171.9K
78

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Hayat (Episode 61)

Meri Hayat By Zarish Hussain

ماحول پر خوابناک سا اندھیرا چھایا ہوا تھا۔۔۔تاحد نگاہ پھیلا ہوا سمندر جسکی پر جوش لہریں کسی ناگن کی

طرح بل کھاتی ہوئی ساحل سے آ کر ٹکرا رہی تھیں ۔۔۔۔ اوپر آسمان پر ابر آلود سیاہ بادل دور دور تک پھیلے ہوئے تھے۔۔۔وہ بالکنی میں کھڑا سامنے سمندر کی لہروں پر نگاہیں جمائے ہوئے تھا۔۔۔ساحل کیطرف سے آنے والی ٹھنڈی مست دلوں کو سرشار کرنیوالی ہوائیں اس کے چہرے اور جسم سے ٹکرا رہی تھیں۔۔۔ ابر آلود موسم نے سمندر کی خوبصورتی میں اضافہ کر دیا تھا۔۔۔ رات کے بارہ بج رہے تھے۔۔۔ ساحل بلکل ویران تھا سوائے سمندر کی بپھری لہروں کے پرزور شور کے علاؤہ کوئی اور آواز نہیں تھی۔۔۔پورے ماحول میں البیلا سا سکوت تھا پھیلا ہوا تھا۔۔۔ییلو شرٹ بلیک پینٹ میں اسکے وجہیہ چہرے پر بڑی گھمبیر سنجیدگی اداسی و بے سکونی تھی اس بے چینی و اضطراب کی وجہ حیات تھی زور زبردستی یا بلیک میلنگ سے ہی سہی مگر ہنی مون پر جانے کیلئے وہ مان ہی گئی تھی۔۔۔۔۔ جس وقت وہ واش روم میں تھی اور ماحر بیڈروم میں بیٹھا اس کے باہر نکلنے کا انتظار کر رہا تھا تب اچانک واش روم سے آنے والی حیات کی دلخراش چیخوں نے اسے بوکھلا دیا تھا بجلی کی سی تیزی سے وہ واش روم کی طرف لپکا تھا مگر دروازہ لاک پا کر اسکی گھبراہٹ میں اضافہ ہو گیا

اندر سے حیات کے رونے چلانے کی آوازیں متواتر آ رہی تھیں اس نے گھبرا کر دروازہ پیٹتا تھا۔۔۔۔۔ مگر وہ شائد کھولنے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔۔۔۔صد شکر ڈریسنگ کی دراز سے ایکسڑا کیز مل گئیں اور وہ دروازہ کھولنے میں کامیاب ہو گیا۔۔ اندر داخل ہوا تو حیات کو اوندھے منہ گیلے فرش پر گرا دیکھ کر اسکے قدموں تلے زمین نکل گئی تھی۔۔۔۔

حیا۔۔۔۔۔اس نے تیزی سے آگے بڑھ کر اسے سیدھا کیا تھا

لیکن اسکی حالت دیکھ کر ایک دم اوسان خطا ہو گئے حیات کے ماتھے سے خون بہہ رہا تھا۔۔۔ چہرے پر شدید اذیت کے آثار تھے تکلیف سے کراہتے ہوئے وہ ایسے زارو قطار رو رہی تھی کہ ماحر کو اپنی جان قدموں سے نکلتی محسوس ہوئی۔۔وہ اسے اٹھا کر بیڈروم میں لایا تھا۔۔ وہ اپنا تمام تر غصہ نفرت و ناراضگی بھلائے اس کے بازوؤں میں تڑپ تڑپ کر رو رہی تھی۔۔۔۔۔۔ اسے اتنی شدید تکلیف میں دیکھ کر اسکا اپنا دل بھی کٹنے لگا تھا ڈاکٹر حارث جو انکے فیملی ڈاکٹر تھے اس کی کال پر دس منٹ میں وہاں پہنچے تھے حیات کے ماتھے سے ہونے والی بلیڈنگ سے نا صرف اسکا اپنا چہرہ رنگین ہو گیا تھا بلکہ ماحر کے اپنے ہاتھ بھی خون سے تر ہو گئے

ڈاکٹر حارث کے پہنچنے سے پہلے وہ اسکی پیشانی کے زخم پر عارضی طور پر بینڈیج کر چکا تھا۔۔پیشانی سے درد کی ٹیسیں تو اٹھ ہی رہی تھیں مگر زیادہ بے حال اسے پاؤں کی تکلیف نے کیا تھا۔ماحر نے کئی بار اسکے پاؤں کا جائزہ لینے کی کوشش کی مگر وہ ہر بار تڑپ کر پاؤں پیچھے کر لیتی۔۔۔۔ ڈاکٹر حارث نے پین کلر دی تو کچھ افاقہ ہوا معائنے کے بعد انہوں نے خدشہ ظاہر کیا شائد پاؤں کی ہڈی میں فریکچر ہو سکتا ہے لہذا فوری طور پر کسی بون سپیشلسٹ سے کنسلٹ کر کے ایکسرے کروا لینا چاہیے۔۔ماحر اسی وقت ہی اسے ہاسپٹل لے گیا تھا۔۔۔۔ڈاکٹر رضوی جو شہر کے سب سے جانے مانے بون سپیشلسٹ تھے انہوں نے پاؤں کا معائنہ کیا ایکسرے رپورٹ آئی تو پتہ چلا پھسلنے کیوجہ سے چونکہ پاؤں مڑا تھا لہذا ہڈی بری طرح متاثر ہوئی تھی اور اپنی جگہ سے تھوڑا کھسک گئی تھی۔ پاؤں مکمل طور پر سوج گیا تھا۔ڈاکٹر رضوی نے اسے چار ہفتوں کا مکمل بیڈ ریسٹ بتایا تھا ہاسپٹل سے واپسی پر بھی

وہ اسے گھر کے بجائے یہیں لایا تھا۔۔۔

حیات جو اسکے ساتھ رہتے ہوئے بھی اسکے سائے سے خود کو دور رکھے ہوئے تھی اس کنڈیشن میں ناچاہتے ہوئے بھی اسی کا سہارا لینے پر مجبور تھی۔۔۔

پین کلر اور انجکشن سے درد میں افاقہ ہوا تو اسکے ساتھ ساتھ ماحر نے بھی سکون کا سانس لیا۔۔۔ورنہ جسطرح وہ تڑپتی رہی تھی اسکے آنسو وہ اپنے دل پر گرتے محسوس کرتا رہا۔ اسکے اندر رہ رہ کر ملال اٹھتا رہا تھا۔کاش نا وہ اسے یہاں لاتا اور نا اسکے ساتھ یہ حادثہ پیش آتا۔۔۔

بوجھل دل کے ساتھ وہ روم میں آیا نیلگوں خوابناک دھیما سا اندھیرا پھیلا ہوا تھا ہیٹر آن ہونے کے باعث کمرے کے ماحول میں لطیف سی گرماہٹ تھی۔اتنی دیر ٹھنڈ میں کھڑا رہنے کے باعث اسے اپنے احساسات تک منجمد محسوس ہوئے۔۔۔۔۔طویل سانس لے کر روم میں پھیلی گرماہٹ کو اپنے اندرجذب کیا اور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا بیڈ پر سوئی حیات کی طرف آیا۔۔۔۔۔گلابی ریشمی بیڈ کور پر گلابی نرم و ملائم کمبل لئیے سرتاپا دراز وہ بے خبر سو رہی تھی۔کچھ دیر پہلے کے برعکس اسوقت اسکا چہرہ پرسکون تھا۔۔۔ وہ کھڑا اسے دیکھتا رہا۔۔۔ اس خود سر و مغرور حسینہ نے اپنے سحر طراز حسن کی تجلیوں سے اسے خاکستر کر ڈالا تھا اسکے بے تحاشا حسن نے پہلی نظر میں اسے گھائل کیا تھا۔فلم کی آفر تو بہانہ تھی حقیقت میں تو وہ اسکا قرب چاہتا تھا۔ دہکتے رخساروں اور مہکتے گیسوؤں والی اس اپسرا کو بالآخر ہمیشہ کیلئے وہ اپنی زندگی میں شامل کرنے پر مجبور ہو گیا تھا کیونکہ وہ اسکی لائف

میں آنیوالی ان لڑکیوں جیسی بالکل نہیں تھی جنہوں نے اس کے عارضی تعلق کو بھی اپنی خوش قسمتی سمجھ کر قبول کیا۔۔ مگر وہ عارضی مستقل کسی بھی رشتے تعلق کیلئے نا مانی۔ جب مانی تب وہ انتقام کی آگ میں اندھا ہو رہا تھا۔ہوش ٹھکانے آئے تو اسے بہت دور پایا۔۔

رویا ۔۔۔۔۔

پچھتایا ۔۔۔

پھر یہ اسکے سچے جذبوں سچے عشق کی طاقت ہی تھی جو اس سے نفرت کرنے کے باوجود بھی وہ اسکی زندگی میں آ گئی تھی۔۔۔۔۔

اسے پانے میں تو کامیاب ہو گیا تھا۔۔۔۔۔

مگر اسکا دل جیتنے میں ناکام ٹھہرا تھا۔۔۔۔۔

وہ اسکی ملکیت میں اسکی دسترس میں ضرور تھی

لیکن نا تو وہ اسے چھو سکتا تھا اور نا اپنے عشق کی

شدتوں کا احساس دلا سکتا تھا۔۔۔ ابھی تک تو وہ اپنی نفرت و حقارت کی بنا پر اسکی خواہشوں کے تاج محل کو چکنا چور کرتی آ رہی تھی۔۔ہر بار وہ اسکےرویے سے ٹوٹتا ہرٹ ہوتا اور پھر نئے سرے سے اسکی طرف بڑھتا مگر اسکی طرف سے مسلسل دھتکار ہی مل رہی تھی۔۔نائٹ ڈریس بدل کر ڈریسنگ روم سے باہر آیا اور اسکے

بالکل قریب بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔۔ ایک بار پھر بڑے غور سے وہ اسکا جائزہ لے رہا تھا سرخ رخساروں پر آنسوؤں کے

گہرے نشان تھے۔۔۔ پلکیں ابھی بھی بھیگی بھیگی سی لگ رہی تھیں اس نے اپنی انگلیوں کی پوروں سے ذرا سا اسکی پلکوں کو چھوا۔۔ایک خوشنما سا احساس رگ

رگ میں سرایت کر گیا۔۔۔۔ لبوں پر ہلکا سا تبسم ابھرا۔۔۔ وہ والہانہ انداز و وارفتگی بھری نگاہوں سے اسے تک رہا تھا۔اسکے دیکھنے کا انداز عامیانہ نہیں تھا نا کسی نفسانی خواہش کا عمل دخل تھا۔۔صرف سچی کھری بے لوث محبت و چاہت تھی اس کیلئے جو اس سے نفرت کرتی تھی یا شائد صرف ناراض تھی اس کے رویے سے ابھی تک وہ سمجھ نہیں پایا تھا کیونکہ کبھی کبھی اسے لگتا تھا وہ اس سے صرف ناراض ہے جبکہ کبھی کبھی لگتا تھا وہ اس سے نفرت کرتی ہے۔۔۔اسکی نظریں

اس کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔۔۔ حیات نے نیند میں

ہاتھ مار کر خود پر سے کمبل ہٹا دیا۔۔بلیک کلر کی شرٹ جسکے گلے پر وائٹ موتیوں والی خوبصورت لیس لگی ہوئی تھی واضع ہو گئی۔۔۔بے داغ شفاف گلابی چہرہ۔۔۔۔ اطراف میں بکھری سلکی لٹیں۔۔اسکے چہرے کو عجیب رعنائی عطا کر رہی تھیں۔۔نائٹ بلب کی نیلگوں روشنی میں بھی اسکا چہرہ دمک رہا تھا۔ماحر کو اسکے چہرے

سے روشنیاں پھوٹتی محسوس ہو رہی تھیں۔ایک نکھار

ایک نور سا بکھرا ہوا تھا اس کے چہرے پر۔۔۔ اسکے اندر کی دنیا زیر و زبر ہونے لگی۔۔۔ایک عجیب سا کیف خود پر چھایا محسوس کر رہا تھا۔۔۔وہ ساحرہ تھی۔۔۔۔اپسرا تھی جو کسی آسیب کی طرح اس کے حواسوں پر چھا

گئی تھی۔۔۔وہ پچھلے پچیس منٹ سے مسلسل اسے تک

رہا تھا۔۔۔۔ کچھ ٹائم پہلے والی اسکی تکلیف کا خیال آیا

تو بے اختیار اسکا دل بھر آیا اسی بے اختیاری میں وہ جھکا بینڈیج سے احتیاط کرتے ہوئے آہستہ سے اسکی پیشانی چوم لی۔چہرے پر ملال تھا۔آنکھوں میں محبت چاہت اور عشق کے رنگ تھے۔۔۔مگر یہ احساس اسے رنج و غم میں مبتلا کر دیتا تھا کہ اسکے اندر محبت کی آگ سلگا کر خود وہ کیسے انجان بنی ہوئی تھی۔۔ غصہ تنفر نظرانداز کرنا اسکی مکمل لاتعلقی کا ثبوت تھا۔اس یک طرفہ محبت کے ہاتھوں ابھی تک تو صرف ذلیل و خوار ہی ہو رہا تھا مگر پھر بھی وہ ہمت نہیں ہارا تھا۔اسے امید تھی جب وہ اسکی ہی ہے تو کبھی نا کبھی اسے دل سے قبول کر ہی لے گی۔۔ اسی امید کے سہارے

ہی تو اسکا تلخ رویہ برداشت کر رہا تھا۔۔۔۔ اسکے دائیں بازو سے کمبل ہٹاتے ہوئے اسکی زخمی کلائی کا جائزہ لینے لگا۔واش روم میں جب اسکا پاؤں سلپ ہوا تھا تب سہارے کیلئے ادھر ادھر ہاتھ مارتے اسکی داہنی کلائی نل سے بری طرح ٹکرائی تھی پھر گرتے وقت وہی نل اسکی پیشانی پر لگا تھا اور کلائی جسم کے نیچے دب گئی تھی۔ہڈی تو محفوظ رہی تھی مگر زخم ہو گیا تھا۔

کلائی کو احتیاطاً اس نے کمبل سے باہر رکھا تاکہ وزن

نا پڑے۔۔کلائی پر سے ہوتی نظر دوبارہ چہرے پر بھٹکنے لگی تو بے خودی میں ایک بار پھر سے جھکا اور اپنے حق کی مہر اسکی دراز لانبی پلکوں پر ثبت کر گیا۔مگر

اس بار بالکل غیر متوقع طور پر حیات نے اپنی آنکھیں کھول دی تھیں۔۔نظریں سیدھی اسکی سرخ نگاہوں سے ٹکرائی تھیں خجالت سے سرخ پڑتا وہ یکلخت سیدھا ہوا تھا۔۔

دور رہیں مجھ سے۔۔۔۔۔۔ وہ غرائی تو ماحر گنگ سا اسے دیکھتا رہا پھر نظریں چراتا بیڈ سے اٹھ کر صوفے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔ رات کے کسی پہر حیات کے کراہنے کی آواز سن کر اسکی آنکھ کھل گئی تھی اٹھ کر دیکھا تو

وہ اپنی کلائی کو پکڑے کراہ رہی تھی۔شائد نیند میں

کروٹ بدلتے ہوئے اسکی کلائی پہ زور آیا تھا اور پھر

درد کیوجہ سے اسکی آنکھ کھل گئی تھی۔۔۔

کیا ہوا حیا۔۔ پین ہو رہا ہے کیا۔۔۔۔؟؟ وہ اسکے قریب چلا

آیا اور ہمدردی بھرے لہجے میں استفسار کیا۔مگر حیات کا ری ایکشن اسے ششدر کر گیا۔۔۔ انتہائی غصیلے نفرت بھرے انداز میں اس نے ماحر کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا

ڈونٹ ٹچ می ایڈیٹ۔۔۔ اپنی ہمدردی اپنے پاس رکھو یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا۔۔۔۔ نا مجھے یہاں لاتے نا میرے ساتھ یہ ہوتا۔۔ہنی مون کا خمار چڑھا ہوا تھا۔۔اتر گیا اب

مل گیا سکون وہ اٹھ کر بیٹھتے ہوئے چلائی تھی۔۔۔

شٹ اپ۔۔بڑا ہوں تم سے کچھ تو تمیز سے بات کیا کرو۔۔

اسکے گستاخانہ لب و لہجے اور لفظ ایڈیٹ نے اس کا دماغ بھک سے اڑایا تھا ساری ہمدردی اڑن چھو گئی بے

حد برہمی سے وہ بولا تھا۔۔۔

اس قابل ہو کہ تمیز سے بات کی جائے تم سے۔۔۔وہ اپنی

کلائی پکڑ کر سسکتے ہوئے پھنکاری۔۔۔

مانتا ہوں غلطی ہوئی مجھ سے۔۔۔اس کیلئے سوری کرتا

ہوں مگر خدا گواہ ہے میں کبھی نہیں چاہتا کہ تمہیں

ذرا سی بھی تکلیف پہنچے۔۔اچھا دکھاؤ مجھے ڈریسنگ کھل تو نہیں گئی۔۔۔۔۔۔؟؟

ماحر نے زبردستی اسکی کلائی تھامی اور معائنہ کرنے لگا مگر حیات نے جارحانہ انداز میں اپنا ہاتھ کھینچا۔۔

چھوڑو مجھے وحشی انسان۔نہیں چاہیے مجھے تمہاری

ہمدردی۔۔۔۔نفرت ہے مجھے تم سے۔۔۔اس نے لب بھینچ کر درد کو برداشت کرتے ہوئے غصے سے کہا۔۔

آواز غم و غصے کی شدت سے بھیگی ہوئی تھی۔۔۔

نفرت غصے کا اظہار بعد میں کر لینا فلحال دیکھنے دو مجھے بیوقوف لڑکی۔۔ماحر نے ڈپٹ کر کہتے ہوئے اسکا بازو دوبارہ سے پکڑا۔۔۔۔

حیات نے طیش میں آ کر پورا زور لگا کر اپنی کلائی

چھڑوانی چاہی جواباً ماحر نے اپنی گرفت مضبوط کی

نتیجتاً ڈریسنگ کھل گئی زخم پر دباؤ پڑا۔۔۔۔ حیات کی

ہلکی سی چیخ نکل گئی۔ماحر نے گھبرا کر اسکی کلائی

چھوڑ دی۔۔۔ زخم سے رستے ہلکے ہلکے خون کا بہاؤ اس کھینچا تانی میں تیز ہو گیا تھا۔۔۔ سفید پٹی بھی خون سے تر ہو گئی تھی۔۔۔ ماحر کے ہاتھوں پر بھی خون لگ گیا تھا۔۔وہ اپنا بازو پکڑے تکلیف سے کراہنے لگی۔۔ جبکہ آنکھیں سمندر بنی ہوئی تھیں۔۔۔

یہ کیا بلیڈنگ ہو رہی تمہارے ہاتھ سے۔۔اس نے پریشان

ہو کر کہا۔حیات نے کوئی جواب نہیں دیا سسکتے ہوئے

اپنی کلائی کا جائزہ لینے لگی۔۔۔وہ تیزی سے الماری کی طرف بڑھا جہاں فرسٹ ایڈ باکس رکھا ہوا تھا۔۔۔۔

ادھر دکھاؤ مجھے بینڈیج چینج کرنے دو۔۔۔۔فرسٹ ایڈ

باکس پکڑے اسکے قریب بیٹھتے ہوئے اس نے اپنا ہاتھ

آگے بڑھا کر احتیاط سے اسکا بازو تھامنا چاہا۔۔۔ مگر وہ

اپنا ہاتھ اسکی پہنچ سے دور کرتی آنسوؤں سے بھیگی آنکھوں کے ساتھ اسکی طرف دیکھتی غرائی۔۔۔۔

میں نے کہا نا اپنی ہمدردی اپنے پاس رکھو۔۔۔۔۔ مجھے

تمہارا مزید کوئی احسان نہیں چاہیے پہلے بھی بہت

کر چکے ہو۔۔۔اب چاہے مرتی مر جاؤں تم اپنی ہمدردی سمیت دور رہو مجھ سے۔۔۔۔۔ اتنی تکلیف میں ہونے کے باوجود بھی وہ بڑی ہمت اور حوصلے کیساتھ اس سے لڑ رہی تھی۔۔

کیوں تم بار بار ایک ہی بات کی تکرار کیے جا رہی ہو۔ بدتمیز گستاخ زبان دراز تو ہو ہی مگر اسکے علاؤہ اول درجے کی احمق ضدی اور بے وقوف لڑکی ہو۔۔۔۔ محض ضد میں اپنا نقصان کر رہی ہو۔اسکا اشارہ اسکی کلائی سے بہتے خون کیطرف تھا۔۔۔

تو میرا نقصان ہو رہا ہے آپ کو کیا تکلیف ہے۔وہ بھڑکی

ہاتھ دیکھنے دو مجھے حیا ورنہ میرا ہاتھ اٹھ جائے گا تم پر۔۔۔۔اسکی ضد اور ہٹ دھرمی پر ماحر نے پرطیش

لہجے میں وارننگ دی۔۔

تو مارو کس نے روکا ہے۔۔بلکہ جان سے مار دو۔۔تمہارے

جیسے شخص کے ساتھ رہ کر میں ذہنی طور پر پل پل

مر رہی ہوں اگر خود کشی حرام نا ہوتی تو کب کی اس

اذیت سے نجات حاصل کر لیتی جو تمہاری شکل میں

سامنے دیکھ کر ہوتی ہے مجھے۔اپنی سسکی دباتے ہوئے کہا۔۔۔

تمہیں جان سے مار دوں تو خود زندہ رہ کر کیا کروں گا

فکر مت کرو جب بھی گئے اکھٹے ہی اوپر جائیں گے مگر اتنی جلدی نہیں کیونکہ ابھی تو ہم نے اپنی میرڈ

لائف انجوائے کرنی ہے۔ہلکا سا مسکرا کر کہتے ہوئے اس

حیات کی کلائی تھامی تو اس بار وہ خاموش رہی تھی

کلائی چھڑوانے کی کوشش نہیں کی کیوں بلیڈنگ کافی زیادہ ہو رہی تھی اور درد بھی بڑھ رہا تھا۔۔۔

اس نے بڑی احتیاط اور نرمی سے زخم پر روئی رکھ کر بہتے خون کو روکا پھر آئنمنٹ لگا کر ڈریسنگ کر دی اور ساتھ ہی پانی کے گلاس کے ساتھ اسے دو ٹیبلٹ کھلا دیں۔۔ جنمیں سے ایک پین کلر اور دوسری نیند کی گولی تھی۔۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ گہری نیند سو گئی تو اسکی طرف سے مطمئن ہوتا وہ لائٹ آف کرتا اپنی جگہ پر آ کر لیٹ گیا تھا۔۔۔۔

صبح جب اسکی آنکھ کھلی وال کلاک میں ٹائم دیکھا

دس بج رہے تھے۔۔۔ صوفے سے اٹھ کر کھڑکی سے پردے

ہٹائے۔سورج کی کرنیں سیدھی اندر آنے لگیں سمندر کا

پانی دھوپ میں چمک رہا تھا۔۔چند لمحے وہیں کھڑکی کے پاس کھڑا سمندر کی لہروں کو دیکھتا رہا پھر پلٹ

کر بیڈ کی طرف آیا۔۔۔گردن تک کمبل اوڑھے وہ بالکل بے سدھ سو رہی تھی۔۔۔ ذرا سا جھک کر اسکی پیشانی کو

چھوا تو دہکتی ہوئی معلوم ہوئی۔۔۔ شائد بہت ہی ہائی فیور ہو رہا تھا۔۔۔ تشویش میں مبتلا ہوتے اس نے ڈاکٹر حارث کو کال ملائی اور اسے جلد از جلد وہاں پہنچنے کی ہدایت کی پھر اسکے بعد ماں کو بھی کال ملانے لگا

کیونکہ رات جسطرح ڈریسنگ کیلئے حیات نے اسے تنگ کیا تھا اب مزید وہ رسک لینے کو تیار نہیں تھا۔۔۔اسکی

مام کی موجودگی میں کم از کم اسکا اتنا لحاظ تو کر ہی لیتی کہ چپ چاپ ڈریسنگ بھی کروا لیتی اور

میڈیسن بھی کھا لیتی۔یہی سوچ کر اس نے ماں کو بلا

لیا مگر وہ اکیلی نہیں آئی تھیں ان کیساتھ سکندر علی خان بھی تھے۔۔ وہ دونوں اسکی حالت دیکھ کر پریشان

ہوگئے۔حیات نے جب روتے ہوئے انہیں بتایا کہ انکا بیٹا

اسکی مرضی کے خلاف اسے ہنی مون پر لے جا رہا تھا تو ان دونوں نے ماحر کی کلاس لے ڈالی۔۔۔۔

شرم نہیں آتی ہنی مون پر بھی بھلا کوئی زبردستی

بیوی کو لے کر جاتا ہے جو تم لے کر جا رہے تھے۔۔مجھے دیکھو تمہاری ماں ہنی مون کیلئے راضی نہیں ہوئی تھی تو میں نے بالکل بھی اصرار نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔

پوچھ لو اپنی ماں سے سامنے بیٹھی ہے۔انہوں نے فائزہ سکندر کی طرف اشارہ کیا جو حیات کا سر اپنی گود میں رکھے سہلا رہی تھیں۔۔۔

جی بالکل انہوں نے مجھے ہنی مون پر چلنے کیلئے بہت

اصرار کیا تھا لیکن میں نے ہی انکار کر دیا تھا کیونکہ

ماشاءاللہ سے شادی کے پورے پانچ مہینوں بعد انکو یہ

نیک خیال آیا تھا تب تک انکا یہ لاڈلا سپوت بھی اس

دنیا میں آنے والا تھا پھر کیسے جاتی میں بھلا۔۔۔

شوہر کو گھورتے ہوئے انہوں طنزیہ انداز میں کہا۔۔۔

سکندر صاحب کھسیا کر رہ گئے۔۔۔بھئی اسوقت بہت بزی تھا نا جب فری ہوا تو تمہیں آفر کی۔۔

ماحر اور حیا دونوں کے ہونٹوں پر بیک وقت مسکراہٹ آئی تھی ۔۔۔

وہ دونوں اسے کافی دیر ڈانٹتے رہے۔۔۔۔ وہ شرمندہ سا

چپ چاپ سر جھکائے سنتا رہا۔۔بیٹے کو ڈانٹنے کیساتھ ان دونوں نے حیات سے بھی معذرت کی وہ شرمندہ ہو

گئی دل میں افسوس ہوا کیا ضرورت تھی اتنا جذباتی ہو کر یہ بات بتانے کی۔۔۔۔ فائزہ سکندر اسے بار بار چوم کر اپنے سینے سے لگاتیں۔۔۔۔ انکی اس والہانہ محبت نے حیات کے ساتھ ساتھ ماحر کو بھی ششدر کر دیا تھا تھا۔۔۔ وہ اپنے ہاتھوں سے کبھی دودھ کا گلاس پلا رہی تھیں تو کبھی میڈیسن کھلا رہی تھیں۔۔کبھی اسکا سر اپنی گود میں رکھ کر سہلا رہی تھیں۔۔۔محبت اور کئیر

کے اس مظاہرے نے حیات کو پہلے سے بھی زیادہ انکی

خوبصورت شخصیت اپنائیت بھرے مزاج سے متاثر کیا

لیکن ساتھ ساتھ کسی حد تک شرمندہ بھی کر دیا کہ

انکی محبت اور خلوص کا جواب چاہ کر بھی ویسی

ہی محبت اور خلوص سے نہیں دے پا رہی تھی وہ۔۔۔۔

انکی نرم گرم آغوش میں اسے ممتا کی مہک محسوس ہوتی تھی وہ ممتا کی آغوش جس سے وہ بچپن میں ہی محروم ہو گئی تھی۔۔۔

اسے انکی گود میں سر رکھ کر لیٹنا اچھا لگ رہا تھا۔ سکندر علی خان کچھ دیر بیٹھنے کے بعد واپس آفس چلے گئے تھے انکی کوئی ضروری میٹنگ تھی تاہم جاتے وقت وہ اسے ہدایت کر گئے تھے کہ جیسے ہی حیا کی طبیعت سنبھلے اسے فوراً گھر لے کر جائے۔مسز سکندر بیڈروم میں اسکے پاس تھیں۔۔۔ میڈیسن کھانے کے بعد جب وہ سو گئی تو وہ اس کیلئے سوپ بنانے کی غرض سے کچن میں چلی آئیں۔۔۔۔۔ماحر جو لاؤنج میں بیٹھا ٹی وی پر ٹاک شو دیکھ رہا تھا ماں کو کچن میں جاتا دیکھ کر ریموٹ سے والیوم آف کرتا ان کے پیچھا چلا آیا۔۔۔

میری بیوی سے آپکی اسقدر محبت دیکھ کر مجھے تو

جیلسی فیل ہو رہی ہے مام۔ایسا لگتا ہے مجھ سے کہیں

زیادہ محبت آپکو ہے اس سے۔۔۔ اس نے مسکراہٹ دبا کر

کہا۔۔۔آسمانی کلر کی جینز پر میرون شرٹ پہنے پیشانی پر بکھرے گیلے بالوں ساتھ وہ بہت نکھرا نکھرا سا لگ رہا تھا۔۔۔ فریزر سے گوشت کا پیکٹ نکالتی فائزہ سکندر نے ایک محبت بھری نظر اپنی خوبرو بیٹے پر ڈالی اور

نرم مسکراہٹ کے ساتھ بولیں۔۔۔۔

ہاں تو کیوں نا کروں محبت بن ماں کی بچی ہے بالکل اپنی فاریہ کی طرح لگتی ہے مجھے۔۔ ویسے بھی صرف یہی ایک بہو تو ہے جو اللّٰہ نے مجھے میری خواہش کے مطابق دی ورنہ باقی دو تو بہویں کم ماڈلز زیادہ لگتی ہیں۔۔انہوں نے منہ بنا کر کہا۔۔وہ ہنس دیا

شکر ہے میری بیوی تو آپ کو پسند آئی ورنہ زیادہ تو

شکایتیں ہی رہتی ہیں آپ کو مجھ سے۔۔وہ مسکراتے

ہوئے بولا۔۔۔پھر ساتھ رکھی کرسی گھسیٹ کر بیٹھتے ہوئے بولا۔۔ایک کپ کافی مل جائے گی مام۔۔۔؟؟

تم نے ناشتہ کیا تھا۔۔۔؟؟ گوشت کو ابلنے کیلئے چولہے پر رکھتے ہوئے انہوں نے چونک کر استفسار کیا

نو مام۔۔۔کل سے آپکی بہو کی خدمت میں لگا ہوا ہوں

رات کا کھانا اور ناشتہ دونوں اسی چکر میں رہ گئے

اس نے لہجے میں بے چارگی سمو کر کہا۔۔۔۔

اوہو پہلے کیوں نہیں بتایا۔۔۔ رکو کافی پینے کی کوئی

ضرورت نہیں میں ابھی تمہارے لئیے ناشتہ بناتی ہوں

وہ فریج سے بریڈ اور انڈے نکالنے لگیں۔۔ماحر سر ہلاتا

لاؤنج میں چلا آیا تاہم دوبارہ ٹی وی کے سامنے بیٹھنے

سے پہلے وہ بیڈروم میں جھانکنا نہیں بھولا۔ پرسکون

گہری نیند سو رہی تھی وہ۔۔۔ ماحر مطمئن ہوتا ٹی وی دیکھنے لگا۔شام تک اسکا بخار کچھ کم ہو گیا تھا تو وہ اسے خان پیلس لے آئے سکندر علیخان بھی ساتھ تھے وہ اس وقت شدید شرم سے کٹ کر رہ گئی تھی جب ماحر نے ماں باپ کی موجودگی میں ہی اسے بازوؤں میں اٹھا کر گاڑی میں بٹھایا اور پھر گاڑی سے اٹھا کر گھر کے اندر لایا۔۔وہ اسے منع بھی نہیں کر سکتی تھی کیونکہ ڈاکٹر نے فلحال پاؤں زمین پر رکھنے اس پر زور دینے سے سختی سے منع کیا تھا۔۔۔خان فیملی اسے

پلکوں پر بٹھا رہی تھی۔۔۔۔۔ نوکروں کی فوج کے علاؤہ

ایک فل ٹائم نرس بھی ہائر کی گئی اس کیلئے۔۔۔۔ فائزہ سکندر خود بھی بہت خیال رکھ رہی تھیں اسکا۔۔۔ہنی مون پلان تو دھرے کا دھرا رہ ہی گیا تھا۔۔۔۔ اپنی تمام شوٹنگز ، شوز سے بھی اس نے ایک ہفتے کی چھٹی لے لی تھی۔۔واش روم لے جانا ہوتا۔اسکا ہاتھ منہ دھلوانا ہوتا۔۔اسکو وضو کروانا ہوتا۔ کھانا کھلانا ہوتا یا اسکی ڈریسنگ بدلنی ہوتی یہ سب کام اسکے غصے ناراضگی جھنجھلاہٹ ناگواری کو خاطر میں لائے بنا کرتا اور کرتا بھی زیادہ فائزہ سکندر کی موجودگی میں تھا۔۔

حیات غصے خفت شرمندگی سے دوچار ضرور ہوتی تھی مگر اسے روک ٹوک نہیں پاتی تھی۔ماں کے سامنے وہ کچھ زیادہ ہی شیر ہو جاتا۔۔۔۔ ۔ محبت بھرے فقرے

زومعنی باتیں بولتا۔۔وہ سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ لب

بھینچے بیٹھی رہتی۔فارس کا فون آیا تو فائزہ سکندر کی درخواست پر حیات نے اسے اپنے حادثے کا نہیں بتایا تھا۔۔اس بات کیلئے وہ سب اسکے احسان مند تھے

میری خدمت کر کے کیا سمجھتے ہیں آپ کہ اسطرح

میرا دل جیت لیں گے۔۔۔؟؟

رات کو جب وہ اسکے پاؤں کی ڈریسنگ چینج کر رہا تھا تب بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھی حیات نے اس

سے طنزیہ لہجے میں کہا تھا۔۔۔۔۔۔ اس بیچارے کی اتنے دنوں کی خدمت بھی اسکے رویے میں کوئی تبدیلی نا لا سکی۔۔فائزہ سکندر کی موجودگی میں تو وہ اسے کچھ نا کہتی۔۔۔ مگر اکیلے میں اپنی جھنجھلاہٹ ناگواری و نفرت کا احساس کرانا نا بھولتی۔۔۔۔

آف کورس دنیا امید پر قائم ہے۔۔کبھی نا کبھی تو تمہارا

پتھر دل موم ہو جائے گا۔۔۔۔۔ اور شائد میری اس خدمت

سے ہی ہوجائے۔۔ورنہ تم تو جانتی ہو میں کتنا مصروف

بندہ ہوں دیکھ لو پچھلے ایک ہفتے سے سب کام چھوڑ کر تمہاری سیوا میں لگا ہوا ہوں جب ٹھیک ہو جاؤ تو

کچھ نظر کرم کر کے میری اس خدمت کا معاوضہ دے

دینا۔۔۔۔ اسکا لہجہ شوخ+زومعنی تھا۔۔

میں نے نہیں کہا کہ میری خدمت کریں اور یہ سب ہوا

بھی تو آپکی وجہ سے۔نا مجھے اپنے اس منحوس فلیٹ میں لے کر جاتے نا میں واش روم گرتی نا اتنی تکلیف سہنی پڑتی۔غصے جھنجھلاہٹ اور خفگی کے رنگوں نے اس کے حسین چہرے کے دلکش نقوش میں کچھ ایسی سحر انگیز جاذبیت پیدا کر دی تھی کہ وہ آنکھوں میں

ستائش لئیے اسے تکتا رہ گیا۔۔۔۔

سوری ڈئیر۔۔۔۔مجھے افسوس ہے میری وجہ سے تمہیں اتنی تکلیف اٹھانی پڑی۔۔۔دھیما لہجہ شرمندگی تاسف ندامت سے بھرپور تھا۔۔۔۔

اب آپکے اس افسوس کا کیا کروں میں۔۔۔ میرا تو پاؤں ٹوٹ گیا نا۔۔۔اب یہ فضول کی خدمتیں کر کے میرا دل

جیتنے کی کوشش نا کریں کیونکہ میرے دل تک رسائی

آپ کیلئے اب ناممکن ہی ہے۔۔۔ اپنے پاؤں پر اسکے مالش

کرتے ہاتھوں کو گھورتے ہوئے بولی۔۔سرد مہر نخوت زدہ لہجہ ہمتیں پست کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا تھا مگر جیتنے کا عزم رکھتا تھا وہ دل برداشتگی تو سہنا تھی۔۔سو محسوس کیے بنا دلکش مسکراہٹ لبوں پر سجا کر بولا۔۔۔۔

میں کسی لالچ یا غرض کیلئے تمہاری خدمت نہیں کر

رہا ڈئیر۔۔۔۔۔ جتنی نرمی سے وہ اس کے پاؤں کا مساج

کر رہا تھا اتنی ہی نرمی اس کے لہجے میں بھی تھی۔۔

حیات عبدالرحمٰن کی باتوں سے ناجانے کیوں اسے دکھ

سا ہوا شائد اس لئیے کہ جب انسان کسی کو چاہتا ہے

تو پھر اسکی معمولی سے بے اعتنائی و ناراضگی بھی

برداشت نہیں ہوتی جبکہ یہ لڑکی تو پور پور اسکی

نفرت میں ڈوبی ہوئی تھی اور بات بات پر اس کی توہین و تضحیک کر رہی تھی۔۔۔

اچھا۔۔۔وہ طنزیہ ہنسی۔۔مسٹر دنیا کا کوئی بھی مرد بنا کسی مطلب کسی غرض کے کبھی بھی کسی عورت کی ہیلپ کبھی نہیں کرتا۔وہ اپنی بات پر زور دے کر بولی۔۔

بالکل میں تمہاری بات سے اختلاف نہیں کروں گا۔۔لیکن

اپنی بیوی کی خدمت کسی لالچ یا غرض کے تحت تو

نہیں کی جاتی۔۔۔۔ اور ویسے بھی مجھے تم سے کیا لالچ

ہو سکتا ہے میرے پاس تو سب کچھ ہے بشمول تمہارے

قصداً لہجے میں اپنائیت و نرمی سموتے ہوئے کہا ساتھ ہی آہستگی سے مسکرایا۔۔

بشمول میرے۔اس نے بھوئیں آچکا کر حیرانگی سے اس

کی طرف دیکھا۔۔میں کب ہوں آپکے پاس۔۔۔۔۔۔؟؟ ہمارے

درمیان جو رشتہ ہے وہ صرف کاغذی ہے جو کبھی بھی

ٹوٹ سکتا ہے۔۔۔گھر بسانا تم شوبز والوں کے بس کا کام

نہیں نت نئی عورتوں کی عادت پڑی ہوتی ہے نا پھر ایک عورت پر کہاں اکتفا ہوتا ہے۔۔بنا سوچے سمجھے وہ

پھر بول گئی تھی۔۔

حیات کی بات ادھوری رہ گئی اسکے آخری جملے پر وہ

ضبط نا کر سکا۔اسکے اسقدر آہانت آمیز لہجے نے اسکے

اندر شرارے دوڑا دیے۔۔۔۔۔۔ کنپٹیوں میں خون ٹھوکریں

مارنے لگا۔اسکے اندر کا انا پرست غصیلہ مرد اس چوٹ پر تلملا اٹھا۔۔

تم خود کو سمجھتی کیا ہو۔۔۔۔ میں جتنا تمہارے ساتھ

قدموں میں گرتا چلا جا رہا ہوں تمہارا دماغ اتنا ہی آسمان پر چڑھتا جا رہا ہے۔۔۔میں جتنا تمہاری محبت کا دم بھرتا ہوں اتنا ہی تم مجھے ذلیل کرتی ہو۔۔۔۔ میری

توہین کرتی ہو تم اس دنیا میں اکلوتی حسین ہو کیا؟؟ اپنی گھٹیا و پست ذہنیت کو اپنے تک رکھو ایسا نا ہو کہ میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے اور میں تمہارا دماغ درست کر دوں سمجھی۔۔۔ بہت ہی سطحی سوچ

رکھنے والی لڑکی ہو تم۔۔۔۔

اسکے بازو میں سختی سے انگلیاں گاڑے اسکی پھٹی پھٹی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔ اسکی آنکھوں میں وحشت کی سرخی بادلوں کی طرح چھا گئی تھی۔۔۔۔چہرے کے ہر نقش سے غصہ عیاں تھا۔۔۔

پیشانی شکن آلود ہو گئی تھی۔۔۔۔

تو کس نے کہا ہے میرے قدموں میں گرنے میری محبت کا دم بھرنے کو۔۔۔۔۔وہ اپنا بازو چھڑواتے ہوئے چیخ پڑی

ماحر کے تیوروں نے کچھ دیر کیلئے اسے خائف ضرور کیا تھا مگر وہ پسپائی لمحاتی تھی۔۔۔ وہ پھر سے اپنے نڈر انداز میں آ چکی تھی۔۔۔۔

خاموش۔۔۔۔۔” دل کرتا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔” وہ یکدم دھاڑا اسکا

اٹھا ہوا ہاتھ ہوا میں معلق ہوا۔۔۔حیا نے خوف کے مارے

دونوں ہاتھ اپنے چہرے پر رکھ لئیے۔۔۔۔اس نے لب بھینچ کر اپنے غصے کو کنٹرول کیا۔۔۔۔ہوا میں معلق ہاتھ نیچے گر گیا۔۔اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر جکڑ لیا۔۔۔۔

ٹپ ٹپ۔۔کئی آنسو اسکی آنکھوں کے ساگر سے چھلکے

پل بھر میں وہ اپنی تیز طراری بھول گئی۔۔۔

وہ وحشت بھرے انداز میں دونوں ہاتھوں سے اپنا سر جکڑے بیٹھا تھا۔۔حیات کی سسکیاں تیز ہوئیں تو اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔۔۔ اسے روتے دیکھ کر اسے ندامت ہوئی۔۔۔۔

تم کیوں اتنی کڑوی زبان استعمال کرتی ہو۔۔۔میں بھی

انسان ہوں دل رکھتا ہوں تکلیف ہوتی ہے تمہارے ان نوکیلے کڑوے دل کو چیر دینے والے لفظوں سے۔۔۔کیوں

اتنا غلط سمجھتی ہو تم مجھے۔۔۔۔۔؟؟ وہ بے بس لہجے

میں پوچھ رہا تھا۔۔۔

ہونہہ۔۔۔۔ وہ تضحیک آمیز انداز میں اسے دیکھتے ہوئے نفرت سے سرد لہجے میں پھنکاری۔۔۔۔۔۔ صرف سمجھتی

ہی نہیں ہوں بلکہ پرسنل ایکسپیرینس ہے مجھے۔۔۔ آپ کے نزدیک کسی بھی لڑکی کی اہمیت ایک ٹشو پیپر سے زیادہ نہیں ہوتی۔۔۔آپ کیلئے کسی بھی لڑکی میں کشش صرف اسں وقت تک ہوتی ہے جب تک وہ آپ کو حاصل نہیں ہو جاتی آپ شوبز والے کسی کے ساتھ مخلص نہیں ہوتے ہو جب دل بھر جائے چھوڑ دیتے ہو۔۔۔۔ جتنی بھی ہیروئنز کے ساتھ آپکے معاشقے چلے ان میں کئی تو بے انتہا خوبصورت تھیں۔ لیکن کوئی بھی آپکی زندگی

میں شامل نا ہو سکی اور بریک اپ بھی ہمیشہ آپکی طرف سے ہی ہوا۔۔۔ایسا کیوں۔۔۔۔؟؟صرف اس لئیے نا وہ

اپنی عزت آپکے قدموں میں رکھ دیتی تھیں۔۔پھر انہیں پا لینے کے بعد ان کے حسن میں آپ کیلئے کوئی کشش باقی نہیں رہتی۔۔ورنہ ایسی کونسی لڑکی ہے جسکو آپ پرپوز کرتے اور وہ منع کر دیتی۔۔۔۔۔مجھ میں بھی آپکو

دلچسپی صرف اسلیئے ہے کہ آپ ابھی تک حاصل نہیں کر پائے مجھے۔۔۔جس دن میں حاصل ہو گئی آپکو میرا

انجام بھی وہی ہوگا جو آپکی زندگی میں آنے والی ہر

لڑکی کا ہوا۔۔۔اگر رہنا ہے تو میرے ساتھ ایسے ہی رہیں

جیسے ہم رہ رہے ہیں مجھ سے کوئی Expectations

کوئیHope نا لگائیں۔۔۔ اگر نہیں منظور تو اپنا راستہ

الگ کر لیں۔۔۔۔ اپنی بات کہہ کر وہ تنفر زدہ تاثرات لئیے دوسری سمت دیکھنے لگی۔۔۔

وہ اسکی طرف دیکھتا رہا پھر چند لمحے توقف کے بعد گویا ہوا۔۔۔۔۔

تمہیں لگتا ہے اگر ہم ازدواجی زندگی کا آغاز کریں گے

تو کچھ عرصے میں میرا تم سے دل بھر جائے گا اور میں تمہیں چھوڑ دوں گا۔۔۔۔۔ ؟؟ ماحر نے حیرت بھرے

لہجے میں کہا۔۔سچ تو یہ ہے میں تم سے بے پناہ محبت

کرتا ہوں تمہیں چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتا لیکن

تم چونکہ اس بات پر یقین نہیں کروگی۔ لیکن تم شائد بھول رہی ہو میری تمام پراپرٹی تمہارے نام ہے۔۔تمہیں

چھوڑنے کی صورت میں اپنی تمام پراپرٹی سے مجھے

ہاتھ دھونے پڑیں گے۔۔۔۔۔ ایسا کیسے کر سکتا ہوں میں

بھلا۔۔اچھا ایک کام کرتے ہیں تم مجھے ایک موقع دے

دو ہم اپنی ازدواجی زندگی کا آغاز کرتے ہیں یعنی نارمل میرڈ لائف سٹارٹ کر کے ایک دوسرے کے حقوق

و فرائض ادا کرتے ہیں اگر اسکے بعد تمہیں مجھ سے

کوئی شکایت ہوئی تو تم جو سزا دوگی مجھے منظور

ہوگی۔اسکے ملائم ہاتھوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں

لیتے ہوئے وہ جذباتی لہجے میں گویا ہوا۔۔۔آنکھوں میں امڈتے خمار آلود جذبات کی سرخیاں تھیں۔۔۔۔۔

میرا حق مہر ادا کرنے کی اوقات ہے آپکی؟؟ جو حقوق وفرائض پر بات کرنے چلے آئے۔تمسخرانہ لب و لہجہ تھا

اوقات بھی ہے اور حیثیت بھی۔۔بس یہ جو حرام حلال کا فتور آپکے دماغ سمایا ہے محترمہ اسی نے مجھے بے بس کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔ اس نے سرد آہ بھر کر کہا اور نگاہیں بھی اسکے چہرے سے ہٹا لیں۔۔۔۔۔

حیات نے لب بھینچ کر شعلہ بار نظروں سے گھورنے پر

اکتفا کیا۔۔۔۔

سنو اگر میں تمہارا حق مہر ادا کر دوں تو کیا تم میرے ساتھ نارمل میرڈ لائف کا آغاز کرو گی۔۔۔۔۔؟؟ چند لمحے سوچنے کے بعد اس نے پوچھا۔۔۔

میرا حق مہر آپ ادا کر ہی نہیں سکتےمسٹر۔۔۔مانا پانچ سو کروڑ آپ کیلئے کوئی بڑی رقم نہیں ہے کیونکہ آپ تو( Millionaire)ہیں۔۔لیکن آپکے پاس یہ جتنی بھی اربوں کھربوں دولت ہے یہ سب آپ نے فلموں سے کمائی ہے۔۔مجھے میرا حق مہر حلال کی کمائی سے چاہیے مگر سیدھے حلال اور ایماندارانہ طریقے سے پانچ سو کروڑ کمانے میں تو شائد آپکی پوری زندگی لگ جائے اور پھر

پتہ نہیں پوری زندگی کما پاتے بھی ہیں یا نہیں۔کیونکہ

اتنی بڑی رقم انسان دھوکے فریب بے ایمانی یا کوئی گناہ کا کام کر کے تو کم ٹائم میں کما سکتا ہے۔۔۔۔۔ لیکن سیدھے سچےاور ایماندارنہ طریقے سے کمانے میں تو شائد انسان کی پوری زندگی ہی لگ جائے۔کیا کریں گے آپ۔۔؟؟ اس نے استہزائیہ اندا میں کہا۔۔

وہ کچھ دیر اسکے خوبصورت نقوش والے مغرور چہرے کو دیکھتا رہا۔جہاں بڑی شان سے ناممکن اور نو رسائی جیسے الفاظ لکھے نظر آ رہے تھے۔۔۔۔

تم مجھے صرف چھے مہینے دے دو۔۔۔ان چھے مہینوں

میں یہ رقم میں حلال طریقے سے کما کر تمہیں دوں گا

لیکن اس کے بعد تم میرے حقوق سے انکار نہیں کروگی

چند پل پرسوچ نگاہوں سے اسکی طرف دیکھتے رہنے

کے بعد اس نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔۔۔

ناممکن۔۔۔۔ چھے مہینے تو کیا چھے سالوں میں بھی آپ اتنی بڑی رقم حلال طریقے سے نہیں کما سکتے۔۔۔مجھ

تک رسائی کا خیال اپنے دل سے نکال دیجئیے مسٹر۔۔۔

لہجے میں خاصا زعم تھا۔۔۔

چیلنج کر رہی ہو؟؟ تمہیں پانا میرے لئیے کوئی مشکل نہیں ہے۔۔اگر میں نے کبھی تم سے اپنے حقوق کا مطالبہ

نہیں کیا تو اسکی وجہ یہ نہیں کہ تمہارا غصہ نفرت

یا ناراضگی مجھے روکتی ہے بلکہ وجہ یہ ہے کہ تمہاری

رضامندی میرے لئیے سب سے امپارٹینٹ ہے۔ورنہ کوئی

شوہر اتنا شریف نیک فرشتہ صفت یا فراغ دل نہیں ہوتا کہ تم جیسی اتنی حسین جمیل بیوی بلکہ جیتی جاگتی قیامت کی موجودگی میں اپنے جائز حق سے نظریں چرائے اپنے نفس کو تھپک تھپک کر سلائے تم

ہمیشہ میرے کردار کو نشانہ بناتی ہو۔۔۔ میرے کردار کی

مضبوطی کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا کہ میں نے اپنی

بیوی کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔جن فلمی ہیروئنز کیساتھ میرے افئیرز رہے وہ سب کی سب خود اپنی مرضی سے میرے قریب آئی تھیں۔۔۔۔ میں یہ نہیں کہتا میرا کردار بالکل صاف تھا میں بھی برابر کا شریک تھا مگر جب

کوئی عورت خود اپنی نسوانیت کو بخوشی گنوانا

چاہے تو کونسا مرد ہوگا جو انکار کرے گا بھلا۔۔اور رہی بات یہ کہ ان میں سے کسی کو اپنی زندگی میں شامل کیوں نہیں کیا۔۔تو پہلی بات تو یہ ہے شوبز میں لڑکیاں

گھر بسانے سے زیادہ اپنا کیریئر بنانے کو ترجیح دیتی

ہیں۔کیوں کہ انہیں یہ ڈر ہوتا ہے شادی کر لی تو فلمی

کیرئیر ٹھپ ہو جائے گا۔۔۔۔ اس لئیے اول تو شادی کرتی

ہی نہیں جو کرتی ہیں تو پھر پینتیس چالیس کی ایج

میں۔بعض اگر پہلے کر بھی لیں تو کیرئیر کے چکر میں

گھر نہیں بسا پاتیں اس لئیے شوبز سے تعلق رکھنے والے مرد ان ہیروئنز سے افیئرز تو چلاتے ہیں مگر شادی کے لئیے زیادہ تر شوبز کی فیلڈ سے باہر کی لڑکیوں کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔۔۔لہذا تم صرف یہ مت سوچو کہ میں نے ہی دل بھر جانے پر اپنی تمام گرل فرینڈز کو چھوڑا

ہوگا یہ بھی تو ہو سکتا ہے نا کہ کسی نے اپنے کیرئیر

کی وجہ سے مجھے انکار کیا ہو۔۔

رسانیت سے کہتے ہوئے بات کے اینڈ پر وہ پھیکا سا مسکرایا تھا۔حیات عبدالرحمان اسکے چہرے پر سچائی

کھوجنے لگی۔۔۔

نیم پختہ مکانوں کی تنگ گلیوں سے گزرتے ہوئے بالآخر وہ اپنے مطلوبہ مکان کے سامنے پہنچ کر رک گیا۔۔۔۔گرے

پینٹ پر سرمئی شرٹ پہنے زمانے بھر کی شرمندگی اور

ندامت اپنے سانولے چہرے پر لئیے اپنے مضبوط ہاتھوں سے اس نے لکڑی کا بوسیدہ سا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔۔

چند لمحے دھڑکتے دل کے ساتھ انتظار کرتا رہا۔دروازے

کے دوسری طرف قدموں کی چاپ کے ساتھ نحیف سی

آواز ابھری۔۔۔کون ہے بھئی۔۔۔۔؟؟

اسکی دھڑکن تیز ہوئی۔۔ کیسے سامنا کرے گا۔۔۔ کیا کہے گا۔۔؟ نا جانے وہ اسے معاف کرے گی بھی یا نہیں۔۔۔جرم

بہت بڑا تھا۔۔۔۔ اس خیال سے اسکے مساموں سے پسینہ پھوٹ پڑا۔۔۔دروازہ اب کھل چکا تھا۔۔۔۔۔ دروازے پر کھڑا

وجود اسکے چہرے پر شناسائی کی رمق ڈھونڈھ رہا تھا۔۔۔۔

حیات عبدالرحمٰن کا سخت و سرد رویہ آہستہ آہستہ مدھم پڑنے لگا۔۔ اب ناجانے اسکی باتوں نے اسکے دل پر اثر کیا تھا یا اسکی کئیر نے وہ بدلنے لگی تھی۔۔۔ اب وہ نارمل انداز میں اس سے بات کر لیتی تھی۔اسکی باتوں

کا جواب بھی دے دیتی تھی۔۔۔ طنز کرنا نفرت جتانا ان

سب چیزوں سے اجتناب کیے ہوئے تھی۔۔سارا وقت بیڈ

پر لیٹی اسلامک بکس پڑھتی رہتی اور اپنا سیل یوز کرتی۔۔۔اسکی بوریت کے خیال سے ماحر نے کمرے میں ٹی وی رکھوانا چاہی تھی مگر اس نے منع کر دیا تھا

اور کہا کچھ اسلامی بکس چاہیں اسے۔۔۔ اس نے پہلی دفعہ کوئی فرمائش کی تھی ماحر نے روم میں اسلامی کتابوں کا ڈھیر لگا دیا تھا وہ اس بات پر ہی خوش ہو

گیا تھا بکس ہی سہی اس نے کسی چیز کی فرمائش تو کی تھی۔بیس دن ہو چکے تھے۔۔کلائی تو بالکل ٹھیک ہو

گئی تھی مگر پاؤں کا ابھی ٹریٹمنٹ چل رہا تھا۔۔۔فارس

روز صبح آفس جاتے وقت اسے دیکھنے آتا۔۔۔۔۔ جب اسے

اور فضا کو اسکے پاؤں کی چوٹ کا پتہ چلا تھا تو وہ

دونوں یہ بات چھپانے پر اس سے بہت ناراض ہوئے تھے

فارس بھائی اسے اپنے گھر لے جا کر اسکا ٹریٹمنٹ خود

کروانا چاہتے تھے۔۔۔۔۔ مگر فائزہ سکندر نے اتنے لجاجت بھرے انداز میں اس سے درخواست کی تھی اس نے

فارس اور فضا کے ناراض ہونے کے باوجود انہیں منع کر دیا تھا۔۔اس دن وہ بہت خوش ہوئی جب پہلے کی طرح

ٹھیک ٹھاک انداز میں بغیر کسی سہارے کے زمین پر

قدم رکھا۔اگرچہ پورا ایک منتھ لگا تھا اسکا پاؤں مکمل ٹھیک ہونے میں مگر اب وہ صحیح طرح سے چل پھر سکتی تھی جس بات کی اسے سب سے زیادہ خوشی تھی وہ یہ کہ اس شخص کی محتاجی سے اب اسے نجات مل گئی تھی۔۔پورے ایک مہینے بعد خود سے چل کر وہ فائزہ سکندر کی ہمراہی میں ڈائننگ ٹیبل پر گئی تھی اور سب کیساتھ بیٹھ کر ڈنر کیا تھا۔۔ اسکے مکمل

صحتیاب ہونے کی خوشی میں فائزہ سکندر نے نوکروں

اور کچی بستیوں میں رہنے والے لوگوں میں بکروں کو

ذبح کروا کر خیرات تقسیم کی۔۔۔فرداً فرداً سب نے پاؤں ٹھیک ہونے کی مبارک دی۔۔۔۔ماحر جو تین دن سے کسی ایڈ کی شوٹنگ کے سلسلے میں دوبئی میں تھا کل رات ہی واپس آیا تھا۔۔اس نے بھی حیات کو اسکے پاؤں کے ٹھیک ہونے کی مبارکباد دی تھی۔۔۔ مگر وہ خاموش رہی کوئی ردعمل نہیں دیا تھا۔گارڈن میں واک کرنے کے بعد

وہ روم میں آئی تو بیڈ پر پڑے شاپنگ بیگز کو دیکھ کر ٹھٹک گئی۔۔۔امپورٹڈ پرس پرفیومز مگر جن چیزوں

کو دیکھ کر اسے تپ چڑھی تھی وہ تھیں سلک کی دو

بولڈ قسم نائٹیز۔۔سلیولیس۔۔گہرے گلے۔بمشکل گھٹنوں تک تھیں وہ غصے اور شرم سے کٹ کر رہ گئی تھی۔اس

کی بھلا کونسی بے تکلفی تھی اسکے ساتھ جو وہ اس طرح کی بے ہودہ چیزیں لایا تھا اس کیلئے۔۔۔۔

وہ بھی وہیں کمرے میں موجود تھا۔۔غصے سے کھولتی ہاتھ میں دونوں نائٹی پکڑے وہ اسکی طرف مڑی مگر

اس سے پہلے وہ اسے کھری کھری سناتی۔۔۔۔ اسی وقت دروازے پر دستک ہوئی۔۔

یس کمنگ۔۔۔۔ ماحر کے اجازت دینے پر ملازمہ نے کمرے میں آ کر فائزہ سکندر کا پیغام دیا۔۔وہ اسے بلا رہی تھی

اوکے آتا ہوں۔۔۔ملازمہ سر ہلاتے ہوئے باہر جانے ہی لگی تھی جب حیات کے دماغ میں فوراً ایک خیال آیا۔۔ اس نے جاتی ہوئی ملازمہ کو روکا۔۔۔۔

سنو حاجرہ تمہاری بیٹی کی عمر کیا ہے۔۔۔؟؟ ماحر کو

اس بے وقت کے سوال کی تک سمجھ میں نہیں آئی تبھی ملازمہ کے ساتھ ساتھ وہ بھی حیرانی سے اسے

دیکھنے لگا۔۔۔۔

دس سال کی ہے بی بی جی۔۔۔۔۔۔ملازمہ نے احترام سے جواب۔۔۔

یہ لو کسی ٹیلر سے ری سیٹ کروا لینا تمہاری بیٹی کی

فراکس بن جائیں گی۔اس نے ہاتھ میں پکڑی نائٹیز میڈ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ایکچولی میں ایسی بے ہودہ

چیزیں نہیں پہنتی۔۔۔۔۔۔ پتہ نہیں لوگ کیوں ہر کسی کو

اپنے جیسا بے حیا سمجھتے ہیں۔۔۔

اس نے کاٹ دار لہجے میں کہا۔۔۔۔

ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کوٹ پہنتے ماحر نے لب بھینچ کر اسکا طنز سنا۔۔۔

مگر میم صاحب یہ تو بہت مہنگے کپڑے ہیں۔۔۔ملازمہ

نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔۔۔

کوئی بات نہیں تمہاری بیٹی کے کام آ جائیں گے۔۔ لینے

ہیں تو لے لو نہیں تو میں نے تو ڈسٹ بن میں ڈال دینی

ہیں۔اس نے بے نیازی سے کہا تو ملازمہ نے آگے بڑھ کر فوراً اس کے ہاتھ سے لے لیں۔۔شکریہ میم صاحب بہت شکریہ اللّٰہ آپ کو بہت دے۔۔ممنونیت بھرے لہجے میں دعائیں دیتی وہ باہر نکل گئی۔۔وہ پلٹی اور بیڈ پر پڑی باقی چیزوں کو اٹھایا صوفے پر پھینکنے کے انداز میں پٹخا۔۔ ماحر نے مرر میں ایک تاسف بھری نظر اس پر ڈالی دو لاکھ کی نائٹیز اس نے ملازمہ کو دے دیں اس بات سے زیادہ اسے اسکے حقارت آمیز الفاظ اور اپنی لائی گئی چیزوں کی توہین پر دکھ ہوا۔۔شادی کو دو مہینے ہو چکے تھے ان دو مہینوں میں وہ اس کے دل میں جگہ بنانے میں بری طرح ناکام رہا تھا۔۔۔پچھلے کچھ دنوں سے جو اسکے رویے میں بدلاؤ آیا تھا وہ اب اسکے مکمل ٹھیک ہوتے ہی ختم ہو چکا تھا۔۔

وہ بری طرح دل برداشتہ ہو رہا تھا۔۔۔۔اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ کیا کرے۔اسے اپنی طرف کیسے مائل کرے۔۔حیات سے محبت کے معاملے میں اس جیسا ضدی اکھڑ اپنی من مانی کرنے والا بندہ اب بے بس ہو گیا تھا۔۔۔ ساتھ ہی اسے یہ خوف بھی لاحق ہو گیا کہ کہیں اس کی کسی قسم کی زبردستی یا غصہ حیات عبدالرحمٰن کو اس سے مزید بدگمان مزید متنفر نا کر دے۔۔وہ اس کے ساتھ گھر بسانا چاہتا تھا ایک خوشیوں بھری میرڈ لائف جینا چاہتا تھا مگر حیات عبدالرحمٰن کا رویہ اسے مسلسل مایوس کر رہا تھا۔۔۔۔چند دن پہلے اسکے رویے میں ہلکی سی لچک دیکھ کر جو امید پیدا ہوئی تھی اس پر اب ٹھنڈا ٹھار پانی پڑ چکا تھا۔۔۔۔

تمہیں میری لائی گئی چیزیں پسند نہیں آئیں کیا۔۔؟؟

وہ خود پر ضبط کرتا اسکے قریب چلا آیا اور صوفے

پر پڑے شاپنگ بیگز کی طرف اشارہ کر کے نرم لہجے میں پوچھا۔۔۔

مجھے جب آپ ہی پسند نہیں مسٹر تو آپکی لائی گئی چیزیں کیسے پسند آ سکتی ہیں۔۔اپنے کپڑے ہینگ کرتی وہ اسکی طرف دیکھے بنا بولی۔انداز سراسر توہین آمیز تھا۔۔۔۔

عجیب لڑکی ہو تم دنیا مرتی ہے مجھ پر اور تم کہتی ہو تمہیں میں پسند نہیں۔۔۔عجیب حسرت آمیز شاکی

لہجہ تھا۔۔۔۔

مجھے ہمیشہ سے وہ چیزیں ناپسند رہی ہیں جن کو زیادہ لوگ پسند کرتے ہوں۔۔۔وہ جواباً پھنکاری تھی

مگر کسی زمانے میں تو تم نے پسند کیا تھا مجھے۔۔تب

بھی چاہنے والے لاکھوں کروڑوں تھے میرے۔۔۔۔۔

اپنا کام کریں جا کے۔۔۔ میرا موڈ نہیں آپکے منہ لگنے کا سمجھے۔۔وہ نفرت انگیز لہجے میں کہتے ڈریسنگ روم میں چلی گئی۔۔

وہ غصے سے تنتناتا مڑا ٹیبل سے گاڑی کی کیز اٹھائیں اور باہر نکل گیا۔۔۔۔۔ ڈریسنگ روم کے دروازے پر کھڑی

حیات عبدالرحمٰن کے لبوں کے گوشوں میں مچلتی

مسکراہٹ گہری ہو گئی۔ماحر خان کو زچ کرنے کے بعد

وہ یونہی خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرتی تھی۔۔۔

حیا بیٹا بات سنو۔۔دوپہر کو وہ گارڈن کی طرف جا رہی تھی جب مین ہال کے دروازے کے دائیں طرف لگے سی سی ٹی وی کیمروں کے سامنے کھڑی فائزہ سکندر نے اسے آواز دی۔۔ان کیمروں سے گیٹ اور اس کے آس پاس کا سارا ایریا بخوبی دیکھا جا سکتا تھا۔ہاتھ میں انہوں نے انٹرکام پکڑا ہوا تھا غالبا چوکیدار سے بات کر رہی تھیں۔۔۔

جی آنٹی۔۔۔۔؟؟ انکے قریب آ کر انہیں سوالیہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولی

بیٹا وہ چوکیدار کہہ رہا تمہاری کوئی گیسٹ تم سے ملنا چاہتی ہے۔۔۔بہت انسسٹ کر رہی ہے غالباً کہہ رہی

ہے کہ تمہاری دوست ہے تم ذرا دیکھو اس لڑکی کو تمہاری کوئی دوست ہے کیا۔۔۔۔؟؟ انہوں نے کہتے ہوئے

سامنے لگے کیمرے کی طرف اشارہ کیا جس میں آؤٹ

ڈور ایریا دکھائی دے رہا تھا۔۔۔

حیات نے فوراً کیمرے کی طرف دیکھا۔گیٹ باہر شلوار

قیمض میں ملبوس ڈوپٹہ اوڑھے ایک لڑکی کھڑی تھی

حیات کی آنکھوں میں الجھن تیرنے لگی وہ لڑکی اسے کہیں سے بھی شناسا نا لگی نظریں کیمرے میں نظر آتی لڑکی پر جمائے وہ فائزہ سکندر سے کہنے ہی والی تھی کہ وہ اس لڑکی کو نہیں جانتی یکدم دماغ میں

جھماکا ہوا۔ لڑکی کی شکل شناسا سی لگی۔چند لمحے

مزید غور کرنے پر وہ اسے پہچان گئی تھی۔۔۔۔