171.9K
78

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Hayat (Episode 19)

Meri Hayat By Zarish Hussain

سیل سکرین پر اجنبی نمبر دیکھ کر ایک لمحے کیلئے اس کا دل بہت تیزی سے دھڑکا۔۔۔۔”

کون ہو سکتا ہے۔۔۔۔؟؟وہ تذبذب میں مبتلا موبائل ہاتھ میں لئیے بیٹھی رہی۔۔۔۔۔۔ریسیو کرنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔۔ہو سکتا ہے بابا کسی اور نمبر سے کر رہے ہوں۔کیونکہ نمبر پاکستان کا تھا۔۔۔۔۔۔”

مجھے ریسیو کر لینا چاہیے۔۔۔ یہ نمبر بابا کے علاؤہ کسی کے پاس نہیں ، وہی ہی ہونگے۔۔اس نے خود کو تسلی دیتے ہوئے کال اٹینڈ کرنے پر آمادہ کیا۔”

ہیلو۔۔۔۔۔۔”اس نے محتاط انداز میں کہا

دوسری جانب سے جو آواز سننے کو ملی۔۔اسکے ہاتھوں طوطے اڑ گئے۔اتنے دنوں تک جو سکون رہا وہ ایک قدم سے ختم ہوتا محسوس ہوا۔۔۔نمبر کیسے ملا۔۔کہاں سے ملا جیسے سوال پوچھنا بے سود تھا۔۔۔۔۔۔۔

بے اختیار اسکی نگاہیں کچھ فاصلے پر بیٹھے ارتضیٰ کی طرف اٹھیں۔۔۔۔۔۔جو بڑی وارفتگی سے اسکی جانب دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔”

اسے اپنی جانب دیکھتا پا کر اسکی دلفریب مسکراہٹ مزید گہری ہو گئی۔”جبکہ وہ ایک محتاط نظر اس پر ڈال کر فون کی جانب متوجہ ہو گئی جس پر دوسری طرف وہ آسیب موجود تھا۔جس سے جان چھڑوانے کیلئے بابا نے اسے یہاں ترکی بھیجا تھا۔۔۔”

کیوں فون کیا ہے۔۔۔۔۔؟؟اسکے لہجے میں خود بخود رکھائی در آئی۔۔۔۔۔۔۔”

کیوں تمہیں کیا لگا ترکی جا کر مجھ سے پیچھا چھڑا لو گی۔۔۔۔۔میری پسلی اتنی ٹیڑھی نہیں ہے۔جو تم اتنی آسانی سے مجھ سے فرار حاصل کر لو۔ پچھلے ڈیڑھ ماہ سے تم نے مجھے جس ذہنی اور دماغی خلفشار میں الجھا رکھا ہے اس ایک ایک لمحے کا حساب لوں گا تم سے۔۔۔۔۔ بہت تذلیل کی ہے تم نے میری، بخشوں گا نہیں۔۔تمہارے انکار سے میرے اندر وہ آگ لگی ہوئی ہے جو تمہارے اقرار سے ہی بجھے گی اب چاہے یہ اقرار تم اپنی رضامندی سے کرو یا تم سے زبردستی کروایا جائے۔۔۔۔۔۔۔اسکے لہجے میں ایسی غراہٹ تھی کہ وہ ایکدم ڈر کر فون بند کر گئی۔۔۔۔”

اسکے تنفس میں بے ربط سی ہلچل پیدا ہو گئی تھی

رگ و پے میں تیزی سے گردش کرتے خون میں پیدا ہونے والے ڈر اور گھبراہٹ کے تاثرات کو چہرے سے ہویدہ ہونے سے بمشکل روک سکی۔۔۔۔”

کسی فرینڈ کی کال تھی۔۔۔۔؟ ارتضیٰ اٹھ کر قریب آیا اور ہلکا سا مسکرا کر سر سری انداز میں پوچھا۔۔۔۔۔”

جی۔۔۔۔۔وہ بمشکل مسکرائی، ارتضیٰ کو وہ ذرا سا بھی شک نہیں ہونے دینا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ اگرچہ وہ نہیں جانتی تھی، کہ اگر ارتضیٰ کو پتہ چل جائے تو اس کا ری ایکشن کیا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔لیکن وہ رسک نہیں لینا چاہتی تھی،رخصتی سے پہلے وہ اپنے اور اس کے رشتے میں کسی قسم کی دراڑ نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔۔”

کوئی ایمرجنسی کال تھی کیا۔۔۔خاصی ڈسٹرب ہو گئی ہو۔۔۔۔۔۔وہ نفسیات کا پروفیسر تھا،چہرے پڑھنے کا ہنر

اسے آتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکے چہرے پر پھیلے اضطراب سے بھانپ گیا تھا۔۔۔۔۔۔”

وہ گڑ بڑا گئی۔۔۔۔۔”

نن نہیں۔۔۔۔ایسی تو کوئی بات نہیں۔۔۔۔سرد موسم کے باوجود اسکے چہرے سے پسینہ پھوٹ پڑا۔۔۔۔

خوفزدہ ہو کسی سے۔۔۔۔؟لہجہ بہت گہرا تھا۔۔۔۔

نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔۔۔وہ نظریں چراتے ہوئے بولی

پھر گھبرا کیوں رہی ہوں۔۔۔۔؟گہری نظروں سے اس کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔۔

نہیں تو۔۔۔۔گھبرا تو نہیں رہی۔ آپ کا وہم ہے۔لہجے میں اعتماد لانے کی بھر پور کوشش کی۔۔۔۔۔۔

مجھے وہم نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔۔جس شخص کو ہم اپنی زیست سے بڑھ کر چاہیں،اسکے جذبات احساسات

کیفیات بھلا کس طرح ہماری آنکھوں سے۔۔۔۔۔۔ہمارے احساسات سے مخفی رہ سکتے ہیں۔۔۔۔۔اور تم تو میرے

دل میں دھڑکن کی طرح بستی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب دھڑکنیں

بے ترتیب ہوں تو دل پر امن کیسے رہ سکتا ہے۔۔۔۔”

اسکے ایک ایک لفظ میں دہکتے جذبوں کی حکایتیں نپہاں تھیں۔اسکا ایک ایک لفظ اسکے دل کی سچائی بیان کر رہا تھا۔۔۔۔ اسکی اس قدر چاہت اور دیوانگی پر حیات عبدالرحمان کی آنکھیں بھیگنے لگیں۔۔۔۔۔۔”

ارے ارے۔۔۔۔۔۔یہ آنسو کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی پریشانی ہے تو پلیز مجھ سے شئیر کرو۔۔۔۔۔۔وہ تڑپ ہی گیا اسکے آنسو دیکھ کر۔۔۔۔۔۔۔بہت سہولت سے ہاتھ بڑھا کر اسکے رخساروں پر پھیلتے گرم آنسوؤں کو اپنی انگلیوں کی پوروں پر چن لیا۔۔۔۔۔

نئیں پریشانی کوئی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔اور یہ پریشانی کے نہیں خوشی کے آنسو ہیں کہ آپ مجھ سے اس قدر محبت کرتے ہیں۔۔۔۔۔آنکھوں کے ساتھ لہجہ بھی بھیگا تھا۔۔۔۔

تو اس میں رونے کی کیا بات ہے بھلا۔۔۔۔تم ہو ہی اتنی اچھی اتنی پیاری۔۔۔۔چاہے جانے کے قابل۔۔۔اس کے پاس آ کر بے حد نرمی اور اپنائیت سے گویا ہوا۔۔۔۔۔۔

بلو جینز، بلو ریڈ لائننگ شرٹ میں وہ خاصا ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔ایک چور مگر بھر پور نظر اس پر ڈال کر وہ نگاہیں جھکا گئی۔۔۔۔۔۔۔وہ اسکے بے حد قریب بیٹھا تھا۔اسکی قربت کا احساس،اسکے لباس کی پھوٹتی خوشبوؤں کی مہکاروں سے اس کا دل دھڑکنے لگا۔۔۔”

۔۔۔۔۔۔۔ارتضیٰ نے اس کا گلابی نازک سا مومی ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں لیا۔وہ دن میری زندگی کا سب سے خوبصورت ترین دن ہوگا۔۔۔۔۔۔۔جس دن تمہارے یہ ہاتھ میرے نام کی حنا سے مہکیں گے۔ ان پر میری محبتوں کا رنگ چڑھے گا۔جذبات سے چور لہجے میں کہتے ہوئے اسکی ہتھیلی کو چوم لیا۔۔۔۔۔۔”

وہ بری طرح جھینپ گئی۔۔۔۔ سٹپٹا کر اپنا ہاتھ کھینچا اور گلاس وال کے نزدیک جا کھڑی ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس وقت وہ سواس نامی اسی چھوٹے سے علاقے کے ریسٹورنٹ کے کمرے میں موجود تھے۔یہ ریسٹورنٹ اسپیشل سیاحوں کیلئے بنایا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔کھانے پینے کی سہولت کے ساتھ ساتھ رہائش کی سہولت بھی تھی۔ “….ہر کمرے ہال بلکہ پورے ہوٹل میں باہر کے نظاروں کیلئے چاروں طرف شیشے لگے ہوئے تھے۔ارتضیٰ نے روم لیا مگر پورا دن وہ باہر اس حسین وادی میں گھومتے رہے۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی کچھ دیر پہلے وہ واپس آئے تھے۔ایک گھنٹے بعد انہیں یہاں سے واپس استنبول بذریعہ روانہ ہونا تھا۔۔۔۔۔۔”

شام کا سرمئی آنچل ہر سو لہرانے لگا تھا۔غروب ہوتے سورج کی دم توڑتی شعاعوں کا منظر بہت خوبصورت مگر اداس لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔وہ غیر ارادی طور پر شفاف شیشے سے چہرہ ٹکا کر ریسٹورنٹ کے احاطے میں مہکتے سرخ گلابوں اور گیندے کے جھومتے شگوفوں کو یک ٹک دیکھنے لگی۔اسکے اندر جیسے وادی اپنے سر سبز و شاداب وجود کی کسک جگانے لگی۔ساری وادی اپنی تمام تر خوبصورتی کے ساتھ سامنے تھی۔ارد گرد کے پہاڑوں کی کوکھ سے گرتے جھرنے اور آبشار،بے تحاشا حسن بکھرا ہوا تھا وہاں۔۔۔۔”

خوبصورت منظر ہے نا۔۔۔۔۔؟ارتضیٰ اسکے پیچھے آ کھڑا ہوا…..”

جی بہت زیادہ۔۔۔۔۔میرا دل چاہ رہا ہے میں ہمیشہ کیلئے یہاں رک جاؤں۔وہ حسرت آمیز انداز میں بولی۔۔۔۔

ہم انشاء اللّٰہ نیکسٹ ٹائم یہاں ضرور آئیں گے اور بہت سارے دن رکیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسکے کندھوں کے گرد بازو پھیلاتے ہوئے چاہت سے بھرپور لہجے میں کہا

سچی۔۔۔۔۔اسکی نیلی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں

بالکل۔۔۔۔۔۔وہ مسکرایا۔۔۔۔۔”

ابھی چل کے ڈنر کر لیتے ہیں پھر تھوڑی دیر میں واپسی کیلئے نکلنا ہے۔۔۔۔۔۔۔وہ رسٹ واچ پہ ٹائم دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔حیات نے اثبات میں سر ہلایا اور ڈنر کیلئے اسکے ساتھ ہال کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔ “

“۔۔۔۔بلو پینٹ پر ریڈ شرٹ پہنے وہ کھڑکی میں کھڑا سموکنگ کر رہا تھا۔۔۔۔۔نیلے آسمان پر بے شمار چمکتے ستاروں کے جھرمٹ میں پوری تاریخوں کا چاند اپنی آب و تاب سے نگاہوں کو خیرہ کر رہا تھا۔کھڑکی کے ٹیرس پر رکھے رات کی رانی کے پودوں سے آتی مہک سگریٹ کے دھوئیں میں مدغم ہو رہی تھی۔ اس نے منہ اور ناک سے دھواں نکالتے ہوئے چاند کو بغور دیکھا۔دھیرے دھیرے چاند میں اس چہرے کا عکس ابھرنے لگا جس کا وہ بری طرح سے اسیر ہو گیا تھا”جو چہرہ اس کا چین و قرار لوٹ گیا تھا۔۔اسکے اندر آگ بھڑکنے لگی۔ اسکے شعلے بلند ہوتے گئے۔اس نے وحشت زدہ ہو کر دوسرا سگریٹ سلگایا۔۔۔۔۔۔۔اور اپنے اندر لگی آگ کا دھواں باہر نکالنے لگا۔۔۔۔۔۔

ایک عیاش اور بدقماش شخص کا نام لینا بھی میں گوارا نہیں کرتی۔۔۔۔اپنی پیشکش اپنے جیسی ہی کسی لڑکی کو کریں۔۔۔برے مردوں کو بری عورتیں ہی زیب دیتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔چاند کے عکس میں جیسے گلابی ہونٹوں نے زہر اگلا اور اس کا رواں رواں جلنے دھڑا دھڑ جلنے لگا۔۔۔۔

کیا چاند کے عکس میں اس کا چہرہ نظر آ رہا ہے۔۔۔

وہ وحشتوں کے صحرا میں بھٹکنے لگا۔۔۔۔۔۔”

کہیں مجھے اس سے محبت تو نہیں ہو گئی۔دل میں خیال آیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر دماغ نے فوراً اسکی نفی کر ڈالی۔۔۔۔۔۔ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا،عشق و محبت جیسے کام صرف فلموں میں ہی کر سکتا ہوں۔مجھے بس اسے پانا ہے۔۔۔۔۔۔۔اپنے ضد پوری کرنی ہے۔ٹھکرانے اور بات نا ماننے کا بدلہ لینا ہے صرف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

پاؤں کا زخم قدرے بہتر ہو چکا تھا۔تا حال مکمل ٹھیک نہیں ہوا تھا۔۔۔سگریٹ کے دھوئیں میں گم وہ بے چینی اور اضطراب میں مبتلا تھا۔فرقان ترکی پہنچ چکا تھا مگر حیات عبدالرحمان کا پتہ لگانے میں فلحال کامیاب نہیں ہواتھا۔”

وہ بری طرح جھنجھلاہٹ کا شکار تھا۔۔۔ “

ہوں تو ماحر سکندر خان ایسا وقت بھی آنا تھا تجھ پر اس نے منہ سے ڈھیر سارا دھواں نکالتے ہوئے سوچا”

“۔۔زندگی میں بہت سے حسین چہرے دیکھے تھے۔ملک ملک قریہ قریہ گھوما تھا۔کئی حسیناؤں ماہ جبیناؤں کے ساتھ معاشقے چلائے مگر صرف ٹائم پاس کیا۔۔۔۔۔۔۔دل بھرتے ہی راہیں الگ کر لیتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر ناجانے اس لڑکی میں ایسی کیا خاص بات تھی اسے پانے کیلئے دل اس حد تک مچل گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ وقتی سہی مگر وہ اسے اپنی زندگی تک میں شامل کرنے تک کو تیار ہو گیا تھا۔۔۔مگر وہ بڑی بے دردی سے اسے ٹھکرا گئی تھی بلکہ اچھی خاصی تذلیل بھی کر گئی تھی۔۔۔”

“۔۔۔۔۔حیات عبدالرحمان تم نے مجھے برا مرد کہا ہے نا

اب میں تمہیں برا مرد بن کر دکھاؤں گا۔۔۔۔۔۔ “اپنے لئیے گڑھا خود کھودا ہے۔۔۔اپنی بربادی کو خود دعوت دی ہے تم نے۔۔۔۔۔۔۔”

“۔۔۔میں کوئی عام آدمی نہیں ہوں اسلیئے میرے انتقام لینے کا انداز بھی سطحی نہیں ہو گا۔۔۔۔۔۔”

۔تم نے اپنی خوش بختی کو ٹھوکر ماری ہے اب تمہیں تمہاری اوقات یاد دلاؤں گا۔تم سے اپنا آپ منواؤں گا۔یہ وعدہ ہے میرا تم سے۔۔۔۔۔۔گہرا کش لے کے اس نے دھواں کھڑی پر اس بے دردی سے پھینکا گویا وہ کھڑکی نا ہو بلکہ حیات عبدالرحمان کا چہرہ ہو۔۔۔۔۔۔۔”

پورا دن اس چھوٹی سی جنت نظیر وادی میں گزار کر رات کو ہی وہ واپس استنبول پہنچے۔۔۔۔ارتضیٰ اسے لے کر سیدھا المیر ہوٹل آیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔جہاں اس نے کمرہ لیا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔”

“صبح سات بجے اسکی کی آنکھ کھلی۔۔۔۔۔نظر سیدھی

بے خبر سوئی حیات پر پڑی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بلیک اور لال کلر کے بڑے بڑے پھولوں والے ڈھیلے ڈھالے سلیپنگ ڈریس میں ملبوس۔ایک ہاتھ گال کے نیچے اور دوسرا بیڈ پر رکھے سوتے ہوئے وہ بالکل چھوٹی سی بچی لگ رہی تھی۔۔

“اسکے چہرے بہت معصومیت۔۔۔۔۔۔بہت ہی بھولپن تھا۔

بلاشبہ خدا نے اسے خاصی فرصت سے بنایا تھا۔۔چاند جیسا حسن تھا اس کا روشن اور مبہوت کر دینے والا

وہ بے خودی میں اسے دیکھتا رہا۔۔پھر قدرے قریب ہو کر جھکا اور بے اختیار اسکے ماتھے کو چوم لیا۔۔۔نکاح کے بولوں میں بڑی طاقت ہوتی ہے۔۔۔پہلے وہ اسے پسند تھی۔۔۔۔پھر محبت ہوئی اور اب اسے عشق ہو چلا تھا حیات عبدالرحمان سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اسکی صرف حیات نہیں بلکہ متاع حیات بن چکی تھی۔۔۔۔۔۔

۔کئی پل گہری نگاہوں اسے گہری نگاہوں سے دیکھتے رہنے کے بعد وہ اٹھا۔۔۔آہستہ سے کھڑکی کھولی۔آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے۔۔۔۔پھوار سی برس رہی تھی ساتھ ہی تیز ٹھنڈی ہوا بھی چل رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آج کے پروگرام میں لفٹ چئیر اور کروز شپ کے ذریعے باسفورس ٹوور شامل تھا۔جسکی بکنگ وہ رات کو ہی کروا چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

شاور لے کر اور چینج کر کے وہ باہر آیا تب تک حیا بھی جاگ چکی تھی، اور فون پر بات کر رہی تھی۔۔۔”

بالوں کو ٹاول سے خشک کرتا وہ مرر کے سامنے آ کھڑا ہوا اور خود پر پرفیوم کا سپرے کرنے لگا۔بابا سے فون

پر بات کرتے ہوئے وہ کن انکھیوں سے اسکی طرف دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔بلو جینز ریڈ شرٹ میں اپنے مضبوط دراز قد سراپے سمیت وہ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔اسکے چہرے پر سر شاری تھی،سر مستی تھی،بہت خوش لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔

اب وہ پرفیوم رکھ کر بال بنانے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آئینے میں دیکھتے ہوئے وہ اسکی چوری پکڑ چکا تھا۔تبھی ہونٹوں پر نا محسوس طریقے سے مبہم سی مسکراہٹ آ گئی۔۔”

ایسے چوری سے کیوں دیکھ رہی ہو۔آپ کا اپنا ہوں بلا جھجک دیکھئے۔بائی دا وے کیسا لگ ہوں۔۔۔۔؟بتاؤ نا

حیات نے فون بند کیا تو وہ عین اسکے سامنے بیٹھتے ہوئے شوخی سے بولا،اسکی نگاہیں وارفتگی شوق سے اسکے چہرے پر جھکی ہوئی تھیں،لباس سے پھوٹتی دلآویز مہک،سانسوں کی گرمی انگارے بن کر اسکی نس نس میں اتر گئی۔۔۔۔۔۔۔جسم کا تمام خون سمٹ کر چہرے پر آ گیا۔۔۔۔

“گھبراہٹ اور نروسنس نے اسکے حسن کو انوکھی جلا بخشی۔۔۔۔۔۔”

مجھے شاور لینا ہے۔۔۔۔۔۔وہ نظریں چراتے ہوئے گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔۔۔

اوکے سویٹ ہارٹ۔ بٹ یہ تو بتاتی جاؤ ناشتے میں کیا آرڈر کروں۔۔۔۔؟مسکرا کر پوچھا۔۔اسکی گھبراہٹ اسے لطف دے رہی تھی۔۔۔۔”

جو آپ کا دل چاہے۔۔۔۔۔۔وہ بیگ میں سے اپنا ڈریس نکالتے ہوئے بولی۔۔۔۔

میرے دل کا تو مت ہی کہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کیا کیا چاہتا ہے فلحال بتا نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔ شوخی سے بولا تووہ جھینپ گئی اور ڈریس لے کر واش روم میں گھس گئی۔۔۔۔۔۔۔

ارتضیٰ مسکراتے ہوئے انٹر کام پر آرڈر نوٹ کروانے لگا”

ناشتے کے بعد وہ باہر نکلے تو تب تک آسمان کلیئر ہو چکا تھا۔تاہم بارش سے ہوا میں خنکی بڑھ گئی تھی۔ صبح ہونے والی بارش سے استنبول نکھر گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔”

“۔ڈارک آتشی گلابی ایمبرائیڈری والی شرٹ ود ڈوپٹے اور بلیک جینز میں ایک عجیب سا نکھار اسکے صاف و شفاف چہرے پر بکھرا ہوا تھا۔بال اس نے ارتضیٰ کی فرمائش پر کھلے چھوڑ دیے تھے۔پاؤں میں نفیس سے گلابی رنگ کے لیڈیز جوگرز تھے۔۔۔۔۔۔۔ڈوپٹہ کندھوں پر پھیلائے وہ خاصی پیاری لگ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔”ارتضیٰ اسے سراہانا چاہتا تھا، اسکی تعریف کرنا چاہتا تھا” مگر پھر اسکے نروس ہو جانے،گھبرا جانے کے خیال سے خاموش ہو گیا۔۔۔۔۔۔”

“کروز شپ تک پہنچنے کیلئے انہیں بس پکڑنا پڑی جس میں اور لوگ بھی سوار تھے۔حیات کھڑکی والی سائیڈ پر بیٹھی باہر کے نظاروں کو انجوائے کر رہی تھی۔ساتھ بیٹھے ارتضیٰ کا دھیان باہر کے نظاروں پر کم اور اس پر زیادہ تھا۔۔۔وہ اسکی وقفے وقفے سے خود پر اٹھتی

پر شوق نگاہوں سے واقف تھی مگر اگنور کیے باہر کے

نظاروں میں خود کو مصروف ظاہر کرنے لگی۔۔۔۔۔۔”

“۔کل کا دن ان کا بہت ہی خوبصورت گزرا تھا۔آج کے دن کو وہ کل سے بھی زیادہ خوبصورت بنانا چاہتا تھا۔۔۔بس گولڈن ہارن کے اتاترک برج پر دائیں طرف آ کر رک گئی۔۔۔۔۔۔اور تمام مسافروں کو وہیں پر اتار دیا گیا۔اور بھی کئی بسیں وہاں پر کھڑی تھیں، ایک سائیڈ پہ جہازوں کے کھڑے ہونے کا پلیٹ فارم تھا۔ اور دوسری طرف ایک خوبصورت سا پارک تھا۔۔۔جس میں لوگوں کی کافی چہل پہل تھی۔کچھ کروز شپ وہاں پہ کھڑے ہوئے تھے”

حیات کو پانی سے خوف آتا تھا۔۔۔۔۔کروز پر سوار ہونے کیلئے چھوٹی سی سیڑھی لگی ہوئی تھی۔پہلے ارتضیٰ سوار ہوا۔۔۔۔۔آخری سٹیپ پر پہنچ کر وہ مڑا اور حیات کی طرف ہاتھ بڑھایا جو خوفزدہ نگاہوں سے سیڑھی سے نیچے سمندر کے گہرے پانی کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔اسکے چہرے پر پھیلے خوف کے اثرات دیکھ کر وہ دو سٹیپ مزید پیچھے آیا۔۔۔۔۔۔کیونکہ حیا کا آگے بڑھنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔۔۔۔۔جبکہ پیچھے لوگ انتظار میں کھڑے تھے۔ارتضیٰ نے قریب آ کر اس کا ہاتھ پکڑا اور اسکے ڈر کو نظر انداز کیے کروز پر لے آیا۔چونکہ ڈبل ڈیکر کروز تھا۔نیچے والے پورشن میں ٹیبل چئیر لگی ہوئی تھیں۔ارتضیٰ نے اوپر والے پورشن کا انتخاب کیا۔کھلے آسمان کے نیچے سمندر کا نظارہ کرنا زیادہ اچھا لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔اوپر بھی چئیرز ٹیبل موجود تھے۔کئی لوگ وہاں ٹیبلز کے گرد بیٹھے نظارہ کرنے کے ساتھ ساتھ آپس میں خوش گپیوں میں مصروف تھے۔زیادہ تر کپلز ہی تھے۔وہ دونوں بھی ایک کونے والی ٹیبل کے گرد جا بیٹھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“جیسے ہی کروز نے چلنا شروع کیا ہوا تیز ہوتی گئی۔اور ٹھنڈی اتنی کہ ہڈیوں میں اترنے لگی۔ارتضیٰ اسے وہیں بٹھا کے نیچے والے پورشن کے چھوٹے سے لگیج روم (جہاں مسافروں کے بیگ جمع تھے)میں آ گیا۔۔۔۔۔اپنے ساتھ لائے چھوٹے سے بیگ سے، جس میں اسکے اور حیات کے کچھ گرم کپڑے تھے۔۔۔۔۔۔ایک اونی ٹوپی نکال کر پہنی دوسری اونی ٹوپی اور ایک گرم جیکٹ نکال کر اوپر گیا اور دونوں چیزیں اسے پہنا دیں۔۔۔۔”

“کروز ابھی گولڈن ہارن میں ہی سفر کر رہا تھا۔اس کا رخ باسفورس کی طرف تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔کروز پر ایک صاحب مائیک پر آس پاس کی چیزوں کے بارے میں مسافروں کو بریف کرتے ہوئے گائیڈ کے فرائض سر انجام دے رہے۔

” حیات ارتضیٰ کے موبائل سے سمندر کی ویڈیو بنا رہی تھی۔چہرے پر ہلکے ہلکے ڈر کے ساتھ ایکسائٹمنٹ بھی نظر آ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ارتضیٰ کی توجہ سمندر کے نظاروں پر کم اس پر زیادہ تھی۔حیات کا چہرہ سردی کی وجہ سے بالکل سرخ تھا۔۔۔اونی ٹوپی پہنے جس میں سے بالوں کی لٹیں نکل کر چہرے کو چوم رہی تھیں، ہاتھ میں موبائل پکڑے ایکسائیٹیڈ س سمندر کی ویڈیو بناتے وہ ارتضیٰ کو کسی اور دیش کی بھٹکی ہوئی شہزادی لگ رہی تھی۔۔۔۔

“باسفورس میں داخل ہونے سے پہلے گائیڈ نے مائیک پر مسافروں کو دائیں طرف بنی ایک مسجد کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا یہ سلیمانیہ مسجد ہے۔۔۔تمام مسافر مسجد کی طرف متوجہ ہو گئیے۔۔۔۔۔سمندر کی ویڈیو بناتی حیات بھی چونکی۔مسجد کی طرف دیکھ کر وہ جوش بھرے انداز میں ارتضیٰ کو بتانے لگی آپ کو پتہ ہے یہ ترکی کی سب سے شاندار مسجد ہے یہاں میں بچپن میں مام اور بابا کے ساتھ دو تین بار آ چکی ہوں۔۔جبکہ ارتضیٰ اسکی بات سے زیادہ اسکے چہرے کی چمک کو دلچسپی سے دیکھنے لگا جو بتاتے وقت

موجود تھی۔۔۔۔۔۔

مسجد دیکھنے چلیں گے۔۔۔۔؟؟مسجد سے نظریں ہٹا کر وہ اسکی طرف دیکھ کر استفسار کرنے لگی۔۔

نہیں اب کی بار تو وقت نہیں۔۔۔۔بٹ آئی پرامس چھے ماہ بعد جب ہم دوبارہ یہاں آئیں گے تو مسجد دیکھنے ضرور چلیں گے۔۔۔۔

اوکے پھر جو بائیں طرف ٹاور نظر آ رہا ہے نا یہ گلاطہ ٹاور ہے یہاں کی آئیکونک بلڈنگ ہے۔۔۔۔۔نیکسٹ ٹائم یہ بھی دیکھیں گے اور کپادوکیہ بھی جائیں گے۔۔بلکہ وہ

تمام جگہیں جو اب کے ٹوور میں رہ گئی ہیں،سب کی سب دیکھیں گے۔۔۔۔وہ پروگرام ترتیب دینے لگی۔۔۔۔”

اوکے ضرور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ دلکشی سے مسکرایا

باسفورس میں داخل ہوتے ہی کروز دائیں طرف مڑ گیا

اس کا رخ بحیرہ اسود کی طرف تھا۔۔۔۔۔باسفورس کا نیلگوں پانی اور دونوں کناروں پر موجود جدید اور قدیم عمارات دلکش نظارہ پیش کر رہی تھیں۔حیات کیلئے یہ نظارا نیا نہیں تھا وہ پہلے بھی کئی مرتبہ یہاں آ چکی تھی مگر کروز کے باقی لوگوں کی طرح اس نظارے نے اس پر بھی سحر طاری کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔”

کتنا خوبصورت نظارہ ہے نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔خوشی کی کرنیں اسکے چہرے سے روشنی بن کر پھوٹ رہی تھیں،اور اسکے حسن کو مزید دو آتشہ بنا رہی تھیں۔ارتضیٰ کے دل کی دنیا ڈانو ڈول ہونے لگی۔۔اس کے چہرے پر سے نظریں ہٹا کر کسی اور طرف دیکھنا اسے مشکل لگنے لگا۔۔۔۔۔”

سویٹ ہارٹ سچ بتاؤں تو میرے لئیے سب سے زیادہ خوبصورت نظارا تو یہ ہے۔۔اس نے خمار بھرے انداز میں کہا۔۔۔۔۔۔۔۔حیات کے چہرے پہ قوس قزح جیسے دلکش رنگ پھیل گئے۔۔اسکی مخمور نگاہوں سے پزل ہو کر وہ سمندر کے نیلگوں پانی کو دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔”

ترکی پر اللّٰہ کا خاص کرم ہے۔صرف ملک ہی حسین نہیں ہے۔ لوگ بھی بے حد حسین ہیں۔۔۔ہے نا۔۔۔؟اس نے

نے تصدیق چاہی،وہ خاموش رہی اسکی طرف دیکھنے کی غلطی نہیں کی،کیونکہ آنکھوں سے پھوٹتیں محبت بھری کرنوں کی تمازت برداشت کرنا اسکے بس کی بات نہیں تھی۔۔۔۔۔۔

جبکہ ارتضیٰ کو اس کا شرمایا،گھبرایا،بوکھلایا حسین چہرہ شوخیوں پہ اکسا رہا تھا۔۔۔۔۔”

بولو نا۔۔۔۔۔۔۔شرارتی انداز میں کہتے ہوئے اسکے نازک مومی ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔۔۔۔۔۔

سر پلیز مجھے کنفیوژ نا کریں۔۔۔۔انجوائے کرنے دیں۔۔۔بلش کرتے ہوئے نروٹھے انداز میں کہا جواباً ارتضیٰ کی ہنسی نکل گئی۔۔۔۔۔۔”

اوکے سوری اب دوبارہ کوئی رومینٹک بات نہیں کروں گا لیکن صرف اس بار۔۔۔۔نیکسٹ ٹائم جب ہم یہاں آئیں گے تب تم مجھے بالکل منع نہیں کروگی۔تب نا صرف رومینٹک باتیں کروں گا بلکہ عملی مظاہرہ بھی کر کے دکھاؤں گا۔۔۔۔شرارت اسکی آنکھوں سے صاف جھلک رہی تھی۔حیات کا سرخ چہرہ حیا کی لالی سے مزید سرخ ہو گیا۔اس نے سٹپٹا کر اپنا ہاتھ کھینچا۔۔۔۔

“۔۔۔۔۔تبھی دو ویٹر ٹائپ لڑکے اوپر آئے انہوں نے ٹرے اٹھائے ہوئے تھے۔جن میں کافی کیک اور دیگر لوازمات تھے…جو کہ وہ مسافروں کو پیش کرنے لگے۔۔۔۔ سمندر کی ٹھنڈی ہوا اور دھوپ میں کافی اور کیک نے مزا دوبالا کر دیا۔۔۔۔۔”کافی پینے کے ساتھ ساتھ سمندر کی سیر سے بھی لطف اندوز ہونے لگے۔۔۔۔۔۔”

باسفورس کا حسین سفر جاری تھا۔کروز نے باسفورس

برج تک پہنچ کر تھوڑا آگے جا کے یوٹرن لیا۔۔۔۔۔۔۔۔ اور باسفورس برج کے قریب ڈاک پر جا کے رک گیا۔۔۔۔۔۔۔

” ارتضیٰ ایک ہاتھ سے ہینڈ بیگ اٹھائے دوسرے ہاتھ سے اس کا ہاتھ تھامے نیچے اتر آیا۔۔۔۔یہ جگہ باسفورس برج کے بالکل قریب تھی۔روڈ کے دوسرے پار ریسٹورنٹ بھی تھے۔۔۔۔۔ارتضیٰ نے کھانے کا پوچھا مگر حیات نے بھوک نا ہونے کی وجہ سے منع کر دیا۔۔۔۔

“رومیلی حصار نام کا قدیم قلعہ سامنے تھا۔اسکی بلند بیرونی فصیل پہاڑی کے ساتھ ساتھ اوپر کو جا رہی تھی۔ارتضی اس کا ہاتھ پکڑے بیرونی دروازے سے اندر داخل ہوا۔ساتھ ہی بائیں جانب توپیں اور گولے پڑے ہوئے تھے۔ان میں سے ایک توپ سلطان محمد فاتح کے نام سے جانی جاتی ہے۔۔۔۔۔ساری عمارت چھوٹے بڑے پتھروں سے بنی ہوئی تھی۔فرش راہداریاں سب کی سب پتھروں سے بنی ہوئی تھیں۔سارا پہاڑی علاقہ تھا۔اوپر جانے کیلئے پتھروں سے بنی ہوئی سیڑھیاں تھیں

۔۔۔۔۔ارتضیٰ اور وہ سیڑھیاں چڑھ کر کافی اوپر آ گئے۔یہاں پر سکون ماحول تھا۔درخت اور سر سبز گھاس لگی ہوئی تھی۔مکمل خاموشی میں صرف پرندوں کی چہچہاہٹ سنائی دے رہی تھی ۔جو بہت بھلی لگ رہی تھی۔۔بینچ رکھے ہوئے تھے۔ارتضیٰ نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود بھی ساتھ بیٹھ گیا۔۔۔۔۔بلندی پر سے نظر آتا باسفورس کا نیلگوں پانی ‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس میں آتے جاتے جہاز اور چھوٹی چھوٹی کشتیاں،بہت خوبصورت نظارہ لگ رہا تھا۔کل اسے واپس لوٹ جانا تھا۔۔۔۔لیکن ابھی تو وہ اس نظارے میں محو لڑکی کی سنگت میں کھڑا یہیں ٹھہر جانے،اور وقت کو روک لینے کی خواہش کر رہا تھا۔۔۔۔۔”

کچھ دیر قلعے میں گھوم پھر کر وہ واپس کروز پر آ گئے جو کنارے پر کھڑا سب مسافروں کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔باسفورس کے درمیان جزیرے پر بنا ہوا چھوٹا سا ٹاور بھی تھا جو میڈنز ٹاور کے نام سے مشہور تھا۔۔۔حیات وہاں جانا چاہتی تھی مگر وقت کا مسئلہ تھا۔۔۔تاہم ارتضیٰ نے اس سے وعدہ کیا نیکسٹ ٹائم وہ اسے وہاں ضرور لے کر جائے گا۔پورا دن گزر چکا تھا۔رات کی تاریکی گہری ہوتی چلی جا رہی تھی۔۔۔کروز نے آبنائے باسفورس کے پل کو عبور کیا اور دائیں طرف واقع ایک چھوٹے سے جزیرے پر رک گیا۔۔۔۔۔۔”

جزیرے پر بنے شیشے کے وسیع ریسٹورنٹ میں بہت ہی خوبصورت سماں تھا مختلف ممالک سے آئے سیاح کینڈل لائٹ ڈنر کر رہے تھے۔کروز نے وہاں ایک گھنٹے تک ٹھہرنا تھا۔مسافر ایک ایک کر کے اترنے لگے۔ارتضیٰ بھی اس کا ہاتھ پکڑ کر اترا۔برسات کی اس بھیگی رات میں سمندر کا فسوں دیکھتے ہوئے کینڈل لائٹ ڈنر کرنا ایک بے حد دلکش نظارہ تھا۔۔۔۔کچھ لوگ وہاں پہ گٹار بجا رہے تھے اور کچھ کپل موسیقی کی مدھر دھنوں پر رقص کر رہے تھے۔۔۔وہ اور ارتضیٰ ریسٹورنٹ کے اوپن ائیر ہال میں ایک ٹیبل کے گرد بیٹھ گئے۔ ہر ٹیبل پر کینڈلز پہلے سے ہی جل رہی تھی حیات تو بری طرح کھو رہی تھی اس منظر میں۔۔۔۔۔۔”

“لگتا ہے یہ آئی لینڈ بہت پسند آیا ہے تمہیں۔اسکے چہرے کے تاثرات سے وہ اندازہ لگا چکا تھا۔۔

“۔تبھی مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔”

آف کورس بہت۔بہت ہی خوبصورت جگہ ہے۔۔۔۔یہ آئی لینڈ میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔۔”

تمہیں اتنا پسند آیا ہے تو انشاء اللّٰہ ہم ہر سال یہیں آیا کریں گے۔۔۔۔وہ اسکے چمکتے چہرے کو نظروں کے حصار میں لیتے ہوئے محبت سے بولا۔۔۔۔

تھینکس۔۔۔۔وہ مسکرا دی”

ویٹر آرڈر لینے آیا تو ارتضیٰ نے مینیو کارڈ یہ کہتے ہوئے حیات کی طرف بڑھا دیا کہ خالص ترکش کھانے ہیں سو وہ آرڈر کرے۔۔۔حیات نے سٹارٹر میں ڈولما اور میز جبکہ مین کورس میں اسکندر کباب سیخ کباب کے ساتھ ٹرکش پلاؤ کا آرڈر دیا۔کھانا مزے کا تھا۔۔۔۔۔کھانے بعد گرم گرم ٹرکش کافی نے اعصاب کو تازہ دم کر دیا

چاروں طرف سے سمندر میں گھرے جزیرے پر رات بھیگتی چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔ڈھلتی ہوئی شام۔۔۔۔۔۔۔ڈوبتا ہوا سورج۔۔۔۔۔۔۔۔شفق بکھیرتا آسمان،ہوا میں اڑتے پرندے۔فواروں کی صورت میں اڑتا ہوا سمندر کا پانی۔۔۔بلاشبہ یہ ایک خوبصورت شام تھی۔ جس نے وہاں موجود ہر فرد کو اپنے سحر میں جکڑ لیا تھا۔۔ڈنر کے بعد واپسی کا وقت آیا تو حیات کا دل سمندر میں سفر کرنے کے خیال سے ایک بار پھر ہولنے لگا۔۔۔لیکن جانا تو تھا۔ اللّٰہ اللّٰہ کر واپسی کا سفر مکمل ہوا۔۔۔۔۔۔۔”کروز نے انہیں

استنبول اسٹاک ایکسچینج کی عمارت کے عین سامنے

ڈاک پر اتار دیا۔۔۔۔۔”

“۔۔۔۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے سنگ یادوں کا قیمتی سرمایہ لئیے واپس ہوٹل چلے آئے کل ارتضیٰ کا ترکی میں آخری دن تھا۔کل شام سات بجے کی فلائٹ سے اس نے واپس لندن جانا تھا۔۔لندن سے پھر امریکہ کی فلائٹ پکڑنی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ہوٹل پہنچتے ہی حیات باری باری سب کو فون کر کے آج کی روداد سنانے لگی۔سب سے پہلے بابا کو فون کیا ان سے بات کرنے کے بعد مون اور بوا سے کی۔ پھر حورین سے کی اور اسے آج کی ساری پکچرز سینڈ کیں۔اسکے ںعد ایسرا آنٹی اور میوج کی باری آئی۔۔۔۔میوج اسے بہت مس کر رہی تھی اور اسکی واپسی کیلئے شدت سے منتظر تھی۔۔