Meri Hayat By Zarish Hussain Readelle50271 Meri Hayat (Episode 26)
Rate this Novel
Meri Hayat (Episode 26)
Meri Hayat By Zarish Hussain
پریشان مت ہو فائزہ میں دیکھتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی لڑائی جھگڑے کا کیس ہوگا۔۔۔جانتی تو ہو تمہارا بیٹا غصے کا کتنا تیز ہے کر دی ہو گی کسی نے پولیس کو کمپلین۔۔۔ماحر اپنے کمرے میں ہے۔۔۔؟؟بیوی کی زرد پڑتی رنگت کو دیکھ کر اسے تسلی دیتے ہوئے انہوں نے ملازم سے استفسار کیا”
ماحر سر تو رات آئے ہی نہیں۔۔ملازم کے کہنے پر ان کے چہرے پر تفکر کے سائے لہرائے۔۔میں پولیس سے مل کر آتا ہوں۔ایک نظر پریشان کھڑی بیوی کے چہرے پر ڈالی اور باہر نکل گئیے۔۔۔۔۔
“گیٹ پر پہنچے تو ایس پی معظم کھوسہ سمیت چند پولیس والے اور ایک شخص کھڑا تھا۔۔جسکے چہرے پر پریشانی اور غصّے کے تاثرات واضع نظر آ رہے تھے معظم کھوسہ نے انہیں فوراً سلام کی۔۔۔۔انہوں نے سر سری سا سر ہلایا۔اس ٹائم ڈسٹرب کرنے پر سکندر علی خان کے چہرے پر ناگواری اور بیزاری معظم کھوسہ کو صاف نظر آ رہی تھی۔اسکی سکندر علی خان سے جان پہچان تھی۔۔۔”ان کی حیثیت،امارات اثرورسوخ سے وہ اچھی طرح واقف تھا۔اوپر سے آرڈر نا ملتا تو وہ کبھی اس کیس پر ایکشن نا لیتا۔۔سو چہرے پر مجبوری کے تاثرات سجا لئیے۔۔۔
کیا بات ہے کھوسہ صاحب اس ٹائم ڈسٹرب کرنے کی وجہ۔۔۔۔۔۔؟؟انہوں نے کھردرے لہجے میں سامنے کھڑے معظم کھوسہ سے پوچھا۔۔
“خان صاحب اس ٹائم ڈسڑب کرنے کیلئے معذرت چاہتا ہوں۔۔۔۔اوپر سے آڈر نا آتا تو میں کبھی آپ کے آرام میں خلل ڈالنے نا آتا۔۔۔۔۔ایکچولی آپ کے بیٹے ماحر خان کی گرفتاری کے وارنٹ ہیں میرے پاس۔۔۔۔۔آپکے ملازم نے بتایا تو ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انداز پروفیشنل کے بجائے خوشامدی،لجاجت والا تھا”
کیا کیا ہے ماحر نے۔۔۔۔؟؟انہوں نے سرد لہجے میں پوچھا
“میری بیٹی کو اغوا کیا ہے اس ذلیل انسان نے۔معظم کھوسہ کے کچھ بولنے سے پہلے ساتھ کھڑے عبدالرحمان نے غصے سے کہا۔۔۔۔
سکندر علی خان کی پیشانی پر شکنیں پڑ گئیں۔
کون ہے یہ اور کیا بکواس کر رہا ہے۔۔۔۔انہوں نے ناگواری سے عبدالرحمان کی طرف دیکھتے ہوئے تیز لہجے میں معظم کھوسہ سے پوچھا۔جو کہ خود عبدالرحمان کے الفاظ پر بوکھلا گیا تھا۔۔۔”
خان صاحب یہ”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔معظم کھوسہ گھبرا کر ابھی وضاحت کرنے ہی والا تھا کہ عبدالرحمان پھر بول پڑے
بکواس نہیں ہے یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمہارے اس کمینے بیٹے نے تین مہینوں سے میری بیٹی کی زندگی اجیرن کر رکھی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دھمکاتا رہا بلیک میل کرتا رہا اور اب اس گھٹیا”۔۔۔۔۔ایک منٹ عبدالرحمان صاحب پلیز مجھے بات کرنے دیں۔ انہوں نے سکندر خان کے سخت تاثرات پر گھبرا کر عبدالرحمان کو ٹوکا۔۔۔۔۔۔”
بات یہ ہے خان صاحب انہوں نے آپ کے بیٹے کے خلاف رپورٹ لکھوائی ہے کہ ماحر خان نے انکی بیٹی کوآج شام کو اغواء کر لیا اور”
انہوں نے کہا اور تم نے یقین کر کے پرچہ کاٹ دیا اور گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کروا لئیے۔۔سکندر خان نے غصے سے معظم کھوسہ کی بات کاٹی”
کیا ثبوت ہے اس بات کا کہ ماحر نے ہی اس لڑکی کو اغواء کیا ہے۔۔۔؟؟ہے کوئی ثبوت انہوں نے تیکھے لہجے میں استفسار کیا۔۔معظم کھوسہ گڑبڑا کر عبدالرحمان کو دیکھنے لگا جو شدید غم و غصّے سے سکندر علی خان کی طرف دیکھ رہے تھے”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمہارا بیٹا میری بیٹی کو دھمکیاں دے رہا تھا۔ریکارڈنگ کلپس ہیں میرے پاس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”جو ایک دن پہلے وائرل بھی ہوئے تھے۔۔۔۔جس میں تمہارے بیٹے کے کرتوت منظر عام پر آئے تھے تھے”۔۔۔۔عبدالرحمان دانت پیس کر بولے۔آنکھوں میں شدید غصہ دکھ رہا تھا۔۔۔ان کا بس نہیں چل رہا تھا”ماحر خان جیسے گھٹیا شخص کو پیدا کرنے والے اس مغرور انسان کا منہ نوچ لیں۔۔جو اپنے بیٹے کی حرکت کو ماننے کے بجائے انکاری ہو رہا تھا”
“۔۔۔۔ان ریکارڈنگ کلپس میں اغوا کرنے والی تو کوئی دھمکی نہیں تھی اور ویسے بھی میں کیسے مان لوں کہ وہ ریکارڈنگ بھی اصلی تھیں۔۔۔۔۔ہو سکتا ہے تم اور تمہاری بیٹی پیسوں کے لئیے ہمارے دشمنوں کے آگے بکے گئے ہوں۔۔۔۔۔اور یہ سارا ڈرامہ رچا رہے ہوں۔۔۔۔”
وہ ازحد کروفر سے بولے انداز میں حقارت تھی”
سکندر علی خان زبان سنبھال کر بات کرو۔۔۔عبدالرحمان چیخ کر بولے۔۔۔ان جیسے ایماندار اور خود دار انسان کو اپنے اوپر یہ الزام گولی کی طرح لگا”
عبدالرحمان صاحب پلیز کول ڈاؤن۔۔۔۔دونوں کی گولا باری سے پریشان کھڑے معظم کھوسہ کی زبان بھی فوراً حرکت میں آئی۔۔۔۔۔”
انہوں نے عبدالرحمان صاحب کے شانے پر ہاتھ رکھ کر ٹھنڈا کرنا چاہا جسکو انہوں نے جھٹک دیا اور خونخوار نظروں سے سکندر علی خان کو گھورنے لگے۔
خان صاحب میں نے ان سے ثبوت مانگا تھا۔۔اور بنا ثبوت کے تو میں کمپلین بھی نہیں لکھ رہا تھا وہ تو ڈی آئی جی صاحب کا آرڈر آیا۔۔۔۔۔۔۔۔
معظم کھوسہ نے اپنے پوزیشن صاف کرنے کی کوشش کی۔اسے پتہ تھا اب سکندر علی خان خود ڈی آئی جی سے بھی نمٹ لیں گے”
آپ باتوں میں لگ کر ٹائم کیوں برباد کر رہے ہیں ایس پی صاحب۔مجھ پہ ایک ایک پل بھاری ہو رہا۔بلواؤ اس گھٹیا انسان کواور گرفتار کرو اسے۔۔۔۔۔۔۔اپنے غصے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے عبدالرحمان صاحب پھٹ پڑے۔
“آرام سے مسٹر میرا بیٹا گھر پر نہیں ہے میں اسے فون کر کے پوچھتا ہوں اگر آپکی بیٹی واقعی اسکے پاس ہوئی تو آپ کو مل جائے گی۔۔۔۔اور اگر اپنی مرضی سے کسی کے ساتھ بھاگی ہے تو پھر کچھ نہیں کہہ سکتا میں۔۔۔۔انہوں نے جیب سے فون نکالتے ہوئے تمسخرانہ انداز میں کہا۔
سکندر علی خان کی بکواس پر عبدالرحمان کا خون ایک مرتبہ پھر کھول اٹھا۔قریب تھا کہ وہ مشتعل ہو کر اس کا گریبان پکڑ لیتا۔۔۔معظم کھوسہ نے انکے شانے پر ہاتھ رکھ کر خاموش رہنے کی التجاء کی۔وہ خود پر ضبط کر کے رہ گئیے۔
“وہ ماحر کو فون ملا رہے تھے لیکن اس کے نمبر پر رابط نہیں ہو رہا تھا۔۔۔تو انہوں نے اسکے مینیجر فرقان کو فون لگایا
فرقان ماحر کہاں ہے۔۔۔۔۔؟؟؟جیسے ہی کال ریسیو ہوئی انہوں نے فوراً پوچھا”
۔”سر ماحر سر کا نمبر میں بھی ٹرائی کر رہا ہوں مگر نہیں مل رہا۔ابھی میں آپ کو کال کرنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ آپ کی کال آ گئی۔۔۔۔کیونکہ تھوڑی دیر پہلے فراز کی کال آئی تھی وہ کہہ رہا ہے کہ ماحر سر نے فارم ہاؤس پر آنا تھا۔۔۔۔مگر اب تک نہیں پہنچے۔۔۔۔۔دوسری طرف سے فرقان کی دی گئی اطلاع نے انہیں تشویش میں مبتلا کر دیا”
“فرقان تم فوراً ٹیم کے دو تین بندوں کے ساتھ اسی فارم ہاؤس والے راستے پر جاؤ۔۔۔اچھی طرح چیک کرو کہیں وہ کسی مشکل میں نا ہو۔۔۔
کچھ دیر پہلے والا تمسخرانہ اور کروفر بھرا تاثر انکے چہرے سے غائب ہو چکا تھا۔اسکی جگہ اب فکر آمیز پریشانی نے لے لی تھی۔
میرے بیٹے کا نمبر بند جا رہا ہے۔۔میں نے اپنے بندوں کو
اسے ڈھونڈنے کو بھیج دیا ہے جیسے ہی وہ ملتا ہے تو میں پوچھتا ہوں اس سے”اب کے لہجے میں سختی کی جگہ نرمی نے لے لی تھی۔
“سکندر صاحب ایک بیٹی کے باپ کی تکلیف کو آپ نہیں سمجھ سکتے۔ناجانے آپ کو کتنا ٹائم لگے اسے ڈھونڈنے میں تب تک میں کیسے صبر کروں۔۔۔۔۔۔عبدالرحمان علی پھٹ پڑے تھے۔انکی آنکھوں میں نمی سی تیرنے لگی تھی”
سکندر علی خان کو اپنے بدصورت رویے کا احساس ہوا۔جس شخص کی جوان بیٹی اغواہ ہو جائے۔اس کا غم وغصہ بے جا تو نہیں تھا”۔۔۔۔۔گو کہ زبان سے انہوں نے تسلیم نہیں کیا تھا لیکن ان کا دل کہہ رہا تھا ماحر قصوروار ہے۔
دیکھیے عبدالرحمان صاحب مجھے آپ کی پریشانی کا احساس ہے میں خود بھی بیٹی والا ہوں۔۔۔۔۔آپکی بیٹی میری بھی بیٹی جیسی ہے۔۔۔۔۔اگر یہ حرکت میرے بیٹے کی ہوئی تو میں وعدہ کرتا ہوں آپکی بیٹی کو صحیح سلامت آپ تک پہنچاؤں گا۔۔۔اور اپنے بیٹے کو خود سزا دلواؤں گا”
عبدالرحمان صاحب کی حالت دیکھ کر انہیں کچھ ندامت سی ہوئی تھی اپنے پہلے کے لب و لہجے انداز اور الفاظ پر۔۔۔
۔ارے کھوسہ صاحب آپ انہیں سمجھائیے نا۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے ساتھ کھڑے بڑی توند والے معظم کھوسہ سے کہا تو وہ فوراً بولا
“۔۔۔۔ارے عبدالرحمان صاحب آپ فکر نہیں کیجئے خان صاحب نے کہہ دیا ہے نا۔اگر آپ کی بیٹی انکے بیٹے کے پاس ہوئی تو صحیح سلامت آپ تک پہنچ جائے گی۔ تو سمجھو پہنچ جائے گی۔۔خان صاحب ایک بار جو کہہ دیں اپنے وعدے سے کبھی نہیں پھرتے۔۔۔۔۔معظم کھوسہ کا انداز خوشامدانہ تھا۔
ٹھیک ہے صرف آدھا گھنٹہ ہے آپ کے پاس۔۔آدھے گھنٹے کے بعد مجھے میری بیٹی صحیح سلامت چاہیے۔۔۔اور اگر اسے ذرا سا بھی نقصان پہنچا ہوگا نا تو آپ کے
بیٹے کو اپنے ہاتھوں سے گولی ماروں گا۔۔۔۔”عبدالرحمان صاحب نے سرخ آنکھوں سے گھورتے ہوئے انہیں وارننگ دی۔۔۔
سکندر علی خان کی پیشانی پر ایک بار پھر سے بل پڑ گئیے۔۔ایک لمحہ پہلے والی ہمدردی اور نرمی اگلے ہی پل اڑن چھو ہو گئی۔بھلا کس کی ہمت ہوئی تھی ان سے ایسے انداز میں بات کرنے کی۔۔کچھ دیر پہلے جو ندامت انہیں اپنے کہے الفاظ پر ہو رہی تھی۔۔۔۔ عبدالرحمان علی کا لب ولہجہ اور دھمکی آمیز الفاظ سن کر بھک سے اڑ گئی۔۔۔
پہلے ہماری اور اپنی حیثیت کا تعین تو کر لو۔۔۔۔۔۔۔پھر دھمکی دینا۔۔۔۔وہ طنزیہ انداز میں بولے۔۔۔
تم لوگ کتنی بھی اونچی حیثیت کے ہو یاد رکھنا اگر میری بیٹی کو تمہارے بیٹے نے نقصان پہنچایا نا۔۔ تو تمہارے پورے خاندان کو نیست ونابود کر دوں گا۔اور
اگر آدھے گھنٹے کے اندر اندر میری بیٹی مجھ تک نا پہنچی تو پورے ملک کے میڈیا کو جمع کر کے پریس کانفرنس کروں گا۔۔۔۔۔۔۔سپریم کورٹ میں جاؤں گا۔وزیر اعظم تک اپنی فریاد پہنچاؤں گا۔۔۔۔۔تمہیں اور تمہارے بیٹے کو برباد کر دوں گا۔۔۔۔جان سے مار دوں گا تیرے بدکردار بیٹے کو۔وہ مشتعل انداز میں چیخ کر بولے
جاؤ جاؤ جو کرنا ہے کر لو۔۔۔۔۔وہ بھی گرجدار آواز میں کہہ کر گارڈ کو دروازہ بند کرنے کا کہہ کر اندر کی جانب بڑھ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔پیچھے معظم کھوسہ غصے سے چیختے چلاتےعبدالرحمان علی کو کھینچ کر گاڑی کی طرف لے گئے”
کیا ہوا ہے پولیس کیوں ماحر کو اریسٹ کرنے آئی۔۔؟؟
سکندر خان کو آتا دیکھ کر بے قراری سے ٹہلتی فائزہ نے استفسار کیا”
کسی لڑکی کے کڈنیپنگ کی کمپلین ہے ماحر کے خلاف اور فون بھی بند جا رہا ہےاس کا۔۔۔۔۔ناجانے کہاں ہے۔۔۔۔ وہ ایک بار پھر جھنجلاتے ہوئے اس کا نمبر ٹرائی کر رہے تھے۔۔
کیا لڑکی کی کڈنیپنگ کا۔۔۔۔؟میرا ماحر ایسا کیوں کرے گا بھلا اس کو لڑکیوں کی کمی ہے کیا الزام ہے یہ میرے بیٹے پر۔۔۔لیکن وہ ہے کہاں نمبر کیوں بند جا رہا اس کا۔غصے سے کہتے ہوئے وہ آخر میں پریشانی سے استفسار کرنے لگیں”
وہی تو پتہ لگانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ تمہارا لاڈلا ہے کہاں۔۔۔۔۔۔۔سکندر علی خان نے جھنجلا کر کہا”
ہیلو مام۔۔۔ہیلو ڈیڈ۔۔۔۔۔۔۔۔آپ اس ٹائم کیوں جاگ رہے ہیں۔۔۔۔؟؟اس وقت زین وہاں چلا آیا۔غالباً کسی لیٹ نائٹ پارٹی سے واپس آ رہا تھا۔
ہو گئی تمہاری پارٹی ختم۔۔۔۔مل گئی فرصت گھر آنے کی۔۔۔فائزہ سکندر اسے دیکھتے ہی بگڑیں”
کیا ہوا ہے ڈیڈ۔۔۔۔۔۔مام اتنی غصے میں کیوں ہیں اور آپ لوگ اتنا پریشان کیوں لگ رہے ہیں۔۔۔؟ماں کو غصہ کرتا دیکھ کر باپ سے پوچھنے لگا”
“پولیس آئی تھی تھوڑی دیر پہلے کسی لڑکی کے اغواہ کے کیس میں ماحر کی گرفتاری کے وارنٹ لے کر۔۔۔ اور وہ نواب صاحب ناجانے کہاں غائب ہیں۔فون تک نہیں لگ رہا۔۔۔۔سکندر خان غصے سے کہہ رہے تھے”
ہائیں لڑکی کا اغواہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔زین نے تحیر سے باری باری دونوں کی طرف دیکھا”کمال ہے ایک سے ایک بڑھ کر لڑکیاں بھائی کی گود میں خود گرنے کو تیار رہتی ہیں۔پھر انہیں کیا ضرورت پڑ گئی کسی لڑکی کو کڈنیپ کرنے کی۔۔۔۔۔بے خیالی میں بے باکی سے کہہ گیا فائزہ سکندر کے گھورنے پر زیر لب مسکراتے ہوئے سر کھجانے لگا۔۔۔سکندر خان سنی ان سنی کرتا فرقان کو فون ملا رہا تھا۔
۔فائزہ سکندر پریشانی سے زیر لب دعائیں مانگنے لگیں
مام پریشان مت ہوں بھائی سے رابط ہو جائے گا۔۔زین نے آگے بڑھ کر ماں کو تسلی دینی چاہی،فائزہ سکندر نے ناگواری سے اسے دور دھکیلا۔جاؤ برش کر آؤ بدبو آ رہی ہے منہ سے شراب کی”
“حیات نے دھیرے دھیرے آنکھیں کھولیں تو خود کو زمین پر کسی نرم چیز پر لیٹے ہوئے پایا۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ دیر وہ غنودگی کی کیفیت میں یونہی لیٹی رہی پھر رفتہ رفتہ شعور بیدار ہوا اسے سب یاد آتا گیا۔ماحر خان کا اسے جارحانہ انداز میں اغوا کرنا۔۔۔۔۔۔”اس کا ماحر پر جھپٹنا۔۔گاڑی کا بے قابو ہوکر درختوں سے ٹکرانا۔۔اس کا صحیح سلامت بچ نکلنا۔۔۔۔۔روڈ پر چار لڑکوں کا مل جانا پھر ان سے بچنے کیلئے جنگل میں بھاگنا۔۔۔۔۔۔پاؤں میں کسی نوکیلی چیز کے لگنے سے اس کا چیخ کر گرنا۔۔۔۔۔۔۔لڑکوں کا اس تک پہنچ جانا پھر اس کا ہوش حواس کھو دینا۔۔۔۔۔۔۔۔تو کیا وہ ان کے ہتھے چڑھ چکی تھی یہ خیال آتے ہی اسکی روح تک کانپ گئی۔وہ دہل کر اٹھی منہ سے چیخ نکل گئی۔۔۔۔۔۔۔”
ریلیکس محترمہ ریلیکس۔۔۔عقب سے نرم شائستہ آواز سن کر اس نے پلٹ کر دیکھا۔۔بلیک جینز پر نیلی شرٹ پہنے بڑھی ہوئی شیو والا وہ ایک خوش شکل لڑکا تھا۔جو ہاتھ میں کوئی برتن لئیے کھڑا تھا”
کک کون ہیں آپ۔۔۔؟؟وہ اسے دیکھ کر بری طرح ڈر گئی
اپنا محسن کہہ سکتی ہیں آپ مجھے۔۔۔وہ اسکے سامنے کارپٹ پر بیٹھتے ہوئے بولا۔۔۔۔”
حیات نے ارد گرد نظریں گھمائیں۔۔۔۔۔۔۔وہ ایک چھوٹا سا کپڑے کا بنا ہوا خیمہ تھا۔۔۔۔۔۔۔جسکی چھت اتنی اونچی تھی کہ کھڑے ہونے پر سر نہیں ٹکراتا تھا۔زمین پر دبیز قالین بچھا ہوا تھا۔ایک سائیڈ پر گدا رکھا ہوا تھا جس پر تہہ کیا ہوا کمبل رکھا ہوا تھا۔ایک کونے میں بیگ اور اور کچھ برتن پڑے ہوئے تھا”ایک بات تو اسے سمجھ آ گئی تھی کہ وہ ان لڑکوں کے قبضے میں نہیں تھی۔مگر اپنے آپ کو اس کا محسن کہنے والا یہ شخص ناجانے کون تھا”
محسن۔۔۔۔۔۔میں تو جنگل میں تھی نا اور میرے پیچھے وہ لڑکے”وہ اٹک اٹک کر بولی۔۔۔۔۔۔اس کا ذہن بری طرح ماؤف ہو رہا تھا”۔۔۔۔۔۔جو کچھ ہوا تھا اسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایسی آزمائش میں گرفتار ہو سکتی ہے۔
ابھی بھی آپ جنگل میں ہی ہیں محترمہ ان لڑکوں سے میں ہی آپ کو بچا کر یہاں لایا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے بولا”
کک کیسے۔۔۔۔۔۔اور آپ ہیں کون۔۔۔۔۔؟؟ اس کا خوف کچھ حد تک کم ہو گیا تھا اب وہ الجھی ہوئی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔”
جس جگہ آپ گری تھیں۔قریب ہی میرا خیمہ تھا۔۔۔آپ کی چیخ سن کر میں باہر آیا تھا”پھر آگے کا منظر دیکھا
تو بس پھر ان سے نمٹ کر آپ کو یہاں اپنے خیمے میں لے آیا۔۔۔۔۔وہ لاپرواہی سے کہتا قریب رکھے چھوٹے سے چولہے پر برتن رکھنے لگا”
آپ تو ایک ہیں اور وہ تو چار تھے نا پھر آپ نے مجھے کیسے بچایا۔۔۔۔؟؟
اس چیز سے۔۔۔۔۔۔۔اس نے ہنس کر ایک کونے کی طرف اشارہ کیا۔حیات نے گردن گھمائی وہاں ایک جدید طرز کی بڑی سی رائفل پڑی ہوئی تھی۔۔
تو آپ نے ان کو مار دیا کیا۔۔۔۔؟؟اسکے چہرے پر حیرانی اور خوف کے ملے جلے تاثرات نمودار ہوئے۔۔۔۔
“وہ پھر سے ہنسا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں بھائی میں کسی کا خون خوامخواہ میں اپنے ذمے نہیں لیتا۔۔۔۔۔۔ہوائی فائرنگ کر کے بھگایا۔۔۔۔۔وہ اب اٹھ کر تھوڑے فاصلے پر رکھے بیگ میں سے کچھ نکال رہا تھا”۔۔حیات پھر سے اس چھوٹے سے خیمے کا جائزہ لینے لگی۔۔۔۔۔خاصا نفیس طبیعت کا بندہ لگ رہا تھا”۔۔۔۔۔ہر چیز نفاست اور سلیقے سے رکھی ہوئی تھی۔
آپ ہیں کون ہیں اور یہاں اس جنگل میں کیا کر رہے ہیں اور یہ جگہ کونسی ہے۔۔۔۔۔؟حیات کو تجسس ہوا۔
“اس نے اسکی طرف کافی کا کپ بڑھایا جسے قدرے جھجھک کر اس نے تھام لیا۔۔۔۔۔
“تین سوال ایک ساتھ۔۔۔۔۔۔۔اپنا کپ لے کر اسکے سامنے بیٹھتے ہوئے وہ مسکرایا۔
“ناچیز کو احمر وقار کہتے ہیں۔۔یہاں کیا کر رہا ہوں تو ظاہری بات ہے پکنک منانے تو نہیں آیا ہوں اس جنگل میں،شکار کرنے ہی آیا ہوں۔رہی بات جگہ کی تو یہ جگہ افریقہ کا ایک جنگل ہے۔۔۔قریب ہی ایک آدم خور قبیلہ ہے۔۔۔۔۔لبوں سے کپ کو لگاتے ہوئے وہ اطمینان سے بولا
حیات کے ہاتھ سے کافی کا کپ گرتے گرتے بچا۔وہ اسکے سیریس انداز میں کیے گئے مذاق کو نا سمجھ سکی۔۔افریقہ کا جنگل۔۔۔۔آدم خور قبیلہ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہکابکا اسے دیکھنے لگی جو مگن انداز میں سر جھکائے کافی پی رہا تھا”
“اس نے سر اٹھایا اسکے چہرے کے تاثرات پر قہقہہ لگایا۔مذاق کر رہا ہوں یہ جام شورو کا کاچھو کا جنگل ہے وہ ہنستے ہوئے کہہ رہا تھا”
حیات کو اسکی ہنسی سخت زہر لگی۔اسکی جان پر بنی ہوئی تھی اور وہ ایسے ہنس رہا تھا جیسے جنگل میں نہیں اپنے گھر میں بیٹھا ہو۔۔”وہ اپنی ناگواری کو دباتے ہوئے بولی
یہ جنگل شہر سے کتنا دور ہے۔۔۔۔۔؟؟
کونسے جام شورو کے۔۔۔۔وہ کافی کا گھونٹ بھرتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔نہیں کراچی کے۔۔۔۔۔وہ جلدی سے بولی
اس نے چونک کر حیات کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔جام شورو پہلے کبھی نہیں آئی کیا۔۔۔ویسے اس جنگل میں کیسے پہنچیں آپ۔۔۔۔۔۔۔؟عجیب آدمی تھا جو سوال سب سے پوچھنا چاہیے تھا وہ اب پوچھ رہا تھا۔
نہیں کبھی نہیں آئی۔ایکچولی میں کہیں جا رہی تھی راستہ بھٹک گئی۔پھر میری گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا خوش قسمتی سے بچ گئی بہت دور تک چلتی رہی پھر وہ لڑکے مل گئے ان سے ہیلپ مانگی وہ اچھے لوگ نہیں تھے تو ان سے بچنے کیلئے جنگل میں گھس گئی۔۔پھر باقی تو آپ جانتے ہیں۔۔۔۔سچ جھوٹ کو مکس کر کے بتانے کے بعد وہ کافی پینے لگی جو زیادہ اچھی تو نہیں تھی مگر وہ آج صبح سے چونکہ خالی پیٹ تھی تو اس جنگل میں یہ کافی بھی غنیمت لگی”
“۔۔۔۔وہ تجسس پسند بندہ نہیں تھا شائد تبھی اسکی کہانی پر کوئی تبصرہ یا مزید سوال کیے بنا لاپرواہی سے سر ہلا کر ساتھ رکھی پتیلی میں اپنا خالی مگ دھونے لگا”
ٹائم کیا ہو رہا ہے۔مجھے شہر جانا ہے میرے گھر والے بہت پریشان ہو رہے ہونگے۔آپ مجھے چھوڑ آئیں گے نا”
وہ التجائیہ انداز میں کہتے ہوئے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
رات کے ساڑھے تین بج رہے ہیں۔صبح دیکھیں گے کہ آپ کو کہاں تک چھوڑ سکتا ہوں۔یہ سینڈوچز کھا لیں آپ کو بھوک لگی ہوگی شائد۔۔وہ پلیٹ اسکے سامنے رکھتے ہوئے بولا جس میں دو سینڈوچز تھے جن پر نظر پڑتے ہی خالی پیٹ نے دہائیاں دینی شروع کر دیں۔۔۔۔وہ بے تکلفی سے سینڈوچ اٹھا کر بڑے بڑے نوالے کھانے لگی۔تین منٹ میں ہی وہ دونوں سینڈوچز ختم کر چکی تھی۔۔۔وہ جو اسے ندیدوں کی طرح بڑے غور سے کھاتے ہوئے دیکھ رہا تھا”۔۔۔۔اٹھ کر بیگ سے بسکٹ کا بڑا سا پیکٹ نکال لایا اور اسکے قریب رکھ دیا۔۔۔۔۔اس کا پیٹ ابھی بھی مکمل طور پر نہیں بھرا تھا سو اسی تکلفی سے بسکٹ بھی اٹھا لیے”پیٹ فل ہوتے ہی اپنے ندیدے پن کا احساس ہوا تو کچھ شرمندگی سی ہونے لگی”
اور بسکٹ دوں پڑے ہیں۔۔۔۔۔۔۔؟وہ جو غور سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا بسکٹ کے خالی ہو جانے والے پیکٹ کی طرف دیکھ کر بڑے خلوص سے بولا۔۔۔حیات نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔۔۔۔۔تو وہ اس سے قدرے فاصلے پر قریب رکھے فلور کشن پر لیٹ گیا۔۔”حیات ایسے ہی بیٹھتی اسکی پشت کو دیکھتی رہی۔۔
سنیں آپ کے پاس موبائل ہے۔مجھے گھر کال کرنی ہے۔وہ آہستہ سے بولی۔
اسکی آواز پر وہ قدرے جھنجلائے ہوئے لہجے میں بولا
محترمہ میرے پاس موبائل نہیں ہے اگر ہوتا تو بھی کوئی فائدہ نہیں تھا کیونکہ یہاں جنگل میں نیٹ ورک نہیں ہے۔اب برائے مہربانی مجھے ذرا سونے دیں۔۔بہت تھکا ہوا ہوں میں تھوڑی دیر میں صبح ہونے والی ہے ویسے بھی آپ کی وجہ سے جاگتا رہا ہوں میں”آپ نے لیٹنا ہے تو جا کر بستر پر لیٹ جائیں۔۔کونے میں پڑے گدے کی طرف اشارہ کر کے وہ سو گیا”
کچھ دیر بعد اسکے خراٹے گونجنے لگے۔۔۔۔حبکہ حیات اس ویرانے میں عجیب و غریب آوازوں اور چنگھاڑوں پر خوفزدہ ہوتے گھٹنوں میں سر دیے آیت الکرسی اور درود شریف کا ورد کرنے لگی۔
آدھا کیا پورا ڈیڑھ گھنٹہ مزید گزر چکا تھا عبدالرحمان پولیس اسٹیشن میں معظم کھوسہ کے ساتھ سامنے چیئر پر بیٹھا انتظار کی سولی پر لٹکے لٹک بے حال ہو چکا تھا”۔سکندر علی خان کے مطابق ابھی تک ماحر کا کچھ پتہ نہیں چلا تھا”عبدالرحمان کو یہ سب سکندر علی کی چال لگ رہی تھی وہ معظم کھوسہ کے روکنے کے باوجود پولیس اسٹیشن سے نکل آیا۔اس کا رخ ایک
نیوز چینل کی طرف تھا”۔۔۔۔کچھ دیر بعد وہ چینل کے ڈائریکٹر کے ساتھ بیٹھا آن سکرین ماحر سکندر خان کی اصلیت کھل کر بتا رہا تھا۔۔۔۔ڈائریکٹر سے انکی جان پہچان تھی تبھی وہ فوراً ہی عبد الرحمن کو آن کیمرہ لے آئے۔۔۔
فلمسٹار ماحر خان ایک عیاش اور گھٹیا انسان ہے جو کافی عرصے سے میری بیٹی کو تنگ کر رہا تھا”۔۔۔کبھی اسے اپنی فلم میں کام کرنے کیلئے بلیک میل کرتا اور کبھی گھٹیا آفرز کرتا۔۔۔۔۔۔۔۔پچھلے تین ماہ سے وہ میری
بیٹی کو مینٹلی ٹارچر کر رہا تھا۔اب صبح کے چار بجنے والے ہیں کل دن کو تین بجے اس نے میری بیٹی کو اغوا کیا اور اب تک اس کا کچھ پتہ نہیں ہے۔پولیس لے کر اس کے گھر گیا تو اسکے فادر سکندر علی خان نے بھی تعاون نہیں کیا۔۔۔۔۔۔۔۔”میری وزیراعظم صاحب سے ریکوئسٹ ہے کہ وہ ماحر خان کو اریسٹ کر کے میری بیٹی بازیاب کروائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر میری بیٹی مجھے نا ملی تو میں وزیر اعظم ہاؤس کے باہر خود کو آگ لگا لوں گا۔عبدالرحمان علی کی نم آنکھوں والے اس ویڈیو میسیج نے تہلکہ مچا دیا۔۔۔۔اس ویڈیو کو چینل کے اونر نے اپنے چینل پر نشر کروانے کے ساتھ تمام دوسرے سوشل نیٹ ورکس پر بھی وائرل کروا دیا۔۔۔ صبح ہونے تک لاکھوں کی تعداد میں لوگ اس ویڈیو کو دیکھ چکے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔ آگ کی مانند پھیلنے والی اس ویڈیو پر ماحر کے کئی مخالفین عبدالرحمان کے ہمدرد بن کر اپنے اپنے بیانات دے رہے تھے۔
“مظلوم لڑکی کو برآمد کروایا جائے اور ماحر خان جیسے عیاش فطرت شخص کو ایسی حرکت کرنے پر کڑی سے کڑی سزا دلائی جائے۔۔۔مظہر بلوچ(اداکار)
“ماحر خان جیسے بااثر لوگوں کو جو دوسروں کی عزتوں سے کھیلتے ہیں انہیں چوک پر لے جا کر سنگسار کیا جائے۔۔میری تمام ہمدردی مظلوم لڑکی اور اسکے خاندان سے ہے۔۔۔عادل نیازی۔ٹی وی ہوسٹ۔۔فلم ایکٹر
اسطرح کے اور بھی کئی ماحر کے حریف ایکٹرز کے بیانات سامنے آ رہے تھے”سوشل میڈیا پر لوگوں کے بڑے بحث و مباحثے چل رہے تھے۔ماحر کے فیز اسکے مخالفین سے کمنٹ سیکشن میں لڑ رہے تھے”
“میڈیا کے لوگ ایک بار پھر سے ماحر خان کے گھر کے باہر جمع تھے۔۔۔۔اب تو ان میں مظاہرین بھی شامل ہو چکے تھے۔۔۔۔۔۔۔”اس صورتحال نے سکندر علی خان کو تشویش میں مبتلا کر دیا تھا”۔۔۔۔۔۔۔ایک طرف میڈیا دوسری طرف ماحر کے مخالفین کی جانب سے اس پر شدید تنقید۔۔عبدالرحمان علی کے حامیوں کی جانب سے مظاہرے۔۔۔۔۔اپنے اثر رسوخ سے وہ معاملہ دبانے کی کوشش کر رہے تھے۔مگر میڈیا جلتی پر تیل چھڑک کر معاملہ دبانے نہیں دے رہا تھا”۔۔۔۔۔۔اوپر سے کئی انسانی
حقوق کی علمبردار تنظیمیں حیات عبدالرحمان کی فیور میں میدان میں آ گئی تھیں۔۔۔۔۔اب تو یہ خبر غیر ملکی میڈیا تک بھی پہنچ چکی تھی۔۔۔۔وہاں کی میڈیا اور بااثر شخصیات کی جانب سے ٹوئٹ سامنے آ رہے تھے۔۔۔۔۔۔جن میں ماحر خان پر تنقید کی جا رہی تھی۔پولیس کی جانب سے بھی دباؤ بڑھ رہا تھا”۔۔۔۔۔۔معظم کھوسہ بھی بار بار فون کر رہا تھا”۔۔۔۔کیونکہ میڈیا نے معاملے کو اتنا اچھالا اتنا ہائی لائٹ کیا کہ وزیراعظم کو بھی ایکشن لینا پڑا۔۔۔سکندر علی خان کے اثرورسوخ بھی زیادہ کام نہیں آ رہے تھے۔۔۔۔اگرچہ پرائم منسٹر صاحب سے انکی خود فون پر بات ہوئی لیکن انہوں نے بھی سکندر خان کو واضع الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو سامنے لائیں۔۔۔۔۔۔خود ماحر خان سے اس سلسلے میں پوچھ گچھ کی جائے گی۔۔۔۔۔ان کا کہنا تھا بات بہت بڑھ چکی ہے۔دنیا میں ملک امیج خراب ہو رہا ہے کہ یہاں عورتیں محفوظ نہیں ہیں۔لہذا جلد از جلد ماحر خان کو سامنے لایا جائے۔۔۔۔۔پرائم منسٹر کے حکم اس تمام صورتحال کے باعث ہونے والی جگ ہنسائی نے انہیں حقیقی معنوں میں پریشان کر کے رکھ دیا تھا۔اب تو انکے اعصاب بھی مفلوج ہونے لگے تھے۔۔۔انہیں ماحر پر سخت تاؤ آ رہا تھا جو یہ حرکت کر کے نا جانے کہاں غائب ہو گیا تھا۔اتنا تو انہیں اندازہ تھا کہ ماحر کہیں نا کہیں اس سب میں ملوث ہے۔کیونکہ وہ اپنے بیٹے کو اچھی طرح سے جانتے تھے خود سری، خود پسندی اس میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی،وہ اپنی منوانے والا انسان تھا”۔۔۔۔اس سے کچھ بعید نہیں تھا کہ وہ کیا کر گزرے،سکندر خان کو اس پر شک تھا”کچھ عرصہ قبل اڑتی اڑتی خبر ان تک پہنچی تھی کہ وہ کسی لڑکی کو اپنی فلم میں کام کرنے کیلئے بلیک میل کر رہا تھا”مگر وہ چپ رہے ماحر سے کچھ نہیں پوچھا۔۔مگر اب انہیں لگ رہا تھا کہ ان سے غلطی ہوئی انہیں ماحر سے اس سلسلے میں پہلے ہی بات کر لینی چاہیے تھی کیونکہ معاملہ وہی سامنا آیا تھا”۔۔۔گھر سے باہر نکلے تو میڈیا نے اپنے تابڑ توڑ سوالات سے حملہ کر دیا”۔۔۔
سکندر علی خان صاحب آپکا بیٹا ایک شریف لڑکی کو مینٹلی ٹارچر کرتا رہا۔۔۔کچھ دن قبل اس لڑکی نے آپکے بیٹے کی کچھ کال ریکارڈنگز لیک کر دیں جن میں وہ اسے دھمکا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔اس بات کا بدلہ لینے کیلئے آپکے بیٹے ماحر خان نے اس لڑکی کو کڈنیپ کر لیا”۔۔۔۔۔۔کیا کہیں گے اس بارے میں۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟یہ سوال ہر میڈیا والے کی زبان پر تھا۔۔۔
دیکھیں یہ سراسر الزام لگایا گیا ہے میرے بیٹے پر۔جو کہ ابھی تک سچ ثابت نہیں ہوا کہ ماحر نے ہی اس لڑکی کو اغوا کیا ہے۔۔۔یہ سب پروپیگنڈا میرے بیٹے کے خلاف اسکے مخالفین کر رہے ہیں۔۔۔انہوں نے اس آدمی عبدالرحمان علی کو پیسے دے کر میرے بیٹے کو بدنام کرنے کیلئے ایسا بیان دلوایا ہے۔۔۔بہت جلد ہم ان تمام لوگوں کا چہرہ بے نقاب کریں گے جنہوں نے میرے بیٹے کے خلاف یہ سازش رچائی ہے۔۔اب دل میں بیشک انہیں پتہ تھا کہ یہ سب جھوٹ نہیں ہے۔۔۔۔مگر اپنی عزت بھی تو رکھنی تھی سو اعتماد سے میڈیا کے سامنے جھوٹ بولا”
تو آپ کا بیٹا اگر سچا ہے تو سامنے کیوں نہیں آ رہا۔چوہے کی طرح بل میں چھپ کیوں گیا ہے۔ایک رپورٹر کے اس سوال نے انہیں تپا دیا مگر کمال ضبط سے کام لیتے ہوئے انہوں نے تحمل سے جواب دیا”میرا بیٹا سپر سٹار ہے کوئی عام بندہ نہیں ہے جو چھپ کر بیٹھ جائے بہت جلد وہ خود سامنے آ کر اپنے اوپر لگے الزامات کی تردید کرے گا”
“خان ہاؤس کی فضا میں سکون کا نظام درہم برہم ہو چکا تھا عبیر اور زین مینیجر فرقان فراز اور اپنی پوری ٹیم کے ہمراہ ماحر کو ڈھونڈ رہے تھے۔۔
دوسری طرف فائزہ سکندر کی طبیعت خراب تھی۔ان تمام حالات اور ماحر کی گمشدگی سے وہ ٹینشن میں تھیں۔۔ملازمائیں مسلسل انکی خدمت میں لگی ہوئی تھیں۔۔۔سات سمندر پار بیٹھی فاریہ کا بھی یہی حال تھا۔۔۔سکندر خان بیوی کو دیکھنے کمرے میں جا ہی رہے تھے کہ عبیر کا فون آ گیا”
ڈیڈ بھائی مل گئے۔۔۔۔۔عبیر کی اطلاع نے انکے تھکے ہوئے اعصاب کو کچھ حد تک پر سکون کر دیا”
کہاں ہے میری بات کرواؤ۔۔۔۔۔”
ڈیڈ بھائی کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا”ہم انہیں سٹی ہاسپٹل لے آئے ہیں آپ بھی آ جائیے۔۔۔انکےذرا سے پر سکون ہونے والے اعصاب پر پھر سے ہتھوڑا برسا۔۔
