171.9K
78

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Hayat (Episode 08)

Meri Hayat By Zarish Hussain

آپ اتنا غصہ کیوں ہو رہی ہیں۔میں نے تو ڈیسنٹ طریقے سے آپ کو پرپوزل دیا ہے۔”

“ہاں ڈیسنٹ طریقے سے ان ڈیسنٹ پرپوزل۔وہ تلخ لہجے میں بولی۔۔۔۔۔!!

“محترمہ دنیا ترستی ہے ماحر سکندر کی طرف سے ایسی آفرز کیلئے اور آپ ہیں کہ نخرے دکھا رہی ہیں….!! بگڑ کر کہا گیا……..!!

جانتی بھی ہیں کہ میں کون ہوں۔انکار کا لفظ میری ڈکشنری میں نہیں ہے……. ایک تو میری پہلی آفر کو ریجیکٹ کیا اب یہ بھی نہیں ایکسیپٹ۔۔۔۔۔ساری دنیا کو چھوڑ کے آپ کو آفر کی ہے تو کوئی تو خاص بات ہو گی نا آپ میں۔۔۔۔۔۔میرے پرپوزل پہ غور کریں اور رات تک جواب دیں مجھے لیکن جواب ہاں میں ہونا چاہیے۔اور اگر یہ پرپوزل نہیں منظور تو پہلے پر غور کریں…!!اب کی بار اگر پھر سے انکار کیا تو نتائج کی زمہ دار آپ خود ہوں گی…..!!اب کے رعونت بھرا دھمکی آمیز انداز تھا………!!

حیا کا تو اس کے الفاظ اور انداز دونوں پر حیرانی اور طیش سے برا حال ہو گیا…..!!

او ہیلو مسٹر…. !!

شرم تو نہیں آتی اتنی گھٹیا بات کرتے ہوئے…..اوپر سے دھمکی بھی دیتے ہیں……. عورتوں کی عزت کرنا کسی نے نہیں سکھایا آپ کو…….اپنی شہرت اور دولت کا رعب کسی اور پر جمائیے…..میں آپ سے قطعی امپریس ہونے والی نہیں…… سپرسٹار ہوں گے آپ اپنے لئیے اور باقی دنیا کیلئے…بٹ میرے لئے مائی فٹ…….!!

اور ہاں یہ غلط فہمی اپنے دل سے نکال دیجیۓ کہ ہر کوئی آپ جیسوں کو جھک کے سلام کرے گا……میں لعنت بھیجتی ہوں آپ پر آپ کے نام اور پیسے پر اور آپکی ایسی بے ہودہ آفرز پر………….!!

نفرت ہے مجھے تم جیسے لوگوں سے جو صرف نام کے مسلمان ہوں حرام کماتے ہوں اور حرام کھاتے ہوں۔۔۔۔ جن کی زندگی میں حرام حلال کی تمیز ہی نا ہو۔۔۔میں آپکی دھمکی سے ڈرنے والی نہیں جو کرنا ہے کر لو….اور ہاں دوبارہ مجھے فون کیا نا تو ریکارڈنگ کر کے میڈیا اور پولیس کو دے دوں گی شدید غصے سے ایک ہی سانس میں بولتے ہوئے اس نے فون کاٹ دیا….اور نمبر کو بھی بلیک لسٹ میں ڈال دیا….!!

یہ سوچے بغیر کہ جس نمبر کو وہ بلیک لسٹ میں ڈال رہی ہے اس نمبر کو حاصل کرنا ہر شخص کی پہنچ میں نہیں اور ناجانے اس کی کتنی فینز ترستی ہونگی اس کا نمبر حاصل کرنے کیلئے…..!!مگر اس کیلئے شائد ماحر سکندر اور ایک عام انسان میں کوئی فرق نہیں تھا….تبھی زیر لب اسے گالیوں سے نوازتے ہوئے نمبر کوبلیک لسٹ میں ڈال دیا…!!

اس قدر انسلٹ…….اس قدر اسکی ذات کی نفی کر گئی وہ لڑکی کہ وہ ششدر رہ گیا تھا….

اپنی کنپٹیوں کو سہلانے لگا تو اندر ایک لاوا بھڑکنے لگا جس کی رو میں سب کچھ بہتا نظر آ رہا تھا…….!!

اگر یہی کال وہ حیات عبدالرحمان کے بجائے کسی ایسی لڑکی کو کرتا جو اسکی فین ہوتی تو وہ لڑکی تو لازماً خوشی کے مارے بے ہوش ہو جاتی…..!!مگر یہ حیات تھی جس کے نزدیک یہ کوئی بڑی بات نہیں تھی کہ ایک مشہور ومعروف فلم سٹار اسے اہمیت دے رہا تھا…..اگر وہ اسکی فلمیں دیکھ چکی ہوتی یا گوگل پہ اسکے بارے میں پڑھ چکی ہوتی تو اسے ماحرسکندر کی ویلیو اور اپنی خوش قسمتی کا احساس ضرور ہوتا….. !!

مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ ایک ایسا شخص جس کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے لوگ بےقرار رہتے ہیں اسکے منہ پہ انکار اور بے عزتی کا طمانچہ مار کے وہ اپنی بربادی کو دعوت دے چکی تھی…..!!

ایڈیٹ انسان خود کو سمجھتا کیا ہے۔سامنے آئے تو منہ توڑ دوں۔وہ غصے سے بڑبڑائی۔۔۔جب کہ وہ دوسری طرف کھولتے دماغ کے ساتھ اسے تصور میں اپنے قدموں پر جھکا ہوا دیکھ رہا تھا…..!!

ہاں فراز بولو۔۔۔۔کام ہوا۔۔۔؟؟ لہجے میں بے تابی ہی بے تابی اور شدید اضطراب تھا…….!!

نہیں سر۔۔ایکچولی وہ آج یونیورسٹی نہیں آئیں۔۔دوسری طرف فراز نے ہچکچاتے ہوئے جواب دیا۔۔۔!!

اگر وہ ایک ہفتے تک یونیورسٹی نہیں آئی تو تم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ کر انتظار کرتے رہو گے۔۔۔۔وہ غصے سے بولا…..

نہیں سر وہ ایک ہفتہ چھٹی نہیں کریں گی۔۔دو دن بعد اس کے پیپرز سٹارٹ ہو رہے ہیں وہ ضرور آئے گی۔۔۔

ٹھیک ہے میں پرسوں تک ویٹ کر لیتا ہوں۔۔۔

لیکن اگر پرسوں تک کام نا ہوا تو میں تمہیں فارغ کر دوں گا انتہائی سخت لہجے میں تنبیہہ کی۔۔۔!!

بس نہیں چل رہا تھا کہ حیات عبدالرحمان کو فوراً سے اٹھوا کے اپنے قدموں میں گرا دے……اس کا انکار اور اسکی باتیں ماحر سکندر کے دماغ پر ہتھوڑے کی طرح لگ رہی تھیں…..!!مگر اپنے اندر اٹھتے اشتعال پر وقتی طور پر قابو پا لیا تھا اس نے………..!!

جی جی سر آپ فکر نا کریں میں۔۔۔فراز نے بوکھلا کے یقین دہانی کرانی چاہی مگر ماحر نے کال ڈراپ کر دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

پرسوں تک لازمی کام کرنا ہوگا ورنہ ماحر سر نے پکا جاب سے نکال دینا ہے مجھے۔خود سے بڑبڑاتے ہوئے وہ ارسلان کو کال ملانے لگا۔۔۔۔۔!!

بلیک پینٹ پر بلیک کوٹ پہنے سیاہ گوگلز لگائے اپنی چارمنگ پرسنالٹی سمیت گارڈ اور مینیجر کے ساتھ جیسے ہی وہ ایورینیو سٹوڈیو سے باہر نکلا تو انتظار میں کھڑے میڈیا کے نمائندوں نے چاروں طرف سے گھیر لیا…سوالات اور فلیش لائٹس کی ایک بوچھاڑ تھی جو اس پر پڑ رہی تھی……….. !!

آج وہ ایک مشہور مارننگ شو میں اپنی فلم ساتھیا کی پروموشن کیلئے آیا تھا….شو میں آنے سے نا صرف فلم کی پروموشن کا کام ہوا بلکہ شو چلانے والے چینل کوبھی دوگنا فائدہ ہوا ماحرسکندر کی وجہ سے شو کی ریٹنگ کئی گنا بڑھ گئی تھی……یو ٹیوب پر ایک گھنٹے میں ہی کئی ملین ویوز تھے……

شو میں فلم کی ہیروئن مثال شیرانی بھی تھی….!!

میڈیا سے بمشکل جان چھڑا کے گاڑی میں بیٹھا تو مثال شیرانی کی کال آ گئی……!!

ماحر مجھے لگا شو کے بعد تم میرے ساتھ کچھ ٹائم سپنڈ کرو گے مگر تم تو مجھے اگنور کر کے چلے گئے دل بھر گیا مجھ سے کیا…….!!اداس+شکایتی انداز تھا….

نہیں ایکچولی ایک فرینڈ کو ٹائم دیا ہے…..سو ابھی وہیں جا رہا ہوں فری ہو کے تم سے کنٹیکٹ کروں گا….بے زار سےلہجے میں کہتے بنا اسے کوئی اور بات کہنے کا موقع دیے کال کاٹ دی…….!!

دوسری طرف مثال شیرانی اسکے یوں اگنور کرنے پر کھول کے رہ گئی…….اچھی طرح جانتی ہوں کونسے فرینڈ کو ٹائم دیا ہوا ہے…..!! ماحر سکندر خان باقی ہیروئنز کی طرح مجھے بھی ٹشو پیپر کی طرح استعمال کر کے پھینک دو گے ایسا میں ہونے نہیں دوں گی……!!وہ دانت پیس کر بڑبڑا رہی تھی……….!!

سر کہاں چلنا ہے…..؟؟ڈرائیور نے پوچھا

گلبرگ……..!! مختصر جواب دے کے وہ شان بے نیازی سے کھڑی سے باہر دیکھنے لگا اسکے ساتھ مینیجر فرقان جبکہ ڈرائیور کے ساتھ گارڈ بیٹھا ہوا تھا…..!!

گلبرگ پہنچ کر ایک بلڈنگ کے سامنے اس نے مرسڈیز رکوائی…سر پر کیپ پہنی ماسک پہنا تاکہ کوئی آسانی سے پہچان نا سکے مینیجر اور گارڈ کو ڈرائیور کے ساتھ اس نے روانہ کر دیا اور خود لفٹ کے ذریعے چوتھی منزل پر واقع اپارٹمنٹ پر پہنچا جیسے ہی اس نے بیل بجائی دروازہ فوراً کھل گیا…..!!

او تھینکس گاڈ آخر کار آپ آ ہی گئے…..دروازہ کھولنے والی شخصیت اسکے فوراََ گلے لگ گئی۔اسکے ایک ایک انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ کس قدر بے چینی سے ماحر کا انتظار کر رہی تھی…….؟

بس ڈارلنگ شو سے فری ہو کے سیدھا تمہارے پاس ہی آ رہا ہوں وہ اسکا ایک ہاتھ پکڑے دوسرا بازو بے تکلفی سے اسکے گلے میں ڈالے بیڈروم میں آ گیا…….!!

یہ خاتون بھارتی نژاد امریکی فیشن ڈیزائنر سومی سہگل تھی جس سے آٹھ ماہ پہلے لاس اینجلس میں ایک فیشن شو میں ماحرسکندر خان کی ملاقات ہوئی تھی تب سے وہ اسکے لئیے پاگل ہوئی پھر رہی تھی……!!

ماحر سکندر پچھلے آٹھ ماہ سے اسکے ساتھ خفیہ ریلیشن شپ میں تھا….!!اس بات کی بھنک ابھی تک میڈیا کو نہیں پڑی تھی…. مہینے میں ایک بار وہ اپنی ہر طرح کی مصروفیات سے ٹائم نکال کر سومی سے ملتا تھا….اگر خود ملنے نا جا سکتا تو جس ملک میں بھی فلم کی شوٹنگ کر رہا ہوتا سومی وہاں دوڑی چلی آتی….. دونوں میڈیا کی پہنچ اور نظروں سے دور تنہائی میں ایک ساتھ وقت گزارتے تھے….!!

پچھلے ڈیڑھ مہینے سے وہ پاکستان میں ہی شوٹنگز میں مصروف تھا…اسی مصروفیات کی وجہ سے وہ اس سے نہیں مل پایا تھا….سو دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر وہ پاکستان چلی آئی تھی اور پچھلے تین دن سے کراچی میں موجود تھی……!!

اگرچہ سومی اس سے شادی کی خواہشمند تھی مگر وہ یہ بھی جانتی تھی کہ لفظ شادی کی ماحر کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں تھی نا وہ شادی کر کے کسی ایک کا پابند ہو کے رہ سکتا تھا نا اپنی لاکھوں کروڑوں فینز کا دل توڑنا چاہتا تھا…..سو وہ شادی والی خواہش دل میں دبائے ماحر کی ان عنایات پر ہی خوش تھی……..!!

جس دن وہ آئی تھی اس دن ماحر اس سے ملا تو تھا مگر صرف دس منٹ کیلئے تب سے وہ اسکا بے صبری سے انتظار کر رہی تھی….!!

ہوٹل میں ٹھہرنے کے بجائے اس نے اپارٹمنٹ لے لیا تھا…!! کیونکہ ہوٹل میں سٹے کرنے کی صورت میں میڈیا کی نظروں میں آنے کا امکان زیادہ تھا….!!

فلحال میڈیا میں ماحر سکندر کے ساتھ مثال شیرانی کا نام ہی لیا جا رہا تھا کیونکہ فلم میں ساتھ کام کرنے کی وجہ سے وہ اسکے ساتھ زیادہ دیکھی جا رہی تھی..

سومی کی اچانک آمد کی وجہ سے ماحر کی توجہ اب سومی کی طرف ہوگئی تھی سو آج سومی کی وجہ سے وہ مثال شیرانی کو آگنور کر آیا تھا……!!

اب جب تک سومی پاکستان میں ٹھہرتی ماحر کی نظر کرم صرف اسی پر ہی رہنی تھی…اور اب نا جانے کب تک اس کا پاکستان میں رکنے کا ارادہ تھا اور کب تک ماحر کی خفیہ آمدورفت اس اپارٹمنٹ میں جاری رہنی تھی….سومی سہگل سے اسکے خفیہ افیئر کے بارے میں مینیجر سمیت اسکی ٹیم کے صرف چند لوگ ہی واقف تھے…….!!

وہ ماسک گوگلز وغیرہ اتار کے جوتوں سمیت بیڈ پر دراز تھا…بلیک سکرٹ میں گھٹنوں تک ننگی ٹانگوں اور سلیولیس بازوؤں والی سومی سہگل اسکی باہوں کی قید میں اسکے ساتھ ہی لیٹی ہوئی تھی….!!

جائز، ناجائز رشتہ اور محرم، نامحرم جیسے لفظوں سے بے نیاز وہ ایک دوسرے کے ساتھ مگن تھے…..!!

کب تک رکنے کا ارادہ ہے یہاں….؟وہ اسکے برہنہ بازوؤں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھ رہا تھا………!!

جب تک آپ کا مجھ سے دل نہیں بھر جاتا اور آپ مجھے خود جانے کا نہیں بولتے تب تک…….!!وہ اداسی سے بولی……….!!

دیکھو سومی تمہیں بنا بتاۓ یہاں نہیں آنا چاہیے تھا…….میں آجکل بزی تھا چند دن میں فری ہو کے تمہارے پاس امریکہ آ جاتا…جانتی ہو نا لاسٹ بار جب تم یہاں آئی تھی تو مسئلہ ہوا تھا……!!وہ اسے سمجھاتے ہوئے کہہ رہا تھا……… چھے ماہ پہلے بھی وہ اسے بنا بتاۓ پاکستان آگئی تھی پھر ماحر کے پروڈکشن ہاؤس کے نزدیک ہی ایک فلیٹ کرائے پر لے لیا تھا….ایک مہینہ وہ رہی تھی….. فلیٹ میں ماحر کی خفیہ آمدورفت اور سومی کی مشکوک سرگرمیوں کی وجہ سے بلڈنگ میں رہنے والے لوگوں کے ہنگامہ کرنے کی وجہ سے سومی کو وہ فلیٹ چھوڑ کر واپس امریکہ جانا پڑا تھا یہ خبر اگرچہ میڈیا میں آئی تھی مگر کوشش کے باوجود میڈیا سومی سہگل کے بارے میں پتہ لگانے میں ناکام رہا تھا….!!

کیا کروں دل کے ہاتھوں مجبور ہوگئی تھی دو مہینوں سے آپ مجھے ملے نہیں پھر میڈیا میں آپ کے اور مثال شیرانی کے بارے میں سن سن کے چین سکون سب چلا گیا تھا تو کیسے رہے پاتی بھلا…..!!

اسکے خوبصورت مغرور نقوش والے چہرے پر نگاہیں جمائے ہوئے بولی بلاشبہ وہ وجاہت کا شاہکار تھا چھا جانے والی سحر انگیز پرسنالٹی کا مالک…!! کاش یہ ہمیشہ کیلئے میرا ہو جاتا……!! دل سے ہمیشہ کی طرح ایک حسرت ابھری… ایک ایسی حسرت جس کا پورا ہونا ممکن نہیں یہ بات وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ ماحر سکندر کیلئے صرف اور صرف ایک اچھی دوست ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں بلکہ وہ یہ بھی جانتی تھی کہ ماحر سکندر کی زندگی میں جو بھی لڑکیاں آئیں وہ اس کیلئے صرف اور صرف ٹائم پاس ہی رہیں…..!! مگر یہ سب جانتے بوجھتے بھی وہ پھر سے ماحر کی جھولی میں گرنے کیلئے پاکستان چلی آئی تھی….!!

وہ میری کو سٹار ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں پھر میڈیا کا تو تمہیں پتہ ہے وہ رائی کا پہاڑ بنا دیتا ہے…

خیر چھوڑو بہت ٹائم بعد ملے ہیں باتیں تو بعد میں ہوتی رہیں گی پہلے ایک دوسرے کو فیل تو کر لیں….وہ اسکے چہرے پر جھکا تھا.. سومی بھی سب باتیں اگنور کرتے ہوئے اسکی ان وقتی عنایات پر خوش ہوتی اسکا ساتھ دینے میں مصروف ہوگئی…..!!

رحمت بوا بابا اور ممی رات کتنے بجے گھر آئے تھے۔۔؟

ڈائننگ ٹیبل پر اسکے لئے ناشتہ لگاتی بوا سے حیات نے پوچھا۔۔۔۔۔

بیٹا صاحب اور سائرہ بیٹیا تو رات گھر نہیں آئے۔۔۔بوا نے جوس کا گلاس اسکے آگے رکھتے ہوئے کہا…..!!

کیا بابا لوگ رات گھر نہیں آئے اور آپ مجھے اب بتا رہی ہیں بوا۔۔۔وہ پریشان ہو کے بولی….. !!

بیٹا پریشانی کی بات نہیں ہے صبح صاحب کا فون آیا تھا وہ نو بجے تک آ جائیں گے……..کل جاتے وقت وہ مجھے بتا کے گئے تھے کہ شائد رات کو نہیں آ سکیں گے اور آپ کو بتانے سے منع کیا تھا کہ آپ پریشان ہو جائیں گی اسی لئے میں نے آپ کو نہیں بتایا۔۔۔رحمت بوا نے تفصیل بتائی۔۔۔۔۔۔!!

کیا ممی کی طبیعت زیادہ خراب تھی۔۔۔؟اسے تشویش ہوئی……..!!

ہاں بیٹا سائرہ بیٹی کی طبیعت بہت زیادہ خراب تھی….اللّٰہ پاک اسے صحت و تندرستی عطا کرے۔۔۔۔بوا خلوص دل سے بولیں…..!!

آمین…..بوا مون کو اٹھا کے ناشتہ بھی کرا دیں اور سکول کیلئے تیار بھی…. اور جب بابا لوگ آجائیں تو مجھے بتا دیجیۓ گا میرے ایگزامز ہونے والے ہیں میں اپنے روم میں سٹڈی کرنے جارہی ہوں….. تھرماس میں سے اپنے لئیے چائے نکالتے ہوئے بوا کو ہدایت دیں پھر

چائے کا مگ اُٹھا کے وہ اپنے کمرے میں آئی اور بکس لے کے بالکنی میں آ گئی۔دو گھنٹے بعد رحمت بوا نے اسے عبدالرحمان اور سائرہ کے آنے کی اطلاع دی۔ان کے چہروں پر واضع پریشانی تھی۔پوچھنے پر جو خبر اسے سننے کو ملی اس نے اسے ہلا کے رکھ دیا…..سائرہ رحمان کو برین ٹیومر تھا۔۔۔۔!!

وہ بھی مادہ رسولی جس کی جڑیں دماغ میں پھیل چکی تھیں۔واحد حل آپریشن تھا مگر اس میں بھی بہت رسک تھا 💯 میں سے دس فیصد کامیابی کا امکان تھا۔اس خبر نے اسکے حواس معطل کر دیے تھے۔اگرچہ سائرہ اسکی سوتیلی ماں تھی اگر اس نے حیات کے ساتھ سگی ماؤں والا سلوک نہیں کیا تو سوتیلی ماؤں والا سلوک بھی کبھی نہیں کیا تھا۔ایک انسیت سی ہوگئی تھی حیات کو ان سے۔۔۔سو انکی بیماری کا سن کے اسے حقیقتاً افسوس ہوا……..!!

تو بابا اب کیا ممی آپریشن کروائیں گی۔۔۔۔۔؟وہ عبدالرحمان صاحب کیلئے چائے بنا کے لے آئی تو کپ تھما کے ان کے پاس بیٹھتے ہوئے بولی….. وہ اسوقت لاؤنج میں بیٹھے تھے۔۔۔۔۔!!

اگر نا کروائیں تو بھی زیادہ سے زیادہ چھے مہینے کا ٹائم بتایا ہے ڈاکٹرز نے۔۔۔۔۔۔۔مایوسی انکے لہجے سے عیاں تھی۔اسوقت وہ خود کو اتنا ہی لاچار اور بے بس محسوس کر رہے تھے جتنا گیارہ سال پہلے ہاندا کی بیماری کے ٹائم۔۔۔۔۔۔پریشان نا ہوں بابا انشاء اللّٰہ سائرہ ممی ٹھیک ہو جائیں گی……حیا سے اپنے پیارے بابا کی پریشانی دیکھی نہیں گئی………..!!

کچھ دیر انہیں تسلی دینے کے بعد اپنے کمرے میں آ گئی اور حورین کو کال کرنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

شکر ہے آخرکار تمہیں مجھ پر رحم آ ہی گیا۔۔پہلی ہی بیل پر کال ریسیو کرتے ہی حورین کی شکوہ بھری آواز گونجی۔۔۔

ہاں کیونکہ میں بہت سیڈ ہوں تمہارے علاؤہ کس سے شئیر کرتی اسی لئیے ناراضگی ختم کرنا پڑی۔۔۔۔!!

کیا ہوا حیا۔۔۔؟؟اسکی آواز سے چھلکتی پریشانی کو محسوس کرتے وہ فکرمند ہوئی۔۔۔۔۔۔!!

سائرہ ممی کو برین ٹیومر ہے۔ بابا بہت پریشان ہیں۔مجھ سے انکی پریشانی دیکھی نہیں جاتی۔ ڈاکٹرز نے آپریشن کا کہا ہے بہت رسکی ہے وہ اسے ساری بات بتانے لگی۔۔۔۔۔۔!!

تم پریشان نا ہو۔ اللّٰہ پر بھروسہ رکھو۔انکل آنٹی کو تسلی دو انشاء اللّٰہ آنٹی جلد ٹھیک ہو جائیں گی۔۔ حورین بھی سن کے پریشان ہو گئ….

تقریباً ایک گھنٹہ اسکی حورین سے بات ہوتی رہی.. حورین اسکا ذہن بٹانے کیلئے ہلکا پھلکا ہنسی مذاق کرتی رہی…….!!

حیا کا بھی دھیان بٹ گیا….حورین سے بات کر کے دماغ کچھ فرش ہوا تو وہ پڑھائی میں لگ گئ سہ پہر تک وہ سٹڈی کرتی رہی لنچ بھی اپنے کمرے میں کیا اس دوران دو بار وہ سائرہ ممی کے روم میں انکی طبیعت کا پوچھنے گئ۔۔اسکے بعد سارا ٹائم وہ اپنی

سٹڈی میں مصروف رہی…. رات کو ملازمہ کے بلانے پر کھانے کی ٹیبل پر آئی تو سائرہ ممی بھی بیھٹی ہوئی تھیں…….!!

شائد روتی رہی تھیں کیونکہ آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔۔۔۔۔۔!!

ہمیشہ نک سک سے تیار رہنے والی سائرہ رحمان اسوقت سادہ سے حلیے میں اسے سالوں کی بیمار لگ رہی تھیں۔۔۔۔!!

وہ خاموشی سے کرسی پر بیٹھ گئی اور اپنے لئے پلیٹ میں سالن ڈالنے لگی……!!

حیا بیٹاہماری پرسوں شام لندن کی فلائٹ ہے۔ پیچھے سب تمیں سنبھالنا ہوگا۔اپنا اور مون کا خیال رکھنا ہوگا

اپنے ایگزامز کی بھی اچھے سے تیاری کرنا۔اپنی ممی کیلئے دعا کرنا۔ کھانے کی ٹیبل پر چھائی خاموشی کو عبدالرحمان کی آواز نے توڑا۔۔وہ تینوں بے دلی سے کھانا کھا رہے تھے۔۔۔۔۔!!

جبکہ مون ٹی وی لاؤنج میں نوڈلز کھاتے ہوئے کارٹون دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔!!

جی بابا۔۔۔حیات نے آہستہ سے کہا تو عبدالرحمان نے مطمئن ہوتے سر ہلایا نیپکن سے ہاتھ صاف کیے اور ڈائننگ ٹیبل سے اٹھ گئے۔پیچھے حیات اور سائرہ رہ گئی تھیں۔دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھے کھانے کو اگنور

کیے کسی غیر مرئی نقطے پر نگاہیں مرکوز کیے بیٹھی وہ حیا کو کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی لگیں…….!!

اسوقت حیا کو ان کی حالت پر بے پناہ ترس آیا۔اس کا دل کیا وہ انہیں تسلی دے ابھی وہ اپنے دل میں ایسے الفاظ سوچ ہی رہی تھی جس سے انہیں کچھ حوصلہ ہو سائرہ نے اچانک اسکی طرف دیکھا اور بھیگے لہجے میں بولی حیا تم مجھ سے نفرت تو نہیں کرتی نا۔۔؟

یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں میں آپ سے کیوں نفرت کرنے لگی بھلا۔۔۔حیا کو حقیقتاً شاک لگا انکی بات پر۔۔وہ بھونچکا رہ گئی…….!!

پھر مجھ سے ایک وعدہ کروگی۔۔؟اور ایک اور وعدہ یہ بھی کہ تم اس وعدے کو اچھی طرح نبھاؤ گی۔۔۔ !!امید بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا……!!

جی ضرور….میں آپ سے ہر وہ وعدہ کرونگی جو آپ کہیں گی۔۔۔حیات نے اُنہیں یقین دلانے والے انداز میں کہا۔۔۔

چند لمحے وہ خاموش رہیں پھر گہری سانس لے کر بولیں میں نہیں جانتی میرا آپریشن کامیاب ہوگا یا نہیں مگر اتنا ضرور جانتی ہوں کہ کامیابی کے چانسز بہت کم ہیں۔۔میں اگر نا رہوں تو تم مون کا بہت خیال رکھو گی اس سے بھی بڑھ کر رکھو گی جیسے ابھی رکھتی ہو۔یعنی اپنی جان سے بھی بڑھ کر رکھوگی اسے کبھی میری کمی محسوس نہیں ہونے دو گی۔

میری خواہش اسے آرمی میں بھیجنے کی تھی۔

میرے بعد میری یہ خواہش تم اس سے پوری کرواؤ گی

وعدہ کرو حیا کرو گی نا ایسا۔۔۔۔؟ بات کے اختتام پر انکی آواز اور لہجہ ہی نہیں پلکیں بھی بھیگ چکی تھیں اب وہ آس بھری نظروں سے حیا کی طرف دیکھ رہی تھیں۔۔۔۔

آپ ایسا کیوں کہہ رہی ہیں۔آپ کو کچھ نہیں ہوگا انشاء اللّٰہ آپ کا آپریشن کامیاب ہوگا آپ بالکل ٹھیک گھر واپس آئیں گی۔۔حیا کے دل کو کچھ ہوا تھا۔۔

نہیں جو کچھ میں نے تم سے کہا اس کا وعدہ کرو مجھ سے۔۔وہ بعضد ہوئیں…….!!

جی وعدہ کرتی ہوں کہ مون کا اپنی جان سے بھی بڑھ کر خیال رکھونگی۔۔۔موت اور زندگی کے پینڈولم میں جھولتے انسان کو تسلی دینا ضروری تھا…….!!

تھینک یو سو مچ حیا تم نے میرا بوجھ ہلکا کر دیا اب اگر موت آئی بھی تو سکون سے مرونگی اور ہاں اپنے بابا کا بھی خیال رکھنا انہیں اکیلا مت ہونے دینا۔۔آخری لفظ سرگوشی نما انداز میں کہتے وہ نم آنکھوں کے ساتھ ٹیبل سے اٹھ کر چلی گئیں پیچھے حیا انکی باتوں پر بیٹھی سوچ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔!!

دوسرے دن سنڈے تھا۔صبح صبح ہی فضا بھابھی کی کال آگئی آج لنچ پہ تم نے آنا ہے۔ گھر میں پھیلی پریشانی کی وجہ سے وہ ان سے معذرت کرنا چاہ رہی تھی مگر اسی وقت سائرہ وہاں آئیں موبائل سپیکر پر تھا تو انہوں نے سن لیا اور حیا کو اشارے سے منع کر دیا تھا پھر فون خود لے کر فضا سے بات کرنے لگی اور حیات کے آنے کا یقین دلایا اگرچہ فضا نے انہیں بھی ساتھ آنے کو کہا مگر وہ طبعیت کی خرابی کا کہہ کے ٹال گئیں…….!!

حیات کو فضا کے گھر جانے کی تاکید کر کے وہ مون کے ساتھ قریبی پارک میں چلی گئیں۔دو دن بعد انکی فلائٹ تھی کل سے وہ زیادہ سے زیادہ ٹائم اپنے بیٹے کے ساتھ گزار رہی تھیں۔۔۔۔۔۔!!

ٹی پنک لان کاٹن کی شارٹ فراک پر کریم کلر کڑھائی کی گئی تھی۔۔۔ ساتھ ہی کریم کلر ٹراؤزر اور اسی رنگ کا دوپٹہ لئے وہ کھلے ہوئے گلاب کی مانند تروتازہ لگ رہی تھی!!

آگے کے بالوں کو پیچھے کی طرف موڑ کے چھوٹا سا کیچر لگا دیا اور باقی بالوں کو کھلا رہنے دیا کیونکہ کچھ دیر پہلے نہانے کی وجہ سے ذرا گیلے تھے۔۔۔

لائٹ سا میک اپ کیے……..

پیروں میں نفیس سی سینڈل پہنے…تیاری کو فائنل ٹچ

دے کے وہ بنگلے سے باہر آئی۔۔۔۔!!

ڈیفنس ایریا میں قطار در قطار بنگلے تھے… تیسری سڑیٹ کا آخری بنگلہ فضا کا تھا…..وہ اس کے گیٹ پر پہنچی تو چوکیدار نے فوراً گیٹ کھول دیا……

صدر دروازے سے اندر داخل ہوتے ہوئے اسکی نظر فارس بھائی پر پڑی جو سامنے ہی بیٹھے کسی سے باتیں کرنے میں مگن تھے..جبکہ دوسرے بندے کی اسکی طرف سے پشت تھی…..!!سو وہ جان نہیں پائی کہ وہ کون ہے………..!!

ارے حیا آؤ آؤ……کیسی ہو….؟؟ فارس بھائی کی اس پر نظر پڑی تو خوشدلی سے مسکراتے ہوئے کہا….

اسلام علیکم….وہ کچھ جھجھکتے ہوئے آگے بڑھی!!

وعلیکم السلام……ارے حسن ان سے ملو یہ حیا ہے

فضا کی دوست…..فارس کے کہنے اس بندے نے سائیڈ پر گردن گھمائی تو حیات عبدالرحمان تو مارے حیرت کے اپنی جگہ منجمد ہو گئی…..

جبکہ وہ بندہ تو ایک لمحے کو سانس لینا بھول گیا….

نیلی آنکھوں پر لانبی پلکوں کا سایہ تھا…سنہری مائل بھورے بال سنہری جلد کے ساتھ بہت بھلے لگ رہے تھے

اسکے ہونٹوں پر کوئی لپ اسٹک نہیں تھی مگر بہت سرخ لگ رہے تھے.. ٹی پنک اور کریم کلر کے کمبینیشن کے ساتھ وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی…وہ صرف ایک لمحے کیلئے مبہوت ہوا تھا..پھر فوراً سنبھل کر نظروں کا زاویہ چینچ کر لیا……..وہ اسے وہاں دیکھ کے کافی حیران تھا!!

فضا بھابھی کہاں ہیں……؟؟ جلد ہی حیا نے خود کو حیرانی+ شاک سے نکالا مگر کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا بولے تو فوراً سے فضا کا پوچھا…….!!

کچن میں…..؟فارس نے جواب دے کے جانچتی ہوئی نظر سے دونوں کو دیکھا…ان کے ایک دوسرے کو دیکھنے کے انداز سے ہی اسے کچھ کچھ اندازہ ہو گیا تھا…!!

کیا تم دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہو…؟؟

حیات عبدالرحمان کے وہاں سے بھاگتے ہی وہ فوراً حسن کی طرف متوجہ ہوا……

ہاں یونی میں سٹوڈنٹ ہے میری….بنا اسکی طرف دیکھے لاپرواہی سے جواب دیتے وہ اپنے موبائل کی طرف متوجہ ہوگیا جبکہ فارس کے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ تھی……!!

بھابھی…..فضا بھابھی…..وہ تیزی سے کچن میں داخل ہوئی جہاں فضا ملازمہ کے ساتھ ڈشز تیار کروا رہی تھیں……!!

ارے حیا آ گئی تم……وہ اسے دیکھ کے خوش ہوئیں

یہ..یہ آپکے گھر میں ارتضیٰ سر کیسے……؟؟

ارے تم جانتی ہو اسے….انہیں خوشگوار حیرت ہوئی

ہاں یہ ہمارے سائیکالوجی کے پروفیسر ہیں…مگر یہ یہاں…..اسکی آنکھوں میں تحیر تھا!!

یہ میرا بھائی ہے حسن جس کا میں تم سے ذکر کیا کرتی تھی…اچھا تو تم اسکی سٹوڈنٹ ہو….وہ مسکرائیں………!!

اوہو…..حسن یعنی…. ارتضیٰ حسن…وہ خود سے بولی

ویسے کیسے ٹیچر ہیں حسن … سخت تو نہیں۔۔۔؟؟

سخت…. اس نے آنکھیں پھیلائیں….. یہ سخت لفظ تو بہت چھوٹا ہے ان کیلئے…ایک نمبر کے ظالم+جلاد پروفیسر ہیں آپ کے بھائی..سب سٹوڈنٹس کا خون خشک کیے رکھتے ہیں…..حیات کو اپنی دو دن پہلے والی بے عزتی یاد آگئی جو پریزنٹیشن کے دوران انہوں نے کی تھی…کھیرے کا ٹکڑا منہ میں رکھتے ہوئے وہ تیوری چڑھا کے بولی جبکہ فضا کھلکھلا کے ہنس پڑی……….!!

اچھا میں آج اسکے کان کھنچوں گی تمہارے ساتھ سختی نہیں کرے گا…..!!

نہیں نہیں بھابھی اسکی کوئی ضرورت وہ کیا سوچیں گے کہ میں نے آپ سے سفارش کروائی۔ویسے بھی مجھے کوئی مسئلہ نہیں مجھے تو ایسے( stricket) اور اصول پسند اساتذہ ہی پسند ہیں…وہ جلدی سے بولی مبادا کہیں فضا بھابھی کہہ ہی نا دیں…..!!

اچھا واقعی…… یعنی حسن تمیں پسند ہے….؟وہ شرارت سے مسکرا کر پوچھ رہی تھیں۔۔۔۔!!

ہاں۔۔ نہیں۔۔آئی مین کے اسطرح کے اساتذہ مجھے پسند ہیں…. گڑبڑا کر بولی..مگر فضا کا مسلسل مسکرانا اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا….!!

آپ مسکرا کیوں رہی ہیں…؟؟وہ چڑ گئی….. !!

کچھ نہیں ایسے ہی… میکرونی تیار ہوگئ ہے…باقی کام رشیدہ دیکھ لے گی چلو ہم ڈرائنگ روم میں چلتے ہیں…انہوں نے بات بدلتے ہوئے کہا جبکہ وہ ڈرائنگ روم کا سن کے بدک اٹھی…….!!

نہیں نہیں بھابھی میں وہاں نہیں جاؤنگی۔وہاں ارتضیٰ سر بیٹھے ہیں..وہ منمنائی…….!!

تو کیا ہوا۔۔۔وہ تمہیں ڈانٹیں گے تھوڑی نا….میں ہوں نا

فضا نے پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا…..!!

مگر وہ ڈرائنگ روم میں جانے پر راضی نہیں ہوئی…

لیکن فضا بھی اپنے نام کی ایک تھی….ہاتھ پکڑ کے زبردستی ڈرائنگ روم میں لے آئی….فضا کے ساتھ اسے آتا دیکھ کر ارتضیٰ حسن نے پل کے پل نظر اٹھا کے اسکی طرف دیکھا تو وہ فوراً نظریں جھکا گئی…..!!

جتنی دیر وہاں بیٹھے رہے فضا اور فارس ہی بولتے رہے جبکہ وہ دونوں ایک دوسرے سے لاتعلق نظریں جھکائے ان دونوں کی باتوں کا جواب صرف ہاں ہوں میں دیتے رہے…..جب کے اس دوران فارس مسلسل مسکراتی ہوئی معنی خیز نگاہوں سے ارتضیٰ کی طرف دیکھتا رہا….مگر ارتضیٰ اسے اگنور کیے بیٹھا رہا…اکیلے میں فارس کی خبر لینے کا ارادہ رکھتا تھا کیونکہ بہنوئی اور سالے کے علاوہ دونوں میں دوستی اور بے تکلفی کا رشتہ بھی تھا…… !!

بیس منٹ بعد ملازمہ نے لنچ لگنے کی اطلاع دی وہ سب ڈائننگ ہال میں آ گئے۔حیات فضا کے ساتھ بیٹھی مگر کرسی اسکی عین ارتضیٰ حسن کے سامنے تھی۔

پہلے وہ وہاں آ کے بیٹھی تھی۔ارتضی حسن بعد میں

آ کر بیٹھا تھا سو وہ چئیر چینج بھی نہیں کر سکتی تھی…….!!

اور حیا سائرہ آنٹی کی طبیعت اب کیسی ہے فضا بتا رہی تھی کہ ٹھیک نہیں تھی…..وہ جو سر جھکائے بے حد تکلف سے آہستہ آہستہ کھا رہی تھی فارس بھائی کے مخاطب کرنے پر سر اوپر اٹھایا…..

جی ٹھیک نہیں ہے…. برین ٹیومر کی تشخیص ہوئی ہے……..!!وہ دھیرے سے بولی….!!

اوہو سو سیڈ اللّٰہ پاک انہیں صحت دے…. کہاں پہ ٹریٹمنٹ چل رہا ہے…..؟؟

بابا امریکہ لے جا رہے ہیں انہیں آپریشن کیلئے…..

اوہو کب…….؟؟

پرسوں…..آہستہ آواز میں جواب دے رہی تھی….!!

بہت رسکی آپریشن ہے سائرہ آنٹی کا….برین سرجن احتشام خان نے آپریشن کیلئے امریکہ (Suggest)

کیا ہے وہاں ڈاکٹرز کی ایک ٹیم تشکیل دی جارہی ہے….

اب کے فضا خود فارس کو تفصیل سے آگاہ کر رہی تھی

فون پر ہی وہ حیات سے ساری بات سن چکی تھی۔۔

اچھا حیا تم بالکل پریشان مت ہونا آنٹی کا آپریشن انشاء اللّٰہ کامیاب ہوگا….خود کو اکیلا مت سمجھنا کوئی بھی مسئلہ ہو ہمیں لازمی بتانا…. فضا سے ڈیٹیل سن کے انہیں خاصا افسوس ہوا تو انہوں نے خلوص دل سے حیات کو مخاطب کیا جس نے صرف سر ہلانے پر اکتفا کیا…..!!

جیسے ہی کھانے کی ٹیبل سے سب اٹھے وہ ان دونوں سے اجازت لے کر واپس آ گئی حالانکہ وہ اسے چائے پر روک رہے تھے مگر حیات نے معذرت کر لی انہیں خدا حافظ کہتے وقت اسکی ایک غیر ارادی نگاہ ارتضیٰ حسن پر پڑی جو کہ اپنے موبائل کی طرف متوجہ تھا

کیا کہا تمہاری فیملی نے ہمارے رشتے کے بارے میں…؟؟

ایوارڈ شو کی اختتام پر وہ اسکے ساتھ چلتی ہوئی پارکنگ میں آئی اور دونوں اطراف سے آگے پڑے بالوں کو پیچھے جھٹکتے ہوئے پوچھا…..

ابھی تو کوئی راضی نہیں ہو رہا مگر ہونا تو ضرور پڑے گا چاہے کتنا عرصہ کیوں نا لگ جائے….صاف گوئی سے جواب دیتے ہوئے وہ اپنی گاڑی کے پاس رکا اور پلٹ کر لیزا ایوب کو دیکھا جس نے بغیر آستینوں کے نیٹ کا پاؤں کو آتا لمبا چوغا نما ڈریس پہن رکھا تھا

جو کہ گھٹنوں کے بعد نیچے سے مکمل اوپن تھا۔۔ چلتے وقت ایک طرف کی ٹانگ سے کپڑا بالکل ہٹ جاتا تھا جسکی وجہ سے ایک ٹانگ مکمل اور باقی آدھی برہنہ نظر آتی تھی…. پنسل ہیل پہنے اس لمبے تنگ چوغے نما ڈریس میں وہ ذرا اچھی نہیں لگ رہی تھی…!!

وہ دونوں ایک ساتھ آئے تھے ایوارڈ شو میں شرکت کرنے…..عبیر سکندر ماحر سکندر کی جگہ ایوارڈ وصول کرنے آیا تھا….. !!

جس طرح کا ڈریس لیزا ایوب نے پہن رکھا تھا۔

ایوارڈذ شوز میں آجکل اسطرح کے عجیب وغریب بے ہودہ ڈریسز پہننے کی دوڑ لگی ہوئی تھی ان ڈریسز کو ڈیزائن کرنے والے بھی عقل سے پیدل ہوتے ہیں کہیں سے بھی قینچی چلا دیتے ہیں….سو آجکل ایوارڈز شوز اور ریمپ وغیرہ پہ ہیروئنز اسطرح کے عجیب وغریب بدنما ملبوسات میں ہی دکھائی دیتی ہیں………!!

عبیر اگر تمہارے گھر والے نا مانے تو کیا تم مجھے چھوڑ دو گے…..؟اسے خدشہ لاحق ہوا…..!!

ہر گز نہیں پچھلے ایک سال سے تمہارے ساتھ ہوں شادی کروں گا تو صرف تم سے….رہی بات میری فیملی کی تو انہیں تمہیں قبول کرنا ہی ہوگا….!!انداز سے ضد جھلک رہی تھی…….!!

لو یو سو مچ ڈارلنگ…..وہ خوشی سے نہال ہوتے ہوئے بے باکی سے پبلک پلیس پر ہی اسکے گلے لگ گئی…..!!

لو یو ٹو سویٹ ہارٹ…..!!وہ بھی بے تکلفی سے اسے گلے لگائے کھڑا تھا….کچھ فاصلے پر موجود ایک کیمرہ مین یہ سین اپنے کیمرے میں محفوظ کر رہا تھا اب اسے مرچ مصالحے کے ساتھ یہ فوٹو اپنے اخبار میں لگانی تھی…..!!