کر اس نے خاصے مؤدبانہ انداز میں پوچھا۔
جی صاحب فرمائیے۔۔۔؟؟
ماحر خان سے ملنا چاہتا ہوں۔۔۔اس نے خشک لہجے میں کہا۔۔
اپائنٹمنٹ ہے صاحب۔۔؟؟ گارڈ نے سوال کیا
نہیں۔۔۔سپاٹ انداز میں جواب دیا
پھر تو مشکل ہے صاحب۔۔۔ان سے ملنے کیلئے باقاعدہ اپائنٹمنٹ لینا پڑتی ہے۔ایسے وہ کسی سے نہیں ملتے”
گارڈ نے معذرت خواہ انداز میں کہا
میری انکے مینیجر سے بات کرواؤ ۔۔۔اس نے ترش لہجے میں کہا
مینیجر صاحب تو ابھی نہیں آئے۔۔۔۔۔۔آپ کو انتظار کرنا پڑے گا۔ابھی تھوڑی دیر تک آ جائیں گے۔۔۔گارڈ بازو میں بندھی گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے بولا
ٹھیک ہے۔۔۔رکھائی سے کہتے ہوئے وہ اپنی گاڑی میں جا کر بیٹھ گیا۔گارڈ سر ہلاتے اپنی کرسی پر بیٹھ چکا تھا۔دس پندرہ منٹ گزرے ہونگے اسے انتظار کرتے ہوئے جب ایک سلیٹی رنگ کی چھوٹی سی کار آ رکی گرے پینٹ شرٹ میں ملبوس ایک سانولا سا شخص گاڑی سے باہر
نکلا۔۔۔
گارڈ نے اس سے ہاتھ ملایا اسکی گاڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کچھ کہنے لگا۔۔یقیناً وہ گاڑی میں بیٹھے اس شخص کے بارے میں اطلاع دے رہا تھا۔جو اس کا ویٹ
کر رہا تھا۔شائد یہی اس کا مینیجر ہے۔وہ سوچتے ہوئے
گاڑی سے اتر آیا۔۔۔۔
ہیلو۔۔۔۔گارڈ بتا رہا ہے کہ آپ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں
بغور اسکی پرسنالٹی کو جانچتے ہوئے مصافحے کیلئے ہاتھ بڑھایا۔۔جسے اس نے بڑی آسانی سے نظر انداز کرتے
ہوئے سرد اور روکھے لہجے میں کہا۔ماحر خان سے ملنا چاہتا ہوں میں اسے انفارم کرو۔مینیجر فرقان نے اجنبی شخص کے تیوروں او انداز پر حیرت سے اسکی طرف دیکھا۔قیمتی سوٹ بوٹ میں ملبوس وجہیہ پرسنالٹی۔چہرے پر گہرے سنجیدہ کسی حد تک خطرناک قسم کے تاثرات۔وہ اسے کسی بڑی ایڈورٹائزنگ کمپنی کا اونر سمجھا تھا جو اپنے ایڈز وغیرہ کی ماڈلنگ کیلئے ماحر خان کی خدمات چاہیے تھیں۔۔۔۔۔کیونکہ فلم ڈائریکٹرز پروڈیوسرز۔۔ٹی وی چینلزز والے۔۔۔ایڈورٹائزنگ کمپنیوں والے جو جو بھی ماحر خان کو اپنی فلموں۔۔۔شوز میں کمپیئرنگ۔۔۔۔ یا شتہارات وغیرہ میں ماڈلنگ کیلئے لینا چاہتا وہ اس کے مینیجر سے ہی کنٹیکٹ کرتا۔۔۔۔
کسی بھی سپر سٹار سے ڈائریکٹ کنٹیکٹ ناممکن ہوتا ہے بڑے بڑے سلیبریٹیز اپنے سیکریٹری پرسنل اسسٹنٹ اور مینیجر وغیرہ رکھتے ہیں جو ان تمام معاملات کو دیکھتے ہیں۔۔۔۔فرقان بھی اسے اسی سلسلے میں کوئی
آنے والا سمجھا تھا۔مگر وہ تو ڈائریکٹ ماحر خان سے ملنے کی بات کر رہا تھا۔فرقان کا تعجب کرنا لازمی تھا۔کیونکہ ماحر سے ملاقات تو کنٹریکٹ طے پا جانے کے بعد ہی ممکن ہو پاتی تھی۔۔۔
کس کام کے سلسلے میں آئے ہیں آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟میں انکا مینیجر ہوں انکے تمام معاملات دیکھتا ہوں۔آپ مجھے بتائیں۔فرقان نے مصنوعی خوش اخلاقی دکھاتے ہوئے کہا۔۔۔
میرا نا تو شوبز سے تعلق ہے اور نا ہی میڈیا سے۔مجھے ان سے پرسنل کام ہے۔ آپ مہربانی فرما کر ان کو اطلاع دینے کی زحمت کریں گے۔اس نے خاصا چبا چبا کر سرد لہجے میں کہا تھا۔۔۔
فرقان نے بغور اسے دیکھا۔۔سامنے کھڑے شخص کے لب و لہجے نے اسے چونکا دیا تھا۔ماحر خان سے ملنے کیلئے آنے والوں کا انداز ہمیشہ خوشامدی اور امپریس ہونے
والا ہوتا ہے۔جبکہ یہ شخص جس کو وہ پہلی بار دیکھ رہا تھا۔اسکے لب و لہجے انداز اور پرسنالٹی میں کچھ ایسی بات ضرور تھی کہ وہ کچھ چونک سا گیا تھا۔۔۔
آپ ماحر سر کے فین ہیں۔۔۔۔۔؟؟ کسی خیال کے تحت وہ پوچھ بیٹھا تھا۔لیکن جواب نے اسکے چودہ طبق روشن
کر دیے تھے۔۔۔
میں لعنت بھیجتا ہوں اس شرابی پر۔۔اس گھٹیا شخص کا فین نہیں ہوں۔اسے کہو فارس عبدالرحمان ملنا چاہتا ہے۔حیات عبدالرحمان کا بھائی۔اب تو مینیجر بری طرح حیرت زدہ سا رہ گیا تھا۔پھر اگلے ہی پل وہ اپنا موبائل نکال کر ماحر خان کو کال ملا رہا تھا۔۔
وہ ایزی چئیر پر آنکھیں بند کیے بیٹھا ہوا تھا۔۔۔۔۔کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔۔بالکل ویسا اندھیرا جیسا آجکل اسے اپنی زندگی پر چھایا ہوا محسوس ہوتا تھا۔
پورے دس دن وہ اندھیروں میں گم رہا تھا۔اسکی ذات
جیسے ان اندھیروں میں غرق ہو کر رہ گئی تھی۔فائزہ
سکندر اسے زبردستی اسکے کلفٹن والے فلیٹ سے گھر
لے کر آئی تھیں۔۔۔اس نے خود کو اپنے کمرے تک محدود کر لیا تھا۔۔۔۔دل و دماغ میں بہت سے خیالات گردش کر رہے تھے جن کا محور صرف اور صرف وہی تھی۔۔خیال کا ہر پہلو اسی سے نکل کر فقط اسی پر ہی ختم ہوتا تھا۔آج دسواں دن تھا اپنے حال سے بے نیاز تمام کاموں کو بھلائے صرف اور صرف اسی کے مل جانے کی خبر سننے کا منتظر تھا۔اسکے اپنے آدمیوں کے علاؤہ سکندر
علی خان بھی مکمل سیکریسی کے ساتھ اسے ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے تھے۔ مگر تاحال حیات عبدالرحمان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا تھا۔۔۔۔جانے زمین کھا گئی تھی یا آسمان نگل گیا تھا اسے۔وہ اعصابی طور پر بہت ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔۔۔اگرچہ ماں باپ دونوں اسکی بھرپور ہمت بندھا رہے تھے۔۔مگر وہ سخت خوفزدہ تھا
اس سوچ نے ہی اسے نڈھال کیا ہوا تھا کہ اگر حیات عبدالرحمان اسے نا مل سکی تو وہ کیسے جیے گا۔۔؟؟
رہ سکے گا اسکے بنا کیا۔۔؟دل و دماغ دونوں اس خیال کی نفی کر رہے تھے جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا تھا اسکی بے قراری بھی حد سے سوا ہوتی جا رہی تھی۔بے اختیاری بے چینی اتنی شدید تھی کہ وہ ہر بیس منٹ بعد فرقان کو فون کرتا۔اس کی طرف سے مایوس کن جواب سن کر اسکے کشیدہ اعصاب نئے سرے سے کشیدہ ہو جاتے۔شدید طیش میں آ کر وہ اسی پر اپنی فرسٹریشن نکال دیتا تھا۔
ماحر کب تک خود کو روم میں بند رکھو گے۔۔اسطرح تو
بیمار پڑ جاؤ گے۔فائزہ سکندر کمرے میں آ کر بڑے اداس لہجے میں گویا ہوئیں تھیں۔۔۔۔
دل نہیں کرتا باہر نکلنے کو مام۔۔۔۔اس نے آہستگی سے جواب دیا۔۔۔کمرے کا نیم اندھیرا اب تیز ٹیوب لائٹس کی روشنی سے جگمگا رہا تھا۔۔وہ اسکے قریب بیٹھ گئیں۔۔۔۔۔ اسکی وجہیہ رنگت میں ہم وقت جو دلکش سرخی چھائی رہتی تھی وہ اب زردی میں بدل چکی تھی۔۔۔۔وہ بڑے دکھ سے اس کا جائزہ لے رہی تھیں۔۔
کیا حال بنا لیا ہے تم نے اپنا۔۔۔وہ مل جائے گی انشاءاللّٰہ تمہارے ڈیڈ ڈھونڈ رہے ہیں نا اسے۔کیوں اذیت دے رہے ہو خود کو کیوں اپنی صحت برباد کر رہے ہو۔۔۔۔ان کی نظر ایش ٹرے پر پڑی تھی جو جلی ہو سگریٹوں سے بھری ہوئی تھی۔۔انہوں نے شکایتی نظروں سے اسکی
طرف دیکھا۔۔۔
دل نہیں کرتا باہر نکلنے کو مام۔وہ آہستگی سے گویا ہوا
تو جب تک تمہاری بیوی ملے گی نہیں تم یونہی کمرے
میں بند رہ کر سگریٹ پھونک پھونک کر خود کو اذیت
دیتے رہو گے۔۔۔۔وہ تیز لہجے میں بولیںِ
کیا ہو گیا ہے مام۔آپ کے کہنے پر ڈرنک چھوڑ دی ہے اب
اسموکنگ بھی نا کروں کیا۔۔۔۔اس نے جھلا کر کہا
کرو خوب کرو۔۔۔اپنی صحت برباد کرو۔۔۔تمہیں تو کوئی
فرق نہیں پڑتا مگر تمہاری ماں کو ضرور پڑتا ہے۔۔۔۔۔وہ
غصے سے بولیں۔ماحر نے بے بسی سے انکی طرف دیکھا
اس سے پہلے وہ کوئی جواب دیتا موبائل کے گھنٹی نے اسے متوجہ کیا۔۔۔آجکل وہ موبائل چوبیس گھنٹے اپنے پاس رکھتا تھا۔۔۔۔۔۔خاص طور پر فرقان کی کال کیلئے جیسے ہی اسکی کال آتی وہ یہی آس لئیے ریسیو کرتا شائد حیات کے متعلق کوئی خبر ہو۔۔۔۔ابھی بھی فرقان کی کال دیکھ کر اس نے فوراً ریسیو کی ۔۔ مگر دوسری طرف دی جانے والی اطلاع نے اسے سخت حیران کر دیا تھا۔وہ یکدم کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ حیات عبدالرحمان کا کوئی بھائی اس سے ملاقات کیلئے سٹوڈیو میں اس کا منتظر تھا۔اسکے پورے وجود میں سنسنی سی دوڑ گئی۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔۔؟؟فائزہ سکندر اسکے چہرے کے تاثرات دیکھ کر چونکیں۔۔۔۔
آ کر بتاتا ہوں مام۔وہ عجلت بھرے انداز میں کہتے ہوئے چینج کرنے کی غرض سے ڈریسنگ روم میں گھس گیا۔کچھ دیر قبل وہ جو نڈھال سا بیٹھا تھا اب ایک دم سے طاقت سی بھر گئی تھی اس میں۔۔۔۔
بتاؤ تو سہی ہوا کیا ہے۔۔؟؟ فائزہ سکندر جو اسکی اتنی جلد بازی پر حیران سی بیٹھی تھیں۔۔۔۔اسکے ڈریسنگ روم سے نکلتے ہی پوچھنے لگیں۔۔۔۔مام پلیز ویٹ کر لیں
میں فون پر آپ کو بتا دوں گا۔تیزی سے بولتا وہ ان کو حیران پریشان چھوڑ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈرائیونگ کرتے ہوئے سارے راستے سوچیں اس کی روشن پیشانی پر شکنوں کی صورت میں ابھرتی رہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔سحر انگیز مغرور آنکھوں کی سرخی میں الجھنیں تیرتی رہی تھیں۔۔۔حیات عبدالرحمان کا بھائی کہاں سے اچانک دریافت ہو گیا تھا۔۔۔۔؟؟ اس کا جواب تو اس شخص سے مل کر ہی پتہ چل سکتا تھا۔۔
انتہائی ریش ڈرائیونگ کر کے وہ وہاں پہنچا تھا۔اسکے
حکم کے مطابق فرقان نے اسے ماحر کے پرسنل روم
میں بٹھایا ہوا تھا۔۔۔۔
وہ تیز قدموں سے اندر داخل ہوا۔۔۔۔۔۔دروازے کی طرف پشت کیے بیٹھے شخص نے دروازہ کھلنے کی آواز پر مڑ کر دیکھا اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔اس کے سامنے فلم انڈسٹری
کا نامور سپر سٹار ماحر خان کھڑا تھا۔۔۔۔۔وہ متعدد بار اسے سکرین پر دیکھ چکا تھا۔۔۔۔لیکن کبھی سوچا نہیں تھا اس نے کہ رئیل میں کبھی اسکے مقابل ہوگا اور وہ بھی اسطرح کی سچویشن میں لمحے بھر کیلئے تو وہ خود بھی اسکی وجاہت سے متاثر ہو گیا تھا۔۔۔لیکن یہ تاثر صرف ایک لمحے کا تھا۔۔۔۔اگلے ہی پل اسکے چہرے پر غیض غضب کے تاثرات نمودار ہوئے تھے۔۔۔اس کا دل چاہا آگے بڑھ کر اس شخص کی گردن مروڑ کر رکھ دے جسکی وجہ سے اسکی فیملی کو۔۔۔ اسکی بہن کو اتنی
مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔۔۔۔بڑی مشکل سے اس نے گردن مروڑنے والی اپنی اس خواہش پر قابو پایا تھا۔۔۔”
دوسری طرف ماحر خان آنکھوں میں بے پناہ حیرت لئیے اس کا جائزہ لے رہا تھا۔۔صاف رنگت۔۔۔سوٹڈ بوٹڈ اچھی پرسنالٹی والا بندہ تھا۔۔۔۔جو خاصے طیش بھرے انداز میں آنکھوں میں غیض و غضب لئیے اسے گھور رہا تھا۔۔
ہیلو۔۔۔ماحر نے مصافحے کیلئے ہاتھ بڑھایا۔۔
میں یہاں اپنی بہن حیات عبدالرحمان کے سلسلے میں بات کرنے آیا۔۔۔۔فارس نے مصافحے کیلئے بڑھا اس کا ہاتھ نظر انداز کرتے سرد لہجے میں کہا۔۔۔
حیا آپکے پاس ہے۔۔۔۔؟؟؟اس نے چونک کر بے صبری سے سوال کیا۔اس کے منہ سے اپنی بہن کا نام سن کر فارس کے ماتھے پر لاتعداد شکنیں ابھر آئی تھیں۔۔
وہ جہاں بھی ہو اس بات سے تمہیں کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے۔اسے ڈیورس چاہیے تم سے۔۔۔۔۔اب یہ تم پر منحصر ہے سیدھی شرافت سے دیتے طلاق دیتے ہو یا کورٹ میں جانا پسند کرتے ہو۔۔۔ویسے تو تم عام آدمی
نہیں ہو ایک سلیبرٹی ہو۔۔۔۔۔۔بڑی نیک نامی اور شہرت رکھتے ہو۔یقیناً نہیں چاہو گے تمہاری اس نیک نامی اور شہرت پر کوئی حرف آئے ۔۔۔۔۔کیونکہ اگر کسی مشہور ہستی کا کیس عدالت میں جائے تو پھر وہ عدالت تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ۔الیکڑانک میڈیا۔۔پرنٹ میڈیا۔۔سوشل میڈیا ہر جگہ چرچا ہوتا ہے۔۔اگر اس کیس میں بھی ایسا ہو گیا تو تمہیں اچھے سے اندازہ ہوگا کہ اس کا اثر تمہاری فین فالونگ پر پڑے گا اور تم یقیناً نہیں چاہو گے کہ تمہاری فین فالونگ کم ہو۔۔۔۔تمہارے فلمی کیریر پر کوئی اثر پڑے۔ لہٰذا خود کو مشکل میں پڑنے سے بچاؤ اور ان پیپرز پر سائن کرو۔۔۔فارس نے رکھائی سے کہتے ہوئے بریف کیس میں سے ڈیورس پیپرز نکال کر اسکے سامنے میز پر رکھ دیے۔۔۔
آپ حیات عبدالرحمان کے کیا لگتے ہیں۔۔۔۔۔؟؟جہاں تک میں جانتا ہوں اس کا تو ایک ہی بھائی تھا اور وہ بھی’
سامنے رکھے ڈیورس پیپرز کو نظر انداز کیے اس نے الجھن بھرے لہجے میں سوال کیا۔۔
اور وہ بھی تمہارے ملازموں کی ہوس کی بھینٹ چڑھ گیا ۔۔۔۔فارس نے طنزیہ لہجے میں اسکی بات مکمل کی
ماحر خان کا چہرہ تاریک ہو گیا۔۔
وہ خاموشی سے سامنے کھڑے شخص کو دیکھنے لگا
جسکی آنکھوں میں اسکے لئیے غصے کی آگ دہک رہی تھی۔۔۔
تمہیں کیا لگا تھا وہ لاوارث ہے۔۔۔تم جو چاہو گے اسکے ساتھ کرو گے۔میں ہوں اس کا بھائی فارس عبدالرحمان
اپنے بہن کی طرح اٹھنے والے ہر ہاتھ کو کاٹ ڈالوں گا
ہر غلیظ نظر کو پھوڑ ڈالوں گا وہ بچہ مون جو تمہارے ملازموں کی درندگی کی بھینٹ چڑھا تھا جس کے بعد
تم نے سوچا تھا کہ حیات عبدالرحمان کا اب کوئی نہیں رہا۔وہ مکمل تمہارے رحم و کرم پہ ہے۔تو غلط خیال تھا تمہارا۔۔۔مون تو اس کا حقیقی بھائی نہیں تھا مگر میں
ضرور ہوں۔خون کا رشتہ ہے ہم دونوں کے بیچ کیونکہ میں بھی عبدالرحمان علی کا بیٹا ہوں مائیں الگ الگ مگر باپ ایک ہی تھا ہمارا۔۔۔۔۔۔لہذا ایک بھائی ہونے کے ناطے میرا فرض بنتا ہے ایک غلط انسان سے اپنی بہن کی جان چھڑواؤں۔۔۔۔۔فارس کے لہجے میں سختی و ترشی بے حد نمایاں تھی۔انداز بے حد جارحانہ تھا۔۔۔
ماحر چند پل اسے بغور دیکھتا رہا۔۔۔۔پھر اسکی آنکھوں میں موجود غصے کی دہکتی ہوئی آگ کی تاب نا لا کر
نظریں چرا گیا۔۔۔۔
حیات عبدالرحمان کا بھائی۔۔۔۔یہ کس طرح ممکن ہے وہ جیسے خود سے مخاطب تھا۔۔۔۔اسکے چہرے پر الجھن و
بے یقینی ابھی تک موجود تھی۔۔۔
فارس عبدالرحمان کا سخت و سرد انداز۔۔۔۔روکھا لہجہ
تیکھا طرز گفتگو۔۔۔۔حیات کے فادر کا رئیل سن۔۔یہ ایک
زبردست انکشاف تھا اس کیلئے۔۔۔
اگر یہ شخص عبدالرحمان کا حقیقی بیٹا تھا۔تو پھر اتنا عرصہ کہاں تھا۔اچانک کیسے اور کہاں سے ٹپک پڑا۔۔وہ بے حد الجھے ہوئے انداز میں سوچ رہا تھا۔۔۔
حیات کہاں ہے۔۔۔۔۔۔؟؟میں اس سے ملنا چاہتا ہوں۔۔
میری بہن کا نام مت لینا اب۔۔۔جو بھی بات کرنی ہوگی
مجھ سے ہی کرنی ہوگی۔۔۔فارس نے بپھرے ہوئے لہجے میں کہا۔۔۔
یہ کیا بات ہوئی۔۔۔۔ہمارا نکاح ہو چکا ہے پھر کیوں نہیں بات کر سکتا میں اس سے۔۔۔۔؟؟ وہ حیرانی سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔۔
جس طریقے سے تم نے میری بہن سے نکاح کیا ہے نا میں چاہوں تو گن پوائنٹ پر لڑکی سے نکاح کرنے کے جرم میں تمہیں کھڑے کھڑے اندر کروا سکتا ہوں۔اگر
میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں تک یہ بات پہنچ جائے تو سوچو تمہاری کتنی نیک نامی ہوگی۔اگر پبلک
تمہارے خلاف ہو جائے تو تمہارے تمام سورسز تعلقات اختیاراتِ کچھ کام نہیں آئے گا۔’
یہ غلط ہے ۔۔۔ میں نے اس سے گن پوائنٹ پر نکاح نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔اس نے اپنی رضامندی دی تھی مکمل ہوش و حواس میں۔۔۔۔اسے حیات عبدالرحمان کے بھائی کا یہ الزام ناگوار گزرا تھا۔۔۔
پلیز مجھے اس کا پتہ بتا دیں وہ کہاں ہے میں اس سے
بات کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔اس کا انداز بے حد التجائیہ تھا۔۔
میں نے کہا نا جو بات کرنی ہے مجھ سے ہی کرو۔۔میری بہن لاوارث نہیں ہے اس کے بڑے موجود ہیں اس کی زندگی کا فیصلہ کرنے کیلئے۔۔۔۔۔وہ اپنی شعلوں کی لپک لئیے دہکتی آنکھیں اسکی آنکھوں میں ڈال کر بولا تھا۔لہجہ ہنوز ترش تھا۔۔۔۔اعصاب چٹان کی طرح سخت تھے۔۔۔
کیوں اسے مل کر ڈرانا دھمکانا چاہتے ہو۔۔؟اب یہ غلطی ہرگز مت کرنا۔ورنہ خدا کی قسم تمہاری جان لے لوں گا میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔فارس نے اسے خبردار کیا
نہیں نہیں۔۔۔۔۔۔خدا کی قسم میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتا۔وہ اس کے غلط مطلب لینے پر پریشان ہو گیا۔میں اس سے معافی مانگنا چاہتا ہوں۔اس کے بعد وہ جو کہے گی مجھے منظور ہوگا۔۔صرف ایک بار ملنے دیں اس سے پلیز صرف ایک بار۔۔۔۔۔وہ گڑگڑایا
ہرگز نہیں میں اب تمہارا غلیظ سایہ اپنی بہن پر بالکل نہیں پڑنے دوں گا۔۔۔میرا اور اپنا ٹائم ویسٹ کیے بنا ان پیپرز پر سائن کرو۔۔۔۔۔دنیا جہان کی سختی اور تنبیہہ تھی فارس عبدالرحمان کے لہجے میں۔۔۔۔۔سامنے کھڑے شخص کی پرسنالٹی اسکی طاقت اپروچ کسی چیز کا خوف نہیں تھا اسے۔۔۔۔۔۔۔وہ اس وقت صرف اور صرف محبت کرنے والا ایک غیرت مند بھائی لگ رہا تھا جو اپنی بہن کی حفاظت اور خوشیوں کیلئے مارنے مرنے پر تیار تھا۔۔
دیکھیئیے پلیز میں صرف ایک بار۔۔۔صرف ایک بار ملنے
دیں مجھے اس سے۔۔۔۔۔۔۔میں جانتا ہوں مجھ سے کچھ
غلطیاں ہوئی ہیں۔۔۔میں اس سے بس اپنی غلطیوں کی
معافی مانگنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔اس کے بعد وہ جو کہے گی میں مانوں گا۔۔اگر وہ کہے گی کہ وہ میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو میں اسکی خواہش کا احترام کروں گا۔۔
لیکن اس کا یہ فیصلہ میں اس کے منہ سے سننا چاہتا ہوں۔۔۔۔
ایک ہی بات کی تکرار۔۔۔۔۔۔۔۔فارس کا خون کھول اٹھا
مکار آدمی اپنی یہ تھرڈ کلاس سستی ایکٹنگ فلموں
میں ہی دکھایا کرو۔۔۔۔۔۔۔اپنی طاقت اور اثر ورسوخ کے گھمنڈ میں تم نے ایک معصوم لڑکی کی زندگی برباد
کی ہے۔۔۔۔۔۔وہ دھاڑا
اگر برباد کی ہے تو پھر سنوارنے دیں مجھے۔۔۔وہ تنک کر گویا ہوا۔فارس کے نامناسب رویے کو وہ بڑی مشکل سے
برداشت کر رہا تھا۔۔
سنوارنا چاہتے ہو تو پھر سائن کرو ان پیپرز پر۔۔۔ورنہ
عدالت میں جانے کیلئے تیار ہو جاؤ۔۔میں اپنی بہن کی
زندگی تم جیسے گھٹیا بدکردار فلموں والے کے ساتھ
برباد نہیں ہونے دوں گا۔۔۔
میں اپنی بیوی سے ملے اور بات کیے بغیر اس مطالبے کو تسلیم نہیں کروں گا۔۔۔اس ملک کی تو کیا دنیا کی
کسی بھی عدالت میں چلے جاؤ میں طلاق نہیں دوں گا۔چاہے جتنی بدنامی ہو میری۔۔۔۔۔۔جتنا نقصان پہنچے
میری شہرت کو۔۔حیات سے ملے اس سے بات کیے بغیر
میں کسی فیصلے کسی مطالبے کو تسلیم نہیں کروں گا
وہ مصلحت لحاظ کا چولا بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے سابقہ ہٹ دھرم انداز میں بولا۔۔۔
فارس عبدالرحمان کے طلاق کے مطالبے اور گالیوں نے اسے بھی مشتعل کر دیا تھا۔۔۔
کونسی بیوی۔۔۔۔۔تم نے فراڈ اور بلیک میل کر میری بہن سے رشتہ جوڑا۔۔۔اگر عدالت میں گھسیٹ لوں نا تو فراڈ کے کیس میں سلاخوں کے پیچھے چلے جاؤ گے۔پھر جو تمہارے فینز تھو تھو کریں گے نا تم پر پھر پتہ چلے گا تمہیں۔۔۔فارس کا لہجہ بتدریج غصیلا ہوتا جا رہا تھا۔۔
یہ ساری باتیں بعد میں ہو جائیں گی۔۔۔۔آپ میری ایک دفعہ حیا سے بات تو کروائیں۔۔۔۔۔۔۔۔وہ زچ ہو کر بولا
شٹ اپ۔۔۔اپنی گندی زبان سے دوبارہ میری بہن کا نام مت لینا۔۔۔۔وہ بھڑک کر بولا۔۔۔چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا تھا۔۔
جب تک آپ کی بہن میرے نکاح میں ہے تب تک مجھے اس کا نام لینے سے کوئی نہیں روک سکتا۔۔۔سامنے بھی ماحر سکندر خان تھا۔۔۔۔جو جذباتی اور غصیلا ہونے کے ساتھ ساتھ ضدی اور ہٹ دھرم بھی تھا۔۔۔۔۔۔۔۔فارس کی تکرار پر اس میں بھی کچھ عرصے سے زبردستی تھپک تھپک کر سلائی گئی ہٹ دھرمی یکدم جاگ اٹھی تھی
لہجے میں بلا کی ضد اور اکھڑ پن آ گیا تھا۔۔۔
وہ نکاح نہیں فراڈ ہے دھوکا ہے بلیک میلنگ ہے جو تم نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر کیا۔۔فارس نے کھا جانے
والی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا
“جب اس نکاح کو مانتے ہی نہیں تو ڈیورس کا بار بار
مطالبہ کیوں کر رہے ہیں۔۔۔؟ اس نے آگ لگانے والے انداز
میں کہا
بکواس بند کرو اپنی خبیث انسان۔۔بہت ستایا ہے تم نے میری بہن کو۔دل تو کرتا طلاق نامے پر سائن کروانے کے بجائے سیدھا تمہارے سینے میں گولیاں اتار دوں۔۔۔جتنا
تم نے میری بہن کو رلایا ہے۔تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کر دینا
بنتا ہے۔ سیدھی شرافت سے ان طلاق کے پیپرز سائن کر دو ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔فارس بے خوف
ہو کر دھاڑا۔۔۔
سالے صاحب آپ لمٹ کراس کرتے جا رہے ہیں اگر میں آپکی ان باتوں کو برداشت کر رہا ہوں اور آپ کو کچھ نہیں کہہ رہا تو صرف اور صرف حیا کی وجہ سے۔ورنہ کسی کی سخت بات تو کیا سخت لہجہ بھی برداشت کرنے کی عادت نہیں مجھے۔۔میں آپ کا یہ مطالبہ اسی صورت مانوں کروں گا۔۔۔۔جب آپ حیات سے میری بات کروائیں گے۔۔۔۔۔۔عادت کے برخلاف اس نے بے حد تحمل
کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔یہ رعایت بھی وہ صرف
اور صرف حیات کی وجہ سے کر رہا تھا۔۔۔
شٹ اپ جسٹ شٹ اپ۔گھٹیا انسان تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے اپنا سالہ کہنے کی۔۔۔فارس مشتعل ہو گیا اور آگے بڑھ کر جھٹکے سے اس کا گریبان پکڑ لیا۔۔۔
وہ حق دق کھڑا رہ گیا۔۔۔
ہمیشہ مقابل کے ہاتھوں کو اپنے گریبان تک پہنچنے سے پہلے ہی وہ توڑ دیا کرتا تھا۔۔۔مگر آج پہلی بار کسی کے ہاتھ اس کے گریبان تک پہنچے تھے اور وہ ہاتھ تھے اس کی بیوی حیات عبدالرحمان کے بھائی فارس رحمان کے جنہیں وہ توڑتا تو کیا جھٹک بھی نہیں پایا۔یہ رعایت
وہ صرف اور صرف اسی کی وجہ سے دے رہا تھا۔۔
فارس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔ہاتھ اسکے گریبان کو سختی سے پکڑے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔ماحر نے اپنے غصے کو کنٹرول کرتے نرمی سے اسکے ہاتھ اپنے گریبان سے ہٹانےچاہے مگر فارس کی گرفت مزید بڑھ گئی۔اس سے پہلے وہ بھی غصے پر اپنا کنٹرول کھوتا۔اسکے ہاتھ جھٹکتا معاملہ مزید خراب ہوتا۔۔۔۔۔۔ییلو شرٹ اور بلیک
پینٹ میں ملبوس ایک خوبرو سا نوجوان بے تکلفی سے
دروازہ کھول کر اندر ہوا اور آگے کا منظر دیکھ کر اپنی
جگہ پر ساکت ہو گیا۔۔۔۔
میں آپ کا لحاظ کر رہا ہوں۔۔۔۔ گریبان چھوڑ دیں میرا ماحر نے سرد آواز میں کہا
اپنا لحاظ اپنے پاس رکھو میں ڈرتا نہیں ہوں تم جیسے
گرے ہوئے ایکٹر سے۔۔۔۔۔فارس غرایا۔۔۔۔گریبان پر گرفت نہیں چھوڑی۔۔۔۔اس سے پہلے کوئی اور سین ہوتا۔۔ییلو شرٹ والا نوجوان ہوش میں آتے تیزی سے آگے بڑھا
ارے ارے یہ کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔؟؟
تماشا ہو رہا ہے۔۔۔۔اس شخص کا اگر میں نے ساری دنیا کے سامنے تیار تماشا نا بنایا اس کو ذلیل و رسواء نا کیا
تو میرا نام بھی فارس عبدالرحمٰن نہیں۔فارس نے چیخ
کر کہا۔۔۔
آپ دونوں بیٹھ کر آرام سے بات بھی تو کر سکتے ہیں
اس نے فارس کے ہاتھوں سے ماحر کا گریبان چھڑواتے
ہوئے نرمی سے کہا۔۔۔اسے گریبان پکڑنے والے شخص کے اس اقدام پر حیرت تو ہوئی تھی۔۔۔مگر اس سے زیادہ حیرت ماحر کے خاموش رویے پر ہوئی۔۔۔اگرچہ وہ بہت زیادہ عرصے سے تو ماحر کو نہیں جانتا تھا۔۔۔۔ مگر اس کے بارے میں میڈیا میں بہت کچھ سن رکھا تھا کہ وہ غصے کا انتہائی تیز ہے۔اکثر پارٹیز کلبز وغیرہ میں ہونے
والے اسکے جھگڑوں کی خبریں اخبارات کی زینت بنتی رہتی تھیں مگر اب اس کا ٹھنڈا ردعمل اسے حیران کر رہا تھا۔۔
!فارس اب ماحر کے ساتھ ساتھ اسے بھی طیش بھری نگاہوں سے گھور رہا تھا۔۔۔۔تم جو کوئی بھی ہو اگر اس کا بھلا چاہتے ہو تو اسے کہو ان ڈیورس پیپرز پر سائن کرے۔۔
ڈیورس پیپرز۔۔۔اس نے بری طرح چونک کر پہلے میز پر پڑے پیپرز کو اور پھر فارس کو دیکھا۔۔ الجھن بھرے انداز میں اترے ہوئے چہرے کے ساتھ خاموش کھڑے
ماحر سے استفسار کیا۔۔
یہ صاحب کون ہیں یار۔۔۔۔؟؟
حیات عبدالرحمان کے بھائی۔۔۔ماحر نے سپاٹ انداز میں کہا۔۔۔۔اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔۔۔چہرہ کسی
قیمتی شے کے چھن جانے کے خوف سے سفید ہو چکا
تھا۔
ہوں تو یہ وجہ ہے۔۔۔۔۔۔لمحے میں وہ بات کی گہرائی تک پہنچا تھا۔۔۔دیکھیں پلیز آپ جلد بازی مت کریں۔ایک بار تحمل سے بات سن اور سمجھ لیں میں”ییلو شرٹ والے نے سمجھانے کی کوشش کی۔۔۔
مگر فارس کے تیور انتہائی جارحانہ تھے
وہ کچھ سننے سمجھنے کے موڈ میں قطعی نہیں لگ رہا تھا۔
جسٹ شٹ یور ماؤتھ۔۔۔۔۔مجھے کوئی بات نہیں سننی
یہ پیپرز سائن کرے۔۔۔۔ اور معاملہ نبٹائے ورنہ میں اسی
وقت میڈیا کے پاس چلا جاؤں گا۔۔۔۔۔اس کے لہجے میں
کسی خونخوار بھیڑیے جیسی غراہٹ تھی۔۔
فارس صاحب پلیز۔۔میری ریکوئسٹ مان لیں صرف ایک
بار مجھے اس سے فیس ٹو فیس بات کرنے دیں۔۔۔اسکے اپنے منہ سے اس کا فیصلہ سننا چاہتا ہوں میں۔۔فار گاڈ سیک پلیز۔۔۔۔۔حیرت انگیز طور پر اس نے اپنے ہاتھ جوڑ
دیے۔۔۔۔یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ ایک بار دونوں کی بات کروا دیں۔۔۔۔۔۔میں گارنٹی دیتا ہوں ہوگا وہی جو آپ کی سسٹر چاہیں گی۔۔۔۔۔۔ییلو شرٹ والے نے ماحر کا بے بس انداز دیکھ کر اس کا دفاع کرتے ہوئے فارس سے دوبارہ درخواست کی۔۔۔۔
کیا لگتے ہو تم اس کے جو گارنٹی دے رہے۔۔۔؟؟ فارس نے اسے گھورتے ہوئے سوال کیا۔۔۔
میں اس کا دوست ہوں۔۔کزن ہوں۔۔۔آپکی سسٹر کو میں جانتا ہوں۔۔انکی بہت عزت کرتا ہوں۔آپ مجھ پر ٹرسٹ
رکھیں انکو آپس میں ایک بار بات کرنے دیں۔فیصلہ آپ
کی سسٹر کا ہی ہوگا۔۔اس نے یقین دلانے والے انداز میں
کہا۔۔
فارس کچھ دیر ان دونوں کی طرف سرد نگاہوں سے دیکھتا رہا پھر ان کا لجاجت بھرا انداز دیکھ کر وہ ذرا سا دھیما پڑا تھا۔۔چہرے کے تنے ہوئے نقوش ذرا ڈھیلے ہوئے تھے۔۔۔۔چند لمحے وہ سوچتا رہا۔ پھر ہامی بھرتے ہوئے ییلو شرٹ والے سے کہنے لگا۔۔۔
ٹھیک ہے میں اپنی بہن سے اس کی بات کروا دیتا ہوں۔اسکے منہ سے یہ بات سننے والی اس کی خواہش پوری کر دیتا ہوں میں۔۔۔۔۔ مگر پھر اسکے بعد یہ چپ چاپ ان پیپرز پر سائن کر دے گا۔۔۔۔اس نے باری باری دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے درشت لہجے میں کہا اور جیب سے موبائل نکالنا چاہا۔۔۔
فون پر نہیں اس سے مل کر آمنے سامنے بات کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔ماحر نے جلدی سے کہا۔۔۔
فارس کا جیب سے موبائل نکالتا ہاتھ رک گیا۔۔
ماتھے پر بڑے بلوں میں اضافہ ہو گیا۔۔۔۔۔
چند سیکنڈز اسے خونخوار نگاہوں سے گھورنے کے بعد وہ سرد لہجے میں انہیں اپنے پیچھے آنے کا کہتے وہاں سے نکلتا چلا گیا۔ماحر کے چہرے پر رونق آ گئی۔فارس
عبدالرحمان کی رضامندی نے اسکے اندر ایک نئی روح پھونک دی تھی۔۔۔۔اس نے ییلو شرٹ والے کو اشارہ کیا
وہ دونوں باہر جاتے فارس عبدالرحمان کے پیچھے تیزی سے چلنے لگے۔۔۔
حیات عبدالرحمان۔۔۔باحیا۔۔پاکیزہ خوبصورت اور خوب سیرت لڑکی۔۔۔۔۔۔اصل میں اس کا آئیڈیل ایسی ہی لڑکی تھی جو اسے ایک خوبصورت خواب کی تعبیر کی طرح مل گئی تھی۔۔۔۔۔۔اگرچہ اسے پانے کے بعد بھی وہ اس کے حصول کیلئے کھٹن مراحل سے گزر رہا تھا۔۔۔۔مگر وہ اس لمحے پر عزم تھا۔ اسے واثق یقین تھا وہ اس پتھر کو پگھلا کر اپنی دسترس میں لانے میں کامیاب ضرور ہو جائے گا۔
