Meri Hayat By Zarish Hussain Readelle50271 Meri Hayat (Episode 46) Part - 2
Rate this Novel
Meri Hayat (Episode 46) Part - 2
Meri Hayat By Zarish Hussain
سر مجھے آپ کو بہت ہی ضروری بات بتانی ہے”ماحر جیسے ہی ڈریسنگ روم سے باہر آیا۔۔۔۔کب سے انتظار میں ٹہلتا فرقان فوراً بولا۔۔۔اس کا چہرہ اور انداز دونوں ہی پرجوش لگ رہے تھے۔۔
کیا۔۔۔۔؟؟اس نے اپنے سیل فون پر نظر دوڑاتے سرسری انداز میں پوچھا
یہ جو خواجہ سرا آئے ہوئے ہیں ان میں میں نے مس حیات کو دیکھا ہے بالکل انہی کے گیٹ اپ میں ہے وہ
یعنی خواجہ سرا بنی ہوئی ہے
وہاٹ۔۔۔۔۔ماحر کے ہاتھ سے سیل فون گرتے گرتے بچا
تم سچ کہہ رہے ہو۔۔۔؟؟اسکی آنکھوں میں استعجاب تھا۔۔۔انداز میں بے یقینی تھی۔۔
بالکل سچ کہہ رہا ہوں سر۔۔۔آئیے میں آپ کو دکھاتا ہوں فرقان نے جوش بھرے لہجے میں کہا۔۔
چلو۔۔۔۔۔ماحر ہیجانی کیفیت میں مبتلا ہونے لگا۔۔فرقان اسے لے کر اس طرف گیا جس طرف خواجہ سراؤں کی ریہرسل ہو رہی تھی وہاں عجیب تماشا دیکھنے کو ملا
انکا گرو اپنے ساتھیوں پر برس رہا تھا۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔۔۔؟؟اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ ڈائریکٹر سے استفسار کیا
سر ان کا ایک ساتھی بھاگ گیا ہے۔اسی لئیے اپنے لوگوں
پر غصہ کر رہا ہے یہ۔۔۔ڈائریکٹر حبیب ملک نے ماحر کو بتایا تو فرقان ان سب خواجہ سراؤں کی طرف دیکھنے لگا جو گرو کے عتاب کے ڈر سے سہمے ہوئے کھڑے تھے اسے وہ لال لہنگے والا نقلی خواجہ سرا یعنی حیات ان میں نظر نہیں آئی اسے سمجھنے میں ایک سیکنڈ نہیں لگا کہ کون بھاگا ہوگا۔۔
سر جو ان کا ساتھی بھاگا ہے وہ مس حیات ہی تھی۔۔انے بے حد افسوس بھرے انداز میں ماحر کو آہستہ سے اطلاع دی۔۔
تم مجھے پہلے نہیں بتا سکتے تھے۔۔۔؟؟ماحر نے بے حد غصے سے اسے گھرکا۔۔۔
سر آپ میک آپ روم میں تھے۔۔میں ویٹ کر رہا تھا آپ کے باہر آنے کا۔۔پھر مجھے کیا پتہ تھا وہ بھاگ جائے گی
فرقان نے شرمندہ سے لہجے میں صفائی دی۔۔ماحر نے دانت پیس کر اسکی طرف دیکھا۔۔۔۔بیوقوف ڈریسنگ روم کے اندر آ کر نہیں بتا سکتے تھے۔سات مہینوں سے
ڈھونڈ رہا ہوں میں اسے۔۔قسمت آج ملا ہی دیتی اس سے اگر تم ٹائم پر بتا دیتے تو۔۔۔افسوس سے کہتے آخر
میں اسے سخت نظروں سے گھورا۔۔۔
وہ یقیناً میری وجہ سے ہی بھاگی ہے یہاں سے۔او گاڈ
ہاں وہ سمجھ رہی ہوگی کہ اگر میں نے اسے دیکھ لیا
تو بدلا لوں گا۔۔۔پولیس کے حوالے کروں گا۔۔۔
اف اسے کیا پتہ۔۔۔۔ میں تو اپنے کیے پر پشیمان ہوں۔۔پچھتاؤں کی آگ میں جل رہا ہوں۔۔وہ بے بس لہجے میں بڑبڑا رہا تھا۔۔
اتنے عرصے سے جس کو ڈھونڈ رہا تھا وہ ملی بھی تو کہاں خواجہ سراؤں کے پاس سے اور وہ اسے پہچان بھی نا پایا۔۔
وہ پچھتاوے کی مزید گہرائیوں میں اترتا چلا گیا”
اس کا دل چاہا فرقان کو گولی مار دے جس نے اس
وقت اطلاع دی جب وہ جا چکی تھی۔۔
خود پر کڑا ضبط کیے جیسے تیسے کر کے اس نے اپنی شوٹنگ مکمل کی اور فوراً ہی فرقان کو بوبی گرو کے پاس حیات کے بارے میں معلومات لینے کیلئے بھیجا۔
گرو اپنی ٹیم کو لیے واپس اپنے ٹھکانے پر جا رہا تھا
فرقان نے اسے بنگلے کے باہر ہی روک لیا۔۔
” پہلے تو وہ مان ہی نہیں رہا تھا کہ اسکے گروہ میں کوئی لڑکی تھی۔۔اس کا اصرار تھا کہ وہ ان کی برادری کا ہی فرد تھا جو ناجانے کیوں بھاگ گیا۔مگر فرقان نے جب پانچ لاکھ کی آفر کی تو وہ مان گیا۔اس نے سوچا لڑکی تو ویسے بھی ہاتھ سے نکل چکی تھی اسکے بارے میں اب بتانے میں اب کیا حرج ہے وہ بھی اس صورت جب پانچ لاکھ بھی مل رہے تھے سو اس نے سب کچھ بتا دیا کہ وہ اسے کہاں سے لایا تھا اور کب سے تھی اسکے پاس۔
فرقان نے جب یہ تمام تفصیلات ماحر کے گوش گزاریں تو وہ ششدر رہ گئی۔۔اسے شاک لگا تھا یہ سن کر کہ وہ خواجہ سرا اسے کوٹھے سے لایا تھا مگر اس
نے اس بات پر اللّٰہ کا شکر بھی ادا کیا کہ وہ محفوظ رہی تھی وہاں کوٹھے پر بھی۔۔
اسکے بعد اس نے اپنے اپنے لاہور والے اپارٹمنٹ میں ڈیرہ ڈال لیا اور حیات عبدالرحمان کو ڈھونڈھنے میں
دن رات ایک کر دے۔۔بوبی گرو سے ایڈریس لے کر اس کوٹھے کی نائیکہ کے پاس فرقان کو بھیجا۔۔۔۔پیسے کے لالچ میں اس نے اس آدمی کے بارے میں بتا دیا جو حیات کو وہاں لایا تھا۔۔اس آدمی تک پہنچے تو اس کا اصرار تھا کہ وہ لڑکی اسکی گاڑی سے ٹکرائی تھی تو وہ اسے ہاسپٹل لے گیا تھا۔پھر اس کا حسن دیکھ کر اسکی نیت خراب ہو گئی تھی اور وہ اسے کوٹھے پر نرگس بائی کے پاس بیچ گیا تھا۔۔۔ماحر کا دل کیا اس آدمی کو جان سے مار دے۔۔مگر کیا کرتا۔۔۔۔۔پہلا قصور
تو اپنا تھا۔۔۔نا وہ اسکے ساتھ اتنی بے رحمی کا مظاہرہ کرتا۔۔۔۔نا درندہ بنتا اور نا وہ گلاب کے پھول جیسی حسین معصوم لڑکی اس اجنبی شہر میں لوگوں کی سفاکیت کا شکار ہوتی۔۔۔
اسکا پچھتاوا اور درد مزید بڑھنے لگا۔
ایک اہم بات جو اس آدمی کی زبانی ماحر کو پتہ
چلی وہ یہ تھی کہ وہ لڑکی اپنے بھائی کو ڈھونڈھ رہی تھی جو کھو گیا تھا۔اس خبر نے اسکی آنکھیں نم کر دی تھیں۔۔اسے وہ گول مٹول پھولے پھولے گالوں والا بچہ یاد آیا۔۔جو اسے کہا کرتا تھا مجھے آپکے ساتھ فلم میں کام کرنا ہے۔۔۔
دل دکھ سے بھر گیا تھا۔۔
افسوس گہرا ہو گیا تھا۔۔
سکون ختم ہو گیا تھا۔۔۔
پوری جان لگا دی تھی اس نے حیات عبدالرحمان کو ڈھونڈھنے میں مگر اللّٰہ کو شائد ان کا ملانا ابھی منظور نہیں تھا۔۔۔تبھی دو ماہ گزرنے کے باوجود بھی وہ اسے ڈھونڈنے میں ناکام رہا۔اسے واپس کراچی جانا تھا اب وہ مزید یہاں رک نہیں سکتا تھا۔۔تاہم فرقان کو وہ یہیں چھوڑ گیا تھا کہ جب تک حیات عبدالرحمان کے بارے میں کوئی کلیو نہیں مل جاتا وہ یہاں سے ہلے بھی نہیں۔۔حیات کو ڈھونڈنےکیلئے اس نے ایک خفیہ ایجنسی کی مدد لی ہوئی تھی جو پیسے لے کر راز داری سے کام کرتے تھے۔۔
لاہور کے آرمی کینٹ کے اندر واقع یہ میجر نعمان کا تین منزلہ بنگلہ تھا۔۔بنگلے میں کل چھے مکین رہتے تھے
جن میں ایک میجر نعمان۔۔اس کی ڈھائی سالہ بیٹی علیشاہ۔۔۔۔۔علیشاہ کی گورنس۔۔۔۔۔۔نوکروں کی نگرانی کرنے والی ادھیڑ عمر ماسی۔۔بٹ مین۔۔۔خانساماں اور گیٹ پر ایک گارڈ ہوتا تھا۔۔۔۔۔باقی میجر نعمان کا ایک مینجر اور ڈرائیور بھی تھے۔مگر ان تینوں کا شمار باہر کے لوگوں میں ہوتا تھا۔میجر نعمان کی بیوی کی ڈھائی سال پہلے اسوقت ڈیتھ ہوئی تھی جب اسکی بیٹی نے
اس دنیا میں آنکھ کھولی تھی۔۔میجر نعمان کو اپنی بیٹی سے بہت محبت تھی۔۔اسی لئیے اس نے دوسری شادی بھی نہیں کی کہ کہیں سوتیلی ماں اسکی بیٹی سے برا سلوک نا کرے۔۔۔اسے لڑکیوں کی کمی نہیں تھا
اچھا خاصا ینگ دکھتا تھا۔۔۔۔ہینڈسم بھی تھا اوپر سے میجر کے عہدے پر فائز تھا۔اسکے حلقہ احباب کی بہت لڑکیاں اسکی زندگی میں آنے کی خواہاں تھیں مگر وہ
ایک بے حد سنجیدہ مزاج انسان تھا۔کبھی کسی لڑکی
کے ساتھ بات کرتا اسے کسی نے نہیں دیکھا تھا۔۔
آج سے دو مہینے پہلے وہ میجر نعمان کے بنگلے پر گورنس کی جاب کے لئیے آئی تھی۔ٹیکسی ڈرائیور کریم بخش اور اسکی بیوی واقعی میں نرم دل انسان نکلے
اسکے حالات سن کر انہوں نے بہت ہمدردی کی اپنے گھر میں رکھا۔۔
مگر وہ صرف ایک ہفتہ انکے گھر رہی ایک دن میاں جی اخبار لائے تو یونہی سرسری نظروں سے مطالعہ کرتے ہوئے ایک اشتہار پر اسکی نظر پڑ گئی جس میں ایک میجر کو اپنی بچی کے لئیے گورنس کی ضرورت تھی۔۔
وہ فوراً اس کریم بخش کو لے کر میجر نعمان کے بنگلے پر آئی۔اس کا مینیجر انٹرویو لے رہا تھا۔۔حیات کے پاس اسکے اسکے شناختی کاغذات نا ہونے کے باعث اسے رد کر دیا گیا۔۔مگر وہ بضد ہو گئی متواتر تین دن اسکے بنگلے کے چکر لگائے۔۔چوتھے دن بائی چانس خود میجر
نعمان سے ہی اسکی ملاقات ہو گئی۔۔مینیجر نے اسے بتا دیا کہ یہ لڑکی تین دن سے آ رہی ہے جاب کیلئے بضد ہے
مگر شناختی کاغذات کہیں کھو گئے ہیں اس کے۔۔منیجر کے بتانے پر میجر نعمان نے خود اس کا انٹرویو لیا۔۔
اس نے مختصراً اپنے حالات بتائے۔۔۔میجر نے باقاعدہ کراچی میں اپنا تصدیق کروائی کہ واقعی ڈیفنس میں اس کا گھر تھا یا نہیں۔۔۔پھر اسے جاب تو دے دی مگر
ساتھ میں یہ بھی کہا۔۔ایک ماہ کا ٹرائل ہے اگر اسکے کام یا اسکے اپنے بارے میں کوئی نیگٹیو بات نظر آئی تو اسے جاب سے نکال دیا جائے گا اور ساتھ میں ٹیکسی ڈرائیور کریم بخش کی ضمانت بھی لی گئی۔۔
یہ دو مہینے گزرے تو سکون سے مگر مون کی یاد اسے بے چین کیے رکھتی تھی۔۔وہ اکثر راتوں کو اٹھ اٹھ کر
اسکے ملنے اور اسکی سلامتی کی دعائیں مانگتی اور روتی۔ایک ایسی ہی رات میں میجر نعمان نے اسے روتے ہوئے دیکھا تھا۔۔۔وہ اپنی بیٹی کو دیکھنے کمرے میں آئے تھے اور حیات کو تڑپ تڑپ کر روتا دیکھ کر ششدر رہ گئے تھے۔۔۔انکے پوچھنے پر حیات نے مون کے بارے میں بتایا تو وہ کتنی دیر تاسف سے اسے دیکھتے رہے
آپ نے اپنے بھائی کے بارے میں مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا۔۔۔۔؟؟انکے انداز میں شکوہ تھا یا دکھ وہ سمجھ نہیں پائی۔۔۔تاہم اسکے بعد میجر نعمان کا رویہ اسکے ساتھ بے حد نرم ہو گیا۔۔۔مون کو وہ ایک مہینے سے پولیس کی مدد سے ڈھونڈ رہے تھے تاحال کچھ پتہ نہیں چلا تھا۔۔تاہم وہ اسے تسلیاں دے کر اسکی ہمت بندھایا کرتے تھے۔۔
اسوقت وہ ڈھائی سالہ علیشاہ کے روم میں بیٹھی
اسے گود میں لئیے سلانے کی کوشش کر رہی تھی۔
ان دو مہینوں میں وہ اسکے ساتھ بہت اٹیچ ہو گئی
تھی شروع میں اسے سنبھالنے میں حیات کو مشکل ہوئی تاہم بعد میں وہ عادی ہو گئی۔اس بن ماں کی بچی کے ساتھ اسے دلی لگاؤ ہو گیا تھا۔۔
اسی وقت دروازہ ناک ہوا۔۔اسنے یس کہا تو سوٹڈ بوٹڈ حلیے میں میجر نعمان اندر آئے وہ کنفیوژ سی ہو کر اٹھنے لگی تھی جواباً انہوں نے اشارے منع کیا
اور خود سامنے پڑے صوفے پر بیٹھ گئے۔۔
کچھ دیر خاموشی چھائی رہی۔۔وہ سر جھکائے بیٹھی
انکے بولنے کی منتظر تھی۔۔۔میجر نعمان کا سر بھی جھکا ہوا تھا۔۔وہ غالباً بولنے کیلئے الفاظ جمع کر رہے تھے۔۔
کچھ دیر بعد انہوں نے سر اٹھا کر سامنے بیٹھی لڑکی کی طرف دیکھا۔۔بلیک ریڈ چنری والے سوٹ میں سلیقے
سے ڈوپٹے سے سر اور وجود کو کور کیے بیٹھی تھی۔
بلیک ڈوپٹے کے ہالے سے جھانکتا اس کا شفاف پر نور چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہا تھا۔
انکے دل کی حالت عجیب سی ہونے لگی۔۔یہ کیفیت
وہ پچھلے ایک ماہ سے محسوس کر رہے تھے اس وقت
سے جب اسے بری طرح روتے دیکھا تھا پھر اس کا درد
جان کر ان کا دل اس لڑکی کیلئے بے حد نرم پڑ گیا تھا
اس کے بعد ایسا ہی ہونے لگا تھا۔۔۔۔وہ انکے سامنے آتی
تو اسے اپنائیت سی فیل ہوتی۔۔۔۔اسکے چہرے پر درد کرب اور آنسو دیکھ کر انہیں بھی تکلیف سی ہونے لگتی تھی۔۔۔۔ان کا دل چاہتا تھا وہ اس کے سارے درد سمیٹ لیں مگر اس کے لئیے کوئی محرم رشتہ انکے درمیان ہونا ضروری تھا۔۔
خوب اچھی طرح سوچنے کے بعد آج وہ یہی بات کہنے اسکے پاس آئے تھے۔۔مگر اب الفاظ ساتھ نہیں دے رہے تھے انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ بات کہاں سے شروع کرے۔۔وہ میجر جو آرمی کے جوانوں کے سامنے بلاجھجک بغیر رکے تقریر کرتا تھا۔۔۔آج ایک لڑکی کے سامنے کنفیوژ سا بیٹھا تھا۔۔۔
گہری سانس لے کر اس نے سر اٹھایا۔۔اسکی نظریں اپنی
گود میں لیٹی اسکی بیٹی کے چہرے پر تھیں مگر وہ جانتا تھا کہ وہ درحقیقت اسکے بولنے کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔
علیشاہ سو گئی۔۔۔انہوں نے اسکی گود میں لیٹی بچی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بات شروع کی۔۔۔
جی سونے ہی والی ہے۔اس نے بچی کی کھلتی بند ہوتی آنکھوں کی طرف دیکھتے مدھم آواز میں جواب دیا۔۔
مس حیا۔۔۔۔۔میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔۔۔
جی سر کہیے۔۔اس نے سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھتے ہوئے اعتماد سے کہا۔۔
آپ کا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔۔۔یقیناً رہنے کے لئیے ایک چھت اور تحفظ چاہیے آپ کو۔۔۔میری بیٹی ان دو مہینوں میں آپ کے ساتھ خاصی اٹیچ ہو گئی ہے۔پہلے
میں ڈرتے تھا دوسری شادی کرنے سے کہ کہیں سوتیلی ماں میری بیٹی کے ساتھ برا سلوک نا کرے۔۔۔مگر اب مجھے لگتا دنیا کی کم از کم ہر عورت تو سوتیلی ماں بن کر بری ثابت نہیں ہوتی۔۔وہ کچھ دیر رکا
حیات کے اندر کوئی ہلچل نہیں مچی۔۔۔وہ خاموشی سے سنتی رہی۔۔۔شائد اسے پہلے ہی توقع تھی کہ وہ کیا کہنے والا ہے۔۔
مجھے اپنی بیٹی کے لئیے اب گورنس نہیں بلکہ ایک ماں چاہیے اسی لئیے میں آپ کے سامنے اپنا پرپوزل رکھ رہا ہوں آپ قبول کر لیں گی تو ٹھیک ہے ورنہ جیسے دو مہینوں سے اسکی گورنس کی حیثیت سے آپ رہ رہی ہیں ایسے ہی آگے بھی رہیں گی آپ۔۔۔
مجھے آپ کا پرپوزل منظور ہے سر لیکن میری ایک ریکوئسٹ ہے آپ سے۔۔پہلے مجھے میرا بھائی ڈھونڈھ
کر لا دیں۔۔کہتے ہوئے اسکی آنکھوں سے موتیوں کی طرح آنسو گرنے لگے۔۔۔
صرف دو منٹ لگے تھے اسے سوچنے میں اب وہ مزید
ٹھوکریں کھانے کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی۔۔ان گزرے دو مہینوں میں اس نے میجر نعمان کو ایک نرم دل اچھے اور شریف انسان کے روپ میں پایا تھا جو اول تو بہت کم اس سے مخاطب ہوتا تھا۔اگر بات کرتا بھی تو ایک دو سیکنڈ کیلئے اسکی طرف دیکھتا اور نظریں جھکا لیتا۔۔۔
پھر وہ اس گھر کے نوکروں سے بھی انکی اچھائی اور
نرم دلی کے تذکرے سنتی رہتی تھی۔۔
میجر نعمان نے ہمدردی بھری نظروں سے اسکی طرف دیکھا۔۔۔میں نے اپنی طرف سے بہت کوشش کی ہے آپ کے بھائی کو ڈھونڈنے کی مگر ۔۔۔۔”
خیر اللّٰہ سے اچھی امید رکھیں اخبار میں اشتہار دے دیا ہے انشاءاللّٰہ کوئی نا کوئی کلیو ضرور مل جائے گا۔۔انہوں نے اسے تسلی دی۔۔کافی دیر تک وہ بیٹھے اسکی
دلجوئی کرتے رہے تھے۔۔اور مستقبل کے بارے میں کچھ
وعدے بھی کیے۔۔مگر وہ خاموشی سے سنتی رہی اسے
میجر نعمان سے اپنے بھائی کے علاؤہ کچھ نہیں چاہیے
تھا۔۔وہ اسکے پرپوزل قبول کرنے پر خوش لگ رہا تھا۔۔
اسکے بعد میجر نعمان نے اپنی کوششیں اور حیات نے اپنی دعاؤں میں مزید گڑگڑانا شروع کیا تو پھراللّٰہ نے
بھی اسکی سن لی اشتہار دینے کے ایک ہفتے بعد ایک آدمی نے نیوز ایجنسی والوں سے کنٹیکٹ کر کے بتایا کہ اس نے اس بچے کو ریلوے اسٹیشن پر دوسرے بھکاری بچوں کے ساتھ بھیک مانگتے دیکھا ہے۔
میجر نعمان کو اطلاع پہنچائی گئی تو اس نے فوراً ایکشن لیا اور دو دن کے اندر اندر بھکاریوں کے اس گروہ تک پہنچ کر مون کو برآمد کروا لیا جن کے قبضے میں وہ تھا۔۔۔
شکر تھا انہوں نے اسے کوئی جسمانی نقصان نہیں پہنچایا تھا نقلی اندھا بنا کر بھیک منگوایا کرتے تھے۔۔جس دن میجر نعمان اسے لے کر آیا تھا اس دن وہ مون کو گلے سے لگا کر بے تحاشا روئی۔۔۔دھاڑیں مار مار کر روئی خود میجر نعمان کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔
مون کو پا کر وہ بے تحاشا خوش تھی اور میجر نعمان کی بے حد شکر گزار تھی۔۔اس دن پہلی بار میجر نعمان نے اسکے حسین چہرے پر مسکراہٹ دیکھی۔۔۔
مون کے واپس آنے کے تیسرے دن اس نے جھجھکتے ہوئے خود میجر نعمان کو یاد دلایا کہ وہ اس سے نکاح کرے۔۔اسکے منہ سے سن کر وہ بہت مسرور ہوا تھا۔دوسرے دن ہی اس نے نکاح کی تقریب رکھ دی تھی جس میں اسکے دوست انکی بیگمات اور فیملی کے لوگ بھی شامل تھے۔۔میجر نعمان نے اسکے لئیے قیمتی ڈریس منگوایا تھا۔۔بیوٹیشن نے اسے تیار کیا تو نکاح میں شرکت کرنے والے افسران کی بیگمات نے اسے خوب سراہا وہ ابھی ڈریسنگ روم میں ہی تھی جب اسے نکاح کے کینسل ہونے کی اطلاع ملی۔
وہ حیران و پریشان رہ گئی تھی۔تھوڑی ہی دیر میں میجر نعمان ڈریسنگ روم میں آیا وہ پریشان سی اسکی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگی جبکہ وہ تو اسکے سجے سنورے روپ کو دیکھ کر دنگ رہ گیا”
پھر نظریں چراتے ہوئے بولا۔۔
حیا میں نے نکاح کی تقریب کینسل کر دی ہے۔مجھے ابھی ابھی کال آئی ہے فوری طور پر شمالی وزیرستان کے لیے روانہ ہونا ہے وہاں دہشت گردوں نے آرمی ہیڈ کوارٹر پر اٹیک کیا ہے۔مجھے جانا ہے میں تمہارے گلے
میں نکاح کی بیڑیاں ڈال کر نہیں جانا چاہتا کیا پتہ زندہ لوٹوں یا نہیں اور تم خوامخواہ میں بیوہ کہلاؤ
یہ مجھے گوارا نہیں۔۔۔
میرے لئیے دعا کرنا اگر میں زندہ لوٹا تو وعدہ کرتا ہوں اس سے اگلے دن ہی ہماری شادی کی اس سے بھی بہت بڑی تقریب ہوگی۔۔۔۔بس میرے لوٹ آنے تک علیشاہ اپنا اور رائم کا خیال رکھنا۔۔۔اور ہاں اگر میری شہادت کی اطلاع آئے تو رونا نہیں پلیز بس میری مغفرت کی دعا کرنا۔۔۔یہ بنگلہ سرکاری ہے جو میرے بعد حکومت واپس لے لے گی۔۔۔علیشاہ کو تو اسکی نانی اپنے ساتھ لے جائے گی لیکن تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں تمہارے اور رائم کی رہائش کیلئے میں نے بندوبست کر دیا ہے۔۔ میرا ذاتی اپارٹمنٹ ہے جو میں نے تمہارے نام کر دیا ہے یہ رہے اسکے کاغذات۔میجر نعمان نے جیب سے کاغذات نکال کر اسکی طرف بڑھائے۔۔۔اس نے لینے کے لئیے ہاتھ نہیں بڑھایا۔۔۔وہ کسی مجسمے کی طرح ساکت کھڑی اسکی باتیں سن رہی تھی۔۔اگرچہ وہ یہ شادی صرف اپنے اور مون کے تحفظ کیلئے کر رہی تھی مگر اسکے منہ سے اسکی شہادت کی بات سن کر عجیب حالت ہو رہی تھی۔۔ارتضیٰ حسن کے بعد اس شخص کو بھی وہ کھونے والی تھی۔۔۔اس خیال نے اسے ڈرا دیا تھا۔۔۔
اپارٹمنٹ کا ایڈریس بھی ساتھ میں ہے میری آخری رسومات کے بعد رائم کو لے کر وہاں چلی جانا تمہارے اکاؤنٹ میں دس لاکھ میں نے جمع کروا دیے ہیں۔کام آئیں گے تمہارے۔۔وہ نارمل لہجے میں کہہ رہا تھا۔۔
آپ ایسے کیوں کہہ رہے ہیں۔۔۔وہ پھنسی پھنسی آواز میں بمشکل بول پائی۔۔۔اتنا اچھا انسان جس نے اسے سہارا دیا مون کو اسکی زندگی میں واپس لایا وہ اب وہاں جا رہا تھا جہاں اسکی اپنی زندگی کی کوئی گارنٹی نہیں تھی۔اسکی آنکھیں لبا لب پانیوں سے بھر گئیں۔۔وہ بے اختیار منہ پہ ہاتھ رکھے سسکنے لگی
اسے روتا دیکھ کر میجر نعمان ہلکے سے مسکرایا۔۔جتنا رونا ہے رو لو۔۔۔میں نہیں چاہوں گا کہ میری شہادت کی خبر پر روؤ۔۔۔اور یہ بھی نہیں چاہوں گا کہ اگر زندہ سلامت لوٹ آؤں تو پھر کبھی تمہیں آنسو بہاتے دیکھوں۔۔وہ ہلکے پھلکے لہجے میں بولا۔۔۔
ذرا ڈر نہیں لگ رہا تھا اسے اپنی موت سی۔۔وہ دکھ سے اسے دیکھنے لگی۔۔دلی نا سہی مگر جذباتی تعلق ضرور بن گیا تھا ان چند دنوں میں اس شخص کے ساتھ۔۔اسکے آنسو مزید روانی سے بہنے لگے۔۔
میجر نعمان نے حسرت بھری نظروں سے اسکی طرف دیکھا اور کہا۔مجبور ہوں فرض بلا رہا ہے۔افسوس ابھی کوئی ایسا رشتہ بھی نہیں بن پایا کہ جاتے وقت تمہیں گلے سے لگا کر تسلی دوں تمہارے آنسو صاف کروں۔۔
انداز ذرا شرارتی تھا شائد وہ اسکی رونے سے توجہ ہٹانا چاہتا تھا۔۔۔
ایسا ہی ہوا وہ جھینپ کر خاموش ہو گئی۔۔۔۔اچھا مجھے اجازت دو اللّٰہ نے چاہا تو واپس آ جاؤں گا نا آ سکا تو پھر جو کہا ہے اسی پہ عمل کرنا اوکے۔ وہ اسے خداحافظ کہتا ایک آخری حسرت بھری نگاہ اس پر ڈال کر باہر نکل گیا۔۔وہ پتھرائی ہوئی نگاہوں سے دیکھتی رہی خدا حافظ بھی نا کہہ سکی۔۔۔
تقریب ملتوی ہو گئی تھی۔۔سب مہمان چلے گئے تھے
علیشاہ کو گود میں لیے وہ لیٹی ہوئی تھی۔۔سامنے
پڑے سنگل بیڈ پر مون گہری نیند سو رہا تھا۔۔علیشاہ
سو گئی تو وہ وضو کر کے جائے نماز پر بیٹھ گئی اور
میجر نعمان کی کامیابی اور سلامتی کیلئے دعا کرنے
لگی۔۔مگر ضروری نہیں کہ ہر دعا قبول ہو جائے۔۔میجر
نعمان کے جانے کے تیسرے دن ہی اسکی شہادت کی اطلاع مل گئی تھی۔وہ اسے منع کر گیا تھا رونے سے
مگر وہ خود پر قابو نا رکھ پائی تھی اور روتی رہی
تھی۔۔پورے فوجی اعزاز کے ساتھ اسے سپرد خاک کیا گیا تھا۔۔۔علیشاہ کو اسکی نانی آ کر لے گئی تھی۔تمام ملازمین افسردہ سے چلے گئے۔بنگلہ خالی کرنے کا آرڈر
آ گیا تھا۔وہ مون کو لئیے اسی اپارٹمنٹ میں آ گئی تھی جو وہ اسے دے کر گیا تھا۔میجر نعمان جیسے نیک اور اچھے انسان کے اس احسان کا بدلہ وہ ایک ہی صورت
میں اتار سکتی تھی کہ قرآن مجید پڑھ پڑھ کر اسکی روح کو ایصال ثواب پہنچاتی رہے۔۔
ایک ہفتہ ہو گیا تھا اسے یہاں رہتے ہوئے۔۔۔سیف جگہ تھی۔۔بلڈنگ کے گیٹ پر گارڈز تعینات تھے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں تھا مون کو اس نے قریبی سکول میں داخل کروا دیا تھا۔۔۔۔پیسے کا بھی فلحال کوئی مسئلہ نہیں تھا مگر پھر بھی وہ کوئی جاب ڈھونڈھنا چاہتی تھی۔اکاونٹ آہستہ آہستہ خالی ہو جاتا تو وہ کیا کرتی
مگر مسئلہ یہ تھا کہ بنا ڈاکومنٹس کے نوکری کون دیتا
آج صبح مون کے سکول جانے کے بعد وہ دروازہ بند کرنا بھول گئی اور آ کر بستر پر لیٹ گئی۔رات سے وہ بخار اور سر درد میں مبتلا تھی۔ سکول چونکہ کالونی کے اندر اور دو قدم کے فاصلے پر تھا اس لئیے وہ خود ہی چلا جاتا تھا۔۔آج بھی خود ہی گیا تھا۔۔وہ آنکھوں پر بازو رکھے لیٹی تھی۔۔۔۔چہرہ بے انتہا سرخ ہو رہا تھا۔اسی وقت دروازے کی گھنٹی بجی۔۔۔
۔وہ حیرانی سے اٹھ بیٹھی۔۔۔کون ہوگا۔۔۔؟؟؟مون تو ابھی گیا۔۔شائد کوئی کاپی وغیرہ بھول گئی ہوگی اور اب وہی لینے آیا ہوگا۔۔خود کو تسلی دیتی وہ کمرے سے باہر نکلی اور سامنے دیکھ کر منجمد ہو گئی۔۔
دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔۔
وہ شخص جس کے ڈر سے وہ اپنا شہر چھوڑ کر یہاں اس اجنبی شہر میں آئی تھی۔۔۔۔۔بالآخر اس نے اسے ڈھونڈھ لیا تھا۔۔۔مون کا ہاتھ تھامے سامنے ہی کھڑا تھا اب نا جانے کیا کرتا وہ اسکے اور مون کے ساتھ۔۔۔؟؟
کپکپاتی ٹانگوں اور فق چہرے کے ساتھ وہ حق دق کھڑی اسے دیکھے جا رہی تھی۔۔۔۔
